Al-An'aam 6:33

Al-An'aam · from ayah 33

6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ ۟قَدۡ نَـعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِىۡ يَقُوۡلُوۡنَ‌ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰـكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

We know that you, [O Muhammad], are saddened by what they say. And indeed, they do not call you untruthful, but it is the verses of Allah that the wrongdoers reject.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:33

اے محمدؐ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ﻇالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے رسول) ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، کیونکہ دراصل یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیب!) بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (بات) یقیناً آپ کو رنجیدہ کررہی ہے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں، پس یہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) ظالم لوگ اﷲ کی آیتوں سے ہی انکار کررہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم جانتے ہیں کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ یقینا تجھے وہ بات غمگین کرتی ہے جو وہ کہتے ہیں، تو بیشک وہ تجھے نہیں جھٹلاتے اور لیکن وہ ظالم اللہ کی آیات ہی کا انکار کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے محمد ﷺ !) ہم جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی باتیں آپ کو غمزدہ کردیتی ہیں۔ لیکن یہ ظالم آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ اللہ کی آیات کے منکر ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم آگاہ رہے ہیں کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں اس سے تم کو غم ہوتا ہے تو صبر کرو، یہ تو تمہیں نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کے لئے (اے پیغمبر) غم کا باعث بن رہی ہیں ان لوگوں کی وہ باتیں جو یہ لوگ بناتے ہیں مگر (آپ پرواہ نہ کریں کہ) یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں وہ آپ کو رنج پہنچاتا ہے تو یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ (یہ ظالم تو) اللہ کی نشانیوں ہی سے انکار کردیتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں خوب معلوم ہے جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اس سے آپ غمگین ہوتے ہیں تو (اے نبی ﷺ ! آپ صبر کیجیے) یقیناً وہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی نشانیوں کا انکار کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے محمد ﷺ !) ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے آپ کو رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Muhammad!) We know indeed that the things they say grieve you, though in truth it is not you whom they give the lie to, but it is the signs of Allah that these wrong-doers reject.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed We know that what they say makes you sad, because it is not you whom they reject, but the transgressors actually deny the signs of Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed We know that what they say makes you sad, because it is not you whom they reject, but the transgressors actually deny the signs of Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We know indeed the grief which their words cause you; it is not you that they deny, but it is the verses of Allah that the wrongdoers deny.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We know well how their talk grieveth thee, though in truth they deny not thee (Muhammad) but evil-doers flout the revelations of Allah.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We know that you, [O Muhammad], are saddened by what they say. And indeed, they do not call you untruthful, but it is the verses of Allah that the wrongdoers reject.

— Saheeh International

We certainly know that you (Muhammad) are sad about what they (the unbelievers) say. It is not you (alone) who has been accused of lying. The unjust have always rejected God's revelations.

— Muhammad Sarwar

We know indeed that what they say certainly grieves you, but surely they do not call you a liar; but the unjust deny the communications of Allah.

— Muhammad Habib Shakir

We know indeed that verily that which they say grieveth thee, but it is not thee they belie; it is the signs of Allah the wrong- doers gainsay.

— Abdul Majid Daryabadi

We know indeed the grief which their words do cause thee: It is not thee they reject: it is the signs of Allah, which the wicked contemn.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 33–36

حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ ﷺ سچے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں، فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟ کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے ؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ چنانجہ ابو جہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، حکم کی روایت میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 21 واقعہ یہ ہے کہ جب تک محمد ﷺ نے اللہ کی آیات سنانی شروع نہ کی تھیں، آپ کی قوم کے سب لوگ آپ کو امین اور صادق سمجھتے تھے اور آپ کی راستبازی پر کامل اعتماد رکھتے تھے۔ انہوں نے آپ کو جھٹلایا اس وقت جبکہ آپ نے اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانا شروع کیا۔ اور اس دوسرے دور میں بھی ان کے اندر کوئی شخص ایسا نہ تھا کہ جو شخصی حیثیت سے آپ کو جھوٹا قرار دینے کی جرأت کرسکتا ہو۔ آپ کے کسی سخت سے سخت مخالف نے بھی کبھی آپ پر یہ الزام نہیں لگایا کہ آپ دنیا کے کسی معاملہ میں کبھی جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے جتنی آپ کی تکذیب کی وہ محض نبی ہونے کی حیثیت سے کی۔ آپ کا سب سے بڑا دشمن ابو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–37

خلاصہ تفسیر کفار کے بیہودہ کلمات پر، رسول اللہ ﷺ کی تسلی ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کو ان (کفار) کے اقوال مغموم کرتے ہیں سو (آپ ﷺ غم میں نہ پڑئیے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے کیونکہ) یہ لوگ (براہ راست) آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا (قصداً) اکار کرتے ہیں، (گو اس سے آپ ﷺ کی تکذیب بھی لازم آتی ہے مگر ان کا اصل مقصود آیات اللہ کی تکذیب ہے، جیسا کہ ان میں بعض مثلاً ابو جہل اس کے اقراری بھی ہیں، اور جب ان کا اصل مقصد آیات اللہ کی تکذیب ہے تو ان کا یہ معاملہ خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوا، وہ خود ہی ان کو سمجھ لیں گے، آپ ﷺ کیوں غم میں مبتلا ہوں) اور (کفار کی یہ تکذیب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ ، بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ جب مضارع پر اس طرح قد آتا ہے تو وہ پتہ دیتا ہے کہ یہاں فعل ناقص محذوف ہے۔ گویا قَدْ نَعْلَمُ اصل میں قد کنا نعلم ہے جس سے مضمون میں یہ اضافہ ہوجائے گا کہ یہ بات برابر خدا کے علم میں رہی ہے اور ہے وہ اس سے کبھی بیخبر نہیں ہوا کہ جو کچھ یہ ہٹ دھرم منکرین و مکذبین کہتے ہیں اس سے تمہیں غ پہنچتا ہے۔“ جو کچھ کہتے ہیں ”سے مراد اسی طرح کی باتیں ہیں جن کی طرف آیت 8 میں اشارہ گزر چکا ہے یا اگے آیا 37 تا 50 میں آ رہا ہے کہ اگر یہ خدا کے فرستادہ ہیں تو یہ کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتے، ان پر ان کی صداقت کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 نبی ﷺ کو کفار کی طرف سے اپنی تکذیب کی وجہ سے جو غم و ملال پہنچتا اس کے ازالے اور آپ کی تسلی کے لئے فرمایا جا رہا ہے کی یہ تکذیب آپ کی نہیں۔ (آپ کو وہ صادق و امین مانتے ہیں) اصل یہ آیات الٰہی کی تکذیب ہے اور یہ ظلم ہے۔ جس کا وہ ارتکاب کر رہے ہیں۔ ترمذی وغیرہ کی ایک روایت میں ہے کہ ابو جہل نے ایک بار رسول اللہ ﷺ سے کہا اے محمد ﷺ ہم تم کو نہیں بلکہ جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کو جھٹلاتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ترمذی کی یہ روایت اگرچہ سندا ضعیف ہے لیکن دوسری صحیح روایات سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ کفار مکہ نبی ﷺ کی امانت و دیانت اور صداقت کے قائل تھے لیکن اس کے باوجود وہ آپ کی رسالت پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–34

9: یعنی آپ ﷺ کو صرف اپنی ذات کے جھٹلانے سے اتنا زیادہ رنج نہ ہوتا، لیکن زیادہ رنج کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ آیت کے یہ معنی الفاظ قرآن کے بھی زیادہ مطابق ہیں، اور آنحضرت ﷺ کے مزاج سے بھی زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔ واللہ سبحانہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 33۔ مشرکین عرب عموما اور قریش کا وہ طبقہ خصوصا جو دعوت اسلامی کے مقابلے میں ڈٹا ہوا تھا اور جاہلیت میں گرفتار تھا ‘ وہ حضرت محمد ﷺ کی صداقت میں شک نہ کرتا تھا ۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ کہ آپ صادق اور امین ہیں ۔ ان کے علم میں کوئی ایک چھوٹا سا واقعہ بھی نہ تھا جس میں آپ نے جھوٹ بولا ہو کیونکہ آپ رسالت سے قبل ان میں ایک طویل زمانہ رہ چکے تھے ۔ اسی طرح جو طبقات آپ کی دعوت کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے انہیں اس بات میں بھی شک نہ تھا کہ آپ بالکل سچے رسول ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے اور یہ کہ انسان اس قسم کا کلام پیش نہیں کرسکتا ۔ لیکن اس کے باوجود اپنے اس علم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 33–34

1 خلائق کے حال پر شفقت و ہمدردی سارے جہان سے زیادہ نبی کریم ﷺ کے دل میں ڈالی گئی تھی۔ آپ ﷺ ان بدبختوں کی تکذیب و اعراض، مستقبل کی تباہی اور مشرکانہ وملحدانہ کلمات سے سخت رنج اور صدمہ محسوس فرماتے تھے۔ ان آیات میں آپ ﷺ کو تسلی اور ان اشقیاء کو دھمکی دی گئی ہے کہ آپ ان کے اعراض و تکذیب سے اس قدر دلگیر اور بےچین نہ ہوں، یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں فی الحقیقت آپ ﷺ کو نہیں جھٹلاتے کیونکہ آپ کو تو پہلے سے بالاتفاق صادق وامین سمجھتے تھے، بلکہ خدا کی آیات و نشانات کا جو پیغمبر ﷺ کی تصدیق و تبلیغ کیلئے بھیجی گئی ہیں، جان بوجھ کر ازراہ ظلم وعناد انکار کر رہے ہیں تو آپ بھی ان ظالموں کا معاملہ خدا کے سپرد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہٗ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ ہم جانتے ہیں کہ جو مطالبات یہ لوگ کر رہے ہیں ‘ آپ سے جو معجزات کا تقاضاکر رہے ہیں اس سے آپ رنجیدہ ہوتے ہیں۔ آپ کی ذات گویا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آگئی ہے۔ ایک طرف اللہ کی مشیت ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کے تقاضے۔ اب اس کا پہلا جواب تو یہ ہے : فَاِنَّہُمْ لاَ یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ۔ یہ لوگ قرآن کا انکار کر رہے ہیں ‘ ہمارا انکار کر رہے ہیں ‘ آپ ﷺ کا انکار انہوں نے کب کیا ہے ؟ یہاں سمجھانے کے اس انداز پر غور کیجیے ! کیا انہوں نے آپ ﷺ کو جھوٹا کہا ؟ نہیں کہا ! آپ ﷺ پر کوئی تہمت انہوں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 کفار مکہ آپ کی نہیں بلکہ آیات اللہ کی تکذیب کرتے تھے :۔ نبوت سے پہلے مشرکین مکہ آپ کو صادق اور امین کہا کرتے تھے نبوت کے اعلان کے بعد بھی آپ کے کسی بڑے سے بڑے دشمن نے بھی دنیوی معاملات میں آپ کو کبھی جھوٹا نہیں کہا۔ البتہ دین کے متعلق آپ جو کچھ کہتے تھے کافر اسے جھٹلاتے تھے۔ چناچہ ایک دفعہ خود ابو جہل نے رسول اللہ سے یہ بات کہی تھی کہ محمد ! ہم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ جو کچھ تم لائے ہو ہم اسے جھٹلاتے ہیں۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور اس جھٹلانے کی ایک بڑی وجہ قریش کی قبائلی عصبیت تھی۔ ابو جہل جو قبیلہ بنو مخزوم سے تعلق رکھتا تھا ایک بار کہنے لگا ہم اور بنو عبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

52 ۔ (سو آپ غم وحزن میں زیادہ نہ پڑئیے۔ بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجئے) مطلب یہ ہے کہ منکرین، مکذبین آپ کی ذاتی صداقت وامانت سے کچھ تھوڑے ہی انکار کررہے ہیں۔ انہیں تو ضد اس پیام الہی سے ہے جو آپ انہیں پہنچا رہے ہیں، سو ان کا معاملہ آپ سے نہیں براہ راست حق تعالیٰ سے ہے حدیث وسیر کی روایتوں میں صراحۃ آتا ہے کہ سرگروہ مکذبین ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہم کچھ آپ کو تھوڑے ہی جھوٹا کہتے ہیں ہم تو اس پیام کو جھوٹا کہتے ہیں جس کا لانا آپ بیان کرتے ہیں۔ قال ابو جہل للنبی ﷺ ان لا نکذبک ولکن نکذب بما جئت بہ (ابن کثیر۔ عن علی ؓ) قال ابو میسرۃ ان رسول اللہ ﷺ مر بابی جھل و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–34

شان نزول : قد نعلم اِنّہ لیحزنک الّذی یقولون (الآیۃ) ترمذی اور حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے، اور ترمذی نے اس روایت کو صحیح کہا ہے اور حاکم نے اس کو شرط شیخین پر صحیح کہا ہے کہ ایک روز ابوجہل نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ معاملات دنیا میں ہم تم کو سچا اور امانتدار مانتے ہیں، لیکن جس کلام کو تم خدا کی طرف سے نازل کردہ کہتے ہو ہم اس کی تصدیق نہیں کرسکتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور چونکہ آنحضرت ﷺ مشرکین کے جھٹلانے کی وجہ سے رنجیدہ ہوتے تھے اس آیت میں آپ کو تسلی دینا بھی مقصود ہے مطلب یہ ہے کہ مشرکین کو آپ کی ذات سے کوئی غرض اور بحث نہیں ہے بلکہ وہ تو آپ کو ذاتی طور پر پسندیدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قد نعلم انہ لیحزنک الذی یقولون فانہم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون۔ ہم کو خوب معلوم ہے کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں سو یہ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ (اس جگہ) لفظ قدفعل کی زیادتی اور کثرت کو ظاہر کرنے کیلئے آیا ہے جیسے ولکنہ قد یملک المال نائلہ میں آیا ہے اور اَنَّہٗمیں ضمیر شان ہے (جس کو مرجع کی ضرورت نہیں ہوتی) سدی کا بیان ہے کہ اخنس بن شریق نے ابوجہل بن ہشام سے ملاقات کی اور کہا ابوالحکم محمد ﷺ بن عبداللہ کے متعلق مجھے بتاؤ وہ سچے ہیں یا جھوٹے۔ اس وقت یہاں میرے سوا آپ کی بات سننے والا اور کوئی نہیں ہے۔ ابوجہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) اور حارث بن عامر اور اس کے ساتھیوں کی طعن وتکذیب اور دلائل نبوت کا مطالبہ آپ کو مغموم کرتا ہے اور یہ براہ راست آپ کی تکذیب نہیں کرتے، لیکن یہ مشرکین آیات خداوندی کا جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”قد نعلم انہ“۔ (الخ) امام ترمذی ؒ اور حاکم ؒ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوجہل نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ اس چیز کی تکذیب کرتے ہیں جو آپ لے کر آئے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یہ ظالم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ۔۔ : نبی کریم ﷺ نے جب تک نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا آپ کی قوم کے تمام لوگ آپ کو صادق اور امین کہتے تھے، لیکن جونہی آپ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور انھیں اللہ کی آیات سنانا شروع کیں تو ان میں سے اکثر آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور آپ کو (نعوذ باللہ) جھوٹا قرار دینے لگے۔ ابو سفیان جو بدر، احد اور خندق کی جنگ کا باعث تھا، اس سے رومی بادشاہ ہرقل نے پوچھا کہ محمد ﷺ نے کبھی جھوٹ بولا ہے، تو اس نے کافر ہونے کے باوجود جواب دیا کہ محمد ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ یہ لوگ جو آپ کو جھٹلا رہے ہیں، وہ حقیقت میں آپ کو نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–34

آیت نمبر 33 تا 34 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قد نعلم انہ لیحذنک الذی یقولون لام کے دخول کی وجہ سے ان کو کسرہ دیا گیا ہے۔ ابو میسرہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے پاس سے گزرتے تو انہوں نے کہا : اے محمد ﷺ ! اللہ کی قسم ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے، تو ہمارے نزدیک سچا ہے لین ہم اس کو جھٹلاتے ہیں جو آپ لیکر آئے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی : آیت : فانھم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون پھر نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا۔ یکذبونک کو مخفف اور مشدد دونوں طرح پڑھا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ ہم معنی ہیں جیسے حذتہ اور احزتہ ہم معنی ہیں۔ ابوعبید نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) اور ضیاء نے المختارہ میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ ابو جہل نے نبی ﷺ سے کہا ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے لیکن ہم اس دین کو جھٹلاتے ہیں جس کو آپ لے کر آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت فانھم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو یزید المدنی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ابو جہل سے ملے تو ابو جہل نے کہا اللہ کی قسم میں اس کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کروں گا میں جانتا ہوں کہ وہ سچ بولنے والے ہیں لیکن کب ہم بنو عبد مناف کے تابع ہیں ؟ اور ابو یزید نے (یہ آیت) تلاوت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَدْ نَعْلَمُ [ ہم جان چکے ہیں ] اِنَّهٗ [ کہ یہ حقیقت ہے کہ ] لَيَحْزُنُكَ [ بیشک غمگین کرتی ہے آپ کو ] الَّذِيْ [ وہ (بات) جو ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ لوگ کہتے ہیں ] فَاِنَّهُمْ [ تو بیشک یہ لوگ ] لَا يُكَذِّبُوْنَكَ [ نہیں جھٹلاتے آپ کو ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن (یعنی بلکہ )] الظّٰلِمِيْنَ [ یہ ظالم لوگ ] بِاٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں کا ] يَجْحَدُوْنَ [ جانتے بوجھتے انکار کرتے ہیں ] ج ح د : (ف) جحدا۔ اس کا انکار کرنا جس کا دل میں اقرار ہو ، جانتے بوجھتے انکار کرنا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 33 ۔ ترکیب : انہ میں ضمیر الشان ہے ۔ (آیت نمب ر 2:85، نوٹ ۔ 1) الیحزنک کا فاعل الذی ہے ۔ الظلمین پر لام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین مکہ آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں معالم التنزیل ج 2 ص 93 میں لکھا ہے کہ اخنس بن شریق کی ابو جہل سے ملاقات ہوگئی۔ اخنس نے ابو جہل سے کہا کہ اس وقت یہاں تیرے اور میرے سوا کوئی نہیں تو مجھے سچی بات بتادے کہ محمد بن عبداللہ ﷺ اپنے دعوے میں سچے ہیں یا جھوٹے ؟ ابو جہل نے کہا اللہ کی قسم ! اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد ﷺ سچے ہیں انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا لیکن ہمارے جھٹلانے کی وجہ یہ ہے کہ جب بنو قصی (جو قریش کا ایک قبیلہ تھا جس میں سے رسول اللہ ﷺ تھے) کے پاس علمبر داری بھی چلی جائے اور سقایہ (یعنی حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت) بھی چلی جائے اور کعبہ شریف کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–39

تسلی نبی اکرم ﷺ وتلقین صبر۔ قال اللہ تعالی، قد نعلم انہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مستقیم۔ ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں منکروں کے انکار اور تکذیب کا بیان تھا جس سے نبی کو بمقتضائے شفقت ورافت صدمہ اور رنج ہوتا تھا کماقال تعالی، لعلک باخع نفسک علی۔۔۔ الی۔۔۔ اسفا، وقال تعالی، فلاتذہب نفسک علیھم حسرات۔ آیت۔ لہذا اللہ جل شانہ ان آیات میں نبی کی تسلی اور تشفی فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ ان لوگوں کی تکذیب سے رنجیدہ اور ملول نہ ہو یہ تکذیب کرنے والے آپ کی تکذیب کررہے ہیں بلکہ فی الحقیقت اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جھٹلا رہے ہیں خدا تعالیٰ خود ہی ان کو سمجھ لے گا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں اور آپ کو تو انبیاء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

38 یہ آنحضرت ﷺ کے لیے نہایت محبت آمیز انداز میں تسلی ہے۔ حضور ﷺ لوگوں پر نہایت شفیق اور مہربان تھے۔ اور آپ کی آرزو تھی کہ سب لوگ ایمان لے ئ آئیں اور جہنم کی آگ سے بچ جائیں مگر معاندین ماننے کے بجائے الٹے نہ صرف آپ کی تکذیب کرتے بلکہ آپ سے استہزاء کرتے اور تکلیفیں دینے کی کوششیں کرتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا کہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ مشرکین کی تکذیب اور ایذا کی باتیں آپ کو غم میں ڈال رہی ہیں لیکن آپ غم نہ کریں یہ ظالم آپ کو نہیں جھوٹا کہتے آپ کو تو اب بھی صادق و امین سمجھتے ہیں لیکن محض ضد وعناد کی وجہ سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ ایک دفعہ اخنس بن شریق اور ابو جہل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–33

رابط آیات گزشتہ دورس میں اللہ نے مشرکین کا رد کرنے کے بعد معاد کا مسئلہ بیان فرمایا ” یوم نحسر ھم جمعیاً جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے پھر مشرکین کے برے انجام کا ذکر کیا اور ان کے اس قول کو دہرایا کہ وہ کہتے ہیں ان ھی الا حیاتنا الدنیا یعنی ہمارے لئے تو یہ دنیا کی زندگی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ” ومانحن بمبعوثین “ اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ گویا انہوں نے معاد کا صریحاً انکار کردیا۔ اللہ نے ان کی مذمت بیان فرمائی کیونکہ توحید ‘ رسالت ‘ قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ معاد پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو شخص اس عقیدے کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ قیامت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَدْنَعْلَمُ اِنَّہٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّہُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ يَجْحَدُوْنَ۝ 33 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–34

1 ؎ یعنی یہ انکار قیامت اسی وقت تک ہے کہ قیامت نہیں آتی۔ پھر جب اچانک آگئی تو حسرت کریں گے اور پیٹھ پر گناہوں کا پشتارا ہوگا۔ 12 منہ 2 ؎ وزر کی جمع اوزار ہے جس کے معنی بار۔ چونکہ وزیر بادشاہ کے تمام کاروباراٹھاتا ہے اس لئے اس کو بھی وزیر کہتے ہیں۔ 12 منہ تفسیر : قیامت کے منکروں کو ایک اور طور سے نادم کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جو اللہ سے ملنے کے منکر ہیں ٗ خسارہ میں پڑگئے کیونکہ جب وہ ساعت موت جو قیامت کبریٰ کا مقدمہ ہے یکایک آجاوے گی تو حیرت کریں گے اس وجہ سے کہ قیامت کا تو ان کو یقین ہی نہیں اور قاعدہ ہے کہ جس چیز کا یقین نہیں ہوتا اس کے لئے کوئی سامان کافی نہیں کیا جاتا۔ ایسی حالت میں وہ دنیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہوتا ہے : قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہٗ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّھُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللہِ یَجْحَدُوْنَ ۔ (الانعام : 33) (اے محمد ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ‘ ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے۔ لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے ‘ بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں) رسول اللہ ﷺ کی مکی زندگی کے دو حصے ہیں ایک وہ حصہ ہے جو آپ نے چالیس سال کی عمر تک نبوت سے پہلے مکہ میں گزارا اس میں جیسے ہی آپ شعور اور بلوغ کی عمر کو پہنچے جس میں آدمی کے اعمال کا لحاظ شروع ہوتا ہے اور آدمی اپنے اچھے یا برے اعمال سے پہچانا جاتا ہے ‘ اس وقت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–34

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی ﷺ ! جب یہ دنیا عارضی اور اس کے مقابلے میں آخرت دائمی اور اس کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں یہاں متقین کو ان کی نیکیوں سے بڑھ کر اجر ملنے والا ہے لہٰذا آپ کو مکذّبین کی باتوں پر دل گرفتہ اور غمزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی معظم ﷺ کو بےحساب صبر و تحمل اور عظیم حوصلہ عطا فرمایا تھا اس کے باوجود کفار کے ظلم و ستم، یہود و نصاریٰ کی سازشیں اور منافقین کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے کبھی کبھار آپ پر یشان ہوجایا کرتے تھے۔ پریشانی کا بنیادی سبب لوگوں کی ہدایت اور ان کی خیر خواہی کا جذبہ ہوا کرتا تھا۔ جس پر آپ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد ہوا کہ اے نبی ! ہم آپ کی فکر مندی،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اس آیت سے تسلی دی گئی کہ وہ رسول کے نہیں بلکہ مرسل کے مکذب ہیں : آیت 33 : جب ابوجہل نے کہا کہ اے محمد ﷺ ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے تم ہمارے نزدیک سچے ہو۔ ہم تو اس کی تکذیب کرتے ہیں جو تو تمہارے پاس لے آیا ہے۔ قَدْ نَعْلَمُْ اِنَّہٗ ہٗ ۔ ضمیر شان ہے۔ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّہُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَوہ تیری نسبت کذب کی طرف نہیں کرتے۔ قراءت : نافع و علی نے تخفیف سے پڑھا ہے اس وقت یہ اَکْذَبَہٗ سے ہے جبکہ اس کو جھوٹا پایا جائے۔ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ضمیر کی جگہ اسم ظاہر لایا گیا اس میں واضح دلیل ہے کہ انہوں نے انکار میں زیادتی کی۔ باؔ، یہ یجحدون کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 31–33

آیت نمبر 33, 32, 31 تفسیر : (قد خسرالذین کذبو وا بلقاء اللہ ) یعنی اپنے آپ کو تباہ کیا اللہ کی طرف لوٹنے کے انکار کرنے ساتھ اور بعث بعد الموت کے انکار کرتا ہے۔ ( حتین اذا جاء نھم الشاعۃ بعثۃ قالو بحسرلننا جہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک تو کہیں گے اسے افسوس) ندات کو نداء کے ذریعے ذکر کیا گیا ہے مبالغہ پیدا کرنے کے لیے۔ سیوپہ (رح) فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ کہہ رہے ہوں گے اے حسرت یہ تیرا وقت ہے ( غلی ما فرطنا فیھا کیسی کوتاہی ہم نے اس میں کی) یعنی کہنا ماننے میں اور کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ہم نے دنیا میں آخرت کا عمل چھوڑ دیا اور محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں کہ ” فیھا “ کی ھباء ”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–34

(33 ۔ 34) ۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے اور ترمذی نے اس روایت کو صحیح بتلایا ہے اور حاکم نے اس کو شرط شیخین پر صحیح کہا ہے کہ ابوجہل نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ معاملات دنیا میں ہم تم کو سچا اور امانت دار جانتے ہیں لکن جس کلام کو تم اپنے اوپر خدا کی طرف سے اترنا بتلاتے ہو اس کی تصدیق ہم نہیں کرسکتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ اور آنحضرت جو مشرکین کے جھٹلانے پر رنجیدہ ہوتے تھے اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یوں تسکین دی کہ تمہاری ذات خاص سے ان مشرکین کو کچھ بحث نہیں ہے بلکہ وہ ذات سے تم کو اچھا گنتے ہیں وہ تو اس سبب سے تم کو جھٹلاتے ہیں کہ تم ان کو خد کے احکام سنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–35

آیت 33 یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لئے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے (فانھم لایکذبونک) ” بیشک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے “ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر، باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ” امین “ کہا کرتے تھے (ولکن الظلمین بایت اللہ یجعدون) ” لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

47 پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کے لیے [ اے پیغمبر ] غم کا باعث بن رہی ہیں ان لوگوں کی وہ باتین جو یہ بناتے ہیں۔ سو ان کی وہ دکھ دہ اور دلآزار باتیں ہم سے مخفی نہیں جو یہ لوگ آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے ذریعے آنے والے اس دین حق کی توہین و تکذیب کے لئے کرتے ہیں کہ کبھی یہ آپ ﷺ کو شاعر کہتے ہیں کبھی ساحر اور کبھی مجنوں وغیرہ۔ (ابن کثیر، قرطبی، صفوہ، معارف وغیرہ) ۔ اور اس طرح یہ بدبخت آپ کی اور آپ کے عُشَّاق و پروانوں کی دلآزاری کا سامان کرتے ہیں اور اپنی بدبختی کی سیاہی کو اور پکا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو یہ سب کچھ ہمارے علم میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–36

رسول اللہ ﷺ کی دلجوئی اور کفار کی اصلیت تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں آپ بالکل نہ گھبرائیں آپ ﷺ کی سچائی اور اچھائی کے تو یہ لوگ ماننے والے ہیں اسی لیے آپ کو نبوت سے پہلے صادق اور امین کے ناموں سے اہل مکہ ِ پکارتے تھے۔ لیکن جونہی آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اللہ کی توحید کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کیا تو کفار آپ ﷺ کے جانی دشمن ہوگئے آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزام لگانے لگے اور آپ ﷺ کو ہر طرح کی تکلیفیں اور دکھ دینے لگے تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ آپ کی دشمنی میں نہیں کر رہے بلکہ یہ تو میری دشمنی میں مجھے جھٹلانے کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–41

رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔ اسرار و معارف : اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–34

ف 1 اس آیت میں ایک دوسرے طریقے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے (کبیر) کلمات الہ سے مراد یہ ہے کہ اس نے جو آپ ﷺ کو غالب اور ان مشرین کو مغلوب کرنے کا وعدہ کیا ہے اسے پوراہو نے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی لہذا جس طرح انہوں نے صبر و استقامت کا مظاہر کیا اسی طرح آپ بھی صبر و استقامت سے اپنی دعوت پیش کرتے رہیں اور کسی بےچینی کو اپنے اندر راہ پانے دیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:33) لیحزنک۔ لام تاکید۔ یحزن مضارع واحد مذکر غائب۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر مفعول ۔ تم کو رنجیدہ کرتی ہے (یہ بات) اس کا فاعل الذین یقولون ہے یعنی وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں۔ یجحدون ۔ جحد جحود۔ مصدر۔ باب فتح۔ وہ انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–36

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 36 : لیحزنک (البتہ وہ تجھے رنجیدہ کرتے ہیں) ‘ یجحدون ( وہ انکار کرتے ہیں) ‘ کذبت (جھٹلائی گئی۔ (جھٹلائے گئے) اوذوا ( تکلیف دیئے گئے) لامبدل (بدلنے والا نہیں ہے) ‘ کلمت اللہ ( اللہ کی باتیں) ‘ کبر (ناگوار گزرنا) ۔ بڑا ہے) ‘ استطعت (تیری طاقت ہے) ‘ تبتغی (تو تلاش کرتا ہے) ‘ نفق (کوئی سرنگ) ‘ سلم (سیڑھی) یستجیب ( وہ جواب دیتا ہے۔ قبول کرتا ہے) یسمعون ( وہ سنتے ہیں) الموتی (مردے) یبعث (وہ اٹھاتا ہے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 33 تا 36 : یہ آیات وہ تصویر پیش کررہی ہیں جو اہل کفر کی ہٹ دھرمی اور کج بحثی سے خود رسول اللہ کے دل پر گزر رہی تھی۔ یہ بھی پیش کررہی ہیں کہ آپ کیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–34

آنحضرت ﷺ کی امانتداری پر ابو جہل کا یقین شان نزول : ابوجہل نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ معاملات دنیا میں ہم تم کو سچا اور امانتدار جانتے ہیں، لیکن جس کلام کو تم اپنے اوپر خدا کی طرف سے اتنا بتلاتے ہو اس کی تصدیق ہم نہیں کرسکتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور تسکین دی کہ تمہاری ذات خاص سے ان مشرکوں کو کچھ بحث نہیں ہے بلکہ وہ ذات سے تم کو اچھا سمجھتے ہیں۔ وہ تو اس سبب سے تم کو جھٹلاتے ہیں کہ تم ان کو خدا کے احکام سنا کر ان کے قدیم رواج بت پرستی ان سے چھڑانا چاہتے ہو۔ سو یہ جھٹلانا کچھ رنج و غم کھانے کے لائق نہیں ہے۔ پچھلی امتیں بھی اسی طرح رسولوں کو جھٹلاتی اور طرح طرح کی ایذائیں دیتی رہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–35

[14] نبی ﷺ کی بڑی خواہش تھی کہ تمام کفار اسلام لے آئیں۔ جو لوگ اسلام سے محروم رہتے ان کی محرومی آپ پر بہت شاق گزرتی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو ارادہ و اختیار کی قوت دی گئی ہے اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ روش اختلاف باقی رہے ورنہ اللہ چاہتا تو سب کو مومن پیدا کردیتا پھر رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ لہذا ایسی روشن حقیقت سے بیخبر رہنا نادانی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–33

آخرت کا گھر اچھا ہے : (ف 2) دنیا کی حیثیت اسلام میں صرف یہ ہے کہ یہ عارضی اور فانی مقام ہے اصل جگہ اور مقام آخرت ہے ، یعنی وہ زندگی جو موت کے بعد شروع ہوتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-33 اے پیغمبر ہم کو خوب معلوم ہے اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ منکر جو کچھ کہتے ہیں اور جو دل آزار باتیں یہ کرتے ہیں وہ باتیں آپ کے لئے رنجیدہ ہوتی ہیں اور وہ باتیں آپ کو آزردہ خاطر کرتی ہیں سو وہ منکر درحقیقت آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ یہ ظالم تو براہ راست آیات الٰہی کا انکار کرتے ہیں یعنی ان کا مقصد ا صلی اللہ کی آیتوں کی تکذیب اور ان کا انکار ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–33

ف 3۔ خود حیات دنیوی کو لہو ولعب فرمانا مقصود نہیں بلکہ اس کے ان اشغال و اعمال کو کہ آخرت کے لیے نہ موضوع ہیں نع معین ہیں تو اس قید سے طاعات اور مباھات معین طاعات سب نکل گئے اور مباھات لایعنی اور معاصی سب داخل رہ گئے گو ایسے مباحات میں گناہ نہ ہو لیکن بےسود فانی الاثر تو ہیں اور لہو ولعب کے معنی اہل لغت نے متقارب بلکہ متحد ہی لکھے جاتے ہیں صرف فرق اعتبار ہی سے ہوسکتا ہے وہ یہ کہ غیر مانع امر میں مشغول ہونے کے دواثر ہیں ایک خود اس کی طرف متوجہ ہونادوسرے اس توجہ کی وجہ سے نافع امور سے بےتوجہی ہوجانا وہ امر اول اعتبار سے لعب کہلاتا ہے اور دوسرے اعتبار سے لہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن لوگوں کی باتیں آپ کے لیے ملال خاطر ہیں وہ ہمارے علم میں ہیں : 50: دنیا کی پرانی گمراہیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی انسان کی بات سنے بغیر اس کے متعلق ایک خیال قائم کرلینا کہ وہ ایسا ویسا ہے ۔ اس خیال کا مدار کیا ہے ؟ صرف اور صرف لوگوں کی باتیں کہ فلاں نے اسکو ” نیک “ کہا ہے یا فلاں نے اس کو ” برا “ کہا ہے اور یہ گمراہی آج اتنی ہی عام ہے جتنی کہ اس وقت تھی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ہماری اکثریت تو سنی مسلمان ہے اور وہ سنت کا مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے یہی سمجھتے ہیں کہ جس بات کو ہم نے اپنے مذہبی پیشواؤں سے سن لیا بس وہ ہمارے لئے حرف آخر ہے کہ ہماری فکر کے بہت بڑے عالم ، مفتی اور پیشوا مانے گئے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–37

Commentary About the statement: فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ (it is not you they are belying, rather, it is the signs of Allah they are denying) in the first verse (33), there is a related event, reported in Tafsir Mazhari on the authority of a narration by As-Suddiy, according to which, once Akhnas ibn Shuraiq and Abu Jahl, two chiefs of the Quraysh tribe met together. Akhnas asked Abu Jahl: 0 Abul-Hikam, (In Arabia, Abu Jahl was called Abul-Hikam - 'man of wisdom' - but because of his hostility to Islam, he became known as Abu-Jahl - 'man of ignorance' ), you and me are alone here. There…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21. The fact is that before the Prophet Muhammad (peace be on him) began to preach the message of God, all his people regarded him as truthful and trustworthy and had full confidence in his veracity. Only after he had begun to preach the message of God did they call him a liar. Even during this period none dared to say that the Prophet (peace be on him) had ever been guilty of untruthfullness in personal matters. Even his worst enemies never accused him of lying in any worldly affairs. When they did accuse him of falsehood, they did so in respect of his prophetic mission. Abu Jahl for…

Read the full tafseer →