Explained with ayahs 55–59
نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
سورة الْاَنْعَام 39
اشارہ ہے عذاب الہٰی کی طرف۔ مخالفین کہتے تھے کہ اگر تم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے نبی ہو اور ہم کھلم کھلا تمہیں جھٹلا رہے ہیں تو کیوں نہیں خدا کا عذاب ہم پر ٹوٹ پڑتا ؟ تمہارے مامور من اللہ ہونے کا تقاضا تو یہ تھا کہ ادھر کوئی تمہاری تکذیب یا توہین کرتا اور ادھر فوراً زمین دھنستی اور وہ اسمیں سما جاتا، یا بجلی گرتی اور وہ بھسم ہوجاتا۔ یہ کیا ہے کہ خدا کا فرستادہ اور اس پر ایمان لانے والے تو مصیبتوں پر مصیبتیں اور ذلتوں پر ذلتیں سہ رہے ہیں اور ان کو گالیاں دینے اور پتھر مارنے والے چین کیے جاتے ہیں ؟
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اللہ تعالیٰ کے پاس (یعنی اسی کی قدرت میں) ہیں خزانے تمام مخفی اشیاء (ممکنہ) کے (ان میں سے جس چیز کو جس وقت اور جس قدر چاہیں ظہور میں لاتے ہیں، ان اشیاء میں عذاب کی قسمیں بھی آگئیں، مطلب یہ کہ اور کسی کو ان چیزوں پر قدرت نہیں اور جس طرح قدرت کاملہ ان کی ساتھ خاص ہے، اسی طرح ان کا علم تام اور کامل بھی چنانچہ) ان خزائنِ مخفیہ کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے، اور وہ ان تمام چیزوں کو بھی جانتا ہے جو خشکی میں ہیں اور جو دریا میں ہیں اور کوئی پتہ (تک درخت سے) نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ (تک) زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز (مثل…
Read the full tafseer →مفاتح، مفتح، کی جمع ہے جس کے معنی کنجی کے ہیں۔ یعنی غیب کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، اس کے سوا ان کا علم کسی کے پاس نہیں ہے۔ یہی مضمون دوسرے الفاظ میں یوں بیان ہوا ہے لہ مقالید السموات والارض یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر (شوری :12) ، اسی کے قبضہ میں ہیں آسمانوں اور زمین کنجیاں، وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے، جس کے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ بر و بحر، اور رطب و یابس وگیرہ الفاط احاطہ کے مضمون کو ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ ظلمات الارض سے مراد زمین کی تہیں اور اس کے طبقات ہیں۔
علمِ الٰہی اور توحید و آخرت کا باہمی ربط : یہ اوپر والے مضمون کی مزید توسیع ہے۔ جب…
Read the full tafseer →59۔ 1 ' کتاب مُبِین ' سے مراد لوح محفوظ ہے۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے غیب کے سارے خزانے اسی کے پاس ہیں اس لئے کفار و مشرکین اور معاندین کو کب عذاب دیا جائے ؟ اس کا علم بھی صرف اسی کو ہے اور وہی اپنی حکمت کے مطابق فیصلہ کرنے والا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ مفاتح الغیب پانچ ہیں قیامت کا علم، بارش کا نزول، رحم مادر میں پلنے والا بچہ، آئندہ کل میں پیش آنے والے واقعات اور موت کہاں آئے گی۔ ان پانچوں کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
22: یہ آیات کفار کے اس مطالبے کے جواب میں نازل ہوئی ہیں کہ جس عذاب سے آنحضرت ﷺ ہمیں ڈرا رہے ہیں وہ ہم پر فوراً کیوں نازل نہیں ہوتا، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عذاب نازل کرنے کا صحیح وقت اور مناسب طریقہ طے کرنے کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے جس کا فیصلہ وہ اپنی حکمت سے کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 59۔
اللہ کے کامل اور محیط علم کی یہ نہایت خوبصورت تصویر ہے ۔ یہ علم اس قدر محیط ہے کہ زمان ومکان کا ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔ بروبحر کے تمام موجودات اس کے علم کے دائرے کے اندر ہیں ۔ فضاؤں اور زمین کی گہرائیوں میں پائے جانے والے تمام ذرات بھی اس کے دائرہ علم کے اندر ہیں ۔ خشک وتر اور زندہ و مردہ ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔
ہمارے اس بیان اور آیت زیر بحث کے اسلوب بیان میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ قرآن کا انداز نہایت ہی منفرد ‘ شامل وکامل ‘ گہرا وعمیق اور نہایت ہی موثر اور معنی آفریں ہے ۔
ہمارا را ہوار خیال اس مختصر آیت کے پیچھے…
Read the full tafseer →4 یعنی لوح محفوظ میں ہے۔ لوح محفوظ میں جو چیز ہوگی وہ علم الٰہی میں پہلے ہوگی۔ اس اعتبار سے مضمون آیت کا حاصل یہ ہوا کہ عالم غیب و شہادت کی کوئی خشک و تر اور چھوٹی بڑی چیز حق تعالیٰ کے علم ازلی محیط سے خارج نہیں ہوسکتی۔ بناء علیہ ان ظالموں کے ظاہری و باطنی احوال اور ان کی سزا دہی کے مناسب وقت و محل کا پورا پورا علم اسی کو ہے (تنبیہ) " مفاتیح " کو جن علماء نے مفتح بفتح المیم کی جمع قرار دیا ہے انھوں نے " مفاتیح الغیب " کا ترجمہ " غیب کے خزانوں " سے کیا اور جن کے نزدیک مفتح بکسر المیم کی جمع ہے وہ " مفاتیح الغیب " کا ترجمہ مترجم (رح) کے موافق کرتے ہیں، یعنی " غیب کی کنجیاں " مطلب یہ ہے کہ غیب…
Read the full tafseer →آیت 59 وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَآ اِلاَّ ہُوَط وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ الاَّ یَعْلَمُہَا
وَلاَحَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَّلاَ یَابِسٍ الاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ۔
یہ کتاب مبین اللہ کا علم قدیم ہے ‘ جس میں ہر شے مَا کَانَ وَ مَایَکُوْن آن واحد کی طرح موجود ہے۔
Read the full tafseer →63 غیب کی خبریں بتانے والے :۔ میں جو ظالموں پر عذاب آنے کی بات کرتا ہوں تو یہ بھی وحی الٰہی کی بنا پر کرتا ہوں۔ رہی یہ بات کہ وہ عذاب کب آئے گا اس کا مجھے کچھ علم نہیں الا یہ کہ اللہ مجھے اس سے آگاہ فرما دے کیونکہ غیب کے تمام تر وسائل و ذرائع صرف اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور اگر کوئی شخص غیب جاننے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور اللہ کی اس صفت کا منکر ہے اور جو شخص کسی غیب کی خبر دینے والے کی تصدیق کرتا ہے یا اس پر یقین رکھتا ہے وہ بھی برابر کا مجرم ہے جس پر درج ذیل احادیث شاہد ہیں۔
1۔ آپ نے فرمایا جو شخص کسی عراف (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس جائے اور اس سے…
Read the full tafseer →89 ۔ یعنی قدرت کاملہ تو الگ رہی، علم کامل بھی بجز اللہ کے کسی کو حاصل نہیں، مشرکوں اور نیم مشرکوں کو حیات، قدرت، علم انہیں تینوں صفات میں سخت ٹھوکریں لگی ہیں۔ قرآن مجید بھی اسی لئے انہی تینوں صفات کے بارے میں کثرت تکرار وتاکید کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ (آیت) ” عندہ مفاتح الغیب “۔ تو وہی جب اور جس قدر چاہے جس چیز کو ظہور میں لے آئے۔ (آیت) ” مفاتح “۔ جمع مفتح (بالفتح) کی بھی ہے اور مفتح (بالکسر) کی بھی۔ مفتح کے معنی خزانہ کے مسلم ہیں۔ مفتح کے لفظی معنی کنجی کے ہیں، لیکن مراد اس سے بھی یہاں وسائل واسباب ہی سے ہوگی، غرض معنی خواہ یہ لئے جائیں کہ غیب کے خزانے اس کے ہاتھ میں ہیں یا غیب کی کنجیاں اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
وعندہ مفاتح الغیب لایعلمھا اِلاَّھو، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے، غیب کے تمام خزانے اسی کے پاس ہیں، حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ مفاتح الغیب پانچ ہیں، قیامت کا علم، بارش کا نزول، رحم مادر میں پلنے والا بچہ، آئندہ کل پیش آنے والے واقعات اور موت کا مقام، کہ موت کہاں آئے گی، مذکورہ پانچوں باتوں کا صحیح علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ (صحیح البخاری تفسیر سورة انعام)
Read the full tafseer →وعندہ مفاتح الغیب اور غیب کے خزانے (یا کنجیاں) اللہ ہی قبضہ میں ہیں۔ عَنَدَہٗکی تقدیم مفید حصر ہے (یعنی اسی کے قبضہ میں ہیں کسی دوسرے کے اختیار میں نہیں ہیں) مفاتح جمع ہے اس کا واحد مَفْتَح (بفتح میم) ہے جس کا معنی ہے خزانہ۔ یا مفتح (بکسر میم) واحد ہے جس کا معنی ہے بند چیز کو کھولنے کا آلہ یعنی کنجی۔ مفاتح الغیب سے مراد ہے علم خداوندی جو ہر معلوم چیز تک پہنچنے (اور اس کی حقیقت کو پانے) کا ذریعہ ہے اور قبضہ میں ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کا علم ہر غیبی چیز کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے گویا وہ غیبی چیز اس کے پاس موجود ہے۔
غیب وہ چیز ہے جو ابھی تک عالم وجود میں نہیں آئی جیسے قیامت کے احوال ‘ بارش…
Read the full tafseer →(59) غیب کے تمام خزانے مثلا بارشوں کا نازل ہونا، پھلوں اور سبزیوں کا اگنا اور اس کا عذاب نازل ہونا، جس کا تم مطالبہ کرتے ہو یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں، تمام مخلوقات اور مخفی چیزیں اور کون خشکی میں ہلاک ہوگا اور کس کی موت سمندر میں آئے گی اور درخت سے کون سا پتہ کب جھڑرہا ہے، اور سب سے نچلی زمین پتھر کے نیچے کیا ہے، سب کو وہ جانتا ہے، تر اور خشک چیزیں سب کی مقدار اور وقت لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ۔۔ : یعنی خلق میں سے کسی ایک کو بھی غیبی امور کا علم نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجومی یا پنڈت یا رمال اور جفار جو اپنی غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں اور لوگوں کو آئندہ پیش آنے والی باتیں بتاتے ہیں، وہ سب جھوٹے اور ٹھگ ہیں اور ان کے پاس جانا کسی مسلمان کا کام نہیں ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (65)۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”غیب کی کنجیاں پانچ ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا : (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ…
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں
مسلہ نمبر۔ حدیث طیبہ میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے ساتھ بارہ ہزار فرشتے نازل ہوئے۔ اور امام بخاری (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی رحمت ﷺ سے حدیث روایت کی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا : مفاتح الغیب خمس لا یعلمھا الا اللہ لا یعلم ما تغیض الارحام الا اللہ ولا یعلم ما فی غدا لا اللہ ولا عیلم متی یاتی المطر الا اللہ ولا تدری نفس بای ارض تموت الا اللہ ولا عیلم متی تقوم الساعۃ الا اللہ۔
” غیب کی چابیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، کوئی نہیں جانتا جو کچھ رحمتیں چھپائے ہوئے ہیں سو اے اللہ تعالیٰ کے، اور کوئی نہیں جانتا اسے جو کچھ کل ہونے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وعندہ مفاتح الغیب یعنی غیب کے خزانے (اسی کے پاس ہیں)
(2) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وعندہ مفاتح الغیب سے مراد پانچ چیزیں ہیں (جسے فرمایا) لفظ آیت ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث سے لے کر لفظ آیت ان اللہ علیم خبیر (لقمان آیت 24)
(3) امام احمد، بخاری، فحشیش بن اصرم نے الاستقامۃ میں ابن ابی حاتم ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غیب کی چابیاں پانچ ہیں اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا۔ اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →وَعِنْدَهٗ [ اور اس ہی کے پاس ] مَفَاتِحُ الْغَيْبِ [ غیب کی کنجیاں ] لَا يَعْلَمُهَآ [ نہیں جانتا ان کو ] اِلَّا [ مگر ] هُوَ ۭ [ وہ ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] فِي الْبَرِّ [ خشکی میں ہے ] وَالْبَحْرِ ۭ [ اور پانی میں ہے ] وَمَا تَسْقُطُ [ اور نہی گرتا ] مِنْ وَّرَقَةٍ [ کوئی بھی پتہ ] اِلَّا [ مگر ] يَعْلَمُهَا [ وہ جانتا ہے اس کو ] وَلَا [ اور نہیں (گرتا)] حَبَّةٍ [ کوئی بھی دانہ ] فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ [ زمین کے اندھیروں میں ] وَلَا [ اور نہیں (گرتی)] رَطْبٍ [ کوئی بھی ترچیز ] وَّلَا [ مگر ] يَابِسٍ [ کوئی بھی خشک چیز ] اِلَّا [ مگر ] فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ [ وہ ہے…
Read the full tafseer →اللہ ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، بروبحر میں جو کچھ ہے وہ سب اس کے علم میں ہے۔
پہلی آیت میں اللہ جل شانہٗ کے علم کی وسعت قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرمائی ہے۔ اجمالی طور پر علم الٰہی کو بہت سی جگہ بیان فرمایا ہے اور (وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) کا عموم ہر چیز کے علم کو شامل ہے۔ اس کا عموم موجودات، معدومات، ممکنات ممتنعات سب کے علم کو شامل ہے۔ اور سورة تغابن میں فرمایا (یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) اور سورة یونس میں فرمایا (وَ لَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
بت پرستی کی مذمت اور ممانعت اور خدا پرستی کی حقانیت اور دعوت۔
قال اللہ تعالی، قل انی نھیت۔۔۔۔ الی۔۔۔ فی کتاب مبین۔
ربط) ۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے بت پرستی کی مذمت اور ممانعت ذکر فرمائی اور بعدا زاں خدا پرستی کی حقانیت اور اس کی دعوت کا ذکر فرمایا جو اوصاف معبود میں ہونے چاہیں وہ سوائے الہ کے کسی میں نہیں خدا کے سوا نہ کوئی عالم الغیب ہے اور نہ کوئی قادر مطلق ہے اور نہ کوئی نفع اور ضرر کا مالک ہے پس جب یہ اوصاف خدا کے سوا کسی میں نہیں پائے جاتے تو پھر خدا کے سوا کسی اور کی پرستش کیوں کرتے ہو توحید ہی سیدھا راستہ ہے جس کی اسلام تم کو تعلیم دیتا ہے پس تم ایک ہی خدا کی عبادت اور بندگی کرو…
Read the full tafseer →66 یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے۔ نیز عذاب نہیں لاسکتے تو یہ بتاؤ کہ عذاب کب آئے گا۔ اس کا جواب دیا کہ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے اور عندہ ظرف کی تقدیم افادہ حصر کے لیے و یعلم ما فی البر والبحر یہ قاعدہ کلیہ کی جزئیات ہیں اور یہاں بھی حصر ہے وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃً الخ یعنی ان اشیاء اور جزئیات کے احوال متغیرہ کو بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا۔ کِتٰبٍ مُّبِیْن اس سے مراد اعمال نامے ہیں جو فرشتوں کے پاس ہوتے ہیں یا اس سے لوح محفوظ یعنی علم الٰہی مراد ہے اور یہی اولی اور راجح ہے۔ اِلَّا فِیْ کِتَاب مُّبِیْنٌ۔ وھو علم اللہ او اللوح المحفوظ (مدارک ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی پھر غیر اللہ کی پوجا کی ممانعت کے حکم کا ذکر فرمایا اور غیر اللہ کی عبادت کو خواہشات نفسانیہ پر مبنی قرار دیا۔ یہ جرم عقل سلیم ‘ فطرت سلیمہ ‘ انبیاء کی تعلیمات اور وحی الٰہی کے بھی خلاف ہے ‘ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ مجھے ان کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو جواب دیا جو حضور ﷺ سے من پسند نشانیاں تلاش کرتے تھے یا عذاب کے آنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ اللہ نے نبی (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا کہ یاد رکھو ! تمہاری فرمائشیں پوری کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ ”…
Read the full tafseer →وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ 0ۭ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ 0ۭ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا يَعْلَمُہَا وَلَا حَبَّۃٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 59
مِفْتَاحُ
والمِفْتَحُ وَالمِفْتَاحُ : ما يفتح به، وجمعه : مَفَاتِيحُ ومَفَاتِحُ. وقوله : وَعِنْدَهُ مَفاتِحُ الْغَيْبِ [ الأنعام/ 59] ، يعني : ما يتوصّل به إلى غيبه المذکور في قوله : فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ [ الجن/ 26- 27] . وقوله : ما إِنَّ مَفاتِحَهُ لَتَنُوأُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
ترکیب : اذاً ای ان اتبعتہا گویا قد ضللت وما انا جواب ہیں شرط محذوف کے بمفاتح جمع مفتح بالفتح کی جس کے معنی خزانہ کے ہیں اور مفتح یا مفتاح بمعنی کلید اس کی جمع مفاتیح آتی ہے الا فی کتاب ای الاھو فی کتاب۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ہم آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ گنہگاروں کا طریقہ معلوم ہوجاوے کیونکہ جو آیات الٰہی کے خلاف طریق ہے وہ گنہگاروں کا رستہ ہے۔ اب یہاں وہ گنہگاروں کا رستہ بتلاتا ہے کہ ان مشرکوں سے کہہ دو مجھے اللہ کے سوا اور کسی چیز کے پوجنے کی ممانعت کردی گئی ہے اور ان سے یہ کہہ دو کہ یہ بلا دلیل وبرہان جو تم نے اپنے اوہام باطلہ سے سینکڑوں معبود بنا رکھے ہیں۔ میں تمہارا اس امر میں کہا نہ…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ ط وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ط وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَا وَلَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الانعام : 59)
(اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ اس کے سوا ‘ ان کو کوئی نہیں جانتا اور بر و بحر میں جو کچھ ہے ‘ اس سے وہ واقف ہے۔ کوئی پتہ نہیں گرتا ‘ مگر وہ اس کو جانتا ہے اور نہ زمین کی تہوں میں کوئی دانہ گرتا ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے ‘ مگر وہ ایک روشن کتاب میں مندرج ہے)
غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
اس آیت کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
فہم القرآن
ربط کلام : کفار نے نبی اکرم ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا جس کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو بتلا دیا گیا ہے اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کس نے ہدایت قبول کرنا ہے اور کس نے گمراہی میں مرنا ہے۔
اسی سورة کی آیت نمبر 50 میں کفار کے ایک مطالبہ کا یہ جواب دیا گیا تھا کہ اے نبی ﷺ آپ فرما دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا مالک، غیب جاننے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ یہاں دوسرے زاویے سے جواب دیا گیا ہے کہ عذاب نازل کرنے یا اللہ کے خزانوں کی ملکیت کا معاملہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا۔ غیب کے پردوں اور دروازوں کے پیچھے جو کچھ چھپا ہے اس کی چابیاں اللہ تعالیٰ ہی کے…
Read the full tafseer →وہ خود مغیبات کا علم رکھنے والا ہے :
آیت 59 : وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَآ اِلاَّ ہُوَ المفاتح جمع مفتح ہے اور وہ مفتاح کو کہتے ہیں۔ دوسرا قول یہ بھی ہے کہ مفاتیح سے مراد خزائن ٗ عذاب اور رزق ہیں۔ تیسرا قول، لوگوں کی نگاہوں سے جو چیزیں غائب ہیں۔ مثلاً ثواب عقاب ٗ آجال ٗ احوال ان کے خزائن مراد ہیں۔ اور ان پوشیدہ چیزوں کو مفاتیح بطور استعارہ کہا گیا۔ کیونکہ کھولنے والا چابیوں کے ذریعے ہی بند خزانوں کے اندر مخفی اشیاء تک پہنچ سکتا ہے۔ پس جس کو چابیوں کا علم ہوگیا۔ اور ان کے کھولنے کی کیفیت بھی معلوم ہوگئی۔ وہ ان تک پہنچ جائے گا۔ پس مراد یہ ہے کہ وہ خود ہی ان مغیبات کا علم رکھنے…
Read the full tafseer →(59) (وعندہ مفاتح الغیب لایعلمھآ الا ھو) غیب کی کنجیاں یعنی اس کے خزانے ۔ مفتح کی جمع ہے۔
مفاتیح الغیب کی مختلف تفسیریں
مفاتیح الغیب کی تفسیر میں مفسرین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے۔ عبداللہ بن دینا (رح) نے خبر دی ہے کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غیب کی چابیاں پانچ ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی جانتا۔ رحم میں کیا ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور کل کیا ہونا ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور بارش کب آئے گی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ کس زمین میں اس کی موت آئے گی اور قیامت کب قائم ہوگی اس کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
ضحاک…
Read the full tafseer →بخاری کی روایت میں خود آنحضرت نے ان غیب کی کنجیوں کی تفسیر ان پانچ چیزوں سے فرمائی ہے جن کا ذکر صراحت سے سورة لقمان میں آوے گا وہ پانچ چیزیں ایک قیامت کا وقت ہے کہ کب آوے گی دوسرے مینہ کا حال کہ کب برسے گا تیسرے یہ کہ حاملہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے لڑکا ہے یالڑ کی چوتھے یہ کہ کل کیا ہوگا پانچویں یہ کہ کون شخص کس سرزمین میں مریگا 1 ؎
1 ؎ صحیح بخاری ج 1 ص 12 کتاب الدیان و ج 2 ص 666 کتاب التفسیر۔
شارحین کتب حدیث نے اور مفسرین نے لکھا ہے کہ اور علم غیب کی باتیں اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذر یعہ وحی کے اور اولیا۔ کو بذریعہ الہام یا خواب کے ظاہر فرما دیتا ہے چناچہ انبیاء نے عذاب قبر عذاب حشر کا احوال…
Read the full tafseer →آیت 59
یہ آیت کریمہ قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی تفصیل بیان کرتی ہے جو تمام غیوب کو شامل ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسے ان غیبو میں سے کسی پر ظملع کردیتا ہے۔ اس نے اپنا بہت سا علم، عام جہان والے تو کجا ملائکہ مقربین اور انبیاء ومرسلین سے بھی پوشید ہر کھا ہے۔ صحراؤ اور بیابانوں میں حیوانات، درخت، ریت کے ذرات، کنکر اور مٹی سب اس کے علم میں ہیں۔ سمندروں کے جانوروں، ان کی معدنیات، ان کے شکار وغیرہ اور ان تمام اشیا کو وہ جانتا ہے جو ان کے کناروں کے اندر اور ان کے پانیوں میں شامل ہیں۔ (وما تطسقط من ورقۃ) ” اور نہیں گرتا کوئی پتا “ بحر و بر، آبادیوں، بیابانوں…
Read the full tafseer →101 تمام خزانے اور ان کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کے پاس ہیں سب کنجیاں اور سب خزانے جن کو اس وحدہ لا شریک کے سوا کوئی جانتا ہی نہیں۔ سو اس سے یہ امر قطعی طور پر صاف اور واضح ہوجاتا ہے کہ زمین و آسمان کے سب خزانے اور ان کی سب کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں۔ یہ معنیٰ اس صورت میں ہوں گے جب کہ " مفاتیح " جمع ہو " مِفتح " کی۔ میم کے کسرے کے ساتھ۔ جو " مفتاح " کے معنیٰ میں آتا ہے یعنی کنجی۔ اور اگر اسے جمع قرار دیا جائے " مَفتح " کی۔ یعنی میم کے فتحہ کے ساتھ، تو اس وقت اس کے معنیٰ " خزانہ " کے ہوں گے۔ یعنی اسی کے پاس ہیں غیب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
غیب کی چابیاں اور انسانی زندگی کا نقشہ
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی، طاقت اور قادر مطلق ہونے کا بیان ہے یہ آیات اسی قدرت رکھنے والے بادشاہوں کے بادشاہ کے بھیجے ہوئے رسول ﷺ کی زبانی ہم انسانوں کو بتائی گئی ہیں۔ وہ اتنا عظیم اور بڑا ہے کہ کوئی انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ زمین اور آسمانوں کو اس نے بنایا، ان کے تمام راز وہی جانتا ہے۔ عالم، فاضل سائنسدان ہر وقت تحقیق اور جستجو میں لگے رہتے ہیں کہ زمین، سمندر، ہوائوں اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے ان سب چیزوں کا پتا لگا لیں لیکن وہ ابھی تک کچھ تھوڑا بہت ہی جان سکے ہیں۔ مگر اللہ کا علم اتنا زیادہ ہے کہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 56 ۔ تا 60 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں صاف طریقہ سے بتا دیجئے کہ اللہ کے علاوہ جنہیں تم پکارتے ہو مجھے ان کی اطاعت سے روک دیا گیا ہے اس لی کہ اللہ کریم کو کبھی یہ بات گوارہ نہیں ہوسکتی کہ بندہ تو اس کا ہو اور اپنی ضروریات کسی اور کے دروازے پر لے جائے پھر حال یہ ہے کہ ہر ضرورت پوری بھی اللہ ہی کرتا ہے یہ انسان کی کوتاہ بینی ہے کہ اس کے صلے میں احساس تشکر دوسروں کے در پہ نچھاور کرے اور یہ محض تمہارے نفس کا فریب ہے اگر خدانخواستہ تمہاری تائید کروں تو میں غلطی کرنے والوں میں سے ہوجاؤں گا اور سیدھی راہ چھوٹ جائے گی یہ بات پھر بھی درست ثابت نہ ہوسکے گی لہذا میں ایسی بات کیوں…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی خلق میں سے کسی ایک کو بھی تو امور غیبہ کا علم حاصل نہیں ہے یہ خاصہ خدا ہے۔ (سلفیہ) اس سے معلوم ہوا کہ جو نجومی یا پنڈت یار تال یا جفار اپنی غیب دامی کا دعوی کرتے اور لوگوں کو آئندہ پیش آنے والی باتیں بتاتے ہیں ہو سب جھوٹے اور ٹھگ ہیں اور ان کے پاس جانا کسی مسلمان کا کام نہیں ہے اس لیے ایک حدیث میں نبی ﷺ کا یہ ارشاد ہے من اتی کاھنا او منجما فقد کفر یما انزل علی محمد کہ جو کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیاہ اس نے اس چیز کا انکار کردیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی (از شوکانی) مزید دیکھئے (لقمان آیت 34)9 یعنی اس کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور پوشیدہ سے پوشیدہ ہر چیز لوح محفوظ میں درج ہے۔ (رازی )
Read the full tafseer →(6:59) تسقط۔ مضارع واحد مؤنث غائب (باب نصر) وہ گرتی ہے۔ سقوط بمعنی گرنا ہے۔
ورقۃ۔ اسم مفرد۔ نکرہ۔ کوئی ایک پتہ۔ ورق چاندی کا سکہ۔ فابعثوا احدکم بورقکم ھذہ۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ سکہ دے کر شہر میں بھیجو (18:19)
حبۃ۔ وانہ۔ غلہ۔ اناج۔ گندم۔ جو وغیرہ اناج کے دانہ کو حب اور حبۃ کہتے ہیں۔ حبوب جمع۔
رطب ہرا۔ یابس خشک۔ دونوں مجرور بوجہ حرف جار۔ من کے ہیں۔ کتب مبین۔ لوح محفوظ۔
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 59 :
مفاتح الغیب (غیب کی کنجیاں۔ غیب کے خزانے) ماتسقط ( نہیں گرتی۔ نہیں گرتا) ورقۃ ( پتہ) حبۃ ( دانہ) رطب ( تر) یا بس (خشک) ۔
تشریح : آیت نمبر 59 :
مفتح یعنی میم پر زبر ڈال کر اور مفتح یعنی میم پر زیر ڈال کر مفتح کے معنی خزانہ اور مفتح کے معنی چابی ‘ لفظ مفاتیح جمع مفتح کی بھی اور مفتح کی بھی اور دونوں کا مطلب ایک ہے۔ لفظ غیب کے دو معنی ہیں۔ اول وہ چیزیں جو ابھی وجود میں نہیں آئیں لیکن اپنے وقت پر آئیں گی۔ دوسرے وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں لیکن اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں یا جو اپنے وقت پر اپنی کسی مخلوق کو دے گا اور وہ بھی اتنی ہی جتنی…
Read the full tafseer →ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ گیب کی کنجیوں سے مراد یہ پانچ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں : (1) اول قیامت کا وقت کہ کب آئے گی۔ (2) دوسرے مینہ کا حال کہ کب برسے گا۔ (3) تیسرے حاملہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے لڑکا یا لڑکی۔ (4) چوتھے یہ کہ کل کیا ہوگا۔ (5) پانچویں یہ کہ کون شخص کس سر زمین پر مرے گا۔ شارحین کتاب حدیث اور مفسرین نے لکھا ہے کہ علم غیب کی باتیں اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذریعہ وحی کے اور اولیاء کو بذریعہ الہام یا خواب کے ظاہر فرمادیتا ہے۔ چناچہ انبیاء نے عذاب قبر اور عذاب حشر کا احوال دوزخ جنت کا حال جو علم غیب میں سے ہے صراحت سے بیان کیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کی گھر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
[23] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →علم الہی کی ہم یہ گیری :
(ف 1) (آیت) ” کتاب مبین “۔ ایک اصطلا ہے ، جو تعبیر ہے علم الہی سے یعنی خدا کے علم میں کائنات کی تمام تفصیلات موجود ہیں ، وہ بحر وبر کی وسعتوں سے آگاہ ہے ، پتے پتے اور ڈال ڈال سے واقف ہے ، زمین کی تاریکیوں میں جو کچھ بھی ہے ، اسے علم ہے ،
بعض کے نزدیک کتاب مبین سے مراد قرآن ہے ، مگر یہ صحیح نہیں ، اس لئے کہ سیاق وسباق میں اللہ کے علم اور وسیع اختیارات کا ذکر ہے ،
محل اشتباہ لفظ مبین ہے ، جواب یہ ہے کہ مبین کا لازم کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے یعنی کتاب واضح ۔
ان معنوں میں اللہ کا علم مبین بھی ہے کہ قیامت کے دن ہماری تمام لغزشوں کو ظاہر کر دے گا ، بہرحال مقصود خدا…
Read the full tafseer →-59 اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس تمام اشیائے مخفیہ کے خزانے ہیں اور ان اشیائے مخفیہ کے خزانوں کو سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا یعنی جملہ اشیائے ممکنہ کے خزانوں کا بھی وہی مالک ہے اور ان جملہ اشیاء کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور وہ ان تمام اشیاء کو بھی جانتا ہے جن کو خشکی اور تری کے دونوں دامن سمیٹے ہوئے ہیں یعنی خشکی اور تری کی ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی پتہ تک درخت سے نہیں گرتا مگر یہ کہ وہ جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں نہیں پڑتا مگر یہ کہ وہ اس کو بھی جانتا ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز گرتی ہے مگر یہ کہ وہ کتاب واضح ینی لوح محفوظ میں موجود و مرقوم ہے یعنی خزانہ ہائے غیب کی…
Read the full tafseer →ف 4۔ ان میں سے جس چیز کو جس وقت چاہیں ظہور میں لے آتے ہیں ان اشیاء میں عذاب بھی آگیا مطلب یہ کہ اور کسی کو ان پر قدرت نہیں اور جس طرح قدرت تامہ ان کے ساتھ خاص ہے اسی طرح علم تام بھی۔
5۔ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ یعنی اس میں ہر چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے لکھی ہے اور ظاہر ہے کہ بدون علم کے لکھنا ممکن نہیں ہے پس حاصل یہ ہوا کہ سب چیزیں اللہ کے احاطہ علمی میں ہیں اور یہ نہ سمجھو کہ اللہ کے تمام معلومات لوح محفوظ ہی میں منحصر ہیں بلکہ اس کی تو کہیں انتہا ہی نہیں۔
Read the full tafseer →غیب کی کنجیاں اس کے پاس ہیں اور اسی کے پاس رہیں گی :
90: زیر نظر آیت سے اس ” بینہ “ کی تفصیل و تفسیر شروع ہوگئی جس کا ذکر اوپر کی آیت میں گزرا تھا۔ اس تفصیل کو ایسا رنگ دیا کہ وہ ” توحید الٰہی “ کی وضاحت بھی کرتی چلی گئی اور قوموں کے عروج وزوال کی خبر بھی دیتی چلی گئی اور یہی وہ کلام الٰہی کا اعجاز ہے جو دوسرے کاموں میں نہیں ملتا اور اس سے کلام الٰہی اور کلام انسان کا فرق بھی روز روشن کی طرح واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔ مفاتح کی اصلت ح ہے اور مفتح کی جمع ہے جس کے معنی خزانہ کے ہیں اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مفتاح کی جمع ہے جس کے معنی کنجی کے ہیں لیکن پہلے معنی زیادہ موزوں اور قویٰ ہیں۔ (راغب)
اس…
Read the full tafseer →Commentary
How to Stay Safe from Sins - The Master Prescription
Of all the religions of the world, belief in Tauhid, monotheism in its pure and applied form, is the distinctive feature of Islam. It is also obvious that Tauhid is not limited to taking the being of Allah Ta` ala as one. Instead, Tauhid is “ believing in Him” as being unique and without equal in all His attributes of perfection and in not taking any created being, other than Him, to be a sharer or partner in these attributes of perfection.
Some of these attributes of Divine perfection are: Life, Knowledge, Power, Hearing,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
39. This alludes to God's punishment. The adversaries questioned why it was that they had openly rejected a Prophet sent by God, but had not been struck down by God's wrarth? They said that the fact of his appointment by God meant that anyone who either disbelieved or insulted him would, at once, be either plunged into the earth or struck by lightning. And yet, they pointed out, the Messenger of God and his followers faced new sufferings and humiliations whereas those who abused and persecuted him enjoyed prosperity.
Read the full tafseer →