Explained with ayahs 1–3
اللہ کی بعض صفات
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف کر رہا ہے گویا ہمیں اپنی تعریفوں کا حکم دے رہا ہے، اس کی تعریف جن امور پر ہے ان میں سے ایک زمین و آسمان کی پیدائش بھی ہے دن کی روشنی اور رات کا اندھیرا بھی ہے اندھیرے کو جمع کے لفظ سے اور نور کو واحد کے لفظ سے لانا نور کی شرافت کی وجہ سے ہے، جیسے فرمان ربانی آیت (عن الیمین و الشمائل) میں اور اس سورت کے آخری حصے کی آیت (وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) 6۔ الانعام :153) میں یہاں بھی راہ راست کو واحد رکھا اور غلط راہوں کو…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 1
یاد رہے کہ مخاطب وہ مشرکین عرب ہیں جو اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے، وہی دن نکالتا اور رات لاتا ہے اور اسی نے آفتاب و ماہتاب کو وجود بخشا ہے۔ ان میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا کہ یہ کام لات یا ہبل یا عُزّیٰ یا کسی اور دیوی یا دیوتا کے ہیں۔ اس لیے ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ نادانو ! جب تم خود یہ مانتے ہو کہ زمین و آسمان کا خالق اور گردش لیل و نہار کا فاعل اللہ ہے تو یہ دوسرے کون ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے سجدے کرتے ہو، نذریں اور نیازیں چڑھاتے ہو، دعائیں مانگتے ہو اور اپنی حاجتیں پیش کرتے ہو۔ (ملاحضہ ہو سورة فاتحہ 2۔ سورة بقرہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا، اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا پھر بھی کافر لوگ (عبادت میں دوسروں کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تم (سب) کو (بواسطہ آدم ؑ کے) مٹی سے بنایا پھر (تمہارے مرنے کا) ایک وقت معین کیا، اور دوسرا وقت معین (دو بارہ زندہ ہو کر اٹھنے کا) خاص اللہ ہی کے نزدیک (معلوم) ہے، پھر بھی تم (میں سے بعض) شک رکھتے ہو (کہ قیامت کو محال سمجھتے ہو حالانکہ جس نے اوّل حیات بخشی دوبارہ دینا اس کو کیا مشکل ہے) اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی (یعنی اور سب معبود باطل ہیں) وہ تمہارے پوشیدہ…
Read the full tafseer →توحید کی دلیل عرب کے مسلمات سے : لفظ ‘ حمد ’ کی تحقیق تفسیر سورة فاتحہ میں گزر چکی ہے اور یہ بات بھی اس کتاب میں بار بار بیان ہوچکی ہے کہ مشرکین عرب آسمان و زمین اور نور و ظلمت سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ یہاں قرآن نے ان کے اسی مسلمہ پر توحید کی دلیل قائم کی ہے کہ جب یہ تسلیم ہے کہ آسمانوں اور زمین اور نور و ظلمت سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ یہاں قرآن نے ان کے اسی مسلمہ پر توحید کی دلیل قائم کی ہے کہ جب یہ تسلیم ہے کہ آسمانوں اور زمین اور نور و ظلمت کا خالق اللہ ہی ہے تو پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ یہ کفار دوسروں کو خدا کا ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں۔ ‘ ثُمَّ ’ کا اظہارِ…
Read the full tafseer →1۔ 1 ظلمات سے رات کی تاریکی اور نور سے دن کی روشنی یا کفر کی تاریکی اور ایمان کی روشنی مراد ہے۔ نور کے مقابلے میں ظلمات کو جمع ذکر کیا گیا ہے، اس لئے کہ ظلمات کے اسباب بھی بہت سے ہیں اور اس کی قسمیں بھی متعدد ہیں اور نور کا ذکر بطور جنس ہے جو اپنی قسموں میں شامل ہے (فتح القدیر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چونکہ ہدایت اور ایمان کا راستہ ایک ہی ہے چار یا پانچ یا متعدد نہیں ہیں اس لئے نور کو واحد ذکر کیا گیا ہے۔
1۔ 2 یعنی اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔
Read the full tafseer →نیز ہمیں اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جب طرح یہ دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ رسول نازل کیا گیا اسی طرح اس کا طریق کار بھی اللہ تعالیٰ نے سنت رسول کے ذریعے مقرر فرما دیا ۔ یہ مسنون طریق کار ہی اس دین کے مزاج کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اس دین اور اس کے فطری طریق کار کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہمارے پیش نظر رہے کہ جس طرح اسلام نظریاتی اصلاح کے ذریعہ انسان کے کردار میں اصلاح اور تبدیلی چاہتا ہے بعینہ اسی طرح وہ اس طریق کار کو بھی بدل دینا چاہتا ہے جس کے مطابق فکری اور نظریاتی اصلاح درکار ہے ۔ مثلا یہ کہ وہ محض فکری تعمیر ‘ فلسفیانہ طور پر نہیں چاہتا بلکہ وہ…
Read the full tafseer →7 " مجوس " دنیا کے لئے دو خالق مانتے ہیں " یزدان " جو خالق خیر ہے اور " اہرمن " جو خالق شر ہے۔ اور دونوں کو نور و ظلمت سے ملقب کرتے ہیں۔ ہندوستان کے مشرک تینتیس کروڑ دیوتاؤں کے قائل ہیں۔ آریہ سماج باوجود ادعائے توحید " مادہ " اور " روح " کو خدا کی طرح غیر مخلوق اور انادی کہتے اور خدا کو اپنی صفت تکوین و تخلیق وغیرہ میں ان دونوں کا محتاج بتلاتے ہیں۔ عیسائیوں کو باپ بیٹے کا توازن و تناسب قائم رکھنے کے لئے آخر تین ایک اور ایک تین کا مشہور عقیدہ اختیار کرنا پڑا ہے۔ یہودیوں نے خدا تعالیٰ کے لئے وہ صفات تجویز کیں کہ ایک معمولی انسان بھی نہ صرف اس کا ہمسر بلکہ اس سے برتر ہوسکتا ہے۔ عرب کے مشرکین نے…
Read the full tafseer →آیت 1 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ط
یہاں ایک خاص نکتہ نوٹ کرلیجیے کہ قرآن مجید میں تقریباً سات سات پاروں کے وقفے سے کوئی سورة اَلْحَمْدُ کے لفظ سے شروع ہوتی ہے۔ مثلاً قرآن کا آغاز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سے ہوا ہے ‘ پھر ساتویں پارے میں سورة الانعام اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ج سے شروع ہو رہی ہے ‘ اس کے بعد پندرھویں پارے میں سورة الکہف کا آغاز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا۔ سے ہو رہا ہے ‘…
Read the full tafseer →1 دلائل توحید :۔ یہ خطاب مشرکین مکہ کو ہے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے اس کائنات کو پیدا کیا اسی نے سورج اور چاند بنائے اور رات دن پیدا کیے اور کائنات پر اسی کی حکمرانی ہے۔ سورج، چاند، ستارے سب اسی کے حکم کے تحت گردش کر رہے ہیں اور خود ہمیں بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔
خ پہلی دلیل :۔ اللہ تعالیٰ انہیں مخاطب کر کے یہ فرما رہے ہیں کہ وہ ذات جو اتنی بڑی کائنات کا نظام نہایت حسن و خوبی سے چلا رہی ہے کیا وہ تمہاری ضروریات پوری نہیں کرسکتی اور تمہاری مشکلات کو حل نہیں کرسکتی۔ جو تم لات و عزیٰ ، منات اور ہبل جیسے معبودوں کو پکارتے ہو، ان کا اس بھری کائنات میں…
Read the full tafseer →1 ۔ جیسے عیسائی قومیں مسیح (علیہ السلام) کو، روح القدس کو، مریم (علیہا السلام) صدقہ کو، اور مشرک قومیں اپنے دیوی دیوتاؤں کو، خلق۔ یہاں ایجاد وابداع، یعنی نیست سے ہست کرنے کے معنی میں ہے۔ ای اخترع واوجدوا انشاء وابتدع (قرطبی) (آیت) ” السموت والارض “۔ یہ دونام ان چیزوں کے لیے دیئے گئے جنہیں اصطلاح فلسفہ میں جوہر کہتے ہیں۔ (آیت) ” الظلمت والنور “۔ یہ دونام ان چیزوں کے لیے دیئے گئے، جنہیں اصطلاح فلسفہ میں عرض کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات میں جوہر ہو یا عرض ہر چیز کا بلااستثناء خالق وفاطر وہی ایک ہے، کوئی شے اس کے لئے غیر مخلوق نہیں۔ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ بیسیوں مشرک قوموں نے آسمان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : ہر تعریف اللہ کے لئے ثابت ہے (اور) یا تو اس جملہ خبر یہ سے مراد ثبوت حمد پر ایمان کی خبر دینا ہے یا مراد انشاء حمد (تعریف کرنا) ہے یا دونوں مراد ہیں (یہ تین) احتمالات ہیں تیسری صورت زیادہ مفید ہے، اس کو شیخ جلال الدین محلی نے سورة کہف میں بیان کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ان دونوں کو خاص طور پر اس لئے بیان کیا ہے کہ یہ دونوں ناظرین کی نظر میں اعظم مخلوقات ہیں اور جس نے ظلمتوں اور روشنی کو پیدا فرمایا یعنی ہر ظلمت اور نور کو، ظلمات کو جمع لائے ہیں نہ کہ نور کو، ظلمات کے اسباب کثیر ہونے کی وجہ سے، اور یہ اللہ کی وحدانیت کے دلائل میں سے ہے پھر بھی کافر اس…
Read the full tafseer →الحمد للّٰہ ہر طرح کی ستائش ہے اللہ کے لئے۔ یہ (لفظ کے اعتبار سے) جملہ خبریہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں لیکن اس سے بندوں کو تعلیم دینا مقصود ہے کہ وہ اللہ کی حمد کریں اور درپردہ اس بات کی بھی تلقین ہے کہ اللہ کو بندوں کی ستائش کی ضرورت نہیں کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے بہرحال اس کے لئے واقع میں حمد و ستائش ہے۔
الذی خلق السموات والارض جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اندازہ کے مطابق بنایا اور بغیر سابق مثال کے پیدا کیا۔ اللہ کے وصف خالقیت کا ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کے محمود ہونے کے لئے کسی مزید استدلال کی ضرورت نہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق خود ثبوت حمد کے لئے کافی ہے ‘ مخلوقات…
Read the full tafseer →(1) ہر قسم کے شکر اور خدائی اس ذات کے لیے ہے جس نے تمام آسمانوں کو اتوار اور پیر صرف دو دنوں میں اور اسی طرح تمام زمینوں کو منگل اور بدھ کے دو دنوں میں پیدا کیا ہے اور کفر و ایمان یا رات اور دن کو پیدا کیا، اس کے باوجود یہ کفار مکہ بتوں کو عبادت میں اللہ کا درجہ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ : اس آیت میں اکیلے اللہ تعالیٰ کے تمام خوبیوں کا مالک اور معبود ہونے کی دلیل بیان کی گئی ہے اور کفار کے شرک پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے یہاں دو قسم کی چیزوں کا ذکر فرمایا ہے، ایک زمین و آسمان کا جو جوہر ہیں، یعنی اپنا الگ وجود رکھتے ہیں اور دوسرے اندھیروں اور اجالے کا جو عرض ہیں، یعنی دوسری چیزوں کے ذریعے سے قائم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کوئی جوہر یا عرض ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ کیا ہو۔ اندھیروں اور اجالے سے یہی رات اور دن مراد ہیں، یا پھر ایمان کا نور اور کفر کے اندھیرے۔ (قرطبی) ”النُّوْرَ“ کو واحد اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 1۔
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الحمد اللہ “ اس سورت کا آغاز اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف سے کیا اور اپنی الوہیت کے اثبات سے کیا یعنی سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اگر یہ کہا جائے کہ اس کے علاوہ سورتوں کا آغاز بھی (آیت) ” الحمد للہ “۔ کے ساتھ ہے، ایک پر اکتفا باقی تمام سے مستغنی کردیتا ہے، تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان میں سے ہر ایک کا اپنی جگہ ایک معنی ہے دوسرا مقام اس کو ادا نہیں کرتا، کیونکہ مختلف نعمتوں کے ساتھ اس کو گرہ لگائی ہے نیز اس میں ان لوگوں کے خلاف حجت ہے جو اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن الضریس نے فضائل القرآن میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ توراۃ اس آیت سے شروع کی گئی۔ یعنی لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور ثم الذین کفروا بربھم یعدلون اور ختم کیا اس آیات کے ساتھ لفظ آیت وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا (سے لے کر) لفظ آیت وکبرۃ تکبیرا تک (بنی اسرائیل آیت 1)
(2) امام عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور ثم الذین کفروا بربھم یعدلون کہ یہ آیت توراۃ میں چھ سو نمبر پر ہے۔
(3) امام ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الحمد…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ [ تمام تعریف اور شکر ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کے لئے ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کئے ] السَّمٰوٰتِ [ آسمان ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین ] وَجَعَلَ [ اور بنائے ] الظُّلُمٰتِ [ اندھیرے ] وَالنُّوْرَ [ اور نور ] ثُمَّ [ پھر (بھی ) ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] بِرَبِّهِمْ [ اپنے رب کے ] یيَعْدِلُوْنَ [ برابر کرتے ہیں ]
م ک ن : (ک) مکانۃ (1) رتبہ والا ہونا ، معزز ہونا ۔ (2) جما ہونا ، بااختیار ہونا۔ مکین ۔ فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔ (1) رتبہ والا ، معزز ۔ (2) جما ہوا ، اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ ۔ [ بیشک تو آج سے ہمارے پاس امانتدار معزز ہے ]…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ظلمات اور نور کو پیدا فرمایا اور ہر ایک کی اجل مقرر فرمائی
یہاں سے سورة انعام شروع ہے یہ سورت مکی ہے البتہ بعض مفسرین نے تین چار آیات کو مستثنیٰ لکھا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ مدنی ہیں۔ حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب سورة انعام نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سبحان اللہ کہا پھر فرمایا کہ اس سورت کو اتنے فرشتوں نے رخصت کیا جنہوں نے افق یعنی آسمان کے کناروں کو بھر دیا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ ستر ہزار فرشتوں نے اس کو رخصت کیا۔ (من روح المعانی ج 7 ص 76)
اس سورت میں انعام یعنی چو پاؤں کے بعض احکام بیان فرمائے ہیں اس لئے سورة الانعام کے نام سے موسوم ہے۔ اس سورت میں احکام کم…
Read the full tafseer →تحمید برخالقیت و اثبات وحدانیت وابطال مجوسیت۔
قال اللہ تعالی، الحمدللہ الذی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔ یعدلون۔
ربط) ۔ یہ سورت چونکہ اصول دین کے بیان پر مشتمل ہے اس لیے اللہ نے تحمید اور توحید سے اس سورت کا آغاز فرمایا اور آسمان اور زمین اور نور ور ظلمت کے لیے اپنا خالق ہونا بیان کیا تاکہ توحید ثابت ہو اور مشرکین اور محبوس کا رد فرمایا جو یہ کہتے ہیں کہ دنیا کے دو خالق ہیں ایک یزدان جو خیر کا خالق ہے یعنی نور اور روشنی کا پیدا کرنے والا ہے اور دوسرا ھرمن جو شر کا خالق ہے یعنی ظلمت اور تاریکی کا پیدا کرنے والا ہے اللہ نے اس آیت میں یہ بتلا دیا کہ ہر ظلمت اور ہر نور اور ہر اندھیرے اور اجالے کا پیدا…
Read the full tafseer →2:۔ حصہ اول۔ نفی شرک فی التصرف یا نفی شرک اعتقادی
سورة انعام سے قرآن مجید کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جو سورة بنی اسرائیل کے آخر تک ہے۔ اس حصے کا مرکزی مضمون ربوبیت ہے یعنی اس حصے میں زیادہ تر یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر چیز کو پیدا کرنے کے بعد اس کو حد کمال تک پہنچانے والا اور ہر چیز کی دیکھ بھال کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔
خلاصہ کے بیان میں مذکور ہوچکا ہے کہ سورة انعام کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ سورت کی ابتداء سے لے کر رکوع 14 میں وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ تک ہے اس حصے میں نفی شرک فی التصرف کا ذکر کیا گیا ہے اور مسئلہ توحید پر عقلی ونقلی اور وحی سے گیارہ دلائل…
Read the full tafseer →اس سورة کا نام سورة الانعام ہے۔ انعام ‘ نعم کی جمع ہے اور اس کا جمع الجمع اناعیم آتا ہے۔ انعام کا اطلاق عام طور پر اونٹ پر کیا جاتا ہے اور گائے اور بھیڑ بکری پر کیا جاتا ہے اور عام فہم میں اس کا معنی وہ مویشی ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر لوگ پالتے ہیں اور وہ انسان سے مانوس ہوتے ہیں۔ سورة بخل میں موجود ہے والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھاتا کلون۔ اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کو پیدا کیا ‘ ان میں تمہارے لئے بہت سے فائدے رکھے ہیں اللہ نے انہیں تمہاری خدمت کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ اور تمہارے تابع بھی کردیا ہے ‘ یہ بڑی عاجزی کے ساتھ تمہاری خدمت انجام دیتے ہیں۔ ان میں تمہارے لئے موسم سرما میں گرمی کا…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ 0ۥۭ ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ يَعْدِلُوْنَ 1
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد…
Read the full tafseer →ترکیب : جعل بمعنی خلق الذین الخ مبتدا یعدلون خبر بربہم اس سے متعلق ہو مبتداء اللّٰہ خبر یعلم خبر ثانی اور ممکن ہے کہ اللہ ھو سے بدل ہو یعلم خبر فی السموات اللہ سے متعلق ہے جو بمعنی معبود ہے۔
تفسیر : یہی وہ سورة ہے کہ جو سب کی سب ایک بار نازل ہوئی۔ سورة بقر اور نساء اور مائدہ تو مدینہ آنے کے بعد اور یہ ان سے پہلے مکہ میں نازل ہوچکی تھی۔ مکہ میں مشرکین عرب کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کا وجود ان صفات قاہرہ کے ساتھ بیان ہوتا تھا کہ جن سے تمام عالم میں اسی کا قبضہ و تصرف ثابت ہو مر کر دوبارہ زندہ ہونے کے جو منکر تھے۔ ان کے مقابلہ میں حشر و نشر کا اثبات ہوتا تھا اور جو خدا تعالیٰ کے وجود کے منکر تھے…
Read the full tafseer →اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ 5 ط ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ یَعْدِلُوْنَ ۔ (الانعام : 1)
(تعریف یا شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے ‘ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور بنایا تاریکی اور روشنی کو ‘ پھر تعجب ہے (ان پر) کہ جن لوگوں نے کفر کیا ‘ وہ اپنے رب کے ہمسر ٹھہراتے ہیں)
جب یہ سورة نازل ہوئی ہے ‘ اس وقت دنیا میں غالب قوت بے خدا تہذیب تھی ‘ یعنی ایک ایسی تہذیب ‘ جو ان تصورات سے وجود میں آئی تھی ‘ جس میں اللہ کے وجود کا کوئی تصور نہیں تھا یا اللہ کے وجود کو تسلیم کیا بھی جاتا تھا تو اس کے تصور حاکمیت کا تو دور دور تک کوئی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
قرآن مجید نے اس حقیقت کو بار بار واضح فرمایا ہے کہ زمین کا ذرہ ذرہ اور آسمانوں کا چپہ چپہ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش میں رطب اللّسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اسی بنا پر اس سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ اپنی حمد کا استحقاق بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور اسی نے ظلمات اور نور بنایا لیکن کافر اتنے ناعاقبت اندیش ہیں کہ وہ اس عظیم الشان ہستی کا نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ وہ دوسروں کو اس کے برابر گردانتے ہیں حالانکہ وہ ایسی ہستی ہے جس نے نہ صرف سب کو پیدا فرمایا ہے بلکہ ہر کسی کی ضرورت کے مطابق اس کی پرورش کا انتظام…
Read the full tafseer →تمام تعریفوں کے لائق وہی ہے :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ اس نے بندوں کو تعلیم دی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کریں۔ اور درپردہ اس بات کی تعریف کردی کہ اللہ تعالیٰ کو بندوں کی حمد کی ضرورت نہیں۔ وہ ان کی تعریف سے بےنیاز ہے خواہ اس کی تعریف کوئی کرے یا نہ کرے۔ وہ واقع میں تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
سماوات کے جمع اور ارض کے مفرد لانے کی وجہ :
الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔ السمٰوٰت جمع لایا گیا کیونکہ آسمان ایک دوسرے پر طبق کی صورت میں ہیں۔ الگ شکل والے ہیں۔ اور الارض زمینیں بھی اگرچہ جمہور کے نزدیک سات ہیں مگر ان کے لیے لفظ مفرد لائے۔ کیونکہ وہ ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →سورة الانعام
آیت نمبر 1
تفسیر :(الحمد للہ الذی خلق السموت والارض) کعب احبار (رح) فرماتے ہیں کہ یہ توریت کی پہلی آیت ہے اور توریت کی آخری آیت (وقل الحمدللہ الذی لم یتخذو لدا اور آپ کہہ دیجئے تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اولاد نہیں بنائی) ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ابتداء حمد سے کی اور فرمایا ” الحمدللہ الذی خلق السموت والارض “ اور اس کو ختم بھی حمد کے ساتھ کیا اور کہا ” وقضی بعھم بالحق مخلوقات کے درمیان وقیل الحمد للہ رب العلمین “ (بعض نے کہا اس کا مطلب ہے سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف خود کی بندوں کو سکھانے کے لیے کہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →1۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے 2 ؎۔ مستدرک حاکم میں جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ سورة اتری تو آنحضرت ﷺ نے سبحان اللہ کہا اور یہ فرمایا کہ آسمان سے زمین تک ستر ہزار فرشتے اس سورة کے نازل ہونے کے وقت اس کے ساتھ تھے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 3 ؎۔ اس سورة میں توحید نبوت اور حشر کے ضروری احکام کی عظمت اور شیطان کی مداخلت ان احکام میں نہ ہونے کے لئے یہ ستر ہزار فرشتوں کی جماعت اس سورة کے ساتھ آئی۔ جو سورتیں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف کے لفظوں سے شروع کی ہیں جیسے یہ سورة جیسے { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ } ان سے یہ مطلب ہے کہ لوگ ان لفظوں…
Read the full tafseer →آیت 1
یہ صفات کمال اور نعوت عظمت و جلال کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عمومی حمد و ثنا اور ان صفات کے ذریعے سے اس کی خصوصی حمد وثناء ہے، چناچہ اس نے اس امر پر اپنی حمد وثناء بیان کی ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا۔ جو اس کی قدرت کاملہ، وسیع علم و رحمت، حکمت عامہ اور خلق و تدبیر میں اس کی انفرادیت پر دلالت کرتی ہے نیز اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے تاریکیوں اور روشنی کو پیدا کیا اور اس میں حسی اندھیرے اور اجالے بھی شامل ہیں جیسے رات، دن، سورج اور چند وغیرہ اور معنوی اندھیرے اجالے بھی، مثلاً جہالت، شک، شرک، معصیت اور غفلت کے اندھیرے اور علم، ایمان، یقین اور اطاعت کے اجالے۔ یہ…
Read the full tafseer →1 آسمان و زمین کی تخلیق توحید خداوندی کی زبردست دلیل : سو آسمانوں اور زمین کی یہ عظیم الشان کائنات اور اس کے اندر جو کچھ ہے وہ سب کا سب جب اسی وحدہٗ لاشریک کا پیدا کردہ اور عطا فرمودہ ہے تو پھر ہر قسم کی حمد و ثنا اور تعریف و توصیف کا حق دار بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ یہاں پر آسمان کو جمع " سَمٰوَات " کے لفظ سے ذکر فرمایا گیا اور زمین کو مفرد " الارض " کے لفظ سے۔ کیونکہ آسمانوں کا تعدد عقل ونقل سے ثابت اور ظاہر ہے بخلاف زمین کے۔ کہ اس کی یہ کیفیت ایسے نہیں۔ (وجیز، محاسن، بیضاوی وغیرہ) ۔ بہرکیف آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں بھری تخلیق میں قدرت کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی حکمت بالغہ اور رحمت…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی مخلوقات
تشریح : سورة الانعام توحید کے اصول و قوانین اور توحید کی اصلیت پر مبنی ہے اس سورت کو الحمدلِلّہِ سے شروع کیا گیا ہے جو یہ اعلان ہے کہ ہر قسم کی تعریف صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے کیوں کہ وہ مالک کائنات ہے۔ کائنات کیا ہے ؟ اس کی تعریف کرنا بڑا مشکل کام ہے کیونکہ وہ بڑی ہی وسیع و عریض ہے۔ اس آیت میں آسمان و زمین، اندھیرے اور اجالے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ انسان کے لیے معمول کی چیزیں ہیں۔ آسمان، زمین، اندھیرا، اجالا سب کچھ اس کے لیے عام بات ہے کیونکہ وہ روز ہی دیکھتا ہے اس لیے اس میں عام انسان کے لیے کوئی خاص بات نہیں لیکن جو لوگ کائنات کی چیزوں پر غور کرتے ہیں، سوچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 ۔
اسرار و معارف :
توحید کے عقلی دلائل :
انسانی علوم کی حدود زمینوں اور فضا کی مختلف تبدیلیوں تک محدود ہیں وہ بادلوں کی سیر کرے یا ستاروں پہ کمندیں ڈالے بہرحال آسمان ایک ایسی بلندی ہے جس کو عبور نہیں کرسکتا تختہ زمین ایسی کتاب ہے جس کے عجائبات کو پڑھ کر تمام نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا ہر آنے والا دور اپنے جلو میں کوئی نئی تحقیق لاتا ہے نیا قانون یا اصول دریافت ہوتا ہے پھر اس کے مطابق دنیا کی اشیا سے انسان استفادہ کرتے ہیں مگر یہ ساری تگ وتاز سینہ خاک آلود پر ہے فضا میں ہے پھر روشنی اور اندھیرے اپنے اثرات پیدا کرتے رہتے ہیں بعض اشیاء اندھیرے کی کاوش اور بعض روشنی کی…
Read the full tafseer →ف 5 اس سے مقصود و جود صانع پر دلیل قائم کرنا ہے (رازی) اللہ تعالیٰ نے یہاں دونوں قسم کی چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ایک زمین و آسمان جو جوہر ہیں اور دوسرے اند ھیرا اور اجالا جو اعراض ہیں یعنی دوسری چیزوں کے ذریعہ قائم ہیں مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کوئی جو ہر عرض نہیں ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ کیا ہو اندھیرے اور اجالے سے یہی رات اور سن مراد ہیں یا پھر نور ایمان اور ظلمات کفر (کذافی القرطبی)6 یعنی جن ہر چیز کا خالق ومالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور مشرکین اسے اپنا رب (پالنے والا) تسلیم بھی کرتے ہیں تو ان پر لازم تھا کہ عبادت بھی اسی کی کرتے مگر یہ دوسروں کو اس کے برابر گردانتے ہیں ان کے سامنے سجدے…
Read the full tafseer →(6:1) ثم حرف عطف ہے۔ لیکن کوئی دوسرا حرف عطف اس کے قائمقام نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ معنی عطف پر دلالت کے ساتھ ساتھ کفار کی نادانی اور ان کے عقیدہ کی قبحت کو بھی عیال کر رہا ہے ثم دالۃ علی قبح فعل الکافرین (قرطبی) ۔
یعدلون۔ مضارع جمع مذکر غائب عدل مصدر۔ (باب ضرب) ۔ یعنی وہ الوہیت میں اپنے معبودان باطل کو خدا تعالیٰ کا ہمسر اور اس کے برابر بنائے ہوئے ہیں ۔ (وہ عدل و انصاف کرتے ہیں یہاں یہ معنی مراد نہیں) یہاں بربھم یعدلون کو وہم بہ مشرکون (16:100) کے ہم معنی لیا گیا ہے۔
بعض نے اس کو عدول سے مشتق لیا ہے اور بدبھم میں ب بمعنی عن مراد لیا ہے یعنی عن ہم قوم یعدلون (27:60) بلکہ یہ لوگ راستہ سے الگ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 3 :
جعل (اس نے بنایا) ‘ الظلمت (ظلمۃ) ۔ اندھیرے ‘ النور (روشنی) ‘ یعدلون (عدل) برابر کرتے ہیں۔ (شرک کرتے ہیں) ‘ طین (مٹی) ‘ قضی (مقرر کردیا۔ فیصلہ کردیا) ‘ اجل (ایک مدت) ‘ مسمی (مقرر۔ متعین) تمترون (تم شک کرتے ہو) سر (بھید ‘ چھپی ہوئی چیز) ‘ جھر (کھلاہوا۔ ظاہر) تکسبون (تم کماتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 3 :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کو دیکھنے اس پر غور کرنے اور پھر دل سے تعریف کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ایسا کون ہے جو آسمان و زمین کی ٹھہری ہوئی اور حرکت کرتی ہوئی چیزوں کو دیکھے ‘ اس آنے والی اور جانے والی تاریکیوں اور روشنیوں کو دیکھے ‘ اس سکونی اور…
Read the full tafseer →توحید کا ذکر
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ کل سورة ایک ہی شب میں بمقام مکہ مکرمہ نازل ہوئی اور اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے آئے جس سے آسمانوں کے کنارے بھر گئے۔ اس آیت میں بندوں کو حمد کی تعلیم فرمائی گئی۔ اور پیدائش آسمان و زمین کا ذکر اس لئے ہے کہ آسمان کی گدش سے رات کا اندھیرا، دن کا اجالا پیدا ہوتا ہے۔ جس سے انسام کی راحت، صحت طرح طرح کے کاروبار سب کچھ قائم ہیں۔ اہل مکہ نے شرک و جہالت کا اندھیرا بھی پھیلا رکھا تھا۔ اس کفر و شرک و کو مٹانے کے لئے نور ایمان پیدا کیا۔ جس کی قسمت میں ہے وہ اس کفروشرک کے اندھیرے سے نکل کر ایمان کی روشنی پاسکتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ جب سارا کارخانہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] یعنی تمہاری اصل آدم (علیہ السلام) ہیں جن کی نسل سے تم پیدا ہوئے۔
[2] یعنی قیامت کے دن جب انسان از سرنو زندہ کئے جائیں گے اور حساب و کتاب کے لئے اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →ظلمت ونور :
(ف 1) مجوسی تنویث کے قائل تھے ، اور نوروظلمت کو الگ عہد اقرار دیتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس عقیدے کی تردید کی ہے ، اور فرمایا ہے کہ اندھیرے اور اجالے کو پیدا کرنے والا میں ہوں ،
ظلمت ونور سے مراد کفر اور اسلام میں ہو سکتا ہے یعنی خدا نے دونوں راہیں پیدا کی ہیں ، خدا کے نیک بندے ہدایت وصداقت کی تابناک راہ پسند کرتے ہیں ، اور وہ لوگ جن کے دل سیاہ ہیں ، جن سے ہدایت کی توفیق چھن گئی ہے ظلمت کی پگڈنڈی پر ہو لیتے ہیں ۔ اور خدا کے ساتھ دوسروں کو ساجھی ٹھہراتے ہیں ۔
حل لغات :
شھید : گواہ مبلغ ، مطلع ۔
توفیتنی : مادہ توفے ، بمعنی وفات یا اٹھا لینا ، لے لینا ۔
Read the full tafseer →-1 تمام تعریفیں اور ہر قسم کی حمد وثناء کا وہی اللہ تعالیٰ سزا وار ہے اور مستحق ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور جس نے اندھیرے اور تاریکیاں روشنی اور نور بنایا یعنی دونوں کا خالق وہی ہے مجوسی جو کہتے ہیں وہ غلط ہے پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے کافرانہ روش اختیار کر رکھی ہے اپنے پروردگار کے ساتھ دوسرے معبود ان باطلہ کو برابری کا درجہ دے رہے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 1۔ سورت سابقہ کے انجام اور اس کے آغاز میں تو مناسبت ہے کہ دونوں مشتمل میں ابطال شراک اور اثبات توحید اور اس کے دلائل پر اور ان دونوں کے مجموعہ میں یہ مناسبت ہے کہ دونوں مشتمل میں شرائع پر گوسورت سابقہ میں شرائع سے فروع بھی مثل اصول کے کثیر ہیں چناچہ بیس تک ان کا شمار پہنچا ہوا اور یہ اس میں تقریبا تمام سورت میں اصول ہی زیادہ ہیں فروع بہت کم ہیں کہ عدد مذکور کے ثلث یا ربع سے متجاوز نہیں اور خود اس سورت کے باہم اجزاء میں مناسبت وارتباط یہ ہے کہ حاصل سورت کا چند امور ہیں اثبات توحید اثبات رسالت توحید و رسالت کی تائید کے لیے بعض قصص انبیاء کے اثبات قرآنی اثبات بعث ان کے منکرین کا عناد قلی وفعلی…
Read the full tafseer →آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہی ساری ستائشوں کا اصل مالک ہے :
1: حمد کا لفظ عربی زبان میں اچھی تعریف اور شکر دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس جگہ دونوں ہی معنی مراد ہو سکتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ساری کائنات اور اس کی ہرچیز کا مالک حقیقی ہے تو لا محالہ اس کائنات میں جمال و کمال اور حکمت وقدرت اور صناعی و کاری گری کی جو شان بھی نظر آتی ہے اس کی ستائشوں کا مستحق اصل بھی وہی ہے اور اس کائنات میں رہنے والا جس چیز سے بھی کوئی فائدہ یا لطیف و لذت حاصل کر رہا ہے اس پر خدا ہی کا شکر اسے ادا کرنا چاہئے کوئی دوسرا جب ان اشیاء کی ملکیت میں شریک نہیں ہے تو اسے نہ حمد کا استحقاق پہنچتا ہے نہ شکر کا۔…
Read the full tafseer →Commentary
Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ has said that one of the distinctions of Surah Al-An'am is that the whole of it, except some 'Ayat, was revealed at one time in Makkah with the complement of seventy thousand angels following it with recitation of the name of Allah. Early Tafsir authorities Mujahid, al-Kalbi, Qatadah and others have said more or less the same thing.
Abu Ishaq Al-Asfra'ini has said that this Surah consists of all principles and subsidiaries of Tauhid (Oneness of Allah). This Surah has been prefaced with الْحَمْدُ لِلَّـهِ (Al-Hamdulillah) whereby people have been…
Read the full tafseer →1. Remember that, although polytheists, the Arabs to whom these verses are addressed did acknowledge God as the Creator of the heavens and the earth, Who causes day to alternate with night, and Who has brought into existence the sun and the moon. None of them attributed any of these acts to either al-LAt, al-Hubal, al-'UzzA or any other deities. Why, then,'should they prostrate themselves before others beside the Creator? Why should they offer their prayers and supplicatiom to any but God? (See Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 1, n.2, and Surah 2, n.163) The actual word that…
Read the full tafseer →