Explained with ayahs 33–36
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ ﷺ سچے ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں، فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟ کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے ؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ چنانجہ ابو جہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، حکم کی روایت میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
سورة الْاَنْعَام 23
نبی ﷺ جب دیکھتے تھے کہ اس قوم کو سمجھاتے سمجھاتے مدتیں گزر گئی ہیں اور کسی طرح یہ راستی پر نہیں آتی تو بسا اوقات آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ کاش کوئی نشانی خدا کی طرف سے ایسی ظاہر ہو جس سے ان لوگوں کا کفر ٹوٹے اور یہ میری صداقت تسلیم کرلیں۔ آپ کی اسی خواہش کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بےصبری سے کام نہ لو۔ جس ڈھنگ اور جس ترتیب و تدریج سے ہم اس کام کو چلوا رہے ہیں اسی پر صبر کے ساتھ چلے جاؤ۔ معجزوں سے کام لینا ہوتا تو کیا ہم خود نہ لے سکتے تھے ؟ مگر ہم جانتے ہیں کہ جس فکری و اخلاقی انقلاب اور جس مدنیت صالحہ کی تعمیر کے کام پر تم مامور کیے گئے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
خلاصہ تفسیر
کفار کے بیہودہ کلمات پر، رسول اللہ ﷺ کی تسلی
ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کو ان (کفار) کے اقوال مغموم کرتے ہیں سو (آپ ﷺ غم میں نہ پڑئیے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے کیونکہ) یہ لوگ (براہ راست) آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا (قصداً) اکار کرتے ہیں، (گو اس سے آپ ﷺ کی تکذیب بھی لازم آتی ہے مگر ان کا اصل مقصود آیات اللہ کی تکذیب ہے، جیسا کہ ان میں بعض مثلاً ابو جہل اس کے اقراری بھی ہیں، اور جب ان کا اصل مقصد آیات اللہ کی تکذیب ہے تو ان کا یہ معاملہ خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوا، وہ خود ہی ان کو سمجھ لیں گے، آپ ﷺ کیوں غم میں مبتلا ہوں) اور (کفار کی یہ تکذیب…
Read the full tafseer →وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاۗءِ فَتَاْتِيَهُمْ بِاٰيَةٍ ، اس جملہ میں جواب شرط محذوف ہے اور فصیح عربی میں جواب شرط کا حذف ایک معروف بات ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں بہت ہیں۔ ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔
فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ۔ جہل کے لفظ پر ہم دوسرے مقام میں تفصیل کے ساتھ بھچ کر کے بتا چکے ہیں کہ عربی میں یہ لفظ علم اور حلم دونوں کے ضد کی حیثیت سے آتا ہے بلکہ اس کا غالب استعمال ‘ حلم ’ کے ضد کی حیثیت ہی سے ہے اسی وجہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں جذبات سے مغلوب ہوجانا۔ حضرات انبیاء…
Read the full tafseer →35۔ 1 نبی ﷺ کو معاندین و کافرین کی تکذیب (جھٹلانا) سے جو گرانی اور مشقت ہوتی تھی، اسی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر سے ہونا ہی تھا اور اللہ کے حکم کے بغیر آپ ان کو قبول اسلام پر آمادہ نہیں کرسکتے۔ حتٰی کہ اگر آپ کوئی سرنگ کھود کر یا آسمان پر سیڑھی لگا کر بھی کوئی نشانی ان کو لا کردکھائیں، اول تو ایسا کرنا آپ کے لئے محال ہے اور اگر بالفرض آپ ایسا کر بھی دکھائیں تو بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ ان کا ایمان نہ لانا اللہ کی حکمت و مشیت کے تحت ہے جس کا مکمل احاطہ انسانی عقل و فہم نہیں کرسکتے البتہ جس کی ایک ظاہری حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
10: آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے معجزات عطا فرمائے تھے، جن میں سب سے بڑا معجزہ خود قرآن کریم تھا ؛ کیونکہ آپ کے امی ہونے کے باوجود یہ فصیح وبلیغ کلام آپ پر نازل ہوا، تنہا یہی ایک معجزہ ایک حق کے طلب گار کے لئے کافی تھا ؛ لیکن کفار مکہ اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے ہر روز نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، اس سلسلے میں جس قسم کے بیہودہ مطالبات وہ کرتے تھے ان کی ایک فہرست قرآن کریم نے سوہ بنی اسرائیل (15۔ 89) میں بیان فرمائی ہے، اس پر کبھی کبھی آنحضرت ﷺ کو بھی یہ خیال ہوتا تھا کہ اگر ان کے فرمائشی معجزات میں سے کوئی معجزہ دکھادیا جائے تو شاید یہ لوگ ایمان لاکر جہنم سے بچ جائیں، اس آیت میں…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 35 تا 36۔
نہایت ہی شاہانہ انداز کے درمیان سے خوف کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔ کوئی ان الفاظ کی ہولناکی اور اس معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ نہ رکھے کہ یہ الفاظ رب العالمین کی طرف سے ہیں اور ان کیساتھ اللہ رب العالمین نے اپنے نبی کو مخاطب کیا ہے جن کی صفات میں صابر ہونا اور اولوالعزم رسولوں میں سے ہونا اہم صفات ہیں ۔ جنہوں نے نہایت ہی صبر اور خلوص کے ساتھ اپنی قوم کی جانب سے پہنچنے والی ایذاؤں کو برداشت کیا ۔ آپ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح ان کو بددعا نہ دی حالانکہ ایک زمانہ ان کی تیش ذنیاں سہتے رہے ۔ اور نہایت ہی صبر اور حلم کا مظاہرہ…
Read the full tafseer →2 کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ نبی ہیں تو انکے ساتھ ہمیشہ ایسا نشان رہنا چاہیے جسے ہر کوئی دیکھ کر یقین کرلے اور ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے آنحضرت ﷺ چونکہ تمام دنیا کی ہدایت پر حریص تھے شاید آپ کے دل نے چاہا ہوگا کہ ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تکوینیات میں مشیت الہٰی کے تابع رہو۔ تکوینی مصالح اس کو مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ خدا تو اس پر بھی قادر تھا کہ بدون توسط پیغمبروں اور نشانوں کے شروع ہی سے سب کو سیدھی راہ پر جمع کردیتا۔ جب خدا کی حکمت ایسے مجبور کن معجزات اور فرمائشی نشانات دکھلانے کو مقتضی نہیں تو مشیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 35 وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُہُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَہُمْ بِاٰیَۃٍ ط
ہمارا تو فیصلہ اٹل ہے کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نہیں دکھائیں گے ‘ آپ لے آئیں جہاں سے لاسکتے ہیں۔ غور کریں کس انداز میں حضور ﷺ سے گفتگو ہو رہی ہے۔
وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدٰی
اگر اللہ چاہتا تو آن واحد میں سب کو صاحب ایمان بنا دیتا ‘ نیک بنا دیتا۔
فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ
اس معاملے میں آپ جذباتی نہ ہوں۔ یہی لفظ سورة ہود میں حضرت نوح علیہ السلام سے خطاب میں آیا ہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کی کہ اے اللہ…
Read the full tafseer →39 کفار کا حسی معجزہ کا مطالبہ اور آپ کی خواہش :۔ رسول اللہ کو تبلیغ کرتے اور کفار کی سختیاں سہتے ایک طویل مدت گزر گئی اور کافروں کی اکثریت انکار ہی کرتی رہی تو اس سے آپ کو سخت گھٹن محسوس ہوتی تھی۔ کبھی کبھار آپ کو یہ خیال بھی آجاتا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کافروں کو کوئی حسی معجزہ دکھلاوے تو امید ہے یہ لوگ ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آرزو کا جواب یہ دیا کہ کوئی حسی معجزہ دکھا کر لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور بنادینا ہمارا طریقہ نہیں ہاں اگر آپ ایسا ہی چاہتے ہیں تو خود ہی اپنا زور لگا دیکھیں۔ زمین میں کوئی سرنگ لگا کر یا آسمان میں سیڑھی لگا کر ان کا مطلوبہ معجزہ لاسکتے ہیں تو لے آئیں…
Read the full tafseer →54 ۔ (اور اس لئے آپ چاہتے ہیں کہ ان کے فرمائشی معجزے بھی کسی نہ کسی طرح پورے ہو کر رہیں) اعراض وہی جس کا ذکر اوپر ہوچکا۔
55 ۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم تو ان کی فرمائشیں بہ وجہ عدم ضرورت ولزوم ضرر پوری کرنے کے نہیں۔ ہاں آپ اگر یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مسلمان ہو ہی جائیں تو آپ ہی یہ انتظامات کیجئے (تھانوی (رح) (آیت) ” فتاتیھم بایۃ “۔ یعنی آپ ﷺ کے باس میں ہو تو آپ یہ کردکھائیے، مقصود اس امر کا اظہار ہے کہ آپ ﷺ میں ان کافروں کے حال پر شفقت اور ان کے اسلام لے آنے کی حرص اس درجہ بڑھی ہوئی ہے کہ آپ ﷺ کے اختیار میں ہو تو آپ ﷺ فرمایشی معجزہ کردکھانے کو تیار ہیں کہ کسی طرح یہ مسلمان ہو تو جائیں۔ فافعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
وَاِن کان کبُرَ عَلیْکَ اِعْراضھم (الآیۃ) مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نشان ہمیشہ رہنا چاہیے جسے ہم کوئی دیکھ کر یقین کرنے پر ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے، چونکہ آپ ﷺ تمام انسانوں خصوصاً قریش میں ہدایت پر بہت حریص تھے شاید آپ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ کاش ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے تو شاید ان کا کفر ہٹ جائے جس کی وجہ سے قوم کی ہدایت کے راستے کھل جائیں، اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تلوینیات میں مشیت۔۔۔ کے تابع رہو تکوین کا مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ تو خدا اس پر بھی قادر ہے کہ پیغمبروں کے توسط اور نشانیوں…
Read the full tafseer →وان کان کبر علیک اعراضہم فان استطعت ان تبتبغی نفقا فی الارض او سلما فی السمآء . اور اگر آپ کو ان کا اعراض کرنا گراں گزرتا ہے تو اگر آپ کو یہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان پر پہنچنے کی کوئی سیڑھی تلاش کرلیں روگردانی سے مراد ہے نبوت و قرآن پر ایمان لانے سے روگردانی کرنا نفقاً کا معنی ہے سرنگ۔ فی الارض اس کی صفت ہے یعنی اگر تم زمین کے اندر گھسنے کے لئے کوئی سرنگ بنا سکتے ہو اور سرنگ کے ذریعہ سے زمین کے اندر گھس کر ان کے لئے کوئی معجزہ نمودار کرسکتے ہو سُلَّماً زینہ چڑھنے کا راستہ فی السمائ سے مراد ہے آسمان کی چھت یعنی اگر تم آسمان کی طرف چڑھنے کا کوئی زینہ بنا سکتے ہو کہ اس پر چڑھ کر…
Read the full tafseer →(35) اور اگر آپ میں یہ قدرت ہے کہ زمین کے اندر جانے کے لیے کوئی سرنگ یا آسمان پر چڑھنے کے لیے کوئی راستہ یا اور کوئی سبب تلاش کرکے پھر ایسا معجزہ لے کر آؤ، جس کا یہ لوگ مطالبہ کررہے ہیں تو پھر ایسا کرو مگر اللہ کی مشیت و ارادے میں ان کے غلط کاموں کی بدولت ان کے لیے کفر ہی لکھا ہوا ہے، ایمان تو صرف وہی حضرات لاتے ہیں جو امر حق کی تصدیق کرتے ہیں یا یہ کہ نصیحت والی باتوں کو سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ۔۔ : نبی کریم ﷺ کو کفار کے جھٹلانے سے جو تکلیف اور دل شکنی ہوتی تھی اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ان لوگوں کی بےرخی اگر بہت زیادہ ہی آپ پر شاق گزر رہی ہے تو زمین میں سرنگ نکال کر یا آسمان پر سیڑھی کے ذریعے سے چڑھ کر آپ کوئی معجزہ لا کر ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں، تو آپ ایسا بھی کر کے دیکھ لیجیے، لیکن یہ چونکہ آپ سے ہو نہیں سکتا تو رنجیدہ ہونے سے کیا فائدہ، بہتر ہے کہ انجام کار ہم پر چھوڑتے ہوئے پورے اطمینان اور پورے سکون کے ساتھ اپنی دعوت کے کام میں لگے رہیں۔ کفار کس طرح کے معجزات کا تقاضا کرتے تھے، اس کے لیے دیکھیے سورة…
Read the full tafseer →آیت نمبر 35 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و ان کان کبر علیک اعراضھم یعنی اگر تم پر ایمان سے ان کا اعراض کرنا اور پیٹھ پھیرنا گراں ہے فان استطعت اگر طاقت رکھتے ہیں۔ ان تبتغی کہ تلاش کریں۔ نفقا فی الارض زمین میں سرنگ تاکہ تو اس جگہ سے دوسری جگہ چلا جائے۔ اس سے النافقاء جو جنگلی چوہے کی بل ہوتی ہے۔ سورة بقرہ میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ اسی سے المنافق ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ او سلما یہ نفقا پر معطوف ہے یعنی آسمان کی طرف سیڑھی، یہ تمثیل ہے کیونکہ السلم کی کیونکہ سیڑھی ہوتی ہے جس پر چڑھا جاتا ہے وہ دوسری جگہ پہنچنے کا سبب ہوتی ہے۔ اور وہ مذکر ہے اور فراء نے سلم کی تانیث حکایت کی ہے وہ معروف نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وان کان کبر علیک اعراضھم فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض میں نفق سے مراد مزنگ ہے۔ آپ اس میں چلے جائیں پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لے آئیں۔ آپ (ایک سیڑھی) بنالیں لفظ آیت فی السمآء (آسمان میں) اور پھر اس پر آپ چڑھ جائیں لفظ آیت فتاتیھم بایۃ آپ ان کے پاس افضل معجزہ لے آئیں۔ تو ایسا کرلیں لفظ آیت ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی اللہ تعالیٰ سبحانہ فرماتے ہیں اگر میں چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ…
Read the full tafseer →وَاِنْ كَانَ [ اور اگر ہے ] كَبُرَ [ بہت بھاری ] عَلَيْكَ [ آپ پر ] اِعْرَاضُهُمْ [ ان کا اعراض کرنا ] فَاِنِ [ تو اگر ] اسْتَطَعْتَ [ آپ میں استطاعت ہے ] اَنْ [ کہ ] تَبْتَغِيَ [ آپ تلاش کریں ] نَفَقًا [ کوئی سرنگ ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] اَوْ [ یا ] سُلَّمًا [ کوئی سیڑھی ] فِي السَّمَاۗءِ [ آسمان میں ] فَتَاْتِيَهُمْ [ تو آپ لے آئیں ان کے پاس ] بِاٰيَةٍ ۭ [ کوئی نشانی ] وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَجَمَعَهُمْ [ تو جمع کردیتا ان کو ] عَلَي الْهُدٰي [ ہدایات پر ] فَلَا تَكُوْنَنَّ [ پس آپ ہرگز نہ ہوں ] مِنَ الْجٰهِلِيْنَ [ نادانوں میں سے ]
Read the full tafseer →(وَ اِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُھُمْ ) (الآیۃ) رسول اللہ ﷺ کو اس کی بہت زیادہ حرص تھی کہ میری قوم اسلام قبول کرلے وہ لوگ ایمان قبول نہیں کرتے تھے اور بطور عناد طرح طرح کے معجزات کی فرمائش کرتے تھے کہ یہ معجزہ دکھاؤ اور یہ کام کر کے بتاؤ آپ کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی فرمائش کے معجزات ظاہر ہوجائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی فرمائش پوری نہ کی جاتی تھی۔ خود قرآن کریم ان کے پاس بہت بڑا معجزہ موجود تھا اور دوسرے بھی معجزات سامنے آتے رہتے تھے لیکن وہ کہتے رہے کہ ایسا ہوجائے تو ہم مان لیں گے جب فرمائشی معجزات کا ظہور نہ ہوتا تھا تو آنحضرت ﷺ کبیدہ خاطر ہوتے تھے یعنی طبعی طور پر آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–39
تسلی نبی اکرم ﷺ وتلقین صبر۔
قال اللہ تعالی، قد نعلم انہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں منکروں کے انکار اور تکذیب کا بیان تھا جس سے نبی کو بمقتضائے شفقت ورافت صدمہ اور رنج ہوتا تھا کماقال تعالی، لعلک باخع نفسک علی۔۔۔ الی۔۔۔ اسفا، وقال تعالی، فلاتذہب نفسک علیھم حسرات۔ آیت۔ لہذا اللہ جل شانہ ان آیات میں نبی کی تسلی اور تشفی فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ ان لوگوں کی تکذیب سے رنجیدہ اور ملول نہ ہو یہ تکذیب کرنے والے آپ کی تکذیب کررہے ہیں بلکہ فی الحقیقت اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جھٹلا رہے ہیں خدا تعالیٰ خود ہی ان کو سمجھ لے گا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں اور آپ کو تو انبیاء…
Read the full tafseer →40 یہ زجر ہے مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ مطالبات دکھا دیں تو ہم ایمان لے آئیں گے اور حضور ﷺ کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر ان کے مطلوبہ معجزات ان کو دکھا دئیے جائیں تو شاید وہ ایمان لے آئیں اور اعراض نہ کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر مشرکین کا اعراض آپ سے اور قرآن سے محض معجزات نہ ملنے کی وجہ سے ہے اور ان کا اعراض آپ کو ناگوار ہے تو آپ ان کو معجزات دکھلا دیں اور اگر آپ میں طاقت ہے تو آپ زمین میں سوراخ کر کے یا آسمان پر سیڑھی لگا کردکھائیں کوئی معجزہ آپ کے قبضے میں نہیں جیسا کہ فرمایا۔ اِنَّمَا الْاٰ یٰتُ عِنْدَ اللہِ نیز فرمایا وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاتِیَ بِاٰیۃٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
گزشتہ کئی دورس سے کفر و شرک کی تردید ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معاد کا انکار کرنے والوں کا ذکر کیا ‘ پھر ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ‘ گزشتہ آیات میں فرمایا کہ تکذیب کرنے والے خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں یہ لوگ اس وقت کف افسوس ملیں گے جب کسی کو موت آجائے گی یا قیامت واقع ہوگی مگر اس وقت کی ندامت کچھ مفید نہ ہوگی۔ ان لوگوں کو اپنے کفر ‘ شرک ‘ اور معاصی کا بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھانا پڑے گا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ یہ دنیا تو ناپائیدار بل کی فانی ہے۔ یہ کھیل کود کی طرح جلد ہی ختم ہوجائے گی ‘ اور پھر ہر ایک کو دائمی زندگی سے واسطہ پڑے گا۔ فرمایا خدا خوفی رکھنے والوں اور کفر و شرک اور معاصی…
Read the full tafseer →وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُہُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاۗءِ فَتَاْتِيَہُمْ بِاٰيَۃٍ 0ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَي الْہُدٰي فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰہِلِيْنَ 35
كَبُرَ ( مشقت)
وتستعمل الکبيرة فيما يشقّ ويصعب نحو : وَإِنَّها لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخاشِعِينَ [ البقرة/ 45] ، وقال : كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ما تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ [ الشوری/ 13] ، وقال : وَإِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْراضُهُمْ [ الأنعام/ 35] ، وقوله : كَبُرَتْ كَلِمَةً [ الكهف/ 5] ففيه تنبيه علی عظم ذلک من بين الذّنوب وعظم عقوبته . ولذلک…
Read the full tafseer →1 ؎ اگر تیرے دل میں بنی آدم کی ہمدردی کا جوش ہے اور تجھے ان کا منکر رہنا ناگوار گذرتا ہے تو جو تدبیر تجھ سے ہو سکے کر گذر۔ زمین میں سرنگ لگا یا آسمان پر سیڑھی اور ان کی خواہش سے ان کو معجزہ دکھا مگر جب بھی وہ نہ مانیں گے۔ ازلی گمراہ ہیں۔ یہاں ایسا ہی منظر تھا۔ 12 منہ
ترکیب : ان شرطیہ اعراضہم کبر کا فاعل ‘ فان استطعت شرط ان تبتغی مفعول استطعت فتاتیہم جواب۔ یہ دونوں شرط بعد جواب مل کر شرط اول کی جزا ہوئے۔
تفسیر : آنحضرت ﷺ کی نبوت میں جو کفار کو تامل ہوتا تھا اس کے چند خیالی سبب تھے۔ منجملہ ان کے ایک یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے وقتاً فوقتاً امتحان کے طور پر معجزات کا سوال کرتے تھے اور عادت اللہ یوں…
Read the full tafseer →ارشاد ہے :
وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُُھُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآئِ فَتَاْتِیَھُمْ بِاٰیَۃٍ ط وَلَوْ شَآئَ اللہ ُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدٰی فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ۔ (الانعام : 35)
(اگر ان کا اعراض تم پر گراں گزر رہا ہے تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی زینہ ڈھونڈ سکو کہ ان کے پاس کوئی نشانی لا دو تو کردو اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا تم جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے نہ بنو )
کفار کے ایمان نہ لانے پر پریشان نہ ہوں
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات جو معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ ایک حقیقت بتلائی گی ہے کہ تمام کے تمام انسان سچائی پر اکٹھے نہیں ہوا کرتے۔
لوگوں کی ہدایت کے بارے میں رسول محترم ﷺ کے جذبات کا جواب جس میں ایک طرح کی آپ کو تسلی دینے کے ساتھ تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ صبح وشام اس تڑپ اور کوشش میں تھے کہ کسی طرح یہ لوگ ہدایت سے ہم کنار ہوجائیں۔ اس کے لیے بحیثیت ایک انسان اور داعی کے یہ خیالات پیدا ہوتے تھے کہ کاش اللہ تعالیٰ کفار کے مطالبات کو من و عن پورا فرما دے تاکہ کوئی شخص بھی ہدایت سے محروم نہ رہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اہل مکہ نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ زمین میں سرنگ لگا کر ہمارے لیے اس کے…
Read the full tafseer →آیت 35: : نبی اکرم ﷺ پر اپنی قوم کا انکار و اعراض گراں گزرا اور آپکی چاہت تھی کہ ایسی علامات ظاہر کردی جائیں جس سے وہ اسلام لے آئیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
آپ کو ان کے ایمان کی اس قدر حرص ہے کہ اگر آپ ان کو ہر نشانی دکھا سکتے تو دکھا دیتے :
وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُہُمْ کَبُرَ کا معنی گراں اور شاق گزرنا ہے اعراض سے۔ ان کا اسلام سے اعراض کرنا مراد ہے۔ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا نفق ایسا راستہ جس سے زمین کے اندر جایا جاسکے۔ تاکہ آپ زمین سے ایسی نشانی لے کر ان کے پاس ظاہر ہوں جس سے وہ ایمان لے آئیں۔ : فی الارض یہ نفقًا کی صفت ہے۔ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآئِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت نمبر 35, 34
تفسیر :(ولقد کذبت رسل من قبلک) ان کو بھی ان کی قوموں نے ایسے ہی جھٹلایا جیسے آپ (علیہ السلام) کو قریش نے ( صبروا علیٰ ما کذبوا وواوذوا حتی انھم نصرنا) ان لوگوں کو عذاب دینے کے ساتھ جنہوں نے جھٹلایا۔ ولا مبدل لکلمت اللہ) اور جو اس نے فیصلہ کردیا اس کو توڑنے والا کوئی نہیں اور اس نے اپنی کتاب میں اپنے انبیاء کی مدد کا فیصلہ لکھ دیا ہے اور فرمایا ( ولقد سبقت کلمتا لعبادنا المرسلین انھم لھم المنصورون ) وان جندنا لھم الغالبون اور فرمایا ( انا لعصررسلنا) اور فرمایا ( کتب اللہ لاغلبن اننا ورسلی) اور حسن بن فضل فرماتے ہیں اس کے وعدہ کے خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ ( ولقد جاء ک من نا المرسلین)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35 ۔ 36) ۔ ابو صالح کی روایت سے ابن جوزی نے اپنی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں اس بات کی بڑی آرزو تھی کہ آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ میں تشریف رکھنے کے زمانہ میں ہی سب قریش ایمان لے آویں اس آرزو کے سبب سے جو معجزے قریش چاہتے تھے آپ کا دل چاہتا تھا کہ فورًا اس معجزہ کا ظہور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوجاوے لیکن علم الٰہی میں ہر کام کا وقت مقرر ہے وقت سے پہلے کوئی کام نہیں ہوتا ازلی قرار دادیوں تھی کہ فتح مکہ کے بعد مکہ میں اسلام عام طور پر پھیلے اور اس بائیس برس کے عرصہ میں جو زمانہ آپ کی نبوت اور فتح مکہ کا ہے قریش میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
آیت 33
یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لئے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے (فانھم لایکذبونک) ” بیشک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے “ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر، باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ” امین “ کہا کرتے تھے (ولکن الظلمین بایت اللہ یجعدون) ” لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا…
Read the full tafseer →53 پیغمبر کی رحمت و شفقت کا ایک نمونہ و مظہر : کہ آپ چاہتے تھے کہ لوگ کسی نہ کسی طرح ایمان لے آئیں تاکہ دوزخ کے عذاب سے بچ جائیں جس پر اللہ تعالیٰ آپ کو اس مقام پر اس طرح ارشاد فرماتے ہیں۔ یعنی اگر آپ کو ان لوگوں کا اعراض اور راہ حق سے روگردانی گراں گزرے، اپنی حد درجہ کی اس رحمت وشفقت کی بنا پر، جو کہ آپ ﷺ کے وجود باجود کے اندر موجود وموجزن ہے۔ اور اسی بنا پر آپ ان لوگوں کے فرمائشی معجزات کی تعمیل کرنا چاہیں تو اس کیلئے جو کچھ آپ کرسکتے ہیں کر دیکھیں۔ سو اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو پیغمبر کی اس بےپایاں رحمت و شفقت کا پتہ چلتا ہے جو آپ ﷺ کے وجود باجود کے اندر لوگوں کی اصلاح و ہدایت سے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
رسول اللہ ﷺ کی دلجوئی اور کفار کی اصلیت
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں آپ بالکل نہ گھبرائیں آپ ﷺ کی سچائی اور اچھائی کے تو یہ لوگ ماننے والے ہیں اسی لیے آپ کو نبوت سے پہلے صادق اور امین کے ناموں سے اہل مکہ ِ پکارتے تھے۔ لیکن جونہی آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اللہ کی توحید کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کیا تو کفار آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزام لگانے لگے اور آپ ﷺ کو ہر طرح کی تکلیفیں اور دکھ دینے لگے تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ آپ کی دشمنی میں نہیں کر رہے بلکہ یہ تو میری دشمنی میں مجھے جھٹلانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔
اسرار و معارف :
اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…
Read the full tafseer →ف 2 تو آپ ایسا بھی کر کے دیکھ لیجئے لیکن یہ چونکہ آپ سے کبھی نہیں ہوسکتا تو بلاوجہ کڑھنے سے کیا فائدہ بہتر ہے کہ آپ انجام کار کو ہم پر چھوڑ تے ہوئے پورے سکون و اطمینان سے اپنی دعوت کے کام میں لگے رہیں۔3 یعنی ایسا مت خیال کیجئے کہ کہ کسی نشانہ (معجزہ) لانے سے یہ راہ ہدایت پر ضروری آجائیں گے ہدایت اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے آپ کے ذمہ صرف پیغام پہنچادینے ہے اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں اور ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر ہرگز کوئی غم یا افسوس نہ کریں اللہ تعالیٰ کو تکوینی طور پر اس سب کو مومن بنانا ہوتا تو یہ اس لیے سامنے کوئی مشکل بات نہ تھی مگر ایسا کرنا اس کی حکمت کے خلاف ہے لہذا اس قسم کے…
Read the full tafseer →(6:35) کبر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ باب کرم یکرم۔ اس باب میں اس کا مصدر۔ کبر کبر اور کبارۃ آتا ہے جس کے معنی بڑا ہونا۔ کبر شاق ہے۔ دشوار ہے۔ ناگوار ہے ۔ اعراضھم۔ ان کی روگردانی۔ فاعل ہے کبر کا۔
ان تبتغی۔ کہ تو ڈھونڈھے یا تلاش کرے۔ ابتغاء سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ منصوب بوجہ عمل ان۔
نفقا۔ اسم منصوب مفعول۔ سرنف۔ نافقاء اور نفقۃ گوہ کا لیٹ جس کے کم از کم دو منہ ہوتے ہیں۔ ایک دہانے سے گوہ داخل ہوتی ہے اور جب شکاری اس سوراخ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ دوسرے سوراخ سے نکل جاتی ہے۔ نفاق اور منافقت اصطلاح قرآنی میں اسی دو رخی کا نام ہے۔
سلما۔ اسم منصوب مفعول ۔ سیٹھی ۔ زینہ۔ سلم کی جمع سلالم اور سلالیم ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 36 :
لیحزنک (البتہ وہ تجھے رنجیدہ کرتے ہیں) ‘ یجحدون ( وہ انکار کرتے ہیں) ‘ کذبت (جھٹلائی گئی۔ (جھٹلائے گئے) اوذوا ( تکلیف دیئے گئے) لامبدل (بدلنے والا نہیں ہے) ‘ کلمت اللہ ( اللہ کی باتیں) ‘ کبر (ناگوار گزرنا) ۔ بڑا ہے) ‘ استطعت (تیری طاقت ہے) ‘ تبتغی (تو تلاش کرتا ہے) ‘ نفق (کوئی سرنگ) ‘ سلم (سیڑھی) یستجیب ( وہ جواب دیتا ہے۔ قبول کرتا ہے) یسمعون ( وہ سنتے ہیں) الموتی (مردے) یبعث (وہ اٹھاتا ہے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 36 :
یہ آیات وہ تصویر پیش کررہی ہیں جو اہل کفر کی ہٹ دھرمی اور کج بحثی سے خود رسول اللہ کے دل پر گزر رہی تھی۔ یہ بھی پیش کررہی ہیں کہ آپ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دل میں اس بات کی بڑی آرزو تھی کہ آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں تشریف رکھنے کے زمانہ میں ہی سب قریش ایمان لے آویں۔ اس آرزو کے سبب سے جو معجزے قریش چاہتے تھے آپ کا دل چاہتا تھا کہ فورا اس معجزے کا ظہور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوجاوے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ وقت سے پہلے اگر تم سے ہوسکے اور تم ان کے ایمان لانے کے لئے زمین آسمان کو ایک کردو اور زمین کے اندر کی اور آسمان کے اوپر کی سب نشانیاں معجزے کے طور پر لے آؤ تو ہوگا وہی کہ ازل میں جن لوگوں کا حق بات کی طرف کان لگانا اور اسلام لانا ٹھرچکا ہے وہی اسلام لاویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
[14] نبی ﷺ کی بڑی خواہش تھی کہ تمام کفار اسلام لے آئیں۔ جو لوگ اسلام سے محروم رہتے ان کی محرومی آپ پر بہت شاق گزرتی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو ارادہ و اختیار کی قوت دی گئی ہے اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ روش اختلاف باقی رہے ورنہ اللہ چاہتا تو سب کو مومن پیدا کردیتا پھر رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ لہذا ایسی روشن حقیقت سے بیخبر رہنا نادانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(ف 2) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ شفقت نبوی سے مجبور ہو کر چاہتے ہیں کہ مکہ والوں کو اتمام حجت کے لئے وہ سب کچھ دکھایا جائے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، یعنی خوارق ومعجزات اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ نہایت غلط ذہنیت ہے ، ہم معجزہ طلبی کی اس روح کو پسند نہیں کرتے ، ہمارے لئے سب کچھ ممکن ہے اور کوئی معجزہ یا نشانی ہمارے احاطہ قدرت سے باہر نہیں ، مگر یہ کیا ضرور ہے کہ ان کی ہر خواہش پر قدرت کے قوانین بدل جائیں ۔
اور بات یہ ہے کہ یہ چونکہ روحانی طور پر مردہ ہوچکے ہیں ، اس لئے قطعا سزاوار التفات نہیں (آیت) ” ان کان کبرعلیک اعراضھم “ سے غرض یہ ہے کہ آپ اپنی سی کر دیکھیں ان کی ہر خواہش…
Read the full tafseer →-35 اے پیغمبر ! اگر آپ پر ان لوگوں کا اعراض اور روگردانی اور دین حق سے منہ پھیر ناگراں اور شاق گذرتا ہے تو اچھا اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں کہ زمین میں کوئی سرنگ لگا دیں یا آسمان کے لئے کوئی سیڑھی ڈھونڈ لائیں اور ان کو ان کے منہ مانگے معجزے اور ان کی حسب خواہش ان کو نشان لا دکھائیں تو کر لیجیے اور یہ بھی کر دیکھیے یعنی ہم تو ایسا کریں گے نہیں آپ کو ان کے اسلام کے ساتھ والہانہ شغفت ہے تو آپ کر لیجیے اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو وہ ان سب کو ہدایت اور سیدھی راہ پر جمع کردیتا اور جب ان کا ایمان لانا ہماری مشیت اور ان کی سعادت ازلی پر موقف ہے تو آپ خواہ مخاہ ان کی خواہشات کو پورا کرنے کی فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 5۔ فلاتکونن من الجاھلین وعظ و محبت کے طور پر ہے اور لفظ جہل یا جہالت سے ترجمہ کرنا بوجہ اس کے کہ ہمارے محاورے میں یہ الفاظ تحقیر وتحمیق وتوبیخ کے لیے مستعمل میں موہم بےادبی ہے۔
Read the full tafseer →انسانیت سے پیار اور محبت بالکل صحیح لیکن اس کی کچھ حدود بھی ہیں جن سے تجاوز جائز نہیں :
54: زیر نظر آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کی اسی محبت اور پیار کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ ﷺ کو انسانوں کے ساتھ تھا۔ اسی محبت کا تقاضا اتنا شدید تھا کہ آپ ﷺ کا جی چاہتا کہ کوئی بیوقوف سے بیوقوف بھی اسلام کو قبول کرنے کیلئے کوئی شرط لگا دے کہ آپ ﷺ یہ کردیں تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے تو اس کا کہا اس وقت پورا کردیا جائے تاکہ وہ ہدایت سے محروم نہ رہے کیونکہ ہدایت سے محروم رہا تو دوزخ کا ایندھن ہوگیا اور یہ بات آپ ﷺ کے لئے بہت تکلیف دہ تھی کہ کوئی انسان دوزخ کا ایندھن بنے۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
Commentary
About the statement: فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ (it is not you they are belying, rather, it is the signs of Allah they are denying) in the first verse (33), there is a related event, reported in Tafsir Mazhari on the authority of a narration by As-Suddiy, according to which, once Akhnas ibn Shuraiq and Abu Jahl, two chiefs of the Quraysh tribe met together. Akhnas asked Abu Jahl: 0 Abul-Hikam, (In Arabia, Abu Jahl was called Abul-Hikam - 'man of wisdom' - but because of his hostility to Islam, he became known as Abu-Jahl - 'man of ignorance' ), you and me are alone here. There…
Read the full tafseer →23. The Prophet (peace be on him) saw that even though he had spent a long time admonishing his people, they did not seem inclined to heed his call. As a result he sometimes wished for the appearance of some extraordinary sign of God that would undermine the stubbornness of his people and lead them to accept his guidance. This verse embodies God's response to the Prophet's desire. He is told not to be impatient. He must persist in his striving and continue to work. in conformity with God's directive. Had it been God's purpose to work miracles, He would have done so. But God did not consider…
Read the full tafseer →