Explained with ayahs 40–45
سخت لوگ اور کثرت دولت
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
سورة الْاَنْعَام 29
گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلے مثال کے طور پر حیوانات کی زندگی کے مشاہدہ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد اب ایک دوسری نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جارہا ہے جو خود منکرین حق کے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب انسان پر کوئی آفت آجاتی ہے، یا موت اپنی بھیانک صورت کے ساتھ سامنے آکھڑی ہوتی ہے، اس وقت ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دوسری پناہ گاہ اسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبودوں کو بھول کر خدا ے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔ کٹے سے کٹا دہریہ تک خدا…
Read the full tafseer →اس کے بعد تیسری آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا گیا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ، کہ جب ان کی نافرمانی حد سے گزرنے لگی تو اب ایک خطرناک آزمائش میں ان کو مبتلا کیا گیا کہ ان پر دنیا کی نعمتوں راحتوں اور کامیابیوں کے دروازے کھول دئیے گئے۔
اس میں اس بات پر عام انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا میں کسی شخص یا جماعت پر عیش و عشرت کی فروانی دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں، کہ یہی لوگ صحیح راستہ پر ہیں اور یہی کامیاب زندگی کے مالک ہیں، بلکہ بسا اوقات یہ حالت ان مبتلاء عذاب نافرمانوں کی بھی ہوتی ہے، جن کو سخت سزا میں دفعةً پکڑنا طے کرلیا جاتا ہے۔
اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم یہ دیکھو کہ…
Read the full tafseer →فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ الایہ۔ ماذکرو بہ کے معنی ہوں گے جس چیز کے ذریعے سے ان کو یاد دہانی کی گئی۔ یہاں اس سے اشارہ اسی باساء و ضراء یعنی مالی جسمانی مصائب کی طرف ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے مبتلا کیا کہ وہ سمجھیں کہ اگر انہوں نے پیغمبر کی بات نہ مانی تو ان تنبیہات کے بعد اب آگے فیصلہ کن عذاب ہے کا مرحلہ ہے لیکن اس سے یہ سبق لینے کے بجائے انہوں نے ان کے گزر جانے کے بعد ان کو نظر انداز کردیا کہ قوموں کی زندگی میں اس طرح کے حوادث تو پیش آیا ہی کرتے، قحط، سیلاب، طوفات، وبا اور امراض سے کس قوم کو سابقہ نہیں پیش آیا ہے۔ قد مس آباءنا الضرا والسرا 4۔ اس طرح کے نرم و گرم حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
43۔ 1 قومیں جب اخلاق و کردار کی پستی میں مبتلا ہو کر اپنے دلوں کو زنگ آلود کرلیتی ہیں تو اس وقت اللہ کے عذاب انھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے اور جھنجھوڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پھر ان کے ہاتھ طلب مغفرت کے لئے اللہ کے سامنے نہیں اٹھتے ہیں دل اس کی بارگاہ میں نہیں جھگتے اور ان کے رخ اصلاح کی طرف نہیں مڑتے بلکہ اپنی بد اعمالیوں پر تاویلات اور توجیہات کے حسین غلاف چڑھا کر اپنے دل کو مطمئن کرلیتی ہیں۔ اس آیت میں ایسی ہی قوموں کا وہ کردار بیان کیا گیا ہے جسے شیطان نے ان کے لئے خوبصورت بنادیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
15: اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں کے ساتھ یہ معاملہ فرمایا ہے کہ انہیں متنبہ کرنے کے لئے انہیں کچھ سختیوں میں بھی مبتلا فرمایا، تاکہ وہ لوگ جن کے دل سختی کی حالت میں نرم پڑتے ہیں سوچنے سمجھنے کی طرف مائل ہوسکیں، پھر ان کو خوب خوشحالی عطا فرمائی تاکہ جو لوگ خوشحالی میں حق قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں وہ کچھ سبق لے سکیں، جب دونوں حالتوں میں لوگ گمراہی پر قائم رہے تب ان پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہی بات قرآن کریم نے سورة اعراف (94:795) میں بھی بیان فرمائی ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔
یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
3 گزشتہ آیت میں عذاب آنے کا احتمال ہوا تھا۔ اب واقعات کا حوالہ دیتے ہیں کہ پہلے زمانے میں اس طرح کے عذاب آ چکے ہیں۔ نیز متنبہ فرما دیا کہ جب مجرم کو ابتدا ہلکی تنبیہ کی جائے تو اسکو معاً خدا کیطرف رجوع ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور اغوائے شیطانی سے اسے ہلکا نہ سمجھے۔ موضح القرآن میں ہے کہ گنہگار کو اللہ تعالیٰ تھوڑا سا پکڑتا ہے، اگر وہ گڑ گڑایا توبہ کی تو بچ گیا اور اگر اتنی پکڑ نہ مانی تو پھر بھلاوا دیا اور وسعت عیش کے دروازے کھولے۔ جب نعمتوں کی شکر گزاری اور انعام واحسان سے متأثر ہونے کے بجائے خوب گناہ میں غرق ہوا تو دفعۃ بیخبر پکڑا گیا۔ یہ ارشاد ہے کہ آدمی کو گناہ پر تنبیہ پہنچے تو شتاب توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
آیت 44 فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ ط۔
کہ اب کھاؤ پیو ‘ عیش کرو ‘ اب دنیا میں ہر قسم کی نعمتیں تمہیں ملیں گی ‘ تاکہ اس دنیا میں جو تمہارا نصیب ہے اس سے خوب فائدہ اٹھا لو۔
Read the full tafseer →47 دنیا میں عذاب سے متعلق اللہ کا قانون :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مواخذہ کا قانون بیان فرمایا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کسی قوم میں اللہ کی نافرمانی کا آغاز ہوتا ہے تو اللہ ان پر ہلکے ہلکے عذاب نازل فرماتا ہے مثلاً قحط یا خشک سالی یا کوئی وبا وغیرہ۔ اور یہ عذاب تنبیہ یا وارننگ کے طور پر آتا ہے تاکہ لوگ اللہ کی گرفت سے ڈر جائیں اور اس کے حضور توبہ کریں۔ اور عاجزی کریں۔ اگر قوم فی الواقع متنبہ ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے تو اس سے وہ سختی بھی دور کردی جاتی ہے اور آئندہ اللہ کی رحمتوں کا نزول شروع ہونے لگتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے اور نافرمانیوں اور سرکشی میں ہی بڑھتی چلی جائے تو اس پر…
Read the full tafseer →69 ۔ (ہر طرح مایوس ہوکر) یہاں اس حقیقت کا بیان ہے کہ جاہ و ثروت، خوشحالی اوراقبال مندی کو صداقت سے ہرگز نہیں، گو اکثر حالات میں مطیعین اور اہل حق کو یہ دنیوی سربلندیاں بھی بہ طور انعام مل جاتی ہیں۔ (آیت) ” نسوا “۔ نسیان سے یہاں وہ عدم حافظہ کا عمل مراد نہیں جو غیراختیاری ہے، بلکہ ترک اختیاری مراد ہے، نسو بمعنی ترکوا عن ابن عباس وابن جریج وھو قول ابی علی (قرطبی) (آیت) ” ماذکروا بہ “۔ یعنی ایمان و اطاعت کے مطالبات جو بار بار یعنی ہر قسم کے اسباب نعمت انہیں مہیا ہوگئے۔ ای من النعم والخیرات ای کثرنا لھم ذلک (قرطبی) مطلب یہ ہوا کہ پہلے سختیوں میں اور اب آسانیوں میں دونوں طرح ہم نے انہیں رکھ دیکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
فلَمّا نَسُوا مَا ذکّروا بہٖ فَتَحنا عَلَیْھم ابوابَ کلِّ شیّٔ (الآیۃ) اس آیت میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اس میں خوب مگن مست ہوجاتی ہیں اور مادی خوشحالی و ترقی پر اترانے لگتی ہیں تو پھر ہم اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، اور ان کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں، حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل) ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔…
Read the full tafseer →فلما نسوا ما ذکروا بہ سو جب انہوں نے ان چیزوں کو چھوڑے رکھا جن کی ان کو نصیحت کی گئی اور اختیار نہ کیا ان احکام کو جو ان کو دیئے گئے تھے اور تنگ دستی و بیماری میں مبتلا ہو کر بھی بیدار نہ ہوئے اور توبہ نہ کی۔
فتحنا علیہم ابواب کل شی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یعنی ڈھیل دینے کے لئے ان کو ہر طرح کی نعمتیں عطا کردیں۔ حضرت عقبہ ؓ بن عامر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی بندہ گناہوں پر جما ہوا ہو اور دنیا میں ہر دل پسند چیز اس کو ملتی رہے تو (سمجھ لو کہ) یہ محض ڈھیل ہے پھر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (فلّما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیہم ابواب کل شء) ۔
حتی اذا فرحوا…
Read the full tafseer →(44) چناچہ جب انہوں نے ان تمام احکامات کو جن کا کتاب میں حکم دیا گیا تھا، چھوڑ دیا تو ان پر عیش و عشرت کے سامان فراخ ہوگئے جب وہ دنیا کے عیش و عشرت اور ہر قسم کی نعمتوں میں مست ہو کر رب ذوالجلال کو بھول گئے تو اس وقت ان کو عذاب نے آگھیرا اور وہ بھلائی سے مایوس ہوچکے تھے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ۔۔ : جب انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرامین کو فراموش ہی کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت قائم کرنے کے لیے ان کی رسی دراز کردی اور ان پر ہر قسم کی نعمتوں کے دروازے کھول دیے، پھر جب وہ عیش و آرام میں پوری طرح مگن ہوگئے تو اللہ نے اچانک انھیں پکڑ لیا، یعنی اچانک ایسا عذاب آیا کہ وہ اپنا تمام عیش و آرام بھول گئے اور انھیں بچنے کی کوئی امید نہ رہی اور اسی یاس اور ناامیدی کی حالت میں تباہ و برباد کردیے گئے۔ عقل مند آدمی کو چاہیے کہ جب سختی اور مصیبت آئے تو اسے اللہ کی طرف سے تنبیہ سمجھ کر برے کاموں سے توبہ کرلے، ورنہ غفلت بڑھتی جائے گی اور اچانک ایسی سخت پکڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
آیت نمبر 43 تا 45 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فلو لا اذ جائھم باسنا تضرھو، لولا یہ تحضیض کے لیے ہے یہ وہ ہوتا ہے جو فعل کے ساتھ ملا ہوتا ہے بمعنی ھلا ہوتا ہے، یہ دعا کے ترک پر عتاب ہے اور ان کے متعلق خبر ہے کہ عذاب کے نزول کے وقت انہوں نے دعا نہیں کی۔ یہ بھی جائز ہے کہ انہوں نے دعا کی ہو لیکن غیر مخلص کی طرح کی ہو یا اس وقت دعا کی ہو جب عذاب نازل ہوچکا ہو۔ اور ان تمام صورتوں میں دعا غیر نافع ہے۔ دعا کا حکم حالت خوشحالی اور شدت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ادعونی استجب لکم (غافر : 60) مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
اور فرمایا : آیت : ان الذین یستکبرون عن عبادتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فلما نسوا ما ذکروا بہ یعنی ان لوگوں نے چھوڑ دیا جو ان کو یاد دلایا گیا تھا۔
(2) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتحنا علیھم ابواب کل شیء یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اور اپنے رسولوں کی طرف بلایا تو انہوں نے انکار کردیا اور اسے ان پر واپس لوٹا دیا۔
(3) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتحنا علیھم ابواب کل شیء سے مراد ہے۔ پہلے زمانہ کے لوگوں کو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) عطا…
Read the full tafseer →فَلَمَّا [ پھر جب ] نَسُوْا [ وہ بھولے ] مَا [ اس کو ] ذُكِّرُوْا [ ان کی یاد دہانی کرائی گئی ] بِهٖ [ جس سے ] فَتَحْنَا [ تو ہم نے کھول دیئے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ۭ [ ہر چیز کے دروازے ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب ] فَرِحُوْا [ وہ بہ خوش ہوئے ] بِمَآ [ اس سے جو ] اُوْتُوْٓا [ دیا گیا ان کو ] اَخَذْنٰهُمْ [ تو ہم نے پکڑا ان کو ] بَغْتَةً [ اچانک ] فَاِذَا [ تب پھر ] هُمْ [ وہ لوگ ] مُّبْلِسُوْنَ [ انتہائی غمگین ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
سابقہ امتوں کا تذکرہ جو خوشحالی پر اترانے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں
ان آیات میں پچھلی امتوں کا حال بتایا اور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ہم نے ان کے پاس بھی اپنے رسول بھیجے انہوں نے ان کو جھٹلایا لہٰذا ہم نے ان کو سختی اور دکھ تکلیف کے ذریعہ پکڑ لیا لفظ (بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ ) کے عموم میں وہ سب تکلیفیں داخل ہیں جو عام طور پر اہل دنیا کو انفرادی اور اجتماعی طور پر وقتاً فوقتاً پہنچتی رہتی ہیں۔
قحط، بھوک، مہنگائی، وبائی امراض جانوں اور مالوں کا نقصان یہ سب چیزیں ان دونوں لفظوں کے عموم میں آجاتی ہیں۔ جب ان چیزوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
اثبات توحید۔
قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔
ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…
Read the full tafseer →51 ن مَا سے مسئلہ توحید مراد ہے اور نِسْیَان سے ترک مراد ہے ای ترکوا ما دعاھم الرسل علیھم الصلوۃ والسلام الیہ وردوہ علیھم (روح جلد 7 ص 151) جب مشرکین نے ضد وعناد سے مسئلہ توحید کا انکار کردیا تو ہم نے ان کو دنیا میں بطور استدراج دولت مند کردیا اور ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی یہاں تک کہ اچانک ہمارے عذاب نے ان کو آلیا معاندین اور ضد کرنے والوں کے ساتھ ہماری سنت مستمرہ یہی ہے۔ حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا ای بغیر الحق یعنی مغرور ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے احتمال کے طور پر مکذبین کو ڈرایا تھا کہ آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ اگر موت یا قیامت کی گھڑی آپہنچے تو خدا کے سوا تمہاری مصیبت کو کون دور کرسکتا ہے۔ یقینا کوئی نہیں۔ وہ صرف خدا کی ذات ہے جس کے قبضے میں اقتدار اور تصرف ہے۔ لہٰذا یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے کہ تمہاری پکار یا دعا کو قبول کر کے عذاب کو ٹم سے ٹال دے۔ اب اللہ تعالیٰ نے بعض سابقہ امتوں کے واقعات کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے کہ دیکھو ! ان پر خدا کا عذاب فی الواقع آ گیا اور وہ اس میں ہلاک ہوگئے۔ لہٰذا تمہیں بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کہیں تم پر بھی ایسا عذاب نہ آجائے کیونکہ تمہارے افعال و کردار بھی ویسے ہی ہیں…
Read the full tafseer →فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَيْہِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ 0ۭ حَتّٰٓي اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً فَاِذَا ہُمْ مُّبْلِسُوْنَ 44
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
ترکیب : فلولا کلمہ تخصیص ہے اذ جاء ھم ظرف ہے تضرعوا کا۔ زین جملہ معطوف ہے قست قلوبہم پر۔ ماکانوا جملہ مفعول ہے زین کا لہم اس سے متعلق ہے۔
تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ شدائد میں کفار بتوں کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں پھر وہ اپنی رحمت سے ان کی مصیبت دور کردیتا ہے (غالباً مکہ یا عرب کے بت پرست ایسا کرتے تھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کاملہ کے بھی قائل تھے۔ البتہ بتوں اور تھانوں اور دیگر خیالی معبودوں کو خدا کی طرف کارکن سمجھ کر پوجتے اور ان کو پکارتے تھے جیسا کہ اکثر ہندو کرتے ہیں) اب یہاں یہ بات بتاتا ہے کہ اے نبی علیک السلام ان سے بھی بڑھ کر سیاہ دل قومیں گذری ہیں کہ وہ مصیبت کے وقت…
Read the full tafseer →فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ ط حَتّٰٓی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاھُمْ مُّبْلِسُوْنَ ۔ (الانعام : 44)
(تو جب انھوں نے فراموش کردیا اس چیز کو ‘ جس سے ان کو یاد دہانی کی گئی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر اترانے لگے ‘ جو انھیں دی گئی تو ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا۔ وہ بالکل ہک دک رہ گئے )
مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ سے مراد
اس آیت کریمہ میں مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ کے دو مطلب علماء نے مراد لیے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد وہ مصائب ہیں ‘ جن سے انھیں دوچار کیا گیا تھا کہ وہ نصیحت حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
فہم القرآن
ربط کلام : حقیقت کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں انجام جب ان پر ہلکا اور بھاری عذاب آیا تو ان کی قلبی کیفیت اور رد عمل
جیسا کہ آیت 37 میں کفار کے مطالبہ کا ذکر ہوا۔ جس میں انھوں نے نبی رحمت ﷺ سے کسی معجزہ یا نشانی کا مطالبہ کیا اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب یا جس قیامت کی آمد کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ یکایک تم پر نازل ہوجائے تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے معبود ان باطل سے مدد طلب کرو گے ؟ ہرگز نہیں تمہاری حالت یہ ہوگی کہ تم سب کچھ بھول کر صرف ایک رب کو پکارو گے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی نشانی یا اس کے عذاب کا معاملہ ہے تو جان رکھو اس کے عذاب کی مختلف…
Read the full tafseer →آیت 44 : فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ یعنی تنگ دستی۔ تکالیف و امراض سے انہوں نے نصیحت حاصل نہ کی۔ اور برائیوں سے باز نہ آئے۔ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ یعنی صحت ٗ وسعت مالی ٗ قسم قسم کی نعمتیں۔ قراءت : شامی نے فتَّحنا پڑھا ہے۔ حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْْا یعنی مال و نعمت اَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاہُمْ مُّبْلِسُوْنَ ناامید حیرت زدہ۔ ابلاس کا اصل معنی غم کی وجہ سے سر جھکانا۔ یا ہاتھ سے نکل جانے والی چیز پر ندامت سے سر جھکانا۔ اِذا ؔ مفاجات کے لیے آتا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر (44) (فلما نسوا ما ذکروا بہ) یعنی جو ان کو نصیحت کی گئی تھی اور جو احکام دیئے گئے تھے ان کو چھوڑ دیا ۔ (فتحنا علیھم ابواب کل شیء ) ابوجعفر نے ” فتحنا “ کو شد کے ساتھ تمام قرآن میں پڑھا ہے اور ابن عامر نے بھی اسی طرح پڑھا ہے جب اس کے بعد جمع ہو اور باقی حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں اس کا ترجمہ استدراج اور مکر کے ہوں گے مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے آزمائش اور سختی کے بدلے نرمی اور صحت کو دیا (حتی اذا فرحوا بما اوتوا) یہ اکڑنے کی خوشی تھی جیسے قارون دنیا کے ملنے پر خوش ہوا تھا۔ (اخذنھم بغتۃ) ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ ایمان لائے جس پر وہ تھے اور جو کچھ دنیا میں ان کو دیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
آیت 42
(ولقد ارسلنا الی ام من قبلک) ” اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ “ یعنی ہم نے سابقہ اور گزرے ہوئے زمانوں میں رسول بھیجے۔ انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری آیات کا انکار کیا (فاخذنھم بالباساط والضرآء) ” ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں پر پکڑتے رہے۔ “ یعنی ان پر رحم کرتے ہوئے فقر و مرض اور آفات و مصائب کے ذریعے سے ان کی گرفت کی (لعلھم یتضرعون) ” تاکہ وہ عاجزی کریں۔ “ شاید کہ وہ اللہ کے پاس عاجزی سے گڑ گڑائیں اور سختی کے وقت اس کے پاس پناہ طلب کریں۔ (فلولا اذ جآء ھم باسنا تضرعوا ولکن قست قلوبھم) ” پس کیوں نہ گڑ گڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا، لیکن سخت ہوگئے دل ان…
Read the full tafseer →69 تمردو سرکشی کا نتیجہ وانجام ہولناک تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تمردو سرکشی کا نتیجہ وانجام ہولناک تباہی ہے۔ اور یہ کہ معاصی وذنوب پر دنیاوی نعمتوں کا ملنا ہولناک عذاب کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ایسے بدبختوں نے نصیحتِ حق کو بھلا کر پس پشت ڈال دیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے۔ یعنی ہر قسم کی نعمت کے دروازے تاکہ ان کا جرم اور سخت ہوجائے۔ اور ان کا پھوڑا پوری طرح پک کر آخری آپریشن کے قابل ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو معلوم ہوا کہ معاصی وذنوب پر دنیا اور اس کی نعمتوں کا ملنا خیر کی علامت نہیں، بلکہ خطرے کی گھنٹی ہے، کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
کفار کی نافرمانی اور ان کا انجام
تشریح : ان آیات میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کا دستور ہمیشہ سے یہی چلا آ رہا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو یونہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ ان کو راہ راست پر رکھنے اور خوبصورت زندگیاں گزارنے کے لیے رہنما اصول آسمانی کتابوں اور صحیفوں کے ذریعے بھیجتا رہتا ہے اور مختلف زمانہ میں مختلف رسول پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں تاکہ لوگ گمراہی اور شیطان کی شرارتوں سے بچ سکیں، پھر بھی اگر لوگ ہدایت نہ پائیں تو پھر ان پر ان کے اپنے برے اعمال کی وجہ سے عذاب آتے ہیں پھر اگر گناہوں سے باز نہ آئیں تو پھر آسائشوں کی بارش کردی جاتی ہے پھر بھی اگر ہوش میں نہ آئیں تو پھر اچانک ان کو بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50:
اسرار و معارف :
اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی انہیں مہلت کے طور پر ہر طرح کی نعمتیں دیں ( سلفیہ)4 یعنی اچانک ایسا عذاب آیا کہ وہ اپنا تمام عیش و آرام بھول گئے اور بچنے کی کوئی امید نہ رہی اور اسی یاس ونا امیدی کی حالت میں تباہ و برباد کردیئے گئے عقل مند آدمی کو چاہیے کہ جن سختی اور مصیبت آئے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ سمجھ کر برے کاموں سے توبہ کر کے ورنہ غفلت بڑھتی جائے گی اور یکباری گی ایسی سخت پکڑ ہوگی کہ تو بہ کا موقع بھی نہ ملے گا۔ مسند احمد) حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھوں جسے اس کی نافرمانیوں کے باو جود اللہ تعالیٰ ہر چیز دے رہا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے تو سمجھو کہ اللہ…
Read the full tafseer →(6:44) فتحنا علیہم ابواب کل شیئ۔ ہم نے ہر شے کے دروازے ان پر کھول دیئے یعنی ان کو ہمہ قسم کی نعمتوں سے نوازا۔
بغتۃ۔ اچانک۔ یک دم۔ یکایک۔ مبلسون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مرفوع۔ مبلس واحد۔
مایوس۔ غمگین۔ پشیمان۔ متحیر۔ خاموش۔ جن کو کوئی بات بن پڑی ممکن نہیں۔ اللہ کی رحمت سے مایوس۔ بلس۔ بیخبر آدمی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 :
الباسآء (باس) سختیاں ( یتضرعون) وہ عاجزی کرتے ہیں ‘ قست ( سخت ہوگئے) ‘ زین (خوبصورت ہوگئے) ‘ نسوا (وہ بھول گئے) فتحنا ( ہم نے کھول دیا) ‘ ابواب (دروازے) فرحوا ( وہ خوش ہوگئے) ‘ اوتوا (دیئے گئے) اخذنا ( ہم نے پکڑ لیا) مبلسون ( مایوس ہوجانے والے) قطع ( کاٹ دیا گیا) ‘ دابرالقوم (قوم کی جڑ) ۔
تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 :
اللہ کی طرف سے انسانی فرد یا جماعت کی آزمائش دو طرح سے ہوتی ہے۔ مصیبتوں کے ذریعہ یا عیش عشرت کے ذریعہ ‘ مصیبت کے وقت اس کے سامنے دوراستے کھلے ہوتے ہیں یا تو اللہ کے سامنے روئے ‘ عاجزی کرے ‘ گڑ گڑائے ‘ توبہ کرے ‘ معافی مانگے ‘ یہی وہ راستہ ہے جدھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
[20] دل پر مہر لگانے سے مراد سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کرلینا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کفر پر اصرار کئے جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) خدا کا قانون یہ ہے کہ کوئی قوم اس وقت تک نباہ نہیں ہوئی ، جب تک برائیاں کثرت کے ساتھ ان میں نہ پھیل جائیں ، اور معصیت میں وہ نہ ڈوب جائیں ، جب ہر عیب کو وہ ثواب جاننا شروع کردیتے ہیں ، اور اللہ کی پکڑ سے غافل ہوجاتے ہیں ، تو یکایک اللہ کی غیرت میں جوش پیدا ہوتا ہے اور ان کو ایک دم فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔
حل لغات :
الباسآئ : تکلیف اور بؤس ۔
مبلسون : ناامید ، مایوس ، البس ، اسی سے مشتق ہے ، یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس ۔
Read the full tafseer →-44 پھر جب ان لوگوں نے تمام نصیحتوں کو جو پیغمبروں کی جانب سے ان کو کو کی جاتی ھتیں بالکل ہی فراموش کردیا اور اپنی ہٹ دھرمی کے باعث انبیاء کی نصائح کو نظر انداز کرتے رہے تو ہم نے ان پر ہر قسم کے عیش و عشرت کے دروازے کھول دیئے اور ہر چیز کی ان پر فراوانی اور بہتایت کردی گئی یہاں تک کہ جب وہ اس سامان عیش و طرب پر جوان کو دیا گیا تھا خوب مگن ہوگئے اور اترا گئے اور خوشایں منانے لگے تو ہم نے اچانک ان کو پکڑ لیا اور سخت عذاب میں مبتلا کردیا پھر تب ہی وہ مایوس اور بےآس ہو کر رہ گئے یعنی ابتداء تھوڑی سی تنبیہہ کی گئی جب باز نہ آئے تو بھلا وا دیکر سامان عیش کی فراوانی کردی گئی پھر جب خوب گناہوں میں…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی خوب نعمت و ثروت دی۔
Read the full tafseer →جو نصیحت ان کو کی گئی تھی اس کو انہوں نے بھلا دیا اور چیخنے کی بجائے تالیوں پر لگ گئے :
67: نصیحت تو یہ تھی کہ ان ذلیل حرکتوں سے باز آجاؤ اور آنے والے عذاب کو بھول نہ جاؤ ۔ اس غرض کے لیے ان کو ” عذاب ادنیٰ “ میں مبتلا کیا تھا لیکن جونہی انہوں نے اس عذاب سے نجات حاصل کی تو بجائے اس کے کہ اپنے مالک حقیقی کے سامنے رو رو کر اور چیخ چیخ کر اپنی غلطیوں کی معافی طلب کرنے کے لئے عرضیاں پیش کرتے انعامات الٰہی کے ملنے کے بعد جو ان پر بطور آزمائش کئے جا رہے تھے انہوں نے ناچنا اور تالیاں بجانا شروع کردیں۔ جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
زیر نظر آیت میں اس بات پر عام انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا میں…
Read the full tafseer →As for the statement: فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ (We opened for them doors of everything) appearing in the third verse (44), it warns human beings at large that no one should be deceived by seeing the affluence of persons or groups and hasten to the conclusion that these were the people on the correct path and that their life was a model of success. One should never forget that among them there could be some of those disobedient ones who have been picked out to be seized with sudden and grave punishment.
Therefore, the Holy Prophet ﷺ said: When you see blessings and wealth…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
29. Attention is now drawn towards another sign - one observable even in the lives of those who deny the Truth. When either some great calamity befalls a man or when death starkly stares him in the face, it is only to God that he turns for refuge. On such occasions even the staunchest polytheists forget their false gods and cry out to the One True God, and even the most rabid atheists stretch out their hands in prayer to Him. This phenomenon is mentioned here in order to draw an instructive lesson. It shows that devotion to God and monotheism are ingrained in the human soul. No matter how…
Read the full tafseer →