Explained with ayahs 154–155
جنوں نے قرآن حکیم سنا
امام ابن جریر نے تو لفظ ثم کو ترتیب کے لئے مانا ہے یعنی ان سے یہ بھی کہہ دے اور ہماری طرف سے یہ خبر بھی پہنچا دے لیکن میں کہتا ہوں ثم کو ترتیب کیلئے مان کر خبر کا خبر پر عطف کردیں تو کیا حرج ؟ ایسا ہوتا ہے اور شعروں میں موجود ہے چونکہ قرآن کریم کی مدح آیت (ان ھذا صراطی مستقیما) میں گذری تھی اس لئے اس پر عطف ڈال کر توراۃ کی مدح بیان کردی۔ جیسے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے۔ چناچہ فرمان ہے آیت (ومن قبلہ کتاب موسیٰ اماما و رحمتہ و ھذا کتاب مصدق لسانا عربیا) یعنی اس سے پہلے توراۃ امام رحمت تھی اور اب یہ قرآن عربی تصدیق کرنے والا ہے۔ اسی سورت کے اول میں ہے آیت (قُلْ مَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
سورة الْاَنْعَام 136
رب کی ملاقات پر ایمان لانے سے مراد اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھنا اور ذمہ دارانہ زندگی بسر کرنا ہے۔ یہاں اس ارشاد کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ خود بنی اسرسائیل میں اس کتاب کی حکیمانہ تعلیمات سے ذمہ داری کا احساس بیدار ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ عام لوگ اس اعلیٰ درجہ کے نظام زندگی کا مطالعہ کر کے اور نیکو کار انسانوں میں اس نعمت ہدایت اور اس رحمت کے اثرات دیکھ کر یہ محسوس کرلیں کہ انکار آخرت کی غیر ذمہ دارانہ زندگی کے مقابلہ میں وہ زندگی ہر اعتبار سے بہتر ہے جو اقرار آخرت کی بنیاد پر ذمہ دارانہ طریقہ سے بسر کی جاتی ہے، اور اس طرح یہ مشاہدہ و مطالعہ انہیں انکار سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
خلاصہ تفسیر
پھر (مضمون ابطال شرک کے بعد ہم مسئلہ نبوت میں کلام کرتے ہیں کہ ہم نے صرف آپ ﷺ کو اکیلا ہی نہیں بنایا، جس پر یہ لوگ اس قدر شور و غل مچا رہے ہیں، بلکہ آپ ﷺ سے قبل) ہم نے موسیٰ ؑ کو (پیغمبر بنا کر) کتاب (تورات) دی تھی، جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر (ہماری) نعمت پوری ہو (کہ عمل کرکے ثواب کامل حاصل کریں) اور سب (ضروری) احکام کی (اس کے ذریعہ سے) تفصیل ہوجاوے اور (اس کے ذریعہ سے سب کو) رہنمائی ہو اور (ماننے والوں کیلئے) رحمت ہو (ہم نے اس صفت کی کتاب اس لئے دی) تاکہ وہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل) اپنے رب کے ملنے پر یقین لاویں (اور اعتقاد لقاء سے اب احکام کو بجا لاویں) اور (جب اس کا اور اس…
Read the full tafseer →ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ۔
ملت موسیٰ اور ملت ابراہیمی میں اشتراک :۔ ثُمَّ یہاں ترتیب کو ظاہر کرتا ہے۔ اوپر، جیسا کہ واضح ہوا، ملت ابراہیم کا بیان تھا، حضرت ابراہیم ؑ کے بعد صاحب شریعت اور صاحب کتاب رسول سیدنا موسیٰ ہی ہیں، فرمایا کہ ابراہیم کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تاکہ اپنے خوب کار بندے پر اپنی شریعت کی نعمت تمام کریں، اس میں ہر ضروری بات کی تفصیل کو دیں اور اس ہدایت و رحمت بنائیں تاکہ لوگ آخرت میں اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔
یہاں یہ بات ذہن…
Read the full tafseer →154۔ 1 قرآن کریم کا یہ اسلوب ہے جو متعدد جگہ دہرایا کہ جہاں قرآن کا ذکر ہوتا ہے وہاں تورات کا اور جہاں تورات کا ذکر ہو وہاں قرآن کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ اس کی متعدد مثالیں حافظ ابن کثیر نے نقل کی ہیں۔ اسی اسلوب کے مطابق یہاں تورات کا اور اس کے وصف کا بیان ہے کہ وہ بھی اپنے دور کی ایک جامع کتاب تھی جس میں ان کی دینی ضروریات کی تمام باتیں تفصیل سے بیان کی گئی تھیں اور وہ ہدایت اور رحمت کا باعث تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
82: خریدو فروخت کے وقت ناپ تول کا پورا لحاظ رکھنا واجب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمادیا کہ اس معاملے میں طاقت سے زیادہ میخ نکالنے کی بھی ضرورت نہیں انسان کو پوری پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ناپ تول ٹھیک ہو، لیکن کوشش کے باوجود تھوڑا بہت فرق رہ جائے تو وہ معاف ہے۔
83: اللہ کے عہد میں وہ عہد بھی داخل ہے جس میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ کیا گیا ہو، اور وہ عہد بھی جو کسی انسان سے کیا گیا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھاکر یا اس کو گواہ بناکر کیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 154۔
یہ کلام لفظ ثم کے ذریعہ کلام ماقبل پر عطف ہے ۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ پہلے یہ آیت آئی تھی ۔
آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً “۔ (6 : 151) جہاں یہ بیان کرنا مقصود تھا کہ تمہارا حرام کردہ حرام نہیں بلکہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ۔ پھر کہا آیت ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً “۔ (6 : 153) کہ یہی میرا سیدھا راستہ اور دین ہے ۔ اس جملے کا عطف پہلے پر ہوا تھا ۔ یعنی آیت ” الا تشرکوا بہ “۔ پر اس کے بعد یہ آیت آئی آیت ” ثم اتینا موسیٰ الکتب “۔ (6 : 154) جس کا عطف مذکورہ بالا دونوں جملوں پر ہوا ۔ اس طرح یہ پورا…
Read the full tafseer →2 معلوم ہوتا ہے کہ جو احکام اوپر ( قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ) 6 ۔ الانعام :151) سے پڑھ کر سنائے گئے، یہ ہمیشہ سے جاری تھے۔ تمام انبیاء اور شرائع کا ان پر اتفاق رہا کیا۔ بعدہ، حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری جس میں احکام شرع کی مزید تفصیل درج تھی۔ تورات عطا فرما کر اس زمانہ کے نیک کام کرنے والوں پر خدا نے اپنی نعمت پوری کردی۔ ہر ضروری چیز کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا اور ہدایت و رحمت کے ابو اب مفتوح کردیے تاکہ اسے سمجھ کر لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کا کامل یقین حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
آیت 154 ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً
حضرت عبداللہ بن عباس رض کے نزدیک سورة بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں جو احکام ہیں وہ تورات کے احکام عشرہ Ten Commandments کا ہی خلاصہ ہے۔
Read the full tafseer →176۔ الف اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج کل بائیبل میں جو عہد نامہ عتیق پایا جاتا ہے اور جسے تورات سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ تورات نہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی تھی۔ کیونکہ وہ تورات تو دو بار گم ہوئی اور از سر نو لکھی جاتی رہی پھر اس میں الحاقی مضامین شامل ہوئے اور تحریف بھی ہوئی۔ اور جو تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اس میں نیک لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی۔ اخلاقی، تمدنی، معاشرتی اور معاشی احکام کے ہر لحاظ سے مکمل تھی اور اس کی نمایاں خوبی یہ تھی کہ اس سے آخرت پر ایمان پختہ ہوتا تھا۔
177 آخرت پر ایمان رکنے اور نہ رکھنے اور نہ رکھنے والے کی زندگی کا…
Read the full tafseer →244 ۔ بنی اسرائیل کے تمام امراض کا سرچشمہ یہی تھا کہ ان کا اعتقاد آخرت ڈھیلا ہو کر برائے نام رہ گیا تھا۔ مذہب کو جس حد تک مانتے بھی تھے۔ محض دنیوی بہبود و ترقی کے خاطر۔ ٹھیک وہی نقطہ نظر جو آج بھی یورپ زادوں اور یورپ زادوں اور یورپ زدوں کا ہوگیا ہے۔ مذہب کے ان پہلوؤں سے انہیں بحث ہی نہیں کہ اس میں ذات وصفات باری کا ذکر کتنا اعلی اور مفصل ہے۔ نجات کی کیسی کیسی تشفی بخش صورتیں اس نے بتائیں ہیں۔ غرض یہ کہ دائمی راحت کے حصول میں وہ کہاں تک معین ہے، بلکہ تلاش صرف ان مسئلوں کی رہ گئی ہے۔ جن سے اس دنیا میں فوری سکھ حاصل ہوسکے ! (آیت) ” ثم “۔ اوپراثبات توحید وابطال شرک کا مضمون معہ فروع کے تھا۔ اب اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
وان ھذا صراطی مستقیما، صراط مستقیم کو واحد کے صیغہ سے بیان فرمایا کیونکہ اللہ کی اور قرآن اور رسول کی اور صحابہ کی راہ ایک ہی ہے یہی ملت اسلامیہ کی وحدت و اجتماع کی بنیاد ہے، اگر امت مسلمہ اس واحد صراط مستقیم سے ہٹی تو مختلف گروہوں میں بٹ جائیگی اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ” اَن اقیموا الدین ولا تتفرقوا “ (شوریٰ ) دین کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو گویا اختلاف اور تفرقہ کی قطعاً اجازت نہیں، اسی مفہوم کو حدیث پاک میں آپ نے اس طرح واضح فرمایا۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے ایک سیدھا خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے اور چند خطوط اس کے دائیں بائیں کھینچے اور فرمایا یہ وہ…
Read the full tafseer →ثم اتینا موسیٰ الکتب . پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب (یعنی توریت) دی۔ ایک شبہ ثم : کلام عربی میں تراخی کے لئے آتا ہے یعنی ثم : کے بعد والے کلام کا وقوع ثم : سے پہلے والے کلام کے وقوع سے بعد کو ہوتا ہے لیکن اس جگہ ایسا نہیں۔ حضرت موسیٰ کی کتاب تو مذکورہ نصائح سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اس شبہ کا جواب بوجوہ ذیل دیا جاسکتا ہے۔ اتینا : کا عطف وصکم بہ : پر ہے اور ثم : صرف تاخیر بیان کے لئے استعمال ہوا ہے (واقعی تقدیم و تاخیر ملحوظ نہیں ہے) یعنی مذکورۂ بالا نصیحت کرنے کے بعد اب ہم تم کو بتاتے ہیں کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی۔ یا مرتبہ کے تفاوت کے لئے ہے (یعنی عموم سے خصوص کی طرف ترقی کی گئی ہے) مطلب یہ…
Read the full tafseer →(154) ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو توریت دی جس میں اوامر نواہی، وعدہ وعید، ثواب و عقاب سب باتیں احسن طریقہ پر موجود تھیں، یا یہ کہ جو کہ حضرت موسیٰ ؑ پر احسان اور ان کے پروردگار کی رسالت کی تبلیغ تھی اور حلال و حرام میں سے ہر ایک چیز کا اس میں بیان موجود تھا اور مومن کے لیے عذاب الہی سے رحمت کا باعث تھی، تاکہ یہ لوگ بعث بعدالموت کی تصدیق کریں۔
Read the full tafseer →ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ : ”پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی“ میں ”پھر“ کا لفظ زمانے کی ترتیب کے لیے نہیں کہ موسیٰ ؑ کو کتاب بعد میں ملی، بلکہ بعد میں ذکر کی وجہ سے ہے، اسے ترتیب ذکری کہتے ہیں، مثلاً دیکھیے سورة بلد کی آیت (17)۔ متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور تورات کا ذکر اکٹھا کیا ہے۔ (ابن کثیر)
تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ۔۔ : ”تَمَامًا“ یہاں ”اِتْمَامًا“ (پورا کرنے) کے معنی میں ہے، یعنی ہم نے تورات ہر اس شخص پر نعمت پوری کرنے کے لیے جو نیکی کرے اور ہر چیز کی تفصیل، رہنمائی اور رحمت کے لیے نازل فرمائی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ یعنی بنی اسرائیل اپنے رب کی ملاقات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
آیت نمبر 154۔ 155
قولہ تعالیٰ : آیت : ثم اتینا موسیٰ الکتب اس میں موسیٰ اور الکتب دونوں مفعول ہیں۔ تماما یہ مفعول من اجلہ ہے یا یہ مصدر ہے ( یعنی مفعول مطلق) علی الذی احسن، احسن کو نصب اور رفع دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ پس جنہوں نے رفع دیا، تو وہ قراءت یحییٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق کی ہے۔ اور وہ اس تقدیر پر ہے : آیت : تماما علی الذی احسن۔ مہدوی نے کہا ہے : اس میں بعد ہے، کیونکہ اس میں مبتدا محذوف ہے جو کہ الذی کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے (یعنی ھو) ۔ اور سیبویہ نے خلیل سے بیان کیا ہے کہ اس نے یہ سنا ہے : ماانا بالذی قائل لک شئا اور جنہوں نے نصب دی ہے تو وہ اس بنا پر کہ یہ فعل ماضی ہے اور صلہ…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت تماما علی الذی احسن کے بارے میں فرمایا یعنی ہم ایمان والے نیک لوگ پر نعمت پوری کردیں۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو ضحر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت تماما علی الذی احسن یعنی تاکہ وہ نعمت پوری کردیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت تماما علی الذی احسن یعنی تاکہ ان پر اپنی نعمت اور اپنا احسان کو پورا کردیں۔
(4) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت تماما علی الذی احسن یعنی جس نے نیک عمل…
Read the full tafseer →ثُمَّ [ پھر ] اٰتَيْنَا [ ہم نے دی ] مُوْسَى [ موسیٰ (علیہ السلام) کو ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] تَمَامًا [ مکمل ہوتے ہوئے ] عَلَي الَّذِيْٓ [ اس پر (یعنی اس کے لئے ) جس نے ] اَحْسَنَ [ بلا کم وکاست کام کیا ] وَتَفْصِيْلًا [ اور تفصیل ہوتے ہوئے ] لِّكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کے لیے ] وَّهُدًى [ اور ہدایت ہوتے ہوئے ] وَّرَحْمَةً [ اور رحمت ہوتے ہوئے ] لَّعَلَّهُمْ [ شائد وہ لوگ ] بِلِقَاۗءِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی ملاقات پر ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لائیں ]
Read the full tafseer →توریت شریف کامل کتاب تھی رحمت اور ہدایت تھی
ثُمَّ ترتیب ذکری کے لیے ہے مطلب یہ ہے کہ مذکورہ باتوں کے بعد یہ بات جان لو کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی تھی اور اس میں ان لوگوں کے لیے نعمت کی تکمیل ہے جو نیکوکار ہیں جو اس کتاب پر اچھی طرح عمل کریں۔ اور یہ کتاب ایسی تھی جس میں ہر چیز تفصیل سے بیان کی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت سے متعلق تھی۔ اور وہ کتاب ہدایت بھی تھی اور رحمت بھی۔ اس کتاب سے توریت شریف مراد ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی تاکہ بنی اسرائیل اس کتاب پر ایمان لائیں اور آخرت کی تصدیق کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–158
بیان اصول محرمات دربارۂ اقوال وافعال وتلقین مکارم اخلاق و محاسن اعمال
قال اللہ تعالیٰ قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ قل انتظروا انا منتظرون
(ربط) گذشتہ آیات میں جب حق تعالیٰ کافروں کی حرام کردہ چیزوں کو باطل کرچکے اور کھانے اور پینے کے متعلق جو چیزیں من جانب اللہ حرام تھیں ان کا ذکر ہوچکا تو اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کو بیان کرتے ہیں جو اقوال اور افعال سے متعلق رہیں ان آیتوں میں بالترتیب دس چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں اللہ نے معاش اور معاد کی صدہا حکمتیں رکھی ہیں۔
1 ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
2 ۔ ماں باپ کے ساتھ سلوک اور احسان کرو اور ان کے ساتھ برائی نہ کرو
3 ۔…
Read the full tafseer →175 سورت کے دونوں مضمونوں یعنی نفی شرک اعتقادی اور نفی شرک فعلی کو ذکر کرنے کے بعد آخر میں دونوں مضمونوں پر ایک دلیل نقلی اور ایک دلیل وحی ذکر کی گئی۔ اس آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دلیل نقلی پیش کی گئی ہے ثُمَّ یہاں تعقیب ذکری کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مذکور بیان کے بعد یہ بھی سن لو یہ مطلب نہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اس کے بعد دی گئی۔ تَمَامًا بمعنی اتماماً ۔ اٰتَیْنَا کا مفعول لہ ہے یعنی نعمت دین کے اتمام کے لیے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی یا تماماً بمعنی تاما الکتاب سے حال ہے۔ یعنی وہ کتاب (تورات) کامل و مکمل تھی اور اس میں یہ دونوں مضمون مذکور تھے۔ نفی شرک فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
پہلے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے شرکیہ افعال کا رد فرمایا اور پھر غیر اللہ کی نیازات کی تردید فرمائی ۔ اس کے بعد ان باتوں کا ذکر ہوا جن کو اللہ نے ناجائز قراردیا ہے اللہ نے ان کے متعلق سخت تاکیدی حکم دیا اور اس کو صراط مستقیم قرار دیا۔ نیز غلط راستوں پر چلنے سیمنع فرمایا ، کین کہ غلط راستے اللہ کے راستے سے جدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے تورات کا ذکر فرمایا ہے اور نزول قرآن کا تذکرہ کیا ہے اللہ نے ان دونوں کتابوں کو ہدایت اور رحمت سے تعبیر کیا ہے اور قرآن پاک کا اتباع کر نیکی تلقین کی ہے پھر قرآن پاک کے نزول کی دو وجوہات بیان کر کے…
Read the full tafseer →ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّہُدًى وَّرَحْمَۃً لَّعَلَّہُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّہِمْ يُؤْمِنُوْنَ 154 ۧ
ثمَ
ثُمَّ حرف عطف يقتضي تأخر ما بعده عمّا قبله، إمّا تأخيرا بالذات، أو بالمرتبة، أو بالوضع حسبما ذکر في ( قبل) وفي (أول) . قال تعالی: أَثُمَّ إِذا ما وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ آلْآنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا، [يونس/ 51- 52] ، وقال عزّ وجلّ : ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ [ البقرة/ 52] ، وأشباهه . وثُمَامَة : شجر، وثَمَّتِ الشاة : إذا رعتها ، نحو : شجّرت : إذا رعت الشجر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
ترکیب : تماماً مفعول لہ علی الذین احسن جار متعلق ہے تماما سے وتفصیلا الخ تماما پر معطوف ھذا مبتداء کتاب خبر ان تقولو اے کر اہۃ ان تقولوا وان کنا ان مخففہ واسمہا محذوف ای انا او تقولوا ان تقولوا پر معطوف۔ لوانا شرط لکنا الخ جواب جملہ مفعول تقولوا فمن مبتداء اظلم خبر ممن اس سے متعلق بآیات اللہ کذب کا مفعول۔
تفسیر : یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ ان اشیائِ مذکورہ کا حرام کرنا کچھ نئی بات نہیں۔ ہم ہمیشہ انبیاء کی معرفت لوگوں کو اچھی بری باتوں سے خبر دیتے رہے ہیں۔ چناچہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک کتاب دی تھی یعنی تورات (یہاں سے صاف معلوم ہوا کہ جو کتاب بنام نہاد تورات موسیٰ کے بعد لوگوں نے جمع کی…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْئٍ وَّ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لَّعَلَّھُمْ بِلِقَآئِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانعام : 154)
(پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ‘ اپنی نعمت پوری کرنے کے لیے اس پر جو خوب کار تھا اور ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت ‘ تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں)
تورات مکمل ہدایت اور رحمت تھی
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلا لفظ ثمَّ ہے اس کا معنی ہے ” پھر “ یہ ترتیب پر دلالت کر رہا ہے یعنی جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ دس احکام دیئے تھے جو ان کی شریعت کی اساس تھے اس طرح ہم نے یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : صراط مستقیم کے نو سنگ میلوں کی نشاندہی کرنے کے بعد اشارہ دیا ہے کہ یہ نصیحتیں تورات میں بھی موجود ہیں۔
یہاں لفظ ” ثُمَّ “ لا کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جس کتاب کی دعوت اور جس راستے کی طرف بلاتے تھے اس کے بنیادی اصول بھی یہی تھے تورات میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا احکام کی تفصیلات نازل فرمائی تھیں۔ تاکہ اس شخص کے لیے ہدایت اور رحمت کے دروازے کھل جائیں جو اپنے رب کی ملاقات پر ایمان رکھتا ہے۔ اور یہی صفات اس کتاب یعنی قرآن مجید میں ہیں جو ہدایت کا سرچشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پیش خیمہ ہے جس میں انسان کی ہدایت کے لیے مکمل اور جامع رہنمائی کی گئی ہے…
Read the full tafseer →حوالہ تورات سے ان احکامات کی تصدیق :
آیت 154: ثُمَّ ٰاتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا یعنی تم کو خبر دی ہے کہ ہم نے دی یا اس کا عطف قل پر ہے کہ پھر کہو ہم نے دی یا ثُمَّ جملہ کے ساتھ وائو کے معنی میں ہے جیسا اس آیت میں ثم اللّٰہ شہید (یونس 46) عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ اس پر جو محسن اور صالح ہو۔ مراد اس سے جنس محسن ہے اس کی دلیل قراءت عبداللہ ؓ علی الذین احسنوا۔ یا اس سے موسیٰ ( علیہ السلام) مراد ہیں۔ یعنی تکمیل کرامت کے لئے اس بندے پر جس نے تبلیغ میں خوب اطاعت اختیار کی اور ہر حکم میں اچھی تابعداری کی۔ وَتَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْئٍ دین میں جس چیز کی ان کو ضرورت تھی۔ اس کی بالتفصیل وضاحت…
Read the full tafseer →154 (ثم اتینا موسیٰ الکتب) اگر یہ اعتراض ہو کہ ” ثم اتینا “ کیوں کہا ہے کیونکہ ” ثم “ تو کسی چیز کے بہت بعد میں آنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تو قرآن کے آنے سے بہت پہلے دی گئی تھی ؟ تو جواب یہ ہے کہ معنی یہ ہے کہ پھر میں نے تمہیں خبر دی کہ میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی تو ” ثم “ کو خبر مئوخر ہونے کے لئے لایا گیا ہے نزول مئوخر ہونے کے لئے نہیں۔ (تماما علی الذی احسن) ” الذی احسن “ کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے نیک کام کرنے والے مراد ہیں اس صورت میں ” الذی “ من کے معنی میں ہوگا کہ جس شخص نے ان کی قوم میں سے نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
(154 ۔ 155) ۔ اوپر کی آیتوں میں فرمایا تھا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ جن چیزوں کو تم لوگوں نے اپنی اٹکل سے حرام ٹھہرا رکھا ہے اصل میں وہ چیزیں حرام نہیں ہیں بلکہ پہلے صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) سے لیکر اب تک حرام وہ چیزیں ہیں جو ان آیتوں میں تم لوگوں کو جتلائی گئی ہیں اب ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے پہلی آیتوں میں جو پیغام الٰہی ہے اس کے پہنچانے کے بعد پھر یہ پیغام بھی ان لوگوں کو پہنچا دیا جاوے کہ شریعت موسوی سے پہلے کہ شریعتوں کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی تو اس میں بھی علاوہ اور تفصیلی احکام کے ان چیزوں کے حرام ہونے کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
آیت 152
(ثم) ” پھر “ اس مقام پر (ثم) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰ کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہ ﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔
(اتینا موسیٰ الکتب) ” موسیٰ ) کو کتاب عنایت کی “ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تو رات ہے (تماماً ) اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لئے (علی الذی احسن) ” ان پر جو نیکو کار ہیں۔ “ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لئے جنہوں نے نیک کام کئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکو کاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار…
Read the full tafseer →توریت
قول باری ہے ( ثم اتینا موسیٰ الکتاب تماما علی الذین احسن، پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل تھی) آیت میں وارد حرف ثم کے متعلق ایک قول ہے کہ اس کے معنی ہیں۔ ثم قل اتینا موسیٰ الکتاب ( پھر کہہ دو کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی) اس لیے کہ یہ قول باری تعالیٰ ( قل تعالوا تل ما نوم ربکم علیکم۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہہ دو کہ پئو میں تمہیں
سنائوں، تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں) پر عطف ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ” و اتینا موسیٰ الکتاب ( اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی) جس طرح یہ قول باری ہے ( ثم اللہ شھید) اس کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
321 نعمتوں کی اصل تکمیل کتاب ہدایت ہی سے ہوتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی تمام کرنے کے لیے اپنی نعمت کو۔ یعنی { تماماً } یہاں پر مفعول لہ ہے کہ اپنی نعمت کی تکمیل کے لئے ہم نے ان پر وہ کتاب یعنی تورات نازل کی تھی۔ معلوم ہوا کہ علم اور ہدایت کی نعمت سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہے۔ اور دوسرا احتمال اسمیں یہ بھی ہے کہ " تماما " صفت ہو کتاب کی ۔ " اَی کَتَابًا تَامًّا کَامِلاً " ۔ یعنی ان کو ایسی کامل کتاب عطا فرمائی جو اس وقت کے لحاظ سے تمام ضروری احکام و مسائل پر حاوی و مشتمل تھی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَکَتَبْنَا لَہ فِی الاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیٍٔ…
Read the full tafseer →سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات
تشریح : اس آیت میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ انسان کی بہتری، بھلائی اور نجات کے لیے نبی بھیجے جاتے رہے۔ سب نے اللہ کی توحید کی دعوت دی اور اس دور میں موجودہ برائی سے روکا۔ اسی طرح جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ آیا۔ اس وقت مصر میں فرعون نے ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو فرعون سے آزاد کروایا۔ دنیا میں قانون الٰہی کی پہلی مکمل کتاب تورات ہے اور پہلی قوم بنی اسرائیل ہے جس کو شریعت دی گئی۔ یہ کتاب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی۔ اس میں ہر مسئلہ کو وضاحت سے بیان کردیا گیا تاکہ لوگ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 ۔ تا۔ 155 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ ان کی باتوں پہ توجہ نہ دیں بلکہ انہیں فرما دیں کہ لوگو آؤ میں تمہیں ان چیزوں اور ان کاموں سے باخبر کردوں جو تمہارے پروردگار نے حرام یعنی ممنوع قرار دئیے ہیں تاکہ محض اندازوں پہ عمل کرنے کی بجائے تمہیں یقینی علم حاصل ہو اور تم عمل کرکے اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکو جس کے ساتھ دونوں عالم کا سکون وابستہ ہے اگرچہ بظاہر اس دور کے راہ گم کردہ لوگ مکاطب ہیں مگر ایسے بلیغ انداز میں ارشادات سے نوازا کہ ساری انسانیت کے لیے اور ہمیشہ کے لیے اساس اور بنیاد فراہم فرما دی یہ ایک ایسا منشور ارشاد ہوا کہ مفسرین کے مطابق آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی بنی اسرائیل کو۔
Read the full tafseer →(6:154) ثم اتینا موسیٰ الکتب۔ یہاں ثم کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
ثم پھر ۔ التراخی فی الوقت کے لئے بولا جاتا ہے ۔ یعنی ماقبل سے مابعد کے وقت کے لحاظ سے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ لیکن بعض دفعہ التراخی فی الزنیہ کے لئے بھی بولتے ہیں۔ ایسے موقع پر اس کے معنی ہوں گے مزید برآں۔ اس سے بڑھ کر۔ ان معنوں میں یہ آیۃ 2:29 میں استعمال ہوا ہے۔ ارشاد باری ہے۔ ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا ثم استوی الی السماء فسوھن سبع سموت وہی ذات ہے جس نے سب کچھ جو زمین میں ہے تمہارے واسطے پیدا کیا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو سات آسمان مکمل کر دئیے۔
یہاں تراخی فی الوقت تو ہو نہیں سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–158
لغات القرآن : آیت نمبر 154 : 158 :
تماما ( مکمل) طائفتین (طائفۃ) ۔ دو جماعتیں۔ دوفرقے) صدف ( اس نے انکار کیا) انتظروا (تم انتظار کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 154 تا 158 :
فرمان الٰہی کا رخ اہل عرب کفار و مشرکین کی طرف ہے۔ فرمایا کہ
تمہیں جو بہانہ ڈھونڈنے ‘ بھاگنے کا چور دروازہ تلاش کرنے اور کسی نہ کسی طرح چھوٹ نکلنے کی عادت ہے۔ تو ممکن تھا تم یہ بہانہ کرتے۔ کہ توریت اور انجلش تو یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے نازل کی گئی تھیں۔ ہمیں کیا خبر وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔ ہم تو کلام الٰہی سے بےبہرہ رہے۔ اس لئے ہم بےقصور ہیں۔ تمہیں جو بڑھ بڑھ کے جھوٹے دعوے کرنے کی عادت ہے ‘ بعید نہ تھا تم یہ کہتے ۔ اگر ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تفصیلی احکام شرعی اور پورے پچھلے لوگوں کی ہلاکت کے قصے ملا کر توریت ایسی حسن ترتیب سے نازل کیا گیا ہے جس کی ہدایت کا اثر بنی اسرائیل کے دلوں پر پورا پڑے گا اور توریت کے نازل ہونے پر عام عذاب کی نوبت نہ آئے گی۔ اسی واسطے فرمایا کہ تورات کا نازل ہونا بنی اسرائیل کے حق میں ایک رحمت الٰہی ہے۔ آخر کو یہ جو فرمایا کہ شاید اس قدر رحمت کے بد یہود کے دلوں میں ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا یقین پیدا ہو، جس کے سبب سے وہ اصلی توراۃ کے احکام کی پوری پابندی کر کے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کے وقت پوری سرخروئی حاصل کریں۔ اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–156
[59] یعنی یہود و نصاریٰ پر۔
Read the full tafseer →(ف 2) ثم اتینا : سے غرض یہ ہے کہ تورات میں بھی انہیں احکام کو بوضاحت بیان کیا گیا تھا یعنی عقائد واخلاق میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی مقصد یہ تھا کہ اہل کتاب میں جذبہ ایمان پیدا ہو آخرت کے محاسبہ سے ڈریں اور اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں ۔
حل لغات :
بعھد اللہ : مقصود میثاق شریعت ہے ۔
Read the full tafseer →-154 پھر ہم نے موسیٰ کو بھی آپ سے پہلے ایک کتاب دی تھی تاکہ بھلے اور نیک کام کرنے والوں پر ہم اپنی نعمت اور اپنا احسان پورا کردیں اور ہر ضروری چیز کی تفصیل بیان ہوجائے اور لوگوں کے لئے وہ کتاب سراسر ہدایت و رحمت ہو نیز اس لئے یہ کتاب دی کہ وہ بنی اسرائیل اپنے رب کے ملنے اور اپنے پروردگار کی ملاقات پر ایمان لائیں اور اس کی ملاقات کا یقین رکھیں۔ یعنی آپ کوئی پہلے اور نئے رسول نہیں ہیں جن پر کتاب اتری ہو بلکہ آپ سے پہلے حضرت موسیٰ کو بھی ہم نے کتاب دی تھی جو تمام نعمت اور تفصیل ضروریہ اور رہنمائی اور رحمت الٰہی کا سبب تھی اور بڑی غرض یہ تھی کہ توریت کی رہنمائی میں وہ آخرت پر ایمان لائیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
ف 3۔ مثلا اس کے کام میں لگانا اس کی حفاظت کرنا اور بعض اولیاء اور اوصیاء کو اس میں یتیم کے لیے تجارت کرنا بھی جائز ہے۔
4۔ پھر ان احکام میں کوتاہی کیوں کی جائے۔
5۔ جس کے مقابلہ میں وہ بات کہہ رہے ہو۔
6۔ جیسے قسم یا نذر بشرط اس کے مشروع ہونے کے۔
Read the full tafseer →دیکھو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں اللہ پر ایمان لانے کی ہدایت تھی :
245: پیچھے ملت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان تھا اور ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی ہیں اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) بھی وہی تعلیم لائے جو سارے رسول اور خصوصاً ابراہیم (علیہ السلام) لائے تھے اس لئے مفسرین نے ” ثم “ کو عاطفہ کہا ہے اور اس کا عطف ” وصکم “ پر تسلیم کیا ہے کیونکہ ان امور کی وصیت ہر امت کو اس کے نبی کے ذریعہ کی گئی ہے۔ آپ کو جو سب سے پہلے احکام الواح میں لکھ کر دئیے گئے وہ احکام عشرہ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس لئے یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ وصیت تو اب کی جا رہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
Commentary
The reason of being ` ignorant of (or heedless to) what they studied - 156' was not that the Torah and the Injil were non-existent in the Arabic language because it is possible to become informed of the contents through a translation, in fact, this happens. Instead, this is because the people of the Book never took steps to educate and inform the people of Arabia in the mores of monotheism. That something falls within hearing distance casually is customarily ineffective as a meaningful warning - though, this much note of warning makes search and consideration obligatory, and on…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
136. To believe in 'meeting with the Lord' signifies the conviction that one is answerable to God, and which leads one to adopt responsible behaviour in life.
The statement made here could mean two things. It might mean that the teachings of the heavenly Book vouchsafed to Moses could itself create a sense of responsibility among the Israelites. Alternatively, it might mean that when ordinary people observe the wonderful way of life prescribed by God, and note the beneficial effects of its merciful dispensation in the lives of righteous people, they will come to realize that belief in the…
Read the full tafseer →