Al-An'aam 6:4

Al-An'aam · from ayah 4

6:4

وَمَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ ۟وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ‏

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And no sign comes to them from the signs of their Lord except that they turn away therefrom.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:4

لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے پاس کوئی نشانی بھی ان کے رب کی نشانیوں میں نہیں آتی مگر وه اس سے اعراض ہی کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (ان کافروں کا حال یہ ہے کہ) ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے جب بھی کوئی نشانی آتی ہے، تو یہ لوگ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی اپنے رب کی نشانیوں سے نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیرلیتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے ان کے پاس کوئی نشانی نہیں آتی مگر (یہ کہ) وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی مگر وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی آئی تو وہ اس سے اعراض ہی کرتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر یہ لوگ اس سے منہ موڑے ہی رہتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو نشانی بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے آتی ہے وہ اس سے اعراض ہی کیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Yet every time a sign of their Lord comes to them, they turn away from it,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Yet whenever a sign from the signs of their Lord comes to them, they do nothing but turn away from it.

— Muhammad Taqi Usmani

Yet whenever a sign from the signs of their Lord comes to them, they do nothing but turn away from it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And never an Ayah comes to them from the Ayat of their Lord, but that they have been turning away from it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Never came there unto them a revelation of the revelations of Allah but they did turn away from it.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And no sign comes to them from the signs of their Lord except that they turn away therefrom.

— Saheeh International

(The unbelievers) have always turned away from the revelations and the evidence (of the Truth) that has been sent to them from time to time.

— Muhammad Sarwar

And there does not come to them any communication of the communications of their Lord but they turn aside from it

— Muhammad Habib Shakir

And not a sign cometh unto them of the signs of their Lord but that therefore they have been backsliders.

— Abdul Majid Daryabadi

But never did a single one of the signs of their Lord reach them, but they turned away therefrom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–6

کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے ؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں ؟ وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–4

سورة الْاَنْعَام 2 انسانی جسم کے تمام اجزاء زمین سے حاصل ہوتے ہیں، کوئی ایک ذرہ بھی اس میں غیر ارضی نہیں ہے، اس لیے فرمایا کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ سورة الْاَنْعَام 3 یعنی قیامت کی گھڑی جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان از سر نو زندہ کیے جائیں گے اور حساب دینے کے لیے اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں غفلت شعار انسان کی ہٹ دھرمی اور خلاف حق ضد کی شکایت اس طرح فرمائی گئی ہے کہوَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کے واضح دلائل اور کھلی نشانیوں کے باوجود منکر انسانوں نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی نشانی ان کو ہدایت کے لئے بھیجی جاتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں، اس میں ذرا غور نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

4 - 5: تکذیب حق کا انجام اور تاریخ کی شہادت : یعنی توحید اور قیامت کی ان باتوں کی تکذیب کی کوئی گنجائش تو نہیں ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی آیات سے اعراض کر رہے ہیں اور اس طرح انہوں نے اس حق کو جھٹلایا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے، تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں ‘ حق ’ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن، پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب سے ڈرا رہا تھا لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ فرمایا کہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کے آثار کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 3–4

3۔ 1 اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود تو عرش پر ہے، جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ لیکن اپنے علم کے لحاظ سے ہر جگہ ہے۔ یعنی اس کے علم و خبر سے کوئی چیز باہر نہیں۔ البتہ بعض گمراہ فرقے اللہ تعالیٰ کو عرش پر نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اور اس آیت سے اپنے اس عقیدے کا اثبات کرتے ہیں۔ لیکن یہ عقیدہ جس طرح غلط ہے یہ دلیل بھی صحیح نہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذات جس کو آسمانوں میں اور زمین میں اللہ کہہ کر پکارا جاتا ہے اور آسمانوں اور زمین میں جس کی حکمرانی ہے اور آسمانوں اور زمین میں جس کو معبود برحق سمجھا اور مانا جاتا ہے وہ اللہ تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اور جو کچھ تم…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–4

1: یعنی ایک میعاد تو ہر انسان کی انفرادی زندگی کی ہے کہ وہ کب تک جئے گا، شروع میں تو اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا، مگر جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو ہر ایک کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی عمر کتنی تھی۔ لیکن مرنے کے بعد جو دوسری زندگی آنے والی ہے وہ کب آئے گی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–6

(آیت) ” نمبر 4 تا 6۔ ان لوگوں نے عناد اور باطل پہ اصرار کرنے کے موقف کو اپنایا ‘ حالانکہ ایسے دلائل اور نشانیوں کی کمی نہ تھی جن کو دیکھ کر وہ ایمان لاتے اور نہ ایسے دلائل اور نشانات کی کمی تھی جن سے معلوم ہوتا کہ پیغمبروں کی دعوت نہایت ہی سچی دعوت ہے ‘ نہ یہ بات تھی کہ اس دعوت اور داعی کی سچائی پہ دلائل کی کوئی کمی تھی ۔ وجود باری پر دلائل وبراہین بھی موجود تھے ۔ غرض ان چیزوں کی ان کے ہاں کوئی کمی نہ تھی بلکہ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ وہ مان کر نہ دیتے تھے ۔ وہ باطل پر مصر تھے ‘ تحریک سے عناد رکھتے تھے اور اس روگردانی کی وجہ ان کے لئے اس دین اور تحریک میں غور وفکر کرنے کے مواقع جاتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ الاَّ کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ ۔ ہم نئی سے نئی سورتیں بھیج رہے ہیں ‘ نئی سے نئی آیات نازل کر رہے ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض پر تلے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 یہاں آیت سے مراد قرآن کی کوئی آیت بھی ہوسکتی ہے کوئی معجزہ اور کوئی واضح دلیل بھی۔ یعنی جو کافر انکار کرنے کا ہی تہیہ کیے بیٹھے ہیں ان کے لیے نہ کوئی دلیل کارگر ہوسکتی ہے، نہ معجزہ اور نہ پند و نصیحت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5 ۔ ان نشانیوں میں تشریعی اور تکوینی دونوں قسم کے آیات الہی آگئے۔ یعنی ایک طرف ادیان حق کا ظہور اور ان کے پیام وتعلیمات اور دوسری طرف ان کے معجزات اور قحط وزلزلہ وغیرہ تخویفی آیات۔ (آیت) ” معرضین “۔ اعراض کے معنی ہیں ترک التفات کے (آیت) ” وما تاتیھم “۔ ضمیر جمع غائب کافروں اور منکروں کی جانب ہے۔ (آیت) ” من ایۃ “۔ من استغراق جنس کے لیے ہے۔ یعنی کوئی سی بھی نشانی ہو۔ من لاستغراق الجنس (قرطبی) (آیت) ” من ایت ربھم “۔ من تبعیض کے لئے ہے من للتبعیض (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–6

ھُوا الذی خَلَقکم مِنْ طِیْنٍ ثمَّ قضٰی اجلاً ، بلاواسطہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا، حضرت ابو موسیٰ اشعری، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک خاص مقدار سے پیدا فرمایا جس میں پوری زمین کے اجزاء شامل کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ اولاد آدم رنگ و روپ اور اخلاق و عادات میں مختلف ہیں۔ یہ تو انسان کی ابتداء آفرینش کا ذکر تھا، اس کے بعد انتہاء کی دو منزلوں کا ذکر ہے، ایک انسان کی شخصی انتہاء جس کو موت کہا جاتا ہے دوسرے پوری نوع انسانی اور اس کے کائناتی خدام کی انتہاء جس کو قیامت کہا جاتا ہے انسان کی شخصی انتہاء کیلئے فرمایا ثمَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما تاتیہم من ایۃ من ایت ربہم الا کانوا عنہا معرضین اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے نہیں آتی مگر وہ اس سے روگردانی کیا ہی کرتے ہیں۔ من ایۃ میں من تعمیم کے لئے ہے اور زائد ہے۔ آیات رب سے مراد معجزات ہیں جیسے چاند کا پھٹنا کنکریوں کا بولنا وغیرہ اور عطاء کے نزدیک قرآن کی آیات مراد ہیں اور مِنْ آیۃٍمیں من تبعیضیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(4) اور ان اہل مکہ کے پاس جو بھی نشانیاں ان کے پروردگار کی طرف سے آتی ہیں مثلا سورج گرہن ہونا، چاند کے دو ٹکرے ہونا اور تاروں کا ٹوٹ کر بکھرنا مگر یہ ان سب باتوں کی تکذیب ہی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ۔۔ : ان آیات سے مراد وہ احکام بھی ہیں جو آیات کی صورت میں انبیاء پر اترتے رہے اور وہ معجزات بھی جو نبوت کی دلیل کے طور پر اترتے رہے۔ اس کے علاوہ زمین و آسمان میں موجود وہ بیشمار نشانیاں بھی جو اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہیں، مثلاً دیکھیے سورة بقرہ (164) ، یوسف (105) اور ذاریات (20 تا 23)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–5

آیت نمبر : 2 تا 5۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وھوا للہ فی السموت وفی الارض “۔ اس میں سوال یہ ہے کہ وھوا للہ فی السموت وفی الارض کا عامل کیا ہے، اس کے کئی جوابات ہیں : (1) اس کا مطلب ہے ھو اللہ المعظم او المعبود فی السموت وفی الارض۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی بلند شان والا ہے یا معبود ہے جیسے تو کہتا ہے : زید الخلیفۃ فی الشرق والغرب، یعنی شرق وغرب میں اس کا حکم ہے، یہ معنی بھی جائز ہے، کہ یہ خبر کے بعد خبر ہو، معنی یہ ہوگا وھوا للہ فی السموات وھواللہ فی الارض بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ھو اللہ یعلم سرکم وجھرکم فی السموت وفی الارض فلا یخفی علیہ شیء یعنی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–5

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھوالذی خلقکم من طین یعنی آدم (علیہ السلام) (مٹی سے پیدا ہوئے) لفظ آیت ثم قضیٰ اجلا یعنی موت کی مدت لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی قیامت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (2) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور حاکم نے (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم قضی اجلا یعنی دنیا کی مدت اور دوسرے لفظ پر موت کا مقرر وقت بھی مذکور ہے۔ لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی آخرت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (3) امام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَاتَاْتِيْهِمْ [ اور نہیں پہنچتی ان کے پاس ] مِّنْ اٰيَةٍ [ کسی قسم کی کوئی نشانی ] مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ ان کے رب کی نشانیوں میں سے ] اِلَّا [ مگر ] كَانُوْا [ وہ لوگ ہوتے ہیں ] عَنْهَا [ اس سے ] مُعْرِضِيْنَ [ اعراض کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ مَا تَاْتِیْھِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ ) (جو بھی کوئی آیت اللہ کی آیات میں سے ان کے سامنے آتی ہے تو اس سے اعراض کرتے ہیں) اس سے آیات قرآنیہ مراد ہوسکتی ہیں۔ اور آیات تکوینیہ بھی مراد لی جاسکتی ہیں۔ یعنی قرآنی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور جو آیات تکونیہ سامنے آتی ہیں جن میں دلائل توحید ہیں ان سے بھی اعراض کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

قال اللہ تعالی، وما تاتیھم من آیۃ۔۔۔ الی۔۔۔ قرنا آخرین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں دلائل توحید کا بیان تھا اب ان آیات میں آیات الٰہیہ سے اعراض اور تکذیب پر وعید اور تہدید کا ذکر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ان کفار مکہ کے پاس کوئی نشانی ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے نہیں پہنچتی مگر اس سے منہ پھیرنے والے اور تغافل برتنے والے بن جاتے ہیں جو معجزہ بھی دیکھتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جادو کہہ کر ٹلا دیتے ہیں، پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ بہت ہی بدخ وہیں پس تحقیق جھٹلایا اور انہوں نے حق کو جب وہ ان کے پاس آگیا اور پہنچ گیا حق سے مراد نبی کی ذات بابرکات ہے یا قرآن کی آیتیں یا معجزات ہیں پس عنقریب ان کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6 و َ مَا تَاتِیْھِمْ سے یَسْتَھْزِء وْنَ تک منکرین پر زجر و شکوہ ہے اور آیات سے دلائل توحید مراد ہیں جو قرآن میں مذکور ہیں بقرینہ مَا یَا تِیْھِمْ مّنْ ذِکْرٍ مِّنْ رَّبِّھِمْ مُّحْدَثٍ تا فَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ (انبیاء ع 1، 2) ۔ فَقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ حق کے تین معنی ہیں۔ اولَ اظہار حق، دوم سچی بات، سوم ظاہر اور واضح بات۔ یہاں تیسرا معنی مراد ہے۔ جب انہوں نے ایک ایسی حقیقت کا انکار کردیا جو بالکل واضح اور ظاہر ہے تو وہ عذاب کے مستحق ہیں جیسا کہ فَسَوْفَ یَاتِیْھِمْ کی فا فصحیہ ہے اس پر دال ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–5

گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی بعض صفات کا ذکر ہوا۔ شرک کی تردید عالم کبیر یعنی تمام کائنات کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور نور ظلمت کا خالق بھی وہی ہے ‘ اس کے باوجود لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو اس کے برابر تسلیم کر کے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چناچہ مجوسی فرقہ والے دو خدائوں کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک نیکی کا خدا یزدان ہے اور بدی کا ہر من ہے یہ لوگ ثنویہ فرقہ والے کہلاتے ہیں۔ ہندوستان کے قدیم مشرک بتیس کروڑ دیوتائوں گو مانتے تھے ‘ ان میں آریہ سماج والوں نے تین خدائوں پر اکتفا کیا ‘ وہ مادہ ‘ روح اور خدا تعالیٰ تینوں کو قدیم مان کر مشرک کے مشرک ہی رہے۔ یہ بھی عیسائیوں کے عقیدہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا تَاْتِيْہِمْ مِّنْ اٰيَۃٍ مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّہِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِيْنَ۝ 4 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی " آنا " ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–5

3 ؎ قرآن کی آیت یا معجزہ یا اس کے جلال وکبریائی کی نشانی زلزلہ ‘ کڑک ‘ قحط ‘ وبا وغیرہ جب کفار کے سامنے پیش ہوتی ہے تو اس میں غور و تامل نہیں کرتے منہ پھیر لیتے ہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

وَمَا تَاْتِیْھِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ ۔ فََقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَھُمْ ط فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبٰٓؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُوْنَ ۔ (الانعام : 504) (اور نہیں آتی ان کے پاس ‘ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ‘ مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔ سو انھوں نے واضح حق کو بھی جھٹلا دیا ‘ جبکہ وہ ان کے پاس آیا تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی ‘ جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں) حق مبین ” حضور ﷺ اور قرآن پاک توحید و قیامت پر اس قدر ٹھوس دلائل اور ان کے تمام اعتراضات کا جواب مل جانے کے بعد ‘ ان باتوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–4

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : توحید کے دلائل کا تذکرہ جاری ہے۔ اس سے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق اس کی موت وحیات کا ذکر تھا۔ اب اللہ تعالیٰ یہ بتلانا چاہتا ہے کہ اے انسان تجھے ہوش کے ناخن لینے اور اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الگ تھلگ ہو کر گوشہ نشین نہیں ہوا۔ بلکہ جس طرح وہ زمین و آسمان کے چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ سے واقف اور ان کے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے اسی طرح وہ انسان کی جلوت و خلوت اور ہر قسم کی نقل و حرکت سے واقف ہے۔ کسب کا لفظ استعمال فرما کر انسان کے کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسے اپنے فکر و عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عدم تدبر انجام کی سوچ نہ ہونے سے ہے : آیت 4: وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ ٰایَۃٍ ۔ اس میں مِنْ استغراق کے لیے ہے۔ مِّنْ ٰایٰتِ رَبِّہِمْاس میں مِنْ تبعیضیہ ہے۔ یعنی جو کوئی دلیل کبھی ان کے سامنے ظاہر ہوتی ہے جس میں غور و فکر کرنا ضروری ہے۔ اِلاَّ کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَان پر غور و تدبر چھوڑنے والے ہیں۔ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کو بہت کم خوف اور انجام کی سوچ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 4–7

آیت نمبر 7, 6, 5, 4 تفسیر : (وما تاتیھم) یعنی مکہ والوں کے پاس ( من ایۃ من ایت ربھم) جسے چاند کا ٹکڑے ہونا وغیرہ اور عطاء فرماتے ہیں کہ قرآن کی آیات مراد ہیں (الا کانوا عنھا معرضین) یعنی اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔ (فقد کذبوا بالحق) یعنی قرآن کو اور کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ مراد ہیں (لما جاء ھم ط فسوف یاتیھم ام نبوا ما کانوا بہ یستھزء ون) یعنی انکے ستہزاء کی خبر اور اس کا بدلہ یعنی عنقریب اپنے استعزاء کا انجام جان لیں گے جب ان کو عذاب دیا جائے گا۔ (الم یروا کم اھلکنامن قبلھم من قرن) قرن کی تفسیر یعنی پہلی امتیں اور قرن لوگوں کی جماعت اس کی جمع قرون آتی ہے اور کہا گیا ہے کہ زمانے کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–6

(4 ۔ْ 6) ۔ اوپر ذکر تھا کہ عقل مند وہی شخص ہے جو قیامت کے دن کے فیصلہ اخیر کے لئے کچھ اچھی روداد جمع کر لیوے اب ان آیتوں میں اہل مکہ کی نادانی اور کم عقلی کا ذکر ہے جس پر وہ لوگ اڑے ہوئے تھے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن کے فیصلہ اخیر کے لئے اچھی روداد کا جمع کرنا تو درکنار اپنی ازلی کم بختی کے سبب سے یہ لوگ تو اسے پر اڑے ہوئے ہیں کہ اس فیصلہ اخیر کی یادہانی کے باب میں جو آیات قرانی نازل ہوتی ہیں ان ہی کو یہ لوگ جھٹلا کر ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں لیکن اس میں کسی کا کچھ نہیں بگڑتا وقت مقررہ پر یہ لوگ اپنے کئے کا برا نتیجہ دیکھ لیویں گے کہ شام اور یمن کے سفر میں جس طرح پچھلی قوموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

آیت 4 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکین کے اعراض، ان کی شدت تکذیب اور ان کی عداوت کے بارے میں خبر ہے، نیز یہ کہ آیات و معجزات انہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے جب تک کہ ان پر عبرتناک عذاب نازل نہ ہوجائے۔ چناچہ فرمایا : (وما تاتیھم من ایۃ من ایت ربھم) ” اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے “ جو حق پر دلیل قطعی ہیں جو حق کے قبول کرنے اور اس کی اتباع کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ (الا کانوا عنھا معرضین) ” مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ ان آیات کو غور سے سنتے نہیں اور ان میں تدبر نہیں کرتے۔ ان کے دل دوسرے امور میں مصروف ہیں اور انہوں نے پیٹھ پھیرلی ہے۔ (فقد کذبوا بالحق لما جآء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 اِعراض و روگردانی باعث ہلاکت و محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے پاس جو بھی کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے آتی ہے یہ اس سے اعراض و روگردانی ہی برتتے ہیں۔ اور یہ چیز باعث ہلاکت و محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ لوگ ایسی ہر نشانی سے منہ موڑے ہی رہتے ہیں اور اس کے بارے میں غور و فکر سے کام لینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تو پھر حق ان کی سمجھ میں آئے تو آخر کس طرح ؟ اور راہ حق و ہدایت ان کو نصیب ہو تو کیو نکر ؟ افسوس کہ غفلت و اعراض کا یہی مرض انسانی معاشرے میں اور خود مسلمان معاشرے میں آج بھی موجود ہے بلکہ آج کا مادہ پرست انسان اس مرض کا اور بھی زیادہ اور بری طرح سے شکار ہے۔ وہ را ہِ حق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–4

اللہ کی قدرت اور طاقت تشریح : ان آیات میں اللہ کے علیم وخبیر ہونے کی دلیل دی گئی ہے یعنی علم رکھنے والا اور خبر رکھنے والا بتایا گیا ہے جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ ظاہر پوشیدہ، اچھائی برائی اللہ سے کوئی بھی چیز اور کوئی راز پوشیدہ نہیں وہ سب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر افسوس سے کرتے ہیں جو سب کچھ دیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں مگر اپنے رسم و رواج کی وجہ سے نہ غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے غلط عقیدوں سے ہٹ کر اللہ وحدہٗ لاشریک کی طرف مڑتے ہیں۔ یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہی ہے کہ تمام نشانیاں دیکھ کر بھی کفر و شرک سے توبہ نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : توحید کے عقلی دلائل : انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 اللہ کی آیات سے مراد وہ آیات بھی ہوسکتی ہیں جو انبیا پر اترقی رہی ہیں جیسے معجزات اور قدرت کی نشانیاں بھی جیسے زلزلہ قحط وغیرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:4) معرضین۔ اعراض کرنے والے۔ منہ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔ اعراض (افعال) سے۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ کذبوا بالحق۔ انہوں نے حق کو جھٹلایا۔ الحق مفعول یہ ہے کذبوا کا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–6

لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 6 : ماتاتی (نہیں آتی) ‘ معرضین (اعراض کرنے والے۔ منہ پھیرنے والے) ‘ کذبوا ( انہوں نے جھٹلایا) انبوا (سچی خبریں) ‘ یستھزء ون ( وہ مذاق کرتے ہیں) ‘ الم یروا (کیا انہوں نے نہیں دیکھا) ‘ اھلکنا ( ہم نے ہلا کردیا) ‘ قرن (امتیں۔ جماعتیں) ‘ مکنا ( ہم نے جمایا۔ قوت دی) ‘ لم نمکن (ہم نے قوت نہیں دی) ‘ ارسلنا (ہم نے بھیجا) ‘ مدرار (لگاتار برسنا۔ مسلسل) ‘ انشانا ( ہم نے پیدا کیا) ‘ اخرین (دوسرے) ۔ تشریح : آیت نمبر 4 تا 6 : ہر شخص اپنے آپ کو عقلمند سمجھنے اور دوسروں کی نگاہوں میں مہا عاقل دکھانے کے لیے پریشان رہتا ہے۔ اللہ کی طرف سے بڑے بڑے پیغمبر آئے ‘ انہوں نے بڑے بڑے معجزے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–6

ان آیتوں میں اہل مکہ مکرمہ کی اس نادانی اور کم عقلی کا ذکر ہے جس پر وہ لوگ اڑے ہوئے تھے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن فیصلہ اخیر کے لئے اچھی روداد جمع کرنا تو درکنار اپنی ازلی کم بختی کے سبب سے یہ لوگ تو اس پر اڑے ہوئے ہیں کہ اس فیصلہ اخیر کی یاد دہانی کے باب میں جو آیات قرآنی نازل ہوئی ہیں، ان کوہ لوگ جھٹلاکر ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں لیکن اس میں کسی کا کچھ نہیں بگڑتا وقت مقررہ پر یہی لوگ اپنے کئے کا برا نتیجہ دیکھ لیویں گے۔ شام، یمن کے سفر میں جس طرح پچھلی قوموں کی اجڑی ہوئی بستیاں اب کو نظر آتی ہیں وہی حال ان کا ہوگا۔ بدر کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ نے قریش کے ان سرکش لوگوں کی لاشوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–8

[3] یعنی فرشتے کا نزول دنیا میں اس طرح کہ کافر تک کو نظر آجائے۔ دستور الٰہی میں نزول عذاب کے وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر مہلت کا امکان کہاں ؟ مہلت اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردہ غیب میں پوشیدہ ہے۔ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا اور حقیقت ظاہر ہوگئی، اس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا، اس لئے کہ دنیا کی زندگی امتحان کا زمانہ ہے اور امتحان اس چیز کا ہے کہ حقیقت کو دیکھے بغیر، غور و فکر سے انسان اس کا ادراک کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ مدت امتحان اسی وقت تک ہے جب تک غیب غیب ہے۔ جیسے ہی غیب ظاہر ہوگیا تو اس کے ساتھ مدت امتحان بھی ختم ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–5

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ سب مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں تم میں کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں سب خدا کے حضور میں عاجز اور محتاج ہیں ۔ اس لئے باہمی تفافس وکبر کو چھوڑ دو ، کسی انسان کے سامنے سر نہ جھکاؤ ، اور سب کو برابر سمجھو مٹی سے پیدا ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری زندگی یکسر ارضیت پر موقوف ہے ، نباتات سے لے کر حیوانات تک سب چیزیں مٹی کی محتاج ہیں اس لئے تمہاری تکوین میں مٹی کو بہت زیادہ دخل حاصل ہے لہذا پیشگاہ خداوندی میں ہمیشہ خشوع وخصوع کا اظہار کرو ، اور اپنی فطری بےکسی اور بےمائیگی کو بھول نہ جاؤ ۔ حل لغات : تمترون ۔ مادہ امتراء بمعنی شک کرنا ۔ انبوائ : جمع نباء ، بمعنی خبرواطلاع ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-4 اور کوئی دلیل اور کوئی نشانی ان کے پروردگار کی نشانیوں میں ان تک نہیں پہونچتی اور ان کو نہیں دکھائی جاتی مگر یہ کہ یہ اس سے روگردانی ، اعراض اور تعافل کا برتائو کرتے ہیں یعنی کوئی دلیل بتائو یا کوئی نشانی دکھائو یہ کسی بات سے متاثر نہیں ہوتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–4

ف 2۔ توحید تینوں آتیوں کا مقصود مشترک ہے یعنی عبادت کے لائق وہ ہے جس میں یہ صفات ہوں کہ وہ خالق افق وآفاق کا ہے اور عالم غیب و شہادت کا ہو ارآخر کی دوآیتوں میں بعث کی خبر اور اس کے امتناع کا دفع اور محاسبہ علی الکسب پر تنبیہ بھی ہے جس سے شرک پر وعید ثابت ہوگئی اور دوسرے اجل کے علم کو اپنے ساتھ مخصوص فرمایا کیونکہ پہلے اجل کا گو قطعی علم نہ سہی مگر ظنی طور پر علامات سے معلوم ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انسانی سرکشیوں کا بیان کہ ان کے سامنے چاہو جتنے نشانات رکھو ان کو منہ پھیرتے دیر نہیں لگتی : 7: ان نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو عقل و فکر کی راہنمائی کے لئے اللہ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائیں جیسے قرآن کریم کی آیات اور وہ نشانیاں بھی مراد ہیں جو تکوینی طور پر وقتاً فوقتاً بھیجی جاتی رہی ہیں ، بھیجی جا رہی ہیں اور بھیجی جائیں گی ۔ جیسے قحط وزلزلے اور اسی قبیل کی دوسری ناگہانی نشانیاں اور پھر ان ساری نشانیوں کی تفصیل قرآن کریم کے صفحات میں جگہ جگہ بتائی گئی ہیں جیسے ارشاد الٰہی ہے کہ : ” بلاشبہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں اور جہاز میں جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The fourth verse carries a complaint against the anti-truth doggedness and obstinacy of the chronically heedless human race by saying: وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَ‌بِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِ‌ضِينَ ﴿4﴾ that is, despite the many clear proofs and open signs of the Oneness of Allah, the dissenters and rejectionists among human beings have taken to a way of their own, using which, they would turn their faces away from whatever sign is shown to them for their guidance, without ever paying the least attention to it.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–4

2. The elements composing the human organism are all, without exception, derived from the earth. Hence it is said that man has been created out of clay. 3. This alludes to the Hour of Judgement when human beings, regardless of the age in which they lived, will be broought back to life and summoned to render an account before their Lord.

Read the full tafseer →