Explained with ayahs 33–36
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ ﷺ سچے ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں، فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟ کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے ؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ چنانجہ ابو جہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، حکم کی روایت میں ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 22
یعنی اللہ نے حق اور باطل کی کش مکش کے لیے جو قانون بنادیا ہے اسے تبدیل کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ حق پرستوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ایک طویل مدت تک آزمائشوں کی بھٹی میں تپائے جائیں۔ اپنے صبر کا، اپنی راستبازی کا، اپنے ایثار اور اپنی فداکاری کا، اپنے ایمان کی پختگی اور اپنے توکل علی اللہ کا امتحان دیں۔ مصائب اور مشکلات کے دور سے گزر کر اپنے اندر وہ صفات پرورش کریں جو صرف اسی دشوار گزار گھاٹی میں پرورش پاسکتی ہیں۔ اور ابتداءً خالص اخلاق فاضلہ و سیرت صالحہ کے ہتھیاروں سے جاہلیت پر فتح حاصل کر کے دکھائیں۔ اس طرح جب وہ اپنا اصلح ہونا ثابت کردیں گے تب اللہ کی نصرت ٹھیک اپنے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
خلاصہ تفسیر
کفار کے بیہودہ کلمات پر، رسول اللہ ﷺ کی تسلی
ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کو ان (کفار) کے اقوال مغموم کرتے ہیں سو (آپ ﷺ غم میں نہ پڑئیے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے کیونکہ) یہ لوگ (براہ راست) آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا (قصداً) اکار کرتے ہیں، (گو اس سے آپ ﷺ کی تکذیب بھی لازم آتی ہے مگر ان کا اصل مقصود آیات اللہ کی تکذیب ہے، جیسا کہ ان میں بعض مثلاً ابو جہل اس کے اقراری بھی ہیں، اور جب ان کا اصل مقصد آیات اللہ کی تکذیب ہے تو ان کا یہ معاملہ خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوا، وہ خود ہی ان کو سمجھ لیں گے، آپ ﷺ کیوں غم میں مبتلا ہوں) اور (کفار کی یہ تکذیب…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ ، یہ اسی تسکین و تسلی کے مضمون کی تائید وتقویت کے لیے اس سنت اللہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور ان کی امتوں کے امتحان کے لیے پسند فرمائی ہے۔ وہ یہ کہ انبیا اور ان کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ کی براہ راست مدد سے ہمکنار ہونے کے لیے ابتلا و امتحان کے ایک طویل اور صبر آزما مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر خدا کی نصرت ظاہر نہیں ہوتی۔ اس دوران میں ان انبیاء کی قوموں کی طرف سے برابر ان کی تکذیب ہوتی ہے۔ ان کو ہر قسم کی ایذائیں دی جاتی ہیں اور ہر پہلو سے ان کو زچ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح جو کچھ حق کے مخالفین کے اندر ہوتا…
Read the full tafseer →34۔ 1 نبی ﷺ کی مزید تسلی کے لئے کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلا واقع نہیں ہے کہ کافر اللہ کے پیغمبر کا انکار کر رہے ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں جن کی تکذیب کی جاتی رہی ہے پس آپ بھی ان کی اقتدا کرتے ہوئے اسی طرح صبر اور حوصلے سے کام لیں، حتٰی کہ آپ کے پاس بھی اسی طرح ہماری مدد آجائے، جس طرح پہلے رسولوں کی ہم نے مدد کی اور ہم اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتے۔ ہم نے وعدہ کیا ہوا ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) 40:51 یقینا ہم اپنے پیغمبروں اور اہل ایمان کی مدد کریں گے (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ) 58:21 اللہ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ میں اور میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
9: یعنی آپ ﷺ کو صرف اپنی ذات کے جھٹلانے سے اتنا زیادہ رنج نہ ہوتا، لیکن زیادہ رنج کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ آیت کے یہ معنی الفاظ قرآن کے بھی زیادہ مطابق ہیں، اور آنحضرت ﷺ کے مزاج سے بھی زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 34۔
خدا پرستی کی دعوت ایک قدیم دعوت ہے ۔ تاریخ قدیم کی دور دراز وادیوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ راہ بالکل سیدھی ہے اور بالکل واضح ہے ۔ اس کے خطوط بالکل سیدھے ہیں ۔ اس پر چلنے والے پاؤں ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں ۔ مختلف قسم کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس راہ کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔ نیز گمراہوں اور ان کے شدید ترین پیروکاروں نے اس دعوت کی راہ ہمیشہ روکی ہے ۔ اس راہ میں کئی داعیوں کو سخت مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ۔ خون دینا پڑا اور جان دینی پڑی لیکن قافلہ داعیان حق نے ہمیشہ اپنا سفر بالکل سیدھی سمت میں جاری رکھا ۔ یہ قافلہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس سیدھی راہ سے ادھر ادھر نہ ہوا ۔ نہ اس نے اس راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
1 خلائق کے حال پر شفقت و ہمدردی سارے جہان سے زیادہ نبی کریم ﷺ کے دل میں ڈالی گئی تھی۔ آپ ﷺ ان بدبختوں کی تکذیب و اعراض، مستقبل کی تباہی اور مشرکانہ وملحدانہ کلمات سے سخت رنج اور صدمہ محسوس فرماتے تھے۔ ان آیات میں آپ ﷺ کو تسلی اور ان اشقیاء کو دھمکی دی گئی ہے کہ آپ ان کے اعراض و تکذیب سے اس قدر دلگیر اور بےچین نہ ہوں، یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں فی الحقیقت آپ ﷺ کو نہیں جھٹلاتے کیونکہ آپ کو تو پہلے سے بالاتفاق صادق وامین سمجھتے تھے، بلکہ خدا کی آیات و نشانات کا جو پیغمبر ﷺ کی تصدیق و تبلیغ کیلئے بھیجی گئی ہیں، جان بوجھ کر ازراہ ظلم وعناد انکار کر رہے ہیں تو آپ بھی ان ظالموں کا معاملہ خدا کے سپرد…
Read the full tafseer →آیت 34 وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰیٓ اَتٰٹہُمْ نَصْرُنَاج ولاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ج
ہمارا ایک قانون ‘ ایک طریقہ اور ایک ضابطہ ہے ‘ اس لیے آپ ﷺ کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا۔ آپ کو جس منصب پر فائز کیا گیا ہے اس کے بارے میں ہم نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ یہ بہت بھاری بوجھ ہے : اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا المزمل بیشک ہم آپ پر عنقریب ایک بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں۔
وَلَقدْ جَآءَ کَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ ۔
آپ ﷺ کے علم میں ہے کہ ہمارے بندے نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک صبر کیا۔ اب اس کے بعد تلخ…
Read the full tafseer →38 حق کو غالب کرنے کے لئے اللہ کی سنت یا قوانین کیا ہیں ؟ کلمات سے یہاں مراد اللہ کے وہ قوانین یا سنت جاریہ ہے جو حق و باطل کے معرکہ میں پیش آتے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ کوئی نبی یا رسول جب اپنی دعوت کا آغاز کرتا ہے تو ہر طرف سے اس کی مخالفت پر لوگ کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔۔ پھر انہی میں سے کچھ سلیم فطرت اور اخلاق فاضلہ رکھنے والے لوگ نبی پر ایمان لاتے ہیں اور اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ اب یہ ایمان لانے والی جماعت اور خود نبی کی ذات مخالفین کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنتے، ظلم و ستم سہتے اور صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کی افرادی قوت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ ستم زدہ لوگ…
Read the full tafseer →53 ۔ (جن سے نصرت الہی کی تحقیق وتصدیق آپ کو ہو ہی چکی ہے اس لیے آپ بھی صبر سے کام لیجئے۔ نصرت الہی کا آپ تک بھی پہنچنا یقینی ہے) (آیت) ” کلمت اللہ “۔ سے یہاں مراد اللہ کا وعدہ نصرت ہے۔ ایا مواعیدہ (کشاف) قال ابن عباس ؓ ای مواعید اللہ (بحر) (آیت) ” من نبیا “۔ میں من تبعیض کا ہے۔ ترجمہ کچھ سے کیا گیا ہے۔ من ھھنا للتبعیض (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
شان نزول : قد نعلم اِنّہ لیحزنک الّذی یقولون (الآیۃ) ترمذی اور حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے، اور ترمذی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے اور حاکم نے اس کو شرط شیخین پر صحیح کہا ہے کہ ایک روز ابوجہل نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ معاملات دنیا میں ہم تم کو سچا اور امانتدار مانتے ہیں، لیکن جس کلام کو تم خدا کی طرف سے نازل کردہ کہتے ہو ہم اس کی تصدیق نہیں کرسکتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور چونکہ آنحضرت ﷺ مشرکین کے جھٹلانے کی وجہ سے رنجیدہ ہوتے تھے اس آیت میں آپ کو تسلی دینا بھی مقصود ہے مطلب یہ ہے کہ مشرکین کو آپ کی ذات سے کوئی غرض اور بحث نہیں ہے بلکہ وہ تو آپ کو ذاتی طور پر پسندیدہ…
Read the full tafseer →ولقد کذبت رسل من قبلک اور آپ سے پہلے بہت پیغمبروں کو (نبوت کے دعوے میں) جھوٹا کہا گیا یعنی جس طرح آپ کی قوم نے آپ کی تکذیب کی اسی طرح سابق پیغمبروں کی قوموں نے ان کی تکذیب کی اس میں رسول اللہ ﷺ : کو تسلی دی گئی ہے (کہ آپ قوم کی مخالفت سے تنگدل نہ ہوں پیغمبروں میں مخالفت قدیم دستور ہے کوئی نئی بات نہیں)
ولقد کذبتکا لفظ بتارہا ہے کہ لا یکذبونککا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ رسول ﷺ کی تکذیب حقیقت میں خدا کی تکذیب ہے (تو یہ حقیقت میں خدا کی تکذیب ہوئی) رسول اللہ ﷺ نے (اسی لئے) ارشاد فرمایا تھا جس نے مجھے ایذا دی ‘ اس نے حقیقت میں اللہ کو ایذا دی۔
فصبروا علی ما کذبوا واوذوا حتی انہم…
Read the full tafseer →(34) جیسا کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کرتی ہے، اسی طرح اور قوموں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی، چناچہ انہوں نے اپنی قوم کی تکذیب اور ان کی تکلیف پر صبر کیا، یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے بصورت عذاب ان کی قوم کی ہلاکت کا وقت آگیا۔
اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں کہ وہ اپنے خاص بندوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد فرماتے ہیں اور محمد ﷺ آپ کے پاس پیغمبروں کے واقعات قرآن کریم میں پہنچ چکے ہیں کہ جیسا آپ کی قوم نے آپ کی تکذیب کی، اسی طرح ان کی قوموں نے انکی بھی تکذیب کی اور اس پر انہوں نے صبر کیا، اگرچہ ان کی یہ تکذیب آپ پر گراں گزرتی ہے۔ (لیکن آپ بھی صبر فرمائیے، اللہ ان کفار سے عنقریب…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ۔۔ : اس آیت میں ایک دوسرے طریقے سے آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ صرف آپ ہی کو نہیں، بلکہ آپ سے پہلے کئی انبیاء و رسل کو بھی جھٹلایا گیا، اس لیے آپ بھی اسی طرح صبر و استقامت سے کام لیں جس طرح انھوں نے لیا۔
وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ : ”لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ“ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی نصرت اور آپ کو غالب اور کفار کو مغلوب کرنے کا وعدہ کیا ہے، جیسے : (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) [ المؤمن : 51 ] ”بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آیت نمبر 33 تا 34 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قد نعلم انہ لیحذنک الذی یقولون لام کے دخول کی وجہ سے ان کو کسرہ دیا گیا ہے۔ ابو میسرہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے پاس سے گزرتے تو انہوں نے کہا : اے محمد ﷺ ! اللہ کی قسم ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے، تو ہمارے نزدیک سچا ہے لین ہم اس کو جھٹلاتے ہیں جو آپ لیکر آئے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی : آیت : فانھم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون پھر نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا۔ یکذبونک کو مخفف اور مشدد دونوں طرح پڑھا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ ہم معنی ہیں جیسے حذتہ اور احزتہ ہم معنی ہیں۔ ابوعبید نے…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ تسلی دی (اللہ تعالیٰ نے) اپنے نبی ﷺ کو جیسا کہ تم سن رہے ہو اور ان کو خبر دے رہے ہیں۔ رسول جھٹلائے گئے آپ سے پہلے اور انہوں نے صبر کیا۔ اس جھٹلانے پر حتی کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا۔ اور وہ بہترین فیصلہ فرمانے والے ہیں۔
(2) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولقد کذبت رسل من قبلک کے بارے میں فرمایا کہ اس میں (اللہ تعالیٰ نے) اپنے نبی ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں۔
(3) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولقد کذبت رسل من قبلک کے بارے میں…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كُذِّبَتْ [ اور بیشک جھٹلائے جاچکے ہیں ] رُسُلٌ [ بہت سے رسول ] مِّنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] فَصَبَرُوْا [ تو وہ ثابت قدم رہے ] عَلٰي مَا [ اس پر جس پر ] كُذِّبُوْا [ انہیں جھٹلایا گیا ] وَاُوْذُوْا [ اور انہیں اذیت دی گئی ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اَتٰىهُمْ [ آئی ان کے پاس ] نَصْرُنَا ۚ [ ہماری مدد ] وَلَا مُبَدِّلَ [ اور کوئی بھی بدلنے والا نہیں ہے ] لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ [ اللہ کے فرمانوں کو ] وَلَقَدْ جَاۗءَكَ [ اور بیشک آچکی ہیں آپ کے پاس (کچھ خبریں ) ] مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں (یعنی رسولوں ) کی خبر میں سے ]
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو تسلی :
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا (وَ لَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْاعَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّآی اَتٰھُمْ نَصْرُنَا) (اور آپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا جا چکا ہے انہوں نے مخالفین کی تکذیب و ایذاء رسانی پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی) اس میں دو باتیں ہیں۔ اول تو یہ کہ ان لوگوں کا جھٹلانا اور دکھ اور تکلیف دینا کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) آئے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں دوسری بات یہ ہے کہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے پاس ہماری مدد آگئی۔ انشاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–39
تسلی نبی اکرم ﷺ وتلقین صبر۔
قال اللہ تعالی، قد نعلم انہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں منکروں کے انکار اور تکذیب کا بیان تھا جس سے نبی کو بمقتضائے شفقت ورافت صدمہ اور رنج ہوتا تھا کماقال تعالی، لعلک باخع نفسک علی۔۔۔ الی۔۔۔ اسفا، وقال تعالی، فلاتذہب نفسک علیھم حسرات۔ آیت۔ لہذا اللہ جل شانہ ان آیات میں نبی کی تسلی اور تشفی فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ ان لوگوں کی تکذیب سے رنجیدہ اور ملول نہ ہو یہ تکذیب کرنے والے آپ کی تکذیب کررہے ہیں بلکہ فی الحقیقت اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جھٹلا رہے ہیں خدا تعالیٰ خود ہی ان کو سمجھ لے گا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں اور آپ کو تو انبیاء…
Read the full tafseer →39 یہ بھی ماقبل ہی کا حصہ ہے۔ یعنی آپ سے پہلے جو پیغمبر گذرے ہیں ان کی بھی اسی طرح ان کی قوموں نے تکذیب کی اور انہیں تکلیفیں دیں تو انہوں نے صبر کیا اور اپنے فرض تبلیغ کی ادائیگی میں لگے رہے یہاں تک کہ ہماری مدد آپہنچی اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کردیا گیا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ اپنے انبیاء کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
گزشتہ کئی دورس سے کفر و شرک کی تردید ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معاد کا انکار کرنے والوں کا ذکر کیا ‘ پھر ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ‘ گزشتہ آیات میں فرمایا کہ تکذیب کرنے والے خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں یہ لوگ اس وقت کف افسوس ملیں گے جب کسی کو موت آجائے گی یا قیامت واقع ہوگی مگر اس وقت کی ندامت کچھ مفید نہ ہوگی۔ ان لوگوں کو اپنے کفر ‘ شرک ‘ اور معاصی کا بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھانا پڑے گا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ یہ دنیا تو ناپائیدار بل کی فانی ہے۔ یہ کھیل کود کی طرح جلد ہی ختم ہوجائے گی ‘ اور پھر ہر ایک کو دائمی زندگی سے واسطہ پڑے گا۔ فرمایا خدا خوفی رکھنے والوں اور کفر و شرک اور معاصی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰٓي اَتٰىہُمْ نَصْرُنَا 0ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللہِ 0ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144]
( ر س ل ) الرسل
الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
1 ؎ یعنی یہ انکار قیامت اسی وقت تک ہے کہ قیامت نہیں آتی۔ پھر جب اچانک آگئی تو حسرت کریں گے اور پیٹھ پر گناہوں کا پشتارا ہوگا۔ 12 منہ
2 ؎ وزر کی جمع اوزار ہے جس کے معنی بار۔ چونکہ وزیر بادشاہ کے تمام کاروباراٹھاتا ہے اس لئے اس کو بھی وزیر کہتے ہیں۔ 12 منہ
تفسیر : قیامت کے منکروں کو ایک اور طور سے نادم کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جو اللہ سے ملنے کے منکر ہیں ٗ خسارہ میں پڑگئے کیونکہ جب وہ ساعت موت جو قیامت کبریٰ کا مقدمہ ہے یکایک آجاوے گی تو حیرت کریں گے اس وجہ سے کہ قیامت کا تو ان کو یقین ہی نہیں اور قاعدہ ہے کہ جس چیز کا یقین نہیں ہوتا اس کے لئے کوئی سامان کافی نہیں کیا جاتا۔ ایسی حالت میں وہ دنیا…
Read the full tafseer →تمہید
گزشتہ آیت کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو ایک خاص پہلو سے تسلی دی گئی تھی جس کا ذکر ہوچکا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں یہی تسلی کا مضمون جاری ہے لیکن اس کا انداز دوسرا ہے اس میں ایک طرف تو کلام کے تیور بدل گئے ہیں اور لہجہ ذرا تیکھا ہوگیا ہے اور ساتھ ہی دعوت و اصلاح اور پیغمبر کی ذمہ داریوں کے حوالے سے چند اصول بیان فرمائے گئے ہیں۔ جن کی پابندی کرنے اور جن کو نگاہوں میں رکھنے کا آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے۔ جہاں تک ان آیات میں کلام کے تیور بدلنے کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان آیات میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ سے ہے ‘ لیکن روئے سخن قریش کے ان ہٹ دھرم اور ضدی لوگوں کی طرف ہے جو کسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
فہم القرآن
ربط کلام : اے نبی ﷺ ! جب یہ دنیا عارضی اور اس کے مقابلے میں آخرت دائمی اور اس کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں یہاں متقین کو ان کی نیکیوں سے بڑھ کر اجر ملنے والا ہے لہٰذا آپ کو مکذّبین کی باتوں پر دل گرفتہ اور غمزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی معظم ﷺ کو بےحساب صبر و تحمل اور عظیم حوصلہ عطا فرمایا تھا اس کے باوجود کفار کے ظلم و ستم، یہود و نصاریٰ کی سازشیں اور منافقین کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے کبھی کبھار آپ پر یشان ہوجایا کرتے تھے۔ پریشانی کا بنیادی سبب لوگوں کی ہدایت اور ان کی خیر خواہی کا جذبہ ہوا کرتا تھا۔ جس پر آپ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد ہوا کہ اے نبی ! ہم آپ کی فکر مندی،…
Read the full tafseer →تسلی کا دوسرا انداز :
آیت 34 : وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی۔ اس میں دلیل ہے کہ فانہم لا یکذبونک میں آپ کی تکذیب کی نفی نہیں۔ بلکہ یہ بات اس طرح ہے۔ جیسے تمہارے غلام کی لوگ توہین کریں تو تم کہو کہ وہ تو تیری نہیں کرتے بلکہ وہ میری توہین کرتے ہیں۔ فَصَبَرُوْا صبر۔ کسی ناپسند طبع پر نفس کو روکنا۔ عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا اپنی تکذیب پر اور ایذاء پر۔ حَتّٰی اَتٰہُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِیعنی اس کے وعدوں کو۔ جیسا کہ دوسری آیت : وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت نمبر 35, 34
تفسیر :(ولقد کذبت رسل من قبلک) ان کو بھی ان کی قوموں نے ایسے ہی جھٹلایا جیسے آپ (علیہ السلام) کو قریش نے ( صبروا علیٰ ما کذبوا وواوذوا حتی انھم نصرنا) ان لوگوں کو عذاب دینے کے ساتھ جنہوں نے جھٹلایا۔ ولا مبدل لکلمت اللہ) اور جو اس نے فیصلہ کردیا اس کو توڑنے والا کوئی نہیں اور اس نے اپنی کتاب میں اپنے انبیاء کی مدد کا فیصلہ لکھ دیا ہے اور فرمایا ( ولقد سبقت کلمتا لعبادنا المرسلین انھم لھم المنصورون ) وان جندنا لھم الغالبون اور فرمایا ( انا لعصررسلنا) اور فرمایا ( کتب اللہ لاغلبن اننا ورسلی) اور حسن بن فضل فرماتے ہیں اس کے وعدہ کے خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ ( ولقد جاء ک من نا المرسلین)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(33 ۔ 34) ۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے اور ترمذی نے اس روایت کو صحیح بتلایا ہے اور حاکم نے اس کو شرط شیخین پر صحیح کہا ہے کہ ابوجہل نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ معاملات دنیا میں ہم تم کو سچا اور امانت دار جانتے ہیں لکن جس کلام کو تم اپنے اوپر خدا کی طرف سے اترنا بتلاتے ہو اس کی تصدیق ہم نہیں کرسکتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ اور آنحضرت جو مشرکین کے جھٹلانے پر رنجیدہ ہوتے تھے اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یوں تسکین دی کہ تمہاری ذات خاص سے ان مشرکین کو کچھ بحث نہیں ہے بلکہ وہ ذات سے تم کو اچھا گنتے ہیں وہ تو اس سبب سے تم کو جھٹلاتے ہیں کہ تم ان کو خد کے احکام سنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
آیت 33
یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لئے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے (فانھم لایکذبونک) ” بیشک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے “ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر، باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ” امین “ کہا کرتے تھے (ولکن الظلمین بایت اللہ یجعدون) ” لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا…
Read the full tafseer →49 حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب اہل کفر و باطل کا قدیم وطیرہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آپ سے پہلے بھی جھٹلایا جا چکا ہے بہت سے رسولوں کو مگر انہوں نے صبر ہی سے کام لیا۔ پس تکذیب و استہزاء کے جس معاملے سے آج آپ کو سابقہ پڑ رہا ہے، کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ راہ حق میں ایسے اس سے پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔ پس آپ بھی صبر ہی سے کام لیتے رہیں جیسا کہ ان حضرات نے لیا ۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } ۔ (الاحقاف : 35) ۔ سو حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب اہل کفر و باطل کا قدیم وطیرہ اور پرانا طریقہ رہا ہے جو جب سے اب تک موجود ہے۔ اور یہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
رسول اللہ ﷺ کی دلجوئی اور کفار کی اصلیت
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں آپ بالکل نہ گھبرائیں آپ ﷺ کی سچائی اور اچھائی کے تو یہ لوگ ماننے والے ہیں اسی لیے آپ کو نبوت سے پہلے صادق اور امین کے ناموں سے اہل مکہ ِ پکارتے تھے۔ لیکن جونہی آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اللہ کی توحید کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کیا تو کفار آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزام لگانے لگے اور آپ ﷺ کو ہر طرح کی تکلیفیں اور دکھ دینے لگے تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ آپ کی دشمنی میں نہیں کر رہے بلکہ یہ تو میری دشمنی میں مجھے جھٹلانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔
اسرار و معارف :
اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ف 1 اس آیت میں ایک دوسرے طریقے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے (کبیر) کلمات الہ سے مراد یہ ہے کہ اس نے جو آپ ﷺ کو غالب اور ان مشرین کو مغلوب کرنے کا وعدہ کیا ہے اسے پوراہو نے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی لہذا جس طرح انہوں نے صبر و استقامت کا مظاہر کیا اسی طرح آپ بھی صبر و استقامت سے اپنی دعوت پیش کرتے رہیں اور کسی بےچینی کو اپنے اندر راہ پانے دیں۔
Read the full tafseer →(6:34) اوذوا۔ وہ ستائے گئے۔ ان کو ایذاء دی گئی۔ ایذاء (افعال) سے ماضی مجہول کا صیغہ۔ جمع مذکر غائب۔ اذی مادہ۔ اذی یوزی ایذاء واوذی یوذی ایذائ۔
مبدل۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ تبدیل (تفعیل) مصدر۔ تبدیل کرنے والا۔
نبای۔ اسم مجرور۔ مضاف۔ خبر۔ انبائ۔ جمع۔ خبریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 36 :
لیحزنک (البتہ وہ تجھے رنجیدہ کرتے ہیں) ‘ یجحدون ( وہ انکار کرتے ہیں) ‘ کذبت (جھٹلائی گئی۔ (جھٹلائے گئے) اوذوا ( تکلیف دیئے گئے) لامبدل (بدلنے والا نہیں ہے) ‘ کلمت اللہ ( اللہ کی باتیں) ‘ کبر (ناگوار گزرنا) ۔ بڑا ہے) ‘ استطعت (تیری طاقت ہے) ‘ تبتغی (تو تلاش کرتا ہے) ‘ نفق (کوئی سرنگ) ‘ سلم (سیڑھی) یستجیب ( وہ جواب دیتا ہے۔ قبول کرتا ہے) یسمعون ( وہ سنتے ہیں) الموتی (مردے) یبعث (وہ اٹھاتا ہے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 33 تا 36 :
یہ آیات وہ تصویر پیش کررہی ہیں جو اہل کفر کی ہٹ دھرمی اور کج بحثی سے خود رسول اللہ کے دل پر گزر رہی تھی۔ یہ بھی پیش کررہی ہیں کہ آپ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
آنحضرت ﷺ کی امانتداری پر ابو جہل کا یقین
شان نزول : ابوجہل نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ معاملات دنیا میں ہم تم کو سچا اور امانتدار جانتے ہیں، لیکن جس کلام کو تم اپنے اوپر خدا کی طرف سے اتنا بتلاتے ہو اس کی تصدیق ہم نہیں کرسکتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور تسکین دی کہ تمہاری ذات خاص سے ان مشرکوں کو کچھ بحث نہیں ہے بلکہ وہ ذات سے تم کو اچھا سمجھتے ہیں۔ وہ تو اس سبب سے تم کو جھٹلاتے ہیں کہ تم ان کو خدا کے احکام سنا کر ان کے قدیم رواج بت پرستی ان سے چھڑانا چاہتے ہو۔ سو یہ جھٹلانا کچھ رنج و غم کھانے کے لائق نہیں ہے۔ پچھلی امتیں بھی اسی طرح رسولوں کو جھٹلاتی اور طرح طرح کی ایذائیں دیتی رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
[14] نبی ﷺ کی بڑی خواہش تھی کہ تمام کفار اسلام لے آئیں۔ جو لوگ اسلام سے محروم رہتے ان کی محرومی آپ پر بہت شاق گزرتی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو ارادہ و اختیار کی قوت دی گئی ہے اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ روش اختلاف باقی رہے ورنہ اللہ چاہتا تو سب کو مومن پیدا کردیتا پھر رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ لہذا ایسی روشن حقیقت سے بیخبر رہنا نادانی ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) غرض یہ ہے کہ اللہ کے سچے بندوں کو تکلیفیں پہنچی ہیں ‘ اور انبیاء بالخصوص ستائے جاتے ہیں ، سب پیغمبروں کو جھٹلایا گیا ، سب کو ایذائیں دی گئیں ، اس لئے آپ صبر و استقامت سے کام لیں ، اور گھبرا نہ جائیں آخر میں نصرت واعانت یقینی وحتمی ہے ، یہ خدا کا وعدہ ہے اور خدا کے وعدوں میں کبھی تخلف نہیں ہوتا ۔
Read the full tafseer →-34 اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کی بھی تکذیب کی جا چکی ہے اور ان رسولوں کے ساتھ بھی تکذیب کا برتائو ہوچکا ہے پھر ان سابقہ رسولوں نے ان منکرین کے جھٹلانے اور ایذائیں پہنچانے پر صبر کیا اور ان منکرین کی تکذیب اور ایذا پر سہارا اور برداشت سے کاملیا یہاں تک کہ ہماری مدد ان کو پہنچ گئی اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور یقینا ان گذشتہ رسولوں کے بعض حالات آپ تک پہونچ بھی چکے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ حاصل مضمون تسلی دہی کا یہ ہوا کہ یہ جو آپ کی تکذیب کررہے ہیں یہ واقع میں بوجہ اس کے کہ آپ مبلغ عند اللہ ہیں اللہ کی اور عاس کی آیات کی تکذیب کررہے ہیں پس ظاہرا تو آپ کی تکذیب ہے اور حقیقتا اور قصدا اللہ کی تکذیب ہے۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ سے پہلے جھٹلائے گئے رسولوں کی ہم نے مدد کی تو آپ ﷺ کی کیوں نہیں کریں گے ؟ :
52: فرمایا کہ ہمارے اصول و قانون تواتنے پختہ ہیں کہ وہ کبھی نہیں بدلا کرتے۔ نہ ہم بدلتے ہیں اور نہ کسی ہیکڑ کو بدلنے دیتے ہیں ۔ ہمارا اصول اس معاملہ میں ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہمارے بھیجے گیوں کو جب جھٹلایا گیا تو ہم نے ان کے صبر کو آزمایا اور ابھی ان کے صبر کا پیالہ لبریز نہیں ہوا تھا کہ ہماری مدد آپہنچی ہے۔ یاد رہے کہ سنت اللہ یہی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش جاری رہے۔ مصائب کے پہاڑ حق کے علمبرداروں پر ٹوٹتے رہیں اور وہ صبر واولوالعزمی سے ان کو برداشت کرتے رہیں ۔ حوادثات کے طوفان میں بھی شمع توحید کو ہر وقت وہ روشن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
Commentary
About the statement: فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ (it is not you they are belying, rather, it is the signs of Allah they are denying) in the first verse (33), there is a related event, reported in Tafsir Mazhari on the authority of a narration by As-Suddiy, according to which, once Akhnas ibn Shuraiq and Abu Jahl, two chiefs of the Quraysh tribe met together. Akhnas asked Abu Jahl: 0 Abul-Hikam, (In Arabia, Abu Jahl was called Abul-Hikam - 'man of wisdom' - but because of his hostility to Islam, he became known as Abu-Jahl - 'man of ignorance' ), you and me are alone here. There…
Read the full tafseer →22. The point emphasized here is that no one has the power to change God's Law regarding the conflict between Truth and falsehood. Lovers of Truth must of necessity pass through trials and persecution so as to be gradually tempered. Their endurance, their honastyy of conviction, their readiness to sacrifice and to undertake all risk for their cause, the strength of their faith and the extent of their trust in God must be tested. They must pass through this phase of persecution to develop in thenselves those qualities which can be developed nowhere else but on earth. They are also required to…
Read the full tafseer →