Explained with ayahs 40–45
سخت لوگ اور کثرت دولت
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تمام مخلوق اس کے آگے پست و لا چار ہے جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اس کا کوئی ارادہ بدلتا نہیں، اس کا کوئی حکم ٹلتا نہیں کوئی نہیں جو اس کی چاہت کے خلاف کرسکے یا اس کے حکم کو ٹال سکے یا اس کی قضا کو پھیر سکے وہ سارے ملک کا تنہا مالک ہے اس کی کسی بات میں کوئی سریک یا دخیل نہیں جو اسے مانگے وہ اسے دیتا ہے، جس کی چاہے دعا قبول فرماتا ہے پس فرماتا ہے خود تمہیں بھی ان تمام باتوں کا علم و اقرار ہے یہی وجہ ہے کہ آسمانی سزاؤں کے آ پڑنے پر تم اپنے تمام شریکوں کو بھول جاتے ہو اور صرف اللہ واحد کو پکارتے ہو، اگر تم سچے ہو کہ اللہ کے ساتھ اس کے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سورة الْاَنْعَام 27
مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں محض تماش بینی کا شوق نہیں ہے بلکہ فی الواقع یہ معلوم کرنے کے لیے نشانی دیکھنا چاہتے ہو کہ یہ نبی جس چیز کی طرف بلا رہا ہے وہ امر حق ہے یا نہیں، تو آنکھیں کھول کر دیکھو، تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ زمین کے جانوروں اور ہوا کے پرندوں کی کسی ایک نوع کو لے کر اس کی زندگی پر غور کرو۔ کس طرح اس کی ساخت ٹھیک ٹھیک اس کے مناسب حال بنائی گئی ہے۔ کس طرح اس کی جبلت میں اس کی فطری ضرورتوں کے عین مطابق قوتیں و دیعت کی گئی ہیں۔ کس طرح اس کی رزق رسانی کا انتطام ہو رہا ہے۔ کس طرح اس کی ایک تقدیر مقرر ہے جس کے حدود سے وہ نہ آگے بڑھ سکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
اور چھٹی آیت وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز انسانوں کے ساتھ تمام جانور بھی زندہ کئے جاویں گے، اور ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز تمام جانور، بہائم اور پرندے بھی دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ کا انصاف اس حد تک ہے کہ اگر کسی سینگ والے جانور نے بےسینگ کے جانور کو دنیا میں مارا تھا تو آج اس کا انتقام اس سے لیا جائے گا، (اسی طرح دوسرے جانوروں کے باہمی مظالم کا انتقام لیا جائے گا) اور جب ان کے آپس کے حقوق و مظالم کے بدلے اور انتقام ہو چکیں گے تو ان کو حکم ہوگا کہ سب مٹی ہوجاؤ، اور تمام جانور اسی وقت پھر مٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
40 تا 41۔ ارءیتم اور ارءیتکم کا محل استعمال اور مفہوم ایک ہی ہے۔ چناچہ آگے آیت 46 میں بالک اسی محل میں ارءیتم آیا ہے۔
توحید کی ایک نفسی دلیل۔ یہ مطالبہ نشانی عذاب کا جواب بھی ہے اور انسانی فطرت کے ایک خاص پہلو سے توحید کی ایک ناقابل تردید انفسی دلیل بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے کہو کہ اس طنطنہ کے ساتھ جو عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو تو اس کے مقابلہ یا اس سے بچاؤ کا کیا سامان کر رکھا ہے ؟ کون سی ناقابل تسخیر داعی لائن تم نے بنا لی کہ اس زعم کے ساتھ خدا کو چیلنج کر رہے ہو ؟ فرض کرو۔ جس عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو خدا وہی بھیج دیتا ہے یا جس قیامت سے تمہیں خبر دار کیا جا رہا ہے وہی آ دھمکتی ہے تو کون ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 1 آیات الٰہی کو جھٹلانے والے چونکہ اپنے کانوں سے حق بات سنتے نہیں اور اپنی زبانوں سے حق بات بولتے نہیں، اس لئے وہ ایسے ہی ہیں جیسے گونگے اور بہرے ہوتے ہیں، علاوہ ازیں یہ کفر اور ضلالت کی تاریکیوں میں بھی گھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے انھیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے ان کی اصلاح ہو سکے۔ پس ان کے حواس گویا مسلوب ہوگئے جن سے کسی حال میں وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے پھر فرمایا تمام اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ جسے چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر لگا دے لیکن اس کا یہ فیصلہ یوں ہی الل ٹپ نہیں ہوجاتا بلکہ عدل وانصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے گمراہ اسی کو کرتا ہے جو خود گمراہی میں پھنسا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
13: یعنی اپنے اختیار سے گمراہی کو اپنا کر انہوں نے حق سننے اور کہنے کی صلاحیت ہی ختم کرلی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ترجمہ ّ ”فی الظلمت“ کو ”صم و بکم“ سے حال قرار دینے پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی ؒ نے راجح قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
(آیت) ” نمبر 40 تا 41۔
اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے خطاب کے لئے جو وسائل استعمال فرماتے ہیں یہ اس کا ایک نمونہ ہے ۔ یہ نمونے اس سے پہلے کی لہروں میں بھی بیان کئے جا چکے ہیں اور اس کے بعد جو فقرات آ رہے ہیں ان میں بھی اس کے نمونے آئیں گے ۔ اس پوری سورة میں انسانی فطرت کو مخاطب کیا گیا ہے ۔
اس سے قبل یہ بات کہی گئی تھی کہ زندہ مخلوقات کے جہان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدبرانہ قدرت نے ان کے اندر کس قدر تنظیم پیدا کر رکھی ہے ۔ پھر ذرا دیکھو کہ اللہ کا علم کس قدر وسیع اور شامل ہے ۔ اس زیر بحث مجموعہ آیات میں اللہ کے عذاب اور آفات ناگہانی کا ذکر ہے ۔ جب یہ ناگہانی آفات وبلیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
2 جب اندھے بہرے گونگے ہو کر آیات اللہ کو جھٹلایا اور گمراہی کے عمیق غار میں جا پڑے۔ اس پر اگر دنیا میں یا قیامت میں خدا کا سخت عذاب نازل ہو تو سچ سچ بتلاؤ کہ خدا کے سوا اس وقت کسے پکارو گے۔ دنیا کی چھوٹی چھوٹی مصیبتوں میں بھی جب گھر جاتے ہو تو مجبور ہو کر اسی خدائے واحد کو پکارتے ہو اور سب شرکاء کو بھول جاتے ہو (فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ) 29 ۔ العنکبوت :65) جس پر اگر خدا چاہتا ہے تو اس مصیبت کو دور بھی کردیتا ہے اسی سے اندازہ کرلو کہ نزول عذاب یا ہول قیامت سے بچانے والا بجز خدا کے اور کون ہوسکتا ہے پھر یہ کس قدر حماقت اور اندھا پن ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
آیت 40 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَج اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
یہ بھی متجسسانہ searching انداز میں ان سے سوال کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کا معمول بھی تھا اور مشاہدہ بھی ‘ کہ جب بھی کبھی کوئی مصیبت آتی ‘ سمندر میں سفر کے دوران کبھی طوفان آجاتا ‘ موت سامنے نظر آنے لگتی تو پھر لات ‘ منات ‘ عزیٰ ‘ ہُبل وغیرہ میں سے کوئی بھی دوسراخدا انہیں یاد نہ رہتا۔ ایسے مشکل وقت میں وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ چناچہ خود ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ہر شخص ذرا اپنے دل سے پوچھے ‘ کہ آخر مصیبت کے وقت ہمیں ایک اللہ ہی کیوں یاد آتا ہے ؟ گویا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
45 جو شخص اللہ کی آیات کو جھٹلا دے اس پر ہدایت کی سب راہیں مسدود ہوجاتی ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گونگا۔ بہرا شخص گہرے اندھیروں میں ہو۔ وہ اندھیروں کی وجہ سے خود کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ بہرا ہونے کی وجہ سے ہدایت کی بات سن نہیں سکتا اور گونگا ہونے کی وجہ سے کسی سے پوچھ نہیں سکتا۔ ایسا شخص گمراہ نہ ہوگا تو کیا ہوگا ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنا رویہ بدل لے اور آیات الٰہی میں غور کرنا شروع کر دے تو پھر اللہ اسے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →64 ۔ (اپنے دعوی شرک میں) یعنی اگر تم واقعی خلوص دل کے ساتھ دوسرے معبودوں کے بھی قائل ہو۔ تو انتہائی نازک وقتوں پر انہیں کیوں پکارتے ہو ؟ (آیت) ” ان اتکم عذاب اللہ “۔ اگر تم پر عذاب الہی یک بیک آپڑے۔ جیسا کہ پچھلی قوموں پر آچکا ہے۔ مراد عذاب دنیوی کی کوئی شکل ہے۔ (آیت) ” اتتکم الساعۃ “۔ قیامت آجائے۔ جو مجموعہ ہوگی بہت سی ہولناکیوں کا۔ مراد عذاب آخرت ہے۔ (آیت) ” اغیر اللہ تدعون “۔ کیا کسی غیر اللہ کو بھی انتہائی مصیبتوں کو دور کرنے کو پکاروگے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
وَاِن کان کبُرَ عَلیْکَ اِعْراضھم (الآیۃ) مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نشان ہمیشہ رہنا چاہیے جسے ہم کوئی دیکھ کر یقین کرنے پر ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے، چونکہ آپ ﷺ تمام انسانوں خصوصاً قریش میں ہدایت پر بہت حریص تھے شاید آپ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ کاش ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے تو شاید ان کا کفر ہٹ جائے جس کی وجہ سے قوم کی ہدایت کے راستے کھل جائیں، اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تلوینیات میں مشیت۔۔۔ کے تابع رہو تکوین کا مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ تو خدا اس پر بھی قادر ہے کہ پیغمبروں کے توسط اور نشانیوں…
Read the full tafseer →قل (اے محمد ان مشرکوں سے) آپ کہہ دیں۔
ارأیتکم بھلا بتاؤ تو۔ ہمزۂ استفہام اظہار تعجب کے لئے ہے اور کاف حرف خطاب ہے اس سے رأت کے فاعل کی تاکید ہو رہی ہے۔ کاف کا اعرابی محل کچھ نہیں ہے (یعنی یہ نہ فاعل ہے نہ مفعول) بلکہ رأت کے دونوں مفعول محذوف ہیں جن پر آنے والا کلام دلالت کر رہا ہے یعنی کیا تم نے دیکھا کہ جب تم اپنے معبودوں کو پکارتے ہو تو کیا تم کو وہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔
فراء نے کہا عرب ارأیتک بولتے ہیں لیکن (اس استفہام سے) ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ہم کو بتاؤ۔
علامۂ تفتازانی نے کہا کہ ارأیت میں رویت علمی یا رویت چشمی کا سوال ہے مگر اس سے مقصود ہے طلب خبر کیونکہ آنکھوں سے دیکھنا علم کا ذریعہ ہے…
Read the full tafseer →(40) اہل مکہ ذرا اپنی حالت تو بتاؤ کہ اگر تمہیں مثلا بدر، احد، احزاب کا سامان کرنا پڑجائے یا قیامت کا عذاب تم پر آجائے تو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اس عذاب کو ٹال دے گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو کہ یہ بت سفارشی اور اللہ کی خدائی میں شریک ہیں تو اس بات کا جواب دو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَاب اللّٰهِ۔۔ : اس مضمون کو بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ بیان کیا ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (67) ، سورة زمر (38) ، سورة مومنون (84 تا 89) ، سورة لقمان (32) اور سورة یونس (22) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے زمانے کے مشرکین کا طرز عمل بیان فرمایا، مطلب یہ ہے کہ توحید انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے، وہ ماحول کے اثر سے یا آباء و اجداد کی تقلید سے شرک میں گرفتار ہوتا ہے اور غیر اللہ کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا رہتا ہے، نذر و نیاز بھی ان کے نام کی نکالتا ہے، لیکن جب آزمائش سے دو چار ہوتا ہے تو پھر سب کو بھول جاتا ہے اور فطرت ان سب پر غالب آجاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت نمبر 39 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : والذین کذبوا بایتنا صم و بکم یہ مبتدا اور خبر ہیں یعنی انہوں نے قوت سماعت اور قوت بصارت سے نفع نہ اٹھایا جانوروں میں سے ہر امت اپنے مصوں کی طرف ہدایت پاتے ہیں اور کفار ہدایت نہیں پاتے یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ فی الظلمت یعنی کفر کی تاریکیاں۔ ابوعلی نے کہا : اس کا معنی یہ ہو بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آخرت میں گونگے اور بہرے ہوں گے اس صورت میں حقیقی معنی ہوگا، مجازی معنی نہ ہوگا۔ من یشا اللہ یضللہ یہ دلیل ہے کہ اس نے کافر کی گمراہی کو چاہا اور اس نے ارادہ کیا کہ اس میں اس کا عدل نافذ ہو کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ اس نے فرمایا : آیت : ومن یشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت والذین کذبوا بایتنا صم و بکم کے بارے میں فرمایا یہ کافر کی مثال ہے جو بہرا ہے اور گونگا ہے ہدایت کو نہیں دیکھتا اور نہ اس سے نفع اٹھاتا ہے بہرا ہے حق (بات کے سننے) سے (کفر کے) اندھیروں میں ایسا بھٹکا ہوا ہے کہ اس سے نکلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابو یوسف المدنی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید کے اعتبار سے ابن آدم مجھ پر مشیت منسوخ ہے یعنی انسان کی مشیت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے اس آیت لفظ آیت من یشا اللہ یضللہ ومن یشا یجعلہ علی…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] رَءَيْتَكُمْ [ تو نے دیکھا اپنے لوگوں کو ] اِنْ [ کہ اگر ] اَتٰىكُمْ [ آئے تمہارے پاس ] عَذَابُ اللّٰهِ [ اللہ کا عذاب ] اَوْ [ یا ] اَتَتْكُمُ [ آئے تم پر ] السَّاعَةُ [ قیامت ] ا [ تو کیا ] اَغَيْرَ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ (کسی ) کو ] تَدْعُوْنَ ۚ [ تو لوگ پکاروگے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ]
Read the full tafseer →مصیبت میں صرف اللہ کو پکارتے ہو :
اس کے بعد ارشاد فرمایا (قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَاب اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (کہ آپ ان سے دریافت فرمائیے کہ تم لوگ جو توحید سے ہٹ رہے ہو اور شرک پر جمے ہوئے ہو۔ اگر تمہارے پاس عذاب دنیاوی پہنچ جائے یا قیامت آجائے تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ ) ۔
ایسا نہیں ہے بلکہ جب مصیبت پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہوتے ہو اور صرف اسی سے دفع مصائب کا سوال کرتے ہو۔ اس وقت معبود ان باطلہ کو بھول جاتے ہو۔ اگر تم سچے ہو کہ معبود ان باطل کی عبادت سے نفع پہنچتا ہے تو ان کو چھوڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
اثبات توحید۔
قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔
ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…
Read the full tafseer →47 یہ توحید پر چھٹی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ امام فراء کہتے ہیں کہ اَرَءَیْتَ دو معنوں میں مستعمل ہے اول رویت عین۔ دوم بمعنی اَخْبِرْنِیْ مثلاً کہا جاتا ہے اَرَاَیْتَکَ ای اخبرنی۔ اس صورت میں ضمیرثانی خواہ واحد ہی کی ہو (ک) یا تثنیہ (کما) اور جمع (کم) کی ہواعراب میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا (اور اس کی حیثیت محض ایک حرف کی ہوتی ہے جو مخاطب کی حالت افراد اور تثنیہ و جمع کا اظہار کرتا ہے) (من الکبیر ج 4 ص 63) علامہ رضی لکھتے ہیں کہ یہاں رویت بصری ہے یا قلبی اور ارایت بمعنی ابصرت ہے یا بمعنی عرفت اور صرف ایک مفعول کو چاہتا ہے ( جو یہاں حالکم محذوف ہے) اور مجازاً اخبرنی (مجھے بتا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
توحید ‘ رسالت اور معاد کے انکار اور پیغمبر اسلام سے نشانیاں طلب کرنے کا سلسلہ کئی دروس سے بیان ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منکرین کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی ‘ جیسا کہ پہلے انبیاء کرتے رہے ہیں اور نشانیوں کے متعلق فرمایا کہ اگر ان کو حسب خواہش نشانی مہیا بھی کردی جائے تو پھر بھی یہ انکار ہی کریں گے۔ آج کی آیات میں بھی مشرکین کی طرف سے نشانیاں طلب کرنے کا ہی ذکر ہے اور پھر اس ضمن میں حضور ﷺ کو بعض ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وقالوا لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ ان منکرین نے کہا کیوں نہیں اتاری جاتی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے۔ اور نشانی سے مراد ان کے نزدیک ایسی نشانی ہے…
Read the full tafseer →قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللہِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَۃُ اَغَيْرَ اللہِ تَدْعُوْنَ 0ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 40
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث : بالتّفكّر،
نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] .
والرابع : بالعقل،
وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
2 ؎ یعنی جس طرح بنی آدم کے گروہوں کے جدا جدا نام اوراقسام ہیں اسی طرح ان کے بھی چیونٹی ‘ سانپ ‘ بچھو ‘ چیل ‘ چڑیا ‘ کوا ہر ایک جنس اور نوع جدا ہے اور اس طرح ان کے بھی رزق اور اجل مقرر ہے اور اسی طرح ان کو بھی ان کے انواع کے مفید علوم انعام ہوئے ہیں۔ حشرات الارض زمین میں مناسب مواقع پر بل اور سوراخ بناتے ہیں۔ پر نداونچے اونچے درختوں میں کس خوبی سے گھونسلے بناتے ہیں کہ جس سے عقلاء کی عقل کی دنگ ہوجاتی ہے۔ پھر جب حیوانات پر ہماری یہ عنایت ہے تو نوع انسان کو ہم امور آخرت سے کیونکر بےبہرہ چھوڑ دیتے۔ جہاں نہ عقلاء و حکماء کی عقل پوری رہنمائی کرسکتی ہے اس لئے ہم نے انبیاء بھیجے اور سب سے اخیر اس نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ارشاد فرمایا :
قُلْ اَرَئَیْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللہِ اَوْ اَتَتْکُمْ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللہِ تَدْعُوْنَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہٖ اِنْ شَآئَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 40۔ 41)
(ذرا غور کر کے بتائو ! اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی عذاب آئے یا قیامت تم پر آپہنچے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ بولو اگر تم سچے ہو۔ اس وقت تم اللہ ہی کو پکارو گے پھر وہ اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دے گا۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو )
توحید ہر نفس کے اندر موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ :
صحیح العقیدہ شخص عسر، یسر، بیماری، تندرستی، مشکل اور خوشحالی یعنی ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے مشکل کشائی کی تمنا اور آرزو کرتا ہے اس کے مقابلے میں باطل عقیدہ کا حامل انسان آسانی کے وقت اللہ کے سوا دوسروں سے رجوع کرتا ہے اور جب مسائل کے گرداب میں پھنس جائے تو ہر طرف سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کو صدائیں دیتا ہے اس کی اسی عادت کے پیش نظر نبی اکرم ﷺ کو فرمایا گیا ہے کہ آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹے یا تم پر ناگہانی کوئی مصیبت اور قیامت آن پڑے اگر تم واقعی اپنے عقیدے میں سچے ہو تو کیا پھر بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو…
Read the full tafseer →کیا مصیبت کے وقت غیر اللہ کو پکارو گے :
آیت 40 : قُلْ اَرَئَ یْتَکُمْ قراءت : مدنی نے ہمزہ کو لین کے ساتھ پڑھا ہے۔ جبکہ علی نے ترک ہمزہ سے پڑھا مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ معاملہ اسی طرح ہے جیسا تمہیں کہا جاتا ہے۔ پس جو بات تمہاری طرف سے ہو وہ بتلائو۔ ضمیر ثانی کا کوئی محل اعراب نہیں۔ اور تا ضمیر فاعلی ہے۔ اور استخبار کا متعلق محذوف ہے أرأیتکم۔ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ تو کس کو پکارو گے ؟ پھر یہ کہہ کر لاجواب کردیا۔ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَیعنی تم اپنے معبودوں کو فقط پکارو گے۔ جیسا کہ تمہاری عادت ثانیہ ہے۔ جب تمہیں کوئی تکلیف پیش آتی ہے یا پھر ان…
Read the full tafseer →-40 (قل ارئیتکم) کیا تم دیکھتے ہو ؟ یہاں کاف تاکید کے لئے ہے اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ عرب ” ارایتک “ کا لفظ بولتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ ہمیں خبر دو قراء اھل مدینہ ارأیتکم وأرأیتم وأرأیت دونوں ہمزہ کے ساتھ پڑھنے ہیں کسائی ان دونوں ہمزوں کے محذوف کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے محمد آپ ان مشرکوں سے کہہ دیں بھلا بتائو تو (ان اتکم عذاب اللہ) موت سے پہلے (ائو اتتکم الساعۃ) یعنی قیامت کا دن (اغیر اللہ تدعون) اپنے سے عذاب ہٹانے کے لئے (ان کنتم صدقین) مراد یہ ہے کہ اضطراری حالت میں کفار اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں جیسے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ (واذا غشیھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
آیت 40
(قل) اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے والے مشرکین سے کہہ دیجیے (ارئیتکم ان اتکم عذاب اللہ واتتکم الساعۃ اغیر اللہ تدعون ان کنتم صدقین) ” بھلا بتلاؤ، اگر تمہارے پاس اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت آجائے، تو کیا تم اللہ کے سوا اوروں کو پکارو گے، اگر تم سچے ہو ؟ “ یعنی جب تم ان تکالیف اور کرب و غم میں مبتلا ہوتے ہو اور تم ان کو ہٹانے پر مجبور ہوتے ہو، تب اس وقت تم اپنے خداؤں اور بتوں کو پکارتے ہو یا تم اپنے رب بادشاہ حقیقی کو پکارتے ہو ؟ (بل ایاہ تدعون فیکشف ماتدعون الیہ ان شآء و تنسون ماتشرکون) ” بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو، پھر وہ دور کردیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لئے اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہے…
Read the full tafseer →65 مشرکوں سے ایک فیصلہ کن سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کیا مصیبت کے ایسے موقع پر تم لوگ اللہ کے سوا اور کسی کو پکارتے ہو ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو ؟۔ یعنی اگر تم سچے ہو اپنی اس بات میں کہ تمہارے یہ خود ساختہ معبود تمہارے حاجت روا و مشکل کشا ہیں۔ اور جب سختی کے ایسے مواقع میں تم ان کو نہیں پکارتے اور یہ تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے تو پھر تم نے ان کو آخر معبود قرار کیوں دے رکھا ہے ؟ اور تم ان کو پوجتے پکارتے کیوں ہو ؟ افسوس کا مقام ہے آج کا کلمہ گو مشرک ایسے وقت میں بھی غیر اللہ ہی کو پکارتا ہے اور کہتا ہے " بہاء الحق بیڑا دھک "، " خواجہ اجمیری پار لگا دے کشتی میری "، " یا پیر دستگیر "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
مشرکین مکہ کا مطالبہ اور مصیبت میں اللہ کو یاد کرنا
تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو پوری طرح کفر کے قبضہ میں آچکے تھے اور نبی اکرم ﷺ کو ہر وقت تنگ کرتے تھے ان کی پوری طرح مخالفت کرتے اور الٹی سیدھی فرمائشیں کرتے اور کہتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسے معجزات دکھائو جو فطرت انسانی کے خلاف ہوں، مثلاً آپ ﷺ آسمان پر چڑھ جائیں یا اوپر سے لکھی ہوئی کتاب لے آئیں وغیرہ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ اگر اپنے اردگرد پھیلی ہوئی تمام چیزوں کو دیکھ کر اللہ کو نہیں مانتے تو ان کا کوئی علاج نہیں کیونکہ جب ایک عقلمند انسان دنیا اور اس کی تمام چیزوں پر غور کرتا ہے تو فوراً اللہ کو پہچان لیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔
اسرار و معارف :
اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی اپنے اس دعوی میں کہ جن کہ تم اللہ کے سوا پکاتے ہو وہ تم پر آئی ہو بلاٹال سکتے ہیں۔ یہ تو ان کفارو مشرکین کا حال تھا لیکن آج خود مسلمانوں نے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو سخت میں بھی نعرہ لگاتے ہیں تو یاعلی، یا غوث اعظم اور یارسول اللہ کا گویا ان کی حالت کفا رو مشرکین سے بھی بدتر ہے۔
Read the full tafseer →(6:40) ارئیتکم۔ اخبرونی۔ مجھے بتاؤ۔ بھلا بتاؤ تو۔
اَ ۔ ہمزہ استفہام۔ رایت فعل یا فاعل جس میں ت فاعل ہے۔ اس کے بعد ک ۔ کما ۔ کم خطاب کے لئے ہیں۔ اور محض ضمیر فاعل کی تاکید کے لئے لائے جاتے ہیں۔ ت کو حالت تثنیہ۔ جمع اور تانیث میں اس کی حالت پر چھوٹ دیا جاتا ہے۔ اور ان حالتوں میں بجائے ت کے ک میں حسب مقام تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اگر ک۔ کما۔ کم برائے تاکید نہ لائے جائیں تو ت میں ضمیر کے مطابق تبدیلی ہوجائے گی۔ مثلاً ارایت الذی ینھی (96:9) کیا تم نے اس شخص کے حال پر نظر کی جو منع کرتا ہے۔
اور قل ارایتم ما تدعون (45:4) (اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہو کہ بھلا دیکھو تو سہی کہ جن کو تم (اللہ کے سوا) پکارتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
لغات القرآن : آیت نمبر 37 تا 41 :
نزل (نازل کیا گیا) دآ بۃ (زمین میں رینگ کر چلنے والے جاندار) طائر (پرندہ) جناحیہ (جناح) پر۔ اڑنے کے بازو) ‘ امم (امتیں۔ جماعتیں) امثالکم ( تم جیسے) من یشاء اللہ (جسے اللہ چاہتا ہے) ‘ تدعون ( تم پکارتے ہو) یکشف (وہ کھول دے گا۔ کھولتا ہے) ‘ تنسون ( تم بھول جاتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 41 :
ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ جو کفار اور مشرکین نئے نئے معجزات اور نشانیوں کی فرمائشیں کررہے ہیں ‘ یہ ایمان لانے کی خاطر نہیں بلکہ بات ٹالنے اور بہانے تراشنے کی خاطر ہے اگر ان کی فرمائش پوری کردی جائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
[20] دل پر مہر لگانے سے مراد سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کرلینا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کفر پر اصرار کئے جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
قانون ہدایت کی ہمہ گیری :
(ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ قانون ہدایت وترہیب ہمہ گیر ہے کائنات میں کوئی جاندار چیز اس سے مستثنے نہیں ۔
سب پرندے اور سب حیوان اللہ کی جانب سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ، اور اس فطری ہدایت کی وجہ سے زندہ ہیں ، چڑیا سے لے کر چیونٹی تک کے لئے بندھے ہوئے اور مقرر قانون ہیں ، جن سے سرتابی کرنا ان کے لئے ناممکن ہے ، اسی طرح حضرت انسان یعنی روحانی زندگی کے لئے اللہ کی ہدایت کا محتاج ہے ،
یعنی مکہ والوں کو بجائے معجزات کے ان حقائق پر غور کرنا چاہئے ،
بعض لوگوں نے اس آیت سے تناسخ پر استدلال کیا ہے ، مگر یہ بوجوہ غلط ہے ،
1۔ کیونکہ قرآن میں صاف صاف یوم آخرت کو بطور عقیدہ کے پیش کیا…
Read the full tafseer →-40 آپ ان سے فرمائیے بھلا مجھ کو یہ بتو بتائو اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب آجائے یا تم وہ ٓخری گھڑی یعنی قیامت آ جائیتو کیا تم پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو پکارو گے بتلائو اگر تم سچے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 1۔ کیونکہ ہر کفر ایک ظلمت ہے ان کا اعراض چونکہ صم وعدم سماع کا حاصل ہے ایک کفر ہے ان کا کفریات بکنا جو کہ بکم سے مقصود ہے ایک کفر ہے اور یہ خود کئی مرتبہ ہوتا ہے اس لیے بہت سی ظلمتیں ہوگئیں۔
Read the full tafseer →جب اللہ کا عذاب تم کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا اس وقت بھی تم غیر اللہ کو پکارو گے ؟ :
62: لفظ ” اَرَءَیْتَكُمْ ‘ ‘ پر مفسرین نے بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ لفظ کی ترکیب پر بھی اور اس کے معانی پر بھی۔ اپنا خیال یہ ہے کہ اَرَءَیْتَكُمْ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ” ارایتم “ ہے جیسا کہ آگے چل کر اس سورت کی آیت 46 میں آرہا ہے فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کیا تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر آجائے یا آنے والی گھڑی یعنی موت سامنے آگھڑی تو اس وقت بھی تم اللہ کے سوا دوسروں کو پکارو گے ؟ “ جس کو استفہام انکاری کے نام سے پکارا جاتا ہے یعنی یقیناً ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان دونوں نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
The sixth verse (38): وَمَا مِن دَابَّةٍ (there is no creature moving …) tells us that, on the day of Qiyamah, animals will also be given life along with human beings. Following a narration of Sayyidna Abu Hurairah ؓ ، it has been reported by Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim and Baihaqi that, on the day of Qiyamah, all animals, beasts and birds will also be given life once again. Such will be the measure of Divine justice that a horned animal which had hit the hornless one shall be subjected to retaliation, as would be the case with others too. And when all injustices have been vindicated, all of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
27. If they are concerned with miraculous signs in order to determine whether or not the message of the Prophet (peace be on him) is indeed true, then, let them look around with open and attentive eyes. If they actually do so they will find the world full of such signs. Let them take any species of animal or bird they like. They can reflect upon the superbness of its organic structure. They will notice how its instinctive urges are in complete conformity with its natural requirements. They will also observe how wonderfully adequate are the arrangements for providing it with nourishment; how…
Read the full tafseer →