Explained with ayahs 156–157
لاف زنی عیب ہے دوسروں کو بھی نیکی سے روکنے والے بدترین انسان ہیں
فرماتا ہے کہ اس آخری کتاب نے تمہارے تمام عذر ختم کردیئے جیسے فرمان ہے (وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْن) 28۔ القصص :47) ، یعنی اگر انہیں ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو کہہ دیتے کہ تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے فرمان کو مانتے۔ اگلی دو جماعتوں سے مراد یہود و نصرانی ہیں۔ اگر یہ عربی زبان کا قرآن نہ اترتا تو وہ یہ عذر کردیتے کہ ہم پر تو ہماری…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 137
یعنی یہود و نصاریٰ کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
خلاصہ تفسیر
پھر (مضمون ابطال شرک کے بعد ہم مسئلہ نبوت میں کلام کرتے ہیں کہ ہم نے صرف آپ ﷺ کو اکیلا ہی نہیں بنایا، جس پر یہ لوگ اس قدر شور و غل مچا رہے ہیں، بلکہ آپ ﷺ سے قبل) ہم نے موسیٰ ؑ کو (پیغمبر بنا کر) کتاب (تورات) دی تھی، جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر (ہماری) نعمت پوری ہو (کہ عمل کرکے ثواب کامل حاصل کریں) اور سب (ضروری) احکام کی (اس کے ذریعہ سے) تفصیل ہوجاوے اور (اس کے ذریعہ سے سب کو) رہنمائی ہو اور (ماننے والوں کیلئے) رحمت ہو (ہم نے اس صفت کی کتاب اس لئے دی) تاکہ وہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل) اپنے رب کے ملنے پر یقین لاویں (اور اعتقاد لقاء سے اب احکام کو بجا لاویں) اور (جب اس کا اور اس…
Read the full tafseer →اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ۔
ان تقولوا، یعنی کراھۃ ان تقولوا، یہ اسلوب اور یہ مضمون مائدہ آیت 19 میں بھی گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم پر یہ رحمت اس لیے نازل فرمائی ہے کہ مبادا کل کو تم خدا کے سامنے یہ عذر کرو کہ جس طرح یہود و نصاری کو کتاب عطا ہوئی آخر ہم کو اسی طرح کتاب کیوں نہیں عطا ہوئی، ان کا علم و مطالعہ ہمارے کیا کام آسکتا تھا، ہم تو ان کے علم و مطالعہ اور ان کے درس و تدریس و تعلم سے بیخبر رہی ہے۔
Read the full tafseer →156۔ 1 یعنی یہ قرآن اس لئے اتارا تاکہ تم یہ نہ کہو۔ دو فرقوں سے مراد یہود و انصاریٰ ہیں۔
156۔ 2 اس لئے کہ وہ ہماری زبان میں نہ تھی۔ چناچہ اس عذر کو قرآن عربی میں اتار کر ختم کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
82: خریدو فروخت کے وقت ناپ تول کا پورا لحاظ رکھنا واجب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمادیا کہ اس معاملے میں طاقت سے زیادہ میخ نکالنے کی بھی ضرورت نہیں انسان کو پوری پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ناپ تول ٹھیک ہو، لیکن کوشش کے باوجود تھوڑا بہت فرق رہ جائے تو وہ معاف ہے۔
83: اللہ کے عہد میں وہ عہد بھی داخل ہے جس میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ کیا گیا ہو، اور وہ عہد بھی جو کسی انسان سے کیا گیا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھاکر یا اس کو گواہ بناکر کیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
آیت ” نمبر 156 تا 157۔
اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا گیا اور جب آخری رسالت دنیا میں آئی تو حضرت محمد ﷺ کو تمام اقوام عالم کی طرف بھیجا گیا ۔ لہذا حضور ﷺ انسانوں کے لئے آخری رسول ہیں ۔ کیونکہ ان کو تمام انسانوں کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔
عربوں پر اللہ نے حجت اس طرح تمام کردی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوموں کی طرف بھیجے گئے اور عرب کہتے تھے کہ ہم ان کی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ہم عالم نہ تھے ‘ نہ ہم تک اس دعوت کو پہنچانے کا کوئی اہتمام کیا گیا ۔ اگر ہمارے پاس ہماری زبان میں کوئی کتاب آئی…
Read the full tafseer →4 یعنی اس مبارک کتاب (قرآن کریم) کے نزول کے بعد عرب کے امین کے لئے یہ کہنے کا بھی موقع نہیں چھوڑا گیا کہ پیشتر جو آسمانی کتابیں شرائع الہٰیہ کو لے کر اتریں وہ تو ہمارے علم کے موافق انہی دو فرقوں (یہود و نصاریٰ ) پر اتریں بیشک وہ لوگ آپس میں اسے پڑھتے پڑھاتے تھے اور بعضے اس کا ترجمہ بھی عربی میں کرتے تھے مثلاً ورقہ بن نوفل وغیرہ اور بہت سے مدت تک اس دھن میں لگے رہے کہ عرب کو یہودی یا نصرانی بنالیں لیکن ہمیں ان کی تعلیم و تدریس سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ اس سے بحث نہیں کہ یہود نصاریٰ جو کچھ پڑھتے پڑھاتے تھے وہ چیز کہاں تک اپنی اصلی سماوی صورت میں محفوظ تھی۔ مطلب صرف اس قدر ہے کہ ان شرائع و کتب کی…
Read the full tafseer →آیت 156 اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْکِتٰبُ عَلٰی طَآءِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَاص
یہ بالکل سورة المائدۃ کی آیت 19 والا انداز ہے۔ وہاں فرمایا گیا تھا : اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَ نَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّلاَ نَذِیْرٍز مبادا تم یہ کہو کہ ہمارے پاس تو کوئی بشیر اور نذیر آیا ہی نہیں تھا۔ اور اس احتمال کو رد کرنے کے لیے فرمایا گیا : فَقَدْ جَآءَ کُمْ بَشِیْرٌ وَّنَذِیْرٌ ط پس آگیا ہے تمہارے پاس بشیر اور نذیر۔ کہ ہم نے اپنے آخری رسول ﷺ کو بھیج دیا ہے آخری کتاب ہدایت دے کر تاکہ تمہارے اوپر حجت تمام ہوجائے۔ لیکن وہاں اس حکم کے مخاطب اہل کتاب تھے اور اب وہی بات یہاں مشرکین کو اس انداز میں کہی جا…
Read the full tafseer →179 قرآن کے نزول سے کفار مکہ پر اتمام حجت :۔ یہ خطاب کفار مکہ سے ہے یعنی ان کی طرف یہ کتاب دو وجہ سے نازل کی گئی ہے۔ ایک وجہ تو اتمام حجت ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ یہود و نصاریٰ کی طرف جو کتابیں اتاری گئی ہیں وہ تو انہی کے لیے تھیں، سب لوگوں کے لیے تو نہ تھیں کہ ہم بھی ان سے مستفید ہونے کی کوشش کرتے۔ اب جو کچھ اور جیسے وہ ان کتابوں کو پڑھتے پڑھاتے رہے اس کی ہمیں کیا خبر ہوسکتی ہے ؟ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کتابیں تو عجمی زبانوں میں تھیں عربی میں نہیں تھیں لہذا ہم ان کتابوں کو کیسے پڑھ سکتے یا پڑھا سکتے تھے۔ اور دوسری وجہ جذبہ مسابقت ہے یعنی تمہاری طرف کتاب نازل نہ ہونے کی صورت…
Read the full tafseer →246 ۔ خطاب اب مشرکین عرب سے ہے۔ والخطاب متوجہ الی الکفار قریش باثبات الحجۃ علیھم (بحر) (آیت) ” یعنی قیامت کے دن کہیں بہ طور وعذر و جواب یہ نہ کہنے لگتے۔ (آیت) ” ان، لئلا۔ کے معنی میں ہے۔ قال الکوفیون لئلا تقولوا وقال البصریوں انزلناہ کراھیۃ ان تقولوا (قرطبی) ای ل ان لا (جلالین) (آیت) ” طآئفتین “۔ یعنی گروہ یہود ونصاری۔ تابعین و صحابہ سے یہی تفسیر منقول ہے۔ قال ابن عباس والحسن و مجاھد وقتادہ والسدی وابن جریج ارادبھما الیھود والنصاری (جصاص) والکتاب ھنا جنس والطائفتان ھما اہل التورۃ والانجیل الیھود والنصاری بلاخلاف (بحر) حنفیہ نے لفظ (آیت) ” طآئفتین “ سے یہ استنباط کیا ہے کہ اہل کتاب یہی دو گروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–163
آیت نمبر 155 تا 165
ترجمہ : اور یہ قرآن ایک بڑی خیر و برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اے مکہ والو ! جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرکے اس کی اتباع کرو، اور کفر سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس کو نازل کیا تاکہ تم یہ نہ کہو سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے وہ فرقوں یہود و نصاریٰ پر نازل کی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے ناواقف تھے ہماری زبان میں ان کتابوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی معرفت حاصل نہ تھی (اِنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنّا، یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اپنی تیزی ذہانت کی وجہ سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، سو اب تمہارے پاس رب کی جانب…
Read the full tafseer →ان تقولوا انما انزل الکتب علی طائفتین من قبلنا وان کنا عن دراستہم لغفلین . کہیں تم یوں کہنے لگتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دونوں فرقوں پر اتری تھی اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل ناواقف تھے۔
طائفتین : سے مراد ہیں یہودی اور عیسائی اگرچہ صحیفے اور کتابیں توریت اور انجیل کے علاوہ بھی نازل ہوئیں ‘ لیکن توریت و انجیل کے علاوہ اس وقت کوئی مشہور نہیں اسی لئے صرف یہودیوں اور عیسائیوں کی کتاب کا ذکر کیا۔ وان کنا : میں ان مخففہ ہے اسی لئے خبر میں لام لایا گیا۔ مطلب یہ کہ ہم ان پڑھ امی تھے اور شریعتیں ہم سے پہلے والے دونوں گروہوں میں اتاری گئی تھیں اس حجت کو دور کرنے کیلئے محمد ﷺ کو بھیجا گیا اور قرآن…
Read the full tafseer →(156) اور یہ اس لیے نازل ہوئی تاکہ قیامت کے دن مکہ والوتم یوں نہ کہنے لگو کہ اہل کتاب تو صرف ہم سے پہلے جو دو فرقے یہودی و عیسائی تھے، ان پر نازل ہوئی تھی اور ہم تو توریت وانجیل کے پڑھنے پڑھانے سے بیخبر تھے۔
Read the full tafseer →اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ۔۔ : تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہماری طرف تو کوئی کتاب آئی ہی نہیں، کتاب تو صرف ہم سے پہلے دو گروہوں یہود و نصاریٰ پر اتری اور وہ صرف ان کے لیے تھی اور انھوں نے ہمیں دعوت بھی نہیں دی کہ ہم ان سے پڑھ کر ایمان لے آتے، بلکہ وہ اسے بنی اسرائیل ہی کے لیے قرار دیتے رہے، ہم بھی اسے ان کے ساتھ مخصوص سمجھ کر اور کچھ اپنی غفلت کی وجہ سے اسے پڑھنے سے بیخبر رہے، ورنہ زبان نہ جاننا تو کوئی معقول عذر نہیں کیونکہ جب معلوم ہوجائے کہ اللہ کا حکم آیا ہے تو آدمی کسی سے سمجھ بھی سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
آیت نمبر : 156۔ 157
قولہ تعالیٰ : آیت : ان تقولوا یہ محل نصب میں ہے۔ کو فیوں نے کہا ہے : لئلا تقولوا ( تاکہ تم یہ نہ کہو) اور بصریوں نے کہا ہے : انزلناہ کراھیۃ ان تقولوا ( ہم نے اسے نازل کیا یہ ناپسند کرتے ہوئے کہ تم کہو) ۔ اور فراء اور کسائی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے فاتقوا ان تقولوا یا اھل مکۃ ( اے اہل مکہ تم یہ کہنے سے بچو) ، آیت : انما انزل الکتب کہ تورات اور انجیل نزل کی گئی۔ آیت : علی طائفتین من قبلنا ہم سے پہلے دو گرہوں پر یعنی یہودونصاری پر اور ہم پر کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی۔
آیت : وان کنا عن دراستھم لغفلین اور ہم تو ان کی کتابوں اور ان کی لغات سے بالکل ناواقف اور غافل تھے۔ اور یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ان تقولوا انما انزل الکتب علی طائفتین من قبلنا کے بارے میں فرمایا کہ یہود و نصاری ڈرتے تھے کہ قریش اس بات کو کہیں گے۔
(2) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت علی طائفتین من قبلنا سے یہود و نصاری مراد ہیں (اور فرمایا) لفظ آیت وان کنا عن دراستھم یعنی ان کی تلاوت سے (غافل تھے)
(3) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اوتقولوا انا انزل علینا الکتب لکنا اھدی منھم کے بارے میں فرمایا کہ یہ عرب کے کافروں کا قول…
Read the full tafseer →[ اَنْ تَقُوْلُوْٓا [ یہ تم کہنے لگو ] [ اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ ] [ کہ یہ اتاری گئی ] [ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ ] [ پہلے دو گرہوں (یہود ونصاری) پر ] [ مِنْ قَبْلِنَا ۠] [ ہم سے پہلے ] [ وَاِنْ كُنَّا ] [ اور ہم تھے ] [ عَنْ دِرَاسَتِهِمْ ] [ اس کے پڑھنے سے ] [ لَغٰفِلِيْنَ : بلکل بیخبر ]
Read the full tafseer →اہل عرب کی کٹ حجتی کا جواب :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے جو یہ کتاب نازل کی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ تم یوں نہ کہنے لگو کہ ہم سے پہلے دو جماعتوں پر کتاب نازل ہوئی تھی (یعنی یہود و نصاریٰ پر) اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے وہ ہماری زبان میں نہ تھی لہٰذا ہم اس سے استفادہ نہیں کرسکتے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرما کر اس عذر کو ختم کردیا۔ اور یہ بھی ممکن تھا کہ تم یوں کہتے کہ ہمیں کتاب نہیں دی گئی اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم خوب اچھی طرح عمل کرتے اور ہم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی عمل کرنے میں ان سے بڑھ چڑھ کر ثابت ہوتے۔ اور ان کے مقابلہ میں زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–158
بیان اصول محرمات دربارۂ اقوال وافعال وتلقین مکارم اخلاق و محاسن اعمال
قال اللہ تعالیٰ قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم۔۔۔ الی۔۔۔ قل انتظروا انا منتظرون
(ربط) گذشتہ آیات میں جب حق تعالیٰ کافروں کی حرام کردہ چیزوں کو باطل کرچکے اور کھانے اور پینے کے متعلق جو چیزیں من جانب اللہ حرام تھیں ان کا ذکر ہوچکا تو اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کو بیان کرتے ہیں جو اقوال اور افعال سے متعلق رہیں ان آیتوں میں بالترتیب دس چیزوں کو ذکر فرمایا جن میں اللہ نے معاش اور معاد کی صدہا حکمتیں رکھی ہیں۔
1 ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
2 ۔ ماں باپ کے ساتھ سلوک اور احسان کرو اور ان کے ساتھ برائی نہ کرو
3 ۔…
Read the full tafseer →177 یہ اصل میں تھا کراھیۃ ان تقولوا یا لئلا تقولوا۔ طائفتین سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ یعنی یہ کتاب (قرآن مجید) تم پر اتمام حجت کے لیے نازل کی تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے یہود ونصاریٰ پر تورات وانجیل نازل ہوئی اور ہم ان کی تعلیم سے بیخبر تھے یا یہ عذر پیش نہ کرسکو کہ یہود ونصاریٰ کی طرح اگر ہم پر بھی کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے بڑھ کر آسمانی کتاب کی پیروی کرتے اور ان سے بڑھ چڑھ کر راہ ہدایت پر گامزن ہوتے فَقَدْ جَآءَکُمْ بَیِّنَۃٌ الخ لہذا اتمام حجت کے طور پر اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کتاب آچکی ہے۔ جو کھلے دلائل سے بھرپور ہے اور سیدھی راہ دکھاتی ہے اور جس کی پیروی باعث رحمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
پہلے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے شرکیہ افعال کا رد فرمایا اور پھر غیر اللہ کی نیازات کی تردید فرمائی ۔ اس کے بعد ان باتوں کا ذکر ہوا جن کو اللہ نے ناجائز قراردیا ہے اللہ نے ان کے متعلق سخت تاکیدی حکم دیا اور اس کو صراط مستقیم قرار دیا۔ نیز غلط راستوں پر چلنے سیمنع فرمایا ، کین کہ غلط راستے اللہ کے راستے سے جدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے تورات کا ذکر فرمایا ہے اور نزول قرآن کا تذکرہ کیا ہے اللہ نے ان دونوں کتابوں کو ہدایت اور رحمت سے تعبیر کیا ہے اور قرآن پاک کا اتباع کر نیکی تلقین کی ہے پھر قرآن پاک کے نزول کی دو وجوہات بیان کر کے…
Read the full tafseer →اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا 0 ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِہِمْ لَغٰفِلِيْنَ 156 ۙ
طَّائِفَةُ
وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی:
فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ، والطَّائِفَةُ إذا أريد بها الجمع فجمع طَائِفٍ ، وإذا أريد بها الواحد فيصحّ أن يكون جمعا، ويكنى به عن الواحد،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
ترکیب : تماماً مفعول لہ علی الذین احسن جار متعلق ہے تماما سے وتفصیلا الخ تماما پر معطوف ھذا مبتداء کتاب خبر ان تقولو اے کر اہۃ ان تقولوا وان کنا ان مخففہ واسمہا محذوف ای انا او تقولوا ان تقولوا پر معطوف۔ لوانا شرط لکنا الخ جواب جملہ مفعول تقولوا فمن مبتداء اظلم خبر ممن اس سے متعلق بآیات اللہ کذب کا مفعول۔
تفسیر : یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ ان اشیائِ مذکورہ کا حرام کرنا کچھ نئی بات نہیں۔ ہم ہمیشہ انبیاء کی معرفت لوگوں کو اچھی بری باتوں سے خبر دیتے رہے ہیں۔ چناچہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک کتاب دی تھی یعنی تورات (یہاں سے صاف معلوم ہوا کہ جو کتاب بنام نہاد تورات موسیٰ کے بعد لوگوں نے جمع کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
ملت ابراہیمی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب کا ذکر فرمایا اور اب آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو شریعت ابراہیمی یا ملت ابراہیمی کے جو بنیادی احکام دیئے گئے تھے وہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی بنیاد تھے اور انہی بنیادوں پر اسلامی شریعت کو اٹھایا گیا ہے اور وہی احکام عشرہ ابراہیمی صحیفوں کی طرح تورات میں بھی نازل ہوئے اور اب قرآن کریم میں بھی نازل کیے گئے ہیں ‘ اس لیے اگر تم نے ملت ابراہیمی پر عمل کرنا ہے اور تم اس میں مخلص ہو تو پھر تمہیں اس ہدایت کی طرف رجوع کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے بعد اہل مکہ کو خطاب۔
سابقہ آیات میں اہل کتاب سے خطاب تھا اور اب اہل مکہ کے حوالے سے پوری دنیا کو مخاطب کیا گیا ہے تاکہ اہل مکہ اور باقی لوگوں کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ یہود و نصاریٰ کی ہدایت کے لیے تو کتاب نازل کی گئی تھی۔ ہمیں کتاب سے کیوں محروم رکھا گیا۔ یہاں ان دو گروہوں کے لیے تورات اور انجیل کا الگ الگ ذکر کرنے کے بجائے ” الکتاب “ فرما کر صرف ایک کتاب یعنی تورات کا ذکر کیا گیا ہے یہ اس لیے کہ انجیل تورات ہی کے احکام کا تتمہ اور تفصیل ہے۔ اس بنا پر عیسائیوں، یہودیوں کے لیے ” الکتاب “ لا یا گیا ہے۔ پھر اہل مکہ اور قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کو مخاطب…
Read the full tafseer →ناخواندگی کے عذر کا خاتمہ :
آیت 156: اَنْ تَقُوْلُوْا اس کراہت سے کہ تم کہو یا تاکہ تم یہ نہ کہو۔ اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْکِتٰبُ عَلٰی طَآپفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا یعنی اہل تورات اور اہل انجیل۔ اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ مجوس اہل کتاب نہیں ہیں۔ وَاِنْ کُنَّا عَنْ دِرَاسَتِہِمْ ان کتابوں کی تلاوت سے لَغٰفِلِیْنَ ۔ اس میں سے کسی چیز کا ہمیں علم نہ تھا۔ اِنْ مخففہ من المثقلہ ہے۔ اور لام اس لیے لائی گئی کہ اِنْ نافیہ سے یہ الگ معلوم ہو۔ اصل عبارت یہ ہے : انہ کنا عن دراستہم غافلین۔ ہٗ ضمیر شان ہے۔ خطاب اہل مکہ کو ہے اور مراد اس سے یہ ہے کہ ان پر کتاب اتار کر حجت تام کی گئی۔ تاکہ قیامت کے دن یہ عذر نہ…
Read the full tafseer →-156 (ان تقولوا)” بیبن اللہ لکم ان تضلوا “ یعنی تاکہ تم گمراہ نہ ہو اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اس کو اتارا ہے، تمہاری گمراہی کو ناپسند کرتے ہوئے ” ان تقولوا “ کسائی (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اے اہل مکہ تم پر کہنے سے بچو۔ تاکہ تم نہ کہو (انما انزل الکتب علی طآئفتین من قبلنا) یعنی یہود و نصاریٰ (وان کناعن دراستھم لغفلین) یعنی ہم ان کو نہ جانتے تھے ۔ مطلب یہ ہے کہ تم پر ہم نے قرآن اس لئے اتارا کہ تم یہ نہ کہو کہ بیشک کتاب تو ہم سے پہلے لوگوں پر ان کی زبان میں اتاری گئی تھی تو ہم نے اس کے احکام نہ پہنچانے اور اس کے پڑھنے پڑھانے سے غافل رہے تو تم پر عذر نہ کرسکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
(156 ۔ 157) ۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی اسی طرح اس نے نبی آخرالزمان ﷺ پر یہ قرآن نازل فرمایا ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن عربی زبان میں نازل فرمایا ہے تاکہ اہل عرب کو قیامت کے دن کسی عذاب کے پیش کرنے کا موقع باقی نہ رہے اور ان لوگوں کے دل میں یہ ہوس بھی نہ رہے کہ ان پر کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو یہ لوگ یہودو نصاریٰ سے زیادہ راہ راست پر آجاتے۔ قرآن شریف کے نازل ہونے سے پہلے قریش یہ ہوش کیا کرتے تھے جس کا ذکر آیت کے اس ٹکڑے میں ہے او یہ لوگ اور قوموں کی بہ نسبت اپنے آپ کو عقلمند زیادہ سمجھتے تھے اس واسطے آسمانی کتاب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
آیت 152
(ثم) ” پھر “ اس مقام پر (ثم) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰ کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہ ﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔
(اتینا موسیٰ الکتب) ” موسیٰ ) کو کتاب عنایت کی “ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تو رات ہے (تماماً ) اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لئے (علی الذی احسن) ” ان پر جو نیکو کار ہیں۔ “ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لئے جنہوں نے نیک کام کئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکو کاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–158
اتباعِ قرآن حکیم
قول باری ہے ( وھذا کتاب انزلنہ مبارک فاتبعوہ واتقوا، اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے۔ ایک برتک والی کتاب ، پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو) یہ کتاب یعنی قرآن مجید کی اس کے مقتضیات یعنی فرض یا نفل یا اباحت کے بموجب اتباع کا حکم ہے، نیز اس میں مندرج ہر چیز کا اس کے مقتضیٰ کے مطابق اعتقاد کا امر ہے۔ برکت خیر یعنی بھلائی کے ثبوت اور اس کے نمو کا نام ہے،۔ فقرہ ” تبارک اللہ “ ثبات کی صفت ہے جس کا نہ کوئی اول ہے نہ آخر۔ اس تعظیم کا استحقاق صرف اللہ وحدہ، لا شریک کو حاصل ہے۔ قول باری ہے ( ان تقولوا انما انزل الکتاب علی طائفتین من قبلنا۔ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
321 نعمتوں کی اصل تکمیل کتاب ہدایت ہی سے ہوتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی تمام کرنے کے لیے اپنی نعمت کو۔ یعنی { تماماً } یہاں پر مفعول لہ ہے کہ اپنی نعمت کی تکمیل کے لئے ہم نے ان پر وہ کتاب یعنی تورات نازل کی تھی۔ معلوم ہوا کہ علم اور ہدایت کی نعمت سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہے۔ اور دوسرا احتمال اسمیں یہ بھی ہے کہ " تماما " صفت ہو کتاب کی ۔ " اَی کَتَابًا تَامًّا کَامِلاً " ۔ یعنی ان کو ایسی کامل کتاب عطا فرمائی جو اس وقت کے لحاظ سے تمام ضروری احکام و مسائل پر حاوی و مشتمل تھی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَکَتَبْنَا لَہ فِی الاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیٍٔ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
قرآن مجید ایک مکمل کتاب
تشریح : یہاں قرآن پاک کی چند خوبیوں اور برکتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے غورو فکر کر کے میری پیروی کرو۔ خلوص نیت سے عمل کرو اور پھر تقویٰ اختیار کرو، صاف ظاہر ہے کہ جب کوئی ان تینوں ہدایات پر عمل کرے گا تو اللہ کی رحمت اس پر ضرور نازل ہوگی۔ پھر ان تمام باتوں کا جواب بھی اللہ تعالیٰ خود ہی دیتے ہیں جو کہ منکرین بہانے بنا سکتے تھے۔ مثلاً یہ کہ تم لوگ کہیں یہ نہ کہتے ہمیں تو کتاب ملی ہی نہیں۔ پہلے لوگوں کو ملی اور وہ ہم نہ پڑھ سکے یا یہ کہتے کہ اگر ہمیں بھی کتاب دی جاتی تو ہم ضرور پہلے لوگوں کی نسبت زیادہ عمل کرنے والے ثابت ہوتے، لہٰذا اب تمہارے پاس کوئی حیلہ بہانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–165
رکوع نمبر 20 ۔ آیات 156 تا 166 ۔
اسرار و معارف :
اور اب یہ کتاب ہے یعنی قرآن حکیم جسے ہم نے بہت برکت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یعنی کتب سابقہ کا دور ختم ہوا پہلی کتابوں کا انکار نہ کیا جائے گا کہ وہ بھی اللہ کی نازل کردہ تھیں مگر ان پر عمل کا زمانہ بیت چکا اب ساری برکات قرآن کا اتباع کرنے سے ہی نصیب ہوسکتی ہیں اور اللہ کی عظمت کا احساس کرو تاکہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرمائے کہیں یہ نہ کہنا کہ اللہ کی کتابیں تو صرف یہود و نصاری پہ ہی نازل ہوئی تھیں جنہیں ہم سمجھنے سے قاصر تھے ان کا پڑھنا پڑھانا ہمارے بس میں ہی نہ تھا زبان اور تھی یا اصل کتب نہ رہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
ف 7 یعنی چونکہ ہم ان کی زبان نہ نانتے تھے۔ اس لیے ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے اور ان کے سمجھنے سے قاصر رہے۔ ( قرطبی)
Read the full tafseer →(6:156) ان تقولوا۔ ان انزلنہ کی علت ہے یعنی ہم نے اسے نازل فرمایا ۔ تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو ۔
طائفتین۔ یعنی یہود اور نصاری۔
ان کنا۔ ان ثقیلہ سے مخفف ہے۔ وانہ کنا اور یہ کہ ہم (ان کے پڑھنے اور پڑھانے سے بالکل بیخبر تھے) ۔
دراستھم۔ ان اک پڑھنا پڑھانا۔ ان کی تلاوت۔ درس یدرس کا مصدر ہے۔ مضاف ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جو ان کتب کے متعلق ہے جن کا ذکر ابھی ابھی ہوا ہے کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی تھی۔ مضاف الیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–158
لغات القرآن : آیت نمبر 154 : 158 :
تماما ( مکمل) طائفتین (طائفۃ) ۔ دو جماعتیں۔ دوفرقے) صدف ( اس نے انکار کیا) انتظروا (تم انتظار کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 154 تا 158 :
فرمان الٰہی کا رخ اہل عرب کفار و مشرکین کی طرف ہے۔ فرمایا کہ
تمہیں جو بہانہ ڈھونڈنے ‘ بھاگنے کا چور دروازہ تلاش کرنے اور کسی نہ کسی طرح چھوٹ نکلنے کی عادت ہے۔ تو ممکن تھا تم یہ بہانہ کرتے۔ کہ توریت اور انجلش تو یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے نازل کی گئی تھیں۔ ہمیں کیا خبر وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔ ہم تو کلام الٰہی سے بےبہرہ رہے۔ اس لئے ہم بےقصور ہیں۔ تمہیں جو بڑھ بڑھ کے جھوٹے دعوے کرنے کی عادت ہے ‘ بعید نہ تھا تم یہ کہتے ۔ اگر ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
گنہگاروں کی توبہ کا وقت اور توحید کا ذکر
ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو صاحب عذر کے عذر کا سننا بہت پسند ہے۔ اس لئے اس نے عربی میں قرآن شریف نازل فرما کر اہل عرب کی انجانیت کا عذر رفع کردیا۔ اب جو کوئی قرآن کی نصیحت خود نہ مانے گا اور لوگوں کو بھی نیک راہ سے روکے گا تو اس پر قیامت کے دن دوہرا عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–156
[59] یعنی یہود و نصاریٰ پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
(ف 1) قرآن حکیم کتاب مبارک ہے یعنی اس کے استفادے سے خیروبرکت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں ، اور یہ خوش اعتقادی نہیں ، حقیقت ہے جب بھی اس پر عمل کیا گیا ہے ، اس نے اپنے معجزات وخوارق سے دنیا کو حیران کردیا ہے ۔
آج جس قدر زندگی جس قدر روشنی اور بیداری نظر آرہی ہے یہ قرآن ہی کا طفیل ہے ۔
حل لغات :
دراسۃ : پڑھنا مطالعہ کرنا ۔
Read the full tafseer →-156 اور یہ کتاب ہم نے اس لئے نازل فرمائی تاکہ تم قیامت میں یوں نہ کہہ سکو کہ آسمانی کتاب تو صرف یہود و نصاریٰ کے دو فرقوں پر نازل کی گئی تھی جو ہم سے پہلے ہو گزرے تھے اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بیخبر تھے یعنی ہم پر تو کتاب نازل نہیں ہوئی یہود و نصاریٰ کے درس و تدریس کا ہم کو علم نہ تھا تو ہم کو توحید و رسالت کا پتہ کیونکر لگتا اس لئے ہم ایمان لانے سے معذور تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–157
ف 3۔ مثلا اس کے کام میں لگانا اس کی حفاظت کرنا اور بعض اولیاء اور اوصیاء کو اس میں یتیم کے لیے تجارت کرنا بھی جائز ہے۔
4۔ پھر ان احکام میں کوتاہی کیوں کی جائے۔
5۔ جس کے مقابلہ میں وہ بات کہہ رہے ہو۔
6۔ جیسے قسم یا نذر بشرط اس کے مشروع ہونے کے۔
Read the full tafseer →نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ کل تم عذر نہ کرو کہ ہم پہلی کتابیں پڑھ نہ سکے تھے :
247: اس میں خطاب اس وقت کے لوگوں سے بھی ہے اور ان کے بعد آنے والوں کو بھی اور اسی طرح قیامت تک آنے والوں کے لئے۔ ان سب کو کہا جا رہا ہے کہ تمہاری ہدایت کے لئے یہ بےنظری کتاب نازل کی گئی ہے تاکہ قیامت کے روز تم اپنی گمراہی اور ضلالت کے لئے یہ عذر نہ پیش کرو کہ ہمارے لئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہی نہیں کی گئی تھی جسے پڑھ کر ہم شرک وکفر سے تائب ہوتے اور توحید کو قبول کرتے اور یہود ونصاریٰ پر بلاشبہ کتابیں نازل ہوئی تھیں لیکن ہم ان کے پڑھنے سے قاصر تھے اس لئے اگر ہم ایمان نہیں لائے تو ہم معذور تھے۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
Commentary
The reason of being ` ignorant of (or heedless to) what they studied - 156' was not that the Torah and the Injil were non-existent in the Arabic language because it is possible to become informed of the contents through a translation, in fact, this happens. Instead, this is because the people of the Book never took steps to educate and inform the people of Arabia in the mores of monotheism. That something falls within hearing distance casually is customarily ineffective as a meaningful warning - though, this much note of warning makes search and consideration obligatory, and on…
Read the full tafseer →137. The allusion is to the Jews and the Christians.
Read the full tafseer →