Al-An'aam 6:43

Al-An'aam · from ayah 43

6:43

فَلَوْلَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَلٰـكِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then why, when Our punishment came to them, did they not humble themselves? But their hearts became hardened, and Satan made attractive to them that which they were doing.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:43

پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو وہ کام کرتے تھے شیطان ان کو (ان کی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

سو جب ان کو ہماری سزا پہنچی تھی تو انہوں نے عاجزی کیوں نہیں اختیار کی؟ لیکن ان کے قلوب سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے خیال میں آراستہ کردیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان کے پاس ہماری طرف سے سختی آئی تھی، اس وقت وہ عاجزی کا رویہ اختیار کرتے ؟ بلکہ ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، شیطان نے انہیں یہ سجھایا کہ وہی بڑے شاندار کام ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے دل تو سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے کام ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب ان تک ہمارا عذاب آپہنچا تو انہوں نے عاجزی و زاری کیوں نہ کی؟ لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) ان کے دل سخت ہوگئے تھے اور شیطان نے ان کے لئے وہ (گناہ) آراستہ کر دکھائے تھے جو وہ کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر انھوں نے کیوں عاجزی نہ کی، جب ان پر ہمارا عذاب آیا اور لیکن ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے لیے خوش نما بنادیا جو کچھ وہ کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ کیوں نہ گڑگڑائے ؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور جو کام وہ کر رہے تھے شیطان نے انہیں وہی کام خوبصورت بنا کر دکھا دیئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کیوں جب ہماری پکڑ آئی وہ خدا کی طرف نہ جھکے بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کی نگاہوں میں اسی عمل کو کھبا دیا جو وہ کرتے رہے تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ایسے کیوں نہ ہوا کہ وہ جھک جاتے (اپنے رب کے حضور، اور عاجزی کرتے) جب کہ آپہنچا تھا ان کے پاس ہمارا عذاب مگر سخت ہوگئے ان کے دل، اور خوشنما بنادیئے شیطان نے ان کے لئے ان کے وہی کام جو وہ کرتے آ رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

سو جب انہیں ہماری طرف سے سزا پہنچی تو وہ کیوں نہ ڈھیلے پڑگئے بلکہ ان کے دل تو (ویسے ہی سخت رہے۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے شیطان اسے ان کی نظر میں خوشنما کر دکھاتا رہا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ جب ہماری طرف سے کوئی سختی ان پر آئی تو وہ گڑ گڑاتے لیکن ان کے دل تو سخت ہوچکے تھے اور شیطان نے مزین کیے رکھا ان کے لیے ان اعمال کو جو وہ کر رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی۔ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو، ٹھیک کر رہے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But when misfortune befell them from Us why did they not humble themselves? Their hearts had hardened and Satan had made their deeds seem fair to them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Why then, did they not supplicate in humility when a calamity from Us came upon them? Instead, their hearts were hardened and Satan adorned for them what they were doing.

— Muhammad Taqi Usmani

Why then, did they not supplicate in humility when a calamity from Us came upon them? Instead, their hearts were hardened and Satan adorned for them what they were doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When Our torment reached them, why then did they not believe with humility But their hearts became hardened, and Shaytan made fair-seeming to them that which they used to do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If only, when Our disaster came on them, they had been humble! But their hearts were hardened and the devil made all that they used to do seem fair unto them!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then why, when Our punishment came to them, did they not humble themselves? But their hearts became hardened, and Satan made attractive to them that which they were doing.

— Saheeh International

Why did they not submit themselves (to God) when Our torment struck them. Instead, their hearts were hardened and Satan made their evil deeds seem attractive to them.

— Muhammad Sarwar

Yet why did they not, when Our punishment came to them, humble themselves? But their hearts hardened and the Shaitan made what they did fair-seeming to them.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore then did they not, when the affliction from us came upon them, humble themselves? But their hearts became hardened, and the Satan made fair-seeming unto them that which they were wont to do.

— Abdul Majid Daryabadi

When the suffering reached them from us, why then did they not learn humility? On the contrary their hearts became hardened, and Satan made their (sinful) acts seem alluring to them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–45

سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–45

سورة الْاَنْعَام 29 گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلے مثال کے طور پر حیوانات کی زندگی کے مشاہدہ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد اب ایک دوسری نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جارہا ہے جو خود منکرین حق کے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب انسان پر کوئی آفت آجاتی ہے، یا موت اپنی بھیانک صورت کے ساتھ سامنے آکھڑی ہوتی ہے، اس وقت ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دوسری پناہ گاہ اسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبودوں کو بھول کر خدا ے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔ کٹے سے کٹا دہریہ تک خدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–43

خلاصہ تفسیر اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تھے (مگر انہوں نے ان کو نہ مانا) تو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجاویں (اور اپنے کفر و معصیت سے توبہ کرلیں) سو جب ان کو ہماری سزا پہنچی تھی وہ ڈھیلے کیوں نہ پڑے (کہ ان کا جرم معاف ہوجاتا) لیکن ان کے قلوب تو (ویسے ہی) سخت (کے سخت) رہے، اور شیطان ان کے اعمال بد کو ان کے خیال میں (بدستور) آراستہ (و مستحسن) کرکے دکھاتا رہا۔ پھر جب وہ لوگ (بدستور) ان چیزوں کو بھولے (اور چھوڑے) رہے، جن کی ان کو (پیغمبروں کی طرف سے) نصیحت کی جاتی تھی (یعنی ایمان و اطاعت) تو تم نے ان پر (عیش و عشرت کی) ہر چیز کے دروازے کھول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 42–43

42 تا 43: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ الایۃ۔ تضرء کے معنی تذلل کے ہیں یعنی خضوع و خشوع اور احساسِ عجز و فروتنی کے ساتھ کسی کی طرف جھکنا یہاں یہ لفظ دل کی خشیت اور احساس عبدیت وانابت کے ساتھ خدا کی طرف جھکنے کے لیے آیا ہے۔ اس کا مقابل لفظ قساوت استعمال ہوا ہے جو دل کی سختی، بےخوفی اور رعونت کی تعبیر کے لیے قرآن کا معروف لفظ ہے کسی قوم پر عذاب بھیجنے کے معاملہ میں سنت الٰہی : اب یہ ایک سنت اللہ بیان ہوئی ہے جس سے ایک طرف تو یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ کسی قوم پر، جس میں اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہے، عذاب بھیجنے کے معاملے میں وہ کیا طریقہ اختیار فرماتا ہے، دوسرے اس تاریخی شہادت کو سامنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 43–44

43۔ 1 قومیں جب اخلاق و کردار کی پستی میں مبتلا ہو کر اپنے دلوں کو زنگ آلود کرلیتی ہیں تو اس وقت اللہ کے عذاب انھیں خواب غفلت سے بیدار کرنے اور جھنجھوڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پھر ان کے ہاتھ طلب مغفرت کے لئے اللہ کے سامنے نہیں اٹھتے ہیں دل اس کی بارگاہ میں نہیں جھگتے اور ان کے رخ اصلاح کی طرف نہیں مڑتے بلکہ اپنی بد اعمالیوں پر تاویلات اور توجیہات کے حسین غلاف چڑھا کر اپنے دل کو مطمئن کرلیتی ہیں۔ اس آیت میں ایسی ہی قوموں کا وہ کردار بیان کیا گیا ہے جسے شیطان نے ان کے لئے خوبصورت بنادیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–43

14: عرب کے مشرکین یہ مانتے تھے کہ اس کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ؛ لیکن ساتھ ہی ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس کی خدائی میں دوسرے بہت سے دیوتا اس طرح شریک ہیں کہ خدائی کے بہت سے اختیارات ان کو حاصل ہیں، اب ہوتا یہ تھا کہ ان دیوتاؤں کو خوش رکھنے کی نیت سے ان کی پرستش کرتے رہتے تھے مگر جب کوئی ناگہانی آفت آپڑتی تھی مثلاً سمندر میں سفر کرتے ہوئے پہاڑ جیسی موجوں میں گھر جاتے تھے تو اپنے گھڑے ہوئے دیوتاؤں کے بجائے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے، یہاں ان کی اس عادت کے حوالے سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ جب دنیا کی ان مصیبتوں میں تم اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو تو اگر کوئی بڑا عذاب آجائے قیامت ہی آکھڑی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 42–45

(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔ یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 42–44

3 گزشتہ آیت میں عذاب آنے کا احتمال ہوا تھا۔ اب واقعات کا حوالہ دیتے ہیں کہ پہلے زمانے میں اس طرح کے عذاب آ چکے ہیں۔ نیز متنبہ فرما دیا کہ جب مجرم کو ابتدا ہلکی تنبیہ کی جائے تو اسکو معاً خدا کیطرف رجوع ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور اغوائے شیطانی سے اسے ہلکا نہ سمجھے۔ موضح القرآن میں ہے کہ گنہگار کو اللہ تعالیٰ تھوڑا سا پکڑتا ہے، اگر وہ گڑ گڑایا توبہ کی تو بچ گیا اور اگر اتنی پکڑ نہ مانی تو پھر بھلاوا دیا اور وسعت عیش کے دروازے کھولے۔ جب نعمتوں کی شکر گزاری اور انعام واحسان سے متأثر ہونے کے بجائے خوب گناہ میں غرق ہوا تو دفعۃ بیخبر پکڑا گیا۔ یہ ارشاد ہے کہ آدمی کو گناہ پر تنبیہ پہنچے تو شتاب توبہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43 فَلَوْلَآ اِذْ جَآءَ ہُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ یعنی اللہ کی طرف سے بار بار کی تنبیہات کے باوجود سوچنے ‘ سمجھنے اور اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–43

46 عکرمہ بن ابو جہل کا اسلام لانا :۔ مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ مصیبت کے وقت اور بالخصوص جب ان کا جہاز طوفان کی زد میں آجاتا تو اپنے معبودوں کو پکارنا شروع کردیتے پھر جب وہ مصیبت نہ ٹلتی اور موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی تو کہتے اب صرف ایک اللہ ہی کو پکارو۔ ان کی اسی عادت کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے اور ایک انسان کو ہدایت کی راہ پانے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے۔ چناچہ فتح مکہ کے بعد عکرمہ بن ابی جہل اس خیال سے مکہ سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ مفتوحین سے پتہ نہیں کیسا سلوک کیا جائے گا۔ جدہ پہنچے اور وہاں سے کشتی پر سوار ہو کر حبشہ کی راہ لی۔ راستہ میں کشتی طوفان میں گھر گئی تو مشرکوں نے اپنی عادت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

67 ۔ (بجائے نرم پڑنے کے) ایسے قسی القلب مجرموں کا انجام سابق صحیفوں میں یوں درج ہے :۔” وہ جو باوجود باربار تنبیہ پانے کے سخت گردنی کرتا ہے، ناگہان برباد کیا جائے گا اور اس کا کوئی چارہ نہ ہوگا “۔ امثال۔ 29: 1) (آیت) ” فلولا۔۔۔ تضرعوا “۔ اور اس تضرع سے ان کا جرم بھی معاف ہوجاتا، فقرہ کے شروع میں (آیت) ” لولا کے لے آنے سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ بجز عناد وقسوت قلب اور خود بینی کے اور کوئی مانع ان کے پاس تضرع سے تھا ہی نہیں، ذکر کلمۃ لولا یفید انہ ماکان لھم عذار فی ترک التضر ع الاعناد ھم وقسوتھم واعجابھم باعمالھم زینھا الشیطان لھم (کبیر) (آیت) ” قست قلوبھم “۔ قساوت قلب یہ تھی کہ کفر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–43

آیت نمبر 42 تا 50 ترجمہ : اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سی) قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے مِن زائدہ ہے تو انہوں نے ان کی تکذیب کی، تو ہم نے ان کی تنگدستی اور بیماری میں پکڑا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجائیں (یعنی) عاجزی کریں اور ایمان لے آئیں سو جب ان کو ہمارا عذاب پہنچا تو انہوں نے عاجزی کیوں اختیار نہ کی ؟ یعنی انہوں نے عاجزی اختیار نہیں کہ حالانکہ اس کا مقتضی موجود تھا، لیکن ان کے قلوب (مزید) سخت ہوگئے جس کی وجہ سے ایمان لانے کیلئے نرم نہیں پڑے اور شیطان ان کے برے اعمال کو ان کی نظر میں آراستہ کرکے پیش کرتا رہا اور وہ ان ہی اعمال پر مصر رہے پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو ان کو کی گئی تھی اور جس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلولا اذ جآء ہم باسنا تضرعوا سو جب ان کو ہماری طرف سے سزا پہنچی انہوں نے عاجزی (کے ساتھ تو بہ) کیوں نہیں کی۔ مراد یہ کہ انہوں نے سزا دیکھنے کے بعد بھی توبہ نہیں کی۔ کلمۂ نفی کی جگہ لولا کا استعمال اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ تضرع کے ترک کا ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا بلکہ تضرع کے دواعی موجود ہونے کے باوجود انہوں نے توبہ نہیں کی۔ ولکن قست قلوبہم لیکن ان کے دل سخت پڑگئے تھے۔ وزین لہم الشیطن ما کانوا یعملون۔ اور شیطان ان کے اعمال کو ان کی نظر میں پسندیدہ بنا کر دکھاتا رہا۔ یعنی مصائب میں مبتلا ہونے سے بھی ان کو تنبیہ نہ ہوئی اور انہوں نے اپنے اعمال کو ہی پسندیدہ نظروں سے دیکھا۔ یہ توبہ سے روکنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 42–43

(42۔ 43) جیسا کہ آپ کو آپ کی قوم کی طرف ہم نے بھیجا، چناچہ جو ایمان نہیں لائے تو ان میں سے بعض کو بعض کا خوف دلا کر اور مصیبتوں اور بیماریوں، تکالیف اور آزمائشوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ اللہ کے حضور دعا کریں اور ایمان لائیں کہ پھر ان سے عذاب کو دور کیا جائے تو پھر کیوں نہیں وہ ہمارے عذاب پر ایمان قبول کرتے لیکن ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دل سخت ہوگئے تو دنیا کی حالت یہی ہے کبھی سختی تو پھر کبھی خوشحالی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 42–43

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر فرمایا ہے جن کے دل ایسے سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے بداعمال کو ان کے لیے ایسا خوبصورت بنادیا کہ وہ اللہ کا عذاب آنے پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے دنیاوی اسباب ہی کو اس عذاب کا نتیجہ قرار دیتے رہے۔ حالانکہ مصائب و آفات بھیجنے کا مقصد لوگوں کو اپنی روش سے باز آنے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن وہ اس موقع کو بھی گنوا دیتے ہیں۔ کیا آج کل ہم مسلمانوں کی اکثریت کا یہ حال نہیں ہوگیا کہ جب کوئی جنگ یا قحط یا سیلاب یا زلزلہ یا کوئی دوسری اجتماعی آفت ہم پر نازل ہوتی ہے تو ہم میں سے کئی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 43–45

آیت نمبر 43 تا 45 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : فلو لا اذ جائھم باسنا تضرھو، لولا یہ تحضیض کے لیے ہے یہ وہ ہوتا ہے جو فعل کے ساتھ ملا ہوتا ہے بمعنی ھلا ہوتا ہے، یہ دعا کے ترک پر عتاب ہے اور ان کے متعلق خبر ہے کہ عذاب کے نزول کے وقت انہوں نے دعا نہیں کی۔ یہ بھی جائز ہے کہ انہوں نے دعا کی ہو لیکن غیر مخلص کی طرح کی ہو یا اس وقت دعا کی ہو جب عذاب نازل ہوچکا ہو۔ اور ان تمام صورتوں میں دعا غیر نافع ہے۔ دعا کا حکم حالت خوشحالی اور شدت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ادعونی استجب لکم (غافر : 60) مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ اور فرمایا : آیت : ان الذین یستکبرون عن عبادتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فلولا اذجاء ھم باسنا تضرعوا ولکن قست قلوبھم کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دل کی سختی کو مسلط کردیا جس کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ذلیل و رسوا ہوگئے اور تم دل کے سختی کے سبب اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سامنے پیش نہ ہوجاؤ۔ کیونکہ یہی تم سے پہلے قوموں میں عیب تھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَوْلَآ [ تو کیوں نہیں ] اِذْ جَاۗءَهُمْ [ جب آئی ان کے پاس ] بَاْسُنَا [ ہماری سختی تَضَرَّعُوْا [ وہ لوگ گڑگڑاتے ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] قَسَتْ [ سخت ہوئے ] قُلُوْبُهُمْ [ ان کے دل ] وَزَيَّنَ [ اور مزین کیا ] لَهُمُ [ ان کے لئے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان نے ] مَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : وہ عمل کرتے تھے (43)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–44

سابقہ امتوں کا تذکرہ جو خوشحالی پر اترانے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں ان آیات میں پچھلی امتوں کا حال بتایا اور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ہم نے ان کے پاس بھی اپنے رسول بھیجے انہوں نے ان کو جھٹلایا لہٰذا ہم نے ان کو سختی اور دکھ تکلیف کے ذریعہ پکڑ لیا لفظ (بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ ) کے عموم میں وہ سب تکلیفیں داخل ہیں جو عام طور پر اہل دنیا کو انفرادی اور اجتماعی طور پر وقتاً فوقتاً پہنچتی رہتی ہیں۔ قحط، بھوک، مہنگائی، وبائی امراض جانوں اور مالوں کا نقصان یہ سب چیزیں ان دونوں لفظوں کے عموم میں آجاتی ہیں۔ جب ان چیزوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–51

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔ ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

50 جب دنیا میں ان پر ہمارا عذاب آیا تو بجائے اس کے کہ وہ گڑگڑا کر ہم سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور توبہ و استغفار کرتے لیکن انہوں نے انتہائی سنگدلی سے کام لیا اور اپنے کفر و انکار پر اڑے رہے کیونکہ شیطان کی تسلی اور وسوسہ اندازی سے وہ اپنے مشرکانہ اعمال و اقوال کو اعمال صالحہ سمجھنے لگے۔ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ میں مَا سے مشرکانہ اعمال مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–45

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے احتمال کے طور پر مکذبین کو ڈرایا تھا کہ آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ اگر موت یا قیامت کی گھڑی آپہنچے تو خدا کے سوا تمہاری مصیبت کو کون دور کرسکتا ہے۔ یقینا کوئی نہیں۔ وہ صرف خدا کی ذات ہے جس کے قبضے میں اقتدار اور تصرف ہے۔ لہٰذا یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے کہ تمہاری پکار یا دعا کو قبول کر کے عذاب کو ٹم سے ٹال دے۔ اب اللہ تعالیٰ نے بعض سابقہ امتوں کے واقعات کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے کہ دیکھو ! ان پر خدا کا عذاب فی الواقع آ گیا اور وہ اس میں ہلاک ہوگئے۔ لہٰذا تمہیں بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کہیں تم پر بھی ایسا عذاب نہ آجائے کیونکہ تمہارے افعال و کردار بھی ویسے ہی ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَہُمْ بَاْسُـنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَزَيَّنَ لَہُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 43 «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–45

ترکیب : فلولا کلمہ تخصیص ہے اذ جاء ھم ظرف ہے تضرعوا کا۔ زین جملہ معطوف ہے قست قلوبہم پر۔ ماکانوا جملہ مفعول ہے زین کا لہم اس سے متعلق ہے۔ تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ شدائد میں کفار بتوں کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں پھر وہ اپنی رحمت سے ان کی مصیبت دور کردیتا ہے (غالباً مکہ یا عرب کے بت پرست ایسا کرتے تھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کاملہ کے بھی قائل تھے۔ البتہ بتوں اور تھانوں اور دیگر خیالی معبودوں کو خدا کی طرف کارکن سمجھ کر پوجتے اور ان کو پکارتے تھے جیسا کہ اکثر ہندو کرتے ہیں) اب یہاں یہ بات بتاتا ہے کہ اے نبی علیک السلام ان سے بھی بڑھ کر سیاہ دل قومیں گذری ہیں کہ وہ مصیبت کے وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–43

تمہید سورة انعام میں آغاز سے اب تک مسلسل اساسی اور بنیادی عقائد پر نہایت مدلل انداز کے ساتھ زور دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مشرکین کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعتراضات اور مطالبات کا بھی جواب دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ آیتوں میں بالخصوص ان کے مطالبہ عذاب کا ذکر کیا گیا اور اس کے نتائج پر ان کو توجہ دلا کر تنبیہ بھی کی گئی۔ بالخصوص آخری دو آیتوں میں ان کے مطالبے ہی کو ایک خوبصورت دلیل کی شکل دے کر ‘ ان پر ایک طرح سے اتمام حجت کردیا گیا ہے۔ لیکن اس رکوع کے آغاز ہی میں ‘ جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے ‘ پروردگار نے اپنے فضل و کرم سے ‘ باوجود اتمام حجت کرنے کے ‘ قوموں پر عذاب نازل ہونے کے پر اسس کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : حقیقت کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں انجام جب ان پر ہلکا اور بھاری عذاب آیا تو ان کی قلبی کیفیت اور رد عمل جیسا کہ آیت 37 میں کفار کے مطالبہ کا ذکر ہوا۔ جس میں انھوں نے نبی رحمت ﷺ سے کسی معجزہ یا نشانی کا مطالبہ کیا اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب یا جس قیامت کی آمد کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ یکایک تم پر نازل ہوجائے تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے معبود ان باطل سے مدد طلب کرو گے ؟ ہرگز نہیں تمہاری حالت یہ ہوگی کہ تم سب کچھ بھول کر صرف ایک رب کو پکارو گے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی نشانی یا اس کے عذاب کا معاملہ ہے تو جان رکھو اس کے عذاب کی مختلف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ترکِ تضرع میں بھی عناد آگیا : آیت 43 : فَلَوْلَآ اِذْ جَآئَ ہُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا یعنی وہ توبہ کے ساتھ کیوں نہیں گڑ گڑاتے۔ معنی اس کا ان سے تضرع کی نفی ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا کہ جب ان کے پاس ہماری پکڑ آئی تو انہوں نے تضرع اختیار نہ کی۔ لیکن اسلوب میں لولا لا کر ظاہر کردیا کہ ترک تضرع میں ان کے پاس سوائے عناد کے کوئی عذر نہیں۔ وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ پھر ان ابتلا اءت سے انہوں نے کوئی نصیحت حاصل نہ کی۔ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ اور وہ شیطان کے مزین کردہ اعمال کو پسند کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

-43 (فلو لا اذ جآء ھم باسنا تضرعوا) یعنی کیوں نہیں ایمان لائے کہ ان سے عذاب دور کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ ایک قوم جو انتہائی سخت دل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جان اور مال میں سختی کی لیکن وہ نہ جھکے اور نہ گڑ گڑائے۔ پس یہی ہے اللہ کا فرمان (ولکن فست قلوبھم وزین لھم الشیطن ماکانوا یعملون) یعنی ان کا کفر اور گناہ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–49

(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 42–45

آیت 42 (ولقد ارسلنا الی ام من قبلک) ” اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ “ یعنی ہم نے سابقہ اور گزرے ہوئے زمانوں میں رسول بھیجے۔ انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری آیات کا انکار کیا (فاخذنھم بالباساط والضرآء) ” ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں پر پکڑتے رہے۔ “ یعنی ان پر رحم کرتے ہوئے فقر و مرض اور آفات و مصائب کے ذریعے سے ان کی گرفت کی (لعلھم یتضرعون) ” تاکہ وہ عاجزی کریں۔ “ شاید کہ وہ اللہ کے پاس عاجزی سے گڑ گڑائیں اور سختی کے وقت اس کے پاس پناہ طلب کریں۔ (فلولا اذ جآء ھم باسنا تضرعوا ولکن قست قلوبھم) ” پس کیوں نہ گڑ گڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا، لیکن سخت ہوگئے دل ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 قسوت قلب بیماریوں کی بیماری ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سخت ہوگئے ان کے دل۔ سو قسوت قلب [ دل کی سختی ] ہی ان کا وہ اصل روگ تھا جس نے ان کا بیڑا غرق کردیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اس سے حق و ہدایت اور وعظ و نصیحت کی بات ایسوں کے دلوں میں اثر ہی نہیں کرتی اور ایسے لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر سخت ہوجاتے ہیں۔ سو قسوت قلوب یعنی دلوں کی سختی بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ایسے لوگوں نے جب ان خدائی تنبیہات کی پروا نہ کی اور ان کے دل ان سے نرم پڑنے کی بجائے اور سخت ہوگئے اور جن بد اعمالیوں میں وہ لوگ لگے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 42–45

کفار کی نافرمانی اور ان کا انجام تشریح : ان آیات میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کا دستور ہمیشہ سے یہی چلا آ رہا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو یونہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ ان کو راہ راست پر رکھنے اور خوبصورت زندگیاں گزارنے کے لیے رہنما اصول آسمانی کتابوں اور صحیفوں کے ذریعے بھیجتا رہتا ہے اور مختلف زمانہ میں مختلف رسول پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں تاکہ لوگ گمراہی اور شیطان کی شرارتوں سے بچ سکیں، پھر بھی اگر لوگ ہدایت نہ پائیں تو پھر ان پر ان کے اپنے برے اعمال کی وجہ سے عذاب آتے ہیں پھر اگر گناہوں سے باز نہ آئیں تو پھر آسائشوں کی بارش کردی جاتی ہے پھر بھی اگر ہوش میں نہ آئیں تو پھر اچانک ان کو بالکل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–50

رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50: اسرار و معارف : اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–43

ف 2 کیا آج ہم مسلمانوں کا یہی حال ہو نہیں گیا ہے جب کوئی جنگ سیلاب قحط یا زلزلہ یا کوئی دوسری اجتماعی آفت ہم پر نازل ہوتی ہے تو کیا ہم میں وہ افراد نہیں پائے جاتے جو اسے محض مادی اسباب کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ اور سزا سمجھنے کو جہالت اور بےوقوفی قرار دیتے ہیں تفسیر احمدی جو ایک نیچری نے لکھی ہے وہ معجزات وغیرہ کے انکار کے سلسلہ میں اس قسم کی تاویلوں سے پر ہے ، (م، ع )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:43) لولا۔ اس کی حسب ذیل صورتیں ہیں : (1) امتناعیہ (اگر نہ) لو حرف شرط اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ لفظاً کوئی تغیر پیدا نہیں کرتا ۔ دو جملوں پر داخل ہوتا ہے۔ جملہ اسمیہ۔ جملہ فعلیہ۔ پہلے جملہ کا ایک جزو ضرور محذوف ہوتا ہے خواہ خبر ہو یا فعل۔ ابن مالک کا قول ہے کہ لولا کے پہلے جملہ کی خبر اگر عام ہو جیسے کائن ثابت وغیرہ تو واجب الحذف ہے۔ اور اگر عمومی خبر نہ ہو بلکہ کسی مادہ کے ساتھ مقید ہو مثلاً اکل۔ شارب۔ قائم۔ قاعد۔ ذاھب۔ ماشی وغیرہ اور بغیر ذکر کے معلوم نہ ہوسکے تو ذکر واجب ہے۔ جیسے حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے لولاقومک حدیث عھد بالاسلام لھدمت الکعبۃ۔ اگر تیری قوم نئی نئی السلام میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–45

لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 : الباسآء (باس) سختیاں ( یتضرعون) وہ عاجزی کرتے ہیں ‘ قست ( سخت ہوگئے) ‘ زین (خوبصورت ہوگئے) ‘ نسوا (وہ بھول گئے) فتحنا ( ہم نے کھول دیا) ‘ ابواب (دروازے) فرحوا ( وہ خوش ہوگئے) ‘ اوتوا (دیئے گئے) اخذنا ( ہم نے پکڑ لیا) مبلسون ( مایوس ہوجانے والے) قطع ( کاٹ دیا گیا) ‘ دابرالقوم (قوم کی جڑ) ۔ تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 : اللہ کی طرف سے انسانی فرد یا جماعت کی آزمائش دو طرح سے ہوتی ہے۔ مصیبتوں کے ذریعہ یا عیش عشرت کے ذریعہ ‘ مصیبت کے وقت اس کے سامنے دوراستے کھلے ہوتے ہیں یا تو اللہ کے سامنے روئے ‘ عاجزی کرے ‘ گڑ گڑائے ‘ توبہ کرے ‘ معافی مانگے ‘ یہی وہ راستہ ہے جدھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–49

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–46

[20] دل پر مہر لگانے سے مراد سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کرلینا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کفر پر اصرار کئے جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) کبھی کبھی اللہ تعالیٰ انسانوں کو تکلیف میں مبتلا کو دیتا ہے ، تاکہ دلوں وانفعال کے تاثرات پیدا ہوں ، اور وہ خدا سے ڈریں ، مگر مشرکین کا یہ حال ہے کہ ہرچند انہیں عذاب میں مبتلا کیا گیا ، مصائب آکے تکلیفیں پہنچیں ، وہ بدستور انکار کر رہے ہیں ۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ دلوں میں قساوت پیدا ہوگئی ہے روشنی گناہوں کی ظلمت میں ماند پڑگئی ہے حق نفسانیت کے سامنے کمزور ہوگیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-43 سو جب ان کو ہمارا عذاب پہونچا تو وہ کیوں نہی جھکے اور انہوں نے عاجزی اور نیاز مندی کی روش کیوں نہ اختیار کی لیکن بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے دل سخت ہوچکے تھے اور وہ اپنی سختی پر قائم رہے اور شیطان ان کے سابقہ برے اعمال کو ان کے سامنے بنا سنوار کر دکھلاتا رہا یعنی عاجزی اور نیاز مندی کی راہ اختیار کرنے اور پیغمبروں پر ایمان لانے سے ان کے دلوں کی خشکی اور سختی مانع ہوئی نیز یہ کہ ان کے برے اعمال شیطان نے خوش منظر بناکر ان کو دکھلائے اور اپنے کافرانہ طریقہ کو اچھا سمجھ کر اسی پر قائم رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–43

ف 2۔ پس اسی سے سمجھ لو کہ خدا کے سواجب کوئی قادر نہیں تو مستحق عبادت بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لگام ! منہ زوری کا علاج ہے لیکن کچھ اتنے منہ زور ہوتے ہیں کہ لگام بھی توڑ جاتے ہیں : 65: فرمایا جا رہا ہے کہ کچھ ایسے سخت اور بدمزاج بھی ہوتے ہیں کہ ان پر ” عذاب ادنیٰ “ کوئی خاص اثر نہیں کرتا اور وہ اپنی منہ زوری کے باعث یہ لگام توڑ جاتے ہیں اور وہ تضرع و عاجزی کی بجائے مزید اکڑ جاتے ہیں اور اترانے لگتے ہیں ـ حالانکہ سوائے عناد اور قسوت قلب اور خود بینی کے کوئی مانع تضرع و عاجزی ان کے پاس نہ تھا۔ انہوں نے ان تکالیف کو معمولی اور زور مرہ زندگی کے واقعات سمجھ کر ہضم کرلیا تو ہمارے قانون نے ان کو ایک دوسرے امتحان میں مبتلا کرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا اور انعامات کی بارش شروع کردی تو وہ اپنی جہالت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

Commentary The verses cited above, if seen in the context of verses appearing immediately previous to them, will show the particular mode in which Shirk and Kufr have been refuted and Tauhid, affirmed. First, the disbelievers of Makkah have been asked: If you are hit by a calamity now, for example, the punishment of Allah descends on you right here in this world or comes death or the very Day of Doom breaks loose, then think and answer who it will be you would call for help to keep this calamity away from you or who it would be you will hope to deliver you from this terrible punishment? Do…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–49

29. Attention is now drawn towards another sign - one observable even in the lives of those who deny the Truth. When either some great calamity befalls a man or when death starkly stares him in the face, it is only to God that he turns for refuge. On such occasions even the staunchest polytheists forget their false gods and cry out to the One True God, and even the most rabid atheists stretch out their hands in prayer to Him. This phenomenon is mentioned here in order to draw an instructive lesson. It shows that devotion to God and monotheism are ingrained in the human soul. No matter how…

Read the full tafseer →