Al-An'aam 6:45

Al-An'aam · from ayah 45

6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ؕ— وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا‌ ؕ وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

So the people that committed wrong were eliminated. And praise to Allah, Lord of the worlds.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:45

اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ رب العالمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ﻇالم لوگوں کی جڑ کٹ گئی اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس طرح جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی، اور تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی اور سب خوبیاں سراہا اللہ رب سارے جہاں کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس ظلم کرنے والی قوم کی جڑ کاٹ دی گئی، اور تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس طرح ان ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور ہر طرح کی تعریف تو اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ (جس نے ایسے ظالموں کو نیست و نابود کردیا)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا۔ اور شکر کا سزا وار حقیق اللہ ہے تمام عالم کا رب !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی ان لوگوں کی جو اڑے ہوئے تھے اپنے ظلم (وعدوان) پر، اور سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں جو پروردگار ہے سب جہانوں کا

— مولانا اسحاق مدنی

اس طرح جڑکاٹ دی گئی ان لوگوں کی جو ظلم کرتے تھے اور ساری حمد اللہ سارے جہانوں کے پروردگار ہی کیلئے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جڑ کاٹ دی گئی اس قوم کی جس نے ظلم (اور کفر و شرک) کی روش اختیار کی تھی اور کل شکر اور تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کے رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہی ہے جو رب العالمین ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus the last remnant of those wrongdoing people was cut off. All praise is for Allah, the Lord of the entire universe, (for having punished them so).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus, the people who did wrong were uprooted to the last man; Praise be to Allah, the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus, the people who did wrong were uprooted to the last man; Praise be to Allah, the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So the roots of the people who did wrong were cut off. And all the praises and thanks be to Allah, the Lord of the all that exists.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So of the people who did wrong the last remnant was cut off. Praise be to Allah, Lord of the Worlds!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So the people that committed wrong were eliminated. And praise to Allah, Lord of the worlds.

— Saheeh International

Thus, the transgressing people were destroyed. It is only God, the Lord of creation who deserves all praise.

— Muhammad Sarwar

So the roots of the people who were unjust were cut off; and all praise is due to Allah, the Lord of the worlds.

— Muhammad Habib Shakir

Then the people who committed wrong were cut off completely. And all praise is unto Allah, the Lord of the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

Of the wrong-doers the last remnant was cut off. Praise be to Allah, the Cherisher of the worlds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–45

سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–45

سورة الْاَنْعَام 29 گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلے مثال کے طور پر حیوانات کی زندگی کے مشاہدہ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد اب ایک دوسری نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جارہا ہے جو خود منکرین حق کے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب انسان پر کوئی آفت آجاتی ہے، یا موت اپنی بھیانک صورت کے ساتھ سامنے آکھڑی ہوتی ہے، اس وقت ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دوسری پناہ گاہ اسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبودوں کو بھول کر خدا ے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔ کٹے سے کٹا دہریہ تک خدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخری آیت میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب عام آیا تو ظالموں کی نسل تک قطع کردی گئی، اور اس کے آخر میں فرمایاوالحمد للّٰہ رب العالمین، جس میں اشارہ کیا گیا کہ مجرموں اور ظالموں پر جب کوئی عذاب و مصیبت آئے تو پورے عالم کے لئے ایک نعمت ہے جس پر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کسی قوم کی جڑ کب کٹتی ہے ؟ ‘ دابر ’ کے معنی اصل اور جڑ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب مکذبین رسول اپنی بدمستی کی اس حد کو پہنچ جاتے ہیں تب ایسے ظالموں کی خدا جڑ کاٹ کے رکھ دیتا ہے۔ اس میں اس بات کی طرف نہایت لطیف اشارہ ہے کہ اس سے پہلے اس طرح کے مجرموں پر ابتلا کے جو جھنکے آتے ہیں ا سے ان کے شجر ہستی کے صرف برگ و بار متاثر ہوتے ہیں اور وہ بھی وقتی طور پر ان کی جڑ محفوط رہتی ہے لیکن جب یہ وقت آجاتا ہے تو خدا ان پر عذاب بھیجتا ہے جو ان کے وجو قومی ہی کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ کے پھینک دیتا ہے اس لیے کہ جو درخت زہریلا ہوچکا اور اب صرف زہریلے ہی پھل دے رہا ہے اس کا باقی رہنا اس دنیا کی مصلحت کے خلاف ہے جو اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 اس میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالیٰ یہی بیان فرماتا ہے کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں، یہاں تک کہ جب اس میں خوب مگن ہوجاتی ہیں اور اپنی مادی خوش حالی و ترقی پر اترانے لگ جاتی ہیں تو پھر ہم اچانک انھیں اپنے مواخذے کی گرفت میں لے لیتے ہیں اور جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ حدیث میں بھی آتا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل دینا) ہے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی، قرآن کریم کی آیت اور حدیث نبوی ﷺ سے معلوم ہوا کہ دنیاوی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–46

15: اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں کے ساتھ یہ معاملہ فرمایا ہے کہ انہیں متنبہ کرنے کے لئے انہیں کچھ سختیوں میں بھی مبتلا فرمایا، تاکہ وہ لوگ جن کے دل سختی کی حالت میں نرم پڑتے ہیں سوچنے سمجھنے کی طرف مائل ہوسکیں، پھر ان کو خوب خوشحالی عطا فرمائی تاکہ جو لوگ خوشحالی میں حق قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں وہ کچھ سبق لے سکیں، جب دونوں حالتوں میں لوگ گمراہی پر قائم رہے تب ان پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہی بات قرآن کریم نے سورة اعراف (94:795) میں بھی بیان فرمائی ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 42–45

(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔ یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 ظالموں کا استیصال بھی اسکی ربوبیت عامہ کا اثر اور مجموعہ عالم کے لئے رحمت عظیم ہے اسی لئے یہاں حمد و شکر کا اظہار فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 44–45

آیت 44 فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ ط۔ کہ اب کھاؤ پیو ‘ عیش کرو ‘ اب دنیا میں ہر قسم کی نعمتیں تمہیں ملیں گی ‘ تاکہ اس دنیا میں جو تمہارا نصیب ہے اس سے خوب فائدہ اٹھا لو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 یعنی یہ بھی اللہ کا لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ وہ ظالموں کو وقتاً فوقتاً نیست و نابود کرتا رہتا ہے تاکہ مظلوم لوگ ان کے ظلم و ستم سے نجات پا کر اپنی زندگی آرام اور چین سے گزار سکیں۔ جنہوں نے ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

70 ۔ یعنی اس خدا کے لئے جو محافظ ہے نظام تکوینی کا اور اس سے ہر رخنہ اندازی کو دور کرتا رہتا ہے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ یہ ظلم وہ اپنی جانوں پر بھی کرتے رہے۔ اور نظام کائنات پر بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–49

فلَمّا نَسُوا مَا ذکّروا بہٖ فَتَحنا عَلَیْھم ابوابَ کلِّ شیّٔ (الآیۃ) اس آیت میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اس میں خوب مگن مست ہوجاتی ہیں اور مادی خوشحالی و ترقی پر اترانے لگتی ہیں تو پھر ہم اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، اور ان کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں، حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل) ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقطع دابر القوم الذین ظلموا پھر ظالم لوگوں کی جڑ کٹ گئی۔ قاموس میں دابر کا معنی ہے تابع ہر چیز کا آخری حصہ جڑ۔ مطلب یہ ہے کہ سب کو ہلاک کردیا گیا ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا۔ توالد کا سلسلہ ہی کاٹ دیا گیا۔ نسل منقطع ہوگئی۔ پس قطع دابر قطع اصول کی صورت میں ہوگیا یا قطع فروع کی شکل میں۔ بجائے دابرہم کہنے کے دابر القوم الذین۔۔ سے اس طرف اشارہ ہے کہ ان کی بربادی کی علت ان کا ظلم تھا (اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ان کا خود ظلم موجب بربادی ہوا) والحمدللہ رب العلمین۔ اور اللہ ہی کے لئے ہر ستائش ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ ظالموں کو ہلاک کرنا بھی قابل حمد و ستائش فعل ہے مؤمنوں کو ظالموں کے شر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(45) نتیجتا مشرک لوگوں کو نیست ونابود کردیا گیا، آپ ان کے نیست ونابود ہونے پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۔۔ : یعنی وہ سب نیست و نابود کردیے گئے اور ان کی ہلاکت بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی، جس پر ہر چیز نے سکھ کا سانس لیا اور ان کا نام و نشان مٹنے پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، جس نے رب العالمین ہونے کی وجہ سے اپنی مخلوق پر رحم فرما کر زمین کو ان کے وجود سے پاک کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 43–45

آیت نمبر 43 تا 45 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فلو لا اذ جائھم باسنا تضرھو، لولا یہ تحضیض کے لیے ہے یہ وہ ہوتا ہے جو فعل کے ساتھ ملا ہوتا ہے بمعنی ھلا ہوتا ہے، یہ دعا کے ترک پر عتاب ہے اور ان کے متعلق خبر ہے کہ عذاب کے نزول کے وقت انہوں نے دعا نہیں کی۔ یہ بھی جائز ہے کہ انہوں نے دعا کی ہو لیکن غیر مخلص کی طرح کی ہو یا اس وقت دعا کی ہو جب عذاب نازل ہوچکا ہو۔ اور ان تمام صورتوں میں دعا غیر نافع ہے۔ دعا کا حکم حالت خوشحالی اور شدت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ادعونی استجب لکم (غافر : 60) مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ اور فرمایا : آیت : ان الذین یستکبرون عن عبادتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 44–45

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فلما نسوا ما ذکروا بہ یعنی ان لوگوں نے چھوڑ دیا جو ان کو یاد دلایا گیا تھا۔ (2) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتحنا علیھم ابواب کل شیء یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اور اپنے رسولوں کی طرف بلایا تو انہوں نے انکار کردیا اور اسے ان پر واپس لوٹا دیا۔ (3) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتحنا علیھم ابواب کل شیء سے مراد ہے۔ پہلے زمانہ کے لوگوں کو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) عطا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَقُطِعَ [ پھر کاٹی گئی ] دَابِرُ الْقَوْمِ [ اس قوم کی جڑ ] الَّذِيْنَ [ جنھوں نے ] ظَلَمُوْا ۭ [ ظلم کیا ] وَالْحَـمْدُ [ اور تمام شکر و سپاس ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کے لئے ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا رب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِنْنَ ) (سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے) اس نے دکھ تکلیف میں مبتلا کرکے رجوع کرنے کا موقع دیا پھر نعمتوں سے نوازا لیکن وہ کسی طرح باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے موافق ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوسری امت پیدا فرما دی۔ ایک امت ہلاک ہوئی تو دوسری امت نے وہی طرز اختیار کیا جو ان سے پہلی امت کا تھا۔ شکر کا مطلب اور شکر کی اہمیت : کسی فرد یا جماعت کے پاس جو بھی کوئی نعمت ہو اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھے اور اس کا شکر گزار ہو اور اپنے اعضاء وجوارح کو بھی فرماں برداری میں لگائے اور نافرمانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–51

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔ ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

52 پھر اللہ تعالیٰ ان کو اس طرح پکڑتا ہے اور ان پر ایسا عذاب نازل کرتا ہے کہ ان کی بالکلیہ جڑ ہی کٹ جاتی ہے اور ان کی نسل ہی تباہ ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ قوم نوح کا حشر ہوا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ اور تمام صفات کا رسازی اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ مشرکین جن معبودان باطلہ کو متصرف اور مشکل کشا سمجھتے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکا۔۔ تو معلوم ہوا کہ اللہ ہی کارساز اور مافوق الاسباب متصرف ہے اور کوئی نہیں۔ تائید۔ فَلَوْلَا نَصَرَھُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللهِ قُرْبَانًا اٰلِھَةً (احقاف ع 4) اور فَمَا اَغْنَتْ عَنْھُمْ اٰلِھَتُھُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–45

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے احتمال کے طور پر مکذبین کو ڈرایا تھا کہ آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ اگر موت یا قیامت کی گھڑی آپہنچے تو خدا کے سوا تمہاری مصیبت کو کون دور کرسکتا ہے۔ یقینا کوئی نہیں۔ وہ صرف خدا کی ذات ہے جس کے قبضے میں اقتدار اور تصرف ہے۔ لہٰذا یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے کہ تمہاری پکار یا دعا کو قبول کر کے عذاب کو ٹم سے ٹال دے۔ اب اللہ تعالیٰ نے بعض سابقہ امتوں کے واقعات کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے کہ دیکھو ! ان پر خدا کا عذاب فی الواقع آ گیا اور وہ اس میں ہلاک ہوگئے۔ لہٰذا تمہیں بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کہیں تم پر بھی ایسا عذاب نہ آجائے کیونکہ تمہارے افعال و کردار بھی ویسے ہی ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۝ 0ۭ وَالْحَـمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 45 قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا دابِرُ ( دبر) فإدبار مصدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–45

ترکیب : فلولا کلمہ تخصیص ہے اذ جاء ھم ظرف ہے تضرعوا کا۔ زین جملہ معطوف ہے قست قلوبہم پر۔ ماکانوا جملہ مفعول ہے زین کا لہم اس سے متعلق ہے۔ تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ شدائد میں کفار بتوں کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں پھر وہ اپنی رحمت سے ان کی مصیبت دور کردیتا ہے (غالباً مکہ یا عرب کے بت پرست ایسا کرتے تھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کاملہ کے بھی قائل تھے۔ البتہ بتوں اور تھانوں اور دیگر خیالی معبودوں کو خدا کی طرف کارکن سمجھ کر پوجتے اور ان کو پکارتے تھے جیسا کہ اکثر ہندو کرتے ہیں) اب یہاں یہ بات بتاتا ہے کہ اے نبی علیک السلام ان سے بھی بڑھ کر سیاہ دل قومیں گذری ہیں کہ وہ مصیبت کے وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ط وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانعام : 45) ” بس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی ‘ جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا تھا اور شکر کا سزاوار حقیقی اللہ ہے۔ تمام عالم کا رب “۔ پھر ان کی جڑ کاٹ کے رکھ دی جاتی ہے۔ یعنی ان کو دنیا سے مٹا دیا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی بداطواریوں کے باعث شجرِ انسانیت کے برگ و بار تو پہلے ہی ضائع کر ڈالے تھے ‘ وہ زمین پر انسانوں کی طرح نہیں بلکہ حیوانوں یا درندوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے۔ انھوں نے ایک ایک کر کے اقدار انسانیت کا جنازہ نکال دیا تھا۔ اب لے دے کے ان کی جڑ باقی تھی کیونکہ پہلے مصائب نے ان کو جڑ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : حقیقت کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں انجام جب ان پر ہلکا اور بھاری عذاب آیا تو ان کی قلبی کیفیت اور رد عمل جیسا کہ آیت 37 میں کفار کے مطالبہ کا ذکر ہوا۔ جس میں انھوں نے نبی رحمت ﷺ سے کسی معجزہ یا نشانی کا مطالبہ کیا اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب یا جس قیامت کی آمد کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ یکایک تم پر نازل ہوجائے تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے معبود ان باطل سے مدد طلب کرو گے ؟ ہرگز نہیں تمہاری حالت یہ ہوگی کہ تم سب کچھ بھول کر صرف ایک رب کو پکارو گے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی نشانی یا اس کے عذاب کا معاملہ ہے تو جان رکھو اس کے عذاب کی مختلف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 45 : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا تمام ظالم ہلاک کردیئے گئے اور ان میں سے کوئی نہ بچا۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اس میں اعلان کیا گیا کہ ظالموں کی ہلاکت پر الحمدللہ کہنا واجب ہے۔ اور ظالموں کی ہلاکت عظیم نعمت ہے اور بہت بڑی قسم ہے دوسری تفسیر یہ ہے کہ تم ان لوگوں کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کی حمد نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کی حمد کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

-45 (فقطع دابر القوم الذین ظلموا) مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب کے ساتھ جڑ سے اکھاڑ دیئے گئے تو ان میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ (والحمد للہ رب العلمین) اللہ تعالیٰ نے ان کی جڑ کاٹنے پر اپنی تعریف کی ہے کیونکہ یہ اللہ کے رسولوں پر نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر حمد ذکر کر کے مئومنین کو تعلیم دی کہ وہ اللہ کی اس بات پر تعریف کریں کہ وہ ان کو ظالموں سے کافی ہوگیا اور محمد اور آپ کے ساتھی بھی اپنے رب کی حمد کریں جب وہ مکذبین کو ہلاک کر دے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–49

(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 42–45

آیت 42 (ولقد ارسلنا الی ام من قبلک) ” اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ “ یعنی ہم نے سابقہ اور گزرے ہوئے زمانوں میں رسول بھیجے۔ انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری آیات کا انکار کیا (فاخذنھم بالباساط والضرآء) ” ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں پر پکڑتے رہے۔ “ یعنی ان پر رحم کرتے ہوئے فقر و مرض اور آفات و مصائب کے ذریعے سے ان کی گرفت کی (لعلھم یتضرعون) ” تاکہ وہ عاجزی کریں۔ “ شاید کہ وہ اللہ کے پاس عاجزی سے گڑ گڑائیں اور سختی کے وقت اس کے پاس پناہ طلب کریں۔ (فلولا اذ جآء ھم باسنا تضرعوا ولکن قست قلوبھم) ” پس کیوں نہ گڑ گڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا، لیکن سخت ہوگئے دل ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

70 ظالموں کی ہلاکت پر اللہ کا شکر ادا کرنا واجب : کہ اس نے اپنی رحمت و عنایت سے ایسے ظالم اور خبیث لوگوں کے خبیث وجود سے اپنی دھرتی کو پاک کیا اور اہل زمین کو ان کے اعمال خبیثہ کے منحوس آثار و نتائج سے نجات دلائی۔ علامہ زمخشری کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ ظالموں کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کہ یہ اس کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ہے۔ اور اس آیت کریمہ میں خبر بمعنی امر کے ہے۔ (محاسن التاویل للقاسمی وغیرہ) ۔ فالحمدللہ رب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مُکَذِّبِیْنِ جب اپنی خرمستی کی اس انتہا کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 42–45

کفار کی نافرمانی اور ان کا انجام تشریح : ان آیات میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کا دستور ہمیشہ سے یہی چلا آ رہا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو یونہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ ان کو راہ راست پر رکھنے اور خوبصورت زندگیاں گزارنے کے لیے رہنما اصول آسمانی کتابوں اور صحیفوں کے ذریعے بھیجتا رہتا ہے اور مختلف زمانہ میں مختلف رسول پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں تاکہ لوگ گمراہی اور شیطان کی شرارتوں سے بچ سکیں، پھر بھی اگر لوگ ہدایت نہ پائیں تو پھر ان پر ان کے اپنے برے اعمال کی وجہ سے عذاب آتے ہیں پھر اگر گناہوں سے باز نہ آئیں تو پھر آسائشوں کی بارش کردی جاتی ہے پھر بھی اگر ہوش میں نہ آئیں تو پھر اچانک ان کو بالکل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–50

رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50: اسرار و معارف : اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی سب ونیست ونا بود کردیئے گئے اور ان کے نیست ونابودکیئے جانے پر ہر چیز نے سکھ کا سانس لیا اور اللہ رب العلمین کے حضور سجدہ شکر ادا کیا خس کم جہاں پاک۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:45) دابر۔ بیج۔ بنیاد۔ پچھاڑی۔ جڑ۔ پیچھا۔ دبور سے جس کے معنی پشت پھیرنے کے ہیں۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ والحمد للہ رب العلمین۔ حمد الٰہی اس واسطے کہ ظالم قوموں کی بیخ کنی سے خدا کی مخلوق کو نجات نصیب ہوئی۔ اس نعمت پر خدا کی حمد انسان پر لازم ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–45

لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 : الباسآء (باس) سختیاں ( یتضرعون) وہ عاجزی کرتے ہیں ‘ قست ( سخت ہوگئے) ‘ زین (خوبصورت ہوگئے) ‘ نسوا (وہ بھول گئے) فتحنا ( ہم نے کھول دیا) ‘ ابواب (دروازے) فرحوا ( وہ خوش ہوگئے) ‘ اوتوا (دیئے گئے) اخذنا ( ہم نے پکڑ لیا) مبلسون ( مایوس ہوجانے والے) قطع ( کاٹ دیا گیا) ‘ دابرالقوم (قوم کی جڑ) ۔ تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 : اللہ کی طرف سے انسانی فرد یا جماعت کی آزمائش دو طرح سے ہوتی ہے۔ مصیبتوں کے ذریعہ یا عیش عشرت کے ذریعہ ‘ مصیبت کے وقت اس کے سامنے دوراستے کھلے ہوتے ہیں یا تو اللہ کے سامنے روئے ‘ عاجزی کرے ‘ گڑ گڑائے ‘ توبہ کرے ‘ معافی مانگے ‘ یہی وہ راستہ ہے جدھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–49

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–46

[20] دل پر مہر لگانے سے مراد سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کرلینا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کفر پر اصرار کئے جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 45–46

ظالموں کا نہ رہنا ہی اچھا ہے : (ف 1) مقصد یہ ہے کہ ظالم اور ناحق شناس طبقوں کا دنیا سے مٹ جانا ہی باقی دنیا کے لئے مفید ہے ، کیونکہ جس طرح بیماریاں تباہ کن ہوتی ہیں ، اور متعدی ہوتی ہیں ، اسی طرح روحانی امراض بھی ہولناک صورت اختیار کرلیتے ہیں ، اور اگر ان کو باقی رہنے دیا جائے ، تو تمام قوموں کا اخلاق خطرہ میں پڑجاتا ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں مٹا دیتا ہے ، تاکہ ان کے مفاسد ان ہی تک محدود رہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-45 اور یہ گرفت ایسی ہوئی کہ اس کے بعد ان ظالم اور ناانصاف لوگوں کی جڑ ہی کاٹ دی گئی اور اس اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جو تمام کائنات اور تمام مخلوقات کا پروردگار ہے یعنی سب ہلاک کردیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 45–46

ف 4۔ اس لیے کہ ایسے ظالموں کا پاپ کٹا جن کے ہونے سے نحوست ہی پھیلتی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس مایوسی کے عالم میں ہی ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جاتی ہے : 69: بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم ظلم اور بد عملی میں مبتلا ہوتی ہے اس پر بھی ہر طرح کی خوشحالیاں اسے ملتی رہتی ہیں تب لوگ دھوکے میں پڑجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ظلم و بد عملی کے نتائج کیا ہوئے ؟ یہ تو سب بس ہاتھ نہ پہنچنے والوں کے ڈھکو سلے ہیں۔ حالانکہ یہ اس لئے نہیں ہوتا کہ جزاء و عمل کا قانون موجود نہیں بلکہ اس لئے کہ اللہ نے ہرچیز کی طرح مفاسد کی نشونما اور بلوغ کے لئے بھی مقدار و اوقات کا قانون ٹھہرا دیا ہے جب تک وہ وقت نہیں آتا نتائج آشکارا نہیں ہوتے۔ اس حقیقت کی طرف پچھلی آیت میں اشارہ ہے اور اس آیت میں بس کام تمام ہوجانے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–50

In the last verse (45), it was said that, when the mass punishment of Allah Ta` ala came, the people who did wrong were uprooted to the last man. Said immediately after was: وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ (And praise be to Allah, the Lord of the worlds) where the hint given is: Whenever the wrongdoers and the unjust are visited by some punishment or calamity, that is a blessing for the whole world for which people should be grateful.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–49

29. Attention is now drawn towards another sign - one observable even in the lives of those who deny the Truth. When either some great calamity befalls a man or when death starkly stares him in the face, it is only to God that he turns for refuge. On such occasions even the staunchest polytheists forget their false gods and cry out to the One True God, and even the most rabid atheists stretch out their hands in prayer to Him. This phenomenon is mentioned here in order to draw an instructive lesson. It shows that devotion to God and monotheism are ingrained in the human soul. No matter how…

Read the full tafseer →