Explained with ayahs 1–3
اللہ کی بعض صفات
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے، جیسے فرمان ربانی آیت (عن الیمین و الشمائل) میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت (وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) 6۔ الانعام :153) میں یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
سورة الْاَنْعَام 2
انسانی جسم کے تمام اجزاء زمین سے حاصل ہوتے ہیں، کوئی ایک ذرہ بھی اس میں غیر ارضی نہیں ہے، اس لیے فرمایا کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔
سورة الْاَنْعَام 3
یعنی قیامت کی گھڑی جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان از سر نو زندہ کیے جائیں گے اور حساب دینے کے لیے اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے۔
Read the full tafseer →پہلی آیت میں عالم کبیر یعنی پوری دنیا کی عظیم ترین چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق و محتاج بتلا کر انسان کو صحیح عقیدہ توحید کا سبق دیا گیا ہے، اس کے بعد دوسری آیات میں انسان کو بتلایا ہے کہ تیرا وجود خود ایک عالم صغیر ہے، اگر اسی کی ابتداء و انتہاء اور بودوباش پر نظر کرے تو عقیدہ توحید ایک واضح حقیقت بن کر سامنے آجائے، اس میں ارشاد فرمایا
هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا، یعنی اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، کہ آدم ؑ کو مٹی کے خمیر سے پیدا فرما کر ان میں جان ڈال دی اور عام انسانوں کی غذا مٹی سے نکلتی ہے، غذا سے نطفہ، اور نطفہ سے انسان کی تخلیق عمل میں…
Read the full tafseer →خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ سے مقصود انسان کی ابتدائی خلقت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ فرمایا“ وبدا خلق الانسان من طین : اور انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا ”(سجدہ :7) تمام ارضی مخلوقات کی زندگی کا آغاز مٹی ہی سے ہوا ہے۔ اس مضمون کو قرآن نے بار بار مختلف شکلوں سے بیان کیا ہے اور اس سے عام طور پر دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، ایک تو انسان کے بےحقیقتی کی طرف کہ مٹی سے پیدا ہونے والی مخلوق کو اپنی ہستی پر زیادہ مغرور نہیں ہونا چاہیے، دوسرے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے پر کہ جب انسان کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا اور اس پیدا کرنے میں اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو اب دوبارہ اس کے پیدا کرنے سے وہ…
Read the full tafseer →2۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم ؑ کو، جو تمہاری اصل ہیں اور جن سے تم سب نکلے ہو۔ اس کا ایک دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے تم جو خوراک اور غذائیں کھاتے ہو، سب زمین سے پیدا ہوتی ہیں اور انہیں غذاؤں سے نطفہ بنتا ہے جو رحم مادر میں جا کر تخلیق انسانی کا باعث بنتا ہے۔ اس لحاظ سے گویا تمہاری پیدائش مٹی سے ہوئی۔
2۔ 2 ٰ یعنی موت کا وقت۔
2۔ 3 یعنی آخرت کا وقت، اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ گویا پہلی اجل سے مراد پیدائش سے لے کر موت تک انسان کی عمر ہے اور دوسری اجل مسمٰی ہے۔ مراد انسان کی موت سے لے کر وقوع قیامت تک دنیا کی کل عمر ہے، جس کے بعد وہ زوال و فنا سے دوچار ہوجائے گی اور ایک دوسری دنیا یعنی آخرت کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
1: یعنی ایک میعاد تو ہر انسان کی انفرادی زندگی کی ہے کہ وہ کب تک جئے گا، شروع میں تو اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا، مگر جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو ہر ایک کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی عمر کتنی تھی۔ لیکن مرنے کے بعد جو دوسری زندگی آنے والی ہے وہ کب آئے گی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →سورة کا آغاز اس مضمون سے ہوتا ہے کہ مشرکین جو اللہ کے ساتھ الہ ٹھہراتے ہیں ان کا موقف نہایت ہی بودا ہے حالانکہ توحید کے دلائل ان کے سامنے ہیں ‘ ہر طرف سے انہیں گھیرے ہوئے ہیں اور وہ اپنے نفوس میں آفاق میں انہیں دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ سورة ہمارا استقبال ایک واضح حقیقت الوہیت کے ساتھ کرتی ہے اور چند جھلکیوں کے ذریعے اس پوری کائنات کے اوراق الٹ دیتی ہے ۔ صرف تین جھلکیوں میں ہم اس پوری کائنات کی تہ تک اتر جاتے ہیں اور اس کی وسعت کو اپنے دائرے میں لے لیتے ہیں ۔
یہ تین جھلکیاں ہیں ۔ ایک جھلکی میں اس پوری کائنات کی تخلیق دکھائی جاتی ہے ‘ دوسری میں پوری انسانیت کی تخلیق دکھائی جاتی ہے اور تیسری مین ان…
Read the full tafseer →1 اوپر " عالم کبیر " کی پیدائش کا ذکر تھا یہاں " عالم صغیر " (انسان) کی خلقت کو بیان فرماتے ہیں کہ دیکھو شروع میں بےجان مٹی سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا تیار کر کے کس طرح حیات اور کمالات انسانی فائض کئے اور آج بھی مٹی سے غذائیں نکلتی ہیں، غذاؤں سے نطفہ اور نطفہ سے انسان بنتے رہتے ہیں۔ غرض اس طرح تم کو عدم سے وجود میں لائے۔ پھر ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر کردیا جبکہ آدمی دوبارہ اس مٹی میں جا ملتا ہے جس سے پیدا کیا گیا تھا۔ اسی پر قیاس کرسکتے ہو کہ " عالم کبیر " کی فنا کا بھی ایک وقت مقرر ہے جسے " قیامت کبریٰ " کہتے ہیں۔ " قیامت صغریٰ " یعنی شخصی موتیں چونکہ ہمیں پیش آتی رہتی ہیں ان کا علم…
Read the full tafseer →آیت 2 ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً ط۔
یعنی ہر شخص جس کو اللہ نے دنیا میں بھیجا ہے اس کا اس دنیا میں رہنے کا ایک وقت معین ہے۔ اس اجل سے مراد اس کی موت کا وقت ہے۔
وَاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ
یعنی ایک تو ہے انفرادی موت کا وقت ‘ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا : مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ 1 جس کو موت آگئی اس کی قیامت تو قائم ہوگئی۔ جبکہ ایک اس دنیا کی اجتماعی موت کا مقررہ وقت ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے پاس رکھا ہے ‘ کسی اور کو نہیں دیا۔
Read the full tafseer →2 دوسری دلیل :۔ یعنی ابو البشر سیدنا آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا۔ پھر تمہاری تمام غذائی ضروریات اسی مٹی سے پوری ہو رہی ہیں۔ پھر مرنے کے بعد بھی تم اسی مٹی میں مل جاؤ گے گویا اس نے تمہیں ایک بےجان چیز سے پیدا کیا اور تمہیں زندگی بخشی پھر اسی طرح زندہ کو بےجان چیز میں مدغم کر دے گا۔ پھر کیا تمہیں اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ دوبارہ تمہیں اسی مٹی سے اٹھائے گا اور ایسی زندگی بخشنے پر وہ قادر ہے۔ لہذا اگر سوچو تو تمہیں نہ اللہ کے بارے میں شک ہونا چاہیے نہ قیامت کے بارے میں۔
اس آیت میں پہلے لفظ اجل سے مراد انسان کی موت تک کا وقت ہے جو کہ ہر انسان کے لیے قیامت صغریٰ ہے چناچہ آپ نے فرمایا ہے…
Read the full tafseer →2 ۔ (مسئلہ بعث بعد الموت میں) (آیت) ” خلقکم “۔ ضمیر مخاطب نوع انسانی کی جانب ہے۔ (آیت) ” ثم انتم “۔ یعنی اتنے کھلے ہوئے دلائل کے باوجود بھی، معناہ ان بعد ظھور مثل ھذا الحجۃ الباھرۃ انتم تمترون (کبیر) (آیت) ” قضی اجلا “۔ وقت مقرر کیا سب کی موت کا۔ بقضاء الدنیا قالہ ابن عباس و مجاھد (قرطبی) قال الضحاک اجلا فی الموت (قرطبی) (آیت) ” اجل مسمی عندہ “۔ یعنی یہ دوسرا معین وقت اسی کو معلوم ہے۔ اس سے مراد وقت بعثت ہے۔ قال ابن عباس و مجاھد لابتداء الاخرۃ (قرطبی) قال الضحاک لاجل القیامۃ (قرطبی) (آیت) ” تمترون “۔ یعنی وہم پیدا کر کرکے کج بحثی کیا کرتے ہو۔ التماری المجادلۃ علی مذھب الشک (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
ھُوا الذی خَلَقکم مِنْ طِیْنٍ ثمَّ قضٰی اجلاً ، بلاواسطہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا، حضرت ابو موسیٰ اشعری، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کی ایک خاص مقدار سے پیدا فرمایا جس میں پوری زمین کے اجزاء شامل کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ اولاد آدم رنگ و روپ اور اخلاق و عادات میں مختلف ہیں۔ یہ تو انسان کی ابتداء آفرینش کا ذکر تھا، اس کے بعد انتہاء کی دو منزلوں کا ذکر ہے، ایک انسان کی شخصی انتہاء جس کو موت کہا جاتا ہے دوسرے پوری نوع انسانی اور اس کے کائناتی خدام کی انتہاء جس کو قیامت کہا جاتا ہے انسان کی شخصی انتہاء کیلئے فرمایا ثمَّ…
Read the full tafseer →ہو الذی خلقکم من طین اللہ وہی ہے جس نے تم کو (یعنی تمہارے باپ آدم کو ابتداء میں) گارے سے بنایا۔ یا کم سے پہلے اب کا لفظ محذوف ہے۔ تمہارے باپ آدم کو گارے سے بنایا (اس صورت میں مجاز فی الحذف ہوگا)
سدی نے کہا کہ اللہ نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو زمین پر کچھ مٹی لانے کے لئے بھیجا۔ زمین نے جبرئیل ( علیہ السلام) سے کہا میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں اس بات سے کہ تو میرا کچھ حصہ کم کر دے (یعنی میرے بدن کا کچھ حصہ مجھ سے جدا کرلے) جبرئیل ( علیہ السلام) نے یہ سن کر کچھ نہیں لیا اور لوٹ کر عرض کیا اے مالک زمین نے مجھ سے تیری پناہ مانگی ( تھی اس لئے میں خالی لوٹ آیا) پھر اللہ نے میکائیل کو بھیجا زمین نے ان…
Read the full tafseer →(2) اس ذات نے تمہیں آدم سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کا دنیا کو پیدا کیا اور اس کی مدت فنا بنائی اور مخلوق کو پیدا کرکے ان کی میعاد موت کو قرار دیا اور آخرت کے آنے کی مدت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، جس میں نہ موت ہے اور نہ فنا، اس کے بعد بھی اے مکہ والو تم اللہ تعالیٰ کے بارے اور مرنے کے بعد زندہ ہونے میں شک کرتے ہو،
Read the full tafseer →هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ : تمہیں مٹی سے پیدا کیا، یعنی آدم ؑ کو، باقی سب لوگ چونکہ آدم ہی کی اولاد ہیں، اس لیے گویا سبھی مٹی سے پیدا ہوئے۔ ”طِيْنٍ“ میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”حقیر مٹی“ کہا گیا ہے۔
ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا ۭ: پھر ایک مدت مقرر کی، یعنی موت کا وقت اور ایک اور مدت اس کے ہاں مقرر ہے، یعنی قیامت کا وقت، جسے صرف وہ جانتا ہے، اس کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں۔ پھر بھی تم شک کرتے ہو، یعنی اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جس نے مٹی کی ایک مٹھی سے تمہیں پیدا کیا، وہ دوبارہ بھی تمہیں زندہ کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 2۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ھوالذی خلقکم من طین “۔ یہ آیت خبر ہے، اس کے مفہوم میں دو قول ہیں : ایک وہ ہے جو مشہور ہے اور اکثر علماء کی یہی رائے ہے اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور خلق سے مراد آپ کی نسل ہے اور فرع اور اپنے اصل کی طرف منسوب ہوتی ہے اسی وجہ سے فرمایا (آیت) ” خلقکم “ جمع کی ضمیر ذکر فرمائی آپ کو خطاب فرمایا جب کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں، یہ حسن، قتادہ، ابن ابی نجیح، سدی، ضحاک، اور ابن زید [ کا قول ہے دوسرا یہ ہے کہ نطفہ (3) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 266 دارالکتب العلمیہ)
کو حقیقت میں اللہ نے مٹی سے پیدا فرمایا، پھر اسے تبدیل کیا حتی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھوالذی خلقکم من طین یعنی آدم (علیہ السلام) (مٹی سے پیدا ہوئے) لفظ آیت ثم قضیٰ اجلا یعنی موت کی مدت لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی قیامت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
(2) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور حاکم نے (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم قضی اجلا یعنی دنیا کی مدت اور دوسرے لفظ پر موت کا مقرر وقت بھی مذکور ہے۔ لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی آخرت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
(3) امام…
Read the full tafseer →هُوَ [ وہ ، ] الَّذِيْ [ وہ ہے جس نے ] خَلَقَكُمْ [ تم لوگوں کو پیدا کیا ] مِّنْ طِيْنٍ [ ایک گارے سے ] ثُمَّ [ پھر ] قَضٰٓى [ اس نے فیصلہ کیا ] اَجَلًا ۭ [ ایک مدت کا ] وَاَجَلٌ مُّسَمًّى [ اور کوئی معین وقت ] عِنْدَهٗ [ اس کے پاس ہے ] ثُمَّ [ پھر (بھی ) ] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] تَمْتَرُوْنَ [ شک کرتے ہو ]
Read the full tafseer →بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو زمین کے مختلف حصوں سے مٹی جمع فرمائی۔ اس مٹی میں پانی ڈال دیا گیا توطین (کیچڑ) ہوگئی۔ پھر وہ کیچڑ پڑی رہی تو سڑ گئی پھر اس سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنایا گیا۔ وہ پتلا سوکھ گیا تو بجنے والی مٹی ہوگئی۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی گئی۔ چونکہ یہ مختلف ادوار اس مٹی پر گذرے اس لئے انسان کی تخلیق بیان کرتے ہوئے کبھی تُرَابٍٍ کبھی طِیْنٍ اور کبھی حَمَاٍ مَّسْنُوْنِ فرمایا۔
تخلیق انسانی بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (ثُمَّ قَضآی اَجَلًا) (پھر اجل مقرر فرما دی) اس سے موت کا وقت مراد ہے جو ہر فرد کے لئے مقرر ہے اس سے…
Read the full tafseer →دلیل دیگر بروجود صانع۔
قال اللہ تعالی، ھوالذی خلقکم من طین۔۔۔ الی۔۔۔ تمترون۔
ربط) ۔ یہ اثبات صانع کی دوسری دلیل ہے چناچہ فرماتے ہیں خدا وہی ہے جس نے تم کو بواسطہ آدم (علیہ السلام) کے مٹی سے پیدا کیا جس سے پستی میں بڑھ کر کوئی چیز نہیں پھر ہر ایک کی حیات اور زندگی کے لیے ایک وقت مقرر کردیا جس میں نہ کمی ہوسکتی ہے اور نہ زیادتی اور سارے عالم کی دوبارہ زندہ ہونے کی جو مدت مقرر فرمائی وہ اسی کے نزدیک ہے یعنی اس کو معلوم ہے اس کے سوا کسی کو اس مدت کا علم نہیں یعنی خود تمہارا اپنا ہی وجود وجود صانع کے لیے بھی دلیل ہے اور ثبوت قیامت کے بھی دلیل ہے مگر تعجب ہے کہ تم ایسے قوی اور محکم دلائل کے ہوتے…
Read the full tafseer →4 اس میں حصر ہے۔ یعنی اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے۔ اس طرح اس آیت کے باقی حصوں میں بھی حصر ہے۔ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ یعنی مقررہ اجل کی اسی ہی کو خبر ہے اور اس کا علم اسی کے پاس ہے۔ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ۔ ثُمَّ یہاں بھی استبعاد کے لیے ہے تمترون۔ مِرْیَۃٌ سے ہے یا مِرَاءٌ سے پہلی صورت میں اس کے معنی ہوں گے۔ پھر تم شک کرتے ہو اور دوسری صورت میں پھر تم جھگڑا کرتے ہو تشکرون من المریۃ او تجادلون من المراء و معنی ثم استبعاد (مدارک ج 2 ص 3) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی بعض صفات کا ذکر ہوا۔ شرک کی تردید عالم کبیر یعنی تمام کائنات کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور نور ظلمت کا خالق بھی وہی ہے ‘ اس کے باوجود لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو اس کے برابر تسلیم کر کے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چناچہ مجوسی فرقہ والے دو خدائوں کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک نیکی کا خدا یزدان ہے اور بدی کا ہر من ہے یہ لوگ ثنویہ فرقہ والے کہلاتے ہیں۔ ہندوستان کے قدیم مشرک بتیس کروڑ دیوتائوں گو مانتے تھے ‘ ان میں آریہ سماج والوں نے تین خدائوں پر اکتفا کیا ‘ وہ مادہ ‘ روح اور خدا تعالیٰ تینوں کو قدیم مان کر مشرک کے مشرک ہی رہے۔ یہ بھی عیسائیوں کے عقیدہ…
Read the full tafseer →ہُوَالَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا 0ۭ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَہٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ 2
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
1 ؎ یعنی ہر ایک کی موت کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ زندگی معین ہے۔
2 ؎ اور ایک میعاد یعنی قیامت کی جس میں فنا کلی ہوگی اس کے نزدیک مقرر ہے جیسا کہ افراد رجال کی فنائِ جزئی کا وقت مقرر تھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً ط وَاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ۔
(وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت ٹھہرائی اور مدت مقررہ اسی کے علم میں ہے پھر تعجب ہے کہ تم کج بحثیاں کرتے ہو) (الانعام : 2)
انسان کی حقیقت
اس آیت کریمہ میں مختلف حقائق کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ سب سے پہلی حقیقت یہ کہ اللہ جو ساری کائنات کا خالق ہے ‘ وہی اے انسانو ! تمہارا بھی خالق ہے۔ لیکن ذرا اس کے کمال تخلیق کو ملاحظہ کرو کہ اس نے تمہیں مٹی سے بنایا۔ جیسے باقی ارضی مخلوقات کا آغاز مٹی سے ہی ہوا ‘ لیکن انسان کو بطور خاص اس بات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : جس میں توحید کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔
جیسا کہ حدیث شریف کے حوالے سے پہلی آیت میں بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں سب سے پہلے مٹی کو پیدا فرمایا۔ اب ارشاد ہوا کہ اے انسان ہم نے اسی مٹی سے تمہیں پیدا کیا ہے۔ تخلیق انسانیت کے پہلے مرحلہ کا ذکر کرنے کے بعد اجل کا ذکر کیا ہے۔ اجل کا معنی وہ مدت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان اور ہر چیز کی مقرر کر رکھی ہے۔ جسے دو حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی اجل سے مراد انسان اور ہر چیز کی ابتدا اور موت ہے دوسری اجل کا مفہوم قیامت لیا گیا ہے دونوں قسم کی اجل کا ایک وقت مقرر ہے جس میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں…
Read the full tafseer →خالق وہی پھر بھی شک میں پڑے ہیں :
آیت 2: ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ۔ من یہ ابتدائے غایت کے لیے ہے۔ یعنی ابتداء خلق اصلکم ای ٰادم منہ تمہارے اصل آدم ( علیہ السلام) کی پیدائش اسی سے کی۔ ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً پھر مدت موت کا فیصلہ کیا۔ وَاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ وقت معین سے قیامت مراد ہے۔ نمبر 2۔ پہلے اجل سے مراد پیدائش سے موت تک اور دوسرے اجل سے موت وبعث کے مابین اور وہ برزخ ہے۔ نمبر 3۔ اول نیند ٗ ثانی موت۔ نمبر 4۔ ثانی سے بھی اول ہی مراد ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے و ہواجل مسمی ای معلوم وہ وقت مقرر یعنی معلوم ہے۔ : اجل مسمی مبتداء اور خبر عندہٗ ہے اور مبتداء کو نکرہ ہونے کے باوجود مقدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت نمبر 3, 2
تفسیر : (ھوالذی خلقکم من طین) یعنی آدم (علیہ السلام) کو۔ تمام لوگوں کو یہ خطاب اس وجہ سے کیا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔
آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کیلئے زمین سے مٹی لینے کا واقعہ
سدی (رح) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو زمین کی طرف بھیجا ہ اس کا کچھ حصہ لائیں تو زمین نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے کہ تو میرا کوئی حصہ کم کرے تو جبرئیل (علیہ السلام) خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے اور کچھ نہ لیا ا ور کہا اے میرے رب ! اس نے آپ کی پناہ لی ہے۔ پھر میکائیل (علیہ السلام) کو بھیجا تو وہی معاملہ ہوا پھر موت کے فرشتے کو بھیجا۔ اس نے اللہ کی پناہ مانگی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2 ۔ 3) ۔ ابو داؤد اور ترمذی میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو ایک مٹھی خاک سے جو تمام زمین سے لی گئی ہے بنایا ہے اس واسطے ان کی نسل میں طرح طرح کے لوگ ہیں ہر جگہ کی مٹی کے اثر سے کوئی گورا ہے تو کوئی بالکل کالا ہے کوئی سانولا کوئی بد مزاج، سخت خو، کوئی نیک مزاج 1 ؎، نرم خو ابن حابن نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎۔ کافر اور دھریہ مزاج کے لوگ مرنے کے بعد پھر پیدا ہونے کے خبر قرآن مجید میں سن کر بڑے تعجب سے کہتے تھے کہ { مَنْ یُحْیِ الْعِظاَمَ وَ ھِیَ رَمِیْمٌ } (36۔ 78) جس کا مطلب یہ ہے کہ ہڈیوں کی مٹی ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آیت 2
یعنی آسمانوں میں اور زمین میں وہی معبود ہے۔ آسمان اور زمین کے رہنے والے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں، تمام مقرب فرشتے، انبیاء ومرسلین، صدیقین، شہداء اور صالحین سب اس کی عظمت کے سامنے جھکے ہوئے اور اس کے غلبہ و جلال کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ تمہارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور تمہارے اعمال بھی جانتا ہے اس لئے تم اس کی نافرمانی سے بچو اور ایسے اعمال میں رغبت کرو جو تمہیں اس کے قریب کردیں اور اس کی رحمت کا مستحق بنادیں اور ہر ایسے عمل سے بچو جو تمہیں اس سے اور اس کی رحمت سے دور کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
4 انسان کا خود اپنا وجود دلائل توحید کا ایک عظیم الشان مجموعہ : سو توحید خداوندی کے عظیم الشان دلائل خود انسان کے اپنے وجود کے اندر موجود ہیں۔ سو اسی وحدہٗ لاشریک نے تم سب کو اس مٹی سے پیدا فرمایا کہ تم سب آدم کی نسل ہو۔ اور آدم کی تخلیق اس نے اسی مٹی سے فرمائی۔ نیز اس طرح کہ تمہارا مادئہ تولید خون سے بنتا ہے جو کہ تیار اور حاصل ہوتا ہے ان مختلف غذاؤں سے جو کہ سب کی سب بالواسطہ یا بلا واسطہ زمین سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ پھر اس وحدہ لا شریک کی اس بےمثال قدرت کا یہ مظہر دیکھو کہ کہاں پاؤں تلے روندی جانے والی یہ بےحس و بےجان مٹی اور کہاں اس سے وجود میں آنے والا اور بےپناہ صلاحیتوں کا مالک یہ انسان ؟…
Read the full tafseer →انسان کی پیدائش
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، مختارِ کل ہونے کی دلیل اور قیامت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سیدنا آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے مٹی کا ایک پتلا بنایا اور اس میں روح پھونک دی۔ دراصل مٹی کے تمام اجزا اور خاصیتیں انسانی جسم میں موجود ہیں۔ اس لیے مٹی اور زمین کا تعلق انسان کی پیدائش، نشوونما اور بقا کے ساتھ بہت گہرا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا تعلق زمین اور مٹی کے ساتھ اتنا ہی گہرا اور ضروری ہے جتنا کہ پھل، پھول اور درخت کا تعلق مٹی کے ساتھ ہے۔ بیشک ہم ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں مگر ہمارے جسم کے تمام اجزا وہی ہوتے ہیں جو اجزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔
اسرار و معارف :
توحید کے عقلی دلائل :
انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی حضرت آد م ( علیہ السلام) کو باقی سب لوگ چونکہ آدم ہی کی اولاد ہیں اس لیے گویا سب مٹی سے پیدا ہوئے (کذافی القرطبی)8 میعاد یعنی فنا کا وقت مقرر کردیا اور دوسراوعدہ اس کے نزددیک قرار پاچکا ہے یعنی اللہ کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں پھر تم شک کرتے یعنی اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جس نے مشت خاک سے تم پیدا کیا وہ دوبارہ تم کو زندہ کرسکے گا، وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(6:2) قصی۔ مقرر کردیا۔ ماضی واحد مذکر غائب قضاء مصدر۔ قضاء میں فیصلہ کردینا یا کرلینا۔ کسی بات کے متعلق آخری ارادہ یا حکم یا عمل کو ختم کردینا کا مفہوم ضرور موجود ہوتا ہے۔
سیاق کی مناسبت سے مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔ بنانا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ حکم جاری کرنا۔ حکم دینا۔ مقدر کرنا۔ قطعی وحی بھیج کر اطلاع دینا۔ مقرر کرنا۔ حاجت پوری کرکے قطع تعلق کرلینا۔ فارغ ہونا۔ مرجانا۔ مار ڈالنا۔ ان سے معانی کے لئے قضاء کا استعمال قرآن مجید میں ہوا ہے اور اس آیۃ میں مراد ” مقرر کی “ ہے۔
اجلا۔ میعاد قضی اجلا۔ یعنی اس نے موت کے وقت کا فیصلہ کر چھوڑا ہے۔ اجلا مفعول ہے قضی کا۔
واجل مسمی عندہ۔ اجل۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 3 :
جعل (اس نے بنایا) ‘ الظلمت (ظلمۃ) ۔ اندھیرے ‘ النور (روشنی) ‘ یعدلون (عدل) برابر کرتے ہیں۔ (شرک کرتے ہیں) ‘ طین (مٹی) ‘ قضی (مقرر کردیا۔ فیصلہ کردیا) ‘ اجل (ایک مدت) ‘ مسمی (مقرر۔ متعین) تمترون (تم شک کرتے ہو) سر (بھید ‘ چھپی ہوئی چیز) ‘ جھر (کھلاہوا۔ ظاہر) تکسبون (تم کماتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کو دیکھنے اس پر غور کرنے اور پھر دل سے تعریف کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ایسا کون ہے جو آسمان و زمین کی ٹھہری ہوئی اور حرکت کرتی ہوئی چیزوں کو دیکھے ‘ اس آنے والی اور جانے والی تاریکیوں اور روشنیوں کو دیکھے ‘ اس سکونی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
شان نزول : آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ایک مٹھی خاک سے جو تمام زمین سے لی گئی ہے بنایا ہے، اسی واسطے ان کی نسل میں طرح طرح کے رنگ اور مزاج کے لوگ ہیں۔ کافر اور دہریئے لوگ مرنے کے بعد پھر پیدا ہونے کی خبر قرآن شریف میں سن کر بڑے تعجب سے کہتے تھے کہ ہڈیوں کی متی ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ پیدائش کیونکر ہوگی۔ ان کے قائل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو جتلادیا کہ آخر وہ ہڈیاں گل سڑکر ایسی مٹی تو ہوں گی، جس طرح کہ مٹی آگے تھی۔ جس مٹی سے ایک پتلا ایسا بنایا گیا جس میں کروڑہا پتلوں کے بن جانے کی صلاحیت رکھ دی گئی، جس صلاحیت کے اثر سے آج تک اس پتلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] یعنی تمہاری اصل آدم (علیہ السلام) ہیں جن کی نسل سے تم پیدا ہوئے۔
[2] یعنی قیامت کے دن جب انسان از سرنو زندہ کئے جائیں گے اور حساب و کتاب کے لئے اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
(ف 1)
مقصد یہ ہے کہ سب مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں تم میں کوئی بڑا اور چھوٹا نہیں سب خدا کے حضور میں عاجز اور محتاج ہیں ۔
اس لئے باہمی تفافس وکبر کو چھوڑ دو ، کسی انسان کے سامنے سر نہ جھکاؤ ، اور سب کو برابر سمجھو مٹی سے پیدا ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تمہاری زندگی یکسر ارضیت پر موقوف ہے ، نباتات سے لے کر حیوانات تک سب چیزیں مٹی کی محتاج ہیں اس لئے تمہاری تکوین میں مٹی کو بہت زیادہ دخل حاصل ہے لہذا پیشگاہ خداوندی میں ہمیشہ خشوع وخصوع کا اظہار کرو ، اور اپنی فطری بےکسی اور بےمائیگی کو بھول نہ جاؤ ۔
حل لغات :
تمترون ۔ مادہ امتراء بمعنی شک کرنا ۔
انبوائ : جمع نباء ، بمعنی خبرواطلاع ۔
Read the full tafseer →-2 وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو مٹی اور مٹی کے نچوڑے سے پیدا کیا یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے اور تم کو اسی مٹی کے سلالہ اور مٹی کے جوہر اور مٹی کے ست سے پیدا کیا پھر تمہاری موت اور تمہارے مرنے کا ایک وقت اور معیاد مقرر کردی اور ایک اور وقت بھی اس کے علم میں مقرر اور معین ہے یعنی ایک وقت انسان کے مرنے کا اور ایک وقت مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا پھر بھی تم شک کر رہے ہو اور شکوک و شبہات میں مبتلا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 1۔ سورت سابقہ کے انجام اور اس کے آغاز میں تو مناسبت ہے کہ دونوں مشتمل میں ابطال شراک اور اثبات توحید اور اس کے دلائل پر اور ان دونوں کے مجموعہ میں یہ مناسبت ہے کہ دونوں مشتمل میں شرائع پر گوسورت سابقہ میں شرائع سے فروع بھی مثل اصول کے کثیر ہیں چناچہ بیس تک ان کا شمار پہنچا ہوا اور یہ اس میں تقریبا تمام سورت میں اصول ہی زیادہ ہیں فروع بہت کم ہیں کہ عدد مذکور کے ثلث یا ربع سے متجاوز نہیں اور خود اس سورت کے باہم اجزاء میں مناسبت وارتباط یہ ہے کہ حاصل سورت کا چند امور ہیں اثبات توحید اثبات رسالت توحید و رسالت کی تائید کے لیے بعض قصص انبیاء کے اثبات قرآنی اثبات بعث ان کے منکرین کا عناد قلی وفعلی…
Read the full tafseer →انسانوں کی ابتدائی خلقت کی طرف اشارہ کر کے اس کو توحید کی دلیل ٹھہرادیا :
3: مقصد کلام یہ ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے جب اس کی ابتداء مٹی سے ہے اور یہ سب کو تسلیم بھی ہے تو پھر اس سے یہ سمجھنے میں کیوں کوتاہی ہو کہ تمام ارضی مخلوقات کی زندگی کا آغاز مٹی ہی سے ہوا ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم نے بیسیوں بار دہرایا ہے اور ہر بار اس کو ایک مختلف صورت میں پیش کیا ہے تاکہ انسان کو اچھی طرح یہ بات ذہن نشین ہوجائے اور ان مختلف بیانوں سے دو حقیقتوں کی طرف اس کی توجہ دلائی ہے ایک انسان کی بےحقیقتی کی طرف کہ مٹی سے پیدا ہونے والی یہ مخلوق اپنی تخلیق کو بھول نہ جائے دوسرے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کئے…
Read the full tafseer →In the first verse, by saying that all those great bodies of things in this big universe created by Allah Ta` ala on Whom they depend, an open and correct lesson has been given to all human beings. After that, in other verses which follow, human beings have been told that their very own being is a small universe. If one were to make a start from this point, right from the beginning to the end - birth, living, death among a great mesh of internal dimensions and distances - it would show that the belief in the Oneness of Allah is a reality all too clear. It is about this that the verse said:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2. The elements composing the human organism are all, without exception, derived from the earth. Hence it is said that man has been created out of clay.
3. This alludes to the Hour of Judgement when human beings, regardless of the age in which they lived, will be broought back to life and summoned to render an account before their Lord.
Read the full tafseer →