Explained with ayahs 46–49
محروم اور کامران کون ؟
فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ) 23۔ المؤمنون :78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
سورة الْاَنْعَام 30
یہاں دلوں پر مہر کرنے سے مراد سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں سلب کرلینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے (کہ نہ تم کو کچھ سنائی دے نہ دکھائی دے) اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے (کہ تم دل سے کسی چیز کو سمجھ نہ سکو) تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود ہے کہ یہ (چیزیں) تم کو پھر دے دے (جب تمہارے اقرار سے بھی کوئی ایسا نہیں پھر کیسے کسی کو مستحق عبادت سمجھتے ہو) آپ دیکھئے تو کہ ہم کس (کس) طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے ظاہر کر رہے ہیں (پھر بھی ان دلائل میں غور اور ان کے نتیجہ کو تسلیم کرنے سے) یہ اعراض (بےرخی) کرتے ہیں، آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے خواہ بیخبر ی میں…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ الایہ :‘ صدف، یصدف، صدفاً ’ کے معنی کسی چیز سے اعراض و انحراف اختیار کرنے اور اس سے رک رہنے کے ہیں۔
مطالبہ عذاب کا جواب ایک اور پہلو سے : یہ اسی مطالبہ عذاب کا جواب ایک دوسرے پہلو سے ہے۔ اوپر فرمایا تھا کہ اگر خدا تم پر کوئی ارضی یا سماوی آفت بھیج دے تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں اب ارشاد ہوا کہ اگر خدا تمہیں کسی عقلی، باطنی اور روحانی عذاب میں گرفتار کرلے تو بھی تمہیں کوئی بچانے والا نہیں۔ ابھی تو تمہارے سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی قوتیں زندہ ہیں لیکن تم ان سے کام نہیں لے رہے ہو۔ اگر خدا تمہارے سمع و بصر کو سلب کرلے اور تمہارے دل پر ٹھپہ لگا دے تو…
Read the full tafseer →46۔ 1 آنکھیں کان اور دل، یہ انسان کے نہایت اہم اعضا ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر وہ چاہے تو ان کی وہ خصوصیات سلب کرلے، جو اللہ نے ان کے اندر رکھی ہیں یعنی سننے دیکھنے اور سمجھنے کی خصوصیات، جس طرح کافروں کے یہ اعضا ان خصوصیات سے محروم ہوتے ہیں۔ یا اگر وہ چاہے تو اعضا کو ویسے ہی ختم کر دے، وہ دونوں ہی باتوں پر قادر ہے، اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ مگر یہ کہ وہ خود کسی کو جچانا چاہے آیات کو مختلف پہلووں سے پیش کرنے کا مطلب ہے کبھی انذار وتبشیر اور ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے اور کبھی کسی اور ذریعے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
15: اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں کے ساتھ یہ معاملہ فرمایا ہے کہ انہیں متنبہ کرنے کے لئے انہیں کچھ سختیوں میں بھی مبتلا فرمایا، تاکہ وہ لوگ جن کے دل سختی کی حالت میں نرم پڑتے ہیں سوچنے سمجھنے کی طرف مائل ہوسکیں، پھر ان کو خوب خوشحالی عطا فرمائی تاکہ جو لوگ خوشحالی میں حق قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں وہ کچھ سبق لے سکیں، جب دونوں حالتوں میں لوگ گمراہی پر قائم رہے تب ان پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہی بات قرآن کریم نے سورة اعراف (94:795) میں بھی بیان فرمائی ہے
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 46۔
یہ ایک ایسے منظر کی تصویر کشی ہے جس میں وہ خود اپنے عقائد کے مطابق اللہ کے اس مجوزہ عذاب سے بچنے کی کوئی سبیل نہیں پاتے جبکہ ضمنا یہ بات بھی آجاتی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے سوا جن دوسرے لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ بھی نہایت ہی عاجز ہیں ۔ البتہ اس منظر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اس مجوزہ عذاب کی تجویز نے ان لوگوں کو خوب جھنجھوڑا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کا خالق ہے ۔ اسے خوب علم ہے کہ اس فطرت کے اندر ادراک حقیقت کی حقیقی قوت بھی موجود ہے اور فطرت انسانی سچائی سے دور نہیں ہے ۔ فطرت انسانی کو اس بات کا ادراک ہے اور علی وجہ البصیرت ہے کہ یہ کام صرف اللہ کرسکتا ہے اور…
Read the full tafseer →5 کہ نہ تم سن سکو نہ دیکھ سکو نہ دل سے سمجھ سکو۔
1 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں " یعنی توبہ میں دیر نہ کرے جو کان اور آنکھ اور دل اس وقت ہے شاید پھر نہ ملے اور اس لئے توبہ واستغفار کی توفیق نہ ہو سکے۔
Read the full tafseer →آیت 46 قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰہُ سَمْعَکُمْ وَاَبْصَارَکُمْ وَخَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ مَّنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِہٖ ط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ ہُمْ یَصْدِفُوْنَ
ع اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں کے مصداق ہم یہ سارے مضامین پھرا پھرا کر ‘ مختلف انداز سے مختلف اسالیب سے ان کے سامنے لا رہے ہیں ‘ مگر اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کر رہے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔
Read the full tafseer →49 آنکھ کان اور دل اللہ کی آیات کیسے ہیں ؟ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تین نعمتوں کا ذکر کر کے انہیں اپنی آیات یا اللہ تعالیٰ کی ذات پر دلالت کرنے والی نشانیاں قرار دیا ہے سب سے پہلے سماعت کا ذکر کہ کس طرح کسی آواز سے ہوا میں لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ پھر وہ لہریں کان کے پردوں سے ٹکراتی ہیں۔ اس تصادم کی آواز اعصاب کے ذریعہ دماغ تک پہنچتی ہے۔ دماغ فوراً اس آواز کا مطلب و مفہوم سمجھتا ہے اور پھر انسان اپنی زبان سے فوراً بات کرنے والے کو اس کا جواب دیتا ہے اور یہ سب کام اتنی جلدی وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ بات کرنے والے کو فوراً اس کا جواب مل جاتا ہے۔ یہی صورت بصارت کی ہے۔ آنکھ کوئی چیز دیکھتی ہے تو اس…
Read the full tafseer →71 ۔ اور جن مقدمات و مبادی سے توحید لازم آتی ہے۔ ان پر غور ہی نہیں کرتے اور نتیجہ توحید تک اپنے کو پہنچنے ہی نہیں دیتے ہیں۔ ) (آیت) ” یصدفون “۔ صدف۔ اعراض کے مرادف ہے۔ ای یعرضون عن ابن عباس والحسن و مجاھد وقتادہ والسدی، یقال صدف عن الشیء اذا اعرض عنہ (قرطبی) (آیت) ” کیف نصرف الایت “۔ تصریف آیات یہ کہ انہیں گھماکربار بار لایا جائے اور مختلف اعتبارات سے پیش کیا جائے۔ وتصریف الایات الاتیان بھا من جھات من اعذار وانذار وانذار وترغیب وترھیب ونحو ذلک (قرطبی) المراد من تصریف الایات ایرادھا علی الوجودہ المختلفۃ المتکاثرۃ بحیث یوکن کل واحد منھا یقوی ماقبلہ فی الایصال الی المطلوب (کبیر) (آیت) ” ان اخذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
فلَمّا نَسُوا مَا ذکّروا بہٖ فَتَحنا عَلَیْھم ابوابَ کلِّ شیّٔ (الآیۃ) اس آیت میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اس میں خوب مگن مست ہوجاتی ہیں اور مادی خوشحالی و ترقی پر اترانے لگتی ہیں تو پھر ہم اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، اور ان کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں، حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل) ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔…
Read the full tafseer →قل اے محمد ﷺ : آپ کہہ دیجئے۔
اریتہم ان اخذ اللہ سمعکم وابصارکم وختم علی قلوبکم من الہ غیر اللہ یاتیکم بہ : (اے مشرکو) بتاؤ تو اگر اللہ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے (تم کو اندھا بہرا کر دے) اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے ( ایسی غفلت مسلط کر دے کہ تمہاری عقلیں ناکارہ ہوجائیں) تو اللہ کے سوا کون ایسا معبود ہے جو یہ چیزیں تم کو پھر دے دے۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی تم کو یہ چیزیں نہیں دے سکتا۔ استفہام تقریری ہے مطلب یہ کہ تم خود جانتے ہو کہ اگر اللہ تمہاری شنوائی بینائی اور دانائی لے لے تو اور کوئی معبود بھی واپس نہیں دے سکتا۔
انظر کیف نصرف الایت ثم ہم یصدفون۔ (اے محمد) آپ دیکھئے تو ہم کس طرح…
Read the full tafseer →(46) مکہ والو بتلاؤ تو سہی کہ اگر تم نصیحت اور ہدایت کی بات نہ سن سکو اور حق کے راستہ کو نہ دیکھ سکو اور حق وہدایت کے سمجھنے کی بھی تم میں قوت نہ رہے تو کیا تمہارے یہ بت اللہ تعالیٰ کی یہ لی ہوئی نعمتیں تمہیں دے دیں گے ؟ محمد ﷺ دیکھیے، ہم احکام قرآن مجید کو کس طرح ان کے لیے کھول کھول کے بیان کرتے ہیں۔
مگر اس کے باوجود یہ اعراض کرکے آیات خداوندی کی تکذیب کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ۔۔ : فرمایا، اب تو تمہارے کان، آنکھیں اور دل موجود ہیں، اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور آیات سن کر، دیکھ کر اور ان سے متعلق سوچ کر کفر سے نجات حاصل کرسکتے ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو لے ہی جائے اور دلوں پر مہر لگا دے تو بتاؤ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہے جو یہ نعمتیں واپس دے دے ؟ اس لیے ان کے جانے سے پہلے پہلے توبہ کرلو اور اس میں ہرگز دیر نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے حقائق بیان کرتا ہے، تاکہ لوگ حقائق سے آگاہ ہوجائیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنی روش سے باز نہیں آتے اور اللہ کی آیات سے بےرخی پر قائم رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت نمبر 46 تا 47 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل ارئیتم ان اخذ اللہ سمعکم و ابصارکم یعنی اگر تم سے قوت سماعت اور دیکھنے کی استطاعت واپس لے لے۔ سمعکم کو مفرد ذکر فرمایا، کیونکہ مصدر جمع پر دلالت کرتا ہے۔ و ختم مہر لگا دے۔ یہ پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ " ان " کا جواب محذوف ہے تقدیر عبارت ہے فمن یاتیکم بہ، بہ محل نصب میں ہے کیونکہ یہ حال واقع ہو رہا ہے جیسے تیرا قول ہے : اضربہ ان اخرج یعنی خارجا۔ پھر بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد وہ معانی ہیں جو ان اعضاء کے ساتھ قائم ہیں اللہ جوارح (اعضائ) اور اعراض سب کو لے جاتا ہے اور کچھ بھی باقی نہیں چھوڑتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت : من قبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یصدفون سے مراد ہے وہ لوگ اعراض کرتے ہیں۔
(2) امام طستی سے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یصدفون کے بارے میں پوچھا کہ مجھے اس کے بارے میں بتایئے تو انہوں نے فرمایا اس کا معنی ہے کہ وہ حق سے اعراض کرتے ہیں۔ عرض کیا گیا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے سفیان بن حارث کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
عجبت لحکم اللہ فینا وقد بدا لہ صدفنا عن کل حق منزل
ترجمہ : میں نے تعجب کیا اللہ کے حکم کے لئے جو ہمارے بارے میں ہوا حالانکہ اس پر یہ امر…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] رَءَيْتُمْ [ تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ [ (کہ ) اگر ] اَخَذَ [ پکڑلے ] اللّٰهُ [ اللہ ] سَمْعَكُمْ [ تمہاری سماعت کو ] وَاَبْصَارَكُمْ [ اور تمہاری بصارت کو ] وَخَتَمَ [ اور وہ مہر لگا دے ] عَلٰي قُلُوْبِكُمْ [ تمہارے دلوں پر ] مَّنْ [ تو کون ] اِلٰهٌ [ الہ ہے ] غَيْرُ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] يَاْتِيْكُمْ [ جو لادے تمہارے پاس ] بِهٖ ۭ [ اسکو ] اُنْظُرْ [ آپ دیکھیں ] كَيْفَ [ کیسے ] نُصَرِّفُ [ ہم گھماتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں (یعنی دلیلوں ) کو ] ثُمَّ [ پھر (بھی ) ] هُمْ [ وہ لوگ ] يَصْدِفُوْنَ [ کنارہ کش ہوتے ہیں ]
ص د:ـ(ض) صدفا : ہٹانا۔ کنارے کرنا (متعدی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
اگر اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے کی قوت سلب فرما لے تو کون دینے والا ہے
ان آیات میں انذار اور تبشیر ہے۔ اوّل تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری سننے اور دیکھنے کی قوت کو ختم کر دے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے جس سے نہ دیکھ سکو نہ سن سکو نہ سمجھ سکو تو بتاؤ اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو یہ چیزیں تمہیں دیدے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا ایسا کوئی نہیں۔ پھر اللہ کو چھوڑ کر کسی غیر کو معبود بناناکہاں کی عقلمندی ہے ؟ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک بیخبر ی میں بھی آسکتا ہے اور خبر داری میں بھی۔ اگر عذاب آجائے تو ظالم ہی ہلاک ہوں گے لہٰذا ظلم کرنے والے ظلم سے باز آجائیں۔ سب سے بڑا ظلم شرک اور کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
اثبات توحید۔
قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔
ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…
Read the full tafseer →53 یہ توحید پر ساتویں عقلی دلیل ہے اَرَاَیْتُمْ کی تحقیق حاشیہ 46 میں گذر چکی ہے سمع اور بصر سے یا ظاہری حواس مراد ہیں یا باطنی لیکن بقرینہ وَخَتَمَ عَلیٰ قُلُوْبِکُمْ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان سے باطنی سمع و بصر مراد ہے کیونکہ ختم علی القلوب سے سمجھنے کی استعداد سلب کرلینا مراد ہے۔ سرکشی اور عناد کی وجہ سے فہم کی استعداد سلب کرلی جاتی ہے اور اسی حالت کو مہر لگادینا کہا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا خَتَمَ اللہُ عَلیٰ قُلُوْبِھِمْ اور جو مان لیتے ہیں اس پر قائم ہوجاتے ہیں ان کے حق میں وَرَبَطْنَا عَلیٰ قُلُوْبِھِمْ ارشاد ہوتا ہے ثُمَّ ھُمْ یَصْدِفُوْنَ میں ثُمَّ استبعادیہ ہے اور یَصْدِفُونَ ای…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہات کا ذکر فرمایا کہ اگر کسی فرد یا قوم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت آجائے تو اس کا فرض ہے کہ ابتدائی پکڑ پر ہی تو بہ کرلے اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑائے ‘ عاجزی کرے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے نہ کہ کسی بڑی افتاد کا منتظر رہے۔ فرمایا معمولی تنبیہ پر ہی توبہ کر لینی چاہئے تا کہ اللہ کے بڑے عذاب سے بچ جائے۔ پھر جب اس کی سخت گرفت آجاتی ہے تو پھر کون ہے جو اس کے سوا مصیبت کو دور کرسکے ‘ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ قوموں کا حال بھی بیان فرمایا کہ ہم نے انہیں معاشی اور جسمانی تنگی میں مبتلا کیا تا کہ وہ گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں ‘…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللہُ سَمْعَكُمْ وَاَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰہٌ غَيْرُ اللہِ يَاْتِيْكُمْ بِہٖ 0ۭ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ ہُمْ يَصْدِفُوْنَ 46
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
ترکیب : ان اخذ اللّٰہ شرط من الہ جملہ جواب ارایتکم میں کاف کوئی اسم مستقل نہیں جس کو ارایت کا معمول بنایا جاوے بلکہ وہ حرف خطاب ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا مفعول محذوف ہے ارایتکم عبادتکم الاصنام۔
تفسیر : وہ ملحد جو کامیابی اور ناکامی کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہیں ان کا جواب دیتا ہے کیونکہ ارضی و سماوی بلیات میں تو کسی کو کلام ہی نہیں کہ وہ عالم غیب سے ہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی تمام صنعت اور دانش اور تدابیر کے آلات کان اور آنکھ اور دل ہے۔ اگر ان میں فتور ہے تو پھر کچھ نہیں
1 ؎ بابل اور نینوا گو اس وقت کی ترقی اور ترفہ میں لندن اور پیرس سے کچھ کم نہ تھے مگر ان پر کیا موقوف ہے۔ ہزاروں جگہ زمین…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَئَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللہ ُ سَمْعَکُمْ وَ اَبْصَارَکُمْ وَ خَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ مَّنْ اِلٰہٌغَیْرُ اللہِ یَاْتِیْکُمْ بِہٖ ط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ ھُمْ یَصْدِفُوْنَ ۔ (الانعام : 46)
(کہو ! بتائو اگر اللہ تمہارے سمع و بصر کو سلب کرلے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے ‘ جو اس کو واپس لا دے ؟ دیکھو ! کس طرح ہم اپنی آیتیں مختلف پہلوئوں سے پیش کرتے ہیں ‘ پھر بھی وہ اعراض کر رہے ہیں)
رسول اللہ ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ ان مشرکین مکہ سے کہئے کہ تم جو بار بار اللہ کے عذاب کا مطالبہ کر کے اپنی تباہی اور ہلاکت کو دعوت دے رہے ہو ‘ تمہیں شاید یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے عذاب کی یہ بھی ایک شکل ہے کہ وہ سننے، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کرلیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی گرفت اور عذاب کی مختلف شکلیں ہیں جلد یا بدیر دنیا میں کسی نہ کسی عذاب میں مجرم کو مبتلا کرتا ہے یا پھر اس کی سماعت یا بصیرت و بصارت اور تفہیم کی صلاحیتوں کو مسلوب کردیتا ہے جس سے مجرم کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر ناراض ہونے کے بجائے خوش ہے جس کی بنا پر مجھے دنیا کی فراوانی اور ہر قسم کی آزادی سے نواز رکھا ہے حالانکہ اس کا اصول یہ ہے کہ جسے جرائم میں مزید بڑھانا مقصود ہوتا ہے اس کی حیات مستعار کی رسی دراز کردیتا ہے تاکہ یہ گناہ اور جرائم کرتا…
Read the full tafseer →اگر اللہ اندھا بہرہ کر دے اور عقل چھین لے تو کیا پھر بھی غیروں کی طرف بھاگو گے :
آیت 46 : پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر اس طرح استدلال فرمایا۔ قُلْ اَرَ ئَ یْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰہُ سَمْعَکُمْ وَاَبْصَارَکُمْ کہ تمہیں اندھا اور بہرہ کر دے۔ وَخَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْپس تمہاری عقول کو چھین لے اور امتیاز کی قوت سلب کرلے۔ مَّنْ اِلٰــہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِہٖ اس کو جو اس نے لیا۔ اور اس پر مہر لگا دی۔ : مَنْمبتدا ہے اور الٰہ اس کی خبر ہے۔ اور غیر اللہ الٰہ کی صفت ہے اس طرح یاتیکم بھی۔ یہ جملہ ارأیتم کے دو مفعولوں کی جگہ ہے اور جواب شرط محذوف ہے۔
اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ ان…
Read the full tafseer →-46 (قل ارئیتم) اے مشرکو ! (ان اخذ اللہ سمعکم) حتی کہ تم کچھ بھی نہ سن سکو (وابصارکم) حتی کہ بالکل کوئی چیز نہ دیکھ سکو (وختم علی قلوبکم) حتی کہ تم کچھ بھی نہ سمجھ سکو اور دنیا کی جن چیزوں میں مہارت ہے ان کو بھی نہ پہچان سکو (من الہ غیر اللہ باتیکم بہ)
سوال۔ یاتیکم بہ فرمایا بہ میں ہ ضمیر مفرد ہے جبکہ ماقبل میں کان ، آنکھ، عقل، تین اشیاء کا ذکر ہے۔ ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہیں۔
جواب۔ یہ المذکور کی تاویل میں ہے کہ ان میں سے ایک چیز بھی چلی جائے تو وہ بھی کوئی نہیں لاسکتا۔
جواب۔ ہ ضمیر کا مرجع سمع کی طرف راجع ہے جو اولاً ذکر کیا ہے باقی اس کے تحت شامل ہیں جیسا کہ اس آیت میں ہے (واللہ و رسولہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت 46
” کہہ دیجیے، بتلاؤ ! اگر اللہ تعالیٰ چھین لے تمہارے کان اور آنکھیں اور مہر لگا دے تمہارے دلوں پر “ یعنی تم اس حالت میں باقی رہ جاؤ کہ تمہاری سماعت ہو نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت (من الہ غیر اللہ یاتیکم بہ) ” تو کون ایسا معبود ہے اللہ کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لادے ؟ “ جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو یہ چیز عطا کرسکے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی ہستیوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جن کے پاس کچھ بھی قدرت و اختیار نہیں مگر جب اللہ چاہے۔
یہ آیت کریمہ توحید کے اثبات اور شرک کے بطلان کی دلیل ہے اس لئے فرمایا : (انظر کیف نصرف الایت) ” دیکھو ! ہم کیوں کر طرح طرح سیب یان کرتے…
Read the full tafseer →71 اللہ کی سلب کردہ کسی نعمت کو کوئی واپس نہیں دلا سکتا : سو ایسے لوگوں کے قلب و باطن پر دستک دیتے ہوئے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے سوال کیا گیا کہ بتاؤ کہ اگر اللہ تم لوگوں سے اپنی دی بخشی ان نعمتوں کو چھین لے تو پھر کون ایسا ہوسکتا ہے جو تم لوگوں کو یہ نعمتیں واپس دلا دے ؟۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی بھی نہیں جو یہ قدرت رکھتا ہو۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دوسرا کوئی معبود سرے سے ہے ہی نہیں۔ پھر تم ایسوں کو حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر آخر کیوں پکارتے ہو ؟ اور اس حقیقت کو دل و جان سے کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ معبود برحق اور سب کا حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لاشریک ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
قادر مطلق کون ؟
تشریح : ان آیات میں اللہ کی زبردست قوت، طاقت اور شفقت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس نے پیدا کیا اور ہدایت کے لیے رسول بھیجے ہیں اور اسی لیے وہ بندوں کا حساب کتاب ضرور لے گا اور سز ا و جزا ضرور دے گا۔ اس بات کو ہر وقت دھیان میں رکھنا چاہیے، اسی میں سکون، اطمینان، خوشی اور نجات ہے، جو اس سے لاپرواہ ہیں وہ بےسکون رہیں گے اور آخرت میں عذاب پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50:
اسرار و معارف :
اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں…
Read the full tafseer →ف 6 منہ پھیر کر اور نظریں چرا کر چل دیتے ہیں اور کسی تنبیہ سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے حلان کہ یہ کان اور آنکھ اور دل جو اس وقت موجود ہیں شاید پھر نہ ملیں لہذا توبہ میں دیر کرنی نہیں چاہیئے۔ (کذافی المو ضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
(6:46) ارء یتم۔ ملاحظہ ہو 6:40 ۔
نصرف۔ مضارع جمع متکلم تصریف مصدر۔ (باب تفعیل) ہم پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ ہم کھول کھول کر ہر پہلو سے بیان کرتے ہیں۔ یصدفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صدف مصدر (باب ضرب) اعراض کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
لغات القرآن : آیت نمبر 46 تا 47 :
سمعکم ( تمہارے سننے کی طاقت) ‘ ابصارکم (تمہارے دیکھنے کی طاقت) ‘ ختم ( اس نے مہر لگادی) ‘ من الہ ( کون معبود ہے ؟ ) ‘ یا تیکم بہ ( جو اسکو لے آئے گا) ‘ نصرف ( ہم بدل بدل کر لاتے ہیں) ‘ یصدقون ( وہ منہ پھیرتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر 46 تا 47 :
ظاہری معنی یہ ہیں۔ اگر اللہ تمہیں بہرایا اندھا یا دیوانہ بنادے۔ باطنی معنی یہ ہیں۔ جسمانی صحت کے باوجو اگر کان نصیحت نہ پکڑیں ‘ اگر آنکھیں عبرت نہ پکڑیں ‘ اگر دل اور دماغ ذہن و فکر سے محروم ہوجائیں ۔ پھر ؟
تمام میڈیکل سائنس کے باوجود یہ گارنٹی نہیں ہے کہ بہرے کی سماعت ‘ اندھے کی بصارت اور دیوانے کی عقل واپس آجائے۔ علاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
[20] دل پر مہر لگانے سے مراد سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کرلینا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کفر پر اصرار کئے جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ظالموں کا نہ رہنا ہی اچھا ہے :
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ظالم اور ناحق شناس طبقوں کا دنیا سے مٹ جانا ہی باقی دنیا کے لئے مفید ہے ، کیونکہ جس طرح بیماریاں تباہ کن ہوتی ہیں ، اور متعدی ہوتی ہیں ، اسی طرح روحانی امراض بھی ہولناک صورت اختیار کرلیتے ہیں ، اور اگر ان کو باقی رہنے دیا جائے ، تو تمام قوموں کا اخلاق خطرہ میں پڑجاتا ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں مٹا دیتا ہے ، تاکہ ان کے مفاسد ان ہی تک محدود رہیں ۔
Read the full tafseer →-46 اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیے بھلا یہ تو بتائو اگر اللہ تعالیٰ تمہارے کانوں کی سماعت اور آنکھوں کی بینائی تم سے سلب کرلے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے یعنی نہ دیکھ سکو نہ سن سکو نہ سمجھ سکو تو کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود ہے جو یہ چیزیں تم کو واپس لا دے اور یہ چیزیں تم کو پھیر دے آپ دیکھیے ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنے دلائل بیان کرتے ہیں اور اس پر بھی یہ لوگ اعراض اور روگردانی کئے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 4۔ اس لیے کہ ایسے ظالموں کا پاپ کٹا جن کے ہونے سے نحوست ہی پھیلتی۔
Read the full tafseer →کسی قوم یا انسان کے کان ، آنکھیں لے لینے اور دلوں پر مہر لگانے کا مطلب کیا ؟
71: قرآن کریم میں یہ مضمون اتنی بار بیان ہوا ہے کہ شمار کرنا چاہیں تو مشکل ہی سے شمار کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس کا سمجھنا بھی ابھی تک اس سے سو بار زیادہ مشکل ہے جتنا اس کا شمار کرنا مشکل ہے۔ اس لئے کہ یہ قرآن کریم کی تمثیلات میں سے ایک تمثیل ہے لیکن تمثیل کا نام سنتے ہی کچھ چہرے اترنے اور کچھ چڑھنے شروع ہوجاتے ہیں۔ ہاں ! اترنے والے چہرے ” مقتدیان “ کے ہیں اور چڑھنے والے ” پشیوایان “ کے۔ بہر حال کسی کا چہرہ اترے یا چڑھے قرآن کریم کا مطلب ومفہوم تو اس سے نہیں بدل سکتا۔
اس تمثیل میں مؤمن اور کافر کے حال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
In the last verse (45), it was said that, when the mass punishment of Allah Ta` ala came, the people who did wrong were uprooted to the last man. Said immediately after was: وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (And praise be to Allah, the Lord of the worlds) where the hint given is: Whenever the wrongdoers and the unjust are visited by some punishment or calamity, that is a blessing for the whole world for which people should be grateful.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
29. Attention is now drawn towards another sign - one observable even in the lives of those who deny the Truth. When either some great calamity befalls a man or when death starkly stares him in the face, it is only to God that he turns for refuge. On such occasions even the staunchest polytheists forget their false gods and cry out to the One True God, and even the most rabid atheists stretch out their hands in prayer to Him. This phenomenon is mentioned here in order to draw an instructive lesson. It shows that devotion to God and monotheism are ingrained in the human soul. No matter how…
Read the full tafseer →