Explained with ayahs 37–39
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہوجانا وغیرہ، فرماتا ہے کہ قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں۔ اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کردیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کرسکتے ہیں، چرنے چگنے والے جانور اڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
سورة الْاَنْعَام 25
سننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں، جنہوں نے اپنی عقل و فکر کو معطل نہیں کردیا ہے، اور جنھوں نے اپنے دل کے دروازوں پر تعصب اور جمود کے قفل نہیں چڑھا دیے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مردہ وہ لوگ ہیں جو لکیر کے فقیر بنے اندھوں کی طرح چلے جا رہے ہیں اور اس لکیر سے ہٹ کر کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، خواہ وہ صریح حق ہی کیوں نہ ہو۔
سورة الْاَنْعَام 26
نشانی سے مراد محسوس معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ معجزہ نہ دکھائے جانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو دکھانے سے عاجز ہیں بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے جسے یہ لوگ محض اپنی نادانی سے نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
اور چھٹی آیت وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز انسانوں کے ساتھ تمام جانور بھی زندہ کئے جاویں گے، اور ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز تمام جانور، بہائم اور پرندے بھی دوبارہ زندہ کئے جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ کا انصاف اس حد تک ہے کہ اگر کسی سینگ والے جانور نے بےسینگ کے جانور کو دنیا میں مارا تھا تو آج اس کا انتقام اس سے لیا جائے گا، (اسی طرح دوسرے جانوروں کے باہمی مظالم کا انتقام لیا جائے گا) اور جب ان کے آپس کے حقوق و مظالم کے بدلے اور انتقام ہو چکیں گے تو ان کو حکم ہوگا کہ سب مٹی ہوجاؤ، اور تمام جانور اسی وقت پھر مٹی…
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ ، اس ٹکڑے ٰمیں حذف کا وہی اصول ملحوظ ہے جو سورة نساء کی آیت 134 میں ہے۔ یعنی جملے میں مقابل کے بعض الفاظ حذف ہوگئے ہیں اس لیے کہ مذکور محذوف پر خود دلیل بن گیا ہے۔ مثلاً جملہ کے پہلے حصہ میں فی الارض کا لفظ ہے تو دوسرے حصے میں فی السماء کا لفظ حذف ہوگیا ہے۔ اسی طرح دوسرے حصے میں یطیر بجناحیہ کے الفاط ہیں تو پہلے حصے میں تدب علی رجلیہا، یا علی ارجلہا کے الفاظ حذف ہوگئے ہیں۔ فصیح عربی میں اس طرح کا حذف معروف ہے لیکن اردو میں یہ اسلوب نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک اس طرح کے مواقع میں محذوف کو کھول دینا…
Read the full tafseer →38۔ 1 یعنی انھیں بھی اللہ نے اسی طرح پیدا فرمایا جس طرح تمہیں پیدا کیا، اسی طرح انھیں روزی دیتا ہے جس طرح تمہیں دیتا ہے اور تمہاری ہی طرح وہ بھی اس کی قدرت و علم کے تحت داخل ہیں۔
38۔ 2 کتاب دفتر سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یعنی وہاں ہر چیز درج ہے یا مراد قرآن ہے جس میں اجمالاً یا تفصیلاً دین کے ہر معاملے پر روشنی ڈالی گئی ہے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (ۭ (وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ) 16:89 (ہم نے آپ پر ایسی کتاب اتاری ہے جس میں ہر چیز کا بیان ہے)۔ یہاں پر سیاق کے لحاظ سے پہلا معنی اقرب ہے۔
38۔ 3 یعنی تمام مذکورہ گروہ…
Read the full tafseer →اس آیت نے یہ بتایا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی صرف انسانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ؛ بلکہ تمام جانوروں کو بھی قیامت کے بعد حشر کے دن زندہ کرکے اٹھایا جائے گا، تم جیسی ہے اصناف ہیں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہیں دوسری زندگی دی جائے گی اسی طرح ان کو بھی دوسری زندگی ملے گی، ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ جانوروں نے دنیا میں ایک دوسرے پر جو ظلم کئے ہوں گے میدان حشر میں مظلوم جانور کو حق دیا جائے گا کہ وہ ظالم سے بدلہ لے، اس کے بعد چونکہ وہ حقوق اللہ کے مکلف نہیں ہیں اس لئے ان پر دوبارہ موت طاری کردی جائے گی، یہاں اس حقیقت کو بیان فرمانے کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ کفار عرب مرنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔
حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔
یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے…
Read the full tafseer →6 ان آیات میں بعض حکمتوں پر متنبہ کیا گیا ہے جو فرمائشی نشانات نہ دکھلائے جانے میں مرعی ہیں۔ یعنی تمام حیوانات خواہ زمین پر رینگتے ہوں یا ہوا میں اڑتے ہوں، وہ بھی انسانوں کی طرح ایک امت ہیں۔ ان میں سے ہر نوع کو حق تعالیٰ نے ایک خاص وضع اور فطرت پر پیدا کیا جو ان کے معین خواص و افعال کے دائرہ میں کام کرتی ہے۔ کوئی جانور اپنے افعال و حرکات کے محدود حلقہ سے جو قدرت نے باعتبار اسکی فطرت و استعداد کے مشخص کر دئیے ہیں، ایک قدم باہر نہیں نکال سکتا۔ چناچہ ابتدائے آفرنیش سے آج تک کسی حیوان نے اپنی نوع کے محدود دائرہ عمل میں کسی طرح کی ترقی نہیں کی۔ اسی طرح ہر چیز کی استعداد و فطرت کو خیال کرلیجئے۔ حق…
Read the full tafseer →آیت 38 وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلا طآءِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْ ط
ان تمام جانوروں ‘ پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کے رہنے سہنے کے بھی اپنے اپنے طور طریقے اور نظام ہیں ‘ ان کے اپنے leaders ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں آج کی سائنسی تحقیق سے ثابت شدہ ہیں۔ چیونٹیوں کی ایک ملکہ ہوتی ہے ‘ جس کے ماتحت وہ رہتی اور کام وغیرہ کرتی ہیں۔ اسی طرح شہد کی مکھیوں کی بھی ملکہ ہوتی ہے۔
مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ ۔
قرآن میں ہم نے ہر طرح کے دلائل دے دیے ہیں ‘ ہر طرح کے شواہد پیش کردیے ہیں ‘ ہر طرح سے استشہاد کردیا ہے۔ ان سب کو آخر کار اپنے…
Read the full tafseer →43 یعنی سب جانداروں کو خواہ وہ حشرات الارض ہوں یا پرندے ہوں یا چرندے ہوں، اللہ کی طرف سے وحی ہوتی ہے جیسے تمہیں ہوتی ہے اور یہ سب انواع اللہ کے قوانین کی پابند ہیں اور اپنی فطری حدود سے سر مو تجاوز نہیں کرتیں اور نہ کرسکتی ہیں۔ ان سب جانداروں کو وحی کے ذریعہ وہ علوم سکھائے جاتے ہیں جو ان کی نوع کے لیے اور نوع کی بقا کے لیے کارآمد اور ضروری ہیں اور ان چیزوں سے منع کیا جاتا ہے جو ان کے لیے مضر ہیں۔ مثلاً گائے، بھینس اور بھیڑ بکری وغیرہ پر حرام ہے کہ وہ گوشت کھائیں اور اگر وہ اس جرم کا ارتکاب کریں گے تو اس کا انہیں ضرور نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح شیر پر گھاس کھانا حرام اور گوشت کھانا فرض ہے۔ اس کا…
Read the full tafseer →62 ۔ مقصود حکم حشر کی تعمیم ہے سارے خلائق کے لئے۔ ای للجزاء (قرطبی) دل بھذا علی ان البھائم تحشر یوم القیامۃ وھذا قول ابی ذروابی ہریرہ والحسن وغیرھم (قرطبی) (آیت) ” امم امثالکم “۔ قیامت میں محشور ہونے کے لحاظ سے۔ ای فی الخلق والرزق والموت والبعث والاقتصاص ھذا اختیار الزجاج (قرطبی) قیل فی الخلق والموت والبعث (معالم) فی انھم یحشرون والمقصود بیان ان الحشر والبعث کما ھو حاصل فی حق الناس فھو ایضا حاصل فی حق البھائم (کبیر) اراد تعالیٰ انما امثالنا فی انھا تحشر یوم القیامۃ یوصل الیھا حقوقھا (کبیر) یہ التزام وانتظام جب غیر مکلفین ونیم مکلفین کے لئے ہے تو انسان جو پوری طرح مکلف وذمہ دار ہے کیونکر اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
وَاِن کان کبُرَ عَلیْکَ اِعْراضھم (الآیۃ) مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نشان ہمیشہ رہنا چاہیے جسے ہم کوئی دیکھ کر یقین کرنے پر ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے، چونکہ آپ ﷺ تمام انسانوں خصوصاً قریش میں ہدایت پر بہت حریص تھے شاید آپ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ کاش ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے تو شاید ان کا کفر ہٹ جائے جس کی وجہ سے قوم کی ہدایت کے راستے کھل جائیں، اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تلوینیات میں مشیت۔۔۔ کے تابع رہو تکوین کا مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ تو خدا اس پر بھی قادر ہے کہ پیغمبروں کے توسط اور نشانیوں…
Read the full tafseer →وما من دآبۃ فی الارض اور نہیں ہے زمین پر کوئی چلنے والا جاندار۔
ولا طئر یطیر بجناحیہ اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دونوں پنکھوں سے ہوا میں اڑتا ہو۔ ہر پرندہ دو بازو وں سے ہی اڑتا ہے لیکن رفتار کی تیزی کے لئے بھی مجازاً کبھی اڑنے کا لفظ استعمال کرلیا جاتا ہے اس خیال کو دور کرنے کے لئے طائر کے بعد یطیر بجناحیہ فرمایا یا یطیر بجناحیہ کہنے سے محض معنوی تاکید مقصود ہے۔
الا امم امثالکم مگر سب تمہاری طرح گروہ گروہ ہیں یعنی پیدا ہونے میں مرنے میں پھر جی اٹھنے میں ژدا کی ضرورت اور رزق کی طلب میں عافیت و مصیبت کے توارد میں (غرض تمام حیوانی لوازم و خصوصیات میں) تمہاری طرح ہیں تم کو محض معرفتِ الٰہی کی وجہ…
Read the full tafseer →(38) آسمان و زمین میں جتنے بھی انسان اور مخلوقات ہیں، وہ کھانے اور تقاضہ بشری کے پورا کرنے میں تم جیسے ہیں ،
ان میں سے بھی ایک ایک کی بات کو سمجھتا ہے، جیسا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی بات کو سمجھتا ہے، مزید تم لوگوں کے لیے اب اور کیا دلیل ومعجزہ ہوگا، لوح محفوظ میں جو بھی ہم نے لکھا ہے، ان میں سے ہر ایک چیز کا قرآن کریم میں (اشارتا) ذکر کردیا ہے، اور پھر یہ پرندے اور تمام جانور تمام مخلوقات کے ساتھ قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جمع کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ۔۔ : یعنی زمین پر چلنے والا کوئی جانور (دیکھیے سورة نور : 45) اور کوئی دو پروں سے اڑنے والا پرندہ نہیں، مگر سب تمہاری طرح امتیں ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ طائر کا معنی ہی پرندہ (اڑنے والا) ہے، پھر ان الفاظ کی کیا ضرورت تھی کہ جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے ؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات تیز دوڑنے والے کو بھی پرندہ کہہ دیا جاتا ہے، جیسے کہہ دیا جائے کہ گھوڑا اڑتا جا رہا تھا۔ ”دو پروں“ کے لفظ نے یہ احتمال ختم کردیا اور بتادیا کہ یہاں مراد حقیقی پرندہ ہے، جو پروں سے اڑتا ہے، صرف تیز رفتار مراد نہیں۔
اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ : یعنی زمین پر چلنے والے اور اڑنے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 38 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و ما من دابت فی الا رض دابت کا معنی اور تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہ دب یدب فھو داب ہے جس کا معنی ہے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر چلنا۔ آیت : ولا طئر یطیر بجناحیہ، طائر جر کے ساتھ ہے لفظ پر عطف کیا گیا ہے۔
حسن اور عبداللہ بن ابی اسحاق نے ولا طائر رفع کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے مقام پر عطف کی بنا پر ایسا پڑھا ہے۔ من زائدۃ ہے تقدیر وما دابت ہے، بجناحیہ تاکید ہے اور ابہام کے ازالہ کے لیے ہے، کیونکہ عرب طیران کو پرندے کے علاوہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں تو کسی شخص کو کہتا ہے طرفی حاجتی یعنی تو میری حاجت کے لیے جلدی کر۔ بجناحیہ ذکر فرمایا تاکہ قول…
Read the full tafseer →(1) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الا امم امثالکم سے مراد مختلف قسمیں ہیں جو اپنے ناموں سے پہچانی جاتی ہیں۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وما من دابۃ فی الارض ولا طئر یطیر بجنا حیہ الا امم امثالکم سے مراد ہے کہ پرندے علیحدہ امت ہیں انسان علیحدہ امت ہیں اور جنات ایک علیحدہ امت ہیں۔
(3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الا امم امثالکم یعنی تمہاری مثل امتیں پیدا فرمائیں۔
ہر مخلوق کو اللہ نے پیدا…
Read the full tafseer →وَمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ دَاۗبَّةٍ [ کوئی چلنے والا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَلَا [ اور نہ ہی ہے ] طٰۗىِٕرٍ [ کوئی بھی اڑنے والا ] يَّطِيْرُ [ جو اڑتا ہے ] بِجَنَاحَيْهِ [ اپنے دونوں بازؤں سے ] اِلَّآ [ مگر یہ کہ ] اُمَمٌ [ (وہ بھی ) امتیں ہیں ] اَمْثَالُكُمْ ۭ [ تم لوگوں کی مانند ] مَا فَرَّطْنَا [ ہم نے کمی نہیں کی ] فِي الْكِتٰبِ [ کتاب میں ] مِنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] ثُمَّ [ پھر ] اِلٰى رَبِّهِمْ [ ان کے رب کی طرف ہی ] يُحْشَرُوْنَ [ جمع کیے جاؤ گے ]
ترکیب : (6:38) من دابۃ کے من پر عطف ہونے کی وجہ سے طئر حالت جز میں ہے اور یہ نکرہ مخصوصہ ہے ۔ جناحی دراصل جناحین ) (تثنیہ ) تھا ۔…
Read the full tafseer →چوپائے اور پرندے تمہاری طرح امتیں ہیں اللہ سب کو محشور فرمائے گا
ان آیات میں اول تو یہ بتایا کہ زمین پر جو بھی چلنے والے چلتے ہیں اور جو پرندے اپنے بازوؤں سے اڑتے ہیں سب تمہاری طرح کی امتیں یعنی مختلف جماعتیں ہیں۔ ان کے احوال محفوظ ہیں۔ ان سے متعلقہ امور مقرر ہیں ان کی جو مصلحتیں ہیں ان کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں سب کو اللہ کی تقدیر اور تدبیر شامل ہے۔
قال صاحب الروح امم امثالکم فی ان احو الھا محفوظۃ و امور ھامعینۃ و مصالحھا مرعیۃ
جاریۃ علی سنن السداد منتظمۃ فی سلک التقدیرات الالھۃ وَالتدبیرات الربانیۃ۔ (ج 7 ص 143)
پھر فرمایا
(مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ ) (ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–39
تسلی نبی اکرم ﷺ وتلقین صبر۔
قال اللہ تعالی، قد نعلم انہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں منکروں کے انکار اور تکذیب کا بیان تھا جس سے نبی کو بمقتضائے شفقت ورافت صدمہ اور رنج ہوتا تھا کماقال تعالی، لعلک باخع نفسک علی۔۔۔ الی۔۔۔ اسفا، وقال تعالی، فلاتذہب نفسک علیھم حسرات۔ آیت۔ لہذا اللہ جل شانہ ان آیات میں نبی کی تسلی اور تشفی فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ ان لوگوں کی تکذیب سے رنجیدہ اور ملول نہ ہو یہ تکذیب کرنے والے آپ کی تکذیب کررہے ہیں بلکہ فی الحقیقت اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جھٹلا رہے ہیں خدا تعالیٰ خود ہی ان کو سمجھ لے گا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں اور آپ کو تو انبیاء…
Read the full tafseer →44 یہ توحید پر پانچویں دلیل عقلی ہے۔ دابۃ کے بعد فی الارض اور طائر بعد یَطِیْرُ بِجَنَاحِیَہِ صفات کاشفہ ہیں یعنی تمہارے علاوہ باقی تمام جاندار مخلوق بھی تمہاری طرح مختلف جماعتیں ہیں اور تمہاری طرح محتاج اور ضرورت مند ہیں ان سب کا رازق اور متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے دوسرا کوئی نہیں مَا فَرَّطْنَا فِیْ الْکِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ۔ معتزلہ کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لکھنے میں تفریط نہیں کر رہے اور کتاب سے مراد فرشتوں کے دفتر ہیں۔ اب یہ تخویف اخروی ہوگی اور اہل سنت کے نزدیک کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ عن الحسن و قتادۃ ان المراد بالکتاب الکتاب الذی عند اللہ تعالیٰ وھو مشتمل علی ما کان و ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
توحید ‘ رسالت اور معاد کے انکار اور پیغمبر اسلام سے نشانیاں طلب کرنے کا سلسلہ کئی دروس سے بیان ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منکرین کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی ‘ جیسا کہ پہلے انبیاء کرتے رہے ہیں اور نشانیوں کے متعلق فرمایا کہ اگر ان کو حسب خواہش نشانی مہیا بھی کردی جائے تو پھر بھی یہ انکار ہی کریں گے۔ آج کی آیات میں بھی مشرکین کی طرف سے نشانیاں طلب کرنے کا ہی ذکر ہے اور پھر اس ضمن میں حضور ﷺ کو بعض ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وقالوا لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ ان منکرین نے کہا کیوں نہیں اتاری جاتی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے۔ اور نشانی سے مراد ان کے نزدیک ایسی نشانی ہے…
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْہِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 0ۭ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتٰبِ مِنْ شَيْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّہِمْ يُحْشَرُوْنَ 38
دب
الدَّبُّ والدَّبِيبُ : مشي خفیف، ويستعمل ذلک في الحیوان، وفي الحشرات أكثر، ويستعمل في الشّراب ويستعمل في كلّ حيوان وإن اختصّت في التّعارف بالفرس : وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها [هود/ 6]
( د ب ب ) دب
الدب والدبیب ( ض ) کے معنی آہستہ آہستہ چلنے اور رینگنے کے ہیں ۔ یہ لفظ حیوانات اور زیادہ نر حشرات الارض کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور شراب اور مگر ( لغۃ ) ہر حیوان یعنی ذی حیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
2 ؎ یعنی جس طرح بنی آدم کے گروہوں کے جدا جدا نام اوراقسام ہیں اسی طرح ان کے بھی چیونٹی ‘ سانپ ‘ بچھو ‘ چیل ‘ چڑیا ‘ کوا ہر ایک جنس اور نوع جدا ہے اور اس طرح ان کے بھی رزق اور اجل مقرر ہے اور اسی طرح ان کو بھی ان کے انواع کے مفید علوم انعام ہوئے ہیں۔ حشرات الارض زمین میں مناسب مواقع پر بل اور سوراخ بناتے ہیں۔ پر نداونچے اونچے درختوں میں کس خوبی سے گھونسلے بناتے ہیں کہ جس سے عقلاء کی عقل کی دنگ ہوجاتی ہے۔ پھر جب حیوانات پر ہماری یہ عنایت ہے تو نوع انسان کو ہم امور آخرت سے کیونکر بےبہرہ چھوڑ دیتے۔ جہاں نہ عقلاء و حکماء کی عقل پوری رہنمائی کرسکتی ہے اس لئے ہم نے انبیاء بھیجے اور سب سے اخیر اس نبی…
Read the full tafseer →وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلَّآ اُمَمٌاَمْثَالُکُمْ ط مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیٔئٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّھِمْ یُحْشَرُوْنَ ۔ (الانعام : 38)
(اور کوئی جانور نہیں جو زمین پر چلتا ہو اور کوئی پرندہ نہیں جو فضا میں اپنے دونوں بازوئوں سے اڑتا ہو ‘ مگر یہ سب تمہاری ہی طرح امتیں ہیں۔ اور ہم نے اپنی کتاب میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر یہ سب اپنے پروردگار کے حضور اکٹھے کیے جائیں گے)
عقل والوں کے لیے نشانیاں
اس آیت کریمہ میں بظاہر صرف جانوروں اور پرندوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اُمَمٌاَمْثَالُکُمْ کہہ کر معلوم ہوتا ہے کہ تمام کائنات کی نشانیوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار نشانی کا مطالبہ کرتے تھے اس کے جواب میں ان کی توجہ پر ندوں کی طرف مبذول کی گئی ہے تاکہ وہ ان کی ساخت، پرورش اور پرواز کے نظام پر غور کریں۔
منکرین حق کا مطالبہ تھا کہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی مزید نشانیاں آنی چاہییں جس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مزید نشانیاں نازل کرنے پر قادر ہے۔ تاہم اگر انسان غور کرے تو اس کی چشم کشائی کے لیے اس کے گرد و پیش اتنے نشانات عبرت ہیں کہ جن کو دیکھ کر یہ مالک حقیقی کو پہچان سکتا ہے۔ اس کے لیے انسان کو دور دراز سفر کرنے کی ضرورت نہیں اگر وہ اپنے سامنے زمین پر چلنے والے جانور اور فضا میں اڑنے والے پرندوں پر غور کرے تو اسے…
Read the full tafseer →عظمت قدرت کے کھلے دلائل :
آیت 38 : وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ دابہ ہر رینگنے والے جانور کو کہتے ہیں۔ یہ مذکر و مؤنث دونوں پر بولا جاتا ہے۔ فِی الْاَرْضِ ۔ : یہ موضع جر میں دابہ کی صفت ہے۔ وَلَا طٰٓپرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِپرندے کے ساتھ جناحین کی قید اس لیے بڑھائی گئی تاکہ مجاز کا احتمال نہ رہے۔ کیونکہ کبھی پرندے کے علاوہ پر بھی کہتے ہیں کہ طار فلان جبکہ وہ تیز چلے۔ الَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْ زمین میں مخلوق ہونے وقوع مدت اور بعث میں اور کسی مدبر کی تدبیر کی طرف محتاج ہونے میں جو ان کے مقامات رشد کی طرف ان کی راہنمائی کرے۔ مَافَرَّطْنَا (ہم نے نہیں چھوڑا) ۔ فِی الْکِتٰبِ لوح محفوظ میں۔ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت نمبر 38, 37, 36
تفسیر : (انما یستجیب الذین یسمعون) یعنی مومنین جو نصیحت کو سنتے اور اس کی اتبع کرتے ہیں تو ان کو نفع دیتی ہے نہ کہ وہ لوگ جن کے کانوں پر اللہ نے مہر کردی ہو ( والموتی یعنھم ) یعنی کفار کو ص اللہ ثم الیہ یرجعون ) پھر ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو رسوا کریں گے۔
(وقالوا) یعنی قریش کے سردار ( لولا نزل علیہ ایۃ من ربہ ط قل ان اللہ قادر علی ان ینزل ایۃ لوکن اکثرھم لایعلمون) کہ اس نشانی کے اتارنے میں ان پر کیا مصیبت ہوگی۔
(وما من دابۃ فی الارض ولا طنریطیر بجناحیہ الا امم امثالکم)
اھم امثالکم کی تفسیر
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہر ایک کی اقسام ہیں جو اپنے نام سے پہچانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
(37 ۔ 39) ۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ میں سے جو لوگ علم ازلی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں کوئی معجزہ مفید نہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ ان میں کے بعض جلد باز سرکش لوگ گھڑ ی گھڑی معجزہ کا تقاضا جو کرتے ہیں ان کو جواب دیا جاوے کہ اللہ کی قدرت سے تو کوئی معجزہ بعید نہیں ہے لیکن عادت الٰہی کے یوں جاری ہے کہ کسی قوم کی خواہش کے موافق اللہ کے رسول سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا اور پھر وہ قوم راہ راست پر نہ آوے تو قوم ثمود کی طرح وہ قوم غارت ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ اس عادت الٰہی سے واقف نہیں اس لئے یہ گھڑی گھڑی معجزہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ لوگ قدرت الٰہی کا نمونہ دیکھنے کے لئے معجزہ چاہتے ہیں…
Read the full tafseer →آیت 38
زمین میں رہنے والے، ہوا میں اڑنے والے، بہائم، جنگلوں میں رہنے والے وحشی جانور اور پرندے سب تمہاری طرح گروہ ہیں۔ ان کو بھی ہم نے اسی طرح پیدا کیا ہے جس طرح تمہیں پیدا کیا ہے، اسی طرح ہم ان کو بھی رزق عطا کرتے ہیں جس طرح تمہیں عطا کرتے ہیں۔ ہماری قدرت اور مشیت ان پر بھی اسی طرح نافذ ہے جس طرح تم پر نافذ ہے۔ (مافرطنا فی الکتب من شیء) ” ہم نے کتاب میں کسی چیز میں کوتاہی نہیں کی۔ “ یعنی ہم نے کسی چیز کو لوح محفوظ میں لکھنے میں کوتاہی اور غفلت نہیں کی بلکہ تمام چھوٹی بڑی چیزیں جیسی بھی وہ ہیں لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں۔ پس تمام حوادث اس کے مطابق واقع ہوتے ہیں جو قلم سے لکھے جا چکے ہیں۔
یہ…
Read the full tafseer →59 پرندوں اور چرندوں کی مختلف انواع بھی انسانوں کی طرح ہیں : مخلوق ہونے میں۔ خدا تعالیٰ کی محتاج و مرزوق ہونے میں۔ اور دوسری بہت سی صفات اور خصوصیات میں۔ جیسے ان کا پیدا ہونا، پلنا بڑھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، پھلنا پھولنا اور توالد و تناسل وغیرہ وغیرہ۔ (التحریر لابن عاشور وغیرہ) ۔ سو اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کا یہ کہنا کہ " اس سے معلوم ہوا کہ ہم حضور کو اپنی مثل نہیں کہہ سکتے، کیونکہ رب نے جانوروں کو یہاں ہماری مثل فرمایا ہے، مگر پھر بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جانور ہماری طرح ہیں، تو ہم حضور کی طرح کیسے ہوگئے "۔ سو ایسا کہنا محض موصوف کی ایک ذہنی اپج، خانہ ساز منطق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
مشرکین مکہ کا مطالبہ اور مصیبت میں اللہ کو یاد کرنا
تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو پوری طرح کفر کے قبضہ میں آچکے تھے اور نبی اکرم ﷺ کو ہر وقت تنگ کرتے تھے ان کی پوری طرح مخالفت کرتے اور الٹی سیدھی فرمائشیں کرتے اور کہتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسے معجزات دکھائو جو فطرت انسانی کے خلاف ہوں، مثلاً آپ ﷺ آسمان پر چڑھ جائیں یا اوپر سے لکھی ہوئی کتاب لے آئیں وغیرہ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ اگر اپنے اردگرد پھیلی ہوئی تمام چیزوں کو دیکھ کر اللہ کو نہیں مانتے تو ان کا کوئی علاج نہیں کیونکہ جب ایک عقلمند انسان دنیا اور اس کی تمام چیزوں پر غور کرتا ہے تو فوراً اللہ کو پہچان لیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔
اسرار و معارف :
اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…
Read the full tafseer →ف 7 مطلب یہ ہے کہ جمیع بہائم اور پرندے تمہاری طرح کی امتیں ہیں اور جس طرح ان کے رزق اور مصالح کی رعایت کی گئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے مصالح کی بھی رعایت کی ہے اور ان کے مطالبہ کے مطابق آیات نازل کرن خود ان کے مصلحت کے خلاف ہے (رازی) یا مثل تمہاری ہیں طرح ہیں (فتح البیان)8 یعنی لوح محفوظ میں (موضح) جو کہ تمام مخلوقات کے احوال پر پوری طرح حاوی ہے کہ ایک حدیث میں ہے جف القلم بما ھو اکاسو الی یوم القیامتہ کہ قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کی تحریر سیاہی خشک ہوگئی ہے (رازی )
اور اس سے مرد قرآن پاک بھی ہوسکتا ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اور یہی اظہر ہے اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس…
Read the full tafseer →(6:38) دابۃ جانور۔ چلنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ رینگنے والا۔ اسم فاعل کا صیغہ مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے اس میں ۃ وحدت کی ہے اس کی جمع دواب ہے۔ قرآن مجید میں دابۃ کا لفظ ہر حیوان کے لئے آیا ہے۔
ما فرطنا۔ ماضی منفی جمع متکلم تفریط مصدر (باب تفعیل) ہم نے کمی یا کوتاہی نہیں کی۔ ہم نے کسی (ضروری) چیز کو نہیں چھوڑا۔ (ملاحظہ ہو 6:31)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
لغات القرآن : آیت نمبر 37 تا 41 :
نزل (نازل کیا گیا) دآ بۃ (زمین میں رینگ کر چلنے والے جاندار) طائر (پرندہ) جناحیہ (جناح) پر۔ اڑنے کے بازو) ‘ امم (امتیں۔ جماعتیں) امثالکم ( تم جیسے) من یشاء اللہ (جسے اللہ چاہتا ہے) ‘ تدعون ( تم پکارتے ہو) یکشف (وہ کھول دے گا۔ کھولتا ہے) ‘ تنسون ( تم بھول جاتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 41 :
ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ جو کفار اور مشرکین نئے نئے معجزات اور نشانیوں کی فرمائشیں کررہے ہیں ‘ یہ ایمان لانے کی خاطر نہیں بلکہ بات ٹالنے اور بہانے تراشنے کی خاطر ہے اگر ان کی فرمائش پوری کردی جائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ذکر
ان آیتوں میں فرمایا کہ ان میں کے بعضے جلد باز سرکش لوگ گھڑی گھڑی معجزہ کا تقاضا جو کرتے ہیں ان کو جواب دیا جاوے کہ اللہ کی قدرت سے تو کوئی معجزہ بعید نہیں ہے لیکن عادت الہی یوں جاری ہے کہ کسی قوم کی خواہش کے مطابق اللہ کے رسول سے کوئی معجزہ ظاہر ہو اور وہ قوم راہ راست پر نہ آوے تو قوم ثمود کی طرح وہ قوم غارت ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ قدرت الہی کا نمونہ دیکھنے کے لئے معجزہ چاہتے ہیں تو آسمان کی مخلوقات تو ان کی نگاہ سے دور ہیں، لیکن زمین پر چلنے پھرنے والی مخلوقات اور ہوا پر اڑنے والے پر دار جانور (پرندے) ان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کانمونہ ٹھرانے کے لئے کافی ہیں۔…
Read the full tafseer →[17] یعنی ہر مخلوق کے لئے جو کچھ ہونا چاہئے تھا وہ سب اس کے لئے مقدر کردیا، کسی مخلوق کے لئے بھی فروگذاشت نہیں ہوئی۔ اگر اللہ کی بیشمار نشانیوں میں سے جو آفاق میں پھیلی ہوئی ہیں صرف اسی ایک نشانی پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبر اللہ کی توحید اور اس کی صفات کا جو تصور پیش کر رہا ہے وہ عین حق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
قانون ہدایت کی ہمہ گیری :
(ف 1) آیت کا مقصد یہ ہے کہ قانون ہدایت وترہیب ہمہ گیر ہے کائنات میں کوئی جاندار چیز اس سے مستثنے نہیں ۔
سب پرندے اور سب حیوان اللہ کی جانب سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ، اور اس فطری ہدایت کی وجہ سے زندہ ہیں ، چڑیا سے لے کر چیونٹی تک کے لئے بندھے ہوئے اور مقرر قانون ہیں ، جن سے سرتابی کرنا ان کے لئے ناممکن ہے ، اسی طرح حضرت انسان یعنی روحانی زندگی کے لئے اللہ کی ہدایت کا محتاج ہے ،
یعنی مکہ والوں کو بجائے معجزات کے ان حقائق پر غور کرنا چاہئے ،
بعض لوگوں نے اس آیت سے تناسخ پر استدلال کیا ہے ، مگر یہ بوجوہ غلط ہے ،
1۔ کیونکہ قرآن میں صاف صاف یوم آخرت کو بطور عقیدہ کے پیش کیا…
Read the full tafseer →-38 اور جتنے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے پرندے اپنے دونوں بازوئوں سے اڑنے والے ہیں یہ سب کے سب بھی تمہاری طرح مخلوق کی مختلف جماعتیں ہیں یعنی ان کے احوال اور ارزاق بھی اسی طرح مقدر ہیں جس طرح تمہارے ارزاق وغیرہ مقدر ہیں اور یہ سب بھی تمہاری طرح جمع کئے جائں گے اور یہ محشور ہوں گے ہم نے کسی چیز کے لکھنے میں فرو گذاشت نہیں کی یعنی لوح محفوظ کے دفتر میں سب کچھ لکھ رکھا ہے یا قرآن میں ہر چیز کا اجمالاً ذکر کردیا ہے اور اس میں کوئی کوتاہی اور فروگذاشت ہم نے نہیں کی پھر یہ سب کے سب اپنے رب کی طرف جمع کئے جائیں گے یعنی تمام مخلوق خدا تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں جمع کی جائے گی۔
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی قیامت کے دن محشور ہونے کی صف میں۔
Read the full tafseer →زمین پر چلنے والے حشرات الارض اور ہوا میں اڑنے والے پرندے بھی تمہاری طرح امتیں ہیں :
58: یہ جتنے چرند اور پرند ہیں سب کیا ہیں ؟ فرمایا تمہاری ہی طرح وہ بھی امتیں ہیں۔ تم پیدا ہوئے اور وہ بھی پیدا ہوئے اللہ نے جو انتظام تمہاری پیدائش کا مقرر کیا تم اسی انتظام کے تحت پیدا ہو رہے ہو اور جو ان کی پیدائش کا انتظام کیا اسی کے مطابق وہ پیدا ہو رہے ہیں۔ تم کھاتے پیتے ہو اسی طرح وہ سب بھی کھاتے پیتے ہیں۔ تم اپنے گھروں میں سکونت پذیر ہو اسی طرح وہ بھی اپنے بھٹوں اور آشیانوں میں سکونت پذیر ہیں۔ تم نسل چھوڑ جاتے ہو بالکل اسی طرح ان کی نسلیں بھی قائم ہیں۔ تم مرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے ان کی موت کا بھی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
The sixth verse (38): وَمَا مِن دَابَّةٍ (there is no creature moving …) tells us that, on the day of Qiyamah, animals will also be given life along with human beings. Following a narration of Sayyidna Abu Hurairah ؓ ، it has been reported by Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim and Baihaqi that, on the day of Qiyamah, all animals, beasts and birds will also be given life once again. Such will be the measure of Divine justice that a horned animal which had hit the hornless one shall be subjected to retaliation, as would be the case with others too. And when all injustices have been vindicated, all of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
26. The word ayah here signifies a tangible miracle. The purpose of the verse is to point out that the reason for not showing a miraculous sign is not God's powerlessness. The true reason is something else which those people in their immaturity, have failed to comprehend.
Read the full tafseer →