Al-An'aam 6:42

Al-An'aam · from ayah 42

6:42

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ ۟وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُوۡنَ‏

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have already sent [messengers] to nations before you, [O Muhammad]; then We seized them with poverty and hardship that perhaps they might humble themselves [to Us].

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:42

تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ پھر (ان کی نافرمانیوں کے سبب) ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے اور امتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے گزر چکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے، سو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وه اﻇہار عجز کرسکیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں کے پاس پیغمبر بھیجے، پھر ہم نے (ان کی نافرمانی کی بنا پر) انہیں سختیوں اور تکلیفوں میں گرفتار کیا، تاکہ وہ عجز و نیاز کا شیوہ اپنائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے تم سے پہلی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف سے پکڑا کہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے بہت سی اُمتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر ہم نے ان کو (نافرمانی کے باعث) تنگ دستی اور تکلیف کے ذریعے پکڑ لیا تاکہ وہ (عجز و نیاز کے ساتھ) گِڑگڑائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے، پھر انھیں تنگ دستی اور تکلیف کے ساتھ پکڑا، تاکہ وہ عاجزی کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ سے پہلے ہم بہت سی قوموں کی طرف رسول بھیج چکے ہیں۔ پھر (جب لوگوں نے نافرمانی کی تو) ہم نے انہیں سختی اور تکلیف میں مبتلا کردیا تاکہ وہ عاجزی سے دعا کریں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سی امتوں کے پاس اپن رسول بھیجے پس ان کو مالی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ خدا کے آگے جھکیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سی امتوں کی طرف اپنے رسول بھیجے، پھر (ان کے نہ ماننے پر) ہم نے ان کو پکڑا تنگی اور تکلیف میں، تاکہ وہ لوگ عاجزی کرتے ہوئے جھک جائیں (اپنے رب کے حضور)

— مولانا اسحاق مدنی

اور بلاشبہ ہم نے آپ سے قبل (اور بھی) امتوں کی طرف (پیغمبر) بھیجے پھر ہم نے انہیں تنگدستی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے بھیجا ہے بہت سی امتوں کی طرف آپ ﷺ سے قبل (رسولوں کو) پھر ہم نے پکڑا انہیں سختیوں اور تکلیفوں سے شاید کہ وہ عاجزی کریں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آپ سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو سختیوں اور مصیبتوں میں ڈالا تاکہ وہ عاجزی سے ہمارے سامنے جھک جائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We did indeed send Messengers to other nations before you and then We seized those nations with misfortune and hardship so that they might humble themselves (before Us).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did send messengers to communities before you and put them to hardships and sufferings, so that they may supplicate in humility.

— Muhammad Taqi Usmani

We did send messengers to communities before you and put them to hardships and sufferings, so that they may supplicate in humility.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We sent (Messengers) to many nations before you. And We seized them with extreme poverty and loss of health so that they might believe with humility.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We have sent already unto peoples that were before thee, and We visited them with tribulation and adversity, in order that they might grow humble.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have already sent [messengers] to nations before you, [O Muhammad]; then We seized them with poverty and hardship that perhaps they might humble themselves [to Us].

— Saheeh International

We had sent (Our guidance) to the nations who lived before you and afflicted them with distress and adversity so that they might submit themselves (to God).

— Muhammad Sarwar

And certainly We sent (apostles) to nations before you then We seized them with distress and affliction in order that they might humble themselves.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We sent apostles unto communities before thee; then We laid hold of them with adversity and distress, that haply they may humble themselves.

— Abdul Majid Daryabadi

Before thee We sent (messengers) to many nations, and We afflicted the nations with suffering and adversity, that they might learn humility.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–45

سخت لوگ اور کثرت دولت مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–45

سورة الْاَنْعَام 29 گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلے مثال کے طور پر حیوانات کی زندگی کے مشاہدہ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد اب ایک دوسری نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جارہا ہے جو خود منکرین حق کے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب انسان پر کوئی آفت آجاتی ہے، یا موت اپنی بھیانک صورت کے ساتھ سامنے آکھڑی ہوتی ہے، اس وقت ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دوسری پناہ گاہ اسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبودوں کو بھول کر خدا ے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔ کٹے سے کٹا دہریہ تک خدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–43

خلاصہ تفسیر اور ہم نے آپ ﷺ سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تھے (مگر انہوں نے ان کو نہ مانا) تو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجاویں (اور اپنے کفر و معصیت سے توبہ کرلیں) سو جب ان کو ہماری سزا پہنچی تھی وہ ڈھیلے کیوں نہ پڑے (کہ ان کا جرم معاف ہوجاتا) لیکن ان کے قلوب تو (ویسے ہی) سخت (کے سخت) رہے، اور شیطان ان کے اعمال بد کو ان کے خیال میں (بدستور) آراستہ (و مستحسن) کرکے دکھاتا رہا۔ پھر جب وہ لوگ (بدستور) ان چیزوں کو بھولے (اور چھوڑے) رہے، جن کی ان کو (پیغمبروں کی طرف سے) نصیحت کی جاتی تھی (یعنی ایمان و اطاعت) تو تم نے ان پر (عیش و عشرت کی) ہر چیز کے دروازے کھول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 42–43

42 تا 43: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ الایۃ۔ تضرء کے معنی تذلل کے ہیں یعنی خضوع و خشوع اور احساسِ عجز و فروتنی کے ساتھ کسی کی طرف جھکنا یہاں یہ لفظ دل کی خشیت اور احساس عبدیت وانابت کے ساتھ خدا کی طرف جھکنے کے لیے آیا ہے۔ اس کا مقابل لفظ قساوت استعمال ہوا ہے جو دل کی سختی، بےخوفی اور رعونت کی تعبیر کے لیے قرآن کا معروف لفظ ہے کسی قوم پر عذاب بھیجنے کے معاملہ میں سنت الٰہی : اب یہ ایک سنت اللہ بیان ہوئی ہے جس سے ایک طرف تو یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ کسی قوم پر، جس میں اللہ تعالیٰ اپنا رسول بھیجتا ہے، عذاب بھیجنے کے معاملے میں وہ کیا طریقہ اختیار فرماتا ہے، دوسرے اس تاریخی شہادت کو سامنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 41–42

41۔ 1 اَرَءَیْتَکُمْ میں کاف اور میم خطاب کے لیے ہے اس کے معنی اخبرونی (مجھے بتلاؤ یا خبر دو) کے ہیں۔ اس مضمون کو بھی قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے (دیکھئے سورة ء بقرہ آیت 561 کا حاشیہ) اس کا مطلب یہ ہوا کہ توحید انسانی فطرت کی آواز ہے۔ انسان ماحول، یا آباؤ اجداد کی مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا رہتا ہے اور غیر اللہ کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھتا رہتا ہے۔ نذر نیاز بھی انھی کے نام نکالتا ہے لیکن جب کسی مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو پھر سب بھول جاتا ہے اور فطرت ان سب پر غالب آجاتی ہے اور بےاختیار پھر اسی ذات کو پکارتا ہے جس کو پکارنا چاہیئے۔ کاش لوگ اسی فطرت پر قائم رہیں کہ نجات…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–43

14: عرب کے مشرکین یہ مانتے تھے کہ اس کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ؛ لیکن ساتھ ہی ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس کی خدائی میں دوسرے بہت سے دیوتا اس طرح شریک ہیں کہ خدائی کے بہت سے اختیارات ان کو حاصل ہیں، اب ہوتا یہ تھا کہ ان دیوتاؤں کو خوش رکھنے کی نیت سے ان کی پرستش کرتے رہتے تھے مگر جب کوئی ناگہانی آفت آپڑتی تھی مثلاً سمندر میں سفر کرتے ہوئے پہاڑ جیسی موجوں میں گھر جاتے تھے تو اپنے گھڑے ہوئے دیوتاؤں کے بجائے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے، یہاں ان کی اس عادت کے حوالے سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ جب دنیا کی ان مصیبتوں میں تم اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو تو اگر کوئی بڑا عذاب آجائے قیامت ہی آکھڑی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 42–45

(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔ یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 42–44

3 گزشتہ آیت میں عذاب آنے کا احتمال ہوا تھا۔ اب واقعات کا حوالہ دیتے ہیں کہ پہلے زمانے میں اس طرح کے عذاب آ چکے ہیں۔ نیز متنبہ فرما دیا کہ جب مجرم کو ابتدا ہلکی تنبیہ کی جائے تو اسکو معاً خدا کیطرف رجوع ہونا چاہیے۔ سخت دلی اور اغوائے شیطانی سے اسے ہلکا نہ سمجھے۔ موضح القرآن میں ہے کہ گنہگار کو اللہ تعالیٰ تھوڑا سا پکڑتا ہے، اگر وہ گڑ گڑایا توبہ کی تو بچ گیا اور اگر اتنی پکڑ نہ مانی تو پھر بھلاوا دیا اور وسعت عیش کے دروازے کھولے۔ جب نعمتوں کی شکر گزاری اور انعام واحسان سے متأثر ہونے کے بجائے خوب گناہ میں غرق ہوا تو دفعۃ بیخبر پکڑا گیا۔ یہ ارشاد ہے کہ آدمی کو گناہ پر تنبیہ پہنچے تو شتاب توبہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلآی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ یہاں رسولوں کے بارے میں ایک اہم قانون بیان ہو رہا ہے واضح رہے کہ یہاں انبیاء نہیں بلکہ رسول مراد ہیں۔ جب بھی کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجا جاتا تھا تو اس قوم کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے چھوٹے چھوٹے عذاب آتے تھے ‘ لیکن اگر وہ قوم اس کے باوجود بھی نہ سنبھلتی اور اپنے رسول پر ایمان نہ لاتی ‘ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رسّی ڈھیلی کردی جاتی تھی ‘ تاکہ جو چند دن کی مہلت ہے اس میں وہ خوب دل کھول کر من مانیاں کرلیں۔ پھر اچانک اللہ کا بڑا عذاب ان کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–43

46 عکرمہ بن ابو جہل کا اسلام لانا :۔ مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ مصیبت کے وقت اور بالخصوص جب ان کا جہاز طوفان کی زد میں آجاتا تو اپنے معبودوں کو پکارنا شروع کردیتے پھر جب وہ مصیبت نہ ٹلتی اور موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی تو کہتے اب صرف ایک اللہ ہی کو پکارو۔ ان کی اسی عادت کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے اور ایک انسان کو ہدایت کی راہ پانے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے۔ چناچہ فتح مکہ کے بعد عکرمہ بن ابی جہل اس خیال سے مکہ سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ مفتوحین سے پتہ نہیں کیسا سلوک کیا جائے گا۔ جدہ پہنچے اور وہاں سے کشتی پر سوار ہو کر حبشہ کی راہ لی۔ راستہ میں کشتی طوفان میں گھر گئی تو مشرکوں نے اپنی عادت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66 ۔ (اور اپنے کفر وتکذیب سے توبہ کرلیں) یہاں صاف الفاظ میں ابتلاء کی غرض بھی بیان کردی، کہ مقصود اصلی ان سخت دل والوں کے دلوں میں نرمی، انابت و خشیت پیدا کرنا تھا۔ (آیت) ” یتضرعون “۔ تضرع کے معنی خشوع و خضوع، انابت ورجوع کے ہیں۔ معنی التضرع التخشع وھو عبارۃ عن الانقیاد وترک التمرد (کبیر) پچھلے صحیفوں میں بھی اس سے ملتا جلتا مضمون ملتا ہے۔ مثلا :” خداوند تیرا خدا بیابان کے بیچ پر چالیس برس تجھ کو لئے پھراتا کہ تجھے عاجز کردے اور تجھے آزماوے۔ اور تیرے دل کی بات دریافت کرے کہ اس کے احکام مانے گا کہ نہیں۔ “ (استثناء 8:2) (آیت) ” بالباسآء والضرآء “۔ باسآء سے مراد فقروفاقہ وغیرہ مالی مصائب سمجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–43

آیت نمبر 42 تا 50 ترجمہ : اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سی) قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے مِن زائدہ ہے تو انہوں نے ان کی تکذیب کی، تو ہم نے ان کی تنگدستی اور بیماری میں پکڑا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجائیں (یعنی) عاجزی کریں اور ایمان لے آئیں سو جب ان کو ہمارا عذاب پہنچا تو انہوں نے عاجزی کیوں اختیار نہ کی ؟ یعنی انہوں نے عاجزی اختیار نہیں کہ حالانکہ اس کا مقتضی موجود تھا، لیکن ان کے قلوب (مزید) سخت ہوگئے جس کی وجہ سے ایمان لانے کیلئے نرم نہیں پڑے اور شیطان ان کے برے اعمال کو ان کی نظر میں آراستہ کرکے پیش کرتا رہا اور وہ ان ہی اعمال پر مصر رہے پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو ان کو کی گئی تھی اور جس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد ارسلنا الی امم من قبلک فاخذنہم بالباسآء والضرآء لعلہم یتضرعون۔ اور ہم نے آپ سے پہلے والی امتوں کے پاس بھی پیغمبر بھیجے (اور جب انہوں نے سرتابی کی) تو تنگدستی اور بیماری میں (مبتلا کر کے) ان کی پکڑ کی تاکہ وہ گڑگڑا کر (گناہوں سے) توبہ کرلیں۔ من قبلک میں من زائد ہے۔ باساء ‘ سختی اور ناداری۔ ضراء بیماری اور دوسرے جسمانی دکھ نضرع عاجزی سے سوال کرنا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 42–43

(42۔ 43) جیسا کہ آپ کو آپ کی قوم کی طرف ہم نے بھیجا، چناچہ جو ایمان نہیں لائے تو ان میں سے بعض کو بعض کا خوف دلا کر اور مصیبتوں اور بیماریوں، تکالیف اور آزمائشوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ اللہ کے حضور دعا کریں اور ایمان لائیں کہ پھر ان سے عذاب کو دور کیا جائے تو پھر کیوں نہیں وہ ہمارے عذاب پر ایمان قبول کرتے لیکن ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دل سخت ہوگئے تو دنیا کی حالت یہی ہے کبھی سختی تو پھر کبھی خوشحالی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 42–43

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کا ذکر فرمایا ہے جن کے دل ایسے سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے بداعمال کو ان کے لیے ایسا خوبصورت بنادیا کہ وہ اللہ کا عذاب آنے پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے دنیاوی اسباب ہی کو اس عذاب کا نتیجہ قرار دیتے رہے۔ حالانکہ مصائب و آفات بھیجنے کا مقصد لوگوں کو اپنی روش سے باز آنے کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن وہ اس موقع کو بھی گنوا دیتے ہیں۔ کیا آج کل ہم مسلمانوں کی اکثریت کا یہ حال نہیں ہوگیا کہ جب کوئی جنگ یا قحط یا سیلاب یا زلزلہ یا کوئی دوسری اجتماعی آفت ہم پر نازل ہوتی ہے تو ہم میں سے کئی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 42 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولقد ارسلنا الی امم من قبلک یہ آیت نبی کریم ﷺ کے لیے بطور تسلی ہے اس میں اضمار ہے یعنی آیت : ارسلنا الی امم من قبلک رسلا اور اس میں دوسرا اضمار بھی ہے جس پر دلالت کرتا ہے اس کی تقدیر یہ ہے فکذبوا فاخذناھم یہ آیت ما قبل سے متصل ہے جس طرح ایک حالت اپنی سے قریب حالت سے متصل ہوتی ہے۔ یہ اس طرح ہے کہ یہ لوگ بھی اپنے نبی کی مخالفت کرنے میں پہلے لوگوں کے مسلک پر چلے جنہوں نے اپنے انبیاء کی مخالفت کی تھی پس یہ اس مصیبت اور بلا میں گرفتاری کے مقام پر ہیں جو ان سے پہلے لوگوں پر نازل ہوئی۔ بالباساء کا معنی اموال میں مصائب والضراء بدنوں میں مصیبت۔ یہ اکثر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–42

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت والذین کذبوا بایتنا صم و بکم کے بارے میں فرمایا یہ کافر کی مثال ہے جو بہرا ہے اور گونگا ہے ہدایت کو نہیں دیکھتا اور نہ اس سے نفع اٹھاتا ہے بہرا ہے حق (بات کے سننے) سے (کفر کے) اندھیروں میں ایسا بھٹکا ہوا ہے کہ اس سے نکلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ (2) امام ابو الشیخ نے ابو یوسف المدنی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید کے اعتبار سے ابن آدم مجھ پر مشیت منسوخ ہے یعنی انسان کی مشیت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے اس آیت لفظ آیت من یشا اللہ یضللہ ومن یشا یجعلہ علی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ [ اور ہم بھیج چکے ہیں (رسولوں کو ) ] اِلٰٓى اُمَمٍ [ امتوں کی طرف ] مِّنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] فَاَخَذْنٰهُمْ [ پھر ہم نے پکڑا ان کو ] بِالْبَاْسَاۗءِ [ سختی سے ] وَالضَّرَّاۗءِ [ اور تکلیف سے ] لَعَلَّهُمْ [ شائد کہ وہ لوگ ] يَتَضَرَّعُوْنَ [ گڑگڑائیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–44

سابقہ امتوں کا تذکرہ جو خوشحالی پر اترانے کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں ان آیات میں پچھلی امتوں کا حال بتایا اور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ہم نے ان کے پاس بھی اپنے رسول بھیجے انہوں نے ان کو جھٹلایا لہٰذا ہم نے ان کو سختی اور دکھ تکلیف کے ذریعہ پکڑ لیا لفظ (بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ ) کے عموم میں وہ سب تکلیفیں داخل ہیں جو عام طور پر اہل دنیا کو انفرادی اور اجتماعی طور پر وقتاً فوقتاً پہنچتی رہتی ہیں۔ قحط، بھوک، مہنگائی، وبائی امراض جانوں اور مالوں کا نقصان یہ سب چیزیں ان دونوں لفظوں کے عموم میں آجاتی ہیں۔ جب ان چیزوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–51

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔ ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

49 یہ تخویف دنیوی ہے یعنی جن امتوں نے آپ سے پہلے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا ہم نے دنیا میں ان کو جسمانی بیماریوں اور مالی پریشانیوں میں مبتلا کردیا تاکہ وہ ضد سے باز آجائیں اور عاجزی اختیار کریں اور کفر و انکار سے توبہ کرلیں۔ الْباْسَا سے قحط اور تنگدستی مراد ہے اور الضَّرَّاء سے بیماری اور مال وجان کا نقصان الاول القحط والجوع والثانی المرض و نقصان الانفس والموال (مدارک ج 2 ص 10) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–45

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے احتمال کے طور پر مکذبین کو ڈرایا تھا کہ آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ اگر موت یا قیامت کی گھڑی آپہنچے تو خدا کے سوا تمہاری مصیبت کو کون دور کرسکتا ہے۔ یقینا کوئی نہیں۔ وہ صرف خدا کی ذات ہے جس کے قبضے میں اقتدار اور تصرف ہے۔ لہٰذا یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے کہ تمہاری پکار یا دعا کو قبول کر کے عذاب کو ٹم سے ٹال دے۔ اب اللہ تعالیٰ نے بعض سابقہ امتوں کے واقعات کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے کہ دیکھو ! ان پر خدا کا عذاب فی الواقع آ گیا اور وہ اس میں ہلاک ہوگئے۔ لہٰذا تمہیں بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کہیں تم پر بھی ایسا عذاب نہ آجائے کیونکہ تمہارے افعال و کردار بھی ویسے ہی ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّہُمْ يَتَضَرَّعُوْنَ۝ 42 رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–45

ترکیب : فلولا کلمہ تخصیص ہے اذ جاء ھم ظرف ہے تضرعوا کا۔ زین جملہ معطوف ہے قست قلوبہم پر۔ ماکانوا جملہ مفعول ہے زین کا لہم اس سے متعلق ہے۔ تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ شدائد میں کفار بتوں کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں پھر وہ اپنی رحمت سے ان کی مصیبت دور کردیتا ہے (غالباً مکہ یا عرب کے بت پرست ایسا کرتے تھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کاملہ کے بھی قائل تھے۔ البتہ بتوں اور تھانوں اور دیگر خیالی معبودوں کو خدا کی طرف کارکن سمجھ کر پوجتے اور ان کو پکارتے تھے جیسا کہ اکثر ہندو کرتے ہیں) اب یہاں یہ بات بتاتا ہے کہ اے نبی علیک السلام ان سے بھی بڑھ کر سیاہ دل قومیں گذری ہیں کہ وہ مصیبت کے وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–43

تمہید سورة انعام میں آغاز سے اب تک مسلسل اساسی اور بنیادی عقائد پر نہایت مدلل انداز کے ساتھ زور دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مشرکین کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعتراضات اور مطالبات کا بھی جواب دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ آیتوں میں بالخصوص ان کے مطالبہ عذاب کا ذکر کیا گیا اور اس کے نتائج پر ان کو توجہ دلا کر تنبیہ بھی کی گئی۔ بالخصوص آخری دو آیتوں میں ان کے مطالبے ہی کو ایک خوبصورت دلیل کی شکل دے کر ‘ ان پر ایک طرح سے اتمام حجت کردیا گیا ہے۔ لیکن اس رکوع کے آغاز ہی میں ‘ جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے ‘ پروردگار نے اپنے فضل و کرم سے ‘ باوجود اتمام حجت کرنے کے ‘ قوموں پر عذاب نازل ہونے کے پر اسس کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : حقیقت کا انکار کرنے والوں کا دنیا میں انجام جب ان پر ہلکا اور بھاری عذاب آیا تو ان کی قلبی کیفیت اور رد عمل جیسا کہ آیت 37 میں کفار کے مطالبہ کا ذکر ہوا۔ جس میں انھوں نے نبی رحمت ﷺ سے کسی معجزہ یا نشانی کا مطالبہ کیا اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب یا جس قیامت کی آمد کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ یکایک تم پر نازل ہوجائے تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے معبود ان باطل سے مدد طلب کرو گے ؟ ہرگز نہیں تمہاری حالت یہ ہوگی کہ تم سب کچھ بھول کر صرف ایک رب کو پکارو گے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کی نشانی یا اس کے عذاب کا معاملہ ہے تو جان رکھو اس کے عذاب کی مختلف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 42 : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ رسولوں کو۔ یہ مفعول محذوف ہے۔ فکذبوہم۔ پس انہوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سختیاں جھکانے کے لئے اترتی ہیں : فَاَخَذْنٰہُمْ بِالْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ تنگدستی اور جسمانی تکلیف کے ساتھ۔ یا البأساء سے قحط اور بھوک اور الضّراء سے مرض اور جسمانی نقصان اور مالی نقصان مراد ہے۔ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَتاکہ وہ اپنے رب کے سامنے جھکیں۔ اور خشوع اختیار کریں اور اپنے گناہوں سے تائب ہوجائیں اس لیے کہ جب سختیاں اترتی ہیں تو دل میں خشوع پیدا ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

-42 (ولقد ارسلنا الی امم من قبلک فاخذنھم بالباسآء ) سختی اور بھوک میں (والضرآء ) بیماریوں میں (لعلھم ینضرعون) یعنی توبہ کریں اور عاجزی کریں۔ ” تضرع “ کا معنی ذلت کے ساتھ سوال کرنا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–49

(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 42–45

آیت 42 (ولقد ارسلنا الی ام من قبلک) ” اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔ “ یعنی ہم نے سابقہ اور گزرے ہوئے زمانوں میں رسول بھیجے۔ انہوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری آیات کا انکار کیا (فاخذنھم بالباساط والضرآء) ” ہم انہیں سختیوں اور تکلیفوں پر پکڑتے رہے۔ “ یعنی ان پر رحم کرتے ہوئے فقر و مرض اور آفات و مصائب کے ذریعے سے ان کی گرفت کی (لعلھم یتضرعون) ” تاکہ وہ عاجزی کریں۔ “ شاید کہ وہ اللہ کے پاس عاجزی سے گڑ گڑائیں اور سختی کے وقت اس کے پاس پناہ طلب کریں۔ (فلولا اذ جآء ھم باسنا تضرعوا ولکن قست قلوبھم) ” پس کیوں نہ گڑ گڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا، لیکن سخت ہوگئے دل ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

67 ابتلاء و مصائب سے ایک اہم مقصود کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مصائب سے مقصود لوگوں کے اندر عجز و انکسار پیدا کرنا ہے تاکہ اس طرح وہ عبدیت و بندگی کی اس راہ حق وصواب کو اپنائیں جو ان کی طبیعت و فطرت کے لائق اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے تاکہ اس طرح خود ان کا بھلا ہو۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ جھک جائیں۔ یعنی تاکہ وہ جھک جائیں اللہ پاک کے حضور عاجزی کرتے ہوئے اور ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں خم آجائے۔ اور وہ حق کی طرف رجوع کرسکیں۔ معلوم ہوا کہ اس اعتبار سے مصائب و آلام بھی رحمت کا باعث ہوتے ہیں کہ ان سے بندے کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 42–45

کفار کی نافرمانی اور ان کا انجام تشریح : ان آیات میں صاف صاف بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کا دستور ہمیشہ سے یہی چلا آ رہا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو یونہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ ان کو راہ راست پر رکھنے اور خوبصورت زندگیاں گزارنے کے لیے رہنما اصول آسمانی کتابوں اور صحیفوں کے ذریعے بھیجتا رہتا ہے اور مختلف زمانہ میں مختلف رسول پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں تاکہ لوگ گمراہی اور شیطان کی شرارتوں سے بچ سکیں، پھر بھی اگر لوگ ہدایت نہ پائیں تو پھر ان پر ان کے اپنے برے اعمال کی وجہ سے عذاب آتے ہیں پھر اگر گناہوں سے باز نہ آئیں تو پھر آسائشوں کی بارش کردی جاتی ہے پھر بھی اگر ہوش میں نہ آئیں تو پھر اچانک ان کو بالکل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–50

رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50: اسرار و معارف : اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–43

ف 2 کیا آج ہم مسلمانوں کا یہی حال ہو نہیں گیا ہے جب کوئی جنگ سیلاب قحط یا زلزلہ یا کوئی دوسری اجتماعی آفت ہم پر نازل ہوتی ہے تو کیا ہم میں وہ افراد نہیں پائے جاتے جو اسے محض مادی اسباب کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ اور سزا سمجھنے کو جہالت اور بےوقوفی قرار دیتے ہیں تفسیر احمدی جو ایک نیچری نے لکھی ہے وہ معجزات وغیرہ کے انکار کے سلسلہ میں اس قسم کی تاویلوں سے پر ہے ، (م، ع )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:42) باسائ۔ سختی ۔ فقر۔ اسم مؤنث۔ بؤس سے مشتق ہے۔ الضرائ۔ تکلیف۔ سختی۔ تنگی۔ بیماری۔ مصیبت۔ اسم ہے۔ باساء اور الضراء دونوں مؤنث ہیں۔ اور ان کا مذکر نہیں آتا۔ یتضرعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تضرع (تفعل) مصدر۔ عاجزی کرتے ہیں گڑگڑاتے ہیں۔ تاکہ عاجزی کریں۔ آیۃ میں فاخذنھم سے قبل فکفروا و کذبوا محذوف ہے۔ یعنی ہم نے رسول بھیجے لیکن انہوں نے انکار کیا اور ان کی نافرمانی کی اور تکذیب کی تو ہم نے ان کو تکالیف میں مبتلا کیا۔ (بیضاوی) لیکن اگر متن کو بعینہٖ لیا جاوے تو معانی ہونگے ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے اور ان کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں (تفہیم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–45

لغات القرآن : آیت نمبر 42 تا 45 : الباسآء (باس) سختیاں ( یتضرعون) وہ عاجزی کرتے ہیں ‘ قست ( سخت ہوگئے) ‘ زین (خوبصورت ہوگئے) ‘ نسوا (وہ بھول گئے) فتحنا ( ہم نے کھول دیا) ‘ ابواب (دروازے) فرحوا ( وہ خوش ہوگئے) ‘ اوتوا (دیئے گئے) اخذنا ( ہم نے پکڑ لیا) مبلسون ( مایوس ہوجانے والے) قطع ( کاٹ دیا گیا) ‘ دابرالقوم (قوم کی جڑ) ۔ تشریح : آیت نمبر 42 تا 45 : اللہ کی طرف سے انسانی فرد یا جماعت کی آزمائش دو طرح سے ہوتی ہے۔ مصیبتوں کے ذریعہ یا عیش عشرت کے ذریعہ ‘ مصیبت کے وقت اس کے سامنے دوراستے کھلے ہوتے ہیں یا تو اللہ کے سامنے روئے ‘ عاجزی کرے ‘ گڑ گڑائے ‘ توبہ کرے ‘ معافی مانگے ‘ یہی وہ راستہ ہے جدھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–49

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–46

[20] دل پر مہر لگانے سے مراد سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کرلینا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کفر پر اصرار کئے جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–42

قانون ہدایت کی ہمہ گیری : (ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ قانون ہدایت وترہیب ہمہ گیر ہے کائنات میں کوئی جاندار چیز اس سے مستثنے نہیں ۔ سب پرندے اور سب حیوان اللہ کی جانب سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ، اور اس فطری ہدایت کی وجہ سے زندہ ہیں ، چڑیا سے لے کر چیونٹی تک کے لئے بندھے ہوئے اور مقرر قانون ہیں ، جن سے سرتابی کرنا ان کے لئے ناممکن ہے ، اسی طرح حضرت انسان یعنی روحانی زندگی کے لئے اللہ کی ہدایت کا محتاج ہے ، یعنی مکہ والوں کو بجائے معجزات کے ان حقائق پر غور کرنا چاہئے ، بعض لوگوں نے اس آیت سے تناسخ پر استدلال کیا ہے ، مگر یہ بوجوہ غلط ہے ، 1۔ کیونکہ قرآن میں صاف صاف یوم آخرت کو بطور عقیدہ کے پیش کیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-42 اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سی قوموں کی طرف جو آپ سے پہلے ہو گذری ہیں رسول بھیجے تھے پھر ان قوموں نے پیغمبروں کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اس تکذیب کے باعث مختلئف مصائب و آلام میں مبتلا کیا اور ان کو فقر و تنگ دستی اور بیماریوں میں ڈالا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ وزاری کریں اور خدا کے روبرو عاجزی اور نیاز مندی کا اظہار کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–43

ف 2۔ پس اسی سے سمجھ لو کہ خدا کے سواجب کوئی قادر نہیں تو مستحق عبادت بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منہ زوروں کا علاج ؟ ان کے زور کو توڑ دینے کے سوا کچھ نہیں : 64: نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے ہمارے رسول ! جس طرح آپ ﷺ اس دنیا میں پہلے رسول نہیں بالکل اسی طرح آپ ﷺ کی امت بھی پہلی امت نہیں۔ آپ ﷺ سے پہلے لاکھوں رسول گزر چکے اور لاکھوں امتوں کو ہم نے ٹھکانے لگایا۔ آپ ﷺ کی امت کے منہ زوروں سے وہ زیادہ منہ زور اور ہیکڑ تھے اور آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرنے والوں سے ان کا اپنے رسولوں سے زیادہ زور دار مطالبہ تھا ہم نے ان کے مطالبہ کے پیش نظر دو طرح سے انکا امتحان لیا۔ پہلے کچھ سختی اور تکیف ان پر ڈال کر دیکھا کہ یہ کیا کرتے ہیں ؟ کیا یہ اس تکلیف اور مصیبت سے گھبرا کر بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

Commentary The verses cited above, if seen in the context of verses appearing immediately previous to them, will show the particular mode in which Shirk and Kufr have been refuted and Tauhid, affirmed. First, the disbelievers of Makkah have been asked: If you are hit by a calamity now, for example, the punishment of Allah descends on you right here in this world or comes death or the very Day of Doom breaks loose, then think and answer who it will be you would call for help to keep this calamity away from you or who it would be you will hope to deliver you from this terrible punishment? Do…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–49

29. Attention is now drawn towards another sign - one observable even in the lives of those who deny the Truth. When either some great calamity befalls a man or when death starkly stares him in the face, it is only to God that he turns for refuge. On such occasions even the staunchest polytheists forget their false gods and cry out to the One True God, and even the most rabid atheists stretch out their hands in prayer to Him. This phenomenon is mentioned here in order to draw an instructive lesson. It shows that devotion to God and monotheism are ingrained in the human soul. No matter how…

Read the full tafseer →