Explained with ayahs 148–150
غلط سوچ سے باز رہو
مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ جاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے، جیسے ان کا یہی قول آیت (لوشاء الرحمن) میں اور سورة نحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کردیا اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے ؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 126
یعنی اگر وہ شہادت کی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ شہادت اسی بات کی دینی چاہیے جس کا آدمی کو علم ہو، تو وہ کبھی یہ شہادت دینے کی جرأت نہ کریں گے کہ کھانے پینے پر یہ قیود، جو ان کے ہاں رسم کے طور پر رائج ہیں، اور یہ پابندیاں کہ فلاں چیز کو فلاں نہ کھائے اور فلاں چیز کو فلاں کا ہاتھ نہ لگے، یہ سب خدا کی مقرر کردہ ہیں۔ لیکن اگر یہ لوگ شہادت کی ذمہ داری کو محسوس کیے بغیر اتنی ڈھٹائی پر اتر آئیں کہ خدا کا نام لے کر جھوٹی شہادت دینے میں بھی تامل نہ کریں، تو ان کے اس جھوٹ میں تم ان کے ساتھی نہ بنو۔ کیونکہ ان سے یہ شہادت اس لیے طلب نہیں کی جارہی ہے کہ اگر یہ شہادت دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
خلاصہ تفسیر
یہ مشرکین یوں کہنے کو ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو (بطور رضا کے یہ امر) منظور ہوتا (کہ ہم شرک اور تحریم نہ کریں، یعنی اللہ تعالیٰ عدم شرک و عدم تحریم کو پسند کرتے اور شرک و تحریم کو ناپسند کرتے) تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم (اور نہ ہمارے بزرگ) کسی چیز کو (جن کا ذکر اوپر آچکا ہے) حرام کہہ سکتے (اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس شرک و تحریم سے ناراض نہیں، اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ یہ استدلال اس لئے باطل ہے کہ مستلزم تکذیب رسل کو ہے، پس یہ لوگ رسول کی تکذیب کر رہے ہیں، اور جس طرح یہ کر رہے ہیں) اسی طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی…
Read the full tafseer →گواہی کے لیے دو بنیادیں :۔ قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ يَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ ھٰذَا۔ مطلب یہ ہے کہ محض اٹکل کے تیر تکے نہ چلاؤ۔ ہاں اگر تمہارے پاس ایسے گواہ ہوں جو یہ گواہی دے سکیں کہ جو چیزیں تم نے حرام ٹھہرا رکھی ہیں خدا نے دو حرام ٹھہرائی ہیں تو ان گواہوں کو سامنے لاؤ یہ واضح رہے کہ معقول گواہی صرف دو بنیادوں پر ہوتی ہے، ایک تو ذاتی مشاہدہ اور شخصی علم و واقفیت پر، دوسری کسی عقل یا فطری قرینہ پر جس کی مثال سورة یوسف کی آیت 26-28 میں موجود ہے۔ یہاں قرآن نے ان دونوں ہی قسم کے گواہوں اور گواہیوں کا مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی کوئی گواہی بھی موجود ہو تو اس کو پیش کرو،…
Read the full tafseer →150۔ 1 یعنی وہ جانور، جن کو مشرکین حرام قرار دیے ہوئے تھے۔
150۔ 2 کیونکہ ان کے پاس سوائے کذب و افترا کے کچھ نہیں۔
150۔ 3 یعنی اس کا عدیل (برابر کا) ٹھہرا کر شرک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
80: یعنی تم تو فرضی دلائل پیش کررہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیج کر اپنی حجت پودی کردی ہے اور ان کے بیان کئے ہوئے دلائل دلوں میں اترنے والے ہیں ان کی تصدیق اس حقیقت نے بھی کردی ہے کہ جن لوگوں نے انہیں جھٹلایا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے شکار ہوئے، لہذا یہ بات تو صحیح ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو زبردستی ہدایت پر لے آتا لیکن اس سے تمہاری یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی تم اپنے اختیار سے پیغمبروں کے ناقال انکار دلائل کو قبول کرکے ایمان لاؤ۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 150۔
یہ ایک عظیم مقابلہ ہے ‘ اور ہے بھی فیصلہ کن اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا مزاج کیا ہے ؟ دین اسلام میں اللہ کی ذات میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا شرک ہے ۔ اسی طرح اللہ کی حق حاکمیت اور قانون سازی میں کسی اور کو عملا شریک کرنا بھی شرک ہے جو عملی شرک ہے ۔ الا یہ کہ کوئی ایسا قانون بنائے جس کی قرآن وسنت نے اجازت دی ہو ۔ قانون سازی میں اگر کوئی زبانی طور پر یہ اعلان کر دے کہ یہ قانون از جانب اللہ ہے تو اس کا دعوی مسترد ہوگا الا یہ کہ درحقیقت وہ منجانب اللہ ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ اس قسم کے لوگوں کو جو خود قانون بناتے ہیں یا کوئی قانون بنا کر اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘…
Read the full tafseer →1 یعنی دلیل عقلی کا حال تو اوپر معلوم ہوچکا۔ اب اگر اس من گھڑت تحریم پر کوئی نقلی دلیل رکھتے ہو تو وہ لاؤ۔ کیا تمہارے پاس ایسے گواہ موجود ہیں جو یہ بیان کریں کہ ہاں ان کے روبرو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا تھا ؟ ظاہر ہے کہ ایسے واقعی گواہ کہاں دستیاب ہوسکتے ہیں۔ اگر دو چار گستاخ جھوٹے بےحیا یہ ہی گواہی دینے کو کھڑے ہوجائیں تو ایسوں کی بات پر تم کان نہ دھرو اور نہ ان کی خواہشات کی پروا کرو۔ یہاں تک ان چیزوں کا بیان تھا جنہیں مشرکین نے محض اپنی رائے و ہوا سے حرام ٹھہرا رکھا تھا، پھر اس تحریم کے لئے حیلے اور باطل عذر پیش کرتے تھے۔ آگے وہ چیزیں بیان کی جاتی ہیں جنہیں خدا نے حرام کیا…
Read the full tafseer →اگر اللہ کے پیش نظر سب کو نیک بنانا ہی مقصود ہوتا تو آن واحد میں تم سب کو ابوبکر صدیق رض جیسا نیک بنا دیتا ‘ لیکن اس نے دنیا کا یہ معاملہ عمل اور اختیار کے تحت رکھا ہے ‘ اور اس کا مقصد سورة الملک میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط آیت 2 اس نے موت وحیات کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ تمہیں آزمائے اور جانچے کہ تم میں سے کون ہے جو نیک عمل اختیار کرتا ہے۔
آیت 150 قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا ج۔
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب یا علمی سند موجود ہے جسے تم اپنے موقف کے حق میں بطور گواہی پیش…
Read the full tafseer →164 یہود سے شہادت طلب کرنے کی وجہ :۔ یہاں شہادت سے مراد یقین کی بنا پر شہادت ہے اور وہ یہ شہادت دیں کہ واقعی فلاں فلاں چیزیں اللہ نے فلاں فلاں کے لیے حرام یا حلال قرار دی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی شہادت وہ دے نہیں سکتے تھے۔ تاہم اگر کچھ لوگ ڈھیٹ بن کر جھوٹی شہادت دینے پر آمادہ ہو ہی جائیں تو آپ ان کے ہمنوا نہ بن جائیں۔ ان سے یہ شہادت اس لیے نہیں طلب کی جارہی کہ اگر وہ شہادت دیں تو آپ ان کی بات مان لیں بلکہ اس لیے طلب کی جا رہی ہے کہ جب وہ ایسی شہادت پیش نہ کرسکیں گے تو ممکن ہے کہ بعض صحیح عقل رکھنے والے لوگ ایسی مشرکانہ رسوم سے باز آجائیں جو سراسر توہمات اور ظن وتخمین پر مبنی ہیں۔ اور اس قسم کی…
Read the full tafseer →231 ۔ (اور شہادت مقبول وہی ہوگی جو مشاہدہ یا مثل مشاہدہ پر مبنی ہو) کوئی عقلی دلیل تو شرک پر قائم ہی نہیں اب مطالبہ یہ ہورہا ہے کہ کسی پیغمبر کی تعلیم سے، کسی آسمانی کتاب سے، اس کی نقلی، روایتی، تاریخی ہی شہادت پیش کرو،
232 ۔ (اور یہی ان کی شرک پسندی، اور آخرت انکاری ان کے دلوں میں طلب حق نہیں پیدا ہونے دیتی) (آیت) ” فلا تشھد معھم “۔ یعنی آپ ان کی گواہی کی تصدیق نہ کیجئے، بلکہ ان کی غلطی ان پر ظاہر کیجئے۔ ای فلاتصدقھم فیہ وبین لھم فسادۂ (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–150
وعلی الذین۔۔۔۔ ذی ظفر (الآیۃ) سابق میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حرام صرف وہی چیزیں ہیں جن کو اللہ نے حرام کیا ہے کسی انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلال ٹھہرانے کا اختیار نہیں اس پر مشرکین مکہ نے یہ کہا کہ یہود جب چیزوں کو نہیں کھاتے اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا اسلئے ہم بھی وہ چیزیں نہیں کھاتے، پھر یہ بات کیونکر درست ہوسکتی ہے کہ انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلام ٹھہرانیکا اختیار نہیں ہے بلکہ اس وقت کے نبی کی معرفت ان کی سرکشی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اوپر حرام کردی تھیں یہ بات غلط ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →قل ہلم شہداء کم الذین یشہدون ان اللہ حرم ہذا . آپ کہہ دیجئے کہ اپنے پیشواؤں کو لاؤ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کردیا ہے ہلم : بلاؤ حاضر کرو۔ یہ اسم فعل ہے اور اس کی گردان اہل حجاز کے استعمال میں نہیں آتی واحد اور جمع سب کے لئے اسی کا استعمال ہوتا ہے شہداء کم : یعنی اس قول میں جو تمہارے پیشوا ہیں ان کو بلاؤ تاکہ سب پر اتمام حجت ہوجائے اور سب کی گمراہی ظاہر ہوجائے کیونکہ مقلدوں کی طرح پیشواؤں کے پاس بھی اس قول کی دلیل نہیں ہے۔ حرم ہذا : یعنی وہ شہادت دیں کہ جس چیز کو تم حرام کہتے ہو اللہ نے اس کو حرام قرار دیا ہے۔
فان شہدوا فلا تشہد معہم . پھر اگر وہ (جھوٹی) شہادت دے بھی…
Read the full tafseer →(150) آپ فرمائیے کہ اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے گواہ لاؤ، سو اگر وہ ان چیزوں کی حرمت پر جھوٹی گواہی دیں تو آپ اس کی سماعت نہ فرمائیے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اپنے رب کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ: کیونکہ جو بھی یہ گواہی دے گا وہ کبھی سچا نہیں ہوسکتا۔
وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ : یعنی وہ مخلوق کو رب کے برابر ٹھہرا کر شرک جیسے ظلم عظیم کے مرتکب ہوتے ہیں، خواہ کسی طرح برابر ٹھہرائیں، حالانکہ رب تعالیٰ کے ساتھ کسی کی برابری ہو ہی نہیں سکتی، نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ علم میں، نہ حقوق و اختیار میں اور نہ کسی اور چیز میں، تو پھر ایسے جاہلوں کی خواہشات کی پیروی آپ کیوں اختیار کریں ؟ دیکھیے سورة رعد (16) اور سورة شعراء (91 تا 98)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 150
قولہ تعالیٰ : آیت : قل ھلم شھدآء کم یعنی آپ فرمائیے ان مشرکین کو۔ تم اس پر اپنے گواہ لاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کیا ہے جسے تم نے حرام کیا ہے۔ اور ھلم یہ کسی شی کی طرف بلانے اور دعوت دینے کا کلمہ ہے۔ اور اس میں اہل حجاز کے نزدیک واحد، جمع اور مذکر اور مؤنث سبھی برابر ہوتے ہیں۔ ( یعنی تمام کے لیے ھلم ہی استعمال ہوتا ہے) مگر نجد کی لغت میں ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں : ھلما، ھلموا، ھلمی وہ اس طرح اس کے ساتھ ( تثنیہ) جمع وغیرہ کی) علامت لاتے ہیں جیسے وہ تمام افعال میں ہوتی ہے۔ اور قرآن کریم اہل حجاز کی لغت پر نازل ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : والقائلین لاخوانھم ھلم…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھلم شھداء کم سے مراد ہے کہ تم مجھے اپنا گواہ دکھاؤ۔
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الذین یشھدون ان اللہ حرام ھذا سے مراد ہے کہ اے گواہ لاؤ جو گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان بحائر اور سوائب کو حرام فرمایا۔
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] هَلُمَّ [ لے آؤ ] شُهَدَاۗءَكُمُ [ اپنے گواہوں کو ] الَّذِيْنَ [ جو لوگ ] يَشْهَدُوْنَ [ گواہی دیتے ہیں ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ نے ] حَرَّمَ [ حرام کیا ] ھٰذَا ۚ [ اس کو ] فَاِنْ [ پھر اگر ] شَهِدُوْا [ وہ گواہی دیں ] فَلَا تَشْهَدْ [ تو آپ گواہی مت دیں ] مَعَهُمْ ۚ [ ان کے ساتھ ] وَلَا تَتَّبِعْ [ اور آپ پیروی مت کریں ] اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ [ ان کی خواہشات کی جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان لوگوں کی جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] بِرَبِّهِمْ [ اپنے رب…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (قُلْ ھَلُمَّ شُھَدَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ھٰذَا) (آپ فرما دیجیے کہ اپنے گواہوں کو لے آؤ جن کا تم اتباع کرتے ہو اور جن کی باتوں پر چلتے ہو اور ان سے کہو کہ اس بات کی گواہی دیں کہ یہ چیزیں جو تم نے حرام قرار دے رکھی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے لیکن وہ گواہی نہیں دے سکتے) ۔
(فَاِنْ شَھِدُوْا فَلَا تَشْھَدْ مَعَھُمْ ) سو بالفرض اگر یہ لوگ گواہی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیجیے۔ یعنی ان کی تصدیق نہ کیجیے کیونکہ ان کی گواہی محض جھوٹ ہوگی۔ (وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
مشرکین عرب کا اپنے شرک اور خود ساختہ تحریم کے متعلق ایک شبہ اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ سیقول الذین اشرکوا لوشاء اللہ ما اشرکنا۔۔۔ الی۔۔۔ وھم بربھم یعدلون
(ربط) اہل باطل کا طریقہ یہ ہے کہ جب دلیل اور برہان سے عاجز ہوجاتے ہیں تو ہٹ دھرمی کرنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کیا کریں اگر خدا کو ہماری ہدایت منظور ہوتی تو ہم ہدایت پاجاتے لہذا حق تعالیٰ اہل باطل کی اس آخری حجت کو نقل کر کے اس کا رد فرماتے ہیں کہ یہ مشرکین عرب عنقریب ایسا کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک نہ کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو از خود حرام کرتے مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے یہ کام خدا کو ناپسند ہوتے تو خدا ہم کو…
Read the full tafseer →168 ھَلُمَّ اسم فعل بمعنی امر ہے ای احضروھم اور شُھَدَآءَ سے مشرکین کے اکابر اور رؤساء اور ان کے مقتداء و پیشوا مراد ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کر رکھا تھا۔ فرمایا مشرکین سے کہو کہ وہ اپنے پیشواؤں کو بلائیں تاکہ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ اللہ نے ان اشیاء کو حرام کیا ہے اور اس پر دلائل بھی پیش کریں۔ اس سے مقصود علی رؤس الاشہاد ان کی تذلیل و تفضیح ہے۔ کیونکہ ان تابعین کی طرھ ان کے متبوعین بھی دلائل سے تہی دست ہیں۔ و ھم کبراءھم الذین اسسوا ضلالھم والمقصود من احضارھم تفضیحھم والزامھم ون لا متمسک لھم کمقلدیھم (روح ج 8 ص 52) ۔
169 اگر مشرکین کے پیشوا، آپ کے سامنے یہ جھوٹی بات کہہ دیں کہ واقعی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
ربط آیات :
گزشتہ کئی رکوعات سے شرک کی تردید ہورہی ہے درمیان میں وقتی محرمات کا ذکر آیا ہے اور پھر دائمی محرمات کے ساتھ ساتھ یہودیوں پر بطور سزا حرام کی گئی ، بعض چیزوں کا بیان آیا ہے ۔ ان شرارتوں کی وجہ سے اللہ نے ان پر ناخن والے جانور اور گائے بیل اور بھیڑ بکری کی چربی حرام کردی تھی ، اس سے پہلے ان جانوروں بحیرہ ، سائبہ وغیرہ کا ذکر ہوا جن کو مشرک لوگ غیر اللہ کی نذر کے طور پر نامزد کر کے اپنے آپ پر حرام کرلیتے تھے ، جب ان سے ان محرمات کی دلیل پوچھی جاتی ہے تو وہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے بلکہ محض اٹکل پیچو باتیں کرتے ہیں ، آج کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس باطل…
Read the full tafseer →قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ يَشْہَدُوْنَ اَنَّ اللہَ حَرَّمَ ھٰذَا 0 ۚ فَاِنْ شَہِدُوْا فَلَا تَشْہَدْ مَعَہُمْ 0 ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَہُمْ بِرَبِّہِمْ يَعْدِلُوْنَ 150 ۧ
هلم
هَلُمَّ دعاء إلى الشیء، وفيه قولان : أحدهما : أنّ أصله هَا لُمَّ «1» . من : قولهم :
لممت الشیء . أي : أصلحته، فحذف ألفها فقیل : هلمّ.
وقیل أصله هل أمّ «2» ، كأنه قيل : هل لک في كذا أمّه . أي : قصده، فركّبا . قال عزّ وجلّ :
وَالْقائِلِينَ لِإِخْوانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنا [ الأحزاب/ 18] ، فمنهم من تركه علی حالته في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
1 ؎ یعنی تمہارے پاس کوئی علمی سند ہو تو لائو پھر جب لا نہ سکے تو اللہ ہی کی دلیل غالب رہی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ارشاد ہوا :
قُلْ ھَلُمَّ شُھَدَآئَکُمُ الَّذِیْنَ یَشْھَدُوْنَ اَنَّ اللہ َ حَرَّمَ ھٰذَا ج فَاِنَّ شَھِدُوْا فَلَا تَشْھَدْمَعَھُمْ ج وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَھُمْ بِرَبِّھِمْ یَعْدِلُوْنَ ۔ (الانعام : 150)
(کہو ! لائو اپنے ان گواہوں کو ‘ جو شاہد ہیں کہ اللہ نے فلاں چیز حرام ٹھہرائی ہے۔ پس اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دیجیو اور ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجئے ‘ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ‘ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے ہمسر ٹھہراتے ہیں )
اگر مشرکین کے حمایتی گواہی دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اور اللہ کے نافرمان لوگوں کے خود ساختہ بہانے۔
مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ گناہ کو چھوڑنے کے بجائے اس کا جواز اور بہانہ تلاش کرتے ہیں۔ جس کے لیے یہ لوگ جھوٹے دلائل دینے کے ساتھ اپنے آباؤ اجداد کی رسومات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ عادت ہر دور کے مشرک اور نافرمانوں کی رہی ہے۔ اسی بنا پر فرمایا گیا ہے کہ حرام و حلال کے متعلق عقلی اور نقلی دلائل نہ رکھنے والے لوگ عنقریب یہ دلیل دیں گے کہ اگر واقعی اللہ تعالیٰ شرک اور حرام خوری کو ناپسند کرتا تو پھر ہم اور ہمارے آباؤ اجداد شرک کرنے اور کسی چیز کو حرام قرار دینے کی کس طرح جرأت کرسکتے تھے ؟ اسی طرح…
Read the full tafseer →کفار سے تحریمات پر ثبوت کا مطالبہ :
آیت 150: قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَآئَ کُمُ لائو تم اپنے شہداء کو۔ اور نزدیک کرو۔ ہَلُمَّ کے کلمہ میں واحد ٗ جمع ٗ تذکیر ٗ و تانیث اہل حجاز کے نزدیک برابر ہے۔ البتہ بنوتمیم اس کی مؤنث اور جمع بناتے ہیں۔ الَّذِیْنَ یَشْہَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا یعنی وہ جو اپنے خیال میں حرام سمجھتے ہیں۔ فَاِنْ شَہِدُوْا فَـلَا تَشْہَدْ مَعَہُمْ تو انکی گواہی تسلیم نہ کر اور نہ انکی تصدیق کر۔ کیونکہ جب اسکو تسلیم کرلیا گیا تو گویا انکی گواہی کی طرح وہ گواہی ہوگئی اور انہی میں سے بن گیا۔ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا۔ یہاں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر…
Read the full tafseer →150 (قل ھلم)” ھلم “ واحد، تثنیہ اور جمع کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ (شھدآء کم الذین یشھدون) تم اپنے گواہوں کو لے آئو جو اس بات کی گواہی دیں (ان اللہ حرم ھذا) ہذا کا اشارہ ماقبل حرام کردہ اشیاء کی طرف ہے کہ انہوں نے جو اپنے اوپر اشیاء حرام کیں وہ آ کر دعویٰ کریں کہ واقعی اللہ نے ان پر حرام کی ہیں (فان شھدوا ) اگر وہ گواہی دیں تو وہ جھوٹی گواہی دیں گے (فلاتشھد) اور تم (معھم ولا تتبع اھوآء الذین کذبوا بایتنا والذین لایومنون بالاخرۃ وھم بربھم یعدلون) یعنی شرک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
(148 ۔ 150) ۔ شروع سورة سے یہاں تک مشرکین مکہ کو شرک کے چھوڑنے اور حرام حلال کے احکام الٰہی میں داخل نہ دینے کی تنبیہ فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اس تنبیہ کا اور کوئی جواب تو یہ لوگ دے نہیں سکتے اگر آئندہ کچھ کہویں گے تو یہی کہیں گے کہ جس ڈھنگ پر ان کے بڑے بوڑھے تھے اسی ڈھنگ پر یہ لوگ بھی ہیں یہ ڈھنگ اگر اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوتا تو وہ ان کو اور ان کے بڑے بوڑھوں کو اس ڈھنگ پر قائم نہ رکھتا پھر مشرکین کی اس بات کا یہ جواب فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ حجت کچھ نئی نہیں ہے ان سے پہلے قوموں کے لوگ بھی اللہ کے رسولوں کو اسی طرح کی حجتوں سے یہاں تک جھٹلاتے رہے کہ آخر کو طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار…
Read the full tafseer →آیت 150
یعنی آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا، کہ وہ اپنے ان گواہوں کو لے آئیں جو یہ گواہی دیں کہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ جب ان سے یہ بات کہی جائے گی تو مندرجہ ذیل دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی۔
(1) یا تو وہ اس پر کسی کو گواہ کے طور پر پیش ہی نہیں کرسکیں گے، تب اس صورت میں ان کا دعویٰ باطل اور دلیل اور گواہوں سے محروم ہوگا۔
(2) یا وہ کسی ایسے گواہ کو پیش کردیں گے جو ان کے لئے گواہی دے، مگر کسی جھوٹے اور بہتان طراز کے سوا کوئی شخص اس پر گواہی نہیں دے سکتا، اور ایسے…
Read the full tafseer →قول باری ہے ( قل ھلم شھدآء کم الذین یشھدون ان اللہ حرم ھذا ان سے کہو کہ ” لائو اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے) تا آخر آیت۔ یعنی چونکہ وہ اپنے اس دعوے پر کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے کوئی شہادت پیش کرنے اور دلالت قائم کرنے سے عاجز رہے اس لیے ان کا یہ دعویٰ باطل قرار پایا۔ اس لیے کہ اپنے دعوے کے اثبات کے لیے ان کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود تھی اور نہی سمعی یا تقلی دلیل۔ جو دعویٰ ان دو طریقوں میں سے کسی ایک کے ذریعے ثابت نہ ہو سکے اور نہ ہی وہ محسوس و مشاہد ہو۔ اس کے متعلق علم کی راہیں مسدود ہوتی ہیں اور اس پر باطل ہونے کا حکم لگانا واجب…
Read the full tafseer →305 اللہ ہی کیلئے ہے کامل حجت : یعنی ایسے کامل حجت جو احقاقِ حق اور ابطال باطل میں درجہ کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ اور زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس پر وہ حاوی نہ ہو۔ اور جو قرآن و سنت کی صورت میں آج بھی دنیا میں جوں کی توں موجود ہے اور قیامت تک اسی طرح موجود رہے گی۔ سو حق وہی ہے جس کا حق ہونا اس حجت بالغہ اور دلیل کامل سے ثابت ہو۔ اور باطل وہ ہے جو اس کی رو سے باطل قرار پائے کہ حجت بالغہ بہرحال اللہ ہی کیلئے ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ اسی حجت بالغہ کے مطابق کام کرتا ہے اور اس نے اپنے بندوں کو اختیار کی آزادی دی ہے کہ انسان اپنی مرضی اور آزادی کے ساتھ راہ حق و ہدایت کو اختیار کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–153
کفار کے اعتراض اور صراط مستقیم کے اصول
تشریح : ان آیات میں شروع میں تو مشرکوں کو اپنے برے اعمال کو ٹھیک ثابت کرنے کے لیے گواہ لانے کو کہا گیا ہے جو کہ وہ ہرگز نہیں لاسکتے، پھر مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ مشرک ہیں ان کی کسی بھی چال میں پھنس کر ان جیسے بےدین، گمراہ اور مشرک نہ ہوجانا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اللہ نے کیا حرام کیا ہے اور کیا حلال کیا ہے۔ بس صرف اسی پر ہی عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اپنے پاس سے احکامات بنانے یا ان پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے اصول اور قانون اس قدر جامع، مفید اور واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–151
رکوع نمبر 18 ۔ آیات نمبر 146 ۔ تا۔ 151
اسرار و معارف :
آپ انہیں فرما دیجیے کہ مجھے تو اللہ کریم نے وحی سے مشرف فرمایا ہے جو علم کا سب سے اعلی ذریعہ ہے مگر اس میں تمہاری خرافات کی تائید نہیں ملتی بلکہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ مردار حرام ہے یعنی وہ جانور جو مردار قرار دئیے گئے اور ذبح سے بھی حلال نہیں ہوتے یا وہ حلال جانور جو بغیر ذبح کے مر جائے یا پھر بہتا ہوا خون اور خنزیر حرام ہے کہ یہ سخت ناپاک ہے یا پھر اس جانور کا گوشت حرام ہے جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام پہ ذبح ہو اور حرام مرد عورت سب کے لیے برابر ہے سوائے اس کے کہ کوئی جان بچانے کے لیے اس قدر کھالے کہ موت سے بچ جائے پیٹ بھرنے یا لذت کے…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی ذات الہی حکمت کاملہ کی مالک ہے اس نے انسان کے فطرتا مجبوت محض نہیں بنایا بلکہ اسے ارادہ اور اختیار دیا ہے تاکہ انسان ہدایت یا گمراہی کو اپنے ارادہ سے اختیار کرے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کے لیے پیغمبر بھیجے ان پر کتابیں نازل فرمائیں تاکہ جو شخص ایمان لاتا ہے دلیل سے ایمان لائے اور جو گمراہ ہوتا ہے اتمام حجت کے بعد گمراہ ہو۔ رونہ اگر اللہ تعالیٰ کو اکرام و جبر سے ہی ہدایت پر لانا ہوتا تو کوئی شخص بھی گمراہ نہیں ہوسکتا تھا۔3 کیونکہ جو بھی اس قسم کی گو اہی دے گا وہ کبھی سچا نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →(6:150) ہلم۔ اسم فعل بمعنی امر۔ واحد۔ تنبیہ ۔ جمع سب کے لئے آتا ہے تذکیر و تانیث ہر حالت میں ہلم ہی آتا ہے۔ لازم بھی ہے۔ متعدی بھی ہے۔ لاؤ۔ حاضر کرو۔ آؤ۔ آیۃ ہذا میں متعدی استعمال ہوا ہے۔ اور آیۃ 33:18 میں ہلم الینا لازم استعمال ہوا ہے۔
یعدلون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے عدیل (ہمسر) اوروں کو بھی بناتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
لغات القرآن : آیت نمبر 148 تا 150 :
ذاقوا ( انہوں نے چکھ لیا) الحجۃ البالغۃ ( حد کو پہنچی ہوئی بات جس میں شک نہ ہو) ھلم (لائو) یعدلون ( وہ برابر کرتے ہیں (شرک کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 148 تا 150 :
ہر طرف سے مجبور ہو کر ‘ اپنے حق میں ہر دلیل کی راہ بند پاکر ‘ پھر بھی ضد اور ہٹ دھرمی پر اکڑ کر ‘ یہ مشرکین بحث کا آخری حربہ استعمال کریں گے۔ کہ ہم اور ہمارے آبائو اجداد جو کچھ کر رہے ہیں یا کرچکے ہیں وہ جبر و تقدیر کے تحت ہے۔ یعنی اللہ کی مرضی یہی ہے۔ وہی اگر چاہتاتو ہم نہ شرک کرتے نہ حرام کھاتے۔ اس لئے الزام ہم پر نہیں کاتب تقدیر پر ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ان سے کہہ دیئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
ماں باپ پر احسان کرنا کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر شرک حرام کیا، اس لئے تم لوگوں کو چاہیے کہ شرک سے باز آؤ۔ اگرچہ ماں باپ کے ساتھ برائی سے پیش آنا حرام ہے لیکن ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجاوے کہ ماں باپ کے ساتھ فقط برائی سے پیش نہ آنا کافی نہیں ہے بلکہ برائی سے بچ کر ان کے ساتھ ہر ایک طرح کا احسان بھی ضروری ہے۔ آگے فرمایا کہ بتون کو شریک ٹھہرانا، تنگی معاش سے لڑکیوں کو مار ڈالنا، ظاہر کے زنا کو عیب نہ شمار کرنا۔ مخفی طور پر کوئی زنا کرے تو اس کو عیب نہ لگانا۔ آپس میں خوں ریزی اور خانہ جنگی کرنا، یتیموں کا مال کھانا، جھوٹ بولنا، کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
[52] یعنی نہ اللہ کی ذات میں کسی کو اس کا شریک ٹھہراؤ، نہ اس کی صفات میں، نہ اس کے اختیارات میں اور نہ اس کے حقوق میں۔
ذات میں شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یعنی الوہیت میں کسی کو حصہ دار یا ہمسر قرار دیا جائے۔ مثلاً نصاریٰ کا عقیدہ تثلیث یعنی تین الہٰوں کو ماننا یا مشرکین عرب کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دینا اور دوسرے مشرکین کا اپنے دیوتاؤں و دیویوں اور اپنے شاہی خاندان کے افراد کو اللہ کی ذات میں حصہ قرار دینا۔
صفات میں شرک کا مفہوم یہ ہے کہ جو صفات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اور جس مفہوم میں وہ اللہ کے لئے مستعمل ہیں ان کو یا ان میں سے کسی صفت کو دوسرے کے لئے قرار دینا۔ مثلاً کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
(ف 1) مجرموں کا ایک بہت بڑا عذر یہ بھی ہوتا ہے کہ خدا کو ایسا ہی منظور ہے ، خدا اگر نہ چاہے تو ہم اور ہمارے آباء کے اختیار میں کیا ہے ، جو گناہ کا ارتکاب کریں ، کم بخت یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو اگر یہ گمراہیاں منظور ہوتیں تو انبیاء کیوں بھیجتا اور کتابیں کیوں نازل فرماتا ، اور نہ ماننے والوں کو سزائیں کیوں دیتا ،
مکہ کے مشرک بھی یہی کہتے ، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس عذر کا جواب دیا ہے اور پوچھا ہے ، کہ بتاؤ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے جس سے اللہ کی کفر پسندی طور شرک نوازی ثابت ہو ، یا محض اٹکل اور تخمین کی بنا پر ایسا کہتے ہو ،
یہ درست ہے ، خدا اگر چاہتا ، تو سب کو ہدایت کی توفیق دیتا ،…
Read the full tafseer →-150 اے پیغمبر ! ﷺ ان کے پاس کوئی عقلی دلیل تو مذکورہ حیوانات کی حرمت پر ہے نہیں ! اب آپ ان سے فرمائیے اچھا تم کوئی نقلی دلیل پیش کرو اور اپنے ان گواہوں کو لائو اور پیش کرو جو یہ گواہی دیں کہ جن چیزوں کو تم حرام کہتے ہو بیشک اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو حرام کیا ہے پھر اگر ان کے گواہ اس قسم کی فرضی شہادت دے بھی دیں تو آپ ان کی گواہی تسلیم نہ کیجیے اور ان گواہوں کی تصدیق نہ کیجیے اور آپ ان لوگوں کی خواہشات باطلہ کی پیروی نہ کیجیے جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں اور ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں اور وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور دوسروں کو اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں اور دوسروں کو اپنے رب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
ف 1۔ مگر حق تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں کسی کو توفیق دی کسی کو نہیں دی البتہ اظہار حق اور اعطاء اختیار و ارادہ سب کے لیے عام ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کہ اپنی گواہی پیش کرو کہ اللہ نے یہ چیزیں حرام کردی ہیں :
231: فرمایا اے پیغمبر اسلام ! (a) ان لوگوں سے کہو کہ تمہارے پاس اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کرنے کا کوئی گواہ ہے تو اسے میدان میں لے آئو لیکن اگر تمہارے پاس کوئی گواہ ہی نہیں ہے تو پھر ان بےسروپا خرافات سے چمٹے رہنے پر کیوں بےجا ضد کر رہے ہو آخر اس ضد کا فائدہ ؟ واضح رہے کہ معقول گواہی صرف دو بنیادوں پر ہوتی ہے ایک تو ذاتی مشاہدہ اور شخصی علم و واقفیت پر دوسری کسی عقل یا فطری قرینہ پر قرآن کریم نے ان دونوں ہی قسم کی گواہیوں کا مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی کوئی گواہی بھی موجود ہے تو اس کو پیش کرو ورنہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–150
Commentary
Mentioned in the previous verses was how astray the disbelievers of Makkah had gone when they had taken their self-carved, lifeless, insensate idols as partners in the Divinity of Allah as they made them share in animals created by Him and in many other blessings which were bestowed on them. Their transgression went to the limits when they would take out charities from these blessings as an act of worship, setting aside a portion for Allah and another for their idols. Then, they would employ different excuses to take out what belonged to the portion set aside for Allah and put it…
Read the full tafseer →126. A person who is conscious that he should testify only to that which he knows, can never testify that the taboos regarding food and other customs prevalent in their society had been enjoined by God. But if some people are brazen enough to feel no compunction in bearing false witness, then at least the believers should not become their partners in lying. The real purpose in asking them to testify honestly whether their customs and practices had in fact been sanctioned by God, is to stimulate those with some sense of honesty to reflect on the character of their customs and practices.…
Read the full tafseer →