Explained with ayahs 40–45
سخت لوگ اور کثرت دولت
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
سورة الْاَنْعَام 29
گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلے مثال کے طور پر حیوانات کی زندگی کے مشاہدہ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد اب ایک دوسری نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جارہا ہے جو خود منکرین حق کے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب انسان پر کوئی آفت آجاتی ہے، یا موت اپنی بھیانک صورت کے ساتھ سامنے آکھڑی ہوتی ہے، اس وقت ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دوسری پناہ گاہ اسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبودوں کو بھول کر خدا ے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔ کٹے سے کٹا دہریہ تک خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
اور چھٹی آیت وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز انسانوں کے ساتھ تمام جانور بھی زندہ کئے جاویں گے، اور ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز تمام جانور، بہائم اور پرندے بھی دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ کا انصاف اس حد تک ہے کہ اگر کسی سینگ والے جانور نے بےسینگ کے جانور کو دنیا میں مارا تھا تو آج اس کا انتقام اس سے لیا جائے گا، (اسی طرح دوسرے جانوروں کے باہمی مظالم کا انتقام لیا جائے گا) اور جب ان کے آپس کے حقوق و مظالم کے بدلے اور انتقام ہو چکیں گے تو ان کو حکم ہوگا کہ سب مٹی ہوجاؤ، اور تمام جانور اسی وقت پھر مٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
40 تا 41۔ ارءیتم اور ارءیتکم کا محل استعمال اور مفہوم ایک ہی ہے۔ چناچہ آگے آیت 46 میں بالک اسی محل میں ارءیتم آیا ہے۔
توحید کی ایک نفسی دلیل۔ یہ مطالبہ نشانی عذاب کا جواب بھی ہے اور انسانی فطرت کے ایک خاص پہلو سے توحید کی ایک ناقابل تردید انفسی دلیل بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے کہو کہ اس طنطنہ کے ساتھ جو عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو تو اس کے مقابلہ یا اس سے بچاؤ کا کیا سامان کر رکھا ہے ؟ کون سی ناقابل تسخیر داعی لائن تم نے بنا لی کہ اس زعم کے ساتھ خدا کو چیلنج کر رہے ہو ؟ فرض کرو۔ جس عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو خدا وہی بھیج دیتا ہے یا جس قیامت سے تمہیں خبر دار کیا جا رہا ہے وہی آ دھمکتی ہے تو کون ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
41۔ 1 اَرَءَیْتَکُمْ میں کاف اور میم خطاب کے لیے ہے اس کے معنی اخبرونی (مجھے بتلاؤ یا خبر دو) کے ہیں۔ اس مضمون کو بھی قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے (دیکھئے سورة ء بقرہ آیت 561 کا حاشیہ) اس کا مطلب یہ ہوا کہ توحید انسانی فطرت کی آواز ہے۔ انسان ماحول، یا آباؤ اجداد کی مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا رہتا ہے اور غیر اللہ کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھتا رہتا ہے۔ نذر نیاز بھی انھی کے نام نکالتا ہے لیکن جب کسی مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو پھر سب بھول جاتا ہے اور فطرت ان سب پر غالب آجاتی ہے اور بےاختیار پھر اسی ذات کو پکارتا ہے جس کو پکارنا چاہیئے۔ کاش لوگ اسی فطرت پر قائم رہیں کہ نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
14: عرب کے مشرکین یہ مانتے تھے کہ اس کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ؛ لیکن ساتھ ہی ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس کی خدائی میں دوسرے بہت سے دیوتا اس طرح شریک ہیں کہ خدائی کے بہت سے اختیارات ان کو حاصل ہیں، اب ہوتا یہ تھا کہ ان دیوتاؤں کو خوش رکھنے کی نیت سے ان کی پرستش کرتے رہتے تھے مگر جب کوئی ناگہانی آفت آپڑتی تھی مثلاً سمندر میں سفر کرتے ہوئے پہاڑ جیسی موجوں میں گھر جاتے تھے تو اپنے گھڑے ہوئے دیوتاؤں کے بجائے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے، یہاں ان کی اس عادت کے حوالے سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ جب دنیا کی ان مصیبتوں میں تم اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو تو اگر کوئی بڑا عذاب آجائے قیامت ہی آکھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
(آیت) ” نمبر 40 تا 41۔
اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے خطاب کے لئے جو وسائل استعمال فرماتے ہیں یہ اس کا ایک نمونہ ہے ۔ یہ نمونے اس سے پہلے کی لہروں میں بھی بیان کئے جا چکے ہیں اور اس کے بعد جو فقرات آ رہے ہیں ان میں بھی اس کے نمونے آئیں گے ۔ اس پوری سورة میں انسانی فطرت کو مخاطب کیا گیا ہے ۔
اس سے قبل یہ بات کہی گئی تھی کہ زندہ مخلوقات کے جہان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدبرانہ قدرت نے ان کے اندر کس قدر تنظیم پیدا کر رکھی ہے ۔ پھر ذرا دیکھو کہ اللہ کا علم کس قدر وسیع اور شامل ہے ۔ اس زیر بحث مجموعہ آیات میں اللہ کے عذاب اور آفات ناگہانی کا ذکر ہے ۔ جب یہ ناگہانی آفات وبلیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
2 جب اندھے بہرے گونگے ہو کر آیات اللہ کو جھٹلایا اور گمراہی کے عمیق غار میں جا پڑے۔ اس پر اگر دنیا میں یا قیامت میں خدا کا سخت عذاب نازل ہو تو سچ سچ بتلاؤ کہ خدا کے سوا اس وقت کسے پکارو گے۔ دنیا کی چھوٹی چھوٹی مصیبتوں میں بھی جب گھر جاتے ہو تو مجبور ہو کر اسی خدائے واحد کو پکارتے ہو اور سب شرکاء کو بھول جاتے ہو (فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ) 29 ۔ العنکبوت :65) جس پر اگر خدا چاہتا ہے تو اس مصیبت کو دور بھی کردیتا ہے اسی سے اندازہ کرلو کہ نزول عذاب یا ہول قیامت سے بچانے والا بجز خدا کے اور کون ہوسکتا ہے پھر یہ کس قدر حماقت اور اندھا پن ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
آیت 40 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَج اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
یہ بھی متجسسانہ searching انداز میں ان سے سوال کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کا معمول بھی تھا اور مشاہدہ بھی ‘ کہ جب بھی کبھی کوئی مصیبت آتی ‘ سمندر میں سفر کے دوران کبھی طوفان آجاتا ‘ موت سامنے نظر آنے لگتی تو پھر لات ‘ منات ‘ عزیٰ ‘ ہُبل وغیرہ میں سے کوئی بھی دوسراخدا انہیں یاد نہ رہتا۔ ایسے مشکل وقت میں وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ چناچہ خود ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ہر شخص ذرا اپنے دل سے پوچھے ‘ کہ آخر مصیبت کے وقت ہمیں ایک اللہ ہی کیوں یاد آتا ہے ؟ گویا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
46 عکرمہ بن ابو جہل کا اسلام لانا :۔ مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ مصیبت کے وقت اور بالخصوص جب ان کا جہاز طوفان کی زد میں آجاتا تو اپنے معبودوں کو پکارنا شروع کردیتے پھر جب وہ مصیبت نہ ٹلتی اور موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی تو کہتے اب صرف ایک اللہ ہی کو پکارو۔ ان کی اسی عادت کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے اور ایک انسان کو ہدایت کی راہ پانے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے۔ چناچہ فتح مکہ کے بعد عکرمہ بن ابی جہل اس خیال سے مکہ سے بھاگ کھڑے ہوئے کہ مفتوحین سے پتہ نہیں کیسا سلوک کیا جائے گا۔ جدہ پہنچے اور وہاں سے کشتی پر سوار ہو کر حبشہ کی راہ لی۔ راستہ میں کشتی طوفان میں گھر گئی تو مشرکوں نے اپنی عادت کے…
Read the full tafseer →65 ۔ آیت میں مخاطبہ ملحدوں سے نہیں، بلکہ اس نوع کے کافروں سے ہے جو قائل تو ایک صانع عالم کے تھے لیکن اس کے ساتھ اعمال ربوبیت میں دوسروں کو بھی شریک سمجھتے تھے۔ (آیت) ” ان شآء “۔ یعنی اگر ان مصائب سے نجات دلانا اس کی مشیت تکوینی کے مطابق ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
وَاِن کان کبُرَ عَلیْکَ اِعْراضھم (الآیۃ) مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نشان ہمیشہ رہنا چاہیے جسے ہم کوئی دیکھ کر یقین کرنے پر ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے، چونکہ آپ ﷺ تمام انسانوں خصوصاً قریش میں ہدایت پر بہت حریص تھے شاید آپ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ کاش ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے تو شاید ان کا کفر ہٹ جائے جس کی وجہ سے قوم کی ہدایت کے راستے کھل جائیں، اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تلوینیات میں مشیت۔۔۔ کے تابع رہو تکوین کا مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ تو خدا اس پر بھی قادر ہے کہ پیغمبروں کے توسط اور نشانیوں…
Read the full tafseer →بل ایاہ تدعون بلکہ تم اسی کو پکارو گے۔ تقدیم مفعول حصر کے لئے ہے۔
فیکشف ما تدعون الیہ انشآء سو وہی اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو دور کر دے گا جس کے دور کرنے کے لئے تم اس کو پکارو گے۔ یعنی دنیا میں مصیبت دور کر دے گا اگر چاہے گا آخرت کا عذاب نہیں دور کرے گا۔
وتنسون ما تشرکون۔ اور (ایسے وقت میں) ان (دیوتاؤں) کو بھول جاؤ گے جن کو شریک قرار دیتے ہو۔ بھول جانے سے مراد ہے چھوڑ دینا۔ (بات یہ ہے کہ فطری طور پر) انسان کے دماغ میں یہ امر پیوست ہے کہ مصیبت کو دور کرنے پر قدرت صرف اللہ کو حاصل ہے (اس لئے مشرک بھی اٹل مصیبت کے وقت اللہ ہی کو پکارنے پر مجبور ہیں) ۔
Read the full tafseer →(41) بلکہ تم تو اس وقت خاص اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو گے تاکہ تم سے عذاب دور ہو اور ہرگز انکو نہیں پکارو گے لہٰذا جن بتوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو، ان سب کو بھلا دو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَاب اللّٰهِ۔۔ : اس مضمون کو بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ بیان کیا ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (67) ، سورة زمر (38) ، سورة مومنون (84 تا 89) ، سورة لقمان (32) اور سورة یونس (22) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے زمانے کے مشرکین کا طرز عمل بیان فرمایا، مطلب یہ ہے کہ توحید انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے، وہ ماحول کے اثر سے یا آباء و اجداد کی تقلید سے شرک میں گرفتار ہوتا ہے اور غیر اللہ کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا رہتا ہے، نذر و نیاز بھی ان کے نام کی نکالتا ہے، لیکن جب آزمائش سے دو چار ہوتا ہے تو پھر سب کو بھول جاتا ہے اور فطرت ان سب پر غالب آجاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت نمبر 39 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : والذین کذبوا بایتنا صم و بکم یہ مبتدا اور خبر ہیں یعنی انہوں نے قوت سماعت اور قوت بصارت سے نفع نہ اٹھایا جانوروں میں سے ہر امت اپنے مصوں کی طرف ہدایت پاتے ہیں اور کفار ہدایت نہیں پاتے یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ فی الظلمت یعنی کفر کی تاریکیاں۔ ابوعلی نے کہا : اس کا معنی یہ ہو بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آخرت میں گونگے اور بہرے ہوں گے اس صورت میں حقیقی معنی ہوگا، مجازی معنی نہ ہوگا۔ من یشا اللہ یضللہ یہ دلیل ہے کہ اس نے کافر کی گمراہی کو چاہا اور اس نے ارادہ کیا کہ اس میں اس کا عدل نافذ ہو کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ اس نے فرمایا : آیت : ومن یشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت والذین کذبوا بایتنا صم و بکم کے بارے میں فرمایا یہ کافر کی مثال ہے جو بہرا ہے اور گونگا ہے ہدایت کو نہیں دیکھتا اور نہ اس سے نفع اٹھاتا ہے بہرا ہے حق (بات کے سننے) سے (کفر کے) اندھیروں میں ایسا بھٹکا ہوا ہے کہ اس سے نکلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابو یوسف المدنی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید کے اعتبار سے ابن آدم مجھ پر مشیت منسوخ ہے یعنی انسان کی مشیت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے اس آیت لفظ آیت من یشا اللہ یضللہ ومن یشا یجعلہ علی…
Read the full tafseer →بَلْ اِيَّاهُ [ بلکہ صرف اس کو ہی ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] فَيَكْشِفُ [ تو وہ کھول دیتا ہے ] مَا [ اس کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] اِلَيْهِ [ جس کے لئے ] اِنْ [ اگر ] شَاۗءَ [ وہ چاہتا ہے ] وَتَنْسَوْنَ [ اور بھول جاتے ہو ] مَا [ اس کو جس کو ] تُشْرِكُوْنَ [ تم لوگ شریک کرتے ہو ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ) بلکہ تم اللہ ہی کو پکارتے ہو، پھر وہ اس مصیبت کو دور کردیتا ہے جس کے دور کرنے کے لیے اسے پکارا اگر وہ چاہتا ہے، اور مصیبت کے وقت ان کو بھول جاتے ہو جن کو شریک ٹھہراتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
اثبات توحید۔
قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔
ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…
Read the full tafseer →48 اس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کی دعاء اور پکار کا قبول ہونا ضروری نہیں اس آیت کی روشنی میں قَالَ رَبُّکُمْ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (مومن ع) کا مطلب بھی واضح ہوگیا کہ اس کا منشا یہ ہے کہ مصائب و بلیات میں مجھ ہی کو پکارو قبول کرنے کی طاقت اور قدرت صرف مجھ ہی میں ہے یہ مطلب نہیں کہ میں ہر شخص کی پکار کو قبول ضرور ر کرلوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
توحید ‘ رسالت اور معاد کے انکار اور پیغمبر اسلام سے نشانیاں طلب کرنے کا سلسلہ کئی دروس سے بیان ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منکرین کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی ‘ جیسا کہ پہلے انبیاء کرتے رہے ہیں اور نشانیوں کے متعلق فرمایا کہ اگر ان کو حسب خواہش نشانی مہیا بھی کردی جائے تو پھر بھی یہ انکار ہی کریں گے۔ آج کی آیات میں بھی مشرکین کی طرف سے نشانیاں طلب کرنے کا ہی ذکر ہے اور پھر اس ضمن میں حضور ﷺ کو بعض ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وقالوا لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ ان منکرین نے کہا کیوں نہیں اتاری جاتی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے۔ اور نشانی سے مراد ان کے نزدیک ایسی نشانی ہے…
Read the full tafseer →بَلْ اِيَّاہُ تَدْعُوْنَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَيْہِ اِنْ شَاۗءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ 41ۧ
كشف
كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17]
( ک ش) الکشف
كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پر دہ اٹھا نا کے ہیں ۔ اور مجازا غم وانداز ہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] اور خدا تم کو سختی پہچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ۔
نسی
النِّسْيَانُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
2 ؎ یعنی جس طرح بنی آدم کے گروہوں کے جدا جدا نام اوراقسام ہیں اسی طرح ان کے بھی چیونٹی ‘ سانپ ‘ بچھو ‘ چیل ‘ چڑیا ‘ کوا ہر ایک جنس اور نوع جدا ہے اور اس طرح ان کے بھی رزق اور اجل مقرر ہے اور اسی طرح ان کو بھی ان کے انواع کے مفید علوم انعام ہوئے ہیں۔ حشرات الارض زمین میں مناسب مواقع پر بل اور سوراخ بناتے ہیں۔ پر نداونچے اونچے درختوں میں کس خوبی سے گھونسلے بناتے ہیں کہ جس سے عقلاء کی عقل کی دنگ ہوجاتی ہے۔ پھر جب حیوانات پر ہماری یہ عنایت ہے تو نوع انسان کو ہم امور آخرت سے کیونکر بےبہرہ چھوڑ دیتے۔ جہاں نہ عقلاء و حکماء کی عقل پوری رہنمائی کرسکتی ہے اس لئے ہم نے انبیاء بھیجے اور سب سے اخیر اس نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ارشاد فرمایا :
قُلْ اَرَئَیْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللہِ اَوْ اَتَتْکُمْ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللہِ تَدْعُوْنَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہٖ اِنْ شَآئَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 40۔ 41)
(ذرا غور کر کے بتائو ! اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی عذاب آئے یا قیامت تم پر آپہنچے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ بولو اگر تم سچے ہو۔ اس وقت تم اللہ ہی کو پکارو گے پھر وہ اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دے گا۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو )
توحید ہر نفس کے اندر موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ :
صحیح العقیدہ شخص عسر، یسر، بیماری، تندرستی، مشکل اور خوشحالی یعنی ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے مشکل کشائی کی تمنا اور آرزو کرتا ہے اس کے مقابلے میں باطل عقیدہ کا حامل انسان آسانی کے وقت اللہ کے سوا دوسروں سے رجوع کرتا ہے اور جب مسائل کے گرداب میں پھنس جائے تو ہر طرف سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کو صدائیں دیتا ہے اس کی اسی عادت کے پیش نظر نبی اکرم ﷺ کو فرمایا گیا ہے کہ آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹے یا تم پر ناگہانی کوئی مصیبت اور قیامت آن پڑے اگر تم واقعی اپنے عقیدے میں سچے ہو تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو…
Read the full tafseer →اس مصیبت میں تو اسی کو پکارتے ہو پھر کیوں بھاگتے ہو :
آیت 41 : بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ بلکہ تم اسی کو ہی خالص پکارتے ہو۔ اپنے آلہہ کو چھوڑ کرفَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَــیْہِ یعنی جس کو تم پکارتے ہو اس مصیبت کے ازالہ کے لیے۔ اِنْ شَآئَاگر وہ تم پر اپنا فضل فرمانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَتم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیتے ہو۔ یا تم اس وقت اپنے معبودوں کا تذکرہ تک نہیں کرتے۔ کیونکہ تمہارے ذہن تمہارے رب کی یاد میں ڈھکے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ وہی نقصان کو دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اور کوئی نہیں۔ اور یہ بھی درست ہے کہ استخبار، اغیر اللّٰہ تدعون کے متعلق ہو۔ پھر مطلب اس طرح…
Read the full tafseer →-41 پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (بل ایاہ تدعون) یعنی صرف اللہ کو پکارتے ہو اس کے غیر کو نہیں پکارتے (فیکشف ما تدعون الیہ ان شآئ) یہاں قبولیت دعا کے لئے اپنے چاہنے کی قید لگائی ہے اسی طرح تمام کام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتے ہیں (وتنسون) چھوڑ دیتے ہو (ماتشرکون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
آیت 40
(قل) اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے والے مشرکین سے کہہ دیجیے (ارئیتکم ان اتکم عذاب اللہ واتتکم الساعۃ اغیر اللہ تدعون ان کنتم صدقین) ” بھلا بتلاؤ، اگر تمہارے پاس اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت آجائے، تو کیا تم اللہ کے سوا اوروں کو پکارو گے، اگر تم سچے ہو ؟ “ یعنی جب تم ان تکالیف اور کرب و غم میں مبتلا ہوتے ہو اور تم ان کو ہٹانے پر مجبور ہوتے ہو، تب اس وقت تم اپنے خداؤں اور بتوں کو پکارتے ہو یا تم اپنے رب بادشاہ حقیقی کو پکارتے ہو ؟ (بل ایاہ تدعون فیکشف ماتدعون الیہ ان شآء و تنسون ماتشرکون) ” بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو، پھر وہ دور کردیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہے…
Read the full tafseer →66 حاجت روا و مشکل کشا سب کا ایک ہی ہے یعنی اللہ وحدہ لاشریک : سو وہی اپنی قدرت اور اپنی رحمت و عنایت سے تمہاری اس مصیبت اور تکلیف کو دور فرما دیتا ہے جس کے لیے تم اس کو پکارتے ہو ایسے مشکل موقع پر اپنی اس فطری توحید کی بنا پر جو اس قادرمطلق نے تمہاری فطرت وجبلت میں ودیعت فرما رکھی ہے۔ پھر اپنی فطرت میں پیوست اس جوہر کو دباکر تم لوگ شرک کی گندگی و نجاست کو آخر کیوں گلے لگاتے ہو ؟ اور اس امر واقع اور حقیقت صادقہ کو آخر تم لوگ مانتے اور تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا ایک ہی ہے۔ یعنی وہ اللہ وحدہ لاشریک جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے ۔ سبحانہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
مشرکین مکہ کا مطالبہ اور مصیبت میں اللہ کو یاد کرنا
تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو پوری طرح کفر کے قبضہ میں آچکے تھے اور نبی اکرم ﷺ کو ہر وقت تنگ کرتے تھے ان کی پوری طرح مخالفت کرتے اور الٹی سیدھی فرمائشیں کرتے اور کہتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسے معجزات دکھائو جو فطرت انسانی کے خلاف ہوں، مثلاً آپ ﷺ آسمان پر چڑھ جائیں یا اوپر سے لکھی ہوئی کتاب لے آئیں وغیرہ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ اگر اپنے اردگرد پھیلی ہوئی تمام چیزوں کو دیکھ کر اللہ کو نہیں مانتے تو ان کا کوئی علاج نہیں کیونکہ جب ایک عقلمند انسان دنیا اور اس کی تمام چیزوں پر غور کرتا ہے تو فوراً اللہ کو پہچان لیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔
اسرار و معارف :
اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ف 2 کیا آج ہم مسلمانوں کا یہی حال ہو نہیں گیا ہے جب کوئی جنگ سیلاب قحط یا زلزلہ یا کوئی دوسری اجتماعی آفت ہم پر نازل ہوتی ہے تو کیا ہم میں وہ افراد نہیں پائے جاتے جو اسے محض مادی اسباب کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ اور سزا سمجھنے کو جہالت اور بےوقوفی قرار دیتے ہیں تفسیر احمدی جو ایک نیچری نے لکھی ہے وہ معجزات وغیرہ کے انکار کے سلسلہ میں اس قسم کی تاویلوں سے پر ہے ، (م، ع )
Read the full tafseer →(6:41) یکشف۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کشف مصدر (باب ضرب) وہ دور کرتا ہے۔
تنسون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ نسیان مصدر ۔ جس کے معنی کسی چیز کو ضبط میں نہ رکھنے کے ہیں۔ خواہ یہ ترک ضعف قلب کی وجہ سے ہو یا ازراہ غفلت۔ یا قصداً کسی چیز کی یاد بھلا دی جائے۔ حتیٰ کہ وہ دل سے محو ہوجائے۔ نسی ینسی (سمع) ۔
(جب مصیبت کا انتہائی وقت آتا ہے تو بدترین مشرک بھی اپنے دوسرے معبودوں کو بھلا کر صرف اللہ تعالیٰ کا نام ہی پکارتا ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
لغات القرآن : آیت نمبر 37 تا 41 :
نزل (نازل کیا گیا) دآ بۃ (زمین میں رینگ کر چلنے والے جاندار) طائر (پرندہ) جناحیہ (جناح) پر۔ اڑنے کے بازو) ‘ امم (امتیں۔ جماعتیں) امثالکم ( تم جیسے) من یشاء اللہ (جسے اللہ چاہتا ہے) ‘ تدعون ( تم پکارتے ہو) یکشف (وہ کھول دے گا۔ کھولتا ہے) ‘ تنسون ( تم بھول جاتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 41 :
ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ جو کفار اور مشرکین نئے نئے معجزات اور نشانیوں کی فرمائشیں کررہے ہیں ‘ یہ ایمان لانے کی خاطر نہیں بلکہ بات ٹالنے اور بہانے تراشنے کی خاطر ہے اگر ان کی فرمائش پوری کردی جائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
[20] دل پر مہر لگانے سے مراد سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کرلینا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کفر پر اصرار کئے جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
قانون ہدایت کی ہمہ گیری :
(ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ قانون ہدایت وترہیب ہمہ گیر ہے کائنات میں کوئی جاندار چیز اس سے مستثنے نہیں ۔
سب پرندے اور سب حیوان اللہ کی جانب سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ، اور اس فطری ہدایت کی وجہ سے زندہ ہیں ، چڑیا سے لے کر چیونٹی تک کے لئے بندھے ہوئے اور مقرر قانون ہیں ، جن سے سرتابی کرنا ان کے لئے ناممکن ہے ، اسی طرح حضرت انسان یعنی روحانی زندگی کے لئے اللہ کی ہدایت کا محتاج ہے ،
یعنی مکہ والوں کو بجائے معجزات کے ان حقائق پر غور کرنا چاہئے ،
بعض لوگوں نے اس آیت سے تناسخ پر استدلال کیا ہے ، مگر یہ بوجوہ غلط ہے ،
1۔ کیونکہ قرآن میں صاف صاف یوم آخرت کو بطور عقیدہ کے پیش کیا…
Read the full tafseer →-41 بلکہ تم تو اپنی عادت کے موافق صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو گے جیسا کہ روزہمرہ کسی بڑی اور اہم مصیبت کے موقعہ پر اسی کو پکارا کرتے ہو پھر جس مصیبت کے لئے اس کو پکارتے ہو اگر وہ چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور ایسے موقعہ پر ان سب کو بھول جاتے ہو جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا کرتے ہو اور جن کو خدا کا شریک قرار دیتے ہو یعنی عذاب آجائے یا قیامت تو پھر کس کو پکارو گے کیا ایسے خطرناک موقعہ پر اپنے دیوتائوں کو پکارو گے نہیں بلکہ خدا ہی کو پکارو گے جیسا روزمرہ کشتی وغیرہ میں خالص خدا کو پکارا کرتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس طوفان وغیرہ کی مصیبت کو تم سے دور کردیتا ہے اور ایسے نازک وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ف 2۔ پس اسی سے سمجھ لو کہ خدا کے سواجب کوئی قادر نہیں تو مستحق عبادت بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →غیروں کو بھول کر اس وقت تم صرف اسی کو پکارو گے اور وہ معاف فرمادے گا اگر چاہے گا :
63: زندگی میں یقیناً ایسے مشکل اوقات بھی آجاتے ہیں کہ انسان کی اصل فطرت اگرچہ وہ کتنی ہی مسخ کیوں نہ ہوچکی ہو جاگ جاتی ہے اور اصل فطرت میں چونکہ ایک ہی خدا کی شہادت موجود ہے دوسرے حاجت روا اور مشکل کشا اور سفارشی جن کو وہ مانتا ہے ان کی کوئی شہادت اس کی فطرت کے باطن میں موجود نہیں ہوتی بلکہ وہ محض خیال ہوتے ہیں اس وجہ سے جب اس کی زندگی میں کوئی ایسا مرحلہ آجاتا ہے جو اصل آزمائش کا ہوتا ہے تو انسان اپنے تمام فرضی سہاروں کو بھول جاتا ہے۔ وہ وقت ہے کہ صرف اسی کو پکارتا ہے جس کی شہادت وہ اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
The sixth verse (38): وَمَا مِن دَابَّةٍ (there is no creature moving …) tells us that, on the day of Qiyamah, animals will also be given life along with human beings. Following a narration of Sayyidna Abu Hurairah ؓ ، it has been reported by Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim and Baihaqi that, on the day of Qiyamah, all animals, beasts and birds will also be given life once again. Such will be the measure of Divine justice that a horned animal which had hit the hornless one shall be subjected to retaliation, as would be the case with others too. And when all injustices have been vindicated, all of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
29. Attention is now drawn towards another sign - one observable even in the lives of those who deny the Truth. When either some great calamity befalls a man or when death starkly stares him in the face, it is only to God that he turns for refuge. On such occasions even the staunchest polytheists forget their false gods and cry out to the One True God, and even the most rabid atheists stretch out their hands in prayer to Him. This phenomenon is mentioned here in order to draw an instructive lesson. It shows that devotion to God and monotheism are ingrained in the human soul. No matter how…
Read the full tafseer →