Al-An'aam 6:47

Al-An'aam · from ayah 47

6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ ۟قُلۡ اَرَءَيۡتَكُمۡ اِنۡ اَتٰٮكُمۡ عَذَابُ اللّٰهِ بَغۡتَةً اَوۡ جَهۡرَةً هَلۡ يُهۡلَكُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بےخبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Have you considered: if the punishment of Allah should come to you unexpectedly or manifestly, will any be destroyed but the wrongdoing people?"

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:47

کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا علانیہ تم پر عذاب آ جائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بےخبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ پڑے خواه اچانک یا اعلانیہ تو کیا بجز ﻇالم لوگوں کے اور بھی کوئی ہلاک کیا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہو : ذرا یہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تمہارے پاس اچانک آئے یا اعلان کرکے، دونوں صورتوں میں کیا ظالموں کے سوا کسی اور کو ہلاک کیا جائے گا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے اچانک یا کھلم کھلا تو کون تباہ ہوگا سوا ظالموں کے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ (ان سے یہ بھی) فرما دیجئے کہ تم مجھے بتاؤ اگر تم پر اﷲ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آن پڑے تو کیا ظالم قوم کے سوا (کوئی اور) ہلاک کیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ کیا تم نے دیکھا اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آجائے، کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی ہلاک کیا جائے گا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : بھلا دیکھو تو، اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک آجائے یا علانیہ آجائے تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پوچھو، بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر بیخبر ی میں اچانک آدھمکے یا ڈنکے کی چوٹ آئے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کیا تم نے کبھی یہ بھی دیکھا کہ اگر آجائے تم پر اللہ کا عذاب اچانک، یا اعلانیہ طور پر، تو کیا اور کوئی ہلاک ہوگا سوائے ظالم لوگوں کے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ اگر تمہارے اوپر اللہ کا عذاب اچانک یا خبرداری میں آپڑے تو کیا بجز ظالم لوگوں کے کوئی اور بھی ہلاک کیا جائے گا ؟ ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ان سے) کہیے دیکھو تو اگر تم پر عذاب آجائے اچانک یا علی الاعلان تو کون ہلاک ہوگا سوائے ظالموں کے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اچانک یا علانیہ اللہ کی طرف سے عذاب آجائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'If the chastisement of Allah were to overtake you unawares or openly shall any except the wrong-doing people be destroyed?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Tell me if the punishment of Allah comes upon you whether suddenly or openly, shall any people be destroyed except the unjust?‘

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Tell me if the punishment of Allah comes upon you whether suddenly or openly, shall any people be destroyed except the unjust?‘

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Tell me, if the punishment of Allah comes to you suddenly, or openly, will any be destroyed except the wrongdoing people"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Can ye see yourselves, if the punishment of Allah come upon you unawares or openly? Would any perish save wrongdoing folk?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Have you considered: if the punishment of Allah should come to you unexpectedly or manifestly, will any be destroyed but the wrongdoing people?"

— Saheeh International

Tell them, "Have you considered that if God's torment was to befall you suddenly or in public, would anyone else be destroyed except the unjust?"

— Muhammad Sarwar

Say: Have you considered if the chastisement of Allah should overtake you suddenly or openly, will any be destroyed but the unjust people?

— Muhammad Habib Shakir

Say thou look ye now, were Allah's torment to come upon you on a sudden or openly, would there be destroyed any but the wrong- doers?

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Think ye, if the punishment of Allah comes to you, whether suddenly or openly, will any be destroyed except those who do wrong?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 46–49

محروم اور کامران کون ؟ فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ) 23۔ المؤمنون :78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 46–49

سورة الْاَنْعَام 30 یہاں دلوں پر مہر کرنے سے مراد سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں سلب کرلینا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–49

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے (کہ نہ تم کو کچھ سنائی دے نہ دکھائی دے) اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے (کہ تم دل سے کسی چیز کو سمجھ نہ سکو) تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود ہے کہ یہ (چیزیں) تم کو پھر دے دے (جب تمہارے اقرار سے بھی کوئی ایسا نہیں پھر کیسے کسی کو مستحق عبادت سمجھتے ہو) آپ دیکھئے تو کہ ہم کس (کس) طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے ظاہر کر رہے ہیں (پھر بھی ان دلائل میں غور اور ان کے نتیجہ کو تسلیم کرنے سے) یہ اعراض (بےرخی) کرتے ہیں، آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے خواہ بیخبر ی میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً الایۃ۔ بغتۃ کے معنی کسی چیز کے اچانک، دفعۃً بغیر کسی نوٹس کے، بالکل بیخبر ی میں آجانے کے ہیں ، ‘ جھرۃ ’ کے معنی ہیں کھلم کھلا، ڈنکے کی چوٹ، دن دہاڑے۔ مطلب یہ ہے کہ نشانی عذاب کا مطالبہ تو یہ کر رہے ہیں، ان سے پوچھو کہ خدا کا عذاب چپکے سے یا کھلم کھلا دن دہاڑے آئے۔ اول تو اس کو روکے گا کون، پھر ان سے یہ پوچھو کہ یہ بجلی گری تو کن پر گرے گی، انہی ظالموں پر تو گرے گی جو اپنی شامت سے اس کو دعوت دے رہے ہیں اور جو اپنی بد اعمالیوں سے اس کے سزوار ہیں یا کسی اور پر۔ ؟ فیصلہ کن عذاب کے باب میں سنت الٰہی : یہاں یہ بات ملحوظ رکھنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

47۔ 1 بغتۃ بیخبر ی سے مراد رات اور جھرۃ خبر داری سے دن مراد ہے جسے سورة یونس میں بَیَاتًا اَوْ نَہَارًا سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی دن کو عذاب آجائے یا رات کو یا پھر بغتۃ وہ عذاب ہے جو اچانک بغیر تمہید اور مقدمات کے آجائے اور جھرۃ وہ عذاب جو تمہید اور مقدمات کے بعد آئے۔ یہ عذاب جو قوموں کی ہلاکت کے لئے آتا ہے۔ ان ہی پر آتا ہے جو ظالم ہوتی ہیں یعنی کفر و طغیان اور معصیت الٰہی میں حد سے تجاوز کر جاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

16: کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ کے جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ شاید وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر عذاب آیا تو مومن کافر سبھی ہلاک ہوجائیں گے، اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ ہلاک تو وہ ہوں گے جنہوں نے شرک اور ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 47۔ ظالموں کو عذاب الہی ہر صورت میں پکڑتا ہے ۔ یہ اچانک بھی آتا ہے جبکہ وہ غفلت میں ہوتے ہیں اور انہیں کوئی توقع نہیں ہوتی اور کبھی ان پر یہ عذاب اعلانیہ آتا ہے اور وہ اس کے لئے پوری طرح تیار بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن ظالم اقوام پر تباہی آکر رہتی ہے ۔ (یہ بات یاد رہے کہ قرآن کریم کی تعبیرات کے مطابق ظالمین سے مراد مشرکین ہیں) جب یہ عذاب آتا ہے چاہے اچانک آئے یا اعلانیہ تو پھر اس کے مقابلے میں وہ کوئی بچاؤ نہیں کرسکتے اس لئے کہ عذاب الہی کے مقابلے میں وہ اس قدر ضعیف ہیں کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ نہ ان کے بنائے ہوئے شریک اس عذاب کو روک سکتے ہیں اس لئے کہ جن لوگوں کو یہ لوگ شریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 " اچانک " یعنی وہ عذاب جس کی کچھ علامات پہلے سے ظاہر نہ ہوں۔ لہذا " جھرۃً " سے مراد وہ عذاب ہوگا جس کے آنے سے قبل علامات ظاہر ہونے لگیں۔ 3 یعنی توبہ میں دیر نہ کرنا چاہیے شاید اس دیر میں عذاب پہنچ جائے جس کا خمیازہ صرف ظالموں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر پہلے ہی ظلم وعدوان سے توبہ کرچکا ہوگا تو اس عذاب سے بچ رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 47 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ بَغْتَۃً اَوْ جَہْرَۃً ہَلْ یُہْلَکُ الاَّ الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ یہ عذاب اچانک آئے یا بتدریج ‘ پیشگی اطلاع کے بغیر وارد ہوجائے یا ڈنکے کی چوٹ اعلان کر کے آئے ‘ ہلاک تو ہر صورت میں وہی لوگ ہوں گے جو رسول علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا کر ‘ اپنی جانوں پر ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اب انبیاء و رسل علیہ السلام کی بعثت کا وہی بنیادی مقصد بیان ہو رہا ہے جو اس سے پہلے ہم سورة النساء آیت 165 میں پڑھ چکے ہیں : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ۔۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–49

50 یکدم سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے مطلقاً ظاہر نہ ہوں اور جہرۃ یا علانیہ سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہوجائیں۔ 51 اس جملہ کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ عذاب آنے کی اطلاع اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذریعہ وحی دیتا ہے اور انہیں ہدایت کردی جاتی ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کو ساتھ لے کر اس مقام سے نکل جائیں جہاں عذاب آنے والا ہو۔ اس طرح عذاب کی زد میں صرف ظالم ہی آتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ چونکہ عذاب ظالموں کے ظلم کی وجہ سے ہی آتا ہے۔ لہذا ظالموں کو چاہیے کہ بلاتاخیر توبہ کرلیں۔ اور عذاب الٰہی سے خود بھی بچ جائیں اور دوسروں کی ہلاکت کا بھی سبب نہ بنیں۔ اور تیسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72 ۔ عذاب الہی کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ اس کا شکار صرف مجرمین ہوتے ہیں اور مطیعین اس سے بچا لئے جاتے ہیں۔ حقا علینا ننج المومنین “۔ (آیت) ’ عذاب اللہ بغتۃ اوجھرۃ “۔ بغتۃ۔ وہ عذاب ہے جو یک بیک اور اچانک بغیر کسی اطلاع کے آجائے۔ اور (آیت) ” جھرۃ “۔ وہ عذاب ہے جو پورے طور پر اظہار علامات کے بعد آئے، مقصود کلام یہ ہے کہ کوئی عذاب کسی قسم کا بھی ہو اس کے دفع کرنے کی قوت وقدرت صرف اللہ ہی کو حاصل ہے۔ ھذا عام فی جمیع انواع العذاب والمعنی انہ لا دافع لنوع من انواع العذاب الا اللہ سبحانہ (کبیر) اے لایھلک انتم الا بشرککم والظلم ھنا بمعنی الشرک (قرطبی) آیت میں تعلیم اس مضمون کی ہے کہ ہلاکت و بربادی تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–49

فلَمّا نَسُوا مَا ذکّروا بہٖ فَتَحنا عَلَیْھم ابوابَ کلِّ شیّٔ (الآیۃ) اس آیت میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اس میں خوب مگن مست ہوجاتی ہیں اور مادی خوشحالی و ترقی پر اترانے لگتی ہیں تو پھر ہم اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، اور ان کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں، حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل) ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ارء یتکم ان اتکم عذاب اللہ بغتۃ اوجہرۃ ہل یہلک الا القوم الظلمون : (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ (مشرکو) بتلاؤ اگر اللہ کا عذاب تم پر آپڑے خواہ بیخبر ی میں یا خبرداری میں تو کیا بجز ظالم لوگوں کے اور بھی کوئی ہلاک کیا جائے گا۔ بغتۃً سے مراد ہے اچانک بغیر کسی نشانی اور علامت کے اور جہرۃً کا معنی ہے علی الاعلان جس کی نشانیاں پہلے سے نمودار ہوچکی ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن ؓ نے فرمایا بغتۃً اوجہرۃً کا معنی ہے رات میں یا دن میں۔ ہل یہلک میں استفہام انکاری ہے یعنی سوائے ظالموں کے اور کوئی ہلاک نہ ہوگا چونکہ اس جگہ استفہام بمعنی نفی کا اسی لئے آگے استثناء کیا گیا۔ الظلمون سے مراد ہیں کافر جو کفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(47) مکہ والو بتلاؤ تو کہ اگر بیخبر ی یا تمہاری خبرداری میں تم پر عذاب الہی آپڑے، تو کیا گناہگاروں یا مشرکوں کے علاوہ اور کوئی ہلاک ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 47–49

قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ۔۔ : ”بَغْتَةً“ اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، یعنی رات کو اور ”جَهْرَةً“ کھلم کھلا، سب کے دیکھتے ہوئے، یعنی دن کو، جیسا کہ سورة یونس کی آیت (50) میں ہے : (ٗ بَيَاتًا اَوْ نَهَارًا) ”رات کو یا دن کو۔“ پہلی آیت میں صرف ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں کو لے جانے یا مہر لگا کر بند کردینے کی بات کی تھی، اب اس آیت میں عام عذاب کے ساتھ ڈرایا جا رہا ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو تم کسی صورت بچ نہیں سکو گے۔ باقی رہے رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھی تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور بچائے گا، کیونکہ پہلے جتنی بھی قومیں تباہ کی گئیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا مستقل طریقہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 46–47

آیت نمبر 46 تا 47 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل ارئیتم ان اخذ اللہ سمعکم و ابصارکم یعنی اگر تم سے قوت سماعت اور دیکھنے کی استطاعت واپس لے لے۔ سمعکم کو مفرد ذکر فرمایا، کیونکہ مصدر جمع پر دلالت کرتا ہے۔ و ختم مہر لگا دے۔ یہ پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ " ان " کا جواب محذوف ہے تقدیر عبارت ہے فمن یاتیکم بہ، بہ محل نصب میں ہے کیونکہ یہ حال واقع ہو رہا ہے جیسے تیرا قول ہے : اضربہ ان اخرج یعنی خارجا۔ پھر بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد وہ معانی ہیں جو ان اعضاء کے ساتھ قائم ہیں اللہ جوارح (اعضائ) اور اعراض سب کو لے جاتا ہے اور کچھ بھی باقی نہیں چھوڑتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : من قبل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–50

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یصدفون سے مراد ہے وہ لوگ اعراض کرتے ہیں۔ (2) امام طستی سے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یصدفون کے بارے میں پوچھا کہ مجھے اس کے بارے میں بتایئے تو انہوں نے فرمایا اس کا معنی ہے کہ وہ حق سے اعراض کرتے ہیں۔ عرض کیا گیا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے سفیان بن حارث کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ عجبت لحکم اللہ فینا وقد بدا لہ صدفنا عن کل حق منزل ترجمہ : میں نے تعجب کیا اللہ کے حکم کے لئے جو ہمارے بارے میں ہوا حالانکہ اس پر یہ امر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] رَءَيْتَكُمْ [ تو نے دیکھا اپنوں کو ] اِنْ [ (کہ ) اگر ] اَتٰىكُمْ [ آئے تمہارے پاس ] عَذَابُ اللّٰهِ [ اللہ کا عذاب ] بَغْتَةً [ اچانک ] اَوْ [ یا ] جَهْرَةً [ کھلم کھلا ] هَلْ [ تو کیا (یعنی کون)] يُهْلَكُ [ ہلاک کیا جائے گا ] اِلَّا [ سوائے ] الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ [ ظلم کرنے والی قوم کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–49

اگر اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے کی قوت سلب فرما لے تو کون دینے والا ہے ان آیات میں انذار اور تبشیر ہے۔ اوّل تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری سننے اور دیکھنے کی قوت کو ختم کر دے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے جس سے نہ دیکھ سکو نہ سن سکو نہ سمجھ سکو تو بتاؤ اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو یہ چیزیں تمہیں دیدے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا ایسا کوئی نہیں۔ پھر اللہ کو چھوڑ کر کسی غیر کو معبود بناناکہاں کی عقلمندی ہے ؟ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک بیخبر ی میں بھی آسکتا ہے اور خبر داری میں بھی۔ اگر عذاب آجائے تو ظالم ہی ہلاک ہوں گے لہٰذا ظلم کرنے والے ظلم سے باز آجائیں۔ سب سے بڑا ظلم شرک اور کفر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–51

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔ ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

54 یہ علیحدہ دلیل نہیں بلکہ چھٹی عقلی دلیل کا اعادہ ہے۔ پہلے گذر چکا ہے کہ اَرَاَیْتَ کے بعد استفہام ضرور آتا ہے خواہ مذکور ہو خواہ مقدر۔ گذشتہ آیت کے قرینہ سے یہاں اَغَیْرَ اللہِ تَدْعُوْنَ یا فَمن یدفعہ مقدر ہے اور ھَلْ یُھْلَکُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ علیحدہ جملہ ہے ظالمون یعنی مشرکین کیونکہ انہوں نے شرک کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ یعنی المشرکین لانھم ظلموا انفسہم بالشرک (خازن ج 2 ص 111) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–49

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہات کا ذکر فرمایا کہ اگر کسی فرد یا قوم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت آجائے تو اس کا فرض ہے کہ ابتدائی پکڑ پر ہی تو بہ کرلے اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑائے ‘ عاجزی کرے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے نہ کہ کسی بڑی افتاد کا منتظر رہے۔ فرمایا معمولی تنبیہ پر ہی توبہ کر لینی چاہئے تا کہ اللہ کے بڑے عذاب سے بچ جائے۔ پھر جب اس کی سخت گرفت آجاتی ہے تو پھر کون ہے جو اس کے سوا مصیبت کو دور کرسکے ‘ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ قوموں کا حال بھی بیان فرمایا کہ ہم نے انہیں معاشی اور جسمانی تنگی میں مبتلا کیا تا کہ وہ گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں ‘…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللہِ بَغْتَۃً اَوْ جَہْرَۃً ہَلْ يُہْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ۝ 47 بغت البَغْت : مفاجأة الشیء من حيث لا يحتسب . قال تعالی: لا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً [ الأعراف/ 187] ، وقال : بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً [ الأنبیاء/ 40] ، وقال : تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً [يوسف/ 107] ( ب غ ت) البغت ( ف) کے معنی کسی چیز کا یکبارگی ایسی جگہ سے ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ جہاں سے اس کے ظہور کا گمان تک بھی نہ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ لا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً [ الأعراف/ 187 اور ناگہاں تم پر آجائے گی ۔ تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً [يوسف/ 107] یا ان پر ناگہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–50

ترکیب : ان اخذ اللّٰہ شرط من الہ جملہ جواب ارایتکم میں کاف کوئی اسم مستقل نہیں جس کو ارایت کا معمول بنایا جاوے بلکہ وہ حرف خطاب ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا مفعول محذوف ہے ارایتکم عبادتکم الاصنام۔ تفسیر : وہ ملحد جو کامیابی اور ناکامی کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہیں ان کا جواب دیتا ہے کیونکہ ارضی و سماوی بلیات میں تو کسی کو کلام ہی نہیں کہ وہ عالم غیب سے ہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی تمام صنعت اور دانش اور تدابیر کے آلات کان اور آنکھ اور دل ہے۔ اگر ان میں فتور ہے تو پھر کچھ نہیں 1 ؎ بابل اور نینوا گو اس وقت کی ترقی اور ترفہ میں لندن اور پیرس سے کچھ کم نہ تھے مگر ان پر کیا موقوف ہے۔ ہزاروں جگہ زمین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہوتا ہے : قُلْ اَرَئَیْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللہِ بَغْتَۃً اَوْ جَھْرَۃً ھَلْ یُھْلَکُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الانعام : 47) (پوچھو ! بتائو کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر بیخبر ی میں اچانک آدھمکے یا ڈنکے کی چوٹ آئے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا ؟ ) اس آیت کریمہ میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں بَغْتَۃً اَوْ جَھْرَۃً ۔ ” بَغْتَۃً “ کے معنی کسی چیز کے اچانک دفعتاً بغیر کسی نوٹس کے بالکل بیخبر ی میں آجانے کے ہیں ” جَھْرَۃً “ کے معنی ہیں ‘ کھلم کھلا ‘ ڈنکے کی چوٹ ‘ دن دھاڑے۔ یعنی اے پیغمبر ! ان سے پوچھئے کہ جس عذاب کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں ‘ اگر وہ چپکے سے یا کھلم کھلا دن دھاڑے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–50

فہم القرآن ربط کلام : سلب شدہ نعمتوں کو بحال کرنا عذاب کو ٹالنا اور کفار کے مطالبے کو پورا کرنا عام شخص تو درکنار کسی رسول کے بس میں بھی نہیں۔ قرآن مجید نے ہر نبی کے بارے میں یہ حقیقت منکشف فرمائی ہے کہ وہ فرشتہ اور کوئی دوسری جنس ہونے کے بجائے بنی نوع انسان میں سے ہی ہوا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود اہل کفر ان سے ایسے مطالبات کرتے جنھیں پورا کرنا یا ان چیزوں پر اختیار رکھنے کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا تھا۔ انبیائے عظام (علیہ السلام) تو صرف وہی بات کرتے تھے جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ انھیں حکم دیتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ انھیں پریشان اور لاجواب کرنے کے لیے ایسے مطالبات کرتے تھے جن کا پاکباز…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اگر اچانک کھلے بندوں عذاب آئے تو عذاب کا شکار تم ہی بنو گے : آیت 47 : قُلْ اَرَئَ یْتَکُمْ اِنْ ٰاتٰکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ بَغْتَۃً اس طرح کہ اس کی کوئی علامت ظاہر نہ ہو۔ اَوْ جَہْرَۃً اس طرح کہ اس کی علامات ظاہر ہوں۔ حضرت حسن (رح) کہتے ہیں کہ رات کو یا دن کو۔ ہَلْ یُہْلَکُ اِلاَّ الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَعذاب اور ناراضگی کی ہلاکت کا شکار وہ لوگ ہوتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے رب کا انکار کر کے اپنے نفسوں پر ظلم کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (47) قل ارء یتکم ان اتکم عذاب اللہ بغتۃ اوجھرۃ) کہ تم اس کو اترتے ہوئے دیکھ رہے ہو۔ اب عباس ؓ اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ رات اور دن کو آئے ۔ (ھل یھلک الا القوم الظلمون) ظالم سے مراد مشرک ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–49

(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–47

آیت 46 ” کہہ دیجیے، بتلاؤ ! اگر اللہ تعالیٰ چھین لے تمہارے کان اور آنکھیں اور مہر لگا دے تمہارے دلوں پر “ یعنی تم اس حالت میں باقی رہ جاؤ کہ تمہاری سماعت ہو نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت (من الہ غیر اللہ یاتیکم بہ) ” تو کون ایسا معبود ہے اللہ کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لادے ؟ “ جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو یہ چیز عطا کرسکے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی ہستیوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جن کے پاس کچھ بھی قدرت و اختیار نہیں مگر جب اللہ چاہے۔ یہ آیت کریمہ توحید کے اثبات اور شرک کے بطلان کی دلیل ہے اس لئے فرمایا : (انظر کیف نصرف الایت) ” دیکھو ! ہم کیوں کر طرح طرح سیب یان کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

72 ظلم کا انجام ہلاکت و تباہی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہو کہ کیا تم نے کبھی یہ بھی دیکھا اور سوچا کہ اگر آجائے تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا علانیہ طور پر۔ اور جب یہ ظاہر اور واضح ہے کہ ظالم لوگ ہی ہلاکت کا شکار ہوں گے دوسرا کوئی نہیں۔ تو پھر عقل و دانش کا تقاضا یہی ہے کہ تم ظلم اور اس کی ہر شکل سے بچنے کی فکر کرو۔ تاکہ اس کے نتیجے اور انجام بد سے محفوظ رہ سکو اور گرفتار بلا ہونے سے قبل ملنے والی اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر اس سے کام لو۔ قبل اس سے کہ یہ فرصت نایاب تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور پھر تمہیں ہمیشہ کیلئے کف افسوس ملنا پڑے مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–49

قادر مطلق کون ؟ تشریح : ان آیات میں اللہ کی زبردست قوت، طاقت اور شفقت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس نے پیدا کیا اور ہدایت کے لیے رسول بھیجے ہیں اور اسی لیے وہ بندوں کا حساب کتاب ضرور لے گا اور سز ا و جزا ضرور دے گا۔ اس بات کو ہر وقت دھیان میں رکھنا چاہیے، اسی میں سکون، اطمینان، خوشی اور نجات ہے، جو اس سے لاپرواہ ہیں وہ بےسکون رہیں گے اور آخرت میں عذاب پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–50

رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50: اسرار و معارف : اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 پہیلی آیت میں صرف ام لہ سماعت بصارت اور دل سلب کرلینے پر تنبیہ تھی۔ اب اس آیت میں عام عذاب کے ذکر کے ساتھ تو بیخ کی ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو تم نجات نہیں پو سکو گے باقی رہے آنحضرت ﷺ اور ان کے پیرو تو انہیں اللہ ضرور بچالے گا کیونکہ پہلے جتنی قومیں تباہ کی گئیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے کہ پہلے رسول اور ان کے متبعین کو ظالم قوم کی بستی سے نکل جانے کا حکم دیا گیا ہے جب وہ نکل گئے تو قومتباہ کردی گئی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–51

(6:46) ارء یتم۔ ملاحظہ ہو 6:40 ۔ نصرف۔ مضارع جمع متکلم تصریف مصدر۔ (باب تفعیل) ہم پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ ہم کھول کھول کر ہر پہلو سے بیان کرتے ہیں۔ یصدفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صدف مصدر (باب ضرب) اعراض کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–47

لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 47 : سمعکم ( تمہارے سننے کی طاقت) ‘ ابصارکم (تمہارے دیکھنے کی طاقت) ‘ ختم ( اس نے مہر لگادی) ‘ من الہ ( کون معبود ہے ؟ ) ‘ یا تیکم بہ ( جو اسکو لے آئے گا) ‘ نصرف ( ہم بدل بدل کر لاتے ہیں) ‘ یصدقون ( وہ منہ پھیرتے ہیں ) ۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 47 : ظاہری معنی یہ ہیں۔ اگر اللہ تمہیں بہرایا اندھا یا دیوانہ بنادے۔ باطنی معنی یہ ہیں۔ جسمانی صحت کے باوجو اگر کان نصیحت نہ پکڑیں ‘ اگر آنکھیں عبرت نہ پکڑیں ‘ اگر دل اور دماغ ذہن و فکر سے محروم ہوجائیں ۔ پھر ؟ تمام میڈیکل سائنس کے باوجود یہ گارنٹی نہیں ہے کہ بہرے کی سماعت ‘ اندھے کی بصارت اور دیوانے کی عقل واپس آجائے۔ علاج…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–49

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–53

[21] یعنی خوشحال کافروں کو بدحال مومنوں کے ذریعے سے۔ شروع میں اسلام لانے والوں میں زیادہ تر لوگ غریب اور مفلس تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–49

(ف 2) غرض یہ ہے کہ تم ہر وقت غیر محفوظ ہو تم نہیں جانتجے کب اللہ کا غصہ بھڑکے اور کب تم کو جوارح سے محروم کردیا جائے ۔ اس لئے ہر آن غوروفکر سے کام لو ، اور عقل وہوش کو سنبھالو ، خدا کے دین کو سمجھنے کی کوشش کرو ، ورنہ یاد رہے تباہی اور ہلاکت دور نہیں ۔ حل لغات : دابر : اصل ، جڑھ پیٹھ ، یصدفون : مادہ صدف یعنی روگردانی کرنا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-47 آپ ان سے فرمائیے ذرا یہ تو بتائو اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے خواہ وہ عذاب غفلت اور بیخبر ی میں آجائے جیسا کہ رات کو آجائے یا کھلم کھلا باخبر کے ساتھ آجائے تو کیا سوائے ظالم اور منکروں سے کوئی اور بھی ہلاک کیا جائے گا یعنی ہلاک تو بہر حال منکر ہی ہوں گے لہٰذا کفر و انکار سے باز آ جائو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 47–48

ف 5۔ یعنی وہ عذاب ہوگا بوجہ ظلم کے جیسا امم سابقہ پر بھی اسی وجہ سے ہوا سولامحالہ ظالموں ہی کے ساتھ خاص ہوگا اور ظالم تم ہو پس خاص تم پر ہی پڑے گا اور مومنین بچے رہیں گے سو تم کو متنبہ کیا جاتا ہے اور مراگ نبوہ جشنے دارد کا سہارا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم ہی بتادو کہ اللہ کا عذاب اچانک آجائے تو ظالموں کے سوا کون ہے جو ہلاک ہوگا ؟ : 73: اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے یہ تو پوچھیں کہ نشانی عذاب کا مطالبہ تو انہوں نے کردیا لیکن اگر اللہ نے عذاب نازل کردیا تو ان میں وہ کون ہے جو اس کو روکے گا ؟ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نازل کرنے کے دو طریقے اسکی سنت کے مطابق ہیں ایک وہ عذاب جو اچانک نازل ہوجاتا ہے یعنی دفتہً بغیر کسی نوٹس کے بالکل بیخبر ی کے عالم میں بغیر اعلان کئے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کی خبر فوراً ان کو پہنچائی جا چکی ہوتی ہے لیکن وقت کا اعلان نہیں کیا جاتا اسی عذاب کو قرآن کریم کی زبان میں ” بغۃ “ کہا گیا ہے جس کے معنی اچانک کے ہیں بغیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–50

In the last verse (45), it was said that, when the mass punishment of Allah Ta` ala came, the people who did wrong were uprooted to the last man. Said immediately after was: وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ (And praise be to Allah, the Lord of the worlds) where the hint given is: Whenever the wrongdoers and the unjust are visited by some punishment or calamity, that is a blessing for the whole world for which people should be grateful.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–49

29. Attention is now drawn towards another sign - one observable even in the lives of those who deny the Truth. When either some great calamity befalls a man or when death starkly stares him in the face, it is only to God that he turns for refuge. On such occasions even the staunchest polytheists forget their false gods and cry out to the One True God, and even the most rabid atheists stretch out their hands in prayer to Him. This phenomenon is mentioned here in order to draw an instructive lesson. It shows that devotion to God and monotheism are ingrained in the human soul. No matter how…

Read the full tafseer →