Al-An'aam 6:5

Al-An'aam · from ayah 5

6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ؕ— فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ۟فَقَدۡ كَذَّبُوۡا بِالۡحَـقِّ لَـمَّا جَآءَهُمۡ‌ؕ فَسَوۡفَ يَاۡتِيۡهِمۡ اَنۢۡـبٰٓـؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ

جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

For they had denied the truth when it came to them, but there is going to reach them the news of what they used to ridicule.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:5

چنانچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا اچھا، جس چیز کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں انہیں پہنچیں گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے اس سچی کتاب کو بھی جھٹلایا جب کہ وه ان کے پاس پہنچی، سو جلدی ہی ان کو خبر مل جائے گی اس چیز کی جس کے ساتھ یہ لوگ استہزا کیا کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جب حق ان کے پاس آگیا تو ان لوگوں نے اسے جھٹلا دیا۔ نتیجہ یہ کہ جس بات کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں، جلد ہی ان کو اس کی خبریں پہنچ جائیں گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا، تو اب انہیں خبر ہوا چاہتی ہے اس چیز کی جس پر ہنس رہے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر بیشک انہوں نے (اسی طرح) حق (یعنی قرآن) کو (بھی) جھٹلا دیا جب وہ ان کے پاس (اُلوہی نشانی کے طور پر) آیا، پس عنقریب ان کے پاس اس کی خبریں آیا چاہتی ہیں جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس بیشک انھوں نے حق کو جھٹلا دیا، جب وہ ان کے پاس آیا، تو عنقریب ان کے پاس اس کی خبریں آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ جب ان کے پاس حق آگیا تو اسے انہوں نے جھٹلا دیا اور جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں عنقریب انہیں اس کی خبریں پہنچیں گی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

سو انہوں نے واضح حق کو بھی جھٹلا دیا جب کہ وہ ان کے پاس آیا تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ اب انہوں نے اس حق کو بھی جھٹلا دیا جب کہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا، سو عنقریب ہی آجائے گی ان کے پاس حقیقت ان خبروں کی جن کا یہ لوگ مذاق اڑاتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

سو انہوں نے (کلام) حق کو بھی جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا۔ سوعنقریب ہی انہیں خبر معلوم ہوجائے گی اس چیز کی جس کے بارے میں وہ تمسخر کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اب انہوں نے جھٹلا دیا ہے حق کو جبکہ ان کے پاس آچکا ہے تو اب جلد ہی ان کے پاس آجائیں گی اس چیز کی خبریں جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

چناچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا۔ جس چیز کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں اس کے متعلق عنقریب ان کو خبریں پہنچیں گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and thus they gave the lie to the Truth that has now come to them. Soon they will come upon some news concerning what they had mocked at.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So they rejected the truth when it came to them. Now there shall come to them a full account of what they used to ridicule.

— Muhammad Taqi Usmani

So they rejected the truth when it came to them. Now there shall come to them a full account of what they used to ridicule.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed, they rejected the truth when it came to them, but there will come to them the news of that which they used to mock at.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they denied the truth when it came unto them. But there will come unto them the tidings of that which they used to deride.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For they had denied the truth when it came to them, but there is going to reach them the news of what they used to ridicule.

— Saheeh International

They have refused the Truth (Muhammad's message) that has come to them but they will soon learn the consequences of their mocking.

— Muhammad Sarwar

So they have indeed rejected the truth when it came to them; therefore the truth of what they mocked at will shine upon them.

— Muhammad Habib Shakir

Surely they have belied the truth when it came unto them; so presently there cometh unto them the tidings of that whereat they have been mocking.

— Abdul Majid Daryabadi

And now they reject the truth when it reaches them: but soon shall they learn the reality of what they used to mock at.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–6

کفار کو نافرمانی پر سخت انتباہ کفار کی سرکشی کی انتہا بیان ہو رہی ہے کہ ہر امر کی تکذیب پر گویا انہوں نے کمر باندھ لی ہے، نیت کر کے بیٹھے ہیں کہ جو نشانی دیکھیں گے، اسی کا انکار کریں گے، ان کی یہ خطرناک روش انہیں ایک دن ذلیل کرے گی اور وہ ذائقہ آئے گا کہ ہونٹ کاٹتے رہیں، یہ یوں نہ سمجھیں کہ ہم نے انہیں چھوڑ دیا ہے نہیں بلکہ عنقریب انہیں اللہ کی پکڑ ہوگی، کیا ان سے پہلے کے ایسے سرکشوں کے حالات ان کے کان میں نہیں پڑے ؟ کیا ان کے عبرتناک انجام ان کی نگاہوں کے سامنے نہیں ؟ وہ تو قوت طاقت میں اور زور میں ان سے بہت بڑھے چڑھے ہوئے تھے، وہ اپنی رہائش میں اور زمین کو بسانے میں ان سے کہیں زیادہ آگے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 5–7

سورة الْاَنْعَام 4 اشارہ ہے ہجرت اور ان کامیابیوں کی طرف جو ہجرت کے بعد اسلام کو پے در پے حاصل ہونے والی تھیں۔ جس وقت یہ اشارہ فرمایا گیا تھا اس وقت نہ کفار یہ گمان کرسکتے تھے کہ کس قسم کی خبریں انہیں پہنچنے والی ہیں اور نہ مسلمانوں ہی کے ذہن میں اس کا کوئی تصور تھا۔ بلکہ نبی ﷺ خود بھی آئندہ کے امکانات سے بیخبر تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچویں آیت میں اسی غفلت شعاری کی مزید تفصیل بعض واقعات کی طرف اشارہ کرکے بیان فرمائی ہے کہ فَقَدْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۭ فَسَوْفَ يَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤ ُ ا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ، یعنی جب حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے حق کو جھٹلا دیا، حق سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس بھی۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ ابتداء عمر سے آخر تک انہی قبائل عرب کے درمیان رہے، بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپا انہی کی آنکھوں کے سامنے آیا، ان کو یہ بھی پوری طرح واضح تھا کہ آنحضرت ﷺ نے کسی انسان سے مطلقاً کوئی تعلیم حاصل نہیں کی، یہاں تک کہ اپنا نام بھی خود نہ لکھتے تھے، پورے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

4 - 5: تکذیب حق کا انجام اور تاریخ کی شہادت : یعنی توحید اور قیامت کی ان باتوں کی تکذیب کی کوئی گنجائش تو نہیں ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی آیات سے اعراض کر رہے ہیں اور اس طرح انہوں نے اس حق کو جھٹلایا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے، تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں ‘ حق ’ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن، پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب سے ڈرا رہا تھا لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ فرمایا کہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کے آثار کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی اس نکتہ چینی اور تکذیب کا وبال انہیں پہنچے گا اس وقت انہیں احساس ہوگا کہ کاش ! ہم اس کتاب برحق کی تکذیب اور اس کا استھزا نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–7

2: کفار سے کہا گیا تھا کہ اگر انہوں نے ہٹ دھرمی کا رویہ جاری رکھا تو دنیا میں بھی ان کا انجام برا ہوگا، اور آخرت میں بھی ان کو عذاب کا سامنا کرنا ہوگا، کفار ان باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ آیت ان کو متنبہ کر رہی ہے کہ جس بات کو وہ مذاق اڑا رہے ہیں، عنقریب وہ ایک حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 4–6

(آیت) ” نمبر 4 تا 6۔ ان لوگوں نے عناد اور باطل پہ اصرار کرنے کے موقف کو اپنایا ‘ حالانکہ ایسے دلائل اور نشانیوں کی کمی نہ تھی جن کو دیکھ کر وہ ایمان لاتے اور نہ ایسے دلائل اور نشانات کی کمی تھی جن سے معلوم ہوتا کہ پیغمبروں کی دعوت نہایت ہی سچی دعوت ہے ‘ نہ یہ بات تھی کہ اس دعوت اور داعی کی سچائی پہ دلائل کی کوئی کمی تھی ۔ وجود باری پر دلائل وبراہین بھی موجود تھے ۔ غرض ان چیزوں کی ان کے ہاں کوئی کمی نہ تھی بلکہ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ وہ مان کر نہ دیتے تھے ۔ وہ باطل پر مصر تھے ‘ تحریک سے عناد رکھتے تھے اور اس روگردانی کی وجہ ان کے لئے اس دین اور تحریک میں غور وفکر کرنے کے مواقع جاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 حق سے مراد غالباً قرآن کریم ہے جو نشانہائے قدرت سے تغافل برتنے والوں کی بد انجامی اور دنیاوی واخروی سزا کو بیان کرتا ہے اسے سن کر منکرین تکذیب و استہزاء کرتے تھے انھیں جتلا دیا کہ جس بات پر تم ہنستے اور آوازیں کستے ہو وہ حقیقت ثابتہ بنکر عنقریب تمہارے سامنے آجائے گی۔ آگے ان اقوام کا حوالہ دیا ہے جو آیات اللہ کی تکذیب و استہزاء اور بد اعمالیوں کی بدولت ہلاک کی گئیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 فَقَدْ کَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہُمْ ط یہاں فَقَدْ کَذَّبُوْا کا انداز ملاحظہ کیجیے اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ یہ مکی دور کے آخری زمانے کی سورتیں ہیں۔ گویا حضور ﷺ کو دعوت دیتے ہوئے تقریباً بارہ برس ہوچکے ہیں۔ چناچہ اب تک بھی جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر پورے طور سے جم چکے ہیں۔ فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ مشرکین مکہ مذاق اڑاتے تھے کہ عذاب کی دھمکیاں سنتے سنتے ہمیں بارہ سال ہوگئے ہیں ‘ یہ سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں کہ عذاب آنے والا ہے ‘ لیکن اب تک کوئی عذاب نہیں آیا۔ لہٰذایہ خالی دھونس ہے ‘ صرف دھمکی ہے۔ اس طرح وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 حق سے کیا مراد ہے ؟ حق سے مراد قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور رسول اللہ کی ذات بھی۔ ان دونوں کا دعویٰ یہ تھا کہ اسلام ہی بالآخر غالب آ کے رہے گا۔ کفار مکہ بالخصوص اس بات کا مذاق اڑاتے تھے کہ یہ کمزور سی مٹھی بھر جماعت ہے جسے کھانے پینے کی چیزیں بھی میسر نہیں آتیں، وہ اگر محلوں کے خواب دیکھے تو یہ دیوانگی نہیں تو کیا ہے ؟ اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عنقریب ان لوگوں کو ایسی خبریں آنے لگیں گی۔ خ مسلمانوں کی کامیابی کی پیشین گوئی :۔ واضح رہے کہ یہ پوری سورت ماسوائے چھ آیات کے (وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ ) سے تین آیتیں اور (قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6 ۔ الحق سے مراد قرآن مجید ہے۔ صاحب قرآن سے بھی مراد ہوسکتی ہے۔ یعنی القران وقیل محمد ا (علیہ السلام) (قرطبی) یعنی خدائی نشانیوں کی تکذیب تو ان کا شعار ہی ہوچکی ہے اس لیے حسب عادت انہوں نے قرآن کو بھی جھٹلایا۔ 7 ۔ یعنی عذاب الہی ان پر واقع ہو کر رہے گا۔ واراد بالانباء وھی الاخبار العذاب (قرطبی) المراد بالانباء لانفس الانباء بل العذاب الذی انبااللہ تعالیٰ بہ (کبیر) عذاب سے مراد جنگ بدر میں شکست وغیرہ ہے۔ جو مشرکین عرب کو دنیا ہی میں نصیب ہوئی۔ والمراد مانالھم یوم بدر ونحوہ (قرطبی) یحتمل ان یکون عذاب الدنیا وھو الذی ظھر یوم بدر (کبیر) عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے۔ قیل یوم القیامۃ (قرطبی) ویحتمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–6

ھُوا الذی خَلَقکم مِنْ طِیْنٍ ثمَّ قضٰی اجلاً ، بلاواسطہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا، حضرت ابو موسیٰ اشعری، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک خاص مقدار سے پیدا فرمایا جس میں پوری زمین کے اجزاء شامل کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ اولاد آدم رنگ و روپ اور اخلاق و عادات میں مختلف ہیں۔ یہ تو انسان کی ابتداء آفرینش کا ذکر تھا، اس کے بعد انتہاء کی دو منزلوں کا ذکر ہے، ایک انسان کی شخصی انتہاء جس کو موت کہا جاتا ہے دوسرے پوری نوع انسانی اور اس کے کائناتی خدام کی انتہاء جس کو قیامت کہا جاتا ہے انسان کی شخصی انتہاء کیلئے فرمایا ثمَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقد کذبوا بالحق لما جآء ہم سو انہوں نے حق کو بھی جھوٹا قرار دیا جب حق ان کے پاس آگیا۔ حق سے مراد ہے قرآن یا رسول اللہ کی ذات مبارک۔ فَقَدْمیں فاء تفریع کے لئے ہے یعنی جب انہوں نے تمام معجزات کا انکار کردیا تو قرآن کا بھی انکار کردیا۔ یہ بھی ایک معجزہ ہی ہے۔ یا فاء سببی ہے یعنی جب انہوں نے قرآن کی تکذیب کی جو لفظاً اور معناً ہر زمانہ میں واضح ترین معجزہ ہے اور رسول اللہ ﷺ : کی تکذیب کی جن کا وجود بجائے خود معجزہ ہے ایک شخص جو انہی میں پیدا ہوا اور اس نے نہ کسی سے کچھ پڑھا نہ لکھا پھر ایسے شخص سے علم کے چشمے اور حکمت کے دریا بہ نکلے جس کی تائید سابق آسمانی کتابوں سے ہو رہی ہے اور اس کی نبوت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(5) قرآن کریم اور اس کی کھلی ہوئی نشانیاں جب رسول اکرم ﷺ ان کے پاس لے کر آئے ان اہل مکہ نے ان کی بھی تکذیب کی۔ اب اللہ تعالیٰ ان کو ڈرا رہے ہیں، چناچہ ان کے مذاق اڑانے کا انجام، بدر، احد اور احزاب کا دن ان کے سامنے آگیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَقَدْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ۔۔ : اوپر کی آیات میں توحید اور آخرت کو ثابت کیا ہے، اس آیت میں تقلید کا باطل ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ (رازی) حق سے مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ پر اترنے والی کتاب ہیں۔ کفار جس چیز پر ہنستے تھے وہ آخرت اور اس میں پیش آنے والے معاملات تھے اور اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے بھی جو اس نے قرآن میں دین اسلام کے غالب اور دشمنوں کے مغلوب ہونے سے متعلق کیے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تو یہ کفار اس وعدے کو محض مذاق سمجھتے ہوئے اس پر ہنستے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن عنقریب مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا جائے گا اور پھر ایسے واقعات پیش آئیں گے کہ جن سے یہ وعدہ حقیقت بن کر ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–5

آیت نمبر : 2 تا 5۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وھوا للہ فی السموت وفی الارض “۔ اس میں سوال یہ ہے کہ وھوا للہ فی السموت وفی الارض کا عامل کیا ہے، اس کے کئی جوابات ہیں : (1) اس کا مطلب ہے ھو اللہ المعظم او المعبود فی السموت وفی الارض۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی بلند شان والا ہے یا معبود ہے جیسے تو کہتا ہے : زید الخلیفۃ فی الشرق والغرب، یعنی شرق وغرب میں اس کا حکم ہے، یہ معنی بھی جائز ہے، کہ یہ خبر کے بعد خبر ہو، معنی یہ ہوگا وھوا للہ فی السموات وھواللہ فی الارض بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ھو اللہ یعلم سرکم وجھرکم فی السموت وفی الارض فلا یخفی علیہ شیء یعنی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–5

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھوالذی خلقکم من طین یعنی آدم (علیہ السلام) (مٹی سے پیدا ہوئے) لفظ آیت ثم قضیٰ اجلا یعنی موت کی مدت لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی قیامت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (2) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور حاکم نے (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم قضی اجلا یعنی دنیا کی مدت اور دوسرے لفظ پر موت کا مقرر وقت بھی مذکور ہے۔ لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی آخرت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (3) امام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَقَدْ كَذَّبُوْا [ تو وہ لوگ جھٹلاچکے ہیں ] بِالْحَقِّ [ حق کو ] لَمَّا [ جب ] جَاۗءَهُمْ ۭ [ وہ آیا ان کے پاس ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] يَاْتِيْهِمْ [ پہنچیں گی ان کے پاس ] اَنْۢبٰۗـؤُا مَا [ اس کی خبریں ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مکذبین کے لئے وعید پھر فرمایا (فَقَدْ کَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ھُمْ فَسَوْفَ یَاْتِیْھِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ ) مطلب یہ ہے کہ جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو جھٹلا دیا، حق کو جھٹلاتے بھی ہیں اور مذاق بھی بناتے ہیں۔ اس مذاق بنانے اور جھٹلانے کا انجام عنقریب حاضر ہوجائیگا اور اپنے اعمال کے نتائج دیکھ لیں گے اور بطور تو بیخ ان سے کہا جائیگا کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا نتیجہ۔ ففی سورة الدخان (اِنَّ ھٰذَا مَا کُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ ) (بیشک یہ وہ ہے جس میں تم شک کرتے ہو) (اِصْلَوْھَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) (آج اس میں داخل ہوجاؤ اس وجہ سے کہ تم کفر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

قال اللہ تعالی، وما تاتیھم من آیۃ۔۔۔ الی۔۔۔ قرنا آخرین۔ ربط) ۔ گذشتہ آیات میں دلائل توحید کا بیان تھا اب ان آیات میں آیات الٰہیہ سے اعراض اور تکذیب پر وعید اور تہدید کا ذکر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ان کفار مکہ کے پاس کوئی نشانی ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے نہیں پہنچتی مگر اس سے منہ پھیرنے والے اور تغافل برتنے والے بن جاتے ہیں جو معجزہ بھی دیکھتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جادو کہہ کر ٹلا دیتے ہیں، پس ثابت ہوا کہ یہ لوگ بہت ہی بدخ وہیں پس تحقیق جھٹلایا اور انہوں نے حق کو جب وہ ان کے پاس آگیا اور پہنچ گیا حق سے مراد نبی کی ذات بابرکات ہے یا قرآن کی آیتیں یا معجزات ہیں پس عنقریب ان کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7 انباء سے دنیا اور آخرت کا عذاب مراد ہے۔ المراد ما یعم ذلک (العقوبات العاجلۃ والعقوبات التی تحل بھم فی الاخرۃ من عذاب النار و نحوہ) (روح ج 7 ص 93) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–5

گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی بعض صفات کا ذکر ہوا۔ شرک کی تردید عالم کبیر یعنی تمام کائنات کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور نور ظلمت کا خالق بھی وہی ہے ‘ اس کے باوجود لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو اس کے برابر تسلیم کر کے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چناچہ مجوسی فرقہ والے دو خدائوں کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک نیکی کا خدا یزدان ہے اور بدی کا ہر من ہے یہ لوگ ثنویہ فرقہ والے کہلاتے ہیں۔ ہندوستان کے قدیم مشرک بتیس کروڑ دیوتائوں گو مانتے تھے ‘ ان میں آریہ سماج والوں نے تین خدائوں پر اکتفا کیا ‘ وہ مادہ ‘ روح اور خدا تعالیٰ تینوں کو قدیم مان کر مشرک کے مشرک ہی رہے۔ یہ بھی عیسائیوں کے عقیدہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَہُمْ۝ 0ۭ فَسَوْفَ يَاْتِيْہِمْ اَنْۢبٰۗـؤُا مَا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ 5 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–5

3 ؎ قرآن کی آیت یا معجزہ یا اس کے جلال وکبریائی کی نشانی زلزلہ ‘ کڑک ‘ قحط ‘ وبا وغیرہ جب کفار کے سامنے پیش ہوتی ہے تو اس میں غور و تامل نہیں کرتے منہ پھیر لیتے ہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

وَمَا تَاْتِیْھِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ ۔ فََقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَھُمْ ط فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبٰٓؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُوْنَ ۔ (الانعام : 504) (اور نہیں آتی ان کے پاس ‘ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ‘ مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔ سو انھوں نے واضح حق کو بھی جھٹلا دیا ‘ جبکہ وہ ان کے پاس آیا تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی ‘ جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں) حق مبین ” حضور ﷺ اور قرآن پاک توحید و قیامت پر اس قدر ٹھوس دلائل اور ان کے تمام اعتراضات کا جواب مل جانے کے بعد ‘ ان باتوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو توحید اور اس کے دلائل اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض، ان کی تکذیب کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے منع فرمایا تھا۔ اب افتراء اور استہزاء پر ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ کفار اور مکذّبین کو عذاب کی وعید سنانا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان سے پہلے عاد، ثمود، قوم فرعون اور قوم لوط کو ہلاک کردیا گیا۔ جنھوں نے اس گھمنڈ کے ساتھ تکذیب کی کہ ہم بہت طاقتور، اور مالدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جرائم کی وجہ سے ان کی پکڑ کی اور ان کو ختم کرکے ان کی جگہ دوسری قوم کھڑی کردی۔ یہ اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 5: فَقَدْ کَذَّبُوْا اس کو محذوف کلام کی طرف لوٹایا جائے گا۔ گویا اس طرح کہا گیا۔ ان کَانُوا معرضین عن الاٰیات فقد کذبوا۔ اگر یہ آیات سے منہ موڑ رہے ہیں تو انہوں نے واقعۃً حق کو جھٹلایا۔ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ یعنی وہ جو کہ عظیم ترین نشانی اور سب سے بڑا معجزہ ہے اور وہ قرآن ہی تو ہے جس کے ذریعے ان کو چیلنج کیا گیا۔ جس کے جواب میں وہ عاجز رہے۔ قرآنی خبریں حقیقت بن کر سامنے آجائیں گی : فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْچبٰؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ یعنی اس چیز کی خبریں جس کو وہ جھٹلاتے تھے۔ اور وہ قرآن مجید ہے۔ یعنی قرآن کی خبریں اور جو حالات اس نے بیان کیے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 4–7

آیت نمبر 7, 6, 5, 4 تفسیر : (وما تاتیھم) یعنی مکہ والوں کے پاس ( من ایۃ من ایت ربھم) جسے چاند کا ٹکڑے ہونا وغیرہ اور عطاء فرماتے ہیں کہ قرآن کی آیات مراد ہیں (الا کانوا عنھا معرضین) یعنی اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں۔ (فقد کذبوا بالحق) یعنی قرآن کو اور کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ مراد ہیں (لما جاء ھم ط فسوف یاتیھم ام نبوا ما کانوا بہ یستھزء ون) یعنی انکے ستہزاء کی خبر اور اس کا بدلہ یعنی عنقریب اپنے استعزاء کا انجام جان لیں گے جب ان کو عذاب دیا جائے گا۔ (الم یروا کم اھلکنامن قبلھم من قرن) قرن کی تفسیر یعنی پہلی امتیں اور قرن لوگوں کی جماعت اس کی جمع قرون آتی ہے اور کہا گیا ہے کہ زمانے کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–6

(4 ۔ْ 6) ۔ اوپر ذکر تھا کہ عقل مند وہی شخص ہے جو قیامت کے دن کے فیصلہ اخیر کے لئے کچھ اچھی روداد جمع کر لیوے اب ان آیتوں میں اہل مکہ کی نادانی اور کم عقلی کا ذکر ہے جس پر وہ لوگ اڑے ہوئے تھے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن کے فیصلہ اخیر کے لئے اچھی روداد کا جمع کرنا تو درکنار اپنی ازلی کم بختی کے سبب سے یہ لوگ تو اسے پر اڑے ہوئے ہیں کہ اس فیصلہ اخیر کی یادہانی کے باب میں جو آیات قرانی نازل ہوتی ہیں ان ہی کو یہ لوگ جھٹلا کر ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں لیکن اس میں کسی کا کچھ نہیں بگڑتا وقت مقررہ پر یہ لوگ اپنے کئے کا برا نتیجہ دیکھ لیویں گے کہ شام اور یمن کے سفر میں جس طرح پچھلی قوموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–6

آیت 4 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکین کے اعراض، ان کی شدت تکذیب اور ان کی عداوت کے بارے میں خبر ہے، نیز یہ کہ آیات و معجزات انہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے جب تک کہ ان پر عبرتناک عذاب نازل نہ ہوجائے۔ چناچہ فرمایا : (وما تاتیھم من ایۃ من ایت ربھم) ” اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے “ جو حق پر دلیل قطعی ہیں جو حق کے قبول کرنے اور اس کی اتباع کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ (الا کانوا عنھا معرضین) ” مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ ان آیات کو غور سے سنتے نہیں اور ان میں تدبر نہیں کرتے۔ ان کے دل دوسرے امور میں مصروف ہیں اور انہوں نے پیٹھ پھیرلی ہے۔ (فقد کذبوا بالحق لما جآء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 نور حق سے محرومی سب سے بڑی محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا تکذیبِ حق اور نور حق سے اعراض و روگردانی خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اسی بنا پر انہوں نے جھٹلایا اس حق کو جو ان کے پاس آچکا قرآن حکیم کے نزول اور نبی آخر الزمان کی بعثت و تشریف آوری کی صورت میں۔ اور اپنی کامل، مکمل اور آخری شکل میں۔ اور قیام قیامت تک تمام زمانوں اور جملہ انسانوں کے لئے۔ تو اس کو جھٹلا کر یہ لوگ دارین کے خسارئہ و نقصان میں مبتلا ہوگئے اور نور حق و ہدایت سے بہرہ ور و سرفراز ہونے کی بجائے کفر و باطل کے دبیز اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

سچائی کا اظہار تشریح : ان آیات میں کفار کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ تم لوگ اللہ کی ان تمام نشانیوں سے آنکھیں بند کر کے اپنے آبائو اجداد کی پیروی میں لگے ہوئے ہو ورنہ ہر عقلمند آدمی جو کائنات کو غور سے دیکھتا ہے اللہ کو پہچان لیتا ہے اردگرد پھیلی ہوئی تمام چیزیں اور خود انسان کی ہستی اللہ کے موجود ہونے اور لاشریک ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں مگر کفار تو ہر بات کا مذاق اڑانا جانتے ہیں، غور و فکر اور عقل سمجھ سے یہ لوگ بالکل ناواقف ہیں۔ اب ایک بہت بڑی نشانی حق کی صورت میں (قرآنِ مجید) ان کی طرف بھیجا گیا ہے جس کی ترغیب دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ جیسا بہترین، نیک، متقی اور پرہیزگار انسان پیغمبر بنا کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔ اسرار و معارف : توحید کے عقلی دلائل : انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 اوپر کی آیات میں توحید اور معاد کو ثابت کیا ہے کہ اب اس آیت میں تقلید کا بطلان ثابت ہو رہا ہے (رازی) جس چیز پر کفار ہنستے رہے اس سے مرد اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ ہے جو اس نے قرآن میں دین اسلام کو غالب اور دشمنوں کے مغلوب کرنے متعلق کیا تھا مطلب یہ ہے کہ اب تو یہ کفار اس وعدہ کو محض مذاق سمجھتے ہوئے اس پر ہنستے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں لین عنقریب مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا جائے گا اور پھر ایسے واقعات پیش آئینگے جن سے یہ وعدہ حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

ابنائ۔ النبؤ۔ خبریں۔ حقیقتیں۔ بنأ۔ کی جمع ۔ جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو۔ اسے بناء کہا جاتا ہے۔ جس خبر میں یہ باتیں موجود نہ ہوں اس کو بنا نہیں بولتے ۔ کیونکہ اس وقت تک کوئی خبر بنا کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی جب تک کہ وہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔ جیسے وہ خبر جو بطریق تواتر ثابت ہو یا جس کو اللہ و رسول نے بیان کیا ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–6

لغات القرآن : آیت نمبر 4 تا 6 : ماتاتی (نہیں آتی) ‘ معرضین (اعراض کرنے والے۔ منہ پھیرنے والے) ‘ کذبوا ( انہوں نے جھٹلایا) انبوا (سچی خبریں) ‘ یستھزء ون ( وہ مذاق کرتے ہیں) ‘ الم یروا (کیا انہوں نے نہیں دیکھا) ‘ اھلکنا ( ہم نے ہلا کردیا) ‘ قرن (امتیں۔ جماعتیں) ‘ مکنا ( ہم نے جمایا۔ قوت دی) ‘ لم نمکن (ہم نے قوت نہیں دی) ‘ ارسلنا (ہم نے بھیجا) ‘ مدرار (لگاتار برسنا۔ مسلسل) ‘ انشانا ( ہم نے پیدا کیا) ‘ اخرین (دوسرے) ۔ تشریح : آیت نمبر 4 تا 6 : ہر شخص اپنے آپ کو عقلمند سمجھنے اور دوسروں کی نگاہوں میں مہا عاقل دکھانے کے لیے پریشان رہتا ہے۔ اللہ کی طرف سے بڑے بڑے پیغمبر آئے ‘ انہوں نے بڑے بڑے معجزے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–6

ان آیتوں میں اہل مکہ مکرمہ کی اس نادانی اور کم عقلی کا ذکر ہے جس پر وہ لوگ اڑے ہوئے تھے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن فیصلہ اخیر کے لئے اچھی روداد جمع کرنا تو درکنار اپنی ازلی کم بختی کے سبب سے یہ لوگ تو اس پر اڑے ہوئے ہیں کہ اس فیصلہ اخیر کی یاد دہانی کے باب میں جو آیات قرآنی نازل ہوئی ہیں، ان کوہ لوگ جھٹلاکر ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں لیکن اس میں کسی کا کچھ نہیں بگڑتا وقت مقررہ پر یہی لوگ اپنے کئے کا برا نتیجہ دیکھ لیویں گے۔ شام، یمن کے سفر میں جس طرح پچھلی قوموں کی اجڑی ہوئی بستیاں اب کو نظر آتی ہیں وہی حال ان کا ہوگا۔ بدر کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ نے قریش کے ان سرکش لوگوں کی لاشوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–8

[3] یعنی فرشتے کا نزول دنیا میں اس طرح کہ کافر تک کو نظر آجائے۔ دستور الٰہی میں نزول عذاب کے وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر مہلت کا امکان کہاں ؟ مہلت اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردہ غیب میں پوشیدہ ہے۔ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا اور حقیقت ظاہر ہوگئی، اس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا، اس لئے کہ دنیا کی زندگی امتحان کا زمانہ ہے اور امتحان اس چیز کا ہے کہ حقیقت کو دیکھے بغیر، غور و فکر سے انسان اس کا ادراک کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ مدت امتحان اسی وقت تک ہے جب تک غیب غیب ہے۔ جیسے ہی غیب ظاہر ہوگیا تو اس کے ساتھ مدت امتحان بھی ختم ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–5

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ سب مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں تم میں کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں سب خدا کے حضور میں عاجز اور محتاج ہیں ۔ اس لئے باہمی تفافس وکبر کو چھوڑ دو ، کسی انسان کے سامنے سر نہ جھکاؤ ، اور سب کو برابر سمجھو مٹی سے پیدا ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری زندگی یکسر ارضیت پر موقوف ہے ، نباتات سے لے کر حیوانات تک سب چیزیں مٹی کی محتاج ہیں اس لئے تمہاری تکوین میں مٹی کو بہت زیادہ دخل حاصل ہے لہذا پیشگاہ خداوندی میں ہمیشہ خشوع وخصوع کا اظہار کرو ، اور اپنی فطری بےکسی اور بےمائیگی کو بھول نہ جاؤ ۔ حل لغات : تمترون ۔ مادہ امتراء بمعنی شک کرنا ۔ انبوائ : جمع نباء ، بمعنی خبرواطلاع ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-5 سو انہوں نے اپنی عادت کے موافق اس سچی کتاب یعنی قرآن کریم کی بھیجب وہ ان کے پاس آیا تکذیب ہی کی اور قرآن جیسی سچی کتاب کا بھی کوئی اثر قبول نہیں کیا بلکہ اس سچی کتاب کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا پس ان کو عنقریب اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی اور ان کو اس بات کا بہت جلد پتہ لگ جائے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور جس کے ساتھ استہزا کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ مراد اس سے عذاب ہے جس کی خبر قرآن میں سن کر ہنستے تھے جس سے قرآن کی تکذیب لازم آتی تھی اس کی خبر ملنے کا مطلب یہ ہے کہ جب عذاب نازل ہوگا اس کی خبر آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کون سی سچائی ہے جس کو انہوں نے جھٹلایا نہ ہو ؟ 8: جب ” حق “ ان کے پاس آیا تو انہوں نے فوراً اس کو جھٹلا دیا ” حق “ سے مراد قرآن کریم بھی ہو سکتا ہے اور خود نبی اعظم وآخر ﷺ بھی ۔ قرآن کریم کا ” حق “ ہونا کسی پر پوشیدہ نہیں پھر اس نے آکر ” تحدی “ بھی فرمادی کہ میرا سچ ہونا یہی ہے کہ میری مثل تم نہیں لاسکتے نہ انفرادی طور پر اور نہ ہی اجتماعی طور پر اور یہ اعلان قرآن کریم کے صفحات میں باربار دہرایا گیا اور آپ (علیہ السلام) کا ” حق “ ہونا بھی کسی پر پوشیدہ نہ تھا اس لئے کہ نبی کریم ﷺ ابتدائے عمر سے آخر تک انہیں قبائل عرب کے درمیان رہے ۔ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپا انہی کی آنکھوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the fifth and the last verse here, further details of this heedlessness have been indicated through some events. It was said: فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ (So, they have belied the truth when it came to them). The word, ` Al-Haqq' (the truth) here, could mean the Qur'an - and the blessed person of the noble Prophet ﷺ also. The reason is that he lived his whole life among these Arab tribes. He grew up from a child into a young man and from his youth into his later years right before their eyes. They also knew fully well that the Holy Prophet ﷺ had remained absolutely…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 5–7

4. The allusion is to the Migration (Hijrah) and the numerous victories destined to follow it in quick succession. When this allusion was made, the unbelievers could not have guessed what kind of news they would receive, and even the Muslims could not have imagined those developments. Infact, the Prophet himself (peace be on him) was not fully aware of the posibilities which lay in store.

Read the full tafseer →