Explained with ayahs 31–32
پشیمانی مگر جہنم دیکھ کر !
قیامت کو جھٹلانے والوں کا نقصان ان کا افسوس اور ان کی ندامت و خجالت کا بیان ہو رہا ہے جو اچانک قیامت کے آجانے کے بعد انہیں ہوگا۔ نیک اعمال کے ترک افسوس الگ، بد اعمالیوں پر پچھتاوا جدا ہے۔ فیھا کی ضمیر کا مرجع ممکن ہے حیاۃ ہو اور ممکن ہے اعمال ہو اور ممکن ہے دار آخرت ہو، یہ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ہوں گے، اپنی بد کرداریاں اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ آہ ! کیا برا بوجھ ہے ؟ حضرت ابو مرزوق فرماتے ہیں کافر یا فاجر جب اپنی قبر سے اٹھے گا اسی وقت اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نہایت بھیانک، خوفناک اور بد صورت ہوگا اس کے جسم سے تعفن والی سڑاند کی سخت بدبو آرہی ہوگی…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 20
اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی زندگی میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے اور یہ محض کھیل اور تماشے کے طور پر بنائی گئی ہے۔ دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی اور پائیدار زندگی کی مقابلہ میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل اور تفریح میں دل بہلائے اور پھر اصل سنجیدہ کاروبار کی طرف واپس ہوجائے۔ نیز اسے کھیل اور تماشے سے تشبیہ اس لیے بھی دی گئی ہے کہ یہاں حقیقت کے مخفی ہونے کی وجہ سے بےبصیرت اور ظاہر پرست انسانوں کے لیے غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب موجود ہیں اور ان غلط فہمیوں میں پھنس کر لوگ حقیقت نفس الامری کے خلاف ایسے ایسے عجیب طرز عمل اختیار کرتے ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
وَهُمْ يَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰي ظُهُوْرِهِمْ ، روایات حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں کے اعمال ان کی سواری بن جائے گی، اور بدکاروں کے اعمال بدبھاری بوجھ کی شکل میں ان کے سروں پر لادے جائیں گے۔
یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ کفار و فجار میدان حشر میں اپنی جان بچانے کے لئے بوکھلاہٹ کیساتھ مختلف باتیں کریں گے، کہیں جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے کہیں یہ تمنا کریں گے کہ دوبارہ دنیا میں لوٹا دئیے جائیں۔ مگر یہ کوئی نہ کہے گا کہ ہم اب ایمان لے آئے اور اب نیک عمل کیا کریں گے۔ کیونکہ حقیقت ہدایت کے ساتھ ان کے سامنے آجائے گی کہ عالم آخرت دار العمل نہیں اور یہ کہ ایمان کی صحت اسی وقت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
29 تا 32: ان آیات میں کوئی ادبی یا نحوی اشکال نہیں ہے۔ مکذبین قرآن کے بعد اب یہ مکذبین قیامت کا انجام بیان کیا جا رہا ہے جو اس دنیا کی زندگی ہی کو زندگی سمجھتے تھے اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے یا تو قائل ہی نہ تھے یا اس کو بہت ہی بعید از قیاس و امکان چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے تو دیکھتے کہ ایک دن یہ سب اپنے رب کے حضور لا کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے سوال ہوگا کہ کیوں یہ دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اور قیامت کا آنا ایک امر واقعہ ثابت ہوا یا نہیں ؟ اس وقت وہ کہیں گے ہاں ہمارے رب کی قسم ! یہ تو ایک امر واقعہ ہے۔ حکم ہوگا کہ پھر اب اس دن کے انکار کی پاداش میں چکھو مزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
31۔ 1 اللہ کی ملاقات کی تکذیب کرنے والے جس خسارے اور نامرادی سے دو چار ہوں گے اپنی کوتاہیوں پر جس طرح نادم ہوں گے اور برے اعمال کا جو بوجھ اپنے اوپر لادے ہوں گے آیت میں اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ فَرَّطْنَا فِیْھَا میں ضمیراَلسَّاعَۃُ کی طرف راجع ہے یعنی قیامت کی تیاری اور تصدیق کے معاملے میں جو کوتاہی ہم سے ہوئی یا الصَّفْقَۃُ (سودا) کی طرف راجع ہے جو اگرچہ عبارت میں موجود نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کناں ہے اس لئے کہ نقصان سودے میں ہی ہوتا ہے اور مراد اس سودے سے وہ ہے جو ایمان کے بدلے کفر خرید کر انہوں نے کیا یعنی یہ سودا کر کے ہم نے سخت کوتاہی کی یا حیاۃ کی طرف راجع ہے یعنی ہم نے اپنی…
Read the full tafseer →8: یہ بات کفروں کے اس بیان کے جواب میں کہی گئی ہے جو آیت نمبر 29 میں اوپر گذرا ہے کہ ”جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے“ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں چند روز کی دنیوی زندگی جسے تم سب کچھ سمجھ رہے ہو، کھیل تماشے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پرواہ کیے بغیر دنیا میں زندگی گذارتے ہیں تو جس عیش و آرام کو وہ اپنا مقصد زندگی بناتے ہیں، آخرت میں جا کر ان کو پتا لگ جائے گا کہ اس کی حیثیت کھیل تماشے کی سی تھی۔ ہاں ! جو لوگ دنیا کو آخرت کی کھیتی بنا کر زندگی گذارتے ہیں، ان کے لیے دنیوی زندگی بھی بڑی نعمت ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَلَلدَّارُ الآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ (32)
” دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے ‘ حقیقت میں آخرت کا مقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے ؟ “
اللہ کے پیمانے کے مطابق حیات دنیا اور حیات اخروی کا یہ وزن ہے اور یہ حقیقی وزن ہے ۔ اس چھوٹے سے کرے پر جس کا نام زمین ہے ۔ ایک گھنٹے کی زندگی کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے ۔ یہ لہو ولعب ہی ہو سکتا ہے ۔ خصوصا جب اس کا موازنہ عالم آخرت کی طویل اور ابدی زندگی سے کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ عالم آخرت کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →6 کفار تو یہ کہتے تھے کہ دنیاوی زندگی کے سوا کوئی زندگی ہی نہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ فانی اور مکدر زندگانی حیات اخروی کے مقابلہ میں محض ہیچ اور بےحقیقت ہے۔ یہاں کی زندگی کے صرف انہی لمحات کو زندگی کہا جاسکتا ہے جو آخرت کی درستی میں خرچ کئے جائیں۔ بقیہ تمام اوقات جو آخرت کی فکر و تیاری سے خالی ہوں ایک عاقبت اندیش کے نزدیک لہو و لعب سے زائد وقعت نہیں رکھتے۔ پرہیزگار اور سمجھدار لوگ جانتے ہیں کہ انکا اصلی گھر آخرت کا گھر اور ان کی حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 32 وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَعِبٌ وَّلَہْوٌ ط۔
اس کا مطلب یہ نہیں لینا چاہیے کہ دنیا کی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ بلکہ تقابل میں ایسا کہا جاتا ہے کہ آخرت کے مقابلے میں اس کی یہی حقیقت ہے۔ ایک شے ابدی ہے ‘ ہمیشہ ہمیش کی ہے اور ایک شے عارضی اور فانی ہے۔ ان دونوں کا آپس میں کیا مقابلہ ؟ جیسے دعائے استخارہ میں الفاظ آئے ہیں : فَاِنَّکَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ اے اللہ ! تو ہی سب کچھ جانتا ہے ‘ میں کچھ نہیں جانتا۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی بھی علم نہیں ہے ‘ لیکن اللہ کے علم کے مقابلے میں کسی دوسرے کا علم کچھ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح یہاں آخرت کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →36 دنیا کی زندگی کھیل تماشاکس لحاظ سے ہے :۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی زندگی میں سرے سے کوئی سنجیدگی ہے ہی نہیں۔ اور یہ محض کھیل تماشے یا سیر و تفریح کے لیے بنائی گئی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی اور پائیدار زندگی کے مقابلہ میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل تفریح میں دل بہلا کر بعد میں پھر سے اپنے اصل کام کی طرف متوجہ ہوجائے۔ یہ کھیل تماشا صرف ظاہر بین اور دنیا پرست لوگوں کے لیے ہے اور دنیا میں بسنے والے لوگوں کی اکثریت چونکہ ایسی ہی ہے جو اس دنیا کی رنگینیوں میں ہی کھو کر رہ جاتی ہے۔ لہذا کہیں اس دنیا کی زندگی کو کھیل تماشا اور کہیں دھوکے کا سامان کہا گیا ہے…
Read the full tafseer →51 ۔ (اور فکر آخرت چھوڑ کر اسی سامان دنیوی میں منہمک ہو) جس دنیا کی یہ مذمت ہے، وہ وہی دنیا ہے جو مقصود بالذات ہو جیسی کہ ملحدوں اور مادہ پرستوں کو ہوتی ہے، وہی لوگ جن کا قول ابھی اوپر نقل ہوچکا ہے۔ انھی الاحیاتنا الدنیا، فالمقصد بالایۃ تکذیب الکفار فی قولھم انھی الا حیاتنا الدنیا (قرطبی) قال ابن عباس ؓ ھذہ حیاۃ الکافر لانہ یزجیھا فی غرور و باطل (قرطبی) المراد منہ حیاۃ الکافر قال ابن عباس ؓ یرید حیاۃ اھل الشرک والنفاق والسبب فی وصف حیاۃ ھولآء بھذہ الصفۃ ان حیاۃ المومن یحصل فیھا اعمال صالحۃ فلاتکون لعبا ولھوا (کبیر) ورنہ وہ دنیا جو آخرت کی تیاریوں کے لیے ہوتی جیسی ہر مومن کی ہونی چاہیے وہ مذمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آیت نمبر 31 تا 41
ترجمہ : یقیناً وہ لوگ نقصان میں پڑگئے جنہوں نے بعث (سے انکار کے ذریعہ) اللہ کی ملاقات کی تکذیب کی (حَتّٰی) تکذیب کی غایب ہے، یہاں تک کہ جب قیامت ان پر دفعۃً آپہنچے گی تو یہ لوگ کہیں گے ہائے افسوس دنیا میں ہماری کوتاہی پر یہ شدت الم کا اظہار ہے، اور حسرت کو ندا دینا مجاز ہے، (یعنی) اے حسرت یہ تیری حاضری کا وقت ہے لہٰذا تو حاضر ہوجا، اور حال ان کا یہ ہوگا کہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے، بایں صورت کہ انکے اعمال بعث کے وقت نہایت بری صورت اور بدترین بدبو کے ساتھ آئیں گے اور ان کے اوپر سوار ہوجائیں گے، خوب سن لو بری ہوگی وہ چیز جس کو وہ لادے ہوئے ہوں گے،…
Read the full tafseer →وما الحیوۃ الدنیا الا لعب ولہو اور دنیوی زندگی تو کچھ بھی نہیں ہے۔ صرف کھیل اور بہلاوا ہے۔ لعب غیر مفید کام جس کا کوئی صحیح مقصد نہ ہو لہو مفید کام سے روکنے والا امر یعنی جن اعمال کی غرض صرف دنیوی عیش پسندی اور لذت اندوزی ہو اور رضاء مولی کی طلب نہ ہو ان سے کوئی خاص اعتبار نفع حاصل نہیں ہوسکتا جو دنیوی فائدہ ہوگا وہ عارضی اور زوال پذیر اور لازوال زندگی کے فوائد کے حصول سے روکنے والا ہوگا۔
واللدار الاخرۃ خیر للذین یتقون اور پچھلا گھر یقیناً پرہیزگاروں کے لئے بہترین ہوگا۔
ابن عامر کی قراءت میں ولدار الاخرۃ بھی آیا ہے اور اس صورت میں الاخرۃ کا موصوف الساعۃ محذوف ہوگا۔ جیسے صلٰوۃ الوسطٰی اور مسجد…
Read the full tafseer →(32) اور دنیاوی زندگی میں جو بھی کچھ عیش و عشرت نظر آتی ہے وہ ایک عارضی اور جھوٹی خوشی کی طرح ہے اور اس کے بالمقابل جنت کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے بہتر ہے، یہ منکرین حق پھر بھی نہیں سمجھتے کہ دنیا فانی اور جنت کو بقا ہے۔
Read the full tafseer →وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ۔ : دنیوی زندگی کے بہت جلد ختم ہونے کے اعتبار سے اس کو لہو و لعب فرمایا ہے۔ (رازی) یعنی آخرت کی حقیقی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی اور اس کی لذتیں ایسی ہی ہیں جیسے بچوں کا کھیل تماشا جو تھوڑی دیر میں ختم ہوجاتا ہے۔ دیکھیے سورة حدید (20) انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ کے راستے میں ایک شام یا ایک صبح دنیا وما فیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تمہارے کسی شخص کی ایک کمان کی مقدار کے برابر یا اس کے کوڑے کے برابر جگہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اور اگر اہل جنت میں سے کوئی عورت زمین والوں کی طرف جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان کی جگہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 32 :۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و ما الحیوۃ الدنیا الا لعب و لھو
دنیوی زندگی کو لہو اور تماشا اس کی مدت کے کم ہونے کی وجہ کہا گیا ہے جیسے شاعر نے کہا :
الا انما الدنیا کا احلام نائم وما خیر عیش لا یکون بدائم
تامل اذا ما نلت بالامس لذۃ فاففنی تھا ھل انت الا کحالم
ایک اور شاعر نے کہا :
فاعمل علی مھل فاتک میت واکدح لنفسک ایھا الانسان
فکان ما قدکان لم یک اذ مضی وکان ماھو کائن قد کا نا
بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے دنیاوی زندگی متاع لہو ولعب ہے یعنی وہ چیز جس کو وہ دنیا میں چاہتے تھے اس کے لیے کوئی انجام نہیں وہ لہو ولعب کے قائم مقام ہے۔ سلیمان بن…
Read the full tafseer →(1) مجاہد نے فرمایا ہر کھیل لفظ آیت لھو (یعنی تماشا) ہے۔
Read the full tafseer →وَمَا [ اور نہیں ہے ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ [ دنیوی زندگی ] اِلَّا [ مگر ] لَعِبٌ [ ایک کھیل ] وَّلَهْوٌ ۭ [ اور ایک تماشا ] وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ [ اور یقینا آخری گھر ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لئے جو ] يَتَّقُوْنَ ۭ [ تقوی کرتے ہیں ] اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ [ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا کہ (وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَھْوٌ) (دنیا والی زندگی بس لعب و لہو ہے) یعنی باطل ہے اور غرور ہے نہ اس کو دوام ہے نہ اس کے منافع اور لذتوں کو بقا ہے، اس کے ذریعہ حقیقی حاجت پوری نہیں ہوتی۔ حقیقی حاجت آخرت کی حاجت ہے، دنیا میں جس طرح بچے آپس میں مل کر کھیلتے ہیں کھانے کی دکان بھی کھولتے ہیں اور جھوٹ موٹ کو کھاتے بھی ہیں پھر تھوڑی دیر میں ماں باپ سے کھانا مانگنے لگتے ہیں، اگر ان سے کہا جائے کہ تمہارا ہوٹل کھلا ہوا تھا اس میں سے کیوں نہیں کھاتے اس کا کیا ہوا ؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ وہ تو ایک کھیل تھا حقیقت نہیں تھی۔ پیٹ تو حقیقی کھانے سے بھرتا ہے، پیاس حقیقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔
قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…
Read the full tafseer →36 مشرکین چونکہ دنیا کی دولت اور شان و شوکت پر مغرور ہو کر حق کا انکار کرتے تھے اس لیے ان کی اصلاح کے لیے دنیا کی بےثباتی اور اس کے ساز و سامان کی حقارت اور قلت کا ذکر فرمایا کہ جس دنیا پر تم اس قدر مغرور ہو کر اس کی وجہ سے حق کا انکار کر رہے وہ تو چند روزہ نمائش ہے اور آخرت کے مقابلے میں بالکل ہیچ ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ (1) لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَاد (ال عمران ع 3) (2) فَلَا یَغُرَّنَّکَ تَقُلُّبُھُمْ فِی الْبِلَاد (مومن ع 1) ۔ ان دونوں آیتوں میں تقلب مصدر قلت و حقارت کیلئے ہے۔ (3) وَاضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلَ الْحَیٰۃِ الدُّنْیَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
رابط آیات
گزشتہ دورس میں اللہ نے مشرکین کا رد کرنے کے بعد معاد کا مسئلہ بیان فرمایا ” یوم نحسر ھم جمعیاً جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے پھر مشرکین کے برے انجام کا ذکر کیا اور ان کے اس قول کو دہرایا کہ وہ کہتے ہیں ان ھی الا حیاتنا الدنیا یعنی ہمارے لئے تو یہ دنیا کی زندگی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ” ومانحن بمبعوثین “ اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ گویا انہوں نے معاد کا صریحاً انکار کردیا۔ اللہ نے ان کی مذمت بیان فرمائی کیونکہ توحید ‘ رسالت ‘ قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ معاد پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو شخص اس عقیدے کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ قیامت کے…
Read the full tafseer →وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ 0ۭ وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ 0ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 32
حيى
الحیاة تستعمل علی أوجه :
الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ،
الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا،
قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ،
الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی:
أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122]
والرابعة : عبارة عن ارتفاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
1 ؎ یعنی یہ انکار قیامت اسی وقت تک ہے کہ قیامت نہیں آتی۔ پھر جب اچانک آگئی تو حسرت کریں گے اور پیٹھ پر گناہوں کا پشتارا ہوگا۔ 12 منہ
2 ؎ وزر کی جمع اوزار ہے جس کے معنی بار۔ چونکہ وزیر بادشاہ کے تمام کاروباراٹھاتا ہے اس لئے اس کو بھی وزیر کہتے ہیں۔ 12 منہ
تفسیر : قیامت کے منکروں کو ایک اور طور سے نادم کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جو اللہ سے ملنے کے منکر ہیں ٗ خسارہ میں پڑگئے کیونکہ جب وہ ساعت موت جو قیامت کبریٰ کا مقدمہ ہے یکایک آجاوے گی تو حیرت کریں گے اس وجہ سے کہ قیامت کا تو ان کو یقین ہی نہیں اور قاعدہ ہے کہ جس چیز کا یقین نہیں ہوتا اس کے لئے کوئی سامان کافی نہیں کیا جاتا۔ ایسی حالت میں وہ دنیا…
Read the full tafseer →قیامت کے انکار کے نتائج اور اس کا انجام ذکر کرنے کے بعد یہ فرمایا جا رہا ہے کہ چونکہ قیامت کا انکار دنیا کی حقیقت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے اور دنیا سے غائت درجہ محبت کا ثمر ہے اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کی حقیقت واضح کردی جائے۔ اس لیے ارشاد فرمایا :
وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَعِبٌوَّ لَھْوٌط وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌلِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔
(الانعام : 32)
” دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشہ ہے۔ آخرت ہی کا مقام ان لوگوں کے لیے بہتر ہے ‘ جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں۔ پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے ؟ “۔
یعنی یہ دنیا کی زندگی جس نے تمہیں آخرت سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مجرم جس دنیا کو ہمیشہ کھیل تماشا تصور کرتے ہیں اس کی حقیقت۔
اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر نازل کرنے کے وقت یہ حقیقت آشکار کردی تھی کہ اے آدم ! تم زمین پر اتر جاؤ لیکن یاد رکھنا زمین تیرے اور تیری اولاد کے لیے عارضی قیام گاہ ہے۔ وہاں تمہارا ایک مقررہ مدت تک ہی ٹھہرنا ہوگا۔ یہاں دنیا کی حقیقت بتلائی گئی ہے یہ دنیا کھیل تماشا کے سوا کچھ نہیں جس طرح کھیل اور تفریح زندگی کا مستقل حصہ نہیں کھیل مصروف کار رہنے کے بعد آدمی کے لیے دل بہلاوا اور عارضی راحت کا سبب ہوتا ہے۔ کافر کے لیے دنیا فقط اسی چیز کا نام ہے کہ وہ اس کے لہو و لعب میں مصروف ہو کر رہ جائے اس کے…
Read the full tafseer →متقین کے اعمال کے علاوہ بقیہ دنیا ‘ سب کھیل تماشہ ہیں :
آیت 32 : وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَعِبٌ وَّلَہْوٌ یہ کفار کے اس قول کا جواب ہے۔ ان ہِیَ الا حیٰوتنا الدنیا۔ الانعام آیت 29۔ اللعب نفع مند چیز کو چھوڑ کر بےفائدہ کے پیچھے پڑنا۔ وقار سے مذاق کی طرف جھکائو اختیار کرنا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ دنیا کے تمام اعمال لہو و لعب ہی ہیں۔ کیونکہ ان کے نتیجے میں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اعمال آخرت کا آخرت میں عظیم بدلہ ملے گا۔ وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَۃُ ۔ الدار موصوف آخرت صفت اور خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ 1 یہ خبر ہے۔ قراءت : شامی نے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے۔ تقدیر کلام والدار الساعۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
آیت نمبر 33, 32, 31
تفسیر : (قد خسرالذین کذبو وا بلقاء اللہ ) یعنی اپنے آپ کو تباہ کیا اللہ کی طرف لوٹنے کے انکار کرنے ساتھ اور بعث بعد الموت کے انکار کرتا ہے۔ ( حتین اذا جاء نھم الشاعۃ بعثۃ قالو بحسرلننا جہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک تو کہیں گے اسے افسوس) ندات کو نداء کے ذریعے ذکر کیا گیا ہے مبالغہ پیدا کرنے کے لیے۔ سیوپہ (رح) فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ کہہ رہے ہوں گے اے حسرت یہ تیرا وقت ہے ( غلی ما فرطنا فیھا کیسی کوتاہی ہم نے اس میں کی) یعنی کہنا ماننے میں اور کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ہم نے دنیا میں آخرت کا عمل چھوڑ دیا اور محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں کہ ” فیھا “ کی ھباء ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(31 ۔ 32) ۔ جن منکر لوگوں کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے یہ آیتیں بھی ان ہی کی شان میں ہیں حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جن لوگوں نے جزا سزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کو جھٹلایا جس کے سبب سے عقبیٰ کو یہودی کے کچھ کام ان سے نہ ہو سکے ایسے لوگ بڑے ٹوٹے میں ہیں ابھی تو اس ٹوٹے کا حال ان لوگوں کو نہیں معلوم ہوتا لیکن جب ناگہانی طور پر قیامت کی گھڑ ان لوگوں کے سر پر آن کھڑ ی ہوگی اور عقبیٰ کے احوال ان کی آنکھوں کے سامنے آجاویں گے کہ عقبیٰ کی بہبودی کے کام کرنے والے لوگ طرح طرح کے عیش و آرام میں ہوں گے اور یہ لوگ طرح طرح کے عذاب میں پھنس جاویں گے تو اس وقت یہ لوگ اپنے قصور پر نادم ہو کر بہت…
Read the full tafseer →آیت 32
یہی دنیا اور آخرت کی حقیقت ہے۔ رہی دنیا کی حقیقت تو یہ محض لہو و لعب ہے۔ بدن کا کھیل تماشہ اور قلب کا کھیل تماشہ، پس دل لہو و لعب پر فریفتہ، نفوس اس پر عاشق اور ارادے اس سے پیوست رہتے ہیں اور لہو و لعب میں مشغولیت اس میں ایسے ہوتی ہے جیسے بچے کھیل میں مگن ہوتے ہیں۔ رہی آخرت تو وہ (خیر للذین یتقون) اپنی ذات وصفات اور بقا و دوام کے اعتبار سے اہل تقویٰ کے لئے بہتر ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے، جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی قلب و روح کی نعمت اور مسرت و فرحت کی کثرت۔ مگر یہ نعمتیں اور مسرتیں ہر ایک کے لئے نہیں ہوں گی بلکہ صرف متقی لوگوں کے لئے ہوں گی جو اللہ…
Read the full tafseer →45 دنیا کی زندگی محض ایک کھیل اور تماشا : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ دنیاوی زندگی ایک کھیل اور تماشے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کہ جس طرح کھیل تماشے میں لگ کر ایک بچہ اپنے اصل مقصد کو بھول جاتا ہے، اسی طرح ابنائے دنیا دنیا کی چمک دمک اور اس کی ظاہری چکا چوند میں کھو کر اور اس کے مفادات سمیٹنے میں لگ کر آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی منزل کو بھول گئے۔ اور اس دنیائے دوں کی عارضی اور فانی لذتوں میں منہمک ہو کر انہوں نے اپنے پورے سرمایہ حیات کو اسی میں تج دیا۔ اور اسی کے کمانے بنانے اور جوڑنے بڑھانے کو انہوں نے اصل مقصد حیات اور نصب العین بنا لیا جو کہ سب سے بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
کفار کی حجت بازی
خسارہ پانے والے لوگ اور دنیا کی بےثباتی
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں انسانی زندگی کے چار مراحل کی تفصیل بیان کردی گئی ہے تو اسی بات کو اور زیادہ وضاحت سے یوں بیان کیا گیا ہے جیسا کہ آیات میں درج ہے جو کہ اوپر لکھی گئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ غافل آدمی بری زندگی گزارتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو اللہ سے ملاقات سے گھبراتا ہے جب کہ مومن موت کے تحفہ کو خوشی خوشی قبول کرتا ہے جیسا کہ علامہ اقبال نے سچے مومن کی موت کا نقشہ یوں بیان کیا ہے۔
نشان مرد مومن با تو گویم
چوں مرگ آید تبسم برلب اوست
مطلب یہ ہے کہ سچے اور پکے مومن کی نشانی یہ ہے کہ جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے اعمال سے اتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 31 تا 41 ۔
اسرار و معارف :
اور یہی سب سے بڑا نقصان تھا جو ہر اس آدمی کو برداشت کرنا پڑا جس نے اللہ کی بارگاہ کی حاضری سے انکار کیا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے منوانے کے لیے اللہ کریم نے مسلسل انبیاء و رسل بھیجے کتابیں نازل فرمائیں۔ اور دلائل عقلی و نقلی کے انبار لگا دئیے انسان کو سمجھانے کے مختلف انداز اپنائے تاریخ انسانی میں اگر بلحاظ عظمت و شرافت دیانت و امانت اور سچائی و راست بازی کے کبھی چناؤ ہو تو سب سے اوپر صرف انبیاء رہ جائیں گے جو سب کے سب اس بات کو ثابت کرنے کے دلائل لائے معجزات لائے اور انسانوں کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی اس کے باوجود بھی اگر کسی کو یقین نہیں آیا…
Read the full tafseer →ف 7 دنیا کے سریع الزوال ہونے کے اعتبار سے اس کو لہو ولعب فرمای ہے رازی یعنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی اور لذتیں ایسی ہی ہیں جیسے بچوں کا کھیل تماشا جو تھوڑی دیر میں ختم ہوجاتا ہے حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کا حساب لیا اور موت کے بعد آنے والی زندگی کے لیے عمل کیا اور عاجز (احمق) و ہے جس نے اپنے نفس کو اپنے خواہشوں کے پیچھے لگادیا او پھر اللہ سے بخشش کی آرزو رکھی ترمذی)
8 یعنی ان لوگوں کے لیے جو اپنی زندگی میں۔ شرک کفر نفاق اور کبائر سے بچتے ہیں ورنہ کافر کے لیے تو دنیا کی زندگی ہی بہتر ہے جیسا کہ حدیث میں ہے الدینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(6:31) لقائ۔ حاصل مصدر۔ پیشی۔ ملاقات۔ لقی۔ یلقی لقاء (سمع) استقبال کرنا۔ پانا۔ ملاقات کرنا۔ لاتی بلاتی (مفاعلۃ) ملاقاۃ۔ آمنے سامنے آنا۔ ملنا۔ ملاقات کرنا۔
لغتۃ۔ ایک دم۔ اچانک۔ یکایک۔ بغت یبغت بغتا۔ اچانک آنا۔ یکایک آنا ناگاہ آنا۔
یحسرتنا۔ کلمۂ تاسف وائے قسمت۔ ہائے افسوس، یا حرف ندا۔ حسرتنا مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ حست منادیٰ حقیقی نہیں۔ صرف کثرت حسرت کے اظہار کے لئے اسے منادیٰ بنایا گیا ہے۔
علیٰ ما فرطنا فیہا۔ اس کوتاہی پر جو ہم سے اس زندگی میں ہوئی۔ ما نافیہ نہیں ہے بیانیہ ہے۔ فرط فیہ۔ قصرفیہ وضیعہ حتی مات۔ ترکہ واغفلہ۔ کوتاہی کرنا۔ غفلت برتنا۔ فرط سے باب تفعیل۔ افراط و تفریط اسی سے ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 32 :
لقاء (ملاقات۔ ملنا) ‘ الساعۃ (گھڑی۔ قیامت) ‘ بغتۃ (اچانک) یحسرتنا ( اے ہماری حسرت۔ ہائے افسوس) ‘ مافرطنا (ہم نے کمی نہ کی) یحملون (وہ اٹھاتے ہیں) آوزار (وزر) ۔ بوجھ) ظھور (ظھر) پیٹھ (ساء) برا کیا ‘ یزرون (وہ بوجھ اٹھا رہے ہیں) الدار (گھر) ۔
تشریح : آیت نمبر 31 تا 32 :
اس دنیا کے انقلابات اس بات پر گواہ ہیں کہ اس دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ جو شخص کل یہاں ڈکٹیٹر اعظم بنا ہوا تھا آج اسے انقلاب نے یا موت نے کہاں لاکر پھینک دیا۔ جو فقیر تھا وہ امیر بن گیا۔ جو امیر تھا وہ فقیر بن گیا۔ اس زندگی کے عیش کو عیش سمجھنا ‘ دولت کو دولت سمجھنا ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے جزا و سزا کے لئے اللہ روبرو کھڑے ہونے کو جھٹلایا جس کے سبب سے عقبیٰ کی بہبودی کے کچھ کام ان سے نہ ہوسکے۔ ایسے لوگ بڑے ٹوٹے (خسارے) میں ہیں، ابھی تو اس ٹوٹے کا حال انہیں نہیں معلوم ہوتا لیکن جب ناگہانی طور پر قیامت کی گھڑی ان لوگوں کے سر پر آن کھڑی ہوگی اور عقبیٰ کے احوال ان کی آنکھوں کے سامنے آجاویں گے کہ اچھے کام کرنے والے لوگ طرح طرح کے عیش و آرام میں ہوں گے، اور برے لوگ طرح طرح کے عذاب میں پھنس جاویں گے۔ اس وقت اپنے قصور پر نادم ہوکر حسرت و افسوس کریں گے لیکن بےوقت کی ندامت ان کے کچھ کام نہ آئے گی۔ جب بد لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے بد عمل ایک بد صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
[14] نبی ﷺ کی بڑی خواہش تھی کہ تمام کفار اسلام لے آئیں۔ جو لوگ اسلام سے محروم رہتے ان کی محرومی آپ پر بہت شاق گزرتی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو ارادہ و اختیار کی قوت دی گئی ہے اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ روش اختلاف باقی رہے ورنہ اللہ چاہتا تو سب کو مومن پیدا کردیتا پھر رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ لہذا ایسی روشن حقیقت سے بیخبر رہنا نادانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آخرت کا گھر اچھا ہے :
(ف 2) دنیا کی حیثیت اسلام میں صرف یہ ہے کہ یہ عارضی اور فانی مقام ہے اصل جگہ اور مقام آخرت ہے ، یعنی وہ زندگی جو موت کے بعد شروع ہوتی ہے ۔
Read the full tafseer →-32 اور دنیا کی زندگی تو محض ایک کھیل اور مشغلہ ہے اور البتہ آخرت کا گھر یقینا ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جوم حتاط متقی و پرہیز گار ہیں تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے یعنی جو شرک اور معاصی سے بچتے ہیں ان کے لئے آخرت کا گھر بہتر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 3۔ خود حیات دنیوی کو لہو ولعب فرمانا مقصود نہیں بلکہ اس کے ان اشغال و اعمال کو کہ آخرت کے لیے نہ موضوع ہیں نع معین ہیں تو اس قید سے طاعات اور مباھات معین طاعات سب نکل گئے اور مباھات لایعنی اور معاصی سب داخل رہ گئے گو ایسے مباحات میں گناہ نہ ہو لیکن بےسود فانی الاثر تو ہیں اور لہو ولعب کے معنی اہل لغت نے متقارب بلکہ متحد ہی لکھے جاتے ہیں صرف فرق اعتبار ہی سے ہوسکتا ہے وہ یہ کہ غیر مانع امر میں مشغول ہونے کے دواثر ہیں ایک خود اس کی طرف متوجہ ہونادوسرے اس توجہ کی وجہ سے نافع امور سے بےتوجہی ہوجانا وہ امر اول اعتبار سے لعب کہلاتا ہے اور دوسرے اعتبار سے لہو۔
Read the full tafseer →دنیا کا گھر لعب و لہو کے سوا کچھ نہیں اور آخرت کا گھر ہی اصل گھر ہے :
49: اگر لوگ اس حقیقت کو جان جائیں کہ دنیا کی موجودہ زندگی صرف ایک مہلت امتحان ہے اور انسان کے لئے اصل زندگی جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ہے آخرت کی زندگی ہے تو وہ یہاں امتحان کی مدت کو اس لہو ولہب میں ضائع کرنے کے بجائے اس کا ایک ایک لمحہ ان کاموں میں استعمال کرتے جو اس ابدی زندگی میں بہتر نتائج پیدا کرنے والے ہوں۔ دنیا کو کھیل تماشا کہہ کر آگے مت گزرو اس لئے کہ دنیا کی زندگی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور نہایت ہی قیمتی چیز جس میں رہ کر ہی آخرت کا عظیم الشان سودا خریدا جاسکتا ہے ۔ اسلام میں اس زندگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ غور کرو جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
About the sentence: وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ (And they shall be carrying their burdens) in verse 31, it appears in Hadith narrations that, on the day of Qiyamah, the deeds of good people will become their ride while the evil deeds of evil people will be placed like a burden on their heads.
Noteworthy here is that disbelievers and sinners will do everything possible to save their skins on the fateful day of Resurrection. They will be nervous and confused. Sometimes they would hide behind false swearing. At others, they would wish to be returned to the world of their earlier…
Read the full tafseer →20. This does not mean that earthly life has nothing serious about it and that it has been brought into being merely as a sport and pastime. What this observation means is that, compared with the true and abiding life of the Hereafter, earthly life seems, as it were, a sport, a transient pastime with which to amuse oneself before turning to serious business.
Earthly life has been likened to a sport and pastime for another reason as well. Since Ultimate Reality is hidden in this world, the superficially minded ones who lack true perception encounter many a thing which causes them to fall a…
Read the full tafseer →