Explained with ayahs 37–39
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہوجانا وغیرہ، فرماتا ہے کہ قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں۔ اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کردیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کرسکتے ہیں، چرنے چگنے والے جانور اڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سورة الْاَنْعَام 27
مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں محض تماش بینی کا شوق نہیں ہے بلکہ فی الواقع یہ معلوم کرنے کے لیے نشانی دیکھنا چاہتے ہو کہ یہ نبی جس چیز کی طرف بلا رہا ہے وہ امر حق ہے یا نہیں، تو آنکھیں کھول کر دیکھو، تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ زمین کے جانوروں اور ہوا کے پرندوں کی کسی ایک نوع کو لے کر اس کی زندگی پر غور کرو۔ کس طرح اس کی ساخت ٹھیک ٹھیک اس کے مناسب حال بنائی گئی ہے۔ کس طرح اس کی جبلت میں اس کی فطری ضرورتوں کے عین مطابق قوتیں و دیعت کی گئی ہیں۔ کس طرح اس کی رزق رسانی کا انتطام ہو رہا ہے۔ کس طرح اس کی ایک تقدیر مقرر ہے جس کے حدود سے وہ نہ آگے بڑھ سکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
اور چھٹی آیت وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز انسانوں کے ساتھ تمام جانور بھی زندہ کئے جاویں گے، اور ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز تمام جانور، بہائم اور پرندے بھی دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ کا انصاف اس حد تک ہے کہ اگر کسی سینگ والے جانور نے بےسینگ کے جانور کو دنیا میں مارا تھا تو آج اس کا انتقام اس سے لیا جائے گا، (اسی طرح دوسرے جانوروں کے باہمی مظالم کا انتقام لیا جائے گا) اور جب ان کے آپس کے حقوق و مظالم کے بدلے اور انتقام ہو چکیں گے تو ان کو حکم ہوگا کہ سب مٹی ہوجاؤ، اور تمام جانور اسی وقت پھر مٹی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا صُمٌّ وَّبُكْمٌ فِي الظُّلُمٰتِ۔ بایتنا میں ایات سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کو جھٹلا رہے ہیں ان کی مثال ایسے گونگے اور بہرے لوگوں کی ہے جو گونگے بہرے ہونے کے ساتھ تاریکی میں گھرے ہوئے بھی ہیں، نہ سن سکتے ہیں نہ کسی کو پکار رسکتے نہ کسی پکارنے والے کی بات کا جواب دے سکتے، نہ کسی کے اشارے کو دیکھ سکتے، نہ کسی نشانی سے رہنمائی حاصل کرسکتے، ایسے اندھے بہرے لوگوں کا کیا علاج ؟
مَنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضْلِلْهُ الایہ میں، جیسا کہ ہم مختلف مواقع میں واضح کرچکے ہیں، اس سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت کسی کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 1 آیات الٰہی کو جھٹلانے والے چونکہ اپنے کانوں سے حق بات سنتے نہیں اور اپنی زبانوں سے حق بات بولتے نہیں، اس لئے وہ ایسے ہی ہیں جیسے گونگے اور بہرے ہوتے ہیں، علاوہ ازیں یہ کفر اور ضلالت کی تاریکیوں میں بھی گھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے انھیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے ان کی اصلاح ہو سکے۔ پس ان کے حواس گویا مسلوب ہوگئے جن سے کسی حال میں وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے پھر فرمایا تمام اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ جسے چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر لگا دے لیکن اس کا یہ فیصلہ یوں ہی الل ٹپ نہیں ہوجاتا بلکہ عدل وانصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے گمراہ اسی کو کرتا ہے جو خود گمراہی میں پھنسا ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
13: یعنی اپنے اختیار سے گمراہی کو اپنا کر انہوں نے حق سننے اور کہنے کی صلاحیت ہی ختم کرلی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ترجمہ ّ ”فی الظلمت“ کو ”صم و بکم“ سے حال قرار دینے پر مبنی ہے جسے علامہ آلوسی ؒ نے راجح قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔
حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔
یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے…
Read the full tafseer →7 نہ کہنے والے کی سنتے ہیں نہ خود دوسرے سے پوچھتے ہیں اور نہ اندھیرے میں کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ جب سب قویٰ اپنی بےاعتدالیوں سے بیکار کر لئے تو حق کی تصدیق و قبول کا کیا ذریعہ ہو ؟
1 گمراہ کرنا اسی کو چاہتا ہے جو خود ذرائع ہدایت کو اپنے اوپر مسدود کرلیتے ہیں (وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ) 7 ۔ الاعراف :176)
Read the full tafseer →آیت 39 وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّبُکْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ ط مَنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضْلِلْہُط وَمَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اللہ گمراہ کردیتا ہے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی گمراہی پر مہر تصدیق ثبت کردیتا ہے ‘ اس کی گمراہی کا فیصلہ کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
45 جو شخص اللہ کی آیات کو جھٹلا دے اس پر ہدایت کی سب راہیں مسدود ہوجاتی ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی گونگا۔ بہرا شخص گہرے اندھیروں میں ہو۔ وہ اندھیروں کی وجہ سے خود کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ بہرا ہونے کی وجہ سے ہدایت کی بات سن نہیں سکتا اور گونگا ہونے کی وجہ سے کسی سے پوچھ نہیں سکتا۔ ایسا شخص گمراہ نہ ہوگا تو کیا ہوگا ؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنا رویہ بدل لے اور آیات الٰہی میں غور کرنا شروع کر دے تو پھر اللہ اسے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →63 ۔ (آیت) ” صم “۔ یعنی سماع حق سے بہرے، (آیت) ” بکم “۔ یعنی کلام حق سے گونگے (آیت) ” فی الظلمت “۔ صیغہ جمع اس لئے کہ ہر اعراض بجائے خود ایک تاریکی ہے۔ اور ہر تاریکی کفر ہے۔ (آیت) ” من یشا اللہ “۔ من یشا “۔ دونوں جگہ قانون مشیت تکوینی کا بیان ہے۔ (آیت) ” یضللہ “۔ یہ اضلال حق کی طرف سے، بندوں کے اعراض ارادی پر الزاما مرتب ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
وَاِن کان کبُرَ عَلیْکَ اِعْراضھم (الآیۃ) مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نشان ہمیشہ رہنا چاہیے جسے ہم کوئی دیکھ کر یقین کرنے پر ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے، چونکہ آپ ﷺ تمام انسانوں خصوصاً قریش میں ہدایت پر بہت حریص تھے شاید آپ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ کاش ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے تو شاید ان کا کفر ہٹ جائے جس کی وجہ سے قوم کی ہدایت کے راستے کھل جائیں، اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تلوینیات میں مشیت۔۔۔ کے تابع رہو تکوین کا مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ تو خدا اس پر بھی قادر ہے کہ پیغمبروں کے توسط اور نشانیوں…
Read the full tafseer →والذین کذبوا بایتنا صم وبکم اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وہ بہرے ہیں (واضح نشاناتِ حق کی آواز نہیں سنتے) گونگے ہیں کلمۂ حق ان کی زبانوں پر نہیں آتا۔
فی الظلمت تاریکیوں میں اندھے ہوئے ہیں یعنی کفر جہالت عناد اور اسلاف پرستی کے اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں۔
آیات قدرت سے کسی کا ہدایت یاب ہونا یا نہ ہونا اللہ کی مشیت پر موقوف ہے وہی جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے آگے فرمایا۔
من یشآء اللہ یضللہ ومن یشا یجعلہ علی صراط مستقیم اللہ جس کی گمراہی چاہتا ہے اس کو گمراہ کردیتا ہے اور جس کو ہدایت یاب کرنا چاہتا ہے اس کو سیدھے راستہ پر دیتا ہے اور یہ راستہ اس کو حق تک پہنچا…
Read the full tafseer →(39) اور جو لوگ رسول اکرم محمد ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کررہے ہیں، وہ اپنے دلوں سے یہ حق بات کو سننے سے بہرے اور حق کی بات کہنے سے گونگے ہورہے ہیں کفر میں گرفتار ہیں، وہ ذات جس کو چاہے کفر پر موت دے اور جس کو چاہے اپنے پسندیدہ راستہ پر استقامت عطا کرے یا یہ کہ جس کو چاہے ذلیل کرے اور جس کو چاہے ہدایت دے اور صراط مستقیم پر چلائے یعنی دین اسلام کی توفیق عطا فرما دے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۔۔ : یعنی ہماری آیات کو جھٹلانے والے چونکہ حق بات نہ سنتے ہیں، نہ ان کی زبانوں سے حق بات نکلتی ہے، اس لیے وہ بہرے اور گونگے ہیں اور کفر و شرک اور نفس کی بےجا خواہشوں کے اندھیروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہی بات سورة بقرہ (17، 18) اور سورة نور (46) میں بیان ہوئی ہے۔
ۭمَنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضْلِلْهُ ۭ۔۔ : مگر وہ گمراہ انھی کو کرتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کو صحیح استعمال نہیں کرتے۔ دیکھیے سورة بقرہ (26، 27) اور سورة اعراف (176) اور ہدایت انھی کو دیتا ہے جو اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ دیکھیے سورة شوریٰ (11)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت نمبر 39 تا 41 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : والذین کذبوا بایتنا صم و بکم یہ مبتدا اور خبر ہیں یعنی انہوں نے قوت سماعت اور قوت بصارت سے نفع نہ اٹھایا جانوروں میں سے ہر امت اپنے مصوں کی طرف ہدایت پاتے ہیں اور کفار ہدایت نہیں پاتے یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ فی الظلمت یعنی کفر کی تاریکیاں۔ ابوعلی نے کہا : اس کا معنی یہ ہو بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آخرت میں گونگے اور بہرے ہوں گے اس صورت میں حقیقی معنی ہوگا، مجازی معنی نہ ہوگا۔ من یشا اللہ یضللہ یہ دلیل ہے کہ اس نے کافر کی گمراہی کو چاہا اور اس نے ارادہ کیا کہ اس میں اس کا عدل نافذ ہو کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ اس نے فرمایا : آیت : ومن یشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت والذین کذبوا بایتنا صم و بکم کے بارے میں فرمایا یہ کافر کی مثال ہے جو بہرا ہے اور گونگا ہے ہدایت کو نہیں دیکھتا اور نہ اس سے نفع اٹھاتا ہے بہرا ہے حق (بات کے سننے) سے (کفر کے) اندھیروں میں ایسا بھٹکا ہوا ہے کہ اس سے نکلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابو یوسف المدنی (رح) سے روایت کیا کہ قرآن مجید کے اعتبار سے ابن آدم مجھ پر مشیت منسوخ ہے یعنی انسان کی مشیت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے اس آیت لفظ آیت من یشا اللہ یضللہ ومن یشا یجعلہ علی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] صُمٌّ [ بہرے ہیں ] وَّبُكْمٌ [ اور گونگے ہیں ] فِي الظُّلُمٰتِ ۭ [ (وہ لوگ) اندھیروں میں ہیں ] مَنْ [ جس کو ] يَّشَاِ [ چاہتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] يُضْلِلْهُ ۭ [ (تو) وہ گمراہ کرتا ہے اس کو ] وَمَنْ [ اور جس کو ] يَّشَاْ [ وہ چاہتا ہے ] يَجْعَلْهُ [ (تو ) وہ ڈالتا ہے اس کو ] عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے پر (39)]
Read the full tafseer →تکذیب کرنے والے بہرے اور گونگے ہیں :
پھر فرمایا (وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُکْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ ) (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا گونگے اور بہرے ہیں اندھیروں میں ہیں) کفر کی تمام انواع کے اعتبار سے الظلمت (اندھیریاں) جمع کے صیغہ کے ساتھ فرمایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہل کی ظلمت اور عناد کی ظلمت اور تقلید باطل کی ظلمت مراد ہو۔ کما قال صاحب الروح۔ (مَنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضْلِلْہُ ) (جسے اللہ چاہے گمراہ کرے) (وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) (اور جسے چاہے صراط مستقیم پر ڈال دے) اس میں بھی رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ کے ذمہ جو کام ہے کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–39
تسلی نبی اکرم ﷺ وتلقین صبر۔
قال اللہ تعالی، قد نعلم انہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں منکروں کے انکار اور تکذیب کا بیان تھا جس سے نبی کو بمقتضائے شفقت ورافت صدمہ اور رنج ہوتا تھا کماقال تعالی، لعلک باخع نفسک علی۔۔۔ الی۔۔۔ اسفا، وقال تعالی، فلاتذہب نفسک علیھم حسرات۔ آیت۔ لہذا اللہ جل شانہ ان آیات میں نبی کی تسلی اور تشفی فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ ان لوگوں کی تکذیب سے رنجیدہ اور ملول نہ ہو یہ تکذیب کرنے والے آپ کی تکذیب کررہے ہیں بلکہ فی الحقیقت اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جھٹلا رہے ہیں خدا تعالیٰ خود ہی ان کو سمجھ لے گا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں اور آپ کو تو انبیاء…
Read the full tafseer →46 یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے زجر ہے۔ یعنی جو لوگ ضد وعناد کی وجہ سے آیات الٰہی کو جھٹلاتے ہیں ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ جاتی ہے اور وہ کفر و شرک کے اندھیروں میں سرگرداں پھرتے ہیں نہ حق سن سکتے ہیں اور نہ حق بات کہہ سکتے ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جب منکرین ضد وعناد کی وجہ سے حق کا انکار کرتے ہیں تو حق تعالیٰ ان سے فہم کی استعداد سلب کرلیتا ہے اور ان کے دلون پر مہر جباریت ثبت کردیتا ہے لیکن جسے چاہتا ہے یعنی جو لوگ انابت کرتے ہیں تو ان کو قبول حق کی استعداد عطا فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
توحید ‘ رسالت اور معاد کے انکار اور پیغمبر اسلام سے نشانیاں طلب کرنے کا سلسلہ کئی دروس سے بیان ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منکرین کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی ‘ جیسا کہ پہلے انبیاء کرتے رہے ہیں اور نشانیوں کے متعلق فرمایا کہ اگر ان کو حسب خواہش نشانی مہیا بھی کردی جائے تو پھر بھی یہ انکار ہی کریں گے۔ آج کی آیات میں بھی مشرکین کی طرف سے نشانیاں طلب کرنے کا ہی ذکر ہے اور پھر اس ضمن میں حضور ﷺ کو بعض ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وقالوا لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ ان منکرین نے کہا کیوں نہیں اتاری جاتی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے۔ اور نشانی سے مراد ان کے نزدیک ایسی نشانی ہے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا صُمٌّ وَّبُكْمٌ فِي الظُّلُمٰتِ 0ۭ مَنْ يَّشَاِ اللہُ يُضْلِلْہُ 0ۭ وَمَنْ يَّشَاْ يَجْعَلْہُ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ 39
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
صمم
الصَّمَمُ : فقدانُ حاسّة السّمع، وبه يوصف من لا يُصغِي إلى الحقّ ولا يقبله . قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
2 ؎ یعنی جس طرح بنی آدم کے گروہوں کے جدا جدا نام اوراقسام ہیں اسی طرح ان کے بھی چیونٹی ‘ سانپ ‘ بچھو ‘ چیل ‘ چڑیا ‘ کوا ہر ایک جنس اور نوع جدا ہے اور اس طرح ان کے بھی رزق اور اجل مقرر ہے اور اسی طرح ان کو بھی ان کے انواع کے مفید علوم انعام ہوئے ہیں۔ حشرات الارض زمین میں مناسب مواقع پر بل اور سوراخ بناتے ہیں۔ پر نداونچے اونچے درختوں میں کس خوبی سے گھونسلے بناتے ہیں کہ جس سے عقلاء کی عقل کی دنگ ہوجاتی ہے۔ پھر جب حیوانات پر ہماری یہ عنایت ہے تو نوع انسان کو ہم امور آخرت سے کیونکر بےبہرہ چھوڑ دیتے۔ جہاں نہ عقلاء و حکماء کی عقل پوری رہنمائی کرسکتی ہے اس لئے ہم نے انبیاء بھیجے اور سب سے اخیر اس نبی…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّوَّ بُکْمٌفِی الظُّلُمٰتِ ط مَنْ یَّشَاِ اللہ ُ یُضْلِلْہٗ ط وَمَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الانعام : 39)
(اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا یہ بہرے اور گونگے تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے ‘ اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے)
کچھ لوگوں میں قبول حق کی صلاحیت سلب ہوجاتی ہے
یعنی یہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کی انتہائی موثر دعوت اور قرآن کریم کا معجزانہ بیان اور کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی نشانیاں دیکھ کر راہ ہدایت اختیار نہیں کرتے بلکہ ان کا انکار عناد کی صورت اختیار کر گیا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حقیقت کا بار بار انکار کرنے کی وجہ سے منکرین کی حالت کا بیان۔
قیامت کو جھٹلانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والے بہرے، گونگے ہونے، اور اندھیروں میں ٹامک ٹویاں مارنے کی وجہ سے درندوں اور پرندوں سے بھی کم تر ہیں۔ حقائق کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تکذیب کرنے کی وجہ سے انسان بالآخر چلتی پھرتی لاش کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ جس طرح مردہ سن سکتا ہے اور نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی اسے سردی گرمی، روشنی اور اندھیرے کا احساس ہوتا ہے بالکل یہی حالت ان لوگوں کی ہوجاتی ہے جو حق سننے اور سچ بیان کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ان لوگوں کی بری خصلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →قدرت تو ظاہر مگر یہ غافل و بےبہرے ہیں :
آیت 39 : جب اللہ تعالیٰ کی مخلوقات اور آثار قدرت کا ذکر کیا جو کہ ربوبیت حق تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں اور اس کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ تو فرمایا۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّوہ تنبیہ کرنے والے کے کلام کو سنتے ہی نہیں۔ وَّبُکْمٌوہ حق بات کہتے نہیں۔ فِی الظُّلُمٰتِ اور جہالت و حیرت کے اندھیروں میں ہاتھ پائوں مار رہے ہیں اور سوچ و بچار سے غافل ہیں۔ : والذین کذبوا۔ یہ مبتداء ہے اور صمٌ و بکمٌ اس کی خبر ہے۔ وائو کا داخل ہونا اس کیلئے رکاوٹ نہیں۔ اور فِی الظُّلُمٰتِ ، یہ خبرثانی ہے پھر ان کو مطلع کیا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ مَنْ…
Read the full tafseer →تفسیر :-39 (والذین کذبوا بایتنا صم و بکم) نہ خیر کی بات سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں (فی الظلمت) کفر کے اندھیروں میں (من یشا اللہ یضللہ ط ومن یشا یجعلہ علی صراط مستقیم) اور وہ اسلام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
(37 ۔ 39) ۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ میں سے جو لوگ علم ازلی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں کوئی معجزہ مفید نہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ ان میں کے بعض جلد باز سرکش لوگ گھڑ ی گھڑی معجزہ کا تقاضا جو کرتے ہیں ان کو جواب دیا جاوے کہ اللہ کی قدرت سے تو کوئی معجزہ بعید نہیں ہے لیکن عادت الٰہی کے یوں جاری ہے کہ کسی قوم کی خواہش کے موافق اللہ کے رسول سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا اور پھر وہ قوم راہ راست پر نہ آوے تو قوم ثمود کی طرح وہ قوم غارت ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ اس عادت الٰہی سے واقف نہیں اس لئے یہ گھڑی گھڑی معجزہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ لوگ قدرت الٰہی کا نمونہ دیکھنے کے لئے معجزہ چاہتے ہیں…
Read the full tafseer →آیت 39
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا حال بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ پر ہدیات کے دروازے بند کر کے ہلاکت کے دروازے کھول لئے اور وہ (صم) ” بہرے “ یعنی حق سننے سے بہرے ہیں (وبکم) ” اور گونگے “ یعنی حق بولنے سے گونگے ہیں، پس باطل کے سوا کچھ نہیں بولتے۔ (فی الظلمت) ” اندھیروں میں “ یعنی جہالت، کفر، ظلم، عناد اور نافرمانی کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا ان کو گمراہ کردینا ہے، کیونکہ (من یشاء اللہ یضللہ ومن یشا یجمعلہ علی صراط مستقیم) ” وہ جس کو چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے۔ “ کیونکہ…
Read the full tafseer →62 اللہ کی آیتوں کی تکذیب کا انجام بڑا ہی ہولناک۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو وہ بہرے اور گونگے ہیں طرح طرح کی تاریکیوں میں پڑے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ پاک کی آیتوں کو جھٹلانا انسان کو کس ھاویے میں گرا دیتا ہے اور اس کو کس قدر مہیب انجام سے دو چار کردیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد انسان کو نہ اپنی منزل کا پتہ نہ منزل تک پہنچنے والی راہ سے آگاہی۔ نہ اس کو اپنے مقصد حیات کے بارے میں کوئی علم و آگاہی۔ محض بطن و فرج کی شہوات کی تعمیل کیلئے جینے لگتا ہے اور اس طرح ایک حیوان محض بن کر رہ جاتا ہے۔ بلکہ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
مشرکین مکہ کا مطالبہ اور مصیبت میں اللہ کو یاد کرنا
تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو پوری طرح کفر کے قبضہ میں آچکے تھے اور نبی اکرم ﷺ کو ہر وقت تنگ کرتے تھے ان کی پوری طرح مخالفت کرتے اور الٹی سیدھی فرمائشیں کرتے اور کہتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسے معجزات دکھائو جو فطرت انسانی کے خلاف ہوں، مثلاً آپ ﷺ آسمان پر چڑھ جائیں یا اوپر سے لکھی ہوئی کتاب لے آئیں وغیرہ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ اگر اپنے اردگرد پھیلی ہوئی تمام چیزوں کو دیکھ کر اللہ کو نہیں مانتے تو ان کا کوئی علاج نہیں کیونکہ جب ایک عقلمند انسان دنیا اور اس کی تمام چیزوں پر غور کرتا ہے تو فوراً اللہ کو پہچان لیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔
اسرار و معارف :
اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی کفر اور خوہشات کے اندھیروں میں۔11 لیکن وہ مراہ اسی کو کرتا ہے جو اپنی صلا حیتوں کو برکار نہیں لاتا۔ (دیکھئے اعفراف۔ آیت 176) ج
Read the full tafseer →(6:39) صم۔ اصم کی جمع ہے۔ بہرے۔ بکم۔ ابکم کی جمع ہے۔ گونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
لغات القرآن : آیت نمبر 37 تا 41 :
نزل (نازل کیا گیا) دآ بۃ (زمین میں رینگ کر چلنے والے جاندار) طائر (پرندہ) جناحیہ (جناح) پر۔ اڑنے کے بازو) ‘ امم (امتیں۔ جماعتیں) امثالکم ( تم جیسے) من یشاء اللہ (جسے اللہ چاہتا ہے) ‘ تدعون ( تم پکارتے ہو) یکشف (وہ کھول دے گا۔ کھولتا ہے) ‘ تنسون ( تم بھول جاتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 41 :
ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ جو کفار اور مشرکین نئے نئے معجزات اور نشانیوں کی فرمائشیں کررہے ہیں ‘ یہ ایمان لانے کی خاطر نہیں بلکہ بات ٹالنے اور بہانے تراشنے کی خاطر ہے اگر ان کی فرمائش پوری کردی جائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ذکر
ان آیتوں میں فرمایا کہ ان میں کے بعضے جلد باز سرکش لوگ گھڑی گھڑی معجزہ کا تقاضا جو کرتے ہیں ان کو جواب دیا جاوے کہ اللہ کی قدرت سے تو کوئی معجزہ بعید نہیں ہے لیکن عادت الہی یوں جاری ہے کہ کسی قوم کی خواہش کے مطابق اللہ کے رسول سے کوئی معجزہ ظاہر ہو اور وہ قوم راہ راست پر نہ آوے تو قوم ثمود کی طرح وہ قوم غارت ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ قدرت الہی کا نمونہ دیکھنے کے لئے معجزہ چاہتے ہیں تو آسمان کی مخلوقات تو ان کی نگاہ سے دور ہیں، لیکن زمین پر چلنے پھرنے والی مخلوقات اور ہوا پر اڑنے والے پر دار جانور (پرندے) ان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کانمونہ ٹھرانے کے لئے کافی ہیں۔…
Read the full tafseer →[18] گونگا بہرا اندھیرے میں ہو تو اس کے روبرو ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ باہر سے کوئی آدمی راستہ بتائے تو وہ بہرا ہے سن نہیں سکتا اور اگر خود کسی سے راستہ پوچھنا چاہے تو گونگا ہے اس لئے پوچھ نہیں سکتا۔ ہاں یہ ہو
سکتا ہے کہ کوئی اسے جبراً اٹھا کر روشنی میں لے آئے، تو ہدایت ایسی چیز نہیں جو جبراً کسی پر ٹھونس دی جائے۔
[19] اللہ کا بھٹکانا یہ ہے کہ ایک متعصب اور جہالت پسند شخص کو اللہ کی نشانیوں کے مطالعہ کی توفیق نہ بخشی جائے اور اگر وہ ان نشانیوں کا مشاہدہ بھی کرے تو وہ اس کو حق سے دور لے جائیں۔ بخلاف اس کے اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ ایک طالب حق کو اللہ کی نشانیوں کے ذریعے حق کی معرفت حاصل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
قانون ہدایت کی ہمہ گیری :
(ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ قانون ہدایت وترہیب ہمہ گیر ہے کائنات میں کوئی جاندار چیز اس سے مستثنے نہیں ۔
سب پرندے اور سب حیوان اللہ کی جانب سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ، اور اس فطری ہدایت کی وجہ سے زندہ ہیں ، چڑیا سے لے کر چیونٹی تک کے لئے بندھے ہوئے اور مقرر قانون ہیں ، جن سے سرتابی کرنا ان کے لئے ناممکن ہے ، اسی طرح حضرت انسان یعنی روحانی زندگی کے لئے اللہ کی ہدایت کا محتاج ہے ،
یعنی مکہ والوں کو بجائے معجزات کے ان حقائق پر غور کرنا چاہئے ،
بعض لوگوں نے اس آیت سے تناسخ پر استدلال کیا ہے ، مگر یہ بوجوہ غلط ہے ،
1۔ کیونکہ قرآن میں صاف صاف یوم آخرت کو بطور عقیدہ کے پیش کیا…
Read the full tafseer →-39 اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور جھٹلاتے ہیں وہ تو ایسے ہیں جیسے بہرے اور گونگے مختلف قسم کی تاریکیوں اور اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں یعنی نہ حق بات کو سنتے ہیں نہ حق کہتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ اندھیروں میں گرفتار اور گوناگوں تاریکیوں میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ جس کو چاہے راہ راست سے دور پھینک دے اور بےراہ رکھے اور جس کو چاہے راہ راست پر ڈال دے اور راہ راست پر قائم رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 1۔ کیونکہ ہر کفر ایک ظلمت ہے ان کا اعراض چونکہ صم وعدم سماع کا حاصل ہے ایک کفر ہے ان کا کفریات بکنا جو کہ بکم سے مقصود ہے ایک کفر ہے اور یہ خود کئی مرتبہ ہوتا ہے اس لیے بہت سی ظلمتیں ہوگئیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے ہی بہرے ، گونگے ہیں جو تاریکیوں میں گم ہیں :
60: فرمایا جن لوگوں نے اللہ کی دی ہوئی عقل و بصرت تاراج کردی اور گونگے اور بہرے ہو کر تاریکیوں میں گم ہوگئے تو ان کے لئے کوئی نشانی بھی سود مند نہیں ہو سکتی کیونکہ جو شخص گونگا اور بہرا ہو اور پھر تاریکیوں میں کھوگیا ہو تو اسے کیونکر راہ مل سکتی ہے ؟ تو اسے راہ دکھانے کے لئے پکارو تو وہ سنے گا نہیں۔ خود پکارنا چاہے تو پکار نہیں سکتا۔ ہاں ! یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی اسے جبرا اٹھا کر روشنی میں لے آئے تو یاد رہے کہ ہدایت ایسی چیز نہیں جو جبراً کسی کے دل میں ٹھونس دی جائے۔
زیر نظر آیت میں جن لوگوں کو بہرے اور گونگے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
The sixth verse (38): وَمَا مِن دَابَّةٍ (there is no creature moving …) tells us that, on the day of Qiyamah, animals will also be given life along with human beings. Following a narration of Sayyidna Abu Hurairah ؓ ، it has been reported by Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim and Baihaqi that, on the day of Qiyamah, all animals, beasts and birds will also be given life once again. Such will be the measure of Divine justice that a horned animal which had hit the hornless one shall be subjected to retaliation, as would be the case with others too. And when all injustices have been vindicated, all of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
27. If they are concerned with miraculous signs in order to determine whether or not the message of the Prophet (peace be on him) is indeed true, then, let them look around with open and attentive eyes. If they actually do so they will find the world full of such signs. Let them take any species of animal or bird they like. They can reflect upon the superbness of its organic structure. They will notice how its instinctive urges are in complete conformity with its natural requirements. They will also observe how wonderfully adequate are the arrangements for providing it with nourishment; how…
Read the full tafseer →