Al-An'aam 6:149

Al-An'aam · from ayah 149

6:149

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ— فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ ۟قُلۡ فَلِلّٰهِ الۡحُجَّةُ الۡبَالِغَةُ‌ ۚ فَلَوۡ شَآءَ لَهَدٰٮكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ

کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "With Allah is the far-reaching argument. If He had willed, He would have guided you all."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 18 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:149

پھر کہو (تمہاری اس حجت کے مقابلہ میں) "حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے، بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہیے کہ بس پوری حجت اللہ ہی کی رہی۔ پھر اگر وه چاہتا تو تم سب کو راه راست پر لے آتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : ایسی دلیل تو اللہ ہی کی ہے جو (دلوں تک) پہنچنے والی ہو۔ چنانچہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو (زبردستی) ہدایت پر لے آتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ تو اللہ ہی کی حجت پوری ہے تو وہ چاہتا تو سب کی ہدایت فرماتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے کہ دلیلِ محکم تو اﷲ ہی کی ہے، پس اگر وہ (تمہیں مجبور کرنا) چاہتا تو یقیناً تم سب کو (پابندِ) ہدایت فرما دیتا٭، ٭ وہ حق و باطل کا فرق اور دونوں کا انجام سمجھانے کے بعد ہر ایک کو آزادی سے اپنا راستہ اختیار کرنے کا موقع دیتا ہے، تاکہ ہر شخص اپنے کئے کا خود ذمہ دار ٹھہرے اور اس پر جزا و سزا کا حق دار قرار پائے۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے پھر کامل دلیل تو اللہ ہی کی ہے، سو اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ (تمہارے قیاسات کے مقابلہ میں) اللہ کی حجت کامل ہے لہذا اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ اللہ کے لیے تو بس حجت ہے پہنچ جانے والی اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو، اللہ کے لئے ہے کامل حجت، پس اگر وہ (زبردستی تم سب کو راہ راست پر لانا) چاہتا تو یقیناً وہ تم سب کو (یونہی) ہدایت دے دیتا،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ پوری حجت تو اللہ ہی کی رہی اور اگر (اللہ) چاہتا تو سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہہ دیجیے کہ بس اللہ کے حق میں ثابت ہوچکی ہے پوری پوری پہنچ جانے والی حجت پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لے آتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو بس اللہ کی حجت کامل ہے۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

'Then say to them: '(As against your argument) Allah's is the conclusive argument. Surely, had He willed, He would have guided you all to the Truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Then, Allah‘s is the conclusive proof. So, had He willed, He would have brought all of you on the right path .

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Then, Allah‘s is the conclusive proof. So, had He willed, He would have brought all of you on the right path .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say - For Allah's is the final argument - Had He willed He could indeed have guided all of you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "With Allah is the far-reaching argument. If He had willed, He would have guided you all."

— Saheeh International

Say, "Final authority belongs only to God. Had He wanted, He would have given you all guidance".

— Muhammad Sarwar

Say: Then Allah's is the conclusive argument; so if He please, He would certainly guide you all.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: with Allah resteth the argument evident. Wherefore, had He so willed, He would have guided you all.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "With Allah is the argument that reaches home: if it had been His will, He could indeed have guided you all."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:149

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 148–150

غلط سوچ سے باز رہو مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں بدلتا تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ان کاموں سے خوش ہے اگر وہ جاہتا تو ہم کیا ہمارے بزرگ بھی شرک نہ کرتے، جیسے ان کا یہی قول آیت (لوشاء الرحمن) میں اور سورة نحل میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے اسی شبہ نے ان سے پہلی قوموں کو تباہ کردیا اگر یہ بات سچ ہوتی تو ان کے پہلے باپ دادا پر ہمارے عذاب کیوں آتے ؟ رسولوں کی نافرمانی اور شرک و…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 125 یہ ان کے عذر کا مکمل جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے اس کا تجزیہ کر کے دیکھنا چاہیے پہلی بات یہ فرمائی کہ اپنی غلط کاری و گمراہی کے لیے مشیت الہٰی کو معذرت کے طور پر پیش کرنا اور اسے بہانہ بنا کر صحیح رہنمائی کو قبول کرنے سے انکار کرنا مجرموں کا قدیم شیوہ رہا ہے، اور اس کا انجام یہ ہوا ہے کہ آخر کار وہ تباہ ہوئے اور حق کے خلاف چلنے کا برا نتیجہ انہوں نے دیکھ لیا۔ پھر فرمایا کہ یہ عذر جو تم پیش کررہے ہو یہ دراصل علم حقیقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض گمان اور تخمینہ ہے۔ تم نے محض مشیت کا لفظ کہیں سے سن لیا اور اس پر قیاسات کی ایک عمارت کھڑی کرلی۔ تم نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 148–150

خلاصہ تفسیر یہ مشرکین یوں کہنے کو ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو (بطور رضا کے یہ امر) منظور ہوتا (کہ ہم شرک اور تحریم نہ کریں، یعنی اللہ تعالیٰ عدم شرک و عدم تحریم کو پسند کرتے اور شرک و تحریم کو ناپسند کرتے) تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم (اور نہ ہمارے بزرگ) کسی چیز کو (جن کا ذکر اوپر آچکا ہے) حرام کہہ سکتے (اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس شرک و تحریم سے ناراض نہیں، اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ یہ استدلال اس لئے باطل ہے کہ مستلزم تکذیب رسل کو ہے، پس یہ لوگ رسول کی تکذیب کر رہے ہیں، اور جس طرح یہ کر رہے ہیں) اسی طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی : یہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی جو اصل سنت ہے وہ واضح فرمائی کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ اپنی مشیت کے زور سے جس کو چاہے ہدایت پر کردے۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتا تو اس کی اس مشیت کو کوئی روک تو نہیں سکتا تھا۔ وہ تم سب کو بلکہ ساری خلق کو ہدایت پر کردیتا لیکن اس معاملے میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ دلیل و حجت کے ذریعہ سے وہ رہنمائی کرتا ہے اور لوگوں کو اس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس رہنمائی کو قبول کریں اور چاہیں تو رد کریں۔ پس اللہ نے اپنی یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 148–149

148۔ 1 یہ وہی مغالطہ ہے جو مشیت الٰہی اور رضائے الٰہی کو ہم معنی سمجھ لینے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جس کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے۔ 148۔ 2 اللہ تعالیٰ نے اس مغالطے کا ازالہ اس طرح فرمایا اگر یہ شرک اللہ کی رضا کا مظہر تھا تو پھر ان پر عذاب کیوں آیا، عذاب الٰہی سے اس بات کی دلیل ہے کہ مشیت اور چیز ہے اور رضائے الٰہی اور چیز۔ 148۔ 3 یعنی اپنے دعوے پر تمہارے پاس دلیل ہے تو پیش کرو لیکن ان کے پاس دلیل کہاں ؟ وہاں تو صرف اوہام و ظنون ہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 149–150

80: یعنی تم تو فرضی دلائل پیش کررہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیج کر اپنی حجت پودی کردی ہے اور ان کے بیان کئے ہوئے دلائل دلوں میں اترنے والے ہیں ان کی تصدیق اس حقیقت نے بھی کردی ہے کہ جن لوگوں نے انہیں جھٹلایا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے شکار ہوئے، لہذا یہ بات تو صحیح ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو زبردستی ہدایت پر لے آتا لیکن اس سے تمہاری یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی تم اپنے اختیار سے پیغمبروں کے ناقال انکار دلائل کو قبول کرکے ایمان لاؤ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 148–149

آیت ” نمبر 148 تا 149۔ افکار اسلامی کی تاریخ میں مسئلہ جبروقدر پر طویل مباحث رہے ہیں۔ اہل سنت اور معتزلہ اور مرجیہ اس میں باہم دست و گریبان رہے ہیں ۔ یونانی فلسفہ اور یونانی منطق جب عالم اسلام میں آئی تو اس نے بھی ان مباحث کو متاثر کیا ۔ پھر عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت نے بھی اثرات ڈالے ۔ اور اس کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا کہ یہ اسلام کے واضح اور حقیقت پسندانہ تصور کے لئے ناقابل فہم بنا گیا ۔ اگر اس مسئلے پر قرآن کے سنجیدہ ‘ حقیقت پسندانہ اور ڈائرکٹ انداز میں غور کیا جاتا تو یہ جدل وجدال نہ ہوتا اور یہ بحث وہ رخ اختیار نہ کرتی جو اس نے اختیار کیا ۔ جب ہم مشرکین کے قول کو پڑھتے ہیں اور اس کو قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 148–149

4 گذشتہ رکوع میں مشرکین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ جن حلال و طیب چیزوں کو تم نے حرام ٹھہرا لیا ہے اور اس تحریم کو خدا کی طرف نسبت کرتے ہو، اس کی سند اور دلیل لاؤ۔ یہاں ان کی دلیل بیان کی گئی ہے جو وہ پیش کرنے والے تھے یعنی اگر اللہ چاہتا تو اس کو قدرت تھی کہ ہم کو اور ہمارے اسلاف کو اس تحریم سے بلکہ تمام مشرکانہ افعال و اقوال سے روک دیتا۔ جب نہ روکا اور یوں ہی ہوتا چلا آیا تو ثابت ہوا کہ اس کے نزدیک ہماری یہ کارروائیاں پسندیدہ ہیں۔ ناپسند ہوتیں تو ان کے کرنے میں ہم کو اب تک کیوں آزاد چھوڑتا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک نیک نام اور مدبرّ گورنمنٹ کسی باغیانہ تحریک میں حصہ لینے والے کو باوجود یقینی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 149 قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ ج۔ تمہاری اس کٹ حجتی کے مقابلے میں حقیقت تک پہنچی ہوئی حجت صرف اللہ کی ہے۔ اس نے ہر طرح سے تم پر اتمام حجت کردیا ہے ‘ تمہاری ہر نامعقول بات کو معقول طریقے سے رد کردیا ہے ‘ مختلف انداز سے تمہیں ہر بات سمجھا دی ہے۔ امام الہند شاہ ولی اللہ دہلوی رح نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب حجۃ اللہ البالغہ کا نام اسی آیت سے اخذ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

162 یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اتمام حجت کردی ہے اور اپنے رسول اور کتابیں بھیج کر تمام لوگوں کو نیکی اور بدی کی راہوں اور ان کے انجام سے پوری طرح مطلع کردیا ہے اور حلت و حرمت کے احکام بھی واضح کردیئے ہیں۔ 163 یہ مشرکوں کے اس عذر لنگ کا جواب ہے جو یہ ہے کہ فی الواقع اس کی مشیئت یہی ہے کہ تمہیں ہدایت نصیب نہ ہو لیکن یہ اس کی رضا نہیں۔ اور چونکہ اللہ اتمام حجت کرچکا ہے لہذا تمہیں تمہارے جرائم کی سزا ضرور دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

230 ۔ یعنی اگر اس کی مشیت تکوینی یہی ہوتی تو تم سب لوگ محروم الارادہ ومسلوب الاختیار ہو کر بس ایک ہی ڈھرے پر اضطرارا چلتے، لیکن اس نے اجر وصلہ تو ایمان اختیار پر رکھا ہے نہ کہ ایمان اضطراری پر۔ انہ قدشاء منھم الایمان اخیتارا ولو شاء اللہ الایمان منھم قسرا لکان علیہ قادرا ولکنھم کانوا لایستحقون بہ الثواب والمدح۔ (جصاص) (آیت) ” فللہ حجۃ البالغۃ “۔ اللہ کی حجت پوری کی پوری رہی اور تمہاری حجت باطل ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 146–150

وعلی الذین۔۔۔۔ ذی ظفر (الآیۃ) سابق میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حرام صرف وہی چیزیں ہیں جن کو اللہ نے حرام کیا ہے کسی انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلال ٹھہرانے کا اختیار نہیں اس پر مشرکین مکہ نے یہ کہا کہ یہود جب چیزوں کو نہیں کھاتے اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا اسلئے ہم بھی وہ چیزیں نہیں کھاتے، پھر یہ بات کیونکر درست ہوسکتی ہے کہ انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلام ٹھہرانیکا اختیار نہیں ہے بلکہ اس وقت کے نبی کی معرفت ان کی سرکشی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اوپر حرام کردی تھیں یہ بات غلط ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل فللہ الحجۃ البالغۃ فلو شآء لہدکم اجمعین . آپ کہئے کہ پوری غالب دلیل تو اللہ ہی کی رہی پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت یاب کردیتا۔ یعنی اللہ نے اپنے اوامرو نواہی کی جو دلیل بیان کی وہ تو تمہارے خلاف کامل ہے اور تم نے جو اللہ کی مشیت کے مسئلہ کو استدلال میں پیش کیا ہے وہ استدلال ناقص ہے کیونکہ مشیت کے لئے رضامندی لازم نہیں اللہ جو چاہتا ہے اپنی حکمت کے مطابق کرتا ہے اور جیسا ارادہ کرتا ہے ویسا حکم دیتا ہے اس سے کسی بات کی بازپرس نہیں کی جاسکتی وہ سب بندوں سے باز پرس کرے گا اس سے سوال کون کرسکتا ہے۔ فرقۂ معتزلہ کہتا ہے کہ کفر اللہ کی مشیت اور ارادہ سے نہیں ہوتا بندہ کی مشیت سے ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(149) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر تمہارے پاس تمہارے دعوے کے لیے کوئی دلیل نہیں تو پھر پوری اور اعتماد والی قطعی بات تو اللہ ہی کی رہی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ۔۔ : آپ ان سے کہہ دیں کہ پھر کامل دلیل تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے جو واقع کے عین مطابق ہے کہ اس کی مشیت، ارادہ اور اختیار الگ چیز ہے اور کسی کام پر راضی اور خوش ہونا الگ چیز ہے اور اس میں اس کی حکمت ہے کہ اس نے تمہیں ہدایت اور گمراہی کا اختیار دے کر آزمایا ہے، اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا، پھر کوئی گمراہ ہو ہی نہیں سکتا تھا، مگر یہ جبر ہوتا، جو اس کی حکمت کا تقاضا نہیں ہے۔ دیکھیے سورة ھود (118، 119) اور سورة یونس (99)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 149 قولہ تعالیٰ : آیت : قل فللہ الحجۃ البالغۃ یعنی ایسی کامل دلیل جو محجوج ( جس کے خلاف حجت لائی گئی) کے عذر کو ختم کردیتی ہے اور اس سے شک کو دور کردیتی ہے جس نے اس میں غور و فکر کی۔ پس اس کی کامل حجت اس پر ہے کہ یہ بین اور واضح ہے کہ وہ واحد اور یکتا ہے اور اس نے انبیاء اور رسل علیہم الصلوات والتسلیمات کو مبعوث فرمایا ہے، پس اس نے مخلوقات میں نظر وفکر کے ذریعے توحید کو بیان فرمایا اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تائید فرمائی اور اپنا امر (حکم) پر مکلف پر لازم کیا۔ اور رہا اس کا علم، اس کا ارادہ اور اس کی کلام تو یہ غیب ہے جس پر کوئی بندہ مطلع نہیں ہو سکتا، سوائے ان رسولوں کے جنہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 148–149

(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت سیقول الذین اشرکوا لو شآء اللہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ قریش کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام کیا ہے۔ وہ اس سے مراد لیتے ہیں بحیرہ سائبہ وصیلہ اور حامی (گو یا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے تھے) (2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمیدد، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، حاکم نے (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شر تقدیر، میں سے نہیں ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] فَلِلّٰهِ [ پس اللہ کے لئے ہی ہے ] الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ [ پہنچنے والی حجت ] فَلَوْ [ پھر اگر ] شَاۗءَ [ وہ چاہتا ] لَهَدٰىكُمْ [ تو ضرور ہدایت دیتا تم لوگوں کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ ہی کے لیے حجت بالغہ ہے : پھر فرمایا (قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ ) (آپ فرما دیجیے ! کہ اللہ ہی کے لیے حجت بالغہ ہے) یعنی اللہ ہی کی حجت پوری ہے اور تمہاری کٹ حجتی غلط ہے۔ (فَلَوْشَآءَ لَھَدٰیکُمْ اَجْمَعِیْنَ ) (اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر لے آتا) لیکن چونکہ حق اور باطل دونوں کے وجود میں آنے اور باہمی ایک دوسرے کے مقابل چلنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں ہیں اس لیے اس نے ایصال الی المطلوب والی ہدایت سے سب کو نہیں نوازا، البتہ راہ حق بتانے والی ہدایت سب کے لیے عام ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 148–150

مشرکین عرب کا اپنے شرک اور خود ساختہ تحریم کے متعلق ایک شبہ اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ سیقول الذین اشرکوا لوشاء اللہ ما اشرکنا۔۔۔ الی۔۔۔ وھم بربھم یعدلون (ربط) اہل باطل کا طریقہ یہ ہے کہ جب دلیل اور برہان سے عاجز ہوجاتے ہیں تو ہٹ دھرمی کرنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کیا کریں اگر خدا کو ہماری ہدایت منظور ہوتی تو ہم ہدایت پاجاتے لہذا حق تعالیٰ اہل باطل کی اس آخری حجت کو نقل کر کے اس کا رد فرماتے ہیں کہ یہ مشرکین عرب عنقریب ایسا کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک نہ کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو از خود حرام کرتے مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے یہ کام خدا کو ناپسند ہوتے تو خدا ہم کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

167 اَلْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃ وہ واضح دلیل جو قوت و متانت میں انتہاء کو پہنچی ہوئی اور ہر لحاظ سے کامل ہو۔ یعنی مشرکین کے پاس تو کوئی معمولی سی دلیل بھی نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس مضبوط اور محکم دلائل ہیں جن سے اس نے توحید کے ہر پہلو کا اثبات اور شرک کے ہر پہلو کا رد فرمایا ہے فَلَوْشَاءَ لَھَدٰ کُمْ اَجْمَعِیْنَ اس کے بعد وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ مقدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایمان لانے پر مجبور نہیں (اگرچہ وہ ایسا کرسکتا تھا) کو ین کہ اس طرح امتحان و ابتلاء کی حکمت فوت ہوجاتی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 148–150

ربط آیات : گزشتہ کئی رکوعات سے شرک کی تردید ہورہی ہے درمیان میں وقتی محرمات کا ذکر آیا ہے اور پھر دائمی محرمات کے ساتھ ساتھ یہودیوں پر بطور سزا حرام کی گئی ، بعض چیزوں کا بیان آیا ہے ۔ ان شرارتوں کی وجہ سے اللہ نے ان پر ناخن والے جانور اور گائے بیل اور بھیڑ بکری کی چربی حرام کردی تھی ، اس سے پہلے ان جانوروں بحیرہ ، سائبہ وغیرہ کا ذکر ہوا جن کو مشرک لوگ غیر اللہ کی نذر کے طور پر نامزد کر کے اپنے آپ پر حرام کرلیتے تھے ، جب ان سے ان محرمات کی دلیل پوچھی جاتی ہے تو وہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے بلکہ محض اٹکل پیچو باتیں کرتے ہیں ، آج کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس باطل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ۝ 0 ۚ فَلَوْ شَاۗءَ لَہَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۝ 149 حجة : الدلالة المبيّنة للمحجّة، أي : المقصد المستقیم الذي يقتضي صحة أحد النقیضین . قال تعالی: قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ [ الأنعام/ 149] ، وقال : لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا [ البقرة/ 150] ، فجعل ما يحتجّ بها الذین ظلموا مستثنی من الحجة وإن لم يكن حجة، وذلک کقول الشاعر : 104- ولا عيب فيهم غير أنّ سيوفهم ... بهنّ فلول من قراع الکتائب ويجوز أنّه سمّى ما يحتجون به حجة، کقوله تعالی: وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ ما اسْتُجِيبَ لَهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 149–150

1 ؎ یعنی تمہارے پاس کوئی علمی سند ہو تو لائو پھر جب لا نہ سکے تو اللہ ہی کی دلیل غالب رہی۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 148–149

تمہید گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ مشرکین عرب نے حلت و حرمت کے حوالے سے جو بدعات ایجاد کی تھیں اور جس طرح اللہ کا یہ حق اپنے لیے اور اپنے نام نہاد شرکاء کے لیے مباح کرلیا تھا پروردگار نے مسلسل اس پر تنقید فرمائی اور اس سلسلے میں جو مشرکین یا اہل کتاب کی طرف سے سوالات اٹھائے گئے یا اشتباہات پیدا کیے گئے اس کا جواب اس طرح مسکت انداز میں دیا گیا کہ مشرکین تقریباً بےبس ہو کر رہ گئے اور پھر ساتھ ہی ساتھ انھیں تنبیہ بھی کی گئی کہ تم پر جو ابھی تک اللہ کا عذاب نہیں آیا تو اسے اپنے لیے پروانہ اباحت نہ سمجھو بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل ہے ‘ جو تمہیں دی گئی ہے۔ اب پیش نظر آیت میں مشرکین کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 148–150

فہم القرآن ربط کلام : مشرک اور اللہ کے نافرمان لوگوں کے خود ساختہ بہانے۔ مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ گناہ کو چھوڑنے کے بجائے اس کا جواز اور بہانہ تلاش کرتے ہیں۔ جس کے لیے یہ لوگ جھوٹے دلائل دینے کے ساتھ اپنے آباؤ اجداد کی رسومات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ عادت ہر دور کے مشرک اور نافرمانوں کی رہی ہے۔ اسی بنا پر فرمایا گیا ہے کہ حرام و حلال کے متعلق عقلی اور نقلی دلائل نہ رکھنے والے لوگ عنقریب یہ دلیل دیں گے کہ اگر واقعی اللہ تعالیٰ شرک اور حرام خوری کو ناپسند کرتا تو پھر ہم اور ہمارے آباؤ اجداد شرک کرنے اور کسی چیز کو حرام قرار دینے کی کس طرح جرأت کرسکتے تھے ؟ اسی طرح…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ کی دلیل کامل ہے : آیت 149: قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ جو تم پر اسکی طرف سے لازم ہے اسکے اوامرو نواہی کی وجہ سے اور تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی مشیّت کی کوئی (صحیح) دلیل موجود نہیں۔ فَلَوْ شَآئَ لَہَدٰکُمْ اَجْمَعِیْنَ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت چاہتا اس آیت سے معتزلہ کا دبدبہ محض باطل ٹھہرا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 149 (قل فللہ الحجۃ البالغۃ) اپنی مخلوق پر جو دلیل بیان کی ہے وہ پوری ہے اور دلیل کتاب ، رسول اور بیان کے ذریعے سے۔ (فلوشآء لھدکم اجمعین) کافر کا ایمان اگر وہ چاہتا تو اس کو ہدایت دیتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 148–150

(148 ۔ 150) ۔ شروع سورة سے یہاں تک مشرکین مکہ کو شرک کے چھوڑنے اور حرام حلال کے احکام الٰہی میں داخل نہ دینے کی تنبیہ فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اس تنبیہ کا اور کوئی جواب تو یہ لوگ دے نہیں سکتے اگر آئندہ کچھ کہویں گے تو یہی کہیں گے کہ جس ڈھنگ پر ان کے بڑے بوڑھے تھے اسی ڈھنگ پر یہ لوگ بھی ہیں یہ ڈھنگ اگر اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوتا تو وہ ان کو اور ان کے بڑے بوڑھوں کو اس ڈھنگ پر قائم نہ رکھتا پھر مشرکین کی اس بات کا یہ جواب فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ حجت کچھ نئی نہیں ہے ان سے پہلے قوموں کے لوگ بھی اللہ کے رسولوں کو اسی طرح کی حجتوں سے یہاں تک جھٹلاتے رہے کہ آخر کو طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 148–149

آیت 148 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ مشرکین اپنے شرک اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی چیزوں کو حرام ٹھہرانے پر اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے دلیل پکڑتے ہیں اور اپنے آپ سے مذمت کو دور کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کی مشیت کو جو خیر و شر ہر چیز کو شامل ہے، دلیل بناتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے وہی کچھ کہا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وقال الذین اشرکوا لوشآء اللہ ما عبدنا من دونہ می شیء) (النحل :35/16) ” وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا کہتے ہیں کہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے۔ “ پس یہ وہ دلیل ہے جو انبیاء و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 148–149

مشرکین کا غلط استدلال قول باری ہے ( سیقول الذین اشرکوا لو شآء اللہ ما اشرکنا ولا ابائونا یہ مشرک لوگ ( تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا ) تا قول باری ( کذلک کذب الذین من قبلھم ۔ ایسی ہی باتیں بنا بنا کر ان سے پہلے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا) اس میں مشرکین کو ان کے اس قول میں جھوٹا قرار دیا گیا ہے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا “ اس لیے کہ قول باری ہے ( کذلک کذب الذین من قبلھم) جو شخص حق کو جھٹلائے گا وہ اس کے جھٹلانے میں خود جھوٹا ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ کفار اپنے اس قول میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 148–149

301 اہل باطل کا تقدیر و مشیت خداوندی سے بہانہ ڈھونڈنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اب یہ مشرک لوگ یوں کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا۔ اور نہ ہی ہم از خود کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ یعنی اپنی کٹ حجتی کے لئے ایسے لوگ تقدیر کا سہارا لیتے ہیں جس طرح کہ مجرموں کا ہمیشہ یہی وطیرہ رہا ہے۔ حالانکہ مشیت اور چیز ہے اور رضا اور چیز۔ اور یہ لوگ مکلف بہرحال اسی کے ہیں کہ اچھائیاں کریں اور برائیوں سے رکیں اور بچیں۔ ورنہ مشیت کا یہ بہانہ ہر مجرم اور ہر خطاکار پیش کرسکتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکین کے آخری معارضہ کو نقل کر کے اس کا رد فرمایا گیا ہے کہ ِان لوگوں کا کہنا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 148–153

کفار کے اعتراض اور صراط مستقیم کے اصول تشریح : ان آیات میں شروع میں تو مشرکوں کو اپنے برے اعمال کو ٹھیک ثابت کرنے کے لیے گواہ لانے کو کہا گیا ہے جو کہ وہ ہرگز نہیں لاسکتے، پھر مسلمانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ مشرک ہیں ان کی کسی بھی چال میں پھنس کر ان جیسے بےدین، گمراہ اور مشرک نہ ہوجانا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیں اللہ نے کیا حرام کیا ہے اور کیا حلال کیا ہے۔ بس صرف اسی پر ہی عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اپنے پاس سے احکامات بنانے یا ان پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ کے بتائے ہوئے اصول اور قانون اس قدر جامع، مفید اور واضح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 146–151

رکوع نمبر 18 ۔ آیات نمبر 146 ۔ تا۔ 151 اسرار و معارف : آپ انہیں فرما دیجیے کہ مجھے تو اللہ کریم نے وحی سے مشرف فرمایا ہے جو علم کا سب سے اعلی ذریعہ ہے مگر اس میں تمہاری خرافات کی تائید نہیں ملتی بلکہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ مردار حرام ہے یعنی وہ جانور جو مردار قرار دئیے گئے اور ذبح سے بھی حلال نہیں ہوتے یا وہ حلال جانور جو بغیر ذبح کے مر جائے یا پھر بہتا ہوا خون اور خنزیر حرام ہے کہ یہ سخت ناپاک ہے یا پھر اس جانور کا گوشت حرام ہے جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام پہ ذبح ہو اور حرام مرد عورت سب کے لیے برابر ہے سوائے اس کے کہ کوئی جان بچانے کے لیے اس قدر کھالے کہ موت سے بچ جائے پیٹ بھرنے یا لذت کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

فوائد صفحہ ہذا۔1 یعنی تم جو یہ عذر پیش کر رہے تو وہ کسی عقلی اروعلمی بنیاد پر قائم نہیں ہے بلکہ محض تخمینہ اور گمان ہے اور اللہ پر بہتان باندھتے ہو ( ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:149) الحجۃ البالغۃ۔ دلیل کامل۔ الحجۃ الدلیل۔ البالغۃ اسم فاعل۔ واحد مؤنث۔ پہنچی ہوئی۔ پہنچنے والی (حقیقت کو پہنچنے والی۔ انتہا کو پہنچنے والی۔ دلیل تامہ) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 148–150

لغات القرآن : آیت نمبر 148 تا 150 : ذاقوا ( انہوں نے چکھ لیا) الحجۃ البالغۃ ( حد کو پہنچی ہوئی بات جس میں شک نہ ہو) ھلم (لائو) یعدلون ( وہ برابر کرتے ہیں (شرک کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 148 تا 150 : ہر طرف سے مجبور ہو کر ‘ اپنے حق میں ہر دلیل کی راہ بند پاکر ‘ پھر بھی ضد اور ہٹ دھرمی پر اکڑ کر ‘ یہ مشرکین بحث کا آخری حربہ استعمال کریں گے۔ کہ ہم اور ہمارے آبائو اجداد جو کچھ کر رہے ہیں یا کرچکے ہیں وہ جبر و تقدیر کے تحت ہے۔ یعنی اللہ کی مرضی یہی ہے۔ وہی اگر چاہتاتو ہم نہ شرک کرتے نہ حرام کھاتے۔ اس لئے الزام ہم پر نہیں کاتب تقدیر پر ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ان سے کہہ دیئے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 148–149

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شرکوں کو اس میں تنبیہ ہے کہ وہ کہتے تھے : ” ہم پڑے بوڑھوں کے ڈھنگ پر چلتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوتا تو ان کو اس ڈھنگ پر قائم نہ رکھتا “۔ پھر مشرکین کی اس بات کا یہ جواب فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ حجت کچھ نئی نہیں ہے ان کے بڑے بھی اسی طرح حجتیں کرتے تھے۔ آخر کو طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوگئے۔ پھر فرمایا : ” اے رسول اللہ کے ! اب تم ان لوگوں سے کہو کہ ان کے ڈھنگوں کے اچھے اور اللہ کی مرضی کے موافق ہونے کی کوئی سند ان کے پاس ہو تو ان کو نکال کر پیش کریں لیکن اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ کوئی سند پیش نہیں کرسکیں گے کیونکہ یہ لوگ اٹکل سے چلتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 142–149

[15] مشرکین عرب کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ حلال کو حرام ٹھہراتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے یہ افعال اللہ کو پسند ہی نہیں بلکہ اس کی عین مرضی سے ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ استدلال اس غلط فہمی کی بنا پر تھا کہ اللہ کی مشیت اور اس کی رضا میں فرق نہیں کرتے تھے۔ مشیت الٰہی کی بنا پر انسان اپنے طریق عمل میں آزاد ہے، اچھی یا بری جو راہ چاہے اپنی پسند سے اختیار کرے لیکن رضائے الٰہی یہ ہے کہ انسان بدی کی راہ سے بچے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ کے پیغمبروں نے نیکی اور بدی کی راہیں بتلا دیں اور اعمال نیک و بد کے نتائج سے آگاہ کردیا۔ اس کے بعد بھی جن لوگوں نے دیدہ و دانستہ بری راہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 148–150

(ف 1) مجرموں کا ایک بہت بڑا عذر یہ بھی ہوتا ہے کہ خدا کو ایسا ہی منظور ہے ، خدا اگر نہ چاہے تو ہم اور ہمارے آباء کے اختیار میں کیا ہے ، جو گناہ کا ارتکاب کریں ، کم بخت یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو اگر یہ گمراہیاں منظور ہوتیں تو انبیاء کیوں بھیجتا اور کتابیں کیوں نازل فرماتا ، اور نہ ماننے والوں کو سزائیں کیوں دیتا ، مکہ کے مشرک بھی یہی کہتے ، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس عذر کا جواب دیا ہے اور پوچھا ہے ، کہ بتاؤ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے جس سے اللہ کی کفر پسندی طور شرک نوازی ثابت ہو ، یا محض اٹکل اور تخمین کی بنا پر ایسا کہتے ہو ، یہ درست ہے ، خدا اگر چاہتا ، تو سب کو ہدایت کی توفیق دیتا ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-149 اور جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ ان کے پاس کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے تو اے پیغمبر ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ انتہائی واضح پوری اور مضبوط دلیل تو اللہ ہی کے لئے پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ ہدایت دکھا دیتا اور تم سب کو راہ پر لے آتا یعنی ایک طرف کوئی سند نہیں اور دوسری طرف مضبوط دلائل موجود ہیں تو اللہ تعالیٰ کا الزام ان پر پورا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 149–150

ف 1۔ مگر حق تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں ہیں کسی کو توفیق دی کسی کو نہیں دی البتہ اظہار حق اور اعطاء اختیار و ارادہ سب کے لیے عام ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی دلیل پکی اور پختہ دلیل ہے : 230: ہدایت وضلالت کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی جو اصل سنت ہے وہ بتائی جا رہی ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ اپنی مشیت کے زور سے جس کو چاہے ہدایت پر ڈال دے اگر وہ ایسا کرنا چاہتا تو اس کی مشیت کو کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ وہ تم سب کو اور ساری مخلوق کو ہدایت کی راہ دکھا دیتا لیکن اس معاملہ میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا بلکہ وہ دلیل وحجت سے راہ دکھاتا ہے کہ تم حق وصداقت کو قبول کرو اور اس نے تمہیں اختیار دیا ہے کہ تم اپنی مرضی سے چاہو تو حق کو قبول کرو چاہو تو باطل کو اپنا لو۔ اس کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں تھی کہ وہ تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 142–150

Commentary Mentioned in the previous verses was how astray the disbelievers of Makkah had gone when they had taken their self-carved, lifeless, insensate idols as partners in the Divinity of Allah as they made them share in animals created by Him and in many other blessings which were bestowed on them. Their transgression went to the limits when they would take out charities from these blessings as an act of worship, setting aside a portion for Allah and another for their idols. Then, they would employ different excuses to take out what belonged to the portion set aside for Allah and put it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

125. This provides a complete refutation of their apology. In order to appreciate it fully, careful analysis is required. In the first place they are told that citing God's will to justify one's errors and misdeeds, and making it a pretext for refusing to accept true guidance was the practice of the evil-doers before them. But they should remember that this had led to their ruin and they themselves were witnesses to the evil consequences of deviation from the Truth. Furthermore, it is being clarified that the plea of the unbelievers that the only reason for their error was that God had not…

Read the full tafseer →