یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید
ابو داؤد وغیرہ میں ہے کہ جب آیت (ولا تقربوا) اور آیت (ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما) نازل ہوئیں تو اصحاب رسول نے یتیموں کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے سے بالکل الگ تھلگ کردیا اس میں علاوہ ان لوگوں کے نقصان اور محنت کے یتیموں کا نقصان بھی ہونے لگا اگر بچ رہا تو یا تو وہ باسی کھائیں یا سڑ کر خراب ہوجائے جب حضور سے اس کا ذکر ہوا تو آیت (فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭ وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ ۭوَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 132
یعنی ایسا طریقہ جو زیادہ سے زیادہ بےغرضی، نیک نیتی اور یتیم کی خیر خواہی پر مبنی ہو، اور جس پر خدا اور خلق کسی کی طرف سے بھی تم اعتراض کے مستحق نہ ہو۔
سورة الْاَنْعَام 133
یہ اگرچہ شریعت الہٰی کا ایک مستقل اصول ہے، لیکن یہاں اس کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی حد تک ناپ تول اور لین دین کے معاملات میں راستی و انصاف سے کام لینے کی کوشش کرے وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائے گا۔ بھول چوک یا نادانستہ کمی و بیشی ہوجانے پر اس سے باز پرس نہ ہوگی۔
سورة الْاَنْعَام 134
”اللہ کے عہد“ سے مراد وہ عہد بھی ہے جو انسان اپنے خدا سے کرے، اور وہ بھی جو خدا کا نام لے کر بندوں سے…
Read the full tafseer →چھٹا حرام، یتیم کا مال ناجائز طور پر کھانا
دوسری آیت میں چھٹا حکم یتیم کا مال ناجائز طور پر کھانے کی حرمت کے متعلق ارشاد فرمایا(آیت) وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ”یعنی یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو مستحسن ہے یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے“۔ اس میں یتیم نابالغ بچوں کے ولی اور پالنے والے کو خطاب ہے، کہ وہ ان کے مال کو ایک آگ سمجھیں اور ناجائز طور پر اس کے کھانے اور لینے کے پاس بھی نہ جائیں، جیسا کہ دوسری ایک آیت میں انہی الفاظ کے ساتھ آیا ہے، کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر ظلماً کھاتے ہیں وہ اپنے…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ، اس کی پوری وضاحت سورة نساء کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ یتیم کا مال دوزخ کی آگ ہے اس وجہ سے کسی بری نیت سے کسی کو اس کے پاس بھی نہیں پھٹکنا چاہیے۔ جو بھی اس کے پاس جائے صرف اچھی ہی راہ سے جائے، یعنی اس کو سنبھالنے اور حتی الامکان ترقی دینے کے لیے، تاآنکہ یتیم بالغ ہوجائے۔ جب بالغ ہوجائے پوری احتیاط کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں اس کا مال اس کے حوالہ کرے۔
وَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ ، ناپ تول کو غھیک ٹھیک عدل کے ساتھ پورا کرو، یہ بات بھی مثبت پہلو سے ارشاد ہوئی ہے اس وجہ سے اس کے ضد پہلو کو بھی، جیسا کہ اوپر ہم…
Read the full tafseer →152۔ 1 جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے اس خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ اگر اس کے مال سے وارثت میں سے اس کو حصہ ملا ہے، چاہے وہ نقدی کی صورت میں ہو یا زمین اور جائداد کی صورت میں، تاہم ابھی وہ اس کی حفاظت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس کے مال کی اس وقت تک پورے خلوص سے حفاظت کی جائے جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر، اس کی عمر شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جایئداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔
152۔ 2 ناپ تول میں کمی کرنا لیتے وقت تو پورا ناپ یا تول کرلینا، مگر دیتے وقت ایسا نہ کرنا بلکہ ڈنڈی مار کر دوسرے کو کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
82: خریدو فروخت کے وقت ناپ تول کا پورا لحاظ رکھنا واجب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمادیا کہ اس معاملے میں طاقت سے زیادہ میخ نکالنے کی بھی ضرورت نہیں انسان کو پوری پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ناپ تول ٹھیک ہو، لیکن کوشش کے باوجود تھوڑا بہت فرق رہ جائے تو وہ معاف ہے۔
83: اللہ کے عہد میں وہ عہد بھی داخل ہے جس میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ کیا گیا ہو، اور وہ عہد بھی جو کسی انسان سے کیا گیا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھاکر یا اس کو گواہ بناکر کیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
آیت ” نمبر 151 تا 153۔
اللہ تعالیٰ نے آیات کے اس حصے میں جو وصیتیں فرمائی ہیں اور جو قوانین بتلائیں ہیں مثلا مویشیوں اور پیداوار کے متعلق اور ادہام جاہلیت اور رسوم جاہلیت کی تردید وغیرہ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوانین وہدایات اس دین کی اساسی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے ضمیر کو توحید کی روشنی اور زندگی ملتی ہے اور صدیوں پر مشتمل تاریخ میں انسانی خاندان کو تقویت ملتی ہے ۔ باہم تکافل اور باہم نصرت کی وجہ سے اجتماعی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں حقوق کی ضمانت ہوتی ہے اور فرائض ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ سب کام اللہ کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں مگر ان…
Read the full tafseer →6 یتیم کے مال میں بیجا تصرف کرنا حرام ہے۔ ہاں بہتر و مشروع طریقہ سے احتیاط کے ساتھ اس میں ولی یتیم تصرف کرسکتا ہے۔ جب یتیم جوان ہوجائے اور اپنے فرائض کو سنبھال سکے تو اس کے حوالہ کردیا جائے۔
7 یعنی اپنی طاقت کے موافق ان احکام کی بجا آوری میں کوشش کرو اسی کے تم مکلف ہو۔ خدا کسی کو اس کی قدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
8 یعنی حق و انصاف کی بات کہنے میں کسی کی قرابت و محبت مانع نہ ہونی چاہئے۔
9 اس کے اوامرو نواہی پر پابندی سے عمل کرو۔ خدا کے لئے جو نذر مانو یا قسم کھاؤ بشرطیکہ غیر مشروع بات کی نہ ہو اسے پورا کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →آیت 152 وَلاَ تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ الاَّ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ج۔
یتیم کے مال کو ہڑپ کرنا یا اپنا ردّی مال اس کے مال میں ملاکر اس کے اچھے مال پر قبضہ کرنے کا حیلہ کرنا بھی حرام ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ مکی دور کے احکام ہیں لیکن یتیموں کے حقوق کی اہمیت کے پیش نظر مدنی سورتوں میں بھی اس بارے میں احکام آئے ہیں ‘ مثلاً سورة البقرۃ ‘ آیت 220 اور سورة النساء آیت 2 میں بھی یتیموں کے اموال کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے ‘ جو اس سے قبل ہم پڑھ چکے ہیں۔
وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَان بالْقِسْطِج لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ج۔
یعنی بغیر کسی ارادے کے اگر…
Read the full tafseer →171 یتیم کا مال کھانا :۔ یعنی اگر یتیم کا مال تمہاری تحویل میں ہے تو اسے صرف اس طریقے سے خرچ کرو جس میں یتیم کا بھلا اور بہتری ہو۔ اس سے کوئی اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنے کی مطلق کوشش نہ کرو نہ ہی اس قسم کی بات دل میں سوچو یتیم کا مال اس کا ولی صرف اس صورت میں کھا سکتا ہے جبکہ وہ خود تنگ دست اور محتاج ہو اور اس صورت میں بھی وہ صرف معروف طریقے سے اس میں سے لے سکتا ہے جو کسی بھی فریق کے لیے قابل اعتراض نہ ہو۔ یتیم کا مال کھانے کی ممانعت قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آئی ہے۔ اور آپ نے اس گناہ کو سات بڑے بڑے ہلاک کردینے والے گناہوں میں سے پانچویں نمبر پر شمار کیا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح…
Read the full tafseer →238 ۔ (اور سن بلوغ پر جب یتیم پہنچ جائے گا تو اس کی جائیداد اس کے حوالہ کردی جائے گی، اور کوئی سوال ہی تولیت وسربراہ کاری کا باقی نہ رہ جائے گا) (آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم “۔ یعنی یتیم کی جائیداد میں کسی قسم کا تصرف روانہ رکھو۔ (آیت) ” یبلغ اشدہ “۔ یعنی اپنی پوری قوت کو پہنچ جائے اور قوت میں قوت جسمانی اور قوت عقل و تجربہ دونوں آگئیں۔ یعنی قوتہ وقد تکون فی البدن وقد تکون فی المعرفۃ بالتجربۃ ولا بدمن حصول الوجھین فان الاشد ھنا مطلقۃ (قرطبی) الاشد واحدھا شد وھو قوۃ الشباب عند ارتفاعہ (جصاص) ولم یشرط البلوغ فدل علی انہ بعد البلوغ یجوزان یحفظ علیہ مالہ اذا لم یکن مانوس الرشد ولا یدفعہ الیہ…
Read the full tafseer →وَلا تقربوا مال الیتیم، جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری ہے، ہر طرح اس کی خیرخواہی کرنا تمہارا فرض ہے اسی خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ یتیم کے مال سے خواہ وہ نقدی کی شکل میں ہو یا زمین جائداد اور اثاثہ کی صورت میں اور یتیم ابھی اس کی حفاظت کی اہلیت نہ رکھتا ہو اس کے مال کی اس وقت تک حفاظت کرنا ولی پر فرض ہے کہ وہ سن بلوغ و شعور کو پہنچ جائے۔
وَاوفوا الکیل والمیزان، ناپ تول میں کمی کرنا نہایت ذلیل اور اخلاق سے گری ہوئی بات ہے قوم شعیب میں یہی اخلاقی بیماری تھی جو ان کی تباہی کے منجملہ اسباب میں سے ایک تھی، سورة مطففین میں اس کو اسباب ہلاکت و بربادی میں شمار کرایا گیا ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →ولا تقربوا مال الییتم الا بالتی ہی احسن حتی یبلغ اشدہ . اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ جائے۔ ولا تقربوا : یعنی یتیم کے مال کو کھانا اور تباہ کرنا تو درکنار اس کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ۔ مگر اس طریقہ سے جس سے اس کے مال کی نگہداشت درستی اور ترقی ہوتی ہو مجاہد نے کہا التی ہی احسن : سے مراد تجارت ہے۔ اشد شد : کی جمع ہے جیسے افس فلس : کی جمع ہے یعنی بلوغ اور بلوغ کے بعد پوری سمجھ کے تمام اوصاف یتیم کو حاصل ہوجائیں۔ بعض کے نزدیک اشد : مفرد ہے جس کا معنی ہے (قوتوں کا) کمال۔ اشد : تک پہنچنے کی شرط احترازی نہیں عادی ہے اسلام سے پہلے…
Read the full tafseer →(152) اور یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ مگر اس کی حفاظت اور نفع کے لیے تاوقتیکہ وہ سن بلوغت اور رشد و عقل کو نہ پہنچ جائے اور ماپ و تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو کیوں کہ ماپ و تول میں اس کے امکان سے زیادہ تمہیں تکلیف نہیں۔
جب کوئی بات کہو تو انصاف کا خیال کرو، خواہ کوئی رشتہ دار ہی ہو تب بھی سچ اور صحیح بول اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کرو اسے پورا کیا کرو، ان باتوں کا کتاب اللہ میں تمہیں حکم دیا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ،
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ۔۔ :”سب سے اچھے طریقے“ میں یتیم کے مال کی حفاظت کرنا، اسے بڑھانے کے متعلق سوچنا، یتیموں کی بہتری کے سوا اسے خرچ کرنے سے بچنا وغیرہ سب شامل ہیں۔ ”حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ“ میں جوانی کے ساتھ سمجھ داری بھی شامل ہے کہ اس میں معاملات کو خود نپٹانے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔ دیکھیے سورة نساء (6)۔
وَاَوْفُوا الْكَيْلَ : اس میں انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیتے وقت ماپ تول میں کمی نہ کرنا اور لیتے وقت زیادہ نہ لینا دونوں شامل ہیں۔ دیکھیے سورة مطففین (1 تا 3) سورة رحمٰن (9) اور سورة بنی اسرائیل (35)۔
لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۚ: یعنی اگر پورا تولنے اور ماپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
آیت نمبر : 151۔ 152۔ 153
اس میں چودہ مسئلے ہیں
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قل تعالوا اتل آو اور پڑھو جو یقینا حق ہے جیسا کہ میرے رب نے میری طرف وحی فرمایا ہے، نہ یہ ظن ہے اور نہ ہی کذب جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے، پھر اسے بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا : آیت : الا تشرکوا بہ شیا آدمی کے لیے کہا جاتا ہے : تعال یعنی آگے آو اور عورت کے لیے تعالیٰ تثنیہ مذکر و مؤنث کے لیے تعالیا اور جمع مذکر کے لیے تعالوا اور جمع مونث کے لیے تعالین کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فتعالین امتعکن (الاحزاب : 28) ( تو آو تمہیں مال و متاع دے دوں) اور انہوں نے تقدم کو تعالیٰ اور ارتفاع ( بلند ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
حرام باتوں کی اجمالی فہرست
(1) امام ترمذی، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جس کو یہ بات خوش لگے کہ وہ محمد ﷺ کی وصیت کی طرف دیکھے کہ اس پر مہر بھی ہے تو اس کو چاہئے کہ ان آیات کو پڑھے لفظ آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم سے لے کر لفظ آیت لعلھم یتقون تک۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم نے (امام حاکم نے تصحیح اور ترمذی نے تحسین کی ہے) عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کون مجھ سے بیعت کرتا ہے ان تین آیات پر ؟ پھر (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت قل…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوْا [ اور قریب مت جاؤ ] مَالَ الْيَتِيْمِ [ یتیم کے مال کے ] اِلَّا [ مگر ] بِالَّتِيْ [ اس (طریقہ ) سے کہ ] هِىَ [ وہ ] اَحْسَنُ [ بہترین ہو ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَبْلُغَ [ وہ پہنچے ] اَشُدَّهٗ ۚ [ اپنی پختگی کو ] وَاَوْفُوا [ اور پورا کرو ] الْكَيْلَ [ پیمانے کو ] وَالْمِيْزَانَ [ اور ترازوکو ] بِالْقِسْطِ ۚ [ انصاف سے ] لَا نُكَلِّفُ [ ہم پابند نہیں کرتے ] نَفْسًا [ کسی جان کو ] اِلَّا [ مگر ] وُسْعَهَا ۚ [ اس کی وسعت کو ] وَاِذَا [ اور جب بھی ] قُلْتُمْ [ تم لوگ کہو (کوئی بات ) ] فَاعْدِلُوْا [ تو عدل کرو ] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] كَانَ [ وہ ہو ] ذَا قُرْبٰي ۚ [ قرابت والا…
Read the full tafseer →یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ :
(6) یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ سوائے اس صورت کے جو اچھی ہو۔ یعنی جس میں یتیم کی خیر خواہی اور بھلائی ہو۔ یتیم کے مال کو ناحق نہ اڑاؤ اور ظلماً نہ نہ کھاؤ جس کا ذکرسورۂ بقرہ (رکوع نمبر 26) اور سورة نساء (رکوع نمبر 1) میں ہوچکا ہے۔
ناپ تول میں انصاف کرو :
(7) انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرو۔ بہت سے لوگوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ اپنے لیے ناپ تول کریں تو ناپ تول پورا کرکے لیں اور دوسروں کو ناپ تول کردیں تو کم ناپیں اور کم تولیں۔ اسی کو فرمایا (وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ الَّذِیْنَ اِِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ وَاِِذَا کَالُوْھُمْ اَوْ وَّزَنُوْھُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–158
بیان اصول محرمات دربارۂ اقوال وافعال وتلقین مکارم اخلاق و محاسن اعمال
قال اللہ تعالیٰ قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ قل انتظروا انا منتظرون
(ربط) گذشتہ آیات میں جب حق تعالیٰ کافروں کی حرام کردہ چیزوں کو باطل کرچکے اور کھانے اور پینے کے متعلق جو چیزیں من جانب اللہ حرام تھیں ان کا ذکر ہوچکا تو اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کو بیان کرتے ہیں جو اقوال اور افعال سے متعلق رہیں ان آیتوں میں بالترتیب دس چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں اللہ نے معاش اور معاد کی صدہا حکمتیں رکھی ہیں۔
1 ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
2 ۔ ماں باپ کے ساتھ سلوک اور احسان کرو اور ان کے ساتھ برائی نہ کرو
3 ۔…
Read the full tafseer →173 یہاں قول سے عام مراد ہے شہادت، فیصلہ اور دیگر امور یعنی جب تم گواہی دو یا کوئی جھگڑا چکاؤ تو اس میں کسی کی جانبداری مت کرو۔ بالکل سراسر عدل وانصاری سے کام لو اگرچہ تمہاری شہادت اور تمہارے فیصلے کی زد تمہارے کسی رشتہ دار پر پڑتی ہو۔ وَاِذَ ا قُلْتُمْ ، قولا فی حکومۃ او شہادۃ او نحوھما (فَاعْدِلُوْا) فیہ وقولوا الحق (روح ج 8 ص 56) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
ربط آیات : پہلے اللہ نے مشرکین کے خودساختہ محرکات کا ذکر کیا پھر اللہ نے بعض حلال جانوروں کا ذکر کیا ہے اور ان چار بنیادی محرکات کا ذکر کیا جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰنے بعض دیگر حرام چیزوں کا ذکر کیا جیسے اشراکب اللہ ، والدین سے بدسلوکی ، بیحیائی اور قتل اولاد اور قتل ناحق اب زیر درس آیات میں بعض دیگر چیزوں کی حرمت کا بیان آ رہا ہے۔ ان میں سے پانچ محرمات کا ذکرگزشتہ درس میں آ چکا ہے اور باقی پانچ چیزوں کا ذکر آج کی دو آیات میں آ رہا ہے۔ ان ممنوعہ امور کا ارتکاب وبال اور گناہ کا باعث ہے۔
یتیم کا مال کھانا :
اللہ تعالیٰنے محرمات کے سلسلہ میں چھٹی چیز یہ فرمائی ہے ولا…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّہٗ 0 ۚ وَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ 0 ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا 0 ۚ وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰي 0 ۚ وَبِعَہْدِ اللہِ اَوْفُوْا 0 ۭ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 152 ۙ
قرب
الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
1 ؎ بےحیائی ‘ زنا اور اس کے وداعی ناچ رنگ شہوت انگیز قصے ‘ اور اشعار ‘ گالی گلوچ ٗ ننگی تصاویر رکھنا دیکھنا یا خلوۃ کی باتیں سننا ‘ فحش بکنا ‘ اس میں ظاہر بےحیائی ہے اور باطن دل میں برے خیالات کو جگہ دینا تصورات فاسدہ اور شہوت انگیز سے لذت اٹھانا اور ان سب سے بچنا چاہیے۔ کس لئے کہ یہ روح تاریک کرتی ہیں اور جس سے دنیا میں فساد اور فتنہ اور صدہا آفتیں برپا ہوتی ہیں۔ 12 منہ
ترکیب : ما بمعنی الذی اور عائد محذوف ای ماحرمہ اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ان لاتشرکوا ان مفسرہ اور لانبی کے لیے اور مصدریہ بھی
ہوسکتا ہے تب لا زائد ہوگا اے حرم ربکم ان تشرکوا اور جملہ محل نصب میں ہوگا محذوفہ سے بدل ہو کر ماظہر…
Read the full tafseer →اگلی آیت کریمہ میں انہی احکام عشرہ میں سے مزید چار احکام کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ج وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ ج لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا ج وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰیج وَبِعَھْدِ اللہِ اَوْفُوْا ط ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الانعام : 152)
(اور یتیم کے مال کے پاس نہ پھٹکو ‘ بجز اس طریقے کے جو اس کے لیے بہتر ہو یہاں تک کہ وہ سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پورا رکھو۔ ہم کسی جان پر اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :۔
پہلی آیت میں ایک کام کو کرنے اور چار کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ اب معاشرے کے نہایت ہی پسماندہ طبقے یتیموں کے مالی حقوق کے تحفظ کا حکم دیا ہے کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ سن بلوغت کو پہنچ جائے۔ شریعت کے مطابق یتیم وہ ہوتا ہے جس کا بلوغت سے پہلے باپ فوت ہوجائے۔ نابالغ بچے میں کاروبار کرنے اور مال کے تحفظ کے سلسلے میں وہ شعور اور پختگی نہیں ہوتی جو جوان اور بالغ بچے میں ہوتی ہے۔ اس لیے حکم دیا کہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہیں جانا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ یتیم کے مال کو ناجائز طریقے سے کھانا سخت منع ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں یتیم کی پرورش…
Read the full tafseer →آیت 152 : وَلاَ تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ : مگر اس طریقہ سے جو کہ اچھا ہو اور وہ اس کی حفاظت کرنے اور اس کو بار آور کرنے والا طریقہ ہے۔ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗج : یعنی بلوغت کو پہنچ جائے تو اس کا مال اس کے سپرد کردو۔ اَشُدَّ : یہ شَدٌّ کی جمع ہے جیسے : فلس وافلس۔ وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِج : قسط کا معنی برابری اور عدل ہے۔ یعنی تم ماپ تول میں برابری کرو۔ لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلاَّ وُسْعَہَاج سے مراد جن سے انسان عاجز نہ رہے ‘ اس کو کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔
ایک حکمت :
ماپ تول میں انصاف کا حکم دینے کے بعد اس کو اس لئے لائے کیونکہ ماپ تول…
Read the full tafseer →یتیم کے مال کے کھانے کا کیا حکم ہے
تفسیر 152 (ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن) یعنی جس میں اس کے مال کا نفع اور اضافہ ہو۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے مال میں تجارت کرنا مراد ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ احسن طریقہ یہے کہ اس کے مال سے تجارت کرے اور نفع میں سے خود کچھ نہ رکھے۔ (حتی یبلغ اشدہ) شعبی اور مالک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بالغ ہوجائے کہ اس کی نیکیاں اور گناہ لکھے جانے لگیں۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ سمجھ دار ہو اجئے اور قوت والا ہوجائے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ” اش ”‘ کا اطلاق اٹھارہ سال سے تیس سال تک کی عمر پر وہتا ہے اور بعض نے کہا چالیس سال تک اور بعض نے ساٹھ سال تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
(151 ۔ 152) ۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے تو اللہ تعالیٰ نے باغ اور زراعت کا ذکر فرمایا تاکہ مشرکین مکہ کو حشر کا جو انکار ہے باغ اور کھیتی کی حالت پر غور کرنے سے ذرا ان کی آنکھیں کھلیں اور سمجھیں کہ جس طرح اناج کا سوکھا دا نہ اور پھل کی سوکھی گٹھلی کے ایک جسم سے اسی طرح کے ہزارہا کھجور کروڑہا دانوں اور اور پھلوں اور گٹھلیوں کے جسم پیدا ہوجاتے ہیں اور ان کے دانے اور گٹھلیاں مثل مردہ جسم کے سوکھ جانے کے بعد تروتازہ دانوں اور گٹھلیوں کے پیدا ہونے کا سبب قرار پاتے ہیں اسی طرح ایک آدمی کے جسم کی مردہ مٹی سے پھر تروتازہ طور پر حشر کے دن اس حسم کا پیدا ہوجانا کیا اس سے بھی مشکل ہے باغ اور کیھتی کے ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
آیت 152
(ثم) ” پھر “ اس مقام پر (ثم) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰ کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہ ﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔
(اتینا موسیٰ الکتب) ” موسیٰ ) کو کتاب عنایت کی “ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تو رات ہے (تماماً ) اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لئے (علی الذی احسن) ” ان پر جو نیکو کار ہیں۔ “ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لئے جنہوں نے نیک کام کئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکو کاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار…
Read the full tafseer →مال یتیم
قول باری ہے ( ولا تقربو مال الیتیم الا بالتیھی احسن۔ اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو یہ حکم دیا ہے اس کے سلسلے میں یتیم کا خصوصیت کے ساتھ ذکر یکا ہے اس لیے کہ یتیم اپنی ذات کے لیے بدلہ لینے سے نیز دوسروں کو اپنے مال سے دور رکھنے سے عاجز ہوتا ہے، چونکہ لوگ یتیم کا مال ہتھیانے کے لیے دندان حرص و آز تیز کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یتیم کا خصوصیت سے ذکر کر کے اس کا مال ہتھیانے کی نہی کی اور تاکید کردی۔ قول باری ( الا بالتیھی احسن) اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص کو یتیم کی سرپرستی کا حق حاصل ہو اس کے لیے اس ییتیم کا مال…
Read the full tafseer →313 حقِّ یتیم کی پاسداری کا حکم وارشاد : سو اس میں یتیم کے بارے میں سب سے بہتر طریقے کو اپنانے کی ہدایت فرمائی گئی۔ یعنی یتیم کے مال کے بارے میں وہی طریقہ اپنایا جائے جو سب سے بہتر ہو یتیم کے حق میں۔ اس کی بہتری اور اس کے مال کی حفاظت و صیانت کے اعتبار سے۔ یعنی یتیم کے بارے میں ہر وہ طریقہ اپناؤ جس سے اس کے مال کی حفاظت ہو اور اس میں اضافہ اور بڑھوتری ہو۔ اور یہ کہ یہ مال یتیم کی تعلیم و تربیت اور اس کی بہتری اور اصلاح میں خرچ ہو۔ یہ سب صورتیں " احسن " یعنی " سب سے اچھے طریقے " میں داخل ہیں۔ سو کسی بری نیت و ارادہ سے یتیم کے مال کے قریب بھی نہیں پھٹکنا چاہئے۔ جو بھی اس کے پاس جائے صرف اچھی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–153
کفار کے اعتراض اور صراط مستقیم کے اصول
تشریح : ان آیات میں شروع میں تو مشرکوں کو اپنے برے اعمال کو ٹھیک ثابت کرنے کے لیے گواہ لانے کو کہا گیا ہے جو کہ وہ ہرگز نہیں لاسکتے، پھر مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ مشرک ہیں ان کی کسی بھی چال میں پھنس کر ان جیسے بےدین، گمراہ اور مشرک نہ ہوجانا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اللہ نے کیا حرام کیا ہے اور کیا حلال کیا ہے۔ بس صرف اسی پر ہی عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اپنے پاس سے احکامات بنانے یا ان پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے اصول اور قانون اس قدر جامع، مفید اور واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–155
رکوع نمبر 19 ۔ آیات 152 ۔ تا۔ 155 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ ان کی باتوں پہ توجہ نہ دیں بلکہ انہیں فرما دیں کہ لوگو آؤ میں تمہیں ان چیزوں اور ان کاموں سے باخبر کردوں جو تمہارے پروردگار نے حرام یعنی ممنوع قرار دئیے ہیں تاکہ محض اندازوں پہ عمل کرنے کی بجائے تمہیں یقینی علم حاصل ہو اور تم عمل کرکے اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکو جس کے ساتھ دونوں عالم کا سکون وابستہ ہے اگرچہ بظاہر اس دور کے راہ گم کردہ لوگ مکاطب ہیں مگر ایسے بلیغ انداز میں ارشادات سے نوازا کہ ساری انسانیت کے لیے اور ہمیشہ کے لیے اساس اور بنیاد فراہم فرما دی یہ ایک ایسا منشور ارشاد ہوا کہ مفسرین کے مطابق آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی وہ بالغ ہوجائے اور اس میں اپنے معاملات کو نپٹا نے کی خود صلاحیت پیدا ہوجائے، دیکھئے سورة نسا آیت 6)11 لہذا اگر پورا اور اپنے کی کوشش کرے مگر بھول چوک سے غلطی کر بیٹھے تو اس سے بار پرس نہ ہوگی یہی معنی الا وسعھا کے ہیں۔ (ابن کثیر )
1 یعنی رشتہ داری یا قرابت عد ل و انصاف میں مانع ہونے پائے اور ہر حالت اور ہر زنا میں عدل و انصاف سے کام لو۔ ( ابن کثیر)2 یعنی اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر ونواہی بجا لوأ بجا لوؤ اور کتان وسنت کے مطابق عمل کرو، اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرنے سے یہی مراد ہے (ابن کثیر، ) یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ ایک ہی ہے اور وہی سیدھی اور جنت تک پہنچانے والی ہے مگر شیطان نے…
Read the full tafseer →(6:152) اشدہ۔ اس کی عقل وتمیز اور قوت کا مکمل ہونا۔ اشد کے معنی ہیں قوت و عقل وتمیز کا مکمل ہونا۔
اوفوا۔ تم پورا کرو۔ ایفاء (افعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔
الکیل۔ غلہ سے پیمانہ بھرنا۔ غلہ ناپنا۔ کلت الطعام۔ میں سے اسے غلہ ناپ کردیا ۔ کال یکیل کیلا (ضرب) گیہوں وغیرہ (اناج غلہ) کی مقدار کو کسی پیمانہ سے ناپنا۔ اکتال یکتال اکیتال منہ وعلیہ اپنے لئے ناپنا۔ المکیال۔ ناپنے کا آلہ۔
بالقسط۔ انصاف و عدل کے ساتھ۔
تذکرون۔ تم نصیحت پکڑو۔ تم دھیان رکھو۔ تذکر (تفعل) سے مضارع جمع مذکر حاضر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
لغات القرآن : آیت نمبر 151 تا 153 :
تعالوا ( آئو) اتل ( میں تلاوت کرتا ہوں۔ پڑھتا ہوں) الا تشرکوا ( یہ کہ تم شریک نہ کرو) احسان ( اچھا معاملہ۔ حسن سلوک) لاتقتلوا ( تم قتل نہ کرو) املاق (ملق) ۔ مفلسی کا خوف ‘ نرزق ہم رزق دیتے ہیں ‘ ایاھم ( ان کو بھی) لا تقربوا ( تم قریب نہ جائو) الفواحش ( فاحشۃ) بےحیائی کے کام) ظھر ( ظاہر ہے۔ ظاہر ہوا) بطن وہ جو چھپا ہوا ہے) وصکم ( وہ تمہیں وصیت کرتا ہے) احسن ( بہترین طریقہ) حتی یبلغ (جب تک نہ پہنچ جائے) اشدہ ( اپنی طاقت کو (بالغ نہ ہوجائے) اوفوا (پورا کرو) الکیل (ماپ) المیزان ( تول) بالقسط ( انصاف کے ساتھ) لانکلف ( ہم ذمہ داری نہیں ڈالتے) وسعھا ( جو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
ماں باپ پر احسان کرنا کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر شرک حرام کیا، اس لئے تم لوگوں کو چاہیے کہ شرک سے باز آؤ۔ اگرچہ ماں باپ کے ساتھ برائی سے پیش آنا حرام ہے لیکن ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجاوے کہ ماں باپ کے ساتھ فقط برائی سے پیش نہ آنا کافی نہیں ہے بلکہ برائی سے بچ کر ان کے ساتھ ہر ایک طرح کا احسان بھی ضروری ہے۔ آگے فرمایا کہ بتون کو شریک ٹھہرانا، تنگی معاش سے لڑکیوں کو مار ڈالنا، ظاہر کے زنا کو عیب نہ شمار کرنا۔ مخفی طور پر کوئی زنا کرے تو اس کو عیب نہ لگانا۔ آپس میں خوں ریزی اور خانہ جنگی کرنا، یتیموں کا مال کھانا، جھوٹ بولنا، کم…
Read the full tafseer →[57] اس وقت اس کی جائیداد اس کے حوالے کی جائے گی۔
[58] اللہ کا عہد پورا کرنے سے مراد وہ عہد بھی ہے جو انسان اپنے اللہ سے کرے (الفاتحہ : 4، البقرہ : 285) اور وہ بھی جو اللہ کا نام لے کر بندوں سے کرے اور وہ بھی جو انسان اور اللہ، اور انسان اور انسان کے درمیان اسی وقت آپ سے آپ بندھ جاتا ہے جس وقت ایک شخص اللہ کی زمین میں پیدا ہوتا ہے۔ پہلے دونوں عہد شعوری و ارادی ہیں لیکن یہ تیسرا عہد ایک فطری عہد ہے۔ کسی شخص کا اللہ کے بخشے ہوئے وجود سے، اس کی عطا کی ہوئی جسمانی و نفسانی قوتوں سے، اس کی پیدا کی ہوئی زمین اور رزق سے فائدہ اٹھانا اور ان مواقع زندگی سے متمتع ہونا جو قوانین قدرت کی بدولت فراہم ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
خدا کے احکام تسعہ :
(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہود ومشرکین کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ تم محض رسوم شرک کی پیروی کرتے ہو ، اصل باتیں جو انسان کی ہلاکت اور تباہی کا باعث ہیں ، نہیں جانتے ، آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ کیا کیا چیزیں اللہ نے حرام قرار دی ہیں ۔
1۔ شرک ، کیونکہ اس سے انسانی عزت و حرمت زائل ہوجاتی ہے نفس ذلیل ہوجاتا ہے ، جہالت پھیلتی ہے اور دماغی افق تاریک ہوجاتا ہے ۔
2۔ والدین کی نافرمانی ۔ اس سے عقوق وسرکشی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ، احسان فراموشی کی عادت پڑجاتی ہے ، جو شخص والدین کے لئے تکلیف وہ ہے اور سماج یا سوسائٹی کے لئے کبھی مفید ثابت نہیں ہو سکتا ، والدین کی اطاعت شعاری بہترین…
Read the full tafseer →-152 اور یہ کہ مال یتیم کے قریب نہ جائو مگر ہاں اییس طریقہ ہے جو بہترین ہو یہاں تک کہ وہ یتیم اپنی جوانی کو پہونچ جائے یعنی جب تک وہ یتیم جوان نہ ہوجائے اس کے مال میں تصرف نہ کرو مگر یہ کہ یتیم کا فائدہ ہو مثلًا یتیم کی حفاظت میں اس کے کھانے پینے کپڑے وغیرہ میں بہرحال مقصود اصلاح ہو اور یہ کہ ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو یعنی پیمانہ پوری طرح بھر کر اور ترازو سیدھی، ہم کسی شخص کو اس کے مقدور اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے یعنی جو تکلیف دیتے ہیں وہ طاقت اور بساط کے موفاق ہوتی ہے اور یہ کہ جب تم کوئی بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ جس شخص کے مقابلہ میں بات کہتے ہو وہ تمہارا اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
ف 3۔ مثلا اس کے کام میں لگانا اس کی حفاظت کرنا اور بعض اولیاء اور اوصیاء کو اس میں یتیم کے لیے تجارت کرنا بھی جائز ہے۔
4۔ پھر ان احکام میں کوتاہی کیوں کی جائے۔
5۔ جس کے مقابلہ میں وہ بات کہہ رہے ہو۔
6۔ جیسے قسم یا نذر بشرط اس کے مشروع ہونے کے۔
Read the full tafseer →یتیموں کے مال کی طرف کھاجانے کی نیت سے ہاتھ بڑھانا بھی حرام ہے :
240: اسلامی معاشرے کی چھٹی پابندی یہ ہے کہ یتیموں کے مال کو ناجائز طریقہ سے ہڑپ کرلیا جائے اور اس طرح کا کھایا ہوا مال بھی یقیناً ناجائز اور حرام ہے۔ یہ بھی محض ایک اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ اسلامی حکومت میں یتامی کے حقوق کی حفاظت کے لئے انتظامی اور قانونی دونوں طرح کی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اور دونوں ہی طرح کی تدابیر اختیار کی گئی تھیں دوسری جگہ قرآن کریم نے یتیموں کے مال کو ناجائز طریقہ سے کھا جانے کو دوزخ کی آگ قرار دیا ہے اور جب اسلامی حکومت اپنے ان تمام شہریوں کے مفاد کی محافظ ہے جو اپنے مفاد کی خود حفاظت کرنے کے قابل نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
Commentary
Prior to the verses appearing above, for about two to three sections, the recurring theme has been how heedless and ignorant human beings had bypassed the law revealed by the Law Giver and the Creator of whatever there is in the heavens and the earth and, in its place, had taken ancestral and innovated customs as their religion. There were things Allah had made unlawful. They took them as lawful and started using them. Then, there were things Allah had made lawful. They made these unlawful for themselves. Again, they made some things lawful for men and unlawful for women, while…
Read the full tafseer →132. That is, one's handling of the property of orphans should be based on maximum selflessness, sincerity and well-wishing for the orphans; it should be of a kind which lends itself to no reproach, either from God or man.
133. Even though this is a full-fledged postulate of the law of God, it is mentioned here in order to stress that one who tries to remain fair and just to the utmost of his ability, in giving weight and measure and in his dealings with people, will be acquitted of responsibility for error. If any mistakes in weight or measure occur out of oversight, and thus involuntarily,…
Read the full tafseer →