نبی اکرم ﷺ کی وصیتیں
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں جو شخص رسول اللہ ﷺ کی اس وصیت کو دیکھنا چاہتا ہو جو آپ کی آخری وصیت تھی تو وہ ان آیتوں کو (تتقون) تک پڑھے، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورة انعام میں محکم آیتیں ہیں پھر یہی آیتیں آپ نے تلاوت فرمائیں۔ ایک مرتبہ حضور نے اپنے اصحاب سے فرمایا، تم میں سے کوئی شخص ہے جو میرے ہاتھ پر ان تین باتوں کی بیعت کرے، پھر آپ نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا جو اسے پورا کرے گا، وہ اللہ سے اجر پائے گا اور جو ان میں سے کسی بات کو پورا نہ کرے گا تو دنیا میں ہی اسے شرعی سزا دے دی جائے گی اور اگر سزا نہ دی گئی تو پھر اس کا معاملہ قیامت پر ہے اگر اللہ چاہے تو اسے بخش دے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 127
یعنی تمہارے رب کے عائد کی ہوئی پابندیاں وہ نہیں ہیں جن میں تم گرفتار ہو، بلکہ اصل پابندیاں یہ ہیں جو اللہ نے انسانی زندگی کو منضبط کرنے کے لیے عائد کی ہیں اور جو ہمیشہ سے شرائع الٰہیہ کی اصل الاُصُول رہی ہیں۔ (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو بائیبل کی کتاب خروج، باب 20)۔
سورة الْاَنْعَام 128
یعنی نہ خدا کی ذات میں کسی کو اس کا شریک ٹھہراؤ، نہ اس کی صفات میں، نہ اس کے اختیارات میں، اور نہ اس کے حقوق میں۔
ذات میں شرک یہ ہے کہ جو ہر اُلُوہیّت میں کسی کو حصہ دار قرار دیا جائے۔ مثلاً نصاریٰ کا عقیدہ تثلیث، مشرکین عرب کا فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینا، اور دوسرے مشرکین کا اپنے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان سے) کہئے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا ہے وہ (چیزیں یہ ہیں کہ ایک) یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراو (پس شریک ٹھہرانا حرام ہوا) اور (دوسرے یہ کہ) ماں باپ کے ساتھ احسان کیا کرو (پس ان سے بری طرح رہنا حرام ہوا) اور (تیسرے یہ کہ) اپنی اولاد کو افلاس کے سبب (جیسا کہ جاہلیت میں غالب عادت تھی) قتل مت کیا کرو (کیونکہ) ہم تم کو اور ان کو (دونوں کو) رزق (مقدر) دیں گے (وہ تمہارے رزق مقدر میں شریک نہیں ہیں، پھر کیوں قتل کرتے ہو، پس قتل کرنا حرام ہوا) اور (چوتھے یہ کہ) بےحیائی (یعنی بدکاری) کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی…
Read the full tafseer →اصل ملت ابراہیم کی تفصیل :۔ قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْــــًٔـا، یہ اصل ملت ابراہیمی کا فصیلی بیان ہے۔ پیغمبر ﷺ کی زبان سے کہلایا کہ تم نے تو محض اپنے ظن و گمان سے ملت ابراہیم کی بعض طیب و حلال چیزوں کو اپنے مشرکانہ توہمات کی بنا پر حرام ٹھہرا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس کل ملت ابراہیم یہی ہے اور تم نے اس کا حق ادا کردیا، حالانکہ ملت ابراہیم میں دوسری بہت سی باتیں، جو خدا اور بندوں کے حقوق و معاملات سے متعلق حرام ہیں، ان کو تم نے اختیار کر رکھا ہے۔ تو آؤ، میں تمہیں سناتا ہوں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا کیا چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں۔ فرمایا کہ…
Read the full tafseer →151۔ 1 یعنی حرام وہ نہیں ہیں جن کو تم بلا دلیل، محض اپنے اوبام باطلہ اور ظنون فاسدہ کی بنیاد پر قرار دے رکھا ہے۔ بلکہ حرام تو وہ چیزیں ہیں جن کو تمہارے رب نے حرام کیا ہے، کیونکہ تمہارا پیدا کرنے والا اور تمہارا پالنہار وہی ہے ہر چیز کا علم بھی اسی کے پاس ہے اس لئے اسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس چیز چاہے حلال اور جس چیز کو چاہے حرام کرے۔ چناچہ میں تم کو ان باتوں کی تفصیل بتلاتا ہوں جن کی تاکید تمہارے رب نے کی ہے۔
151۔ 2 ان لا تشرکوا سے پہلے اوصاکم محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو تم شریک مت ٹھہراؤ شرک سب سے بڑا گناہ ہے، جس کے لئے معافی نہیں، مشرک…
Read the full tafseer →81: یعنی بےحیائی کے کام جس طرح کھلم کھلا کرنا منع ہے اسی طرح چوری چھپے بھی منع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
آیت ” نمبر 151 تا 153۔
اللہ تعالیٰ نے آیات کے اس حصے میں جو وصیتیں فرمائی ہیں اور جو قوانین بتلائیں ہیں مثلا مویشیوں اور پیداوار کے متعلق اور ادہام جاہلیت اور رسوم جاہلیت کی تردید وغیرہ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوانین وہدایات اس دین کی اساسی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے ضمیر کو توحید کی روشنی اور زندگی ملتی ہے اور صدیوں پر مشتمل تاریخ میں انسانی خاندان کو تقویت ملتی ہے ۔ باہم تکافل اور باہم نصرت کی وجہ سے اجتماعی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں حقوق کی ضمانت ہوتی ہے اور فرائض ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ سب کام اللہ کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں مگر ان…
Read the full tafseer →2 عرب مفلسی کی وجہ سے بعض اوقات اولاد کو قتل کردیتے تھے کہ خود ہی کھانے کو نہیں اولاد کو کہاں سے کھلائیں۔ اسی لئے فرمایا کہ رزق دینے والا تو خدا ہے تم کو بھی اور تمہاری اولاد کو بھی۔ دوسری جگہ بجائے " مِنْ اِمْلاَقٍ " خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ فرمایا ہے یعنی مفلسی کے ڈر سے قتل کر ڈالتے تھے۔ یہ ان کا ذکر ہوگا جو فی الحال مفلس نہیں مگر ڈرتے ہیں کہ جب عیال زیادہ ہونگے تو کہاں سے کھلائیں گے چونکہ پہلے طبقہ کو عیال سے پہلے اپنی روٹی کی فکر ستا رہی تھی اور دوسرے کو زیادہ عیال کی فکر نے پریشان کر رکھا تھا، شاید اسی لئے یہاں من املاق کے ساتھ نَرْزُقُکُمْ وَاِیَّاھُمْ اور اس آیت میں خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ کے…
Read the full tafseer →آیت 151 قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ
تم لوگ جب چاہتے ہو کسی بکری کو حرام قرار دے دیتے ہو ‘ کبھی خود ہی کسی اونٹ کو محترم ٹھہرا لیتے ہو ‘ اور اس پر مستزاد یہ کہ پھر اپنی ان خرافات کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہو۔ آؤ میں تمہیں واضح طور پر بتاؤں کہ اللہ نے اصل میں کن چیزوں کو محترم ٹھہرایا ہے ‘ ممنوع اور حرام چیزوں کے بارے میں اللہ کے کیا احکام ہیں اور اس سلسلے میں اس نے کیا کیا حدود وقیود مقرر کی ہیں۔ یہ مضمون تفصیل کے ساتھ سورة بنی اسرائیل میں آیا ہے۔ وہاں ان احکام کی تفصیل میں پورے دو رکوع تیسرا اور چوتھا نازل ہوئے ہیں۔ ایک طرح سے انہی احکام کا خلاصہ یہاں ان آیات میں…
Read the full tafseer →165 یعنی تم نے جو اپنی خود ساختہ شریعت بنا رکھی ہے اور خواہ مخواہ اپنے آپ پر کئی طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں ان کی تمہارے پاس کوئی علمی یا عقلی دلیل موجود نہیں۔ اب میں تمہیں بتاتا ہوں اور کتاب اللہ سے پڑھ کر سناتا ہوں کہ اللہ نے کیا کچھ تم پر حرام کیا ہے اور کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں جو انسان کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہیں اور ہمیشہ سے اللہ کی شریعت کا جزو رہی ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس مقام پر اللہ نے جن جن احکام کا ذکر فرمایا ہے مشرکین اور یہود دونوں ان کی خلاف ورزیاں کیا کرتے تھے۔
166 مشرکین مکہ میں شرک کی تمام قسمیں پائی جاتی تھیں :۔ سب سے پہلی اور سرفہرست بات یہ ہے کہ کسی کو بھی…
Read the full tafseer →233 ۔ بنیادی اور مرکزی عقیدہ (توحید) کی تصحیح کے معا بعد اب عملی زندگی کی ہدایات شروع ہوجاتی ہیں۔ اور ان میں سب سے پہلا حکم ماں باپ کی خدمت کا ملتا ہے (آیت) ” احسانا “۔ احسان کا لفظ یاد رہے۔ حکم والدین کی محض اطاعت کا نہیں۔ ان کے ساتھ حسن سلوک کا ہورہا ہے۔ جو لوگ خدمت والدین کو کوئی خاص اہمیت دین میں نہیں دیتے۔ کاش وہ اس قسم کی آیتوں پر غور کریں ! ای احسانا کاملا لا اساء ۃ معہ (روح) عن ابن عباس یرید البربھما مع اللطف ولین الجانب (روح) (آیت) ” قل تعالوا “۔ خطاب آیت میں، یہود، مشرکین بلکہ ساری نوع انسانی کے لیے عام ہے۔ (آیت) ” الا “۔ مرکب ہے ان اور لا کا اور ان مفسرہ ہے اردو کے ’ یعنی ‘ کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 151 تا 154
ترجمہ : (اے محمد) ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں (1) یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ (أن) مفسرہ ہے (2) والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو (3) اور اپنی اولاد کو فقر (فاقہ) کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم تمہیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی (دیں گے) (4) بےشرمی (یعنی) بڑے گناہوں مثلاً زنا کے پاس بھی مت جاؤ خواہ کھلم کھلا ہوں یا مخفی یعنی علی الاعلان ہوں یا چھپ کر، (5) اور کسی جان کو جس کو اللہ نے محترم بنایا ہے قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ مثلاً قصاص اور مرتد کی سزا کے طور پر اور شادی شدہ کو رجم کے طور پر یہ مذکورہ (وہ باتیں…
Read the full tafseer →قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا . آپ کہہ دیجئے آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے لئے تمہارے رب نے حرام کردی ہیں وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا کرو۔ قل : سے خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ تعالوا : تعالیٰ (باب تفاعل) سے امر حاضر جمع کا صیغہ ہے اس کی اصل وضع تو اس موقع کے لئے ہے جب کوئی شخص اوپر ہو اور نیچے والے آدمی سے کہے اوپر آجاؤ لیکن استعمال میں اس کے معنی عام ہوگئے۔ آؤ۔ ماحرم : میں ما : موصولہ ہے (وہ چیز جو) یا مصدریہ ہے (بمعنی تحریم) دونوں صورتوں میں اتل : کا مفعول ہے یا مَا استفہامیہ ہے اور…
Read the full tafseer →(151) اے محمد ﷺ آپ مالک بن عوف اور اس کے ساتھیوں سے فرمائیے آؤ میں تمہیں وہ کتاب پڑھ کر سناؤں جو مجھ پر نازل کی گئی ہے جس میں حرام چیزوں کا ذکر ہے ان میں سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں میں سے کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور فاقہ اور ذلت کے خوف سے اپنی لڑکیوں کو مت مارو، ہم تمہاری اور تمہاری اولاد کے بھی رازق ہیں اور زنا اور کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت مت کرو۔
اور سوائے قصاص، رجم اور ارتداد کے کسی کو ناحق قتل مت کرو، یہ وہ باتیں ہیں جن کا تمہیں کتاب خداوندی میں حکم دیا گیا ہے تاکہ تم اس کے حکم اور اس کی توحید کو سمجھو۔
Read the full tafseer →قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ : اب اللہ تعالیٰ تفصیل سے بیان فرماتے ہیں کہ حرام وہ نہیں جو تم نے اپنی مرضی سے حرام بنا لیا، بلکہ وہ ہے جو تمہیں پیدا کرنے والے اور ہر لمحے پالنے والے نے تم پر حرام کیا ہے، آؤ ! میں خود وہ تم سے بیان کرتا ہوں۔ یہ دس احکام ہیں جو اسلام کا خلاصہ ہیں۔
اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْــــًٔـا : یہاں بیان تو وہ چیزیں کرنی تھیں جو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمائی ہیں، مگر بیان وہ چیزیں فرمائی ہیں جن کا نہایت تاکید کے ساتھ حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حرام کرنے سے تمہارے لیے جو حکم تاکید کے ساتھ ثابت ہوتے ہیں وہ یہ ہیں۔ گویا یہ مفہوم ”حَرَّمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
آیت نمبر : 151۔ 152۔ 153
اس میں چودہ مسئلے ہیں
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : قل تعالوا اتل آو اور پڑھو جو یقینا حق ہے جیسا کہ میرے رب نے میری طرف وحی فرمایا ہے، نہ یہ ظن ہے اور نہ ہی کذب جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے، پھر اسے بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا : آیت : الا تشرکوا بہ شیا آدمی کے لیے کہا جاتا ہے : تعال یعنی آگے آو اور عورت کے لیے تعالیٰ تثنیہ مذکر و مؤنث کے لیے تعالیا اور جمع مذکر کے لیے تعالوا اور جمع مونث کے لیے تعالین کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : فتعالین امتعکن (الاحزاب : 28) ( تو آو تمہیں مال و متاع دے دوں) اور انہوں نے تقدم کو تعالیٰ اور ارتفاع ( بلند ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
حرام باتوں کی اجمالی فہرست
(1) امام ترمذی، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جس کو یہ بات خوش لگے کہ وہ محمد ﷺ کی وصیت کی طرف دیکھے کہ اس پر مہر بھی ہے تو اس کو چاہئے کہ ان آیات کو پڑھے لفظ آیت قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم سے لے کر لفظ آیت لعلھم یتقون تک۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم نے (امام حاکم نے تصحیح اور ترمذی نے تحسین کی ہے) عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کون مجھ سے بیعت کرتا ہے ان تین آیات پر ؟ پھر (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت قل…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] تَعَالَوْا [ تم لوگ آؤ] اَتْلُ [ میں پڑھتا ہوں ] مَا [ اس کو جو ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] رَبُّكُمْ [ تمہارے رب نے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] اَلَّا تُشْرِكُوْا [ کہ شریک مت بناؤ ] بِهٖ [ اس کے ساتھ ] شَـيْــــًٔـا [ کسی چیز کو ] وَّبِالْوَالِدَيْنِ [ اور والدین کے ساتھ ] اِحْسَانًا ۚ [ (حسن سلوک کرو) جیسا حسن سلوک کا حق ہے ] وَلَا تَقْتُلُوْٓا [ اور قتل مت کرو ] اَوْلَادَكُمْ [ اپنی اولاد کو ] مِّنْ اِمْلَاقٍ ۭ [ مفلس ہونے (کے خوف ) سے ] نَحْنُ [ ہم ] نَرْزُقُكُمْ [ رزق دیتے ہیں تم کو ] وَاِيَّاهُمْ ۚ [ اور ان کو بھی ] وَلَا تَقْرَبُوا [ اور قریب مت جاؤ] الْفَوَاحِشَ […
Read the full tafseer →دس ضروری احکام
معالم التنزیل ج 2 ص 140 میں لکھا ہے کہ مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا چیزیں حرام کی ہیں وہ بتائیے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ اَلَّا تُشْرِکُوْا) (الاٰیۃ)
ان آیات میں دس چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن میں بعض اوامر ہیں اور بعض نواہی ہیں جن چیزوں کو بصورت امر بیان فرمایا چونکہ ان کے مقابل چیزیں حرام ہیں اس لیے یوں فرمایا کہ آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں۔
(1) اول یہ فرمایا کہ اپنے رب کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔
(2) یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–158
بیان اصول محرمات دربارۂ اقوال وافعال وتلقین مکارم اخلاق و محاسن اعمال
قال اللہ تعالیٰ قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ قل انتظروا انا منتظرون
(ربط) گذشتہ آیات میں جب حق تعالیٰ کافروں کی حرام کردہ چیزوں کو باطل کرچکے اور کھانے اور پینے کے متعلق جو چیزیں من جانب اللہ حرام تھیں ان کا ذکر ہوچکا تو اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کو بیان کرتے ہیں جو اقوال اور افعال سے متعلق رہیں ان آیتوں میں بالترتیب دس چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں اللہ نے معاش اور معاد کی صدہا حکمتیں رکھی ہیں۔
1 ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
2 ۔ ماں باپ کے ساتھ سلوک اور احسان کرو اور ان کے ساتھ برائی نہ کرو
3 ۔…
Read the full tafseer →171 یہ تحریمات الٰہیہ کا ذکر ہے۔ سورة مائدہ میں تحریمات الٰہیہ کی صرف ایک صورت مذکور تھی۔ یعنی غَیْرَ مُحِلیِّ الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ اور باقی ماندہ صورتیں سورة انعام کی اس آیت میں ذکر کی گئی ہیں اس سورت میں مسئلہ نذر غیر اللہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اَلَّا تُشْرِکُوْا ای اٰمرکم محرمات الہیہ میں سب سے پہلے شرک کو ذکر کیا گیا اور پھر قتل سے روکا گیا درمیان میں والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ اگر ماں باپ بھی شرک کرنے پر مجبور کریں تو اس معاملہ میں ان کی اطاعت بھی جائز نہیں جیسا کہ سورة عنکبوت ع 1 میں فرمایا۔ وَاِنْ جَاھَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ…
Read the full tafseer →ربط آیات :
گزشتہ دروس میں اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ مشرکین نے از خود بعض چیزوں کو حلال اور بعض کو حرام قرار دے رکھا تھا ، ان میں کھیتی کی پیداوار ، باغات کے پھل اور بعض مویشی شامل تھے ، یہ لوگ مشرکانہ طریقے پر غیر اللہ کی نیاز نکالتے تھے اور پھر اس کو کھانے کے لیے بعض لوگوں کو نامزد کردیتے تھے ، جن کے علاوہ انہیں کوئی نہیں کھا سکتا تھا ، بسا اوقات ایک قسم کی چیز کو مردوں پر حلال اور عورتوں پر حرام قرار دیتے تھے ، چناچہ اللہ نے ماکولات میں سے چار چیزوں کو قطعی طور پر حرام کردیا یعنی مردار ، خون ، خنزیر کا گوشت اور نیاز لغیر اللہ ، اب اگلی تین آیات میں دس محرمات کا ذکر آرہا ہے ۔ ملت ابراہیمی کے…
Read the full tafseer →قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 0 ۚ وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ 0 ۭ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاہُمْ 0 ۚ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ 0 ۚ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ 0 ۭ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 151
تَعالَ
قيل : أصله أن يدعی الإنسان إلى مکان مرتفع، ثم جعل للدّعاء إلى كلّ مکان، قال بعضهم : أصله من العلوّ ، وهو ارتفاع المنزلة، فكأنه دعا إلى ما فيه رفعة، کقولک : افعل کذا غير صاغر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
1 ؎ بےحیائی ‘ زنا اور اس کے وداعی ناچ رنگ شہوت انگیز قصے ‘ اور اشعار ‘ گالی گلوچ ٗ ننگی تصاویر رکھنا دیکھنا یا خلوۃ کی باتیں سننا ‘ فحش بکنا ‘ اس میں ظاہر بےحیائی ہے اور باطن دل میں برے خیالات کو جگہ دینا تصورات فاسدہ اور شہوت انگیز سے لذت اٹھانا اور ان سب سے بچنا چاہیے۔ کس لئے کہ یہ روح تاریک کرتی ہیں اور جس سے دنیا میں فساد اور فتنہ اور صدہا آفتیں برپا ہوتی ہیں۔ 12 منہ
ترکیب : ما بمعنی الذی اور عائد محذوف ای ماحرمہ اور مصدریہ بھی ہوسکتا ہے ان لاتشرکوا ان مفسرہ اور لانبی کے لیے اور مصدریہ بھی
ہوسکتا ہے تب لا زائد ہوگا اے حرم ربکم ان تشرکوا اور جملہ محل نصب میں ہوگا محذوفہ سے بدل ہو کر ماظہر…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ اَلَّا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ج وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَ اِیَّاھُمْ ج وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ ج وَلَا تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللہ ُ اِلَّا بِالْحَقِّ ط ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الانعام : 151)
(کہو ! آئو میں سنائوں ‘ جو چیزیں تم پر تمہارے رب نے حرام کی ہیں ‘ وہ یہ ہیں کہ تم کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو اور اپنی اولاد کو افلاس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین مکہ من گھڑت حلال و حرام کی فہرست کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتے تھے جس کی تردید کرنے کے بعد اب وہ فہرست پیش کی جارہی ہے جس کو حقیقتاً اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اس میں اعتقادی، اخلاقی، اور معاشی اصول بیان کیے گئے ہیں۔
شرک کے پیشواؤں اور یہودیوں کے رہنماؤں نے اپنی طرف سے حلال و حرام کے قواعد بنا کر لوگوں کو یہ تاثر دیا ہوا تھا۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کی گئی ہیں۔ پہلی آیات میں ان کے جھوٹ کی قلعی کھول کر اس فہرست کو عقل و نقل کے خلاف ثابت کیا ہے پھر اس پر ان سے گواہی طلب کی گئی جب وہ ان چیزوں کی حرمت و حلت کے بارے میں گواہی دینے سے انکاری اور ان کے…
Read the full tafseer →نبوت کے بلند مقام پر کھڑے ہونے والے کا بنیادی تحریمات کا مسودہ آیت 151 تا 153:
آیت 151: قُلْ ان لوگوں سے جنہوں نے کھیتی اور چوپائے حرام کیے۔ تَعَالَوْا یہ خاص فعل تھا۔ پھر عام استعمال ہونے لگا۔ اس کی اصل یہ ہے کہ بلند مقام پر کھڑا شخص وادی میں کھڑے شخص کو کہے پھر اس کا استعمال زیادہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ مطلق بلانے کے لئے استعمال ہونے لگا۔ اَتْلُ مَاحَرَّمَ رَبُّکُمْ وہ جس کو تمہارے رب نے تمہارے اوپر حرام کیا ہے۔ عَلَیْکُمْ یہ حَرَّمَ کا صلہ ہے۔ اَلاَّ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا یہ اَنْ مفسرہ ہے۔ فعل تلاوت کی تفسیر کی جا رہی ہے اور لا نہی کا ہے۔ وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اور تم والدین کے ساتھ…
Read the full tafseer →-151 (قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئاً ) مشرکین نے سوال کیا کہ اللہ نے کون سی چیز کو حرام کیا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
” قل تعالوا اتل “ میں تم پر وہ پڑھتا ہوں جو تم پر تمہارے رب نے حقیقی اور یقینی طور پر حرام کیا ہے، وہ گمان اور جھوٹ نہیں جسے تم گمان کرتے ہو۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اللہ تعالیٰ کے قول ” حرم ربکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئاً “ کا کیا معنی ہے کیونکہ حرام تو شرک ہے نہ کہ شرک کا چھوڑنا ؟ تو جواب یہ ہے کہ ” ان کا محل رفع ہے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ یہ ہے کہ تم شرک نہ کرو اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا محل نصب ہے اور اس کے نصب کی وجہ میں اختلاف ہے۔ بعض نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
(151 ۔ 152) ۔ اوپر کی آیتوں میں پہلے تو اللہ تعالیٰ نے باغ اور زراعت کا ذکر فرمایا تاکہ مشرکین مکہ کو حشر کا جو انکار ہے باغ اور کھیتی کی حالت پر غور کرنے سے ذرا ان کی آنکھیں کھلیں اور سمجھیں کہ جس طرح اناج کا سوکھا دا نہ اور پھل کی سوکھی گٹھلی کے ایک جسم سے اسی طرح کے ہزارہا کھجور کروڑہا دانوں اور اور پھلوں اور گٹھلیوں کے جسم پیدا ہوجاتے ہیں اور ان کے دانے اور گٹھلیاں مثل مردہ جسم کے سوکھ جانے کے بعد تروتازہ دانوں اور گٹھلیوں کے پیدا ہونے کا سبب قرار پاتے ہیں اسی طرح ایک آدمی کے جسم کی مردہ مٹی سے پھر تروتازہ طور پر حشر کے دن اس حسم کا پیدا ہوجانا کیا اس سے بھی مشکل ہے باغ اور کیھتی کے ذکر…
Read the full tafseer →آیت 151
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے (قل) ” کہہ دیجیے “ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا (تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم) ” آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لئے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ (الا تشرکوا بہ) ” یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →قتل اولاد
قول باری ہے ( ولا تقتلوا اولادکم من املاق۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو) عرب کے لوگ مفلسی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ املاق کے معنی افلاس کے ہیں۔ اسی سے حضور ﷺ کا یہ قول ہے ( اعظم الذنوب ان تجعل للہ نذا وھو خلقک وان تقتل ولدک خشیۃ ان تاکل معک و ان تزلی بحلیلۃ جار سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا مد مقابل ٹھہرائو حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔ اور یہ کہ تم اپنی بیٹی کو اس خوف سے قتل کر دو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوجائے اور یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ منہ کالا کرو) زندہ درگور کی جانے والی بیٹی کو قول باری ( واذا الموئودۃ…
Read the full tafseer →308 اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ آؤ میں تم لوگوں کو وہ کچھ پڑھ کر سناؤں جس کو تمہارے رب نے تم پر حرام کردیا ہے تاکہ تم لوگ اس سے بچ سکو کہ حرام وہی ہے جس کو رب حرام فرمائے نہ کہ وہ جس کو تم از خود اپنی طرف سے حرام قرار دو ۔ اور یہی ہے اصل ملت ابراہیمی جسکے تم لوگ دعویدار تو بنتے ہو مگر تمہارا عمل و کردار اس کے بالکل خلاف ہے۔ لہٰذا اب اس آئینے میں تم لوگ اپنا چہرہ خود دیکھ لو کہ ملت ابراہیمی کیا تھی اور اسکے تقاضے کیا تھے۔ اور تم لوگ کہاں کھڑے ہو ؟ اور اسکے نتیجے میں تم لوگ جان سکو کہ تم کو کیا کرنا چاہیئے تھا اور تم کرتے کیا ہو ؟ اور تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–153
کفار کے اعتراض اور صراط مستقیم کے اصول
تشریح : ان آیات میں شروع میں تو مشرکوں کو اپنے برے اعمال کو ٹھیک ثابت کرنے کے لیے گواہ لانے کو کہا گیا ہے جو کہ وہ ہرگز نہیں لاسکتے، پھر مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ مشرک ہیں ان کی کسی بھی چال میں پھنس کر ان جیسے بےدین، گمراہ اور مشرک نہ ہوجانا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اللہ نے کیا حرام کیا ہے اور کیا حلال کیا ہے۔ بس صرف اسی پر ہی عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اپنے پاس سے احکامات بنانے یا ان پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے اصول اور قانون اس قدر جامع، مفید اور واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–151
رکوع نمبر 18 ۔ آیات نمبر 146 ۔ تا۔ 151
اسرار و معارف :
آپ انہیں فرما دیجیے کہ مجھے تو اللہ کریم نے وحی سے مشرف فرمایا ہے جو علم کا سب سے اعلی ذریعہ ہے مگر اس میں تمہاری خرافات کی تائید نہیں ملتی بلکہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ مردار حرام ہے یعنی وہ جانور جو مردار قرار دئیے گئے اور ذبح سے بھی حلال نہیں ہوتے یا وہ حلال جانور جو بغیر ذبح کے مر جائے یا پھر بہتا ہوا خون اور خنزیر حرام ہے کہ یہ سخت ناپاک ہے یا پھر اس جانور کا گوشت حرام ہے جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام پہ ذبح ہو اور حرام مرد عورت سب کے لیے برابر ہے سوائے اس کے کہ کوئی جان بچانے کے لیے اس قدر کھالے کہ موت سے بچ جائے پیٹ بھرنے یا لذت کے…
Read the full tafseer →ف 4 نہ اس کی ذات میں، نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے اختیار ات وحقوق میں۔5 قرآن مجید کی متعدد آیات میں جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور شرک سے بچنے کا حک دیا گیا ہے وہاں والدیں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کے بعد بندوں کے حقوق میں سب سے مقدم حق انسان پر اس کے والدین کا ہے۔6 پیدا ہو چکنے کے بعد یا جب کہ وہ ماؤں کے پیٹ میں ہو (مثلا کوئی دوائی کھلا کر قبل از وقت حمل گر ادینا (نیز دیکھئے سورة اسرا آیت 31)7 یعنی ہر متنفس کا رزق تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تم ان کے رازق نہیں ہو۔ ( دیکھئے سورة ہود 6)8 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →(6:151) تعالوا۔ تم آؤ۔ تعالیٰ سے باب تفاعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ یہ علو سے ماخوذ ہے جس کے معنی بلند مرتبہ کے ہیں۔ لہٰذا جب کوئی شخص دوسرے کو تعال کہہ کر بلاتا ہے تو گویا وہ رفعت کے حصول کی طرف دعوت دیتا ہے قرآن حکیم میں جہاں تعالوا کا استعمال ہوا ہے وہاں یہ چیز موجود ہے جیسے تعالوا الی کلمۃ (3:64) جو بات یکساں تسلیم کی گئی ہے اس کی طرف آؤ۔
اور تعالوا الی ما انزل اللہ (4:61) جو حکم خدا نے نازل کیا ہے اس کی طرف رجوع کرو۔ تعال۔ ہلم کے ہم معنی ہے۔
اتل اصل میں اتلوا ہے۔ مضارع مجزوم واحد متکلم ۔ میں پڑھ کر سناؤں۔ تلاوۃ سے (ت ل و مادہ تلاۃ (نصر) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنے کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–153
لغات القرآن : آیت نمبر 151 تا 153 :
تعالوا ( آئو) اتل ( میں تلاوت کرتا ہوں۔ پڑھتا ہوں) الا تشرکوا ( یہ کہ تم شریک نہ کرو) احسان ( اچھا معاملہ۔ حسن سلوک) لاتقتلوا ( تم قتل نہ کرو) املاق (ملق) ۔ مفلسی کا خوف ‘ نرزق ہم رزق دیتے ہیں ‘ ایاھم ( ان کو بھی) لا تقربوا ( تم قریب نہ جائو) الفواحش ( فاحشۃ) بےحیائی کے کام) ظھر ( ظاہر ہے۔ ظاہر ہوا) بطن وہ جو چھپا ہوا ہے) وصکم ( وہ تمہیں وصیت کرتا ہے) احسن ( بہترین طریقہ) حتی یبلغ (جب تک نہ پہنچ جائے) اشدہ ( اپنی طاقت کو (بالغ نہ ہوجائے) اوفوا (پورا کرو) الکیل (ماپ) المیزان ( تول) بالقسط ( انصاف کے ساتھ) لانکلف ( ہم ذمہ داری نہیں ڈالتے) وسعھا ( جو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
ماں باپ پر احسان کرنا کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر شرک حرام کیا، اس لئے تم لوگوں کو چاہیے کہ شرک سے باز آؤ۔ اگرچہ ماں باپ کے ساتھ برائی سے پیش آنا حرام ہے لیکن ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجاوے کہ ماں باپ کے ساتھ فقط برائی سے پیش نہ آنا کافی نہیں ہے بلکہ برائی سے بچ کر ان کے ساتھ ہر ایک طرح کا احسان بھی ضروری ہے۔ آگے فرمایا کہ بتون کو شریک ٹھہرانا، تنگی معاش سے لڑکیوں کو مار ڈالنا، ظاہر کے زنا کو عیب نہ شمار کرنا۔ مخفی طور پر کوئی زنا کرے تو اس کو عیب نہ لگانا۔ آپس میں خوں ریزی اور خانہ جنگی کرنا، یتیموں کا مال کھانا، جھوٹ بولنا، کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
[52] یعنی نہ اللہ کی ذات میں کسی کو اس کا شریک ٹھہراؤ، نہ اس کی صفات میں، نہ اس کے اختیارات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔
ذات میں شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یعنی الوہیت میں کسی کو حصہ دار یا ہمسر قرار دیا جائے۔ مثلاً نصاریٰ کا عقیدہ تثلیث یعنی تین الہٰوں کو ماننا یا مشرکین عرب کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینا اور دوسرے مشرکین کا اپنے دیوتاؤں و دیویوں اور اپنے شاہی خاندان کے افراد کو اللہ کی ذات میں حصہ قرار دینا۔
صفات میں شرک کا مفہوم یہ ہے کہ جو صفات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اور جس مفہوم میں وہ اللہ کے لئے مستعمل ہیں ان کو یا ان میں سے کسی صفت کو دوسرے کے لئے قرار دینا۔ مثلاً کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
خدا کے احکام تسعہ :
(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہود ومشرکین کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ تم محض رسوم شرک کی پیروی کرتے ہو ، اصل باتیں جو انسان کی ہلاکت اور تباہی کا باعث ہیں ، نہیں جانتے ، آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ کیا کیا چیزیں اللہ نے حرام قرار دی ہیں ۔
1۔ شرک ، کیونکہ اس سے انسانی عزت و حرمت زائل ہوجاتی ہے نفس ذلیل ہوجاتا ہے ، جہالت پھیلتی ہے اور دماغی افق تاریک ہوجاتا ہے ۔
2۔ والدین کی نافرمانی ۔ اس سے عقوق وسرکشی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ، احسان فراموشی کی عادت پڑجاتی ہے ، جو شخص والدین کے لئے تکلیف وہ ہے اور سماج یا سوسائٹی کے لئے کبھی مفید ثابت نہیں ہو سکتا ، والدین کی اطاعت شعاری بہترین…
Read the full tafseer →-151 اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے کہئے میرے پاس آئو میں وہ چیزیں تم کو پڑھ کر سنائو اور تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کی ہیں وہ یہ ہیں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہ ٹھہرائو اور یہ کہ ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو اور ان کے ساتھ احسان کرو یعنی ان کے ساتھ بدسلوکی نہ کرو اور یہ کہ اپنی اولاد کو افلاس کے باعث قتل نہ کیا کرو ہم تم کو اور ان کو دونوں کو روزی دیتے ہیں اور یہ کہ بےحیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ پھٹکو خواہ وہ بےحیائی علانیہ ہو یا پوشیدہ یعنی بےحیائی کے تمام طریقوں سے دور رہو اور یہ کہ کسی ایسے شخص کو قتل نہ کرو جس کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہو مگر ہاں کسی حق شرعی کی بنا…
Read the full tafseer →ف 2۔ پس شریک ٹھہرانا حرام ہوا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائو :
235: اس کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کی پرستش نہ کرو بلکہ یہ بھی ہے کہ بندگی اور غلامی اور بےچون وچرا اطاعت بھی صرف اسی کی کرو ، اسی کے حکم کو حکم اور اسی کے قانون کو قانون مانو اور اس کے سوا کسی کا اقتدار اعلیٰ تسلیم نہ کرو اور یہ صرف ایک مذہبی عقیدہ اور انفرادی طرز عمل کے لئے ایک ہدایت ہی نہیں ہے بلکہ اس پورے نظام اخلاق و تمدن وسیاست کا سنگ بنیاد بھی ہے جو مدینہ طیبہ پہنچ کر نبی اعظم وآخر ﷺ نے عملاً قائم کیا اور اس کی عمارت اسی نظرئیے پر اٹھائی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہی ملک کا مالک اور حقییع بادشاہ ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
Commentary
Prior to the verses appearing above, for about two to three sections, the recurring theme has been how heedless and ignorant human beings had bypassed the law revealed by the Law Giver and the Creator of whatever there is in the heavens and the earth and, in its place, had taken ancestral and innovated customs as their religion. There were things Allah had made unlawful. They took them as lawful and started using them. Then, there were things Allah had made lawful. They made these unlawful for themselves. Again, they made some things lawful for men and unlawful for women, while…
Read the full tafseer →127. The restrictions which had shackled their lives were not those imposed by God. The really worthwhile restrictions are those prescribed by God in order to regulate human life. These have always served as the essential basis of all God-given codes (cf. Exodus. chapter 20).
128. The first principle is that they should associate none with God in His divinity: neither in His essence, nor in His attributes, nor in His powers and authority, nor in the rights He has against His creatures.
To associate someone with God in His divinity is to declare that the former shares the essence of God's…
Read the full tafseer →