Al-An'aam 6:37

Al-An'aam · from ayah 37

6:37

وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ؕ— قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤی اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟وَ قَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ‌ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰٓى اَنۡ يُّنَزِّلَ اٰيَةً وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "Why has a sign not been sent down to him from his Lord?" Say, "Indeed, Allah is Able to send down a sign, but most of them do not know."

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:37

یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی معجزه کیوں نہیں نازل کیا گیا ان کے رب کی طرف سے آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کو بےشک پوری قدرت ہے اس پر کہ وه معجزه نازل فرمادے۔ لیکن ان میں اکثر بےخبر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ لوگ کہتے ہیں کہ (اگر یہ نبی ہیں تو) ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ تم (ان سے) کہو کہ اللہ بیشک اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کردے، لیکن ان میں سے ا کثر لوگ (اس کا انجام) نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے (بالکل) جاہل ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہوں نے کہا کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پراس کے رب کی طرف سے (ہروقت ساتھ رہنے والی) کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ فرما دیجئے: بیشک اﷲ اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ (ایسی) کوئی نشانی اتار دے لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس کی حکمتوں کو) نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ کہہ دے بیشک اللہ اس پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہتے ہیں کہ ہم پر ہمارے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ آپ انہیں کہئے کہ معجزہ اتارنے پر تو اللہ ہی قادر ہے لیکن بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر نادان ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہتے ہیں، اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی۔ ان سے کہہ دو کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتار دے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری گئی اس (پیغمبر) پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرح سے (ہماری فرمائش کے مطابق،) کہو کہ بیشک اللہ قادر ہے اس پر کہ اتار دے ایسی کوئی نشانی لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہتے ہیں کہ ان (صاحب) پر کوئی معجزہ ان کے پروردگار کی طرف سے کیوں نہیں اتارا گیا۔ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ بیشک قادر ہے (ایسا) معجزہ اتارنے پر لیکن ان میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو (خود ہی) علم نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ کہتے ہیں کیوں نہیں اتار دی گئی ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے ؟ کہہ دو اللہ قادر ہے کہ وہ کوئی (بڑی سے بڑی) نشانی اتار دے لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And they say: 'Why has no miraculous sign been sent down to him from his Lord?' Say: 'Surely Allah has the power to send down a sign, but most of them do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :Why is it that no sign (of our choice) has been sent down to him from his Lord? Say, :Allah is surely powerful enough to send down a sign. But most of them do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :Why is it that no sign (of our choice) has been sent down to him from his Lord? Say, :Allah is surely powerful enough to send down a sign. But most of them do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they said: "Why is not a sign sent down to him from his Lord" Say: "Allah is certainly able to send down a sign, but most of them know not."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They say: Why hath no portent been sent down upon him from his Lord? Say: Lo! Allah is Able to send down a portent. But most of them know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "Why has a sign not been sent down to him from his Lord?" Say, "Indeed, Allah is Able to send down a sign, but most of them do not know."

— Saheeh International

They say, "Why have not some miracles been given to him, (Muhammad), from his Lord." Tell them, (Muhammad), "God certainly has the Power to show such miracles but many of them are ignorant."

— Muhammad Sarwar

And they say: Why has not a sign been sent down to him from his Lord? Say: Surely Allah is able to send down a sign, but most of them do not know.

— Muhammad Habib Shakir

And they say: wherefore is not a sign sent down upon him from his Lord? Say thou: verily Allah is able to send down a sign, howbeit most of them know not.

— Abdul Majid Daryabadi

They say: "Why is not a sign sent down to him from his Lord?" Say: "Allah hath certainly power to send down a sign: but most of them understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–39

معجزات کے عدم اظہار کی حکمت کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہوجانا وغیرہ، فرماتا ہے کہ قدرت الٰہی سے تو کوئی چیز باہر نہیں لیکن اس وقت حکمت الہیہ کا تقاضا یہ نہیں۔ اس میں ایک ظاہری حکمت تو یہ ہے کہ تمہارے چاہے ہوئے معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہ لائے تو اصول الہیہ کے مطابق تم سب کو اسی جگہ ہلاک کردیا جائے گا جیسے تم سے اگلے لوگوں کے ساتھ ہوا، ثمودیوں کی نظیر تمہارے سامنے موجود ہے ہم تو جو چاہیں نشان بھی دکھا سکتے ہیں اور جو چاہیں عذاب بھی کرسکتے ہیں، چرنے چگنے والے جانور اڑنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–38

سورة الْاَنْعَام 25 سننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں، جنہوں نے اپنی عقل و فکر کو معطل نہیں کردیا ہے، اور جنھوں نے اپنے دل کے دروازوں پر تعصب اور جمود کے قفل نہیں چڑھا دیے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مردہ وہ لوگ ہیں جو لکیر کے فقیر بنے اندھوں کی طرح چلے جا رہے ہیں اور اس لکیر سے ہٹ کر کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، خواہ وہ صریح حق ہی کیوں نہ ہو۔ سورة الْاَنْعَام 26 نشانی سے مراد محسوس معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ معجزہ نہ دکھائے جانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو دکھانے سے عاجز ہیں بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے جسے یہ لوگ محض اپنی نادانی سے نہیں سمجھتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–37

خلاصہ تفسیر کفار کے بیہودہ کلمات پر، رسول اللہ ﷺ کی تسلی ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کو ان (کفار) کے اقوال مغموم کرتے ہیں سو (آپ ﷺ غم میں نہ پڑئیے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے کیونکہ) یہ لوگ (براہ راست) آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا (قصداً) اکار کرتے ہیں، (گو اس سے آپ ﷺ کی تکذیب بھی لازم آتی ہے مگر ان کا اصل مقصود آیات اللہ کی تکذیب ہے، جیسا کہ ان میں بعض مثلاً ابو جہل اس کے اقراری بھی ہیں، اور جب ان کا اصل مقصد آیات اللہ کی تکذیب ہے تو ان کا یہ معاملہ خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوا، وہ خود ہی ان کو سمجھ لیں گے، آپ ﷺ کیوں غم میں مبتلا ہوں) اور (کفار کی یہ تکذیب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ۔ اس سے مراد یوں تو ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی بھی ہوسکتی ہے جن کا کفار کی طرف سے مطالبہ تھا لیکن قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان لوگوں کو جواب دیا جا رہا ہے جو کسی ایسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے جو یہ ثابت کردے کہ اگر انہوں نے پیغمبر کی تکذیب تو ان پر عذاب آجائے گا۔ آگے کی آیات سے بالتدریج یہ قرینہ خود بخود ابھر کر سامنے آجائے گا اس وجہ سے دلائل کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سورة میں بھی اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی کفار کا یہ مطالبہ اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں سے نقل ہوا ہے کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم نے تمہاری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 یعنی ایسا معجزہ، جو ان کو ایمان لانے پر مجبور کر دے، جیسے ان کی آنکھوں کے سامنے فرشتہ اترے، یا پہاڑ ان پر اٹھا کر بلند کردیا جائے، جس طرح بنی اسرئیل پر کیا گیا۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ تو یقینا ایسا کرسکتا ہے لیکن اس نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ پھر انسانوں کے امتحان کا مسئلہ ختم ہوجاتا۔ علاوہ ازیں ان کے مطالبے پر اگر کوئی معجزہ دکھلایا جاتا اور پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے تو پھر فورا انھیں اسی دنیا ہی میں سخت سزا دے دی جاتی یوں گویا اللہ کی اس حکمت میں بھی انہی کا دنیاوی فائدہ ہے۔ 37۔ 2 جو اللہ کے حکم و مشیت کی حکمت کا ادراک نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

11: اس آیت میں فرمائشی معجزات نہ دکھانے کی ایک اور وجہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ پچھلی قوموں کو جب کبھی ان کا مانگا ہوا معجزہ دکھایا گیا ہے تو یہ تنبیہ بھی کردی گئی ہے کہ اگر اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو انہیں اس دنیا ہی میں ہلاک کردیا جائے گا ؛ چنانچہ کئی قومیں اس طرح ہلاک ہوئیں، چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کفار مکہ میں اکثر لوگ ہٹ دھرم ہیں اور وہ فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق وہ ہلاک ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کو ابھی یہ منظور نہیں ہے کہ انہیں عذاب عام کے ذریعے ہلاک کیا جائے ؛ لہذا جو لوگ فرمائشی معجزات کا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–39

(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔ حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔ یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری جن کی وہ فرمائش کرتے تھے کما فی قولہ تعالیٰ (وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا 90 ۝ ۙ اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا 91 ۝ ۙ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا 92 ۝ ۙ اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 37 وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط ان کے پاس دلیل بس یہی ایک رہ گئی تھی کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتار دی جاتی ؟ اسی ایک حجت پر انہوں نے ڈیرہ لگا لیا تھا۔ باقی ساری دلیلوں میں وہ مات کھا رہے تھے۔ دراصل انہیں بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ ان حالات میں کوئی حسی معجزہ دکھانا اللہ تعالیٰ کی مشیت میں نہیں ہے۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ کی طبیعت کی تنگی ضیق کا اندازہ اس سے لگائیں کہ قرآن میں بار بار اس کا ذکر آتا ہے۔ سورة الحجر میں اسی کیفیت کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے : وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَ نَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 یعنی ایسے حسی معجزہ کا مطالبہ کرنا جس سے انسان کو کامل یقین حاصل ہوجائے نادانی کی بات ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ بات اللہ کے دستور ابتلاء کے منافی ہے اور ایسے جبری اور اضطراری ایمان کا کچھ فائدہ بھی نہیں۔ جیسے موت کے وقت جب انسان غیب کے پردے اٹھنے کے بعد سب کچھ دیکھ لیتا ہے تو پھر اس وقت اس کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دیتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

60 ۔ (ہمارے فرمایشی معجزوں میں سے جو ایمان پر مجبور کردے) یہ فرمایش کرنے والے وہ جاہلی منکرین تھے، جن کے نزدیک حقانیت وصداقت کا ثبوت صرف مادی خوارق اور حسی معجزات تھے۔ ملجءۃ للایمان (روح) کما نقترح (مدارک) ای خارق علی مقتضی ماکانوا یریدون ومما یتعنتون (ابن کثیر) 61 ۔ یعنی علم صحیح سے محروم ہیں اور عقل سلیم سے کام لینا جانتے نہیں۔ یہ اس حقیقت سے بھی خبردار نہیں کہ پیغمبر کی تعلیمات صحیح اور ہدایات صادق کے لئے مثلا عقیدۂ توحید کے لئے عقیدۂ جزاوسزا کے لئے کسی معجزۂ حسی اور خارق مادی کی سرے سے ضرورت ہی کیا ہے۔ اور بالفرض ہو تو معجزات تو پہلے سے موجود چلے آتے ہیں۔ پھر ان سے حاصل کیا ہوا جو نئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 35–41

وَاِن کان کبُرَ عَلیْکَ اِعْراضھم (الآیۃ) مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نشان ہمیشہ رہنا چاہیے جسے ہم کوئی دیکھ کر یقین کرنے پر ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے، چونکہ آپ ﷺ تمام انسانوں خصوصاً قریش میں ہدایت پر بہت حریص تھے شاید آپ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ کاش ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے تو شاید ان کا کفر ہٹ جائے جس کی وجہ سے قوم کی ہدایت کے راستے کھل جائیں، اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تلوینیات میں مشیت۔۔۔ کے تابع رہو تکوین کا مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ تو خدا اس پر بھی قادر ہے کہ پیغمبروں کے توسط اور نشانیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا لو لا نزل علیہ ایۃ من ربہ اور (قریش کے سرداروں نے) کہا کہ اس پر اس کے رب کی کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں کیا گیا یعنی ہمارا مطلوبہ معجزہ یا موجودہ معجزات کے علاوہ کوئی اور غیر معمولی معجزہ۔ نازل شدہ معجزات کو تو وہ محض عناد کی وجہ سے درخور اعتناء نہیں سمجھتے تھے۔ قل ان اللہ قادر علی ان ینزل ایۃ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ (ہر) معجزہ اتارنے پر قادر ہے۔ اَیۃً سے مراد یا تو مطلوبہ معجزہ ہے یا ایسا معجزہ جس کو ماننے پر وہ مجبور ہوجائیں جیسے پہاڑ کو جڑ سے اکھاڑ کر سروں پر معلق کردینا۔ یا ایسا معجزہ جس کے بعد انکار کرنے والوں کی ہلاکت ضروری ہوجائے۔ ولکن اکثر ہم لا یعلمون لیکن اکثر لوگ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(37) حارث بن عامر اور اس کے ساتھی اور ابوجہل ولید بن صغیرہ، امیہ بن خلف، ابی بن خلف، نضر بن حارث کہتے ہیں کہ آپ کے پروردگار کی طرف آپ کی نبوت کے لیے کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا، آپ محمد ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارے مطالبہ کے مطابق ایسا ہی ہوجاتا مگر اکثر ان میں سے اس کے نزول کے انجام سے بیخبر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ۔۔ : منکرین نبوت یہ شبہ بھی پیش کرتے تھے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو اپنے ساتھ نظر آنے والا ایسا معجزہ کیوں نہیں لاتے جسے دیکھ کر ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ ایسا کرنے پر قادر ہے، مگر اس کی حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ اگر صاف کھلی نشانی آجائے، جیسے اونٹنی جو صالح ؑ کے عہد میں بھیجی گئی تو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ان کی مدت مہلت ختم ہوجائے گی اور فوراً عذاب آجائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے، مگر ان کے اکثر اس بات کو نہیں جانتے۔ (رازی)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–37

آیت نمبر 36 تا 37 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : انما یستجیب الذین یسمعون یعنی جو غور سے سنتے اور سمجھتے ہیں اور حق کا ارادہ سنتے ہیں یہ وہ مومنین ہیں جو قبول کرتے ہیں اسے جو سنتے ہیں اور اس سے نفع حاصل کرتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ یہ معنی حسن اور مجاہد نے بیان کیا ہے۔ کلام مکمل ہوئی۔ پھر فرمایا : آیت : ولموتی یبحثھم اللہ اس سے مراد کفار ہیں۔ یہ حسن اور مجاہد سے مروی ہے یعنی وہ مردوں کے قائم مقام ہیں، کیونکہ وہ نہ حجت کو قبول کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف غور کرتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : المیتی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو مر چکا ہے۔ یبعثھم اللہ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو حساب کے لیے اٹھائے گا۔ پہلی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 35–37

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وان کان کبر علیک اعراضھم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض میں نفق سے مراد مزنگ ہے۔ آپ اس میں چلے جائیں پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لے آئیں۔ آپ (ایک سیڑھی) بنالیں لفظ آیت فی السمآء (آسمان میں) اور پھر اس پر آپ چڑھ جائیں لفظ آیت فتاتیھم بایۃ آپ ان کے پاس افضل معجزہ لے آئیں۔ تو ایسا کرلیں لفظ آیت ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی اللہ تعالیٰ سبحانہ فرماتے ہیں اگر میں چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ (2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] لَوْلَا [ کیوں نہیں ] نُزِّلَ [ اتاری گئی ] عَلَيْهِ [ ان پر ] اٰيَةٌ [ کوئی نشانی ] مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ [ ان کے رب (کی طرف ) سے ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] قَادِرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ] عَلٰٓي [ اس پر ] اَنْ [ کہ ] يُّنَزِّلَ [ کہ وہ اتارے ] اٰيَةً [ کوئی نشانی ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ) (اور ان لوگوں نے کہا کہ کیوں نہیں اتاری گئی نشانی اس پر اس کے رب کی طرف سے) نشانیاں تو بہت تھیں لیکن جو اپنی تجویز کردہ نشانی چاہتے تھے اس کے بارے میں انہوں نے یہ بات کہی، اس کے جواب میں فرمایا۔ (قُلْ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلآی اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً ) (آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ نشانی نازل فرمائے) (وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے) اللہ تعالیٰ ان کا پابند نہیں کہ ان کے کہنے کے مطابق معجزات پیدا فرمائے، فرمائش کے مطابق معجزہ پیدا نہ فرمانا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–39

تسلی نبی اکرم ﷺ وتلقین صبر۔ قال اللہ تعالی، قد نعلم انہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔ ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں منکروں کے انکار اور تکذیب کا بیان تھا جس سے نبی کو بمقتضائے شفقت ورافت صدمہ اور رنج ہوتا تھا کماقال تعالی، لعلک باخع نفسک علی۔۔۔ الی۔۔۔ اسفا، وقال تعالی، فلاتذہب نفسک علیھم حسرات۔ آیت۔ لہذا اللہ جل شانہ ان آیات میں نبی کی تسلی اور تشفی فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ ان لوگوں کی تکذیب سے رنجیدہ اور ملول نہ ہو یہ تکذیب کرنے والے آپ کی تکذیب کررہے ہیں بلکہ فی الحقیقت اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جھٹلا رہے ہیں خدا تعالیٰ خود ہی ان کو سمجھ لے گا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں اور آپ کو تو انبیاء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43 یہ شکوہ اور سوال ہے۔ مشرکین کہتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسی نشانی کیوں نہیں دکھائی جاتی جسے دیکھ کر ہم مان لیں۔ اَللہُ قَادِرٌ الخ سے اس کا جواب دیا گیا کہ معجزہ دکھانے پر تو اللہ تعالیٰ قادر ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اگر منہ مانگے معجزے کا انکار کیا جائے تو فوراً ہلاکت آجاتی ہے اور مہلت نہیں ملتی۔ اس لیے بندوں کی خیر خواہی اور بہتری اسی میں ہے کہ ان کا مطلوبہ معجزہ نہ دکھایا جائے۔ قال ابن عطیۃ لا یعلمون انھا لو انزلت ولم یومنوا لعوجلوا بالعذاب (بحر ج 4 ص 11) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–41

توحید ‘ رسالت اور معاد کے انکار اور پیغمبر اسلام سے نشانیاں طلب کرنے کا سلسلہ کئی دروس سے بیان ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منکرین کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی ‘ جیسا کہ پہلے انبیاء کرتے رہے ہیں اور نشانیوں کے متعلق فرمایا کہ اگر ان کو حسب خواہش نشانی مہیا بھی کردی جائے تو پھر بھی یہ انکار ہی کریں گے۔ آج کی آیات میں بھی مشرکین کی طرف سے نشانیاں طلب کرنے کا ہی ذکر ہے اور پھر اس ضمن میں حضور ﷺ کو بعض ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وقالوا لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ ان منکرین نے کہا کیوں نہیں اتاری جاتی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے۔ اور نشانی سے مراد ان کے نزدیک ایسی نشانی ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْہِ اٰيَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ۝ 0ۭ قُلْ اِنَّ اللہَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يُّنَزِّلَ اٰيَۃً وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 37 «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ کہ معجزہ نازل نہ کرنے میں کیا کیا مصلحت ہے۔ 12 منہ ترکیب : فراء نے کہا ہے ارایت کا لفظ عرب میں دو معنی میں استعمال ہوتا ہے ایک رویۃ العین جب کسی کو کہے گا رایتک تو اس سے مراد ارایت نفسک ہے یہ مثنیٰ و مجموع ہوتا ہے ارایتکما ارایتکم دوسرے معنی رایتک اخبرنی جب ان معنی میں استعمال ہوگا تو ت مفتوحہ لاویں گے ہر حال میں ارایتک، ارایتکما، ارایتکم، ارایتکن بصریوں کے نزدیک ارایتک میں کاف جو ضمیر ثانی ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں بلکہ یہ حرف صرف خطاب کے لیے ہے۔ فراء کہتے ہیں کاف تاکید کے لئے نہیں۔ تفسیر : منکرین نبوت کے شبہات کی یہ چوتھی قسم ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمارے کہنے کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہوتا ہے : وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌمِّنْ رَّبِّہٖ ط قُل اِنَّ اللہ َ قَادِرٌعَلٰٓی اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ (الانعام : 37) ” اور یہ کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی۔ ان سے کہہ دو کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتار دے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے “۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں انھوں نے جس نشانی کا مطالبہ کیا وہ کوئی عام معجزہ نہیں بلکہ اس نشانی سے مراد یہ ہے کہ تم جو ہمیں ہمیشہ ڈراتے رہتے ہو کہ اگر تم ایمان نہ لائے اور تم نے میری دعوت قبول نہ کی تو اندیشہ ہے کہ تم پر خدا کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حق کا انکار کرنے کے باوجود کفارکا بار بار نبی ﷺ سے معجزات کا مطالبہ کرنا۔ منکرین حق گاہے، گاہے رسول معظم ﷺ سے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے لیکن جونہی ان کے پاس کوئی معجزہ آتا تو نہ صرف اس کا انکار کرتے بلکہ الٹا آپ کو جادو گر ہونے کا الزام دیتے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے تو درجنوں ایسی آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار نے نہ صرف آپ ﷺ سے عجیب و غریب معجزات کا مطالبہ کیا بلکہ ایک موقع پر انھوں نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر یہاں تک اپنے لیے مطالبہ کیا : (وَإِذْ قَالُواْ اللّٰہُمَّ إِن کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عندِکَ فَأَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَاء…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مُنہ مانگی نشانی کا مطالبہ : آیت 37 : وَقَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ کیوں نہ اتارا گیا اس پر ٰایَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖجیسا کہ وہ لوگ جو مطالبہ کرتے کہ صفا پہاڑ کو سونا بنادیں اور مکہ کی سرزمین سے پہاڑ ہٹا کر وسیع میدان بنادیں۔ اور چشمے جاری کردیئے جائیں۔ قُلْ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلٰٓی اَنْ یُّنَزِّلَ ٰایَۃًجیسا کہ انہوں نے مطالبہ کیا۔ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْمَلُوْنَ لیکن اکثریت ان کی نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ اس نشانی کو اتارنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ یا وہ نہیں جانتے کہ نشانی اتارنے میں کیا آزمائشیں ہیں۔ اگر اس کو اتار دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 36–38

آیت نمبر 38, 37, 36 تفسیر : (انما یستجیب الذین یسمعون) یعنی مومنین جو نصیحت کو سنتے اور اس کی اتبع کرتے ہیں تو ان کو نفع دیتی ہے نہ کہ وہ لوگ جن کے کانوں پر اللہ نے مہر کردی ہو ( والموتی یعنھم ) یعنی کفار کو ص اللہ ثم الیہ یرجعون ) پھر ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو رسوا کریں گے۔ (وقالوا) یعنی قریش کے سردار ( لولا نزل علیہ ایۃ من ربہ ط قل ان اللہ قادر علی ان ینزل ایۃ لوکن اکثرھم لایعلمون) کہ اس نشانی کے اتارنے میں ان پر کیا مصیبت ہوگی۔ (وما من دابۃ فی الارض ولا طنریطیر بجناحیہ الا امم امثالکم) اھم امثالکم کی تفسیر مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہر ایک کی اقسام ہیں جو اپنے نام سے پہچانی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–39

(37 ۔ 39) ۔ اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ میں سے جو لوگ علم ازلی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں کوئی معجزہ مفید نہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ ان میں کے بعض جلد باز سرکش لوگ گھڑ ی گھڑی معجزہ کا تقاضا جو کرتے ہیں ان کو جواب دیا جاوے کہ اللہ کی قدرت سے تو کوئی معجزہ بعید نہیں ہے لیکن عادت الٰہی کے یوں جاری ہے کہ کسی قوم کی خواہش کے موافق اللہ کے رسول سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا اور پھر وہ قوم راہ راست پر نہ آوے تو قوم ثمود کی طرح وہ قوم غارت ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ اس عادت الٰہی سے واقف نہیں اس لئے یہ گھڑی گھڑی معجزہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ لوگ قدرت الٰہی کا نمونہ دیکھنے کے لئے معجزہ چاہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–37

آیت 36 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے (انما یستجیب) ” بلا شبہ قبول کریں گے۔ “ آپ کی دعوت اور آپ کی رسالت پر صرف وہی لوگ لبیک کہیں گے اور آپ کے امرو نہی کے سامنے صرف وہی لوگ سر تسلیم خم کریں گے (الذین یمسمعون) ” جو سنتے ہیں۔ “ یعنی جو اپنے دل کے کانوں سے سنتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور یہ عقل اور کان رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہاں سننے سے مراد دل سے سننا اور اس پر لبیک کہنا ہے ورنہ مجرد کانوں سے سننے میں نیک اور بدسب شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن کر تمام مکلفین پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی اور حق کو قبول نہ کرنے کا ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔ (والموتی یبعثھم اللہ ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58 اکثر لوگ نور علم سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں حق اور حقیقت کو۔ اور اس بات کو کہ ایسے کسی فرمائشی معجزے کا پورا نہ ہونا خود انہی کے لئے بہتر ہے کہ قانون قدرت یہ ہے کہ ایسی فرمائش کی تکمیل کے بعد جو لوگ مانتے نہیں وہ ہمیشہ کے لئے تباہ کردیے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ پاک کیلئے ان لوگوں کی ایسی فرمائشوں کو پورا کرنا کوئی مشکل امر نہیں تھا کہ وہ قادر مطلق ہے۔ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ مگر اس نے اپنی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق ایسا نہیں کیا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ بات نکلتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 37–41

مشرکین مکہ کا مطالبہ اور مصیبت میں اللہ کو یاد کرنا تشریح : ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو پوری طرح کفر کے قبضہ میں آچکے تھے اور نبی اکرم ﷺ کو ہر وقت تنگ کرتے تھے ان کی پوری طرح مخالفت کرتے اور الٹی سیدھی فرمائشیں کرتے اور کہتے تھے کہ ہمیں کوئی ایسے معجزات دکھائو جو فطرت انسانی کے خلاف ہوں، مثلاً آپ ﷺ آسمان پر چڑھ جائیں یا اوپر سے لکھی ہوئی کتاب لے آئیں وغیرہ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ اگر اپنے اردگرد پھیلی ہوئی تمام چیزوں کو دیکھ کر اللہ کو نہیں مانتے تو ان کا کوئی علاج نہیں کیونکہ جب ایک عقلمند انسان دنیا اور اس کی تمام چیزوں پر غور کرتا ہے تو فوراً اللہ کو پہچان لیتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–41

رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔ اسرار و معارف : اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

منکرین نبوت یہ شبہ بھی پیش کرتے کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو اپنے ساتھ کوئی محسوس معجزہ کیوں نہیں لاتے جسے دیکھ کر ہر شخص کو معلوم ہوجاتا کہ یہ واقعی اللہ کی طرف سے بھیجا ہو ارسول ہے6 خدا کی حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ اگر صاف کھلی نشانی اجائے جیسے مائدہ جو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانے میں تارا گیا یا اور نٹنی جو حضرت صالح کے عہد میں بھیجی گئی اور پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو اللہ کے قانون کے مطابق ان کی مدت مہلت ختم ہوجائے گی اور فورا عذاب ’ آجائے گا لیکن اللہ کی رحمت کا تْقاضا یہ ہے کہ ان کو ہلاک نہ کیا جائے مگر یہ اس بات کو نہیں مانتے (رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 36–37

(6:36) یستجیب۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ استجابۃ (استفعال) سے مصدر ج و ب حروف مادہ۔ دعوت قبول کرتے ہیں۔ الموتی۔ المیت کی جمع۔ مردے۔ یہاں الذین یسمعون کے مقابلہ میں الموتی واقع ہوا ہے سننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں ۔ جو نیک و بد میں تمیز کرسکتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مردہ وہ لوگ ہیں جو لکیر کے فقیر ہیں۔ اور اپنی ہٹ دھرمی اور تعصب کی وجہ سے کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔ یبعثھم اللہ۔ یبعث مضارع واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ن کو اٹھائے گا۔ والموتی یبعثم اللہ۔ رہے مردے تو انہیں تو اللہ تعالیٰ بس قبروں ہی سے اٹھائیگا (تفہیم القرآن) یعنی جو مردہ دل اور مردہ ضمیر ہیں وہ تو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 37–41

لغات القرآن : آیت نمبر 37 تا 41 : نزل (نازل کیا گیا) دآ بۃ (زمین میں رینگ کر چلنے والے جاندار) طائر (پرندہ) جناحیہ (جناح) پر۔ اڑنے کے بازو) ‘ امم (امتیں۔ جماعتیں) امثالکم ( تم جیسے) من یشاء اللہ (جسے اللہ چاہتا ہے) ‘ تدعون ( تم پکارتے ہو) یکشف (وہ کھول دے گا۔ کھولتا ہے) ‘ تنسون ( تم بھول جاتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 37 تا 41 : ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ جو کفار اور مشرکین نئے نئے معجزات اور نشانیوں کی فرمائشیں کررہے ہیں ‘ یہ ایمان لانے کی خاطر نہیں بلکہ بات ٹالنے اور بہانے تراشنے کی خاطر ہے اگر ان کی فرمائش پوری کردی جائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–39

آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ ان میں کے بعضے جلد باز سرکش لوگ گھڑی گھڑی معجزہ کا تقاضا جو کرتے ہیں ان کو جواب دیا جاوے کہ اللہ کی قدرت سے تو کوئی معجزہ بعید نہیں ہے لیکن عادت الہی یوں جاری ہے کہ کسی قوم کی خواہش کے مطابق اللہ کے رسول سے کوئی معجزہ ظاہر ہو اور وہ قوم راہ راست پر نہ آوے تو قوم ثمود کی طرح وہ قوم غارت ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ قدرت الہی کا نمونہ دیکھنے کے لئے معجزہ چاہتے ہیں تو آسمان کی مخلوقات تو ان کی نگاہ سے دور ہیں، لیکن زمین پر چلنے پھرنے والی مخلوقات اور ہوا پر اڑنے والے پر دار جانور (پرندے) ان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کانمونہ ٹھرانے کے لئے کافی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–37

[15] نشانی سے مراد معجزہ ہے۔ [16] یعنی معجزہ نہ دکھانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دکھانے سے عاجز ہے بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے جسے یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے جو راہ پسند کی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اپنی عقل و ادراک کو استعمال کریں، آفاق وانفس کے دلائل پر غور کریں، پیغمبر کی باتیں سنیں، سوچیں اور سمجھیں اور اپنے اختیارات و ارادے سے ایمان کی راہ اختیار کریں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–37

(ف 2) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ شفقت نبوی سے مجبور ہو کر چاہتے ہیں کہ مکہ والوں کو اتمام حجت کے لئے وہ سب کچھ دکھایا جائے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، یعنی خوارق ومعجزات اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ نہایت غلط ذہنیت ہے ، ہم معجزہ طلبی کی اس روح کو پسند نہیں کرتے ، ہمارے لئے سب کچھ ممکن ہے اور کوئی معجزہ یا نشانی ہمارے احاطہ قدرت سے باہر نہیں ، مگر یہ کیا ضرور ہے کہ ان کی ہر خواہش پر قدرت کے قوانین بدل جائیں ۔ اور بات یہ ہے کہ یہ چونکہ روحانی طور پر مردہ ہوچکے ہیں ، اس لئے قطعا سزاوار التفات نہیں (آیت) ” ان کان کبرعلیک اعراضھم “ سے غرض یہ ہے کہ آپ اپنی سی کر دیکھیں ان کی ہر خواہش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-37 اور یہ منکر کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی طرف سے ہماری حسب خواہش کوئی منہ مانگی نشانی اور معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اور تمہاری فرماش کے موافق نشانی نازل کر دے لیکن ان میں سے اکثر اس کے نتائج سے واقف نہیں ہیں یعنی یہ اس بات کو نہیں جانتے کہ فرمائشی نشان کے بعد ایمان نہ لانے سے ہلاکت اور عذاب استیصال ہیں مبتلا ہوجاتے ہیں جیسا کہ ثمود کے ساتھ ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–37

ف 5۔ فلاتکونن من الجاھلین وعظ و محبت کے طور پر ہے اور لفظ جہل یا جہالت سے ترجمہ کرنا بوجہ اس کے کہ ہمارے محاورے میں یہ الفاظ تحقیر وتحمیق وتوبیخ کے لیے مستعمل میں موہم بےادبی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کا مطالبہ کیا ہے ؟ یہی کہ آپ ﷺ پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری جاتی : 57: یہ مطالبہ کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ وہی کفار جن کا ذکر پیچھے گزر چکا۔ یہ نشانی طلب کر رہے ہیں یا عذاب الٰہی کو دعوت دے رہے ہیں ؟ اس لئے کہ دراصل وہ مذاق کر رہے ہیں جب آپ ﷺ بار بار کہتے ہیں کہ اگر تم نے حق کو تسلیم نہ کیا تو تباہ و برباد ہوجاؤ گے۔ دراصل ان کا مدعایہ ہے کہ جب ہم اس حق کو جس کو تو ” حق “ کہتا ہے قبول نہیں کر رہے تو پھر ہم پر عذاب آکیوں نہیں جاتا۔ اس طرح وہ اور بھی فرمائشیں نبی اعظم و آخر ﷺ سے کیا کرتے تھے جیسے یہ کہ اس ریگ زار میں دریا بہنے لگیں۔ چشم زون میں یہاں سرسبز و شاداب باغات لہلہانے لگیں اور ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–37

Commentary About the statement: فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ (it is not you they are belying, rather, it is the signs of Allah they are denying) in the first verse (33), there is a related event, reported in Tafsir Mazhari on the authority of a narration by As-Suddiy, according to which, once Akhnas ibn Shuraiq and Abu Jahl, two chiefs of the Quraysh tribe met together. Akhnas asked Abu Jahl: 0 Abul-Hikam, (In Arabia, Abu Jahl was called Abul-Hikam - 'man of wisdom' - but because of his hostility to Islam, he became known as Abu-Jahl - 'man of ignorance' ), you and me are alone here. There…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

26. The word ayah here signifies a tangible miracle. The purpose of the verse is to point out that the reason for not showing a miraculous sign is not God's powerlessness. The true reason is something else which those people in their immaturity, have failed to comprehend.

Read the full tafseer →