Explained with ayahs 33–36
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ ﷺ سچے ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں، فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟ کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے ؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ چنانجہ ابو جہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، حکم کی روایت میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
سورة الْاَنْعَام 23
نبی ﷺ جب دیکھتے تھے کہ اس قوم کو سمجھاتے سمجھاتے مدتیں گزر گئی ہیں اور کسی طرح یہ راستی پر نہیں آتی تو بسا اوقات آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ کاش کوئی نشانی خدا کی طرف سے ایسی ظاہر ہو جس سے ان لوگوں کا کفر ٹوٹے اور یہ میری صداقت تسلیم کرلیں۔ آپ کی اسی خواہش کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بےصبری سے کام نہ لو۔ جس ڈھنگ اور جس ترتیب و تدریج سے ہم اس کام کو چلوا رہے ہیں اسی پر صبر کے ساتھ چلے جاؤ۔ معجزوں سے کام لینا ہوتا تو کیا ہم خود نہ لے سکتے تھے ؟ مگر ہم جانتے ہیں کہ جس فکری و اخلاقی انقلاب اور جس مدنیت صالحہ کی تعمیر کے کام پر تم مامور کیے گئے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
خلاصہ تفسیر
کفار کے بیہودہ کلمات پر، رسول اللہ ﷺ کی تسلی
ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کو ان (کفار) کے اقوال مغموم کرتے ہیں سو (آپ ﷺ غم میں نہ پڑئیے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے کیونکہ) یہ لوگ (براہ راست) آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا (قصداً) اکار کرتے ہیں، (گو اس سے آپ ﷺ کی تکذیب بھی لازم آتی ہے مگر ان کا اصل مقصود آیات اللہ کی تکذیب ہے، جیسا کہ ان میں بعض مثلاً ابو جہل اس کے اقراری بھی ہیں، اور جب ان کا اصل مقصد آیات اللہ کی تکذیب ہے تو ان کا یہ معاملہ خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوا، وہ خود ہی ان کو سمجھ لیں گے، آپ ﷺ کیوں غم میں مبتلا ہوں) اور (کفار کی یہ تکذیب…
Read the full tafseer →اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ والموتی۔ یسمعون، یہاں اپنے حقیقی معنی میں ہے یعنی جو سنتے اور سمجھتے ہیں۔ جو سنتے ہیں اور سمجھت نہیں ان کا سننا اور نہ سننا دونوں برابر ہے۔ ‘ موتی ’ سے مراد یہاں عقل اور دل کے مردے ہیں اس لیے کہ زندگی درحقیقت عقل اور دل ہی کی زندگی ہے۔ ع۔ مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں۔
نبی کے لیے محبت آمیز عتاب : ان آیات میں بظاہر نبی ﷺ پر عتاب ہے لیکن یہ عتاب بڑا محبت آمیز عتاب ہے اور اگر اس میں کوئی تلخی اور ترشی ہے تو اس کا رخ تمام تر ان ضدیوں اور ہٹ دھرموں کی طرف ہے جن کی ایمان کی آرزو پیغمبر کے اندر اتنی شدید تھی کہ آپ ان میں سے کو بھی ایمان سے محروم دیکھنے پر…
Read the full tafseer →36۔ 1 اور ان کافروں کی حیثیت تو ایسی ہے جیسے مردوں کی ہوتی ہے۔ جس طرح وہ سننے اور سمجھنے کی قدرت سے محروم ہیں یہ بھی چونکہ اپنی عقل فہم سے حق کو سمجھنے کا کام نہیں لیتے اس لئے یہ بھی مردہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
10: آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے معجزات عطا فرمائے تھے، جن میں سب سے بڑا معجزہ خود قرآن کریم تھا ؛ کیونکہ آپ کے امی ہونے کے باوجود یہ فصیح وبلیغ کلام آپ پر نازل ہوا، تنہا یہی ایک معجزہ ایک حق کے طلب گار کے لئے کافی تھا ؛ لیکن کفار مکہ اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے ہر روز نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، اس سلسلے میں جس قسم کے بیہودہ مطالبات وہ کرتے تھے ان کی ایک فہرست قرآن کریم نے سوہ بنی اسرائیل (15۔ 89) میں بیان فرمائی ہے، اس پر کبھی کبھی آنحضرت ﷺ کو بھی یہ خیال ہوتا تھا کہ اگر ان کے فرمائشی معجزات میں سے کوئی معجزہ دکھادیا جائے تو شاید یہ لوگ ایمان لاکر جہنم سے بچ جائیں، اس آیت میں…
Read the full tafseer →(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُہُمُ اللّہُ ثُمَّ إِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (36) عوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے) واپس لائے جائیں گے ۔ “
جب کوئی رسول دعوت حق لے کر لوگوں کے پاس آتا ہے تو اس دعوت کے مقابلے میں لوگ دو گروہ بن جاتے ہیں ۔ ایک فریق تو زندہ اور بیدار لوگوں کا ہوتا ہے ‘ جن کے اندر قبولیت حق کی استعداد ہوتی ہے ‘ یہ استعداد کام کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے دل کے دریچے کھلے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ ہدایت قبول کرلیتے ہیں اس لئے کہ ہدایت اور سچائی…
Read the full tafseer →3 یعنی سب سے توقع نہ رکھو کہ مانیں گے، جن کے دل کے کان بہرے ہوگئے وہ سنتے ہی نہیں، پھر مانیں کس طرح ؟ ہاں یہ کافر جو قلبی و روحانی حیثیت سے مردوں کی طرح ہیں قیامت میں دیکھ کر یقین کریں گے اور ان چیزوں کو مانیں گے جن کا انکار کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 35 وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُہُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَہُمْ بِاٰیَۃٍ ط
ہمارا تو فیصلہ اٹل ہے کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نہیں دکھائیں گے ‘ آپ لے آئیں جہاں سے لاسکتے ہیں۔ غور کریں کس انداز میں حضور ﷺ سے گفتگو ہو رہی ہے۔
وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدٰی
اگر اللہ چاہتا تو آن واحد میں سب کو صاحب ایمان بنا دیتا ‘ نیک بنا دیتا۔
فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ
اس معاملے میں آپ جذباتی نہ ہوں۔ یہی لفظ سورة ہود میں حضرت نوح علیہ السلام سے خطاب میں آیا ہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کی کہ اے اللہ…
Read the full tafseer →41 جن لوگوں کو ہدایت مطلوب ہوتی ہے وہ تمہاری باتوں کو غور سے سنتے ہیں پھر وہ ہدایت قبول بھی کرتے ہیں مگر جن لوگوں کے دل اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مرچکے ہیں وہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے یہ لوگ جیتے جی اپنے اختیار سے تو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے نہیں۔ البتہ جب مرجائیں گے اور اللہ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا تب انہیں اضطراری طور پر اللہ کے حضور پیش ہونا ہی پڑے گا۔
Read the full tafseer →58 ۔ (کلام حق وپیام حق کو بہ قصد قبول حق) قبول حق کی پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ پیام حق کو بلاعناد وقصد مخالفت، خلوئے ذہن کے ساتھ سنا تو جائے۔ ای سماع اصغاء وتفھم وارادۃ الحق (قرطبی) والمراد بالسماع سماع الفھم والتدبر (روح)
59 ۔ (حساب کے لئے) اس وقت پوری حقیقت کھل کررہے گی، دنیا میں پوری سزا اعراض و انکار کی اگر نہ بھی ملی تو کیا ہوا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
وَاِن کان کبُرَ عَلیْکَ اِعْراضھم (الآیۃ) مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نشان ہمیشہ رہنا چاہیے جسے ہم کوئی دیکھ کر یقین کرنے پر ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے، چونکہ آپ ﷺ تمام انسانوں خصوصاً قریش میں ہدایت پر بہت حریص تھے شاید آپ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ کاش ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے تو شاید ان کا کفر ہٹ جائے جس کی وجہ سے قوم کی ہدایت کے راستے کھل جائیں، اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تلوینیات میں مشیت۔۔۔ کے تابع رہو تکوین کا مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ تو خدا اس پر بھی قادر ہے کہ پیغمبروں کے توسط اور نشانیوں…
Read the full tafseer →انما یستجیب الذین یسمعون۔ (آپ کی دعوت کو تو) وہی لوگ قبول کریں گے جو (حق و قبول کے کانوں سے) سنتے ہیں یعنی سنی ہوئی بات کی حقانیت کا علم جن کے ‘ دلوں کے اندر اللہ نے پیدا کردیا ہو۔ سننے سے مراد ہے سن کر جاننا کیونکہ سننے کے بعد علم کی تخلیق اللہ کا دستور ہے۔
والموتی اور مردے یعنی کافر (کیا سنیں گے۔ کافروں کے دلوں پر اللہ نے قفل ڈال دیا ہے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اسی لئے وہ حق کو حق اور باطل کو باطل نہیں جانتے گویا مردے ہیں۔
یبعثہم اللہ ان کو (تو بس قیامت کے دن) اللہ اٹھائے گا (تو اٹھیں گے)
ثم الیہ یرجعون۔ پھر اللہ ہی کی طرف سب کو لوٹایا جائے گا۔ وہی ان کو کفر کی…
Read the full tafseer →(36) غزوہ بدر، احد، احزاب میں جو لوگے مرے یا یہ کہ ان کے دل مردہ ہیں، وہ سب مرنے کے بعد میدان حشر میں پیش کیے جائیں گے، پھر ان کے اعمال کی جزا وسزا ملے گی۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو مردوں کے مشابہ قرار دیا ہے جن کو جتنا بھی پکارا جائے وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے، یعنی ان کفار کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور ان مردوں کو اگر عقل آئے گی تو اسی وقت جب اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور ان کا محاسبہ کرے گا۔ سورة نمل کی آیات (80، 81) اس کی ہم معنی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت نمبر 36 تا 37 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : انما یستجیب الذین یسمعون یعنی جو غور سے سنتے اور سمجھتے ہیں اور حق کا ارادہ سنتے ہیں یہ وہ مومنین ہیں جو قبول کرتے ہیں اسے جو سنتے ہیں اور اس سے نفع حاصل کرتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ یہ معنی حسن اور مجاہد نے بیان کیا ہے۔ کلام مکمل ہوئی۔ پھر فرمایا : آیت : ولموتی یبحثھم اللہ اس سے مراد کفار ہیں۔ یہ حسن اور مجاہد سے مروی ہے یعنی وہ مردوں کے قائم مقام ہیں، کیونکہ وہ نہ حجت کو قبول کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف غور کرتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : المیتی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو مر چکا ہے۔ یبعثھم اللہ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو حساب کے لیے اٹھائے گا۔ پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وان کان کبر علیک اعراضھم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض میں نفق سے مراد مزنگ ہے۔ آپ اس میں چلے جائیں پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لے آئیں۔ آپ (ایک سیڑھی) بنالیں لفظ آیت فی السمآء (آسمان میں) اور پھر اس پر آپ چڑھ جائیں لفظ آیت فتاتیھم بایۃ آپ ان کے پاس افضل معجزہ لے آئیں۔ تو ایسا کرلیں لفظ آیت ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی اللہ تعالیٰ سبحانہ فرماتے ہیں اگر میں چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ…
Read the full tafseer →اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَسْتَجِيْبُ [ جواب دیتے ہیں (یعنی مانتے ہیں )] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يَسْمَعُوْنَ ۭ [ سنتے ہیں ] وَالْمَوْتٰى [ اور مردے ] يَبْعَثُهُمُ [ اٹھائے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] ثُمَّ [ پھر ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ہی ] يُرْجَعُوْنَ [ وہ لوٹائے جائیں گے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ ) (حق کو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو قبول کرنے کے ارادہ سے سنتے ہیں) (وَ الْمَوْتٰی یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ ) (اور مردہ لوگ یعنی کافر جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن اٹھائے گا) (ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ) (پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) اور اپنے عقیدہ اور عمل کی سزا پالیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–39
تسلی نبی اکرم ﷺ وتلقین صبر۔
قال اللہ تعالی، قد نعلم انہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں منکروں کے انکار اور تکذیب کا بیان تھا جس سے نبی کو بمقتضائے شفقت ورافت صدمہ اور رنج ہوتا تھا کماقال تعالی، لعلک باخع نفسک علی۔۔۔ الی۔۔۔ اسفا، وقال تعالی، فلاتذہب نفسک علیھم حسرات۔ آیت۔ لہذا اللہ جل شانہ ان آیات میں نبی کی تسلی اور تشفی فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ ان لوگوں کی تکذیب سے رنجیدہ اور ملول نہ ہو یہ تکذیب کرنے والے آپ کی تکذیب کررہے ہیں بلکہ فی الحقیقت اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جھٹلا رہے ہیں خدا تعالیٰ خود ہی ان کو سمجھ لے گا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں اور آپ کو تو انبیاء…
Read the full tafseer →42 یَسْمَعُوْنَ کے معنی یُنِیْبُوْنَ کے ہیں یعنی صرف وہی لوگ حق کو قبول کرتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کی طرف رغبت ہو بقرینہ وَ مَا یَتَذَّکَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ (مومن ع 2) اور الموتی (مردے) سے یہاں کفار و مشرکین مراد ہیں کیونکہ ان کے ایمان و توحید سے خالی ہونے کی وجہ سے مردہ اور بےجان ہیں۔ والموتی ای الکفار کما قال الحسن ورواہ عنہ غیر واحد وفی اطلاق الموتی علی الکفار استعارۃ تبعیۃ مبنیۃ علی تشبیہ کفرھم وجھلھم بالموت (روح ج 7 ص 142)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
گزشتہ کئی دورس سے کفر و شرک کی تردید ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معاد کا انکار کرنے والوں کا ذکر کیا ‘ پھر ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ‘ گزشتہ آیات میں فرمایا کہ تکذیب کرنے والے خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں یہ لوگ اس وقت کف افسوس ملیں گے جب کسی کو موت آجائے گی یا قیامت واقع ہوگی مگر اس وقت کی ندامت کچھ مفید نہ ہوگی۔ ان لوگوں کو اپنے کفر ‘ شرک ‘ اور معاصی کا بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھانا پڑے گا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ یہ دنیا تو ناپائیدار بل کی فانی ہے۔ یہ کھیل کود کی طرح جلد ہی ختم ہوجائے گی ‘ اور پھر ہر ایک کو دائمی زندگی سے واسطہ پڑے گا۔ فرمایا خدا خوفی رکھنے والوں اور کفر و شرک اور معاصی…
Read the full tafseer →اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِيْنَ يَسْمَعُوْنَ 0ۭؔ وَالْمَوْتٰى يَبْعَثُہُمُ اللہُ ثُمَّ اِلَيْہِ يُرْجَعُوْنَ 36۬
استجاب
والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24]
( ج و ب ) الجوب
الاستاأبتہ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی اجابتہ ( افعال ) کے ہے اصل میں اس کے معنی جواب کے لئے تحری کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اجابتہ سے تعبیر کرلیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے ۔ قرآن میں ہے : اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] کہ خدا اور…
Read the full tafseer →2 ؎ یعنی جو دل سے سن سکتے ہیں وہی ایمان لاتے ہیں اور یہ زندہ دلوں کا کام ہے اور منکر مردہ دل ہیں۔ پھر مردوں کو دنیا میں کیا ہدایت ہوگی۔ ان کو تو اللہ ہی قیامت میں زندہ کرے گا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
اِنَّمَا یَسْتَجَیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ ط وَالْمَوْتٰی یَبْعَثُھُمُ اللہ ُ ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ۔ (الانعام : 36)
(بات تو وہی مانیں گے ‘ جو سنتے سمجھتے ہیں۔ رہے یہ مردے تو اللہ ان کو اٹھائے گا ‘ پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے)
قبولِ حق کے لیے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت ضروری ہے
یعنی ایمان لانے کے لیے اور اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے سب سے پہلی صفت جو درکار ہے وہ یہ ہے کہ جس کو دعوت دی جائے وہ اسے غور سے سنے اور سمجھے (اس آیت کریمہ میں یَسْمَعُوْنَ اپنے مکمل معنی میں ہے یعنی جو سنیں بھی اور سمجھیں بھی) جو مخاطب سرے سے سنتا ہی نہیں یا سنتا ہے لیکن سمجھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ ایک حقیقت بتلائی گی ہے کہ تمام کے تمام انسان سچائی پر اکٹھے نہیں ہوا کرتے۔
لوگوں کی ہدایت کے بارے میں رسول محترم ﷺ کے جذبات کا جواب جس میں ایک طرح کی آپ کو تسلی دینے کے ساتھ تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ صبح وشام اس تڑپ اور کوشش میں تھے کہ کسی طرح یہ لوگ ہدایت سے ہم کنار ہوجائیں۔ اس کے لیے بحیثیت ایک انسان اور داعی کے یہ خیالات پیدا ہوتے تھے کہ کاش اللہ تعالیٰ کفار کے مطالبات کو من و عن پورا فرما دے تاکہ کوئی شخص بھی ہدایت سے محروم نہ رہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اہل مکہ نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ زمین میں سرنگ لگا کر ہمارے لیے اس کے…
Read the full tafseer →ان سے حرص ہدایت بےفائدہ ہے :
آیت 36 : پھر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی کہ ان کی ہدایت کی حرص فائدہ مند نہیں۔ کیونکہ وہ مردوں کی طرح آپ کی بات کو سنتے ہی نہیں۔ اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَآپ کی بات کو بلاشبہ وہ قبول کریں گے جو بات کو دلوں سے سنتے ہیں۔ وَالْمَوْتٰی یعنی کفار۔ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَپس اس وقت یہ سنیں گے۔ البتہ اس سے پہلے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت نمبر 38, 37, 36
تفسیر : (انما یستجیب الذین یسمعون) یعنی مومنین جو نصیحت کو سنتے اور اس کی اتبع کرتے ہیں تو ان کو نفع دیتی ہے نہ کہ وہ لوگ جن کے کانوں پر اللہ نے مہر کردی ہو ( والموتی یعنھم ) یعنی کفار کو ص اللہ ثم الیہ یرجعون ) پھر ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو رسوا کریں گے۔
(وقالوا) یعنی قریش کے سردار ( لولا نزل علیہ ایۃ من ربہ ط قل ان اللہ قادر علی ان ینزل ایۃ لوکن اکثرھم لایعلمون) کہ اس نشانی کے اتارنے میں ان پر کیا مصیبت ہوگی۔
(وما من دابۃ فی الارض ولا طنریطیر بجناحیہ الا امم امثالکم)
اھم امثالکم کی تفسیر
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہر ایک کی اقسام ہیں جو اپنے نام سے پہچانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35 ۔ 36) ۔ ابو صالح کی روایت سے ابن جوزی نے اپنی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں اس بات کی بڑی آرزو تھی کہ آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ میں تشریف رکھنے کے زمانہ میں ہی سب قریش ایمان لے آویں اس آرزو کے سبب سے جو معجزے قریش چاہتے تھے آپ کا دل چاہتا تھا کہ فورًا اس معجزہ کا ظہور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوجاوے لیکن علم الٰہی میں ہر کام کا وقت مقرر ہے وقت سے پہلے کوئی کام نہیں ہوتا ازلی قرار دادیوں تھی کہ فتح مکہ کے بعد مکہ میں اسلام عام طور پر پھیلے اور اس بائیس برس کے عرصہ میں جو زمانہ آپ کی نبوت اور فتح مکہ کا ہے قریش میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت 36
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے (انما یستجیب) ” بلا شبہ قبول کریں گے۔ “ آپ کی دعوت اور آپ کی رسالت پر صرف وہی لوگ لبیک کہیں گے اور آپ کے امرو نہی کے سامنے صرف وہی لوگ سر تسلیم خم کریں گے (الذین یمسمعون) ” جو سنتے ہیں۔ “ یعنی جو اپنے دل کے کانوں سے سنتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور یہ عقل اور کان رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہاں سننے سے مراد دل سے سننا اور اس پر لبیک کہنا ہے ورنہ مجرد کانوں سے سننے میں نیک اور بدسب شامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن کر تمام مکلفین پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی اور حق کو قبول نہ کرنے کا ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔ (والموتی یبعثھم اللہ ثم…
Read the full tafseer →56 صدق و اخلاص باعث سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہدایت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں کھلے دل، صاف نیت اور صحیح ارادے سے۔ اور حق و ہدایت کو اپنانے اور قبول کرنے کی غرض سے۔ اور جو اس کے بغیر سنتے ہیں وہ محروم رہتے ہیں۔ سو صدق و اخلاص باعث سرفرازی ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ ۔ سو جو صحیح نیت سے سنتے ہیں وہ سمجھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کو قبول حق کی توفیق وسعادت نصیب ہوتی ہے۔ اور جو صحیح نیت و ارادے سے نہیں سنتے، ان کو سمجھنے کی توفیق نہیں ملتی۔ اور ایسوں کا سننا نہ سننا برابر ہوتا ہے اور وہ محروم کے محروم ہی رہتے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل صم، بکم، عمی کے مصداق ہوتے ہیں۔ اور یہ کان،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
رسول اللہ ﷺ کی دلجوئی اور کفار کی اصلیت
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں آپ بالکل نہ گھبرائیں آپ ﷺ کی سچائی اور اچھائی کے تو یہ لوگ ماننے والے ہیں اسی لیے آپ کو نبوت سے پہلے صادق اور امین کے ناموں سے اہل مکہ ِ پکارتے تھے۔ لیکن جونہی آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اللہ کی توحید کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کیا تو کفار آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزام لگانے لگے اور آپ ﷺ کو ہر طرح کی تکلیفیں اور دکھ دینے لگے تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ آپ کی دشمنی میں نہیں کر رہے بلکہ یہ تو میری دشمنی میں مجھے جھٹلانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔
اسرار و معارف :
اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…
Read the full tafseer →ف 4 اس آیت میں آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو مردوں سے مشابہ قرار دیا ہے جن کو جتنا پکارا جائے وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے یعنی ان کافروں کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں۔ اور ان میں فہم وفکر کی قوت ختم ہوچکی ہے ان کو اگر عقل آئے گی تو اس وقت جب اللہ تعالیٰ ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور ان محاسبہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(6:36) یستجیب۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ استجابۃ (استفعال) سے مصدر ج و ب حروف مادہ۔ دعوت قبول کرتے ہیں۔
الموتی۔ المیت کی جمع۔ مردے۔ یہاں الذین یسمعون کے مقابلہ میں الموتی واقع ہوا ہے سننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں ۔ جو نیک و بد میں تمیز کرسکتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مردہ وہ لوگ ہیں جو لکیر کے فقیر ہیں۔ اور اپنی ہٹ دھرمی اور تعصب کی وجہ سے کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔
یبعثھم اللہ۔ یبعث مضارع واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ن کو اٹھائے گا۔
والموتی یبعثم اللہ۔ رہے مردے تو انہیں تو اللہ تعالیٰ بس قبروں ہی سے اٹھائیگا (تفہیم القرآن) یعنی جو مردہ دل اور مردہ ضمیر ہیں وہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 36 :
لیحزنک (البتہ وہ تجھے رنجیدہ کرتے ہیں) ‘ یجحدون ( وہ انکار کرتے ہیں) ‘ کذبت (جھٹلائی گئی۔ (جھٹلائے گئے) اوذوا ( تکلیف دیئے گئے) لامبدل (بدلنے والا نہیں ہے) ‘ کلمت اللہ ( اللہ کی باتیں) ‘ کبر (ناگوار گزرنا) ۔ بڑا ہے) ‘ استطعت (تیری طاقت ہے) ‘ تبتغی (تو تلاش کرتا ہے) ‘ نفق (کوئی سرنگ) ‘ سلم (سیڑھی) یستجیب ( وہ جواب دیتا ہے۔ قبول کرتا ہے) یسمعون ( وہ سنتے ہیں) الموتی (مردے) یبعث (وہ اٹھاتا ہے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 36 :
یہ آیات وہ تصویر پیش کررہی ہیں جو اہل کفر کی ہٹ دھرمی اور کج بحثی سے خود رسول اللہ کے دل پر گزر رہی تھی۔ یہ بھی پیش کررہی ہیں کہ آپ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں اس بات کی بڑی آرزو تھی کہ آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں تشریف رکھنے کے زمانہ میں ہی سب قریش ایمان لے آویں۔ اس آرزو کے سبب سے جو معجزے قریش چاہتے تھے آپ کا دل چاہتا تھا کہ فورا اس معجزے کا ظہور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوجاوے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ وقت سے پہلے اگر تم سے ہوسکے اور تم ان کے ایمان لانے کے لئے زمین آسمان کو ایک کردو اور زمین کے اندر کی اور آسمان کے اوپر کی سب نشانیاں معجزے کے طور پر لے آؤ تو ہوگا وہی کہ ازل میں جن لوگوں کا حق بات کی طرف کان لگانا اور اسلام لانا ٹھرچکا ہے وہی اسلام لاویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
[15] نشانی سے مراد معجزہ ہے۔
[16] یعنی معجزہ نہ دکھانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دکھانے سے عاجز ہے بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے جسے یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے جو راہ پسند کی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اپنی عقل و ادراک کو استعمال کریں، آفاق وانفس کے دلائل پر غور کریں، پیغمبر کی باتیں سنیں، سوچیں اور سمجھیں اور اپنے اختیارات و ارادے سے ایمان کی راہ اختیار کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(ف 2) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ شفقت نبوی سے مجبور ہو کر چاہتے ہیں کہ مکہ والوں کو اتمام حجت کے لئے وہ سب کچھ دکھایا جائے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، یعنی خوارق ومعجزات اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ نہایت غلط ذہنیت ہے ، ہم معجزہ طلبی کی اس روح کو پسند نہیں کرتے ، ہمارے لئے سب کچھ ممکن ہے اور کوئی معجزہ یا نشانی ہمارے احاطہ قدرت سے باہر نہیں ، مگر یہ کیا ضرور ہے کہ ان کی ہر خواہش پر قدرت کے قوانین بدل جائیں ۔
اور بات یہ ہے کہ یہ چونکہ روحانی طور پر مردہ ہوچکے ہیں ، اس لئے قطعا سزاوار التفات نہیں (آیت) ” ان کان کبرعلیک اعراضھم “ سے غرض یہ ہے کہ آپ اپنی سی کر دیکھیں ان کی ہر خواہش…
Read the full tafseer →-36 دعوت حق اور دعوت الٰہی کو تو بس وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو دل سے سنتے اور سننے کی صحیح صلاحیت رکھتے ہیں اور جو مردے ہیں اور جن کے دل مرچکے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھائے گا پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور حساب و کتاب کے لئے اسی کی طرف واپس کئے جائیں گے یعنی جن میں صلاحیت ہے وہی دین حق کو قبول کرتے ہیں اور جو منکر ہیں وہ ایسے ہی جیسے مردے کو اللہ تعالیٰ ان کو قیامت میں ہی اٹھائے گا اور وہ ان سے حساب لے گا اور ان کے کئے کی سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 5۔ فلاتکونن من الجاھلین وعظ و محبت کے طور پر ہے اور لفظ جہل یا جہالت سے ترجمہ کرنا بوجہ اس کے کہ ہمارے محاورے میں یہ الفاظ تحقیر وتحمیق وتوبیخ کے لیے مستعمل میں موہم بےادبی ہے۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ کی پکار کا جواب وہی دیں گے جو سنتے ہیں ، مرے ہوئے کیا جواب دیں گے ؟ :
56: بات کو کون قبول کرتے ہیں ؟ وہی جو بات کو اس طرح سنتے ہیں جس طرح اس کے سننے کا حق ہے۔ پھر جو بات کو قبول نہیں کرتے انہوں نے کیا سنا ؟ کچھ بھی نہیں۔ کیوں ؟ اسلئے کہ انہوں نے جو سنا وہ ان سنا کردیا۔ زیر نظر آیت میں سنی ان سنی کردینے والوں کو ” مردے “ فرمایا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ مردے سنتے نہیں ؟ یہ قرآن کریم کی تعلیم ہے۔ ہمارے علمائے گرامی قدر نے ” مردوں “ کو سننے والے ثابت کیا لیکن نہ سننے والوں کو ” مردے “ نہ مانا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح وہ خود نہ سننے والے ثابت ہو کر ” مردے “ تصور ہوتے تھے۔ تحریر ہے کہ :
” بیشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
Commentary
About the statement: فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ (it is not you they are belying, rather, it is the signs of Allah they are denying) in the first verse (33), there is a related event, reported in Tafsir Mazhari on the authority of a narration by As-Suddiy, according to which, once Akhnas ibn Shuraiq and Abu Jahl, two chiefs of the Quraysh tribe met together. Akhnas asked Abu Jahl: 0 Abul-Hikam, (In Arabia, Abu Jahl was called Abul-Hikam - 'man of wisdom' - but because of his hostility to Islam, he became known as Abu-Jahl - 'man of ignorance' ), you and me are alone here. There…
Read the full tafseer →25. 'Those who hear' refers to those whose consciences are alive, who have not atrophied their intellect and reason, and who have not closed their hearts to the Truth out of irrational prejudice and menta! inflexibility. In contrast to such people are those who are characterized as 'dead' - who blindly follow the old familiar beaten tracks, and can never deviate from the ways they have inherited, even when these ways are plainly at variance with the Truth.
Read the full tafseer →