شیطانی راہیں فرقہ سازی
یہ اور ان جیسی آیتوں کی تفسیر میں ابن عباس کا قول تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو باہم اعتماد کا حکم دیتا ہے اور اختلاف و فرقہ بندی سے روکتا ہے اس لئے کہ اگلے لوگ اللہ کے دین میں پھوٹ ڈالنے ہی سے تباہ ہوئے تھے مسند میں ہے کہ اللہ کے نبی نے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا اللہ کی سیدھی راہ یہی ہے پھر اس کے دائیں بائیں اور لکیریں کھینچ کر اور فرمایا ان تمام راہوں پر شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے پھر آپ نے اس آیت کا ابتدائی حصہ تلاوت فرمایا۔ اسی حدیث کی شاہد وہ حدیث ہے جو مسند وغیرہ میں حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے اپنے سامنے ایک…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 135
اوپر جس فطری عہد کا ذکر ہوا، یہ اس عہد کا لازمی اقتضا ہے کہ انسان اپنے رب کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے، کیونکہ اس کے امر کی پیروی سے منہ موڑنا اور خود سری و خود مختاری یا بندگی غیر کی جانب قدم بڑھانا انسان کی طرف سے اس عہد کی اولین خلاف ورزی ہے جس کے بعد ہر قدم پر اس کی دفعات ٹوٹتی چلی جاتی ہیں۔ علاوہ بریں اس نہایت نازک، نہایت وسیع اور نہایت پیچیدہ عہد کی ذمہ داریوں سے انسان ہرگز عہدہ برآ نہیں ہوسکتا جب تک وہ خدا کی رہنمائی کو قبول کر کے اس کے بتائے ہوئے راستہ پر زندگی بسر نہ کرے۔ اس کو قبول نہ کرنے کے دو زبردست نقصان ہیں۔ ایک یہ کہ ہر دوسرے راستہ کی پیروی لازماً انسان کو…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں دسواں حکم مذکور ہے (آیت) وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ، ”یعنی یہ دین محمدی ﷺ میرا سیدھا راستہ ہے، سو اس راہ پر چلو، اور دوسری راہوں پر مت چلو، کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی“۔
اس میں لفظ ھذا کا اشارہ دین اسلام یا قرآن کی طرف ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورة انعام کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ اس میں بھی پورے اصول اسلام، توحید، رسالت اور اصول احکام شرعیہ مذکور ہیں (اور مستقیم، دین کے اس راستہ کی صفت ہے جس کو نحوی ترکیب میں بصورت حال ذکر کرکے اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ دین اسلام کے…
Read the full tafseer →وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ۔ مستقیما، یہاں صراط سے حال پڑا ہوا ہے۔ ہم پیچھے بیان کر آئے آئے ہیں کہ اسم اشارہ کے اندر فعل کے معنی پائے جاتے ہیں اس وجہ سے وہ فعل کا عمل بھی کرتا ہے۔ اب یہ سلسلہ بیان کی آخری بات ارشاد ہوئی ہے کہ یہ سیدھی راہ جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں بس اس کی پیروی کرو۔ خدا کی بتائی ہوئی راہ یہی ہے اور یہی ابراہیم کی بتائی ہوئی راہ ہے جس پر چلنے کی انہوں نے اپنی اولاد کو وصیت کی تھی۔ اس راہ سے ہٹ کر جو کج پیچ کی راہیں نکال لی گئی ہیں۔ ان سے بچو۔ وہ ساری راہیں اس صراط مستقیم سے دور…
Read the full tafseer →153۔ 1 ھَذَا (یہ) سے مراد قرآن مجید یا دین اسلام یا وہ احکام ہیں جو بطور خاص اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں اور وہ ہیں توحید، معاد اور رسالت اور یہی اسلام کے ثلاثہ ہیں جن کے گرد پورا دین گھومتا ہے، اس لئے جو مراد لیا جائے مفہوم سب کا ایک ہے۔
153۔ 2 صراط مستقیم کو واحد کے صیغے سے بیان فرمایا ہے کیونکہ اللہ کی، یا قرآن کی، یارسول اللہ کی راہ ایک ہے ایک سے زیادہ نہیں۔ اس لئے پیروی صرف اس ایک راہ کی کرنی ہے کسی اور کی نہیں، یہی ملت مسلمہ کی وحدت و اجماع کی بنیاد ہے جس سے بہت ہٹ کر یہ امت مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئی ہے، حالانکہ اس کی تاکید کی گئی ہے کہ دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
82: خریدو فروخت کے وقت ناپ تول کا پورا لحاظ رکھنا واجب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمادیا کہ اس معاملے میں طاقت سے زیادہ میخ نکالنے کی بھی ضرورت نہیں انسان کو پوری پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ناپ تول ٹھیک ہو، لیکن کوشش کے باوجود تھوڑا بہت فرق رہ جائے تو وہ معاف ہے۔
83: اللہ کے عہد میں وہ عہد بھی داخل ہے جس میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ کیا گیا ہو، اور وہ عہد بھی جو کسی انسان سے کیا گیا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھاکر یا اس کو گواہ بناکر کیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →درس نمبر 71 ایک نظر میں :
اس سورة کے اس آخری حصے میں جو موضوع درس سابق میں تھا وہی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی طرح آگے بڑھ رہا ہے ۔ یہ کہ اللہ ہی حاکم اور قانون ساز ہے اور یہ بات اسلام کے اساسی عقائد ونظریات کا حصہ ہے ۔ یہ سبق بھی اسی موضوع کا حصہ ہے اور اس میں کچھ مزید پہلو سامنے آتے ہیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔
اس سورة کے آغاز میں دین اسلام کے اساسی نظریات اور عقائد موضوع بحث ہیں اور آخری حصے میں یہ موضوع آیا تھا کہ اسلام کے اساسی نظریات میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ وحدہ حاکم اور قانون ساز ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کا اقتدار جس کا ظہور قانون سازی کی صورت میں ہوتا ہے اسی دین…
Read the full tafseer →1 یعنی احکام مزکورہ بالا کی پابندی اور خدا کے عہد کو اعتقاداً پورا کرنا یہ ہی صراط مستقیم (سیدھی راہ) ہے جس کی طلب سورة فاتحہ میں تلقین کی گئی تھی۔ یہ راہ تم کو دکھلا دی گئی اب چلنا تمہارا کام ہے۔ جو کوئی اس کے سوا دوسرے راستہ پر چلا وہ خدا کے راستہ سے بھٹکا۔
Read the full tafseer →آیت 153 وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج۔
دین کے اصل اصول تو وہ ہیں جو ہم بیان کر رہے ہیں۔ تمہارے خود ساختہ طور طریقے تو گویا ایسی پگڈنڈیاں ہیں جن کا صراط مستقیم سے کوئی تعلق نہیں۔ صراط مستقیم تو صرف وہ ہے جس پر ہمارا رسول ﷺ ہمارے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق چل رہا ہے۔
وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط۔
یعنی اگر تم خود ساختہ مختلف پگڈنڈیوں پر چلنے کی کوشش کرو گے تو سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔ لہٰذا تم سب راستوں کو چھوڑ کر سواء السبیل پر قائم رہو۔
Read the full tafseer →176 ایک دفعہ رسول اللہ نے ایک سیدھی لکیر کھینچی۔ پھر اس لکیر کے دائیں بائیں بہت سی لکیریں کھینچ دیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ سیدھی لکیر تو اللہ تعالیٰ کی راہ ہے اور دائیں اور بائیں جتنی لکیریں ہیں یہ شیطان کی راہیں ہیں پھر آپ نے یہی آیت پڑھی (نسائی بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الاعتصام الفصل الثانی) یعنی سیدھی راہ سے بھٹکتے ہی ادھر ادھر بیشمار پگڈنڈیاں سامنے آجاتی ہیں۔ اللہ کی راہ چھوڑنے کے بعد کوئی ایک پگڈنڈی پر جا پڑتا ہے کوئی دوسری پر اور کوئی تیسری پر۔ اس طرح پوری نوع انسانی بھٹک کر پراگندہ ہوجاتی ہے اور نوع انسانی کے ارتقاء کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے پاتا۔ اسی حقیقت کو اس فقرے میں بیان کیا…
Read the full tafseer →243 ۔ غرض وغایت ساری تعلیمات اسلامی کی بس اسی قدر ہے کہ امت بہ حیثیت مجموعی بھی اور اس امت کا ایک ایک فرد بھی ذاتی طور پر ہر قسم کے اخلاقی کمالات سے آراستہ، اللہ کی فوج کا سپاہی، اور کائنات انسانی کے لیے ایک نمونہ بن جائے۔ (آیت) ” وان “۔ عطف بیانات مقدم پر ہے۔ اور، و، کے بعد اتل محذوف ہے۔ عطفھا علی ما تقدم وان فی موضع نصب ای واتل ان ھذا صراطی عن الفراء والکسائی (قرطبی) (آیت) ” ھذا “۔ یعنی مکمل نظام حیات ودستور زندگی۔ جس کی چند اہم مدین اوپر بیان ہوئیں۔ (آیت) ” السبل “۔ ان ٹیڑھی پگڈنڈیوں میں اسلام کے باہر کے کل دوسرے مذاہب آگئے اور اسلام کے اندر کے بھی اہل بدعت وضلالت کے فرقے جو رسول اللہ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
وان ھذا صراطی مستقیما، صراط مستقیم کو واحد کے صیغہ سے بیان فرمایا کیونکہ اللہ کی اور قرآن اور رسول کی اور صحابہ کی راہ ایک ہی ہے یہی ملت اسلامیہ کی وحدت و اجتماع کی بنیاد ہے، اگر امت مسلمہ اس واحد صراط مستقیم سے ہٹی تو مختلف گروہوں میں بٹ جائیگی اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ” اَن اقیموا الدین ولا تتفرقوا “ (شوریٰ ) دین کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو گویا اختلاف اور تفرقہ کی قطعاً اجازت نہیں، اسی مفہوم کو حدیث پاک میں آپ نے اس طرح واضح فرمایا۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے ایک سیدھا خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے اور چند خطوط اس کے دائیں بائیں کھینچے اور فرمایا یہ وہ…
Read the full tafseer →وان ہذا صراط مستقیما فاتبعوہ . (اور عمل کرو) اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے سیدھا سو اس پر چلو۔ فراء نے کہا ان ہذا : (سے پہلے فعل محذوف ہے) اصل میں واتل علیکم ان ہذا : تھا اور میں تم کو سناتا ہوں کہ یہ میرا راستہ ہے۔ مستقیما صراطی : سے حال ہے۔ ہذا : سے اشارہ اس مجموعۂ مضامین کی طرف ہے جن کا ذکر اس سورت میں آیا ہے یعنی توحید ‘ نبوت ‘ انبیاء کا دین ‘ میرا راستہ اور میرا دین ہے۔
میں کہتا ہوں ان : سے پہلے حرف جر بھی محذوف ہوسکتا ہے اور اس وقت اس کا عطف بہ : پر ہوگا۔ بیضاوی نے لام کو محذوف قرار دیا ہے کیونکہ اس کے بعد فاتبعوہ : آیا ہے راستہ کا مستقیم ہونا اتباع کی علت ہے۔ بعض علماء کے نزدیک ہذا :…
Read the full tafseer →(153) دین اسلام بالکل سیدھا پسندیدہ راستہ ہے، اس پر چلو اور یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت کا اتباع مت کرو کہ کہیں یہ رہیں تمہیں دین خداوندی سے بےراہ کردی، ان باتوں کا تمہیں کتاب میں تاکیدی حکم دیا گیا ہے تاکہ تم دوسرے غلط راستوں سے بچو۔
Read the full tafseer →وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ ایک ہی ہے اور وہی سیدھی اور جنت تک پہنچانے والی ہے، مگر شیطان نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس کے اردگرد بہت سی راہیں بنا ڈالی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ہمارے لیے ایک لکیر کھینچی، پھر فرمایا : ”یہ اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے۔“ پھر اس کے دائیں بائیں کئی لکیریں کھینچیں اور فرمایا : ”یہ الگ الگ راستے ہیں، ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان بیٹھا ہے جو لوگوں کو اپنی طرف بلاتا ہے۔“ اس کے بعد آپ نے سیدھی راہ پر ہاتھ رکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ [ أحمد : 1؍465، ح :
4436۔ مستدرک حاکم : 2؍318، ح :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
آیت نمبر : 151۔ 152۔ 153
اس میں چودہ مسئلے ہیں
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قل تعالوا اتل آو اور پڑھو جو یقینا حق ہے جیسا کہ میرے رب نے میری طرف وحی فرمایا ہے، نہ یہ ظن ہے اور نہ ہی کذب جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے، پھر اسے بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا : آیت : الا تشرکوا بہ شیا آدمی کے لیے کہا جاتا ہے : تعال یعنی آگے آو اور عورت کے لیے تعالیٰ تثنیہ مذکر و مؤنث کے لیے تعالیا اور جمع مذکر کے لیے تعالوا اور جمع مونث کے لیے تعالین کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فتعالین امتعکن (الاحزاب : 28) ( تو آو تمہیں مال و متاع دے دوں) اور انہوں نے تقدم کو تعالیٰ اور ارتفاع ( بلند ہونا…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل کے بارے میں فرمایا کہ تم جان لو کہ راستہ ایک ہی راستہ ہے جس پر ہدایت یافتہ جماعت ہے اور اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔ اور بلاشبہ ابلیس نے مختلف راستے بنائے ان پر جمع ہونا گمراہی ہے اور اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔
(2) امام احمد، عبد بن حمید، نسائی، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور حاکم نے (حکم نے تصحیح بھی کی) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ایک خط کھینچا پھر فرمایا یہ اللہ کا راستہ سیدھا ہے پھر کئی خطوط کھینچے اس کے…
Read the full tafseer →وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] ھٰذَا [ یہ ] صِرَاطِيْ [ میرا راستہ ہے ] مُسْتَقِـيْمًا [ ہر کجی سے پاک ہوتے ہوئے (سیدھا) ] فَاتَّبِعُوْهُ ۚ [ پس تم لوگ پیروی کرو اس کی ] وَلَا تَتَّبِعُوا [ اور پیروی مت کرو ] السُّبُلَ [ (دوسرے) راستوں کی ] فَتَفَرَّقَ [ ورنہ وہ جداہو جائیں گے ] بِكُمْ [ تمہارے ساتھ ] عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭ [ اس کے راستے سے ] [ ذٰلِكُمْ [ اسی کی ] [ وَصّٰىكُمْ تاکید کی تم کو ] بِهٖ [ جس کی ] لَعَلَّكُمْ [ شائد تم لوگ ] تَتَّقُوْنَ [ پرہیزگار بنو ]
Read the full tafseer →صراط مستقیم کا اتباع کرو :
(10) بیشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے سو تم اس کا اتباع کرو۔ اور دوسرے راستوں کا اتباع نہ کروکیون کہ یہ راستے تمہیں اللہ کے راستہ سے ہٹا دیں گے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے قرآن نازل فرمایا اور آنحضرت ﷺ کو قرآن کا مبلغ اور معلم اور مبین (بیان کرنے والا) بنایا۔ اور آپ کی اطاعت فرض کی۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و اتباع یہ سیدھا راستہ ہے جو صحابہ کرام اور تابعین عظام سے لے کر ہم تک پہنچا ہے جو لوگ اسلام کے متبع نہیں جیسے یہود و نصاریٰ اور جو لوگ دین اسلام کے مدعی ہیں لیکن اصحاب اہواء ہیں اپنی خواہشوں کے مطابق دین بناتے ہیں اور الحادو زندقہ کی باتیں کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–158
بیان اصول محرمات دربارۂ اقوال وافعال وتلقین مکارم اخلاق و محاسن اعمال
قال اللہ تعالیٰ قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ قل انتظروا انا منتظرون
(ربط) گذشتہ آیات میں جب حق تعالیٰ کافروں کی حرام کردہ چیزوں کو باطل کرچکے اور کھانے اور پینے کے متعلق جو چیزیں من جانب اللہ حرام تھیں ان کا ذکر ہوچکا تو اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کو بیان کرتے ہیں جو اقوال اور افعال سے متعلق رہیں ان آیتوں میں بالترتیب دس چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں اللہ نے معاش اور معاد کی صدہا حکمتیں رکھی ہیں۔
1 ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
2 ۔ ماں باپ کے ساتھ سلوک اور احسان کرو اور ان کے ساتھ برائی نہ کرو
3 ۔…
Read the full tafseer →174 یہ سابقہ دونوں آیتوں میں جو احکام مذکور ہوئے ہیں یہی میری سیدھی راہ ہے اور یہی میرا وہ دین ہے جو میں نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہے۔ لہذا تم اسی کی پیروی کرو اور باقی تمام راستوں کو چھوڑ دو ۔ و ان ھذا الذی وصیتکم بہ وامرتکم بہ فی ھاتین الایتین ھو صراطی یعنی طریقی و دینی الذی ارتضیتہ لعبادی (خازن ج 2 ص 165) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
ربط آیات : پہلے اللہ نے مشرکین کے خودساختہ محرکات کا ذکر کیا پھر اللہ نے بعض حلال جانوروں کا ذکر کیا ہے اور ان چار بنیادی محرکات کا ذکر کیا جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰنے بعض دیگر حرام چیزوں کا ذکر کیا جیسے اشراکب اللہ ، والدین سے بدسلوکی ، بیحیائی اور قتل اولاد اور قتل ناحق اب زیر درس آیات میں بعض دیگر چیزوں کی حرمت کا بیان آ رہا ہے۔ ان میں سے پانچ محرمات کا ذکرگزشتہ درس میں آ چکا ہے اور باقی پانچ چیزوں کا ذکر آج کی دو آیات میں آ رہا ہے۔ ان ممنوعہ امور کا ارتکاب وبال اور گناہ کا باعث ہے۔
یتیم کا مال کھانا :
اللہ تعالیٰنے محرمات کے سلسلہ میں چھٹی چیز یہ فرمائی ہے ولا…
Read the full tafseer →وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْہُ 0 ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّـبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِہٖ 0 ۭ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 153
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
1 ؎ بےحیائی ‘ زنا اور اس کے وداعی ناچ رنگ شہوت انگیز قصے ‘ اور اشعار ‘ گالی گلوچ ٗ ننگی تصاویر رکھنا دیکھنا یا خلوۃ کی باتیں سننا ‘ فحش بکنا ‘ اس میں ظاہر بےحیائی ہے اور باطن دل میں برے خیالات کو جگہ دینا تصورات فاسدہ اور شہوت انگیز سے لذت اٹھانا اور ان سب سے بچنا چاہیے۔ کس لئے کہ یہ روح تاریک کرتی ہیں اور جس سے دنیا میں فساد اور فتنہ اور صدہا آفتیں برپا ہوتی ہیں۔ 12 منہ
ترکیب : ما بمعنی الذی اور عائد محذوف ای ماحرمہ اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ان لاتشرکوا ان مفسرہ اور لانبی کے لیے اور مصدریہ بھی
ہوسکتا ہے تب لا زائد ہوگا اے حرم ربکم ان تشرکوا اور جملہ محل نصب میں ہوگا محذوفہ سے بدل ہو کر ماظہر…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط ذٰلِکُمْ وَصَّکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ (الانعام : 153)
(اور یہ کہ یہی میرا راستہ سیدھا راستہ ہے۔ تو اس کی پیروی کرو اور دوسری پگڈنڈیوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کی راہ سے الگ کردیں ‘ یہ باتیں ہیں جن کی تمہیں ہدایت فرمائی ‘ تاکہ تم اس کے غضب سے بچو)
یہ دسواں حکم ہے جس سے احکام عشرہ مکمل ہوگئے اور اس میں پروردگار نے نہایت فصاحت و بلاغت سے اس حکم کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے مثبت اور منفی دونوں پہلو جمع کردیئے ہیں۔ سب سے پہلے صراط مستقیم کی خبر دی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی وصیتوں کا خلاصہ اور نتیجہ صراط مستقیم ہے۔ اے لوگو ! بس صراط مستقیم پر چلو۔
نو نصیحتیں کرنے کے بعد فرمایا یہی سیدھا راستہ ہے کیونکہ نصائح کے آغاز میں لفظ ” قل “ سے حکم دیا گیا تھا کہ اے نبی ﷺ آپ ان لوگوں کو یہ نصائح پڑھ کر سنائیں اب ان کے اختتام پر فرمایا ہے کہ آپ یہ اعلان فرمائیں کہ یہی میرا صراط مستقیم ہے لہٰذا تم سب کے سب اسی کی اتباع کرو دوسرے راستوں اور طریقوں کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم اس راستہ کے سوا دوسرے راستوں پر چلو گے تو سیدھے راستے سے ہٹ جاؤ گے اس لیے تمہیں وصیت کی جاتی ہے کہ تم اسی راستہ پر چلنا تاکہ تم گناہ اور گمراہی کے راستوں سے بچ جاؤ۔
(عَنْ…
Read the full tafseer →آیت 153 : وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ ۔ اس سے پہلے لام مقدر ہے کیونکہ یہ اتباع کی علت ہے۔ یعنی تم اتباع کرو اس لئے کہ یہ میرا راستہ ہے۔
قراءت : شامی نے انَّ کو تخفیف کے ساتھ انْ پڑھا ہے۔ یہ اصل میں وانہ ہے۔ ہٗ ضمیر شان والحدیث ہے۔ (2) حمزہ اور علی رحمہما اللہ نے جملہ ابتدائیہ قرار دے کر اِنَّ پڑھا ہے۔ مُسْتَقِیْمًا۔ سیدھا۔
نحو : یہ حال ہے۔ یعنی بیشک یہ میرا راستہ ہے۔ اس حال میں کہ وہ سیدھا ہے۔ فَاتَّبِعُوْہُج وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ ۔
السُّبُلسے مختلف راستے یعنی یہودیت ‘ نصرانیت ‘ مجوسیت اور تمام بدعات و ضلال کی راہیں مراد ہیں یعنی کیونکہ یہ میرا راستہ سیدھا ہے پس تم اس کی اتباع کرو اور متفرق…
Read the full tafseer →تفسیر (153) (وان ھذا) یعنی جو ان دو آیتوں میں تم کو حکم کیا ہے (صراطی مستقیما فاتبعوہ) حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” و ان “ کو الف کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے استنائف کی بناء پر اور دیگر حضرات نے الف کے زبر کے ساتھ۔ فراء (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہے کہ میں تم پر تلاوت کرتا ہوں کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے اور ابن عامر اور یعقوب رحمہما اللہ نے نون کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ (ولا تتبعوا السبل) اس دین کے علاوہ دین جیسے یہودیت، نصرانیت وغیرہ اور بعض نے کہا خواہشات اور بدات مراد ہیں (فتفرق بکم عن سبیلہ) یعنی اس کے پسندیدہ دین سے (ذلکم وصکم بہ لعلکم تتقون)
صراط مستقیم کی وضاحت
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ…
Read the full tafseer →معتبر سند سے مسند امام احمد بن حنبل ‘ نسائی مستدرک حاکم اور مسند بزار میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز ایک سیدھی لکیر کھینچ کر فرمایا یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے اور اس لکیر کے دائیں بائیں اور لیکریں کھینچ کر فرمایا ان سب راستوں پر شیطان بیٹھا ہے اور اپنی طرف لوگوں کو بلاتا ہے پھر آپ نے یہ میت پڑھی۔ معتبر سند سے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدھے راستہ کی مثال یوں سمجھائی کہ ایک سیدھا راستہ ہے اور اس کے ادھر ادھر در و دیواریں ہیں ان دیواروں میں کھلے ہوئے دروازے ہیں ان دروازوں پر پڑے ہیں اور راستہ کے سرے پر ایک شخص سیدھے راستہ پر بلارہا ہے اور ایک شخص کہہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
آیت 152
(ثم) ” پھر “ اس مقام پر (ثم) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰ کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہ ﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔
(اتینا موسیٰ الکتب) ” موسیٰ ) کو کتاب عنایت کی “ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تو رات ہے (تماماً ) اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لئے (علی الذی احسن) ” ان پر جو نیکو کار ہیں۔ “ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لئے جنہوں نے نیک کام کئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکو کاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار…
Read the full tafseer →راہ ہدایت
قول باری ہے ( وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ۔ نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو) تا آخر آیت۔ صراط سے مراد وہ شریعت ہے جس پر اللہ نے اپنے بندوں کو چلنے کا پابند کردیا ہے۔ صراط کے اصل معنی راستے کے ہیں۔ شریعت کو صرات اور طریق کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ شریعت پر چلنے والے کو جنت کی صورت میں ثواب کا مستحق بنا دیتی ہے۔ اس لیے شریعت جنت تک پہنچنے اور نعیم آخرت تک رسائی کی راہ ہے۔ جب کہ شیطان کا دکھایا ہوا راستہ سیدھا جہنم تک لے جاتا ہے۔ ہم جہنم کی آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ! شریعت پر مع اس کے تمام مشمولات یعنی فرائض، واجبات ، نوافل اور مباحات پر…
Read the full tafseer →318 صراط رسول سے مراد اور اس کے تقاضے ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ یہ ہے میرا راستہ سیدھا۔ پس تم سب اسی کی پیروی کرو یعنی میرا وہ سیدھا راستہ جو میں تم لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور یہی ہے ابراہیم کا وہ راستہ جس پر چلنے کی وصیت انہوں نے اپنی اولاد کو فرمائی تھی۔ اور یہی ہے ملت ابراہیمی جس کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی دین اسلام جس کے یہ اہم احکام و ہدایات ہیں۔ اس پر چل کر تم سیدھے اپنی منزل مقصود تک پہنچو گے۔ اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کے شرف سے مشرف و بہرہ ور ہو گے اور تمہیں دارین کی سعادت و سرفرازی نصیب ہوگی جبکہ ِاس سے محرومی دراصل ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–153
کفار کے اعتراض اور صراط مستقیم کے اصول
تشریح : ان آیات میں شروع میں تو مشرکوں کو اپنے برے اعمال کو ٹھیک ثابت کرنے کے لیے گواہ لانے کو کہا گیا ہے جو کہ وہ ہرگز نہیں لاسکتے، پھر مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ مشرک ہیں ان کی کسی بھی چال میں پھنس کر ان جیسے بےدین، گمراہ اور مشرک نہ ہوجانا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اللہ نے کیا حرام کیا ہے اور کیا حلال کیا ہے۔ بس صرف اسی پر ہی عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اپنے پاس سے احکامات بنانے یا ان پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے اصول اور قانون اس قدر جامع، مفید اور واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 ۔ تا۔ 155 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ ان کی باتوں پہ توجہ نہ دیں بلکہ انہیں فرما دیں کہ لوگو آؤ میں تمہیں ان چیزوں اور ان کاموں سے باخبر کردوں جو تمہارے پروردگار نے حرام یعنی ممنوع قرار دئیے ہیں تاکہ محض اندازوں پہ عمل کرنے کی بجائے تمہیں یقینی علم حاصل ہو اور تم عمل کرکے اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکو جس کے ساتھ دونوں عالم کا سکون وابستہ ہے اگرچہ بظاہر اس دور کے راہ گم کردہ لوگ مکاطب ہیں مگر ایسے بلیغ انداز میں ارشادات سے نوازا کہ ساری انسانیت کے لیے اور ہمیشہ کے لیے اساس اور بنیاد فراہم فرما دی یہ ایک ایسا منشور ارشاد ہوا کہ مفسرین کے مطابق آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم…
Read the full tafseer →اس آیت میں جس طرح ادیان باطلہ سے منع فرمایا گیا ہے اس طرح اسلام میں بھی تفرقہ پسندی سے روک دیا گیا ہے پس جو راہ کتاب وسنت کے سوا ہو جس پر تین مشھود لھا بالخیر گزرے ہیں وہ سب راستے ممنوع ٹھہرے خواہ تقلید مذاہب اربعہ ہو یہ اہل بدعت کے مشارب ہوں۔ پرانی اور ہر قسم کی بد عات گمرہ کن ہیں۔ مسلمان کو حکم ہے اللہ کا بندہ اور رسول ﷺ کی امت بن کر رہے۔ خود ائمہ دین اور سارے مجتہدین سلف وخلف نے یہی وصیت کی ہے کہ کوئی ان کی تقلید نہ کرے بلکہ سب کے سب کتاب وسنت کی اتباع کریں یہی طریقہ اہل حدیث و جماعت نے اختیار کیا ہے اور اسی کی طرف دعوت دی ہے۔ ( ما خوذ از تر جمان النواب)
4 یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور…
Read the full tafseer →(6:153) فتفرق بکم عن سبیلہ۔ تمہیں متفرق کر دے گی تمہیں جدا جدا کر دے گی۔ اس کا فاعل السبل ہے۔ (سبیل کی جمع) راستے ۔ راہیں۔
ای فتیمل بکم ھذہ الطرق المختلفۃ المضلۃ عن دینہ و طریقہ الذی ارتضاہ لعبادہ۔ کہ یہ مختلف اور گمراہ کن راستے تمہیں اللہ کے اس دین اور طریق مستقیم سے ہٹا دیں جسے اس نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔
ذلکم وصکم بہ۔ ای امرکم ب اتباع دینہ و طریقہ یہ ہے اس کا وہ طریقہ جس کے اتباع کا وہ تمہیں حکم دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
لغات القرآن : آیت نمبر 151 تا 153 :
تعالوا ( آئو) اتل ( میں تلاوت کرتا ہوں۔ پڑھتا ہوں) الا تشرکوا ( یہ کہ تم شریک نہ کرو) احسان ( اچھا معاملہ۔ حسن سلوک) لاتقتلوا ( تم قتل نہ کرو) املاق (ملق) ۔ مفلسی کا خوف ‘ نرزق ہم رزق دیتے ہیں ‘ ایاھم ( ان کو بھی) لا تقربوا ( تم قریب نہ جائو) الفواحش ( فاحشۃ) بےحیائی کے کام) ظھر ( ظاہر ہے۔ ظاہر ہوا) بطن وہ جو چھپا ہوا ہے) وصکم ( وہ تمہیں وصیت کرتا ہے) احسن ( بہترین طریقہ) حتی یبلغ (جب تک نہ پہنچ جائے) اشدہ ( اپنی طاقت کو (بالغ نہ ہوجائے) اوفوا (پورا کرو) الکیل (ماپ) المیزان ( تول) بالقسط ( انصاف کے ساتھ) لانکلف ( ہم ذمہ داری نہیں ڈالتے) وسعھا ( جو اس کی…
Read the full tafseer →مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ نجات کا راستہ فقط ایک ہی ہے۔ جس راستہ پر خود آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام بھی نجات کے خواستگار۔ ہر مسلمان کو لازم ہے کہ وہ ادھر ادھر نہ بھٹکے اور نجات کے راستہ کو مضبوط پکڑے، اور خوب یقین کرلے کہ مخبر صادق صاحب وحی ﷺ نے جس نجات کے راستہ کا پتہ بتلایا ہے وہ یہی ہے کہ ہر عقیدے اور ہر عمل میں آدمی آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے قدم بقدم جاوے اور خدائے تعالیٰ ہر مسلمان کے دل میں اس نصیحت الٰہیہ کا اثر پیدا کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–156
[59] یعنی یہود و نصاریٰ پر۔
Read the full tafseer →صراط مستقیم :
(ف 1) ان ھذا سے مراد توحید و تفرید ہے والدین کے ساتھ احسان ومروت ہے ، احترام حقوق ہے ، پاکبازی اور پاکددامنی ہے جو مت نفس ہے یتامی پر وی ہے عدل و انصاف ہے اور اللہ کے حکموں کی رعایت وفرمانبرداری ہے ، یہی صراط مستقیم ہے ، یہی سیدھی راہ ہے اور یہی وہ پگڈنڈی ہے جو قصر جنت تک برابر چلی گئی ہے ،
ان احکام کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹکنا گمراہی مول لینا ہے ، اور روح ومغز دین سے محمدی ہے ۔
Read the full tafseer →-153 اور یہ بھی فرما دیجیے کہ یہ مذکورہ احکام ہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی راہ پر چلو اور تم دوسرے طریقوں پر نہ چلو ورنہ وہ مختلف طریقے تم کو سیدھی راہ سے الگ کردیں گے اور تم راہ مستقیم سے جدا ہو جائو گے اس بات کا تم کو خدا نے تاکید کے ساتھ حکم دیا ہے تاکہ تم کج روی سے بچو یعنی جس دنیا کے یہ احکام مذکور ہوئے وہی دین میری سیدھی راہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
ف 3۔ مثلا اس کے کام میں لگانا اس کی حفاظت کرنا اور بعض اولیاء اور اوصیاء کو اس میں یتیم کے لیے تجارت کرنا بھی جائز ہے۔
4۔ پھر ان احکام میں کوتاہی کیوں کی جائے۔
5۔ جس کے مقابلہ میں وہ بات کہہ رہے ہو۔
6۔ جیسے قسم یا نذر بشرط اس کے مشروع ہونے کے۔
Read the full tafseer →ابراہیم (علیہ السلام) کی اصل راہ وہی ہے جو ملت اسلام کی راہ ہے :
244: یہ اسلامی معاشرے کی دسویں پابندی ہے جو اس جگہ بیان کی گئی ہے اور یہ اس جگہ بیان کی گئی پابندیوں میں سے آخری بھی ہے کہ تم لوگ ” میری بتائی ہوئی سیدھی راہ پر چلو اور میری بتائی ہوئی راہ کے علاوہ کسی دوسری راہ پر نہ چلو کہ اللہ کی راہ سے بھٹکا کر تمہیں متفرق کردیں گے۔ “ اور یہ بھی کہ یہی وہ راہ ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی بتائی ہوئی راہ ہے اور اس کی اصل یہ ہے کہ خدا کے عالم گیر دین کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے صراط مستقیم سے بہتر تعبیر نہیں ہو سکتی تھی تم کسی خاص مقام تک پہنچنے کے لئے کتنی ہی راہیں نکال لو لیکن سدیھی راہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →The Sixth Prohibition : Eating up the Property of the Orphan by False Means
About the unlawfulness of devouring the property of the orphan by false means - the sixth command given in the second verse (152) - it was said: وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ (And do not approach the property of the orphan except with the best possible conduct, until he reaches maturity). The address here is to the guardians of orphaned children who are minors. The guardians have been told that they should treat the property of orphans as if it was fire.…
Read the full tafseer →135. It is an essential corollary of the natural covenant mentioned above that man should follow the way prescribed by his Lord; any deflection from the orders of God, or serving anyone other than Him, constitutes a primary breach of that covenant. Once this breach has been committed every single article of the covenant is likely to be violated one after the other. Moreover, it should also be remembered that man cannot acquit himself of the highly delicate, extensive and complex set of responsibilities entailed by this covenant unless he accepts the guidance of God and tries to follow the way…
Read the full tafseer →