Explained with ayahs 154–155
جنوں نے قرآن حکیم سنا
امام ابن جریر نے تو لفظ ثم کو ترتیب کے لئے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے لیکن میں کہتا ہوں ثم کو ترتیب کیلئے مان کر خبر کا خبر پر عطف کردیں تو کیا حرج ؟ ایسا ہوتا ہے اور شعروں میں موجود ہے چونکہ قرآن کریم کی مدح آیت (ان ھذا صراطی مستقیما) میں گذری تھی اس لئے اس پر عطف ڈال کر توراۃ کی مدح بیان کردی۔ جیسے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے۔ چناچہ فرمان ہے آیت (ومن قبلہ کتاب موسیٰ اماما و رحمتہ و ھذا کتاب مصدق لسانا عربیا) یعنی اس سے پہلے توراۃ امام رحمت تھی اور اب یہ قرآن عربی تصدیق کرنے والا ہے۔ اسی سورت کے اول میں ہے آیت (قُلْ مَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
سورة الْاَنْعَام 136
رب کی ملاقات پر ایمان لانے سے مراد اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھنا اور ذمہ دارانہ زندگی بسر کرنا ہے۔ یہاں اس ارشاد کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ خود بنی اسرسائیل میں اس کتاب کی حکیمانہ تعلیمات سے ذمہ داری کا احساس بیدار ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ عام لوگ اس اعلیٰ درجہ کے نظام زندگی کا مطالعہ کر کے اور نیکو کار انسانوں میں اس نعمت ہدایت اور اس رحمت کے اثرات دیکھ کر یہ محسوس کرلیں کہ انکار آخرت کی غیر ذمہ دارانہ زندگی کے مقابلہ میں وہ زندگی ہر اعتبار سے بہتر ہے جو اقرار آخرت کی بنیاد پر ذمہ دارانہ طریقہ سے بسر کی جاتی ہے، اور اس طرح یہ مشاہدہ و مطالعہ انہیں انکار سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
خلاصہ تفسیر
پھر (مضمون ابطال شرک کے بعد ہم مسئلہ نبوت میں کلام کرتے ہیں کہ ہم نے صرف آپ ﷺ کو اکیلا ہی نہیں بنایا، جس پر یہ لوگ اس قدر شور و غل مچا رہے ہیں، بلکہ آپ ﷺ سے قبل) ہم نے موسیٰ ؑ کو (پیغمبر بنا کر) کتاب (تورات) دی تھی، جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر (ہماری) نعمت پوری ہو (کہ عمل کرکے ثواب کامل حاصل کریں) اور سب (ضروری) احکام کی (اس کے ذریعہ سے) تفصیل ہوجاوے اور (اس کے ذریعہ سے سب کو) رہنمائی ہو اور (ماننے والوں کیلئے) رحمت ہو (ہم نے اس صفت کی کتاب اس لئے دی) تاکہ وہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل) اپنے رب کے ملنے پر یقین لاویں (اور اعتقاد لقاء سے اب احکام کو بجا لاویں) اور (جب اس کا اور اس…
Read the full tafseer →وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ الایہ، تورات کے بعد اب یہ قرآن کے اتارے جانے کا ذکر فرمایا اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے تمام خلق پر عموماً اور اہل عرب پر خصوصاً جو فضل فرمایا ہے پہلے اس کا حوالہ دیا پھر عربوں کو دھمکی سنائی کہ اس کتاب کے ذریعہ سے تم پر حجت پوری ہوچکی ہے۔ اب خدا کے سامنے تمہارے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا اس وجہ سے اگر اس کو جھٹلاتے ہو تو اس جھٹلانے کے انجام کو سوچ لو۔
قرآن کی عظیم برکت : لفظ مبارک اس بارش کے یے قرآن میں بار بار استعمال ہوا ہے جو زمین کی سیرابی، روئیدگی اور سرسبزی کا ذریعہ بنتی، اس کے خزانوں اور اس کی برکتوں کو ابھارتی اور اس کے مردہ…
Read the full tafseer →155۔ 1 اس سے مراد قرآن مجید ہے جس میں دین و دنیا کی برکتیں اور بھلائیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
82: خریدو فروخت کے وقت ناپ تول کا پورا لحاظ رکھنا واجب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمادیا کہ اس معاملے میں طاقت سے زیادہ میخ نکالنے کی بھی ضرورت نہیں انسان کو پوری پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ناپ تول ٹھیک ہو، لیکن کوشش کے باوجود تھوڑا بہت فرق رہ جائے تو وہ معاف ہے۔
83: اللہ کے عہد میں وہ عہد بھی داخل ہے جس میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ کیا گیا ہو، اور وہ عہد بھی جو کسی انسان سے کیا گیا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھاکر یا اس کو گواہ بناکر کیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 155۔
بیشک یہ ایک مبارک کتاب ہے اور اس کی تشریح ہم نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں کردی ہے جہاں یہ لفظ پہلے آیا تھا : ۔
آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92)
” یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی ۔ اور اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ…
Read the full tafseer →3 یعنی تورات تو تھی ہی جیسی کچھ تھی، لیکن ایک یہ کتاب ہے (قرآن کریم) جو اپنے درخشاں اور ظاہر و باہر حسن و جمال کے ساتھ تمہارے سامنے ہے اس کی خوبصورتی اور کمال کا کیا کہنا۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ اس کی ظاہری و باطنی برکات اور صوری و معنی کمالات کو دیکھ کر بےاختیار کہنا پڑتا ہے۔ بہار عالم حسنش دل و جاں تازہ میدارد برنگ اصحاب صورت رابہ بوار باب معنی را اب دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر خدا کی رحمت سے حظ وافر لینا چاہتے ہو تو اس آخری اور مکمل کتاب پر چل پڑو اور خدا سے ڈرتے رہو کہ اس کتاب کے کسی حصہ کی خلاف ورزی ہونے نہ پائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
آیت 154 ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً
حضرت عبداللہ بن عباس رض کے نزدیک سورة بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں جو احکام ہیں وہ تورات کے احکام عشرہ Ten Commandments کا ہی خلاصہ ہے۔
Read the full tafseer →178 قرآن تورات سے یادہ بابرکت کیسے ہے ؟ تورات کے مقابلہ میں قرآن کے زیادہ بابرکت ہونے کے بھی کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ تورات صرف ایک قوم یعنی بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی تھی جبکہ قرآن سب لوگوں کے لئے ہے اور تمام اقوام عالم سے مخاطب ہے۔ دوسرے یہ کہ تورات ایک مخصوص زمانہ کے لئے تھی جبکہ قرآن قیامت تک کے لئے ہے۔ تیسرے وہ صرف قومی مسائل کا حل پیش کرنے والی تھی۔ یہ پوری انسانیت کے مسائل کا جواب دیتی ہے۔ پھر اس میں پہلی تمام آسمانی کتب و صحائف کے مضامین کو سمو دیا گیا ہے۔ لہذا اب تمہیں دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر اللہ کی رحمت سے حظ وافر لینا چاہتے ہو تو اس کی اتباع کرو۔ اور اس بات…
Read the full tafseer →245 ۔ (آیت) ” فاتبعوہ “۔ اتباع کے تحت میں عقائد، اعمال سب کا اتباع حسب مراتب آگیا۔ ھو امر باتباع الکتاب علی حسب ما تضمنہ من فرض اونفل اواباحۃ و اعتقاد کل منہ علی مقتضاہ (جصاص) (آیت) ” وھذا کتب انزلنہ مبرک “۔ یعنی یہی قرآن جس کی برکتیں قیامت تک منقطع ہونے والی نہیں اور برکت کے تحت میں خیر دینی وخیردنیوی دونوں آگئیں۔ ای کثیر الخیر دنیا ودنیا (روح) ای القران کثیر الخیر (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–163
آیت نمبر 155 تا 165
ترجمہ : اور یہ قرآن ایک بڑی خیر و برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اے مکہ والو ! جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرکے اس کی اتباع کرو، اور کفر سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس کو نازل کیا تاکہ تم یہ نہ کہو سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے وہ فرقوں یہود و نصاریٰ پر نازل کی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے ناواقف تھے ہماری زبان میں ان کتابوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی معرفت حاصل نہ تھی (اِنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنّا، یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اپنی تیزی ذہانت کی وجہ سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، سو اب تمہارے پاس رب کی جانب…
Read the full tafseer →وہذا کتب انزلنہ مبارک فاتبعوہ واتقوا لعلکم ترحمون . اور یا (قرآن) ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا ہے بڑی خیر و برکت والی سو اس پر چلو اور (گناہوں سے) بچو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ یعنی موسیٰ کے بعد اللہ نے قرآن نازل کیا جو خیر و برکت میں توریت سے بڑھ چڑھ کر ہے کیونکہ اس کے الفاظ مختصر ہیں اور مختصر عبارت میں علوم کا کثیر ذخیرہ موجود ہے گویا یہ محیط دائرہ کا مرکز ہے۔ پس توریت کی جگہ اس کے احکام کا اتباع کرو۔ اور مخالفت کی صورت میں اللہ کے عذاب سے ڈرو۔
Read the full tafseer →(155) اور یہ قرآن حکیم جس کو ہم نے بذریعہ جبریل امین ؑ نازل کیا ہے یہ کتاب اس پر ایمان لانے والے کے لیے رحمت ومغفرت کا باعث ہے۔
لہذا اسی کی حلال و حرام چیزوں اور اسی کے اوامر ونواہی کی پیروی کرو اور دوسری غلط چیزوں سے بچو تاکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو جس کی وجہ سے تم پر عذاب نازل نہ ہو۔
Read the full tafseer →وَھٰذَا كِتٰبٌ۔۔ : اس سے مراد قرآن مجید ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
آیت نمبر 154۔ 155
قولہ تعالیٰ : آیت : ثم اتینا موسیٰ الکتب اس میں موسیٰ اور الکتب دونوں مفعول ہیں۔ تماما یہ مفعول من اجلہ ہے یا یہ مصدر ہے ( یعنی مفعول مطلق) علی الذی احسن، احسن کو نصب اور رفع دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ پس جنہوں نے رفع دیا، تو وہ قراءت یحییٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق کی ہے۔ اور وہ اس تقدیر پر ہے : آیت : تماما علی الذی احسن۔ مہدوی نے کہا ہے : اس میں بعد ہے، کیونکہ اس میں مبتدا محذوف ہے جو کہ الذی کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے (یعنی ھو) ۔ اور سیبویہ نے خلیل سے بیان کیا ہے کہ اس نے یہ سنا ہے : ماانا بالذی قائل لک شئا اور جنہوں نے نصب دی ہے تو وہ اس بنا پر کہ یہ فعل ماضی ہے اور صلہ…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وھذا کتب انزلنہ مبرک کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ قرآن ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ پر اتارا لفظ آیت فاتبعوہ واتقوا یعنی اس کی تابعداری کرو جو چیز اس میں حلال کی گئی اور بچو تم ان چیز سے جو حرام کی گئی۔
(2) امام ابن ابی شیبہ اور احمد نے زھد میں اور ابن فریس، محمد بن نصر، اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ یہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت قبول کرلی گئی۔ اور جو کچھ اس نے حلال کیا وہ تصدیق شدہ ہے۔ اور جس شخص نے اس کو امام بنایا اس کو لے جاتا ہے جنت کی طرف…
Read the full tafseer →وَھٰذَا [ اور یہ ] كِتٰبٌ [ ایک کتاب ہے ] اَنْزَلْنٰهُ [ ہم نے اتارا اس کو ] مُبٰرَكٌ [ برکت دی ہوئی ] فَاتَّبِعُوْهُ [ پس تم لوگ پیروی کرو اس کی ] وَاتَّقُوْا [ اور تقوی اختیار کرو ] لَعَلَّكُمْ [ شائد تم پر ] تُرْحَمُوْنَ [ رحم کیا جائے ]
ترکیب : (آیت ۔ 155) وھذا مبتدا ہے اور کتب اس کی خبر ہے ۔ انزلنہ اس کی صفت اول اور مبرک صفت ثانی ہے ۔ (آیت ۔ 156) ان کنا کا ان مخففہ ہے ۔ (دیکھیں آیت نمبر 6:143 ۔ نوٹ، 1) دراستہم کی ضمیر اگر الکتب کے لیے ہوتی تو واحد ” ہ “ آتی اور اگر طائفتین کے لیے ہوتی تو تثنیہ ھما آتی ۔ جمع کی ضمیر ہم بتارہی ہے کہ یہ طائفتین کے لوگوں کیلئے ہے ۔ (آیت ۔ 157) بینۃ ۔ ھدی…
Read the full tafseer →قرآن مبارک کتاب ہے
اس کے بعد قرآن مجید کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے یہ کتاب نازل کی جو مبارک ہے یعنی دنیاو دین کے اعتبار سے اس میں خیر ہی خیر ہے لہٰذا تم اس کا اتباع کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–158
بیان اصول محرمات دربارۂ اقوال وافعال وتلقین مکارم اخلاق و محاسن اعمال
قال اللہ تعالیٰ قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ قل انتظروا انا منتظرون
(ربط) گذشتہ آیات میں جب حق تعالیٰ کافروں کی حرام کردہ چیزوں کو باطل کرچکے اور کھانے اور پینے کے متعلق جو چیزیں من جانب اللہ حرام تھیں ان کا ذکر ہوچکا تو اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کو بیان کرتے ہیں جو اقوال اور افعال سے متعلق رہیں ان آیتوں میں بالترتیب دس چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں اللہ نے معاش اور معاد کی صدہا حکمتیں رکھی ہیں۔
1 ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
2 ۔ ماں باپ کے ساتھ سلوک اور احسان کرو اور ان کے ساتھ برائی نہ کرو
3 ۔…
Read the full tafseer →176 یہ سورت کے دونوں مضمونوں پر دلیل وحی ہے یعنی کتاب بھی تورات کے موافق تحریمات لغیر اللہ کو حلال اور نذور غیر اللہ کو حرام بتا رہی ہے۔ اس کی پیروی کرو اور اس کی مخالفت سے بچو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
پہلے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے شرکیہ افعال کا رد فرمایا اور پھر غیر اللہ کی نیازات کی تردید فرمائی ۔ اس کے بعد ان باتوں کا ذکر ہوا جن کو اللہ نے ناجائز قراردیا ہے اللہ نے ان کے متعلق سخت تاکیدی حکم دیا اور اس کو صراط مستقیم قرار دیا۔ نیز غلط راستوں پر چلنے سیمنع فرمایا ، کین کہ غلط راستے اللہ کے راستے سے جدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے تورات کا ذکر فرمایا ہے اور نزول قرآن کا تذکرہ کیا ہے اللہ نے ان دونوں کتابوں کو ہدایت اور رحمت سے تعبیر کیا ہے اور قرآن پاک کا اتباع کر نیکی تلقین کی ہے پھر قرآن پاک کے نزول کی دو وجوہات بیان کر کے…
Read the full tafseer →وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْہُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ 155 ۙ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
ترکیب : تماماً مفعول لہ علی الذین احسن جار متعلق ہے تماما سے وتفصیلا الخ تماما پر معطوف ھذا مبتداء کتاب خبر ان تقولو اے کر اہۃ ان تقولوا وان کنا ان مخففہ واسمہا محذوف ای انا او تقولوا ان تقولوا پر معطوف۔ لوانا شرط لکنا الخ جواب جملہ مفعول تقولوا فمن مبتداء اظلم خبر ممن اس سے متعلق بآیات اللہ کذب کا مفعول۔
تفسیر : یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ ان اشیائِ مذکورہ کا حرام کرنا کچھ نئی بات نہیں۔ ہم ہمیشہ انبیاء کی معرفت لوگوں کو اچھی بری باتوں سے خبر دیتے رہے ہیں۔ چناچہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک کتاب دی تھی یعنی تورات (یہاں سے صاف معلوم ہوا کہ جو کتاب بنام نہاد تورات موسیٰ کے بعد لوگوں نے جمع کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
ملت ابراہیمی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب کا ذکر فرمایا اور اب آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو شریعت ابراہیمی یا ملت ابراہیمی کے جو بنیادی احکام دیئے گئے تھے وہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی بنیاد تھے اور انہی بنیادوں پر اسلامی شریعت کو اٹھایا گیا ہے اور وہی احکام عشرہ ابراہیمی صحیفوں کی طرح تورات میں بھی نازل ہوئے اور اب قرآن کریم میں بھی نازل کیے گئے ہیں ‘ اس لیے اگر تم نے ملت ابراہیمی پر عمل کرنا ہے اور تم اس میں مخلص ہو تو پھر تمہیں اس ہدایت کی طرف رجوع کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے بعد اہل مکہ کو خطاب۔
سابقہ آیات میں اہل کتاب سے خطاب تھا اور اب اہل مکہ کے حوالے سے پوری دنیا کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ اہل مکہ اور باقی لوگوں کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ یہود و نصاریٰ کی ہدایت کے لیے تو کتاب نازل کی گئی تھی۔ ہمیں کتاب سے کیوں محروم رکھا گیا۔ یہاں ان دو گروہوں کے لیے تورات اور انجیل کا الگ الگ ذکر کرنے کے بجائے ” الکتاب “ فرما کر صرف ایک کتاب یعنی تورات کا ذکر کیا گیا ہے یہ اس لیے کہ انجیل تورات ہی کے احکام کا تتمہ اور تفصیل ہے۔ اس بنا پر عیسائیوں، یہودیوں کے لیے ” الکتاب “ لا یا گیا ہے۔ پھر اہل مکہ اور قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو مخاطب…
Read the full tafseer →کسے مزید تصدیق :
آیت 155: وَہٰذَا قرآن کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ کثرت خیر والی فَاتَّبِعُوْہُ وَاتَّقُوْا اس کی مخالفت سے لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
Read the full tafseer →تفسیر 155 (وھذا کتب) یعنی قرآن (انزلنہ مبرک فاتبعوہ) اس کے احکام پر عمل کرو (واتقوا) اطاعت کرو (لعلکم ترحمون)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
(154 ۔ 155) ۔ اوپر کی آیتوں میں فرمایا تھا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ جن چیزوں کو تم لوگوں نے اپنی اٹکل سے حرام ٹھہرا رکھا ہے اصل میں وہ چیزیں حرام نہیں ہیں بلکہ پہلے صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لیکر اب تک حرام وہ چیزیں ہیں جو ان آیتوں میں تم لوگوں کو جتلائی گئی ہیں اب ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے پہلی آیتوں میں جو پیغام الٰہی ہے اس کے پہنچانے کے بعد پھر یہ پیغام بھی ان لوگوں کو پہنچا دیا جاوے کہ شریعت موسوی سے پہلے کہ شریعتوں کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی تو اس میں بھی علاوہ اور تفصیلی احکام کے ان چیزوں کے حرام ہونے کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
آیت 152
(ثم) ” پھر “ اس مقام پر (ثم) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰ کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہ ﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔
(اتینا موسیٰ الکتب) ” موسیٰ ) کو کتاب عنایت کی “ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تو رات ہے (تماماً ) اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لئے (علی الذی احسن) ” ان پر جو نیکو کار ہیں۔ “ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لئے جنہوں نے نیک کام کئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکو کاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–158
اتباعِ قرآن حکیم
قول باری ہے ( وھذا کتاب انزلنہ مبارک فاتبعوہ واتقوا، اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے۔ ایک برتک والی کتاب ، پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو) یہ کتاب یعنی قرآن مجید کی اس کے مقتضیات یعنی فرض یا نفل یا اباحت کے بموجب اتباع کا حکم ہے، نیز اس میں مندرج ہر چیز کا اس کے مقتضیٰ کے مطابق اعتقاد کا امر ہے۔ برکت خیر یعنی بھلائی کے ثبوت اور اس کے نمو کا نام ہے،۔ فقرہ ” تبارک اللہ “ ثبات کی صفت ہے جس کا نہ کوئی اول ہے نہ آخر۔ اس تعظیم کا استحقاق صرف اللہ وحدہ، لا شریک کو حاصل ہے۔ قول باری ہے ( ان تقولوا انما انزل الکتاب علی طائفتین من قبلنا۔ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
321 نعمتوں کی اصل تکمیل کتاب ہدایت ہی سے ہوتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی تمام کرنے کے لیے اپنی نعمت کو۔ یعنی { تماماً } یہاں پر مفعول لہ ہے کہ اپنی نعمت کی تکمیل کے لئے ہم نے ان پر وہ کتاب یعنی تورات نازل کی تھی۔ معلوم ہوا کہ علم اور ہدایت کی نعمت سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہے۔ اور دوسرا احتمال اسمیں یہ بھی ہے کہ " تماما " صفت ہو کتاب کی ۔ " اَی کَتَابًا تَامًّا کَامِلاً " ۔ یعنی ان کو ایسی کامل کتاب عطا فرمائی جو اس وقت کے لحاظ سے تمام ضروری احکام و مسائل پر حاوی و مشتمل تھی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَکَتَبْنَا لَہ فِی الاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیٍٔ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
قرآن مجید ایک مکمل کتاب
تشریح : یہاں قرآن پاک کی چند خوبیوں اور برکتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے غورو فکر کر کے میری پیروی کرو۔ خلوص نیت سے عمل کرو اور پھر تقویٰ اختیار کرو، صاف ظاہر ہے کہ جب کوئی ان تینوں ہدایات پر عمل کرے گا تو اللہ کی رحمت اس پر ضرور نازل ہوگی۔ پھر ان تمام باتوں کا جواب بھی اللہ تعالیٰ خود ہی دیتے ہیں جو کہ منکرین بہانے بنا سکتے تھے۔ مثلاً یہ کہ تم لوگ کہیں یہ نہ کہتے ہمیں تو کتاب ملی ہی نہیں۔ پہلے لوگوں کو ملی اور وہ ہم نہ پڑھ سکے یا یہ کہتے کہ اگر ہمیں بھی کتاب دی جاتی تو ہم ضرور پہلے لوگوں کی نسبت زیادہ عمل کرنے والے ثابت ہوتے، لہٰذا اب تمہارے پاس کوئی حیلہ بہانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 ۔ تا۔ 155 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ ان کی باتوں پہ توجہ نہ دیں بلکہ انہیں فرما دیں کہ لوگو آؤ میں تمہیں ان چیزوں اور ان کاموں سے باخبر کردوں جو تمہارے پروردگار نے حرام یعنی ممنوع قرار دئیے ہیں تاکہ محض اندازوں پہ عمل کرنے کی بجائے تمہیں یقینی علم حاصل ہو اور تم عمل کرکے اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکو جس کے ساتھ دونوں عالم کا سکون وابستہ ہے اگرچہ بظاہر اس دور کے راہ گم کردہ لوگ مکاطب ہیں مگر ایسے بلیغ انداز میں ارشادات سے نوازا کہ ساری انسانیت کے لیے اور ہمیشہ کے لیے اساس اور بنیاد فراہم فرما دی یہ ایک ایسا منشور ارشاد ہوا کہ مفسرین کے مطابق آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
ف 7 یعنی چونکہ ہم ان کی زبان نہ نانتے تھے۔ اس لیے ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے اور ان کے سمجھنے سے قاصر رہے۔ ( قرطبی)
Read the full tafseer →(6:155) وھذا کتب۔ یعنی قرآن حکیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–158
لغات القرآن : آیت نمبر 154 : 158 :
تماما ( مکمل) طائفتین (طائفۃ) ۔ دو جماعتیں۔ دوفرقے) صدف ( اس نے انکار کیا) انتظروا (تم انتظار کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 154 تا 158 :
فرمان الٰہی کا رخ اہل عرب کفار و مشرکین کی طرف ہے۔ فرمایا کہ
تمہیں جو بہانہ ڈھونڈنے ‘ بھاگنے کا چور دروازہ تلاش کرنے اور کسی نہ کسی طرح چھوٹ نکلنے کی عادت ہے۔ تو ممکن تھا تم یہ بہانہ کرتے۔ کہ توریت اور انجلش تو یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے نازل کی گئی تھیں۔ ہمیں کیا خبر وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔ ہم تو کلام الٰہی سے بےبہرہ رہے۔ اس لئے ہم بےقصور ہیں۔ تمہیں جو بڑھ بڑھ کے جھوٹے دعوے کرنے کی عادت ہے ‘ بعید نہ تھا تم یہ کہتے ۔ اگر ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تفصیلی احکام شرعی اور پورے پچھلے لوگوں کی ہلاکت کے قصے ملا کر توریت ایسی حسن ترتیب سے نازل کیا گیا ہے جس کی ہدایت کا اثر بنی اسرائیل کے دلوں پر پورا پڑے گا اور توریت کے نازل ہونے پر عام عذاب کی نوبت نہ آئے گی۔ اسی واسطے فرمایا کہ تورات کا نازل ہونا بنی اسرائیل کے حق میں ایک رحمت الٰہی ہے۔ آخر کو یہ جو فرمایا کہ شاید اس قدر رحمت کے بد یہود کے دلوں میں ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا یقین پیدا ہو، جس کے سبب سے وہ اصلی توراۃ کے احکام کی پوری پابندی کر کے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کے وقت پوری سرخروئی حاصل کریں۔ اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–156
[59] یعنی یہود و نصاریٰ پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
(ف 1) قرآن حکیم کتاب مبارک ہے یعنی اس کے استفادے سے خیروبرکت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں ، اور یہ خوش اعتقادی نہیں ، حقیقت ہے جب بھی اس پر عمل کیا گیا ہے ، اس نے اپنے معجزات وخوارق سے دنیا کو حیران کردیا ہے ۔
آج جس قدر زندگی جس قدر روشنی اور بیداری نظر آرہی ہے یہ قرآن ہی کا طفیل ہے ۔
حل لغات :
دراسۃ : پڑھنا مطالعہ کرنا ۔
Read the full tafseer →-155 اور توریت کی طرح یہ قرآن کریم بھی بڑی بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے لہٰذا تم اب اس کتاب کی پیروی کرو اور قرآن کریم کی مخالفت سے بچتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے یعنی قرآن کریم کی مخالفت سے یا قرآن کریم پر عمل کرنے کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہو جو قرآن کریم پر عمل کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
ف 3۔ مثلا اس کے کام میں لگانا اس کی حفاظت کرنا اور بعض اولیاء اور اوصیاء کو اس میں یتیم کے لیے تجارت کرنا بھی جائز ہے۔
4۔ پھر ان احکام میں کوتاہی کیوں کی جائے۔
5۔ جس کے مقابلہ میں وہ بات کہہ رہے ہو۔
6۔ جیسے قسم یا نذر بشرط اس کے مشروع ہونے کے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کے نزول کا مقصد وحید بھی یہی ہے کہ تم راہ راست پر آجائو :
246: ” وَ ہٰذَا کِتٰبٌ “ اور یہ کتاب ہے یعنی قرآن کریم اور اس کے اتارنے والے بھی ہم ہی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس کا نازل کرنے والا ہے جس نے اس سے پہلے تورات کو نازل کیا تھا اور اس میں بھی وہ برکت رکھی گئی اور ان باتوں کو جو تورات میں لوگوں نے اپنی طرف سے داخل کردی تھیں نکال کر بالکل صاف اور پاک کردیا گیا ہے اور اس کے نزول کا مقصد بھی یہ ہے کہ تم لوگ اس کی پیروی کرو اور اپنے آپ کو پرہیزگار بنا لو اور ایسا ڈھنگ اختیار کرو کہ تم پر اللہ اپنی خاص رحمت نازل کردے تاکہ تم اس زندگی مین بھی کامیاب وکامران ہو اور تمہاری آخرت بھی سنور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
Commentary
The reason of being ` ignorant of (or heedless to) what they studied - 156' was not that the Torah and the Injil were non-existent in the Arabic language because it is possible to become informed of the contents through a translation, in fact, this happens. Instead, this is because the people of the Book never took steps to educate and inform the people of Arabia in the mores of monotheism. That something falls within hearing distance casually is customarily ineffective as a meaningful warning - though, this much note of warning makes search and consideration obligatory, and on…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
136. To believe in 'meeting with the Lord' signifies the conviction that one is answerable to God, and which leads one to adopt responsible behaviour in life.
The statement made here could mean two things. It might mean that the teachings of the heavenly Book vouchsafed to Moses could itself create a sense of responsibility among the Israelites. Alternatively, it might mean that when ordinary people observe the wonderful way of life prescribed by God, and note the beneficial effects of its merciful dispensation in the lives of righteous people, they will come to realize that belief in the…
Read the full tafseer →