Explained with ayahs 1–3
اللہ کی بعض صفات
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے، جیسے فرمان ربانی آیت (عن الیمین و الشمائل) میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت (وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) 6۔ الانعام :153) میں یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
سورة الْاَنْعَام 2
انسانی جسم کے تمام اجزاء زمین سے حاصل ہوتے ہیں، کوئی ایک ذرہ بھی اس میں غیر ارضی نہیں ہے، اس لیے فرمایا کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔
سورة الْاَنْعَام 3
یعنی قیامت کی گھڑی جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان از سر نو زندہ کیے جائیں گے اور حساب دینے کے لیے اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں پہلی دو آیتوں کے مضمون کا نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو آسمانوں اور زمین میں لائقِ عبادت و اطاعت ہے، اور وہی تمہارے ظاہر و باطن کے ہر حال اور ہر قول و فعل سے پورا واقف ہے۔
Read the full tafseer →یعنی زمین و آسمان میں الگ الگ الٰہ نہیں ہیں بلکہ وہی اللہ آسمان و زمین دونوں کا مالک ہے اور دونوں میں اسی کا حکم چل رہا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے“ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهٌ وَفِي الأرْضِ إِلَهٌ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ : وہی ہے جو آسمان کا بھی معبود ہے اور وہی زمین کا بھی معبود نہیں ہے اور وہ علیم و حکیم ہے ”(زخرف :84)۔ آسمان و زمین دونوں کا قیام و بقا ہی اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک ہی خدا کا ارادہ کار فرما ہے۔ اگر ان کے اندر الگ الگ ارادے کار فرما ہوتے تو جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے، دونوں درہم برہم ہوجاتے۔ یہ مشرکین کے اس خیال کی تردید ہے کہ آسمان و زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود تو عرش پر ہے، جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ لیکن اپنے علم کے لحاظ سے ہر جگہ ہے۔ یعنی اس کے علم و خبر سے کوئی چیز باہر نہیں۔ البتہ بعض گمراہ فرقے اللہ تعالیٰ کو عرش پر نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اور اس آیت سے اپنے اس عقیدے کا اثبات کرتے ہیں۔ لیکن یہ عقیدہ جس طرح غلط ہے یہ دلیل بھی صحیح نہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذات جس کو آسمانوں میں اور زمین میں اللہ کہہ کر پکارا جاتا ہے اور آسمانوں اور زمین میں جس کی حکمرانی ہے اور آسمانوں اور زمین میں جس کو معبود برحق سمجھا اور مانا جاتا ہے وہ اللہ تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اور جو کچھ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
1: یعنی ایک میعاد تو ہر انسان کی انفرادی زندگی کی ہے کہ وہ کب تک جئے گا، شروع میں تو اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا، مگر جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو ہر ایک کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی عمر کتنی تھی۔ لیکن مرنے کے بعد جو دوسری زندگی آنے والی ہے وہ کب آئے گی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 3 :
” وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی ‘ تمہارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے ۔ “
وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ‘ وہی آسمانوں اور زمین کی حاکم مطلق ہے ۔ اس حق حاکمیت میں وہ منفرد ہے ۔ زمین و آسمان دونوں پر اس کی حکومت کو تسلیم کیا جانا چاہئے ۔ اللہ کی شان حاکمیت ‘ زمین و آسمان میں پوری طرح جاری وساری ہے ۔ یوں کہ زمین و آسمان میں اللہ کا جاری کردہ ناموس کائنات ان پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ اس سے سرتابی نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح اللہ کی منشا یہ ہے کہ انسانوں کی زندگی کے اندر بھی اللہ کا حکم ‘ قانون اور شریعت…
Read the full tafseer →2 یعنی تمام آسمانوں اور زمینوں میں تنہا وہ ہی معبود، مالک، بادشاہ، متصرِّف اور مدبرِّ ہے اور یہ نام مبارک (اللہ) بھی صرف اسی کی ذات متعالی الصفات کیلئے مخصوص رہا ہے۔ پھر اوروں کیلئے استحقاق معبودیت کہاں سے آیا۔
3 جب تمام زمین و آسمان میں اسی کی حکومت ہے اور وہ بلا واسطہ ہر کھلی چھپی چیز اور انسان کے ظاہر و باطن اور چھوٹے بڑے عمل پر مطلع ہے تو عابد کو اپنی عبادت و استعانت وغیرہ میں کسی غیر اللہ کو شریک ٹھہرانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مشرکین جو (مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى) 39 ۔ الزمر :3) کہا کرتے تھے۔ یہ ان کا اور انکے ہم نواؤں کا جواب ہوا۔ اور پہلے وَاَجَلٌ…
Read the full tafseer →آیت 3 وَہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِ ط
ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں کا خدا کوئی اور ہو زمین کا کوئی اور۔ ہاں فرشتوں کے مختلف طبقات ہیں۔ زمین کے فرشتے ‘ فضا کے فرشتے اور آسمانوں کے فرشتے معین ہیں۔ پھر ہر آسمان کے الگ فرشتے ہیں۔ پھر ملائکہ مقربین ہیں۔ لیکن ذات باری تعالیٰ تو ایک ہی ہے۔
Read the full tafseer →3 اللہ کا ہر جگہ موجود ہونا :۔ انسان کے اوپر آسمان، اس کے نیچے زمین اور ان کے درمیان چاند سورج تارے اور ہوائیں غرض جو کچھ بھی انسان کو نظر آتا ہے ان سب کا انتظام و انصرام اللہ اکیلے کے ہاتھ میں ہے پھر وہ تمہارے ظاہر و باطن حتیٰ کہ دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ تبھی تو وہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے بعض لوگوں کو یہ دھوکہ ہوا کہ اللہ بذات خود ہر جگہ موجود ہے اور بعض نے کہا کہ ہر شے میں موجود ہے جبکہ بہت سی دوسری آیات اور صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اللہ کی ذات ساتوں آسمانوں سے ماوراء عرش پر ہے۔ رہی اللہ کی زمین و آسمان میں اور ہر جگہ اس کی موجودگی تو…
Read the full tafseer →3 ۔ (نہ یہ کہ زمین کے دیوتا اور ہوں اور آسمان کے اور) اس میں رد آگیا بہت سی مشرک قوموں کی اس بنیادی گمراہی کا کہ ہر عالم کے خدایا دیوتا الگ الگ ہیں۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ شبہ نقل کرکے کہ اس سے حق تعالیٰ کی تجیسم ثابت ہوتی ہے۔ اس کے متعدد جوابات دیئے ہیں۔ جوابات اپنی جگہ پر بالکل کافی بلکہ شافی ہیں۔ لیکن جو بنیادی حقیقت یہاں عرض کی گئی، یہ پیش نظر ہو، تو آگے کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ (آیت) ” فی السموت “۔ اور ” فی الارض “۔ میں فی سے یہ مراد ہی نہیں کہ اللہ آسمانوں یا زمین ” میں “ کہیں بیٹھا ہوا ہے۔ بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین سب کا خدا وہی ایک ہے، نہ یہ کہ ہر عالم کے دیوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
ھُوا الذی خَلَقکم مِنْ طِیْنٍ ثمَّ قضٰی اجلاً ، بلاواسطہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا، حضرت ابو موسیٰ اشعری، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک خاص مقدار سے پیدا فرمایا جس میں پوری زمین کے اجزاء شامل کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ اولاد آدم رنگ و روپ اور اخلاق و عادات میں مختلف ہیں۔ یہ تو انسان کی ابتداء آفرینش کا ذکر تھا، اس کے بعد انتہاء کی دو منزلوں کا ذکر ہے، ایک انسان کی شخصی انتہاء جس کو موت کہا جاتا ہے دوسرے پوری نوع انسانی اور اس کے کائناتی خدام کی انتہاء جس کو قیامت کہا جاتا ہے انسان کی شخصی انتہاء کیلئے فرمایا ثمَّ…
Read the full tafseer →وہو اللہ فی السموات وفی الارض اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔
ہُوَضمیرللہ کی طرف راجع ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے اور لفظ اللہ (جو اس جگہ مذکور ہے) ہُوَکی خبر ہے یا بدل ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قل ہو اللّٰہ احد کی طرح ہُوَضمیر شان ہو اور اللہ مبتدا ہو (اور فی السموات خبر ہو) اگر اللہ کو صیغۂ مشتق کہا جائے تو اس کا ترجمہ ہوگا معبود برحق اور فی السمواتکا اس سے تعلق ہوگا یعنی اللہ آسمانوں میں اور زمین میں معبود برحق ہے اور اگر اللہ کو علم کہا جائے تو بتاویل مشتق قرار دے کر یوں ترجمہ کیا جائے گا کہ اللہ ہی آسمانوں میں اور زمین میں اللہ ہے یعنی اس نام سے معروف ہے اور اسی نام سے…
Read the full tafseer →(3) اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں اور وہ ہی معبود برحق زمینوں میں ہے جو تمہاری ظاہری اور پوشیدہ سب باتوں کا اور جو تم نیکیاں اور برائیاں کرتے ہو وہ سب سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ ۭ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال کو ثابت کیا ہے، اس آیت میں اس کے علم کا کامل ہونا ثابت فرمایا ہے، یعنی وہی ہستی ہے جسے آسمانوں اور زمین میں اللہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ آیت تقریباً اس آیت کی ہم معنی ہے : (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْم) [ الزخرف : 84 ]”اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ یعنی آسمانوں اور زمین میں ایک ہی ذات ہے جسے ”اللہ“ کہہ کر پکارا جاتا ہے، جس کی آسمانوں اور زمین دونوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
آیت نمبر : 2 تا 5۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وھوا للہ فی السموت وفی الارض “۔ اس میں سوال یہ ہے کہ وھوا للہ فی السموت وفی الارض کا عامل کیا ہے، اس کے کئی جوابات ہیں :
(1) اس کا مطلب ہے ھو اللہ المعظم او المعبود فی السموت وفی الارض۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ ہی بلند شان والا ہے یا معبود ہے جیسے تو کہتا ہے : زید الخلیفۃ فی الشرق والغرب، یعنی شرق وغرب میں اس کا حکم ہے، یہ معنی بھی جائز ہے، کہ یہ خبر کے بعد خبر ہو، معنی یہ ہوگا وھوا للہ فی السموات وھواللہ فی الارض بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ھو اللہ یعلم سرکم وجھرکم فی السموت وفی الارض فلا یخفی علیہ شیء یعنی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھوالذی خلقکم من طین یعنی آدم (علیہ السلام) (مٹی سے پیدا ہوئے) لفظ آیت ثم قضیٰ اجلا یعنی موت کی مدت لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی قیامت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
(2) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور حاکم نے (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم قضی اجلا یعنی دنیا کی مدت اور دوسرے لفظ پر موت کا مقرر وقت بھی مذکور ہے۔ لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی آخرت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
(3) امام…
Read the full tafseer →وَهُوَ [ اور وہی ] اللّٰهُ [ الہ ہے ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] وَفِي الْاَرْضِ ۭ [ اور زمین میں ] يَعْلَمُ [ وہ جانتا ہے ] سِرَّكُمْ [ تمہارے چھپانے کو ] وَجَهْرَكُمْ [ اور تمہارے نمایاں کرنے کو ] وَيَعْلَمُ [ اور وہ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تَكْسِبُوْنَ [ تم لوگ کمائی کرتے ہو ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ ھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ) (یعنی وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین میں معبود ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ) معنی وصفی سے متعلق صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے اور عبادت کے لائق ہے۔
بعض حضرات نے جار مجرور کو المالک اور المتصرف سے بھی متعلق بتایا ہے جو محذوف ہے اور مطلب یہ ہے وَ ھُوَ الْمَالِکُ وَ الْمُتَصَرِّفُ الْمُدَبِّرُ فِیْھِمَا حَسْبُ مَا یَقْتَضِیْہِ مَشِیْءَۃِ المبینۃ علی الحکم البالغۃ (من روح المعانی ص 89 ج 7)
اللہ تعالیٰ کو ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کا علم ہے
پھر فرمایا (یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَ جَھْرَکُمْ وَ یَعْلَمُ مَا…
Read the full tafseer →اثبات علم باری تعالی۔
قال اللہ تعالی، وھواللہ فی السماوات وفی الارض۔۔ الی۔۔ تکسبون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں صانع مختار کے وجود پر دلیل قائم کی اب اس آیت میں اس کے علم محیط پر دلیل قائم کرتے ہیں کہ جس طرح صانع عالم کی قدرت تمام کائنات کو محیط ہے اسی طرح اس کا علم بھی تمام کائنات کو محیط ہے چناچہ فرماتے ہیں اور وہی ایک معبود برحق ہے آسمانوں میں اور زمین میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تمہارا چھپے اور کھلے کو جانتا ہے خواہ تم کوئی فعل کھلے کرو یا چھپا کر کرو اس کو سب معلوم ہے اور خوب جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو تمہارے عمل کے مطابق تم کو جزا اور سزا دے گا۔
وعید وتہدید براعراض وتکذیب۔
Read the full tafseer →5 لفظ اللہ سے وصف مشہور مراد ہے یعنی فاعل اور متصرف، اب حرف جار لفظ اللہ کے متعلق ہوگا اور ظرفیت کا معنی درست ہوگا۔ اس آیت کی ابتداء میں حصر ہے اس لیے اس کے باقی حصوں میں بھی حصر ہوگا یعنی زمین و آسمان میں وہی متصرف ہے اور وہی تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ یہ صفتیں اللہ کے سوا کسی اور میں نہیں ہیں۔ لہذا اس کے سوا متصرف و کارساز بھی کوئی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی بعض صفات کا ذکر ہوا۔ شرک کی تردید عالم کبیر یعنی تمام کائنات کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور نور ظلمت کا خالق بھی وہی ہے ‘ اس کے باوجود لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو اس کے برابر تسلیم کر کے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چناچہ مجوسی فرقہ والے دو خدائوں کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک نیکی کا خدا یزدان ہے اور بدی کا ہر من ہے یہ لوگ ثنویہ فرقہ والے کہلاتے ہیں۔ ہندوستان کے قدیم مشرک بتیس کروڑ دیوتائوں گو مانتے تھے ‘ ان میں آریہ سماج والوں نے تین خدائوں پر اکتفا کیا ‘ وہ مادہ ‘ روح اور خدا تعالیٰ تینوں کو قدیم مان کر مشرک کے مشرک ہی رہے۔ یہ بھی عیسائیوں کے عقیدہ…
Read the full tafseer →وَہُوَاللہُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ 0ۭ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَہْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ 3
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
سرر (كتم)
والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
1 ؎ یعنی ہر ایک کی موت کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ زندگی معین ہے۔
2 ؎ اور ایک میعاد یعنی قیامت کی جس میں فنا کلی ہوگی اس کے نزدیک مقرر ہے جیسا کہ افراد رجال کی فنائِ جزئی کا وقت مقرر تھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →آیات کا مرکزی مضمون
سورة انعام کی پہلی دو آیتوں میں توحید اور آخرت پر جو مضبوط دلائل دیئے گئے ‘ اس کے بعد کسی اشتباہ کی گنجائش رہتی ہے نہ انکار کی۔ اس لیے کہ اہل دانش کے لیے بھی اس میں غور و فکر کا پورا سامان فراہم کردیا گیا ہے اور عام لوگوں کے لیے خودان کے مسلمات کو دلیل بنا کر اس کے لازمی نتائج کو ان کے سامنے واضح کردیا گیا ہے۔ مگر اس کا کیا کیا جائے ضدی اور متعصب طبیعتیں ‘ بجائے عقل و دانش کی بات ماننے کے ‘ اپنے تعصبات کی اس حد تک اسیر ہوتی ہیں کہ جلدی کوئی بات ان کے دل و دماغ میں اترنے نہیں پاتی۔ جب وہ دلائل کی دنیا میں اپنے آپ کو بےبس محسوس کرتی ہیں تو قسم قسم کے شبہات کا اظہار کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : توحید کے دلائل کا تذکرہ جاری ہے۔
اس سے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق اس کی موت وحیات کا ذکر تھا۔ اب اللہ تعالیٰ یہ بتلانا چاہتا ہے کہ اے انسان تجھے ہوش کے ناخن لینے اور اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کے بعد الگ تھلگ ہو کر گوشہ نشین نہیں ہوا۔ بلکہ جس طرح وہ زمین و آسمان کے چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ سے واقف اور ان کے نظام کو سنبھالے ہوئے ہے اسی طرح وہ انسان کی جلوت و خلوت اور ہر قسم کی نقل و حرکت سے واقف ہے۔ کسب کا لفظ استعمال فرما کر انسان کے کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اسے اپنے فکر و عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے کیونکہ…
Read the full tafseer →نحو و صرف :
آیت 3: وَہُوَ اللّٰہُ ۔ : یہ مبتداء فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِخبر ہے۔ نمبر 1۔ لفظ اللہ کو صیغہ مشتق کہا جائے۔ گویا اس طرح ہوگیا ہو المعبود فیہا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا۔ وہو الذی فی السماء الٰـہٌ وفی الارض الٰہ۔ الزخرف آیت 84۔ نمبر 2۔ اللہ کے لفظ کو علم کہا جائے تو مشتق کی تاویل سے اس طرح ہوگا۔ ہواللّٰہ المعروف بالالٰہِیۃ فیہا۔ وہی اللہ الوہیت کے ساتھ معروف ہے ان دونوں میں۔ نمبر 3۔ اللہ کے لفظ کو علم مان کر ہو الذی یقال لہ اللّٰہ فیہما وہ وہی ہے جس کو ان دونوں میں اللہ کہا جاتا ہے۔ یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَہْرَکُمْ ۔ : یہ دوسری خبر ہے۔ یا ابتدائی کلام ہے۔ یعنی وہ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت نمبر 3, 2
تفسیر : (ھوالذی خلقکم من طین) یعنی آدم (علیہ السلام) کو۔ تمام لوگوں کو یہ خطاب اس وجہ سے کیا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔
آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کیلئے زمین سے مٹی لینے کا واقعہ
سدی (رح) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو زمین کی طرف بھیجا ہ اس کا کچھ حصہ لائیں تو زمین نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے کہ تو میرا کوئی حصہ کم کرے تو جبرئیل (علیہ السلام) خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے اور کچھ نہ لیا ا ور کہا اے میرے رب ! اس نے آپ کی پناہ لی ہے۔ پھر میکائیل (علیہ السلام) کو بھیجا تو وہی معاملہ ہوا پھر موت کے فرشتے کو بھیجا۔ اس نے اللہ کی پناہ مانگی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2 ۔ 3) ۔ ابو داؤد اور ترمذی میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو ایک مٹھی خاک سے جو تمام زمین سے لی گئی ہے بنایا ہے اس واسطے ان کی نسل میں طرح طرح کے لوگ ہیں ہر جگہ کی مٹی کے اثر سے کوئی گورا ہے تو کوئی بالکل کالا ہے کوئی سانولا کوئی بد مزاج، سخت خو، کوئی نیک مزاج 1 ؎، نرم خو ابن حابن نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎۔ کافر اور دھریہ مزاج کے لوگ مرنے کے بعد پھر پیدا ہونے کے خبر قرآن مجید میں سن کر بڑے تعجب سے کہتے تھے کہ { مَنْ یُحْیِ الْعِظاَمَ وَ ھِیَ رَمِیْمٌ } (36۔ 78) جس کا مطلب یہ ہے کہ ہڈیوں کی مٹی ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت 2
یعنی آسمانوں میں اور زمین میں وہی معبود ہے۔ آسمان اور زمین کے رہنے والے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں، تمام مقرب فرشتے، انبیاء ومرسلین، صدیقین، شہداء اور صالحین سب اس کی عظمت کے سامنے جھکے ہوئے اور اس کے غلبہ و جلال کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور تمہارے اعمال بھی جانتا ہے اس لئے تم اس کی نافرمانی سے بچو اور ایسے اعمال میں رغبت کرو جو تمہیں اس کے قریب کردیں اور اس کی رحمت کا مستحق بنادیں اور ہر ایسے عمل سے بچو جو تمہیں اس سے اور اس کی رحمت سے دور کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
4 انسان کا خود اپنا وجود دلائل توحید کا ایک عظیم الشان مجموعہ : سو توحید خداوندی کے عظیم الشان دلائل خود انسان کے اپنے وجود کے اندر موجود ہیں۔ سو اسی وحدہٗ لاشریک نے تم سب کو اس مٹی سے پیدا فرمایا کہ تم سب آدم کی نسل ہو۔ اور آدم کی تخلیق اس نے اسی مٹی سے فرمائی۔ نیز اس طرح کہ تمہارا مادئہ تولید خون سے بنتا ہے جو کہ تیار اور حاصل ہوتا ہے ان مختلف غذاؤں سے جو کہ سب کی سب بالواسطہ یا بلا واسطہ زمین سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ پھر اس وحدہ لا شریک کی اس بےمثال قدرت کا یہ مظہر دیکھو کہ کہاں پاؤں تلے روندی جانے والی یہ بےحس و بےجان مٹی اور کہاں اس سے وجود میں آنے والا اور بےپناہ صلاحیتوں کا مالک یہ انسان ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اللہ کی قدرت اور طاقت
تشریح : ان آیات میں اللہ کے علیم وخبیر ہونے کی دلیل دی گئی ہے یعنی علم رکھنے والا اور خبر رکھنے والا بتایا گیا ہے جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ ظاہر پوشیدہ، اچھائی برائی اللہ سے کوئی بھی چیز اور کوئی راز پوشیدہ نہیں وہ سب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر افسوس سے کرتے ہیں جو سب کچھ دیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں مگر اپنے رسم و رواج کی وجہ سے نہ غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے غلط عقیدوں سے ہٹ کر اللہ وحدہٗ لاشریک کی طرف مڑتے ہیں۔ یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہی ہے کہ تمام نشانیاں دیکھ کر بھی کفر و شرک سے توبہ نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔
اسرار و معارف :
توحید کے عقلی دلائل :
انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی…
Read the full tafseer →ف 9 اوپر کی آیتوں میں کمال قدرت کا ثابت ہے علما سلف سے مقول ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے تو عرش پر لیکن اس کا علم ہر جگہ ہے، صحابہ وتابعین اور اہل سنت کا یہی اعتقاد ہے صرف بعض بدعتی فرقے ہی اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کے منکر ہیں اور یہ گمراہو کا اعتقاد ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(6:2) قصی۔ مقرر کردیا۔ ماضی واحد مذکر غائب قضاء مصدر۔ قضاء میں فیصلہ کردینا یا کرلینا۔ کسی بات کے متعلق آخری ارادہ یا حکم یا عمل کو ختم کردینا کا مفہوم ضرور موجود ہوتا ہے۔
سیاق کی مناسبت سے مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔ بنانا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ حکم جاری کرنا۔ حکم دینا۔ مقدر کرنا۔ قطعی وحی بھیج کر اطلاع دینا۔ مقرر کرنا۔ حاجت پوری کرکے قطع تعلق کرلینا۔ فارغ ہونا۔ مرجانا۔ مار ڈالنا۔ ان سے معانی کے لئے قضاء کا استعمال قرآن مجید میں ہوا ہے اور اس آیۃ میں مراد ” مقرر کی “ ہے۔
اجلا۔ میعاد قضی اجلا۔ یعنی اس نے موت کے وقت کا فیصلہ کر چھوڑا ہے۔ اجلا مفعول ہے قضی کا۔
واجل مسمی عندہ۔ اجل۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 3 :
جعل (اس نے بنایا) ‘ الظلمت (ظلمۃ) ۔ اندھیرے ‘ النور (روشنی) ‘ یعدلون (عدل) برابر کرتے ہیں۔ (شرک کرتے ہیں) ‘ طین (مٹی) ‘ قضی (مقرر کردیا۔ فیصلہ کردیا) ‘ اجل (ایک مدت) ‘ مسمی (مقرر۔ متعین) تمترون (تم شک کرتے ہو) سر (بھید ‘ چھپی ہوئی چیز) ‘ جھر (کھلاہوا۔ ظاہر) تکسبون (تم کماتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کو دیکھنے اس پر غور کرنے اور پھر دل سے تعریف کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ایسا کون ہے جو آسمان و زمین کی ٹھہری ہوئی اور حرکت کرتی ہوئی چیزوں کو دیکھے ‘ اس آنے والی اور جانے والی تاریکیوں اور روشنیوں کو دیکھے ‘ اس سکونی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
شان نزول : آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ایک مٹھی خاک سے جو تمام زمین سے لی گئی ہے بنایا ہے، اسی واسطے ان کی نسل میں طرح طرح کے رنگ اور مزاج کے لوگ ہیں۔ کافر اور دہریئے لوگ مرنے کے بعد پھر پیدا ہونے کی خبر قرآن شریف میں سن کر بڑے تعجب سے کہتے تھے کہ ہڈیوں کی متی ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ پیدائش کیونکر ہوگی۔ ان کے قائل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو جتلادیا کہ آخر وہ ہڈیاں گل سڑکر ایسی مٹی تو ہوں گی، جس طرح کہ مٹی آگے تھی۔ جس مٹی سے ایک پتلا ایسا بنایا گیا جس میں کروڑہا پتلوں کے بن جانے کی صلاحیت رکھ دی گئی، جس صلاحیت کے اثر سے آج تک اس پتلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–8
[3] یعنی فرشتے کا نزول دنیا میں اس طرح کہ کافر تک کو نظر آجائے۔ دستور الٰہی میں نزول عذاب کے وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر مہلت کا امکان کہاں ؟ مہلت اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردہ غیب میں پوشیدہ ہے۔ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا اور حقیقت ظاہر ہوگئی، اس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا، اس لئے کہ دنیا کی زندگی امتحان کا زمانہ ہے اور امتحان اس چیز کا ہے کہ حقیقت کو دیکھے بغیر، غور و فکر سے انسان اس کا ادراک کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ مدت امتحان اسی وقت تک ہے جب تک غیب غیب ہے۔ جیسے ہی غیب ظاہر ہوگیا تو اس کے ساتھ مدت امتحان بھی ختم ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
(ف 1)
مقصد یہ ہے کہ سب مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں تم میں کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں سب خدا کے حضور میں عاجز اور محتاج ہیں ۔
اس لئے باہمی تفافس وکبر کو چھوڑ دو ، کسی انسان کے سامنے سر نہ جھکاؤ ، اور سب کو برابر سمجھو مٹی سے پیدا ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری زندگی یکسر ارضیت پر موقوف ہے ، نباتات سے لے کر حیوانات تک سب چیزیں مٹی کی محتاج ہیں اس لئے تمہاری تکوین میں مٹی کو بہت زیادہ دخل حاصل ہے لہذا پیشگاہ خداوندی میں ہمیشہ خشوع وخصوع کا اظہار کرو ، اور اپنی فطری بےکسی اور بےمائیگی کو بھول نہ جاؤ ۔
حل لغات :
تمترون ۔ مادہ امتراء بمعنی شک کرنا ۔
انبوائ : جمع نباء ، بمعنی خبرواطلاع ۔
Read the full tafseer →-3 اور وہی معبود برحق ہے آسمانوں میں اور وہی معبود برحق ہے زمین میں وہ تمہارے پوشیدہ اور چھپے احوال کو بھی جانتا ہے اور تمہارے کھلے اور ظاہر احوال کو بھی خوب جانتا ہے اور جو کچھ تم عمل کرتے رہتے ہو خواہ وہ پوشیدہ عمل ہوں یا علانیہ ہوں ان سب کو بھی جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 2۔ توحید تینوں آتیوں کا مقصود مشترک ہے یعنی عبادت کے لائق وہ ہے جس میں یہ صفات ہوں کہ وہ خالق افق وآفاق کا ہے اور عالم غیب و شہادت کا ہو ارآخر کی دوآیتوں میں بعث کی خبر اور اس کے امتناع کا دفع اور محاسبہ علی الکسب پر تنبیہ بھی ہے جس سے شرک پر وعید ثابت ہوگئی اور دوسرے اجل کے علم کو اپنے ساتھ مخصوص فرمایا کیونکہ پہلے اجل کا گو قطعی علم نہ سہی مگر ظنی طور پر علامات سے معلوم ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ وہ ذات ہے جو انسانوں کی ہر بات سے واقف ہے اور کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں :
5: وَ ہُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ 1ؕ ” وہی اللہ ہے آسمانوں کا بھی اور زمین کا بھی “ ” ھومبتدا اللہ “ ، خبر اور ” فی السموات الخ “ اللہ کے متعلق۔ پچھلی آیات کی مزید تفصیل فرمادی کہ زمین و آسمان کی ہرچیز کا خالق ومالک زندہ کرنے والا ، مارنے والا ، رزق دینے والا ، زندگی کی ساری ضرورتیں پوری کرنے والا اور امور کا ئنات کی تدبیر کرنے والا بغیر شرکت غیرے وہی اللہ تعالیٰ ہے۔ زیر نظر آیت نے ساری مشرک قوموں کا رد کردیا جو مختلف اغراض کے لئے الگ الگ دیوتا قرار دیتے ہیں ۔ امام رازی (رح) نے اس آیت پر شبہ پیدا…
Read the full tafseer →The third verse contains the consequential outcome of what was said in the first two verses. It declares that Allah is the only Being who is worthy of worship and obedience in all the heavens and the earth, and He is the One who knows everything human beings conceal or reveal and, particularly, everything they say or do.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2. The elements composing the human organism are all, without exception, derived from the earth. Hence it is said that man has been created out of clay.
3. This alludes to the Hour of Judgement when human beings, regardless of the age in which they lived, will be broought back to life and summoned to render an account before their Lord.
Read the full tafseer →