مزید تفصیل متعلقہ حلال و حرام
ناخن دار جانور چوپایوں اور پرندوں میں سے وہ ہیں، جن کی انگلیاں کھلی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ " جو کھلی انگلیوں والا نہ ہو "۔ ایک روایت میں ان سے مروی ہے کہ ہر ایک جدا انگلیوں والا اور انہی میں سے مرغ ہے۔ قتادہ کا قول ہے " جیسے اونٹ، شتر مرغ اور بہت سے پرند، مچھلیاں، بطخ اور اس جیسے جانور جن کی انگلیاں الگ الگ ہیں۔ ان کا کھانا یہودیوں پر حرام تھا۔ اسی طرح گائے بکری کی چربی بھی ان پر حرام تھی۔ یہود کا مقولہ تھا کہ اسرائیل نے اسے حرام کرلیا تھا، اس لئے ہم بھی اسے حرام کہتے ہیں۔ ہاں جو چربی پیٹھ کے ساتھ لگی ہوئی ہو، انتڑیوں…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 122
یہ مضمون قرآن مجید میں تین مقامات پر بیان ہوا ہے۔ سورة آل عمران میں فرمایا ”کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعت محمدی میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں، البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنھیں توراۃ کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ ان سے کہو لاؤ توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت اگر تم (اپنے اعتراض میں) سچے ہو“۔ (آیت 93)۔ پھر سورة نساء میں فرمایا کہ بنی اسرائیل کے جرائم کی بنا پر ”ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں“۔ (آیت 160)۔ اور یہاں ارشاد ہوا ہے کہ ان کی سرکشیوں کی پاداش میں ہم نے ان پر تمام ناخن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ (جن حیوانات میں کلام ہو رہا ہے ان کے متعلق) جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھاوے (خواہ مرد ہو یا عورت) مگر (ان چیزوں کو البتہ حرام پاتا ہوں وہ) یہ کہ وہ مردار (جانور) ہو، (یعنی جو باوجود واجب الذبح ہونے کے بلا ذبح شرعی مر جائے) یا یہ کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ (خنزیر) بالکل ناپاک ہے، (اس لئے اس کے سب اجزاء نجس اور حرام ہیں ایسا نجس نجس العین کہلاتا ہے) یا جو (جانور وغیرہ) شرک کا ذریعہ ہو (اس طرح) کہ (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو (سو یہ سب حرام ہیں)…
Read the full tafseer →یہود پر بعض طیبات حرام ہونے کی وجہ : وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُر الایہ۔ ملت ابراہیم کے بعد اب یہ ملت یہود کا ذکر فرمایا کہ ان کے اوپر بیشک بعض طیبات حرام کردی گئی تھیں۔ مثلاً تمام ناخون والے جانور اور گائے بکری وغیرہ کی چربی۔ لیکن یہ حرام کرنا اس لیے نہیں تھا کہ فی نفسہ یہ چیزیں قابل حرمت تھیں بلکہ یہ ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر حرام کی گئی تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ اب ملت اسلام میں یہ حرمتیں باقی نہیں رہیں بلکہ تمام طیب چیزیں اس میں مباح کردی گئیں اور یہود پر جو قیدیں اور پابندیاں (اصر و اغلال) عائد کی گئی تھیں وہ، جیسا کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا، خاتم الانبیاء کی…
Read the full tafseer →146۔ 1 ناخن والے جانوروں سے مراد وہ ہاتھ والے جانور جن کی انگلیاں پھٹی ہوئی یعنی جدا جدا نہ ہوں۔ جیسے اونٹ شتر مرغ، بطخ، قاز گائے اور بکری وغیرہ۔ ایسے سب چرند پرند حرام تھے۔ گویا صرف وہ جانور اور پرندے ان کے لئے حلال تھے جن کے پنجے کھلے ہوں۔
146۔ 2 یعنی جو چربی گائے یا بکری کی پشت پر ہو (دنبے کی چکی ہو) یا انتریوں (یا اوجھ) یا ہڈیوں کے ساتھ ملی ہو۔ چربی کی مقدار حلال تھی۔
146۔ 3 یہ چیزیں ہم نے بطور سزا ان پر حرام کی تھیں یعنی یہود کا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ یہ چیزیں حضرت یعقوب ؑ نے اپنے اوپر حرام کی ہوئی تھیں اور ہم تو ان کو اتباع میں ان کو حرام سمجھتے ہیں۔
146۔ 4 اس کا مطلب یہ ہے کہ یہود یقینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
76: مطلب یہ ہے کہ جن جانوروں کو بت پرستوں نے حرام قرار دے رکھا ہے ان میں سے کسی جانور کے بارے میں مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ممانعت کا حکم ان چار چیزوں کے سوا نہیں آیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے جانوروں میں بھی کوئی جانور حرام نہیں، چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ہر قسم کے درندوں وغیرہ کے حرام ہونے کی وضاحت فرمادی ہے۔
77: اگر آدمی بھوک سے بےتاب ہو اور کھانے کے لئے کوئی حلال چیز میسر نہ ہو تو جان بچانے کے لئے ان حرام چیزوں میں سے کسی چیز کا کھانا بقدر ضرورت جائز ہوجاتا ہے۔ ان چیزوں کی ھرمت کا یہ حکم پیچھے سورة بقری کی آیت 73 اور سورة مائدہ کی آیت نمبر 3 میں بھی گذرا ہے، اور آگے سورة نحل کی آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
آیت ” نمبر 145 تا 146۔
” ابن جریر طبری لکھتے ہیں ” اللہ اپنے نبی سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں اے محمد ! ان لوگوں سے یہ کہہ دیں جنہوں نے اللہ کی پیدا کردہ فصلوں اور مویشیوں میں ایک حصہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا ہے اور ایک حصہ اپنے ان معبودوں کے لئے مخصوص کردیا ہے جو خود انہوں نے اللہ کے شریک قرار دیئے ہیں ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور یہ فصل اور لوگوں کے ممنوع ہے اور اسے صرف وہی لوگ استعمال کرسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم چاہیں یہ قانون وہ بزعم خود بناتے ہیں جو بعض جانوروں پر بار برداری کو حرام کرتے ہیں اور بعض جانور ایسے ہیں جن پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہیں سمجھتے ۔ وہ بعض جانوروں کے…
Read the full tafseer →2 یعنی اصلی حرمت تو ان چیزوں میں ہے جو اوپر مذکور ہوئیں، البتہ وقتی مصلحت سے بعض چیزیں عارضی طور پر بعض اقوام پر پہلے حرام کی جا چکی ہیں۔ مثلاً یہود پر ان کی شرارتوں کی سزا میں ہر ناخن (کھر) والا جانور جس کی انگلیاں پھٹی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ حرام کیا گیا تھا۔ نیز گائے بکری کی جو چربی پشت یا انتڑیوں پر لگی ہوئی ہو یا ہڈی کے ساتھ نہ ملی ہو ان پر حرام کردی گئی تھی جیسے گردہ کی چربی۔ بنی اسرائیل کا دعویٰ غلط ہے کہ یہ چیزیں ابراہیم نوح کے زمانہ ہی سے مستمر طور پر حرام چلی آتی ہیں سچی بات یہ کہ ان میں سے کوئی چیز عہد ابراہیمی میں حرام نہ تھی یہود کی نافرمانیوں اور شرارتوں کی وجہ سے…
Read the full tafseer →آیت 146 وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ج۔
کچھ جانوروں کے پاؤں پھٹے ہوئے ہوتے ہیں ‘ جیسے گائے ‘ بکری وغیرہ ‘ جب کہ کچھ جانوروں کا ایک ہی پاؤں کھر ہوتا ہے۔ ایسے ایک کھر والے جانور مثلاً گھوڑا ‘ گدھا وغیرہ یہودیوں پر حرام کردیے گئے تھے۔ جیسا کہ ہم پڑھ آئے ہیں ‘ یہودیوں پر جو چیزیں حرام کی گئیں تھیں ‘ ان میں سے بعض تو اصلاً حرام تھیں مگر کچھ چیزیں ان کی شرارتوں اور نا فرمانیوں کی وجہ سے بطور سزا ان کے لیے حرام کردی گئی تھیں۔
وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ شُحُوْمَہُمَآ اِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُوْرُہُمَآ اَوِ الْحَوَایَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
159 بنی اسرائیل پر حرام کردہ اشیائ :۔ حیوانی غذاؤں میں سے بنی اسرائیل پر حرام کردہ اشیاء کا بیان سورة آل عمران کی آیت نمبر 93 اور سورة نساء کی آیت نمبر 160 میں بھی بیان ہوا ہے۔ ان سب آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر یہی چیزیں، جو شریعت محمدی میں حرام ہیں بنی اسرائیل پر بھی حرام تھیں۔ سورة آل عمران میں فرمایا کہ ان بنیادی چیزوں کے علاوہ باقی تمام چیزیں بنی اسرائیل پر حلال تھیں۔ مگر وہ چیزیں جنہیں اسرائیل (سیدنا یعقوب) نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ اور تورات کے زمانہ نزول تک یہی صورت حال تھی۔ مگر بنی اسرائیل ان چیزوں کو بھی حرام ہی سمجھتے رہے جنہیں سیدنا یعقوب نے اپنی…
Read the full tafseer →223 ۔ (آیت) ” ذی ظفر “۔ ظفر کا اردو ترجمہ ایک لفظ سے کرنا مشکل ہے۔ پرندوں میں تو اس میں کل وہ پرند آجاتے ہیں، جن کے بجائے انگلیوں کے پنجے ہوتے ہیں، جیسے چیل، گدھ، باز، شکرا وغیرہ اور چرندوں میں وہ سارے جانور شامل ہیں جن کے سم ہوتے ہیں۔ مثلا گھوڑا، گدھا، خچر، اونٹ وغیرہ۔ وھو من البھائم والطیرمالم یکن مشقوق الاصابع (ابن جریر) قال عبداللہ بن مسلم انہ کل ذی مخلب من الطیر وکل ذی حافر من الدواب ثم قال کذالک قال المفسرون (کبیر) قال مجاھد وقتادۃ ذی ظفر مالیس بمتفرج الاصابع من البھائم والطیر (قرطبی) قال ابن عباس و سعید بن جبیر وقتادہ والسدی و مجاھد ھو کل مالیس بمفوتح الاصابع (جصاص) (آیت) ” الذین ھادو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–150
وعلی الذین۔۔۔۔ ذی ظفر (الآیۃ) سابق میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حرام صرف وہی چیزیں ہیں جن کو اللہ نے حرام کیا ہے کسی انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلال ٹھہرانے کا اختیار نہیں اس پر مشرکین مکہ نے یہ کہا کہ یہود جب چیزوں کو نہیں کھاتے اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا اسلئے ہم بھی وہ چیزیں نہیں کھاتے، پھر یہ بات کیونکر درست ہوسکتی ہے کہ انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلام ٹھہرانیکا اختیار نہیں ہے بلکہ اس وقت کے نبی کی معرفت ان کی سرکشی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اوپر حرام کردی تھیں یہ بات غلط ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →وعلی الذین ہادوا حرمنا کل ذی ظفر . اور یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے۔ یعنی جن جانوروں کی انگلیاں ہوتی ہیں جیسے اونٹ ‘ درندے اور پرندے۔ قتیبی نے کہا پرندوں میں سے ناخن والا وہ پرندہ ہے جس کا پنجہ ہوتا ہے اور چوپایوں میں سے ناخن والا وہ چوپایہ ہے جو ٹاپ والا ہوتا ہے قتیبی نے اس تشریح کی نسبت بعض اہل تفسیر کی طرف کی ہے۔ ٹاپ کو ناخن کہنا مجازاً ہے۔
شاید ظلم کی وجہ سے یہودیوں کے عموماً یہ تمام جانور حرام کردیئے گئے تھے ورنہ ان میں سے بعض جانوروں کی حرمت تو اسلام میں بھی ہے (اور یہ حرمت کسی جرم کی سزا کے طور پر نہیں ہے)
ومن البقر والغنم حرمنا علیہم شحومہما الا ما حملت…
Read the full tafseer →(146) اور یہود پر اس نے تمام شکاری پرندے اور درندے حرام کردیے تھے یا یہ کہ تمام ناخن والے جانور حرام کردیے تھے جیسا کہ اونٹ بطخ، مرغابی خوگوش وغیرہ اور گائے، بکری کی چربی ان پر حرام کردی تھی بجز اس چربی کے جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں پر ہو یا ہڈی سے لگی ہو وہ ان پر حلال تھی ان کے گناہوں کی وجہ سے بطور سزا کے ہم نے ان پر یہ حرام کردی تھی ،
Read the full tafseer →وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ۔۔ : ہر ناخن والے جانور سے مراد وہ جانور یا پرندہ ہے جس کی انگلیاں پھٹی ہوئی، یعنی الگ الگ نہ ہوں، مثلاً اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ، یعنی صرف وہ پرندے یا جانور حلال تھے جن کے پنجے کھلے ہوں۔
اَوِ الْحَوَايَآ : یہ ”حَوِیَّۃٌ“ کی جمع ہے جیسے ”عِطْیَۃٌ“ کی جمع ”عَطَایَا“ اور ”خِطْیَۃٌ“ کی جمع ”خَطَایَا“ ہے، یا یہ ”حَاوِیَۃٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”ضَارِبَۃٌ“ کی جمع ”ضَوَارِبٌ“ مطلب وہ انتڑیاں جن میں مینگنیاں ہوتی ہیں۔
ۭذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ ڮ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ : یعنی یہ چیزیں جس طرح اب شریعت محمدی ﷺ میں حرام نہیں ہیں، اس سے پہلے بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 146
اس میں چھ مسئلے ہیں
قولہ تعالیٰ : وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر جب اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جو اس نے حضور نبی مکرم ﷺ کی امت پر حرام فرمائیں تو اس سے پیچھے ان کا ذکر کیا جو اس نے یہودوں پر حرام کیں، کیونکہ اس میں ان کے اس قول کی تکذیب مقصود ہے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کوئی شی حرام نہیں کی، بلکہ ہم نے بذات خود اپنے اوپر ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے جنہیں بنی اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کیا تھا۔ اور ھادوا کا معنی سورة البقرہ میں پہلے گزر چکا ہے۔
اور یہ تحریم ان پر تھی جو یہودی بنے تھے بلاشبہ یہ پابندی ان پر بطور آزمائش اور سزا تھی پس ان پر جو چیزیں حرام کی گئیں ان میں سے…
Read the full tafseer →یہود پر چربی کھانا حرام تھا
(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ جانور ہے جو کھلی ہوئی انگلیوں والا نہ ہو۔ یعنی اس کی انگلیاں جدا جدا نہ ہوں۔ جیسے اونٹ اور شتر مرغ وغیرہ۔
(2) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر یعنی اونٹ اور شتر مرغ وغیرہ مراد ہیں۔
(3) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت حرمنا کل ذی ظفر کے بارے میں فرمایا کہ کہا جاتا تھا کہ وہ اونٹ اور شتر مرغ، پرندے اور…
Read the full tafseer →وَعَلَي الَّذِيْنَ [ اور ان لوگوں پر جو ] هَادُوْا [ یہودی ہوئے ] حَرَّمْنَا [ ہم نے حرام کیا ] كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ [ سب ناخن والے (جانوروں کو ) ] وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ [ اور گائے اور بکری میں سے ] حَرَّمْنَا [ ہم نے حرام کیا ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] شُحُوْمَهُمَآ [ دونوں کی چربی کو ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جس کو ] حَمَلَتْ [ اٹھایا ] ظُهُوْرُهُمَآ [ دونوں کی پیٹھوں نے ] اَوِ [ یا ] الْحَوَايَآ [ انتڑیوں نے ] اَوْ [ یا ] مَا [ وہ جو ] اخْتَلَطَ [ رم مل گئی ] بِعَظْمٍ ۭ [ کسی ہڈی سے ] ذٰلِكَ [ یہ ] جَزَيْنٰهُمْ [ ہم نے بدلہ دیا ] بِبَغْيِهِمْ ڮ [ ان کی سرکشی کا ] وَاِنَّا [ اور بیشک ہم…
Read the full tafseer →یہودیوں پر ان کی بغاوت کی وجہ سے بعض چیزیں حرام کردی گئی تھیں :
پھر بعض ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا جو یہودیوں پر حرام کردی گئی تھیں جو امت محمدیہ کے لیے حلال ہیں۔ ان حرام کردہ چیزوں میں اول تو وہ جانور تھے جو ناخن والے ہیں۔ ناخن والے جانوروں سے وہ جانور مراد ہیں جن کا پنجہ یا کھر پھٹا ہوا نہ ہو۔ جیسے اونٹ اور شتر مرغ، مرغابی اور بطخ۔
حضرت ابن عباس، حضرت سعید بن جبیر، حضرت قتادہ اور حضرت مجاہد نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ اونٹ کے بارے میں گزر چکا ہے کہ ملت ابراہیمیہ میں یہ حلال تھا پھر حضرت اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کو اپنے نفس پر حرام قرار دیدیا تھا پھر روایتی طور پر ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
تفصیل محرمات شرعیہ
قال اللہ تعالیٰ قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما۔۔۔ الی۔۔۔ ولا یرد بأسہ عن القوم المجرمین
(ربط) اوپر کی آیتوں میں ان حلال چیزوں کا بیان تھ اجن کو اہل جاہلیت اپنے خیال میں حرام سمجھتے تھے اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہے جن کو مشرکین عرب حلال سمجھتے تھے اور اللہ کے نزدیک وہ چیزیں حرام ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان سے کہدیجیے ان چیزوں کی حرمت کے بارے میں جن کی حرمت کو تم خدا کی طرف منسوب کرتے ہو میں اس وحی میں جو مجھ پر کی گئی ہے ان میں سے کسی چیز کو بھی کھانے والے پر جو اسے کھاوے حرام نہیں پاتا خواہ مرد ہو یا عورت مگر یہ کہ مردار ہو یا بہتا ہوا خوان ہر یا خنزیر کا گوشت ہو…
Read the full tafseer →163:۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر ان چیزوں کے علاوہ باقی تمام چیزیں حلال ہیں تو ہر ذی ظفر (کھر والا) جانور جس کی انگلیاں پھٹی ہوئی نہ ہوں اور گائے اور بکری کے بعض حصے یہود پر کیوں حرام کیے گئے تو اس کا جواب دیا گیا کہ ان چیزوں کی حرمت نہ سب کے لیے تھی نہ ابدی تھی۔ بلکہ یہ چیزیں تو صرف یہود پر بطور سزا حرام کی گئیں جیسا کہ فرمایا :۔ ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِبَغْیِھِمْ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ یعنی یہ چیزیں ہم نے ان پر ان کی سرکشی اور ان کے کفر وعناد کی سزا کے طور پر حرام کی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
ربط آیات :
غیر اللہ کی نیاز اور فعلی شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے گذشتہ درس میں چار بنیادی حرام چیزوں کا تذکرہ کیا۔ یہ چار چیزیں ہر دور میں انسانوں کے لیے حرام رہی ہیں اور وہ ہیں مردار ، بہتا ہوا خون ، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر نامزد کی جانے والی چیز جس سے اس کا تقریب اور خوشنودی مطلوب ہو۔ جو لوگ ایسی چیزوں کو استعمال کریں گے وہ جسمانی یا روحانی خرابیوں میں مبتلا ہوں ۔ گے چناچہ مردار کھانے سے انسان کی جسمانی نشوو نما خراب ہوتی ہے۔ بہتا ہوا خون زہریلے مادوں سے مرکب ہوتا ہے۔ اور جسمانی صحت کے لیے مضر ہے۔ اسی طرح خنزیر ایک نجس العین جانور ہے ، نجاست خور اور بےغیرت ہے لہٰذا اس کو…
Read the full tafseer →وَعَلَي الَّذِيْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ 0 ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْہِمْ شُحُوْمَہُمَآ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُہُوْرُہُمَآ اَوِ الْحَــوَايَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ 0 ۭ ذٰلِكَ جَزَيْنٰہُمْ بِبَغْيِہِمْ 0 ۡ ۖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ 146
هَادَ ( یہودی)
فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا
[ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه، ثم يشتقّ منه . نحو : قولهم تفرعن فلان، وتطفّل : إذا فعل فعل فرعون في الجور، وفعل طفیل في إتيان الدّعوات من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
1 ؎ یعنی قرآن 12 منہ
ترکیب : یطعمہ طاعم کی صفت محلا مجرور الا ان یکون استثناء ہے جنس سے اس کا موضع نصب ہے ای لا اجد محرماً الا المیتۃ بالنصب خبر ہے یکون کی اسم الماکول محذوف او وماء ولحم خنزیر اس پر معطوف اوفسقاء عطف ہے لحم خنزیر پر۔ بعض کہتے ہیں موضع الا ان یکون پر معطوف ہے اور فانہ رجس فاصل ہے اہل فسقا کی صفت ومن البقراء معطوف ہے کل پر اوالحوایا موضع نصب میں عطا علی ما السفح الصب وقیل السیلان ویستعمل لازما ومتعدیا و الفرق فی المصدر فی الاول المصدر السفوح وفی الثانی السفح۔ الحوایا الا معاء جمع حاویۃ کضاربۃ وضوارب وقیل جمع حاویاء مثل قاصعاء و قواصع وقیل جمع حویۃ۔
تفسیر : اب دوسرے طریق سے…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ج وَمِن الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ شُحُوْمَھُمَا اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُھُوْرُھُمَآ اَوْ الْحَوَایَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ط ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِبَغْیِھِمْ زصلے وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ۔ (الانعام : 146)
(اور جو یہودی ہوئے ان پر ہم نے سارے ناخن والے جانور حرام کیے اور گائے اور بکری کی چربی حرام کی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے وابستہ یا کسی ہڈی سے لگی ہوئی ہو یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی اور ہم بالکل سچے ہیں)
یہود پر ان کی سرکشی کی وجہ سے بعض جانور حرام کر دئیے گئے
تورات کے مطالعے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
فہم القرآن
ربط کلام : حرام و حلال کے عقلی، شرعی اور توحید کے دلائل دینے کے بعد نبی اکرم ﷺ کو وضاحت کے لیے مزید کہا جارہا ہے۔
اہل مکہ نے اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو ایک دوسرے کے لیے حرام قرار دے لیا تھا۔ جس کی سابقہ آیات میں نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق کو خود ساختہ شریعت کی وجہ سے اپنے آپ پر حرام کرلیا ہے وہ گمراہ ہوئے۔ پھر نباتات اور حیوانات کے حوالے سے توحید کے دلائل دیے جس میں یہ ثابت کیا گیا ان کے خالق کے علاوہ کسی کو حرام و حلال کے تعین کرنے کا حق نہیں۔ کفار نے من مرضی سے قانون بنا کر لوگوں کو یہ تاثر دیا تھا کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →یہود کی مخصوص محرمات کا بیان اور اس کا سبب :
آیت 146: وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍیعنی جن کی انگلیاں ہوتی ہیں یا پرندہ اس میں اونٹ اور شترمرغ بھی شامل ہے، وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ شُحُوْمَہُمَآ۔ یعنی ہم نے ہر ناخن والے جانور کا گوشت اور چربی حرام کردی اور اس کی ہر چیز۔ اور گائے اور بکری کی صرف چربی حرام کی گئی اور وہ پردے اور گردے کی چربی ہے۔ اِلاَّمَا حَمَلَتْ ظُہُوْرُہُمَآ مگر جو پشت پر ہو اور پہلو کے چھلکے کے ساتھ ہو۔ اَوِِ الْحَوَایَآ یا جو انتڑیوں پر لگی ہو حوایا کی جمع حاویا یا حویہ ہے۔ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ وہ دنبہ کی چکی۔ یا…
Read the full tafseer →تفسیر 146 (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر) مویشی اور پرندوں میں سے جس کی انگلیوں میں خلاء نہ ہو جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ۔
قتیبی (رح) فرماتے ہیں ہر پنجہ والا پرندہ اور کھر والا مویشی اور اس کو بعض مفسرین رحمہما اللہ سے نقل کیا ہے کھر کو ناخن کا نام دیا ہے استعارہ کی بناء پر۔
(ومن البقر والغنم حرمنا علیھم شحومھمآ اور گائے اور بکری میں سے حرام کی تھی ان کی چربی) یعنی پیٹ کی چربی اور وہ پروں کی چربی اور دونوں گردوں کی چربی ہے۔ (الا ماحملت ظھورھمآ) مگر وہ چربی جو پیٹ کے اندر پشت اور پہلو سے معلق ہو۔ (اوالحواباً ) اس کا واحد ” حاویۃ “ اور ” حویۃ “ ہے یعنی سمٹی ہوئی آنتوں پر جو چربی ہے۔ پر…
Read the full tafseer →اوپر ذکر تھا کہ حرام وہی چیز ہے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے حرام کیا کسی انسان کو کسی چیز کے حرام ٹھہرانے کا اختیار نہیں ہے اس پر قریش نے یہ اعتراض کیا کہ جو چیزیں یہود اب تک نہیں کھاتے ان کے نہ کھانے کا یہ سبب بتلاتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) نے وہ چزیں اپنے اوپر حرام ٹھہرائی تھیں اس لئے ہم لوگ بھی وہ چیزیں نہیں کھاتے پھر یہ بات کیونکر سچی ہوسکتی ہے کہ انسان کو کسی چیز کے حرام ٹھہرانے کا اختیار نہیں ہے۔ جو چیزیں یہود نہیں کھاتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر اس آیت میں فرما کر قریش کے اعتراض کا یہ جواب دیا کہ یہود نے جب کوئی گناہ کیا تو وقت بوقت اس گناہ کی سزا میں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
آیت 145
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر پر مشرکین کی مذمت کی کہ انہوں نے حلال کو حرام ٹھہرایا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا اور ان کے اس قول کا ابطال کیا تو اس نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح کردیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز ان پر حرام ٹھہرائی ہے تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حلال ہے اور جوئی کوئی اس کی تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ جھوٹا اور باطل پرست ہے، کیونکہ تحریم صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے توسط سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : (قل لا اجد فی ما اوحی الی محرماً علی طاعم یطعمہ) ” آپ کہہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
ناخن والے جانور
قول باری ہے (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی تھی ان پر ہم نے ناخن والے تمام جانور حرام کردیے تھے) تا آخر آیت۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن حبیر، قتادہ ، سدی اور مجاہد کا قول ہے کہ اس سے ہر وہ جانور مراد ہے جس کی انگلیاں کھلی نہیں ہوتیں مثلاً اونٹ، شتر مرغ، بطخ اور مرغابی وغیرہ۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ اس میں درندوں کی تمام قسمیں نیز کتے، بلیاں اور وہ تمام پرندے شامل ہیں جو اپنے ناخنوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ انبیاء سابقین کی زبان سے ان امتوں پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان چیزوں کی تحریم ثابت ہوچکی ہے۔ تحریم کا یہ حکم ہمارے…
Read the full tafseer →297 یہودی بن جانے والوں کیلئے مزید تنگی : یعنی یہاں پر " یہود " نہیں { الَّذِیْنَ ھَادُوْا } فرمایا گیا۔ یعنی وہ لوگ جو از خود یہودی بن گئے اور انہوں نے اسلام کی بجائے یہودیت کے نام سے ازخود ایک دین گھڑ لیا۔ جبکہ اللہ پاک کے یہاں دین صرف اسلام ہے { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الاِسْلام } اسی لئے ہم نے یہاں پر ترجمہ " یہودی بن گئے " کے الفاظ سے کیا۔ تاکہ یہ مفہوم واضح ہوجائے۔ اس لئے { اَلَّذِیْنَ ہَادُوْا } کا ترجمہ صرف " یہود " یا " یہودیوں " جیسے الفاظ سے کرنا، جیسا کہ عام اردو تراجم میں بالعموم پایا جاتا ہے اس لفظ کا اصل ترجمہ نہیں۔ اور اس سے آیت کریمہ میں وارد الفاظ کریمہ کی پوری اور…
Read the full tafseer →یہود پر حلال چیزوں کے حرام ہونے کی وجہ
تشریح : اس سے متعلقہ مضمون چوتھے پارے میں وضاحت سے گزر چکا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ رب العزت نے سزا کے طور پر کچھ حلال چیزیں یہود پر حرام کردی تھیں جو کہ مسلمانوں کے لیے حلال قرار دی گئیں یہ فرمان اس رب ذوالجلال کا ہے جو ہر طرح سے حق ہی حق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–151
رکوع نمبر 18 ۔ آیات نمبر 146 ۔ تا۔ 151
اسرار و معارف :
آپ انہیں فرما دیجیے کہ مجھے تو اللہ کریم نے وحی سے مشرف فرمایا ہے جو علم کا سب سے اعلی ذریعہ ہے مگر اس میں تمہاری خرافات کی تائید نہیں ملتی بلکہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ مردار حرام ہے یعنی وہ جانور جو مردار قرار دئیے گئے اور ذبح سے بھی حلال نہیں ہوتے یا وہ حلال جانور جو بغیر ذبح کے مر جائے یا پھر بہتا ہوا خون اور خنزیر حرام ہے کہ یہ سخت ناپاک ہے یا پھر اس جانور کا گوشت حرام ہے جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام پہ ذبح ہو اور حرام مرد عورت سب کے لیے برابر ہے سوائے اس کے کہ کوئی جان بچانے کے لیے اس قدر کھالے کہ موت سے بچ جائے پیٹ بھرنے یا لذت کے…
Read the full tafseer →ف 5 امت محمد یہ پر جو چیزیں حرام ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد اب یہود پر حرام کی ہوئی چیزوں کو طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے مقصد ان کی تردید ہے (قرطبی) کل ذی ظفر سے مراد ہر وہ جانور اور پرند ہے جس کی انگلیاں بھٹی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ بطخ وغیرہ، (روح المعانی) اور بعض نے اس سے سم درا چوپائے جیسے گھو ڑا گدھا وغیرہ) اور شکاری پر ندے سے مراد لیے ہیں جو پنجہ سے شکار کرتے ہیں۔ ّقرطبی)6 او بمعنی الواؤ۔ یعنی ان چار چیزوں کے علاوہ یہود پر یہ چیزیں بھی حرام کردی گئی تھیں7 یعنی یہ چیزیں جس طرح اب شریعت محمدی میں حرام نہیں ہیں اس سے پہلے بھی حرام نہ تھیں البتہ یہود یوں کو ان کی سرکشی کی سزا دینے کے…
Read the full tafseer →(6:146) ھادوا ماضی جمع مذکر غائب ھود مصدر (باب نصر) یہودی ہوئے یعنی جو یہودی ہیں ھود یہودیوں کی جماعت۔
ذی ظفر۔ جس کے نیچے ہوں۔ پنجہ والے شکار کرنے والے جانور۔ ظفر۔ ناخن۔ خواہ انسان کا ہو یا حیوان کا۔ لیکن آیۃ ہذا میں پنجہ والے شکاری جانور مرا د ہیں۔
الغنم۔ اسم جنس۔ بکری ۔ بکریاں۔
شحومھما۔ ان دونوں (گائے اور بکری) کی چربی۔ شخوم ۔ شحم کی جمع ہے۔
الحوایا۔ انتڑیاں۔ آنتیں۔ حویۃ کی جمع۔
اختلط بعظم۔ او اختلط بعظم۔ ای ما لصق بالعضام من الشحوم۔ وہ چربی جو ہڈیوں سے چمٹی ہوئی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
لغات القرآن : آیت نمبر 146 تا 147 :
ذی ظفر ( ناخن والا جانور) شحوم ( چربیاں) حملت (اٹھائے ہے) الحوایا ( حویۃ) انتڑیاں ‘ اختلط (مل گیا) عظم ( ہڈی) جزینا ( ہم نے بدلہ دیا) ‘ ببغیھم ( ان کی نافرمانی کی وجہ سے) ذورحمۃ ( رحمت والا) واسعۃ (وسعت والا۔ گنجائس والا) لا یرد باسہ ( اس کا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا) ۔
تشریح : آیت نمبر 146 تا 147 :
جن کافروں اور مشرکوں نے وحی جلی یا وحی خفی کی سند کے بغیر چند غذائیں اپنے اوپر حرام کرلی تھیں ان کو نصیحت ہے کہ : یہ جو کچھ تم نے خود بخود کرلیا ( یعنی حلال کو حرام کربیٹھے یا اس کے برعکس) یہ بھی اللہ کا عذاب ہے۔ تم نے جو قرآن وحدیث سے بغاوت کی ہے اور آپ اپنے شارع…
Read the full tafseer →کافروں کے عذر کا جواب
مطلب یہ ہے کہ یہود نے جب کوئی گناہ کیا تو وقتا فوقتا اس گناہ کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے نبی کی معرفت یہ چیزیں یہود پر حرام کی ہیں۔ چرندوں میں اونٹ اور پرندوں میں بطخ اور اسی طرح کے سب چرند وپرند یہود پر حرام تھے، اور گائے بکری کی انتڑیوں اور گردوں پر کی چربی بھی حرام تھی اور ہماری شریعت میں حلالا ہیں۔ پھر فرمایا اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–149
[15] مشرکین عرب کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ حلال کو حرام ٹھہراتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے یہ افعال اللہ کو پسند ہی نہیں بلکہ اس کی عین مرضی سے ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ استدلال اس غلط فہمی کی بنا پر تھا کہ اللہ کی مشیت اور اس کی رضا میں فرق نہیں کرتے تھے۔ مشیت الٰہی کی بنا پر انسان اپنے طریق عمل میں آزاد ہے، اچھی یا بری جو راہ چاہے اپنی پسند سے اختیار کرے لیکن رضائے الٰہی یہ ہے کہ انسان بدی کی راہ سے بچے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ کے پیغمبروں نے نیکی اور بدی کی راہیں بتلا دیں اور اعمال نیک و بد کے نتائج سے آگاہ کردیا۔ اس کے بعد بھی جن لوگوں نے دیدہ و دانستہ بری راہ…
Read the full tafseer →یہودیوں کی دشوار پسندی کا نتیجہ :
(ف 1) یہودیوں کی عادت تھی کہ وہ از خود بہت سی چیزیں ایجاد کرلیتے اور تقشدو زہد کے لئے بہت سی چیزوں کو ممنوع قرار دے لیتے ، اللہ تعالیٰ نے جب ان کے غلو کو دیکھا تو بطور تعزیر کے واقعی انکی منع کردہ چیزوں کو ممنوع قرار دے دیا ، تاکہ انہیں اپنی بیہودگی کا احساس ہو اور معلوم ہوا کہ اللہ کے دین کو مشکل بنانے میں خود کسی حد تک وہ مشکلات میں مبتلا ہوجائے گا ۔
Read the full tafseer →-146 اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ان یہود پر حرام کردی تھیں مگر ہاں وہ چربی اس حکم سے مستثنیٰ تھی جو ان دونوں کی پیٹھ پر یا ان دونوں کی آنتوں اور انتڑیوں میں لگی ہوئی ہو یا جو چربی ان کی ہڈی سے ملی ہوئی ہو یہ حرام کرنا ان یہود کو ان کی شرارت اور سرکشی کی وجہ سے سزا دی تھی اور یقینا ہم سچے اور راست گو ہیں یعنی ناخن والے جانوروں سے مراد وہ ہیں جن کے انگلیاں ہوں خواہ ان انگلیوں کے درمیان فرجہ ہو جیسے درندے مثلاً کتا بلی وغیرہ یا درمیان میں فرجہ نہ ہو جیسے شتر مرغ ، مرغابی اور ربط گائے اور بکری کی چربی بھی سوائے تین مقامات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–146
ف 2۔ یعنی جو واجب الذبح ہونے کے باوجود بلاذبح شرعی مرجائے۔
3۔ خنزیر کے سب اجزاء نجس اور حرام ہیں ایسانجس نجس العین کہلاتا ہے۔
4۔ اوپر جو مضمون مذکور تھا آگے اس کے متعلق ایک شبہ کا جواب ہے کہ مطعومات زیر بحث میں بجز مستثنیات مذکورہ کے سب کو حلال کہا گیا ہے حالانکہ بعض اہل کتاب سے معلوم ہوا کہ بعض اور حیوانات بھی حرام ہیں جواب یہ ہے کہ یہ تحریم صرف یہود کے لیے ایک عارض کی وجہ سے ہوئی تھی جواب منسوخ ہوگئی پس دعوی بحالہ صحیح اور اس کی نقیض بحالہ غلط ہے۔
Read the full tafseer →یہود کی سرکشیوں کی وجہ سے ان پر جو حرام کیا گیا وہ محض سزاء ً تھا :
225: زیر نظر آیت کا مضمون قرآن کریم میں تین مقامات پر بیان ہوا۔ ایک اس جگہ دوسرا سورة آل عمران کی آیت 93 میں اور تیسرا سورة النساء 160 میں اس لئے اس کی تشریح بھی عروۃ الوثقیٰ جلد دوم کے مذکورہ مقامات پر گزر چکی اس جگہ ارشاد فرمایا کہ ” یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گائے اور بکری سے ان کی چربی بھی حرام کردی تھی مگر وہ چربی نہیں جو ان جانوروں کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں میں ہو یا ہڈی کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ “ سورة آل عمران کی آیت 93 میں یہود کو چیلج کیا گیا تھا کہ ” اے پبرگا اسلام ! کہہ دو اگر تم لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–150
Commentary
Mentioned in the previous verses was how astray the disbelievers of Makkah had gone when they had taken their self-carved, lifeless, insensate idols as partners in the Divinity of Allah as they made them share in animals created by Him and in many other blessings which were bestowed on them. Their transgression went to the limits when they would take out charities from these blessings as an act of worship, setting aside a portion for Allah and another for their idols. Then, they would employ different excuses to take out what belonged to the portion set aside for Allah and put it…
Read the full tafseer →122. This is discussed at three places in the Qur'an. (Surah AI 'Imran 3:93) states: 'All food was lawful to the Children of Israel except what Israel made unlawful to themselves before the revelation of the Torah. Tell them: "Bring the Torah and recite any passage of it if you are truthful".' (Surah al-Nisa' 4:160) mentions that because of the misdeeds of the Children of Israel: 'We forbade them many clean things which had earlier been made lawful to them.' And now the present verse says that because of the transgression of the Jews, God forbade unto them 'all beasts with claws; and the fat…
Read the full tafseer →