مشرک ہو یا کافر توبہ کرلے تو معاف !
اب بھی اگر تیرے مخالف یہودی اور مشرک وغیرہ تجھے جھوٹا بتائیں تو بھی تو انہیں میری رحمت سے مایوس نہ کر بلکہ انہیں رب کی رحمت کی وسعت یاد دلاتا کہ انہیں اللہ کی رضا جوئی کی تبلیغ ہوجائے، ساتھ ہی انہیں اللہ کے اٹل عذابوں سے بچنے کی طرف بھی متوجہ کر۔ پس رغبت رہبت امید ڈر دونوں ہی ایک ساتھ سنا دے۔ قرآن کریم میں امید کے ساتھ خوف اکثر بیان ہوتا ہے اسی سورت کے آخر میں فرمایا تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور غفور و رحیم بھی ہے اور آیت میں ہے (اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّذُوْ عِقَابٍ اَلِيْمٍ) 43۔ فصلت :41 تیرا رب لوگوں کے گناہوں پر انہیں بخشنے والا بھی ہے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 123
یعنی اگر تم اب بھی اپنی نافرمانی کی روش سے باز آجاؤ اور بندگی کے صحیح رویہ کی طرف پلٹ آؤ تو اپنے رب کے دامن رحمت کو اپنے لیے کشادہ پاؤ گے لیکن اگر اپنی اسی مجرمانہ و باغیانہ روش پر اڑے رہو گے تو خوب جان لو کہ اس کے غضب سے بھی پھر کوئی بچانے والا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ (جن حیوانات میں کلام ہو رہا ہے ان کے متعلق) جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھاوے (خواہ مرد ہو یا عورت) مگر (ان چیزوں کو البتہ حرام پاتا ہوں وہ) یہ کہ وہ مردار (جانور) ہو، (یعنی جو باوجود واجب الذبح ہونے کے بلا ذبح شرعی مر جائے) یا یہ کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ (خنزیر) بالکل ناپاک ہے، (اس لئے اس کے سب اجزاء نجس اور حرام ہیں ایسا نجس نجس العین کہلاتا ہے) یا جو (جانور وغیرہ) شرک کا ذریعہ ہو (اس طرح) کہ (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو (سو یہ سب حرام ہیں)…
Read the full tafseer →فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ۔ اب یہ قریش اور بنی اسرائیل دونوں کو دھمکی ہے۔ پیغمبر کو خطاب کر کے فرمایا کہ اس ساری وضاحت کے بعد بھی اگر یہ تم پر ایمان نہ لائیں، بدستور تمہارے جھٹلانے ہی پر اڑے رہیں تو ان کو سنا دو کہ اللہ چونکہ بڑی وسیع رحمت والا ہے، وہ سرکشوں اور ہٹ دھرموں کو بڑی دور اور بڑی دیر تک ڈھیل دیتا ہے تاکہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا جائے، اس وجہ سے وہ تمہیں ڈھیل پر ڈھیل دے رہا ہے۔ اس ڈھیل سے مغرور نہ ہوجاؤ، ڈھیل بہر حال ڈھیل ہے۔ اس سے اللہ کی پکڑ کچھ پیچھے تو بیشک ہوجاتی ہے لیکن اس سے اس کی وہ سنت باطل نہیں ہوجاتی جو مجرموں کی پکڑ کے لیے اس نے…
Read the full tafseer →147۔ 1 اس لئے تکذیب کے باوجود عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔
147۔ 2 یعنی مہلت دینے کا مطلب ہمیشہ کے لئے عذاب الٰہی سے محفوظ ہونا نہیں ہے۔ وہ جب بھی عذاب دینے کا فیصلہ کرے گا تو پھر اسے کوئی ٹال نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →78: جھٹلانے والوں سے یہاں براہ راست تو یہودی مراد ہیں ؛ کیونکہ وہ اس بات کا انکار کرتے تھے کہ مذکورہ چیزیں ان پر ان کی سرکشی کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں، ضمناً اس میں مشرکین عرب بھی داخل ہیں جو قرآن کریم کی ہر بات کا انکار کرتے تھے، جس میں یہ بات بھی شامل تھی، دونوں فریقوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ اگر ان کے قرآن کو جھٹلانے کے باوجود ان پر کوئی فوری عذاب نہیں آرہا ہے ؛ بلکہ دنیا میں انہیں خوشحالی بھی میسر ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے عمل سے خوش ہے اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ اپنے باغیوں کو بھی رزق دیتا ہے اور خوشحالی سے نوازتا ہے…
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 147۔
اس کا دامن رحمت بہت وسیع ہے اور یہ رحمت ہمارے لئے بھی وسیع ہے اور اس سے پہلے کے مومنین کے لئے بھی وسیع تھی اور مومنین کے علاوہ تمام مخلوقات کے لئے بھی اس میں وسعت ہے کیونکہ وہ تو محسن ہے ۔ دوست کے لئے بھی رحیم ہے اور دشمن کے لئے بھی رحیم ہے ۔ اگر مجرم عذاب کے مستحق ہوں تو بھی وہ نفاذ عذاب میں جلدی نہیں کرتا اور یہ اس کی شان کریمی ہے اور اس ڈھیل کے عرصہ میں کئی لوگ توبہ کرلیتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن ان کا عذاب نہایت ہی سخت ہے ۔ صرف اس کا حلم ہی اسے اہل ایمان سے رد کرسکتا ہے ۔ اللہ کے نظام فضا وقدر میں جو وقت متعین ہے اس وقت تک ہی وہ مؤخر ہو سکتا ہے ۔
اس آیت میں…
Read the full tafseer →3 یعنی رحمت کی سمائی سے تم اب تک بچے ہو۔ نہ جانو کہ عذاب مل گیا۔ کذافی موضح القرآن۔
Read the full tafseer →آیت 147 فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ رَّبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ ج۔
یعنی اس جرم کی پاداش میں وہ تمہیں فوراً نہیں پکڑ رہا اور نہ فوراً معجزہ دکھا کر تمہاری مدت یا مہلت عمل ختم کرنے جا رہا ہے ‘ بلکہ اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ ابھی تمہیں مزید مہلت دی جائے۔
وَلاَ یُرَدُّ بَاْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔
جب اس کی طرف سے گرفت ہوگی تو اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ البروج کے مصداق یقیناً بڑی سخت ہوگی اور پھر کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اس گرفت کی سختی کو ٹال سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
159 بنی اسرائیل پر حرام کردہ اشیائ :۔ حیوانی غذاؤں میں سے بنی اسرائیل پر حرام کردہ اشیاء کا بیان سورة آل عمران کی آیت نمبر 93 اور سورة نساء کی آیت نمبر 160 میں بھی بیان ہوا ہے۔ ان سب آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر یہی چیزیں، جو شریعت محمدی میں حرام ہیں بنی اسرائیل پر بھی حرام تھیں۔ سورة آل عمران میں فرمایا کہ ان بنیادی چیزوں کے علاوہ باقی تمام چیزیں بنی اسرائیل پر حلال تھیں۔ مگر وہ چیزیں جنہیں اسرائیل (سیدنا یعقوب) نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ اور تورات کے زمانہ نزول تک یہی صورت حال تھی۔ مگر بنی اسرائیل ان چیزوں کو بھی حرام ہی سمجھتے رہے جنہیں سیدنا یعقوب نے اپنی…
Read the full tafseer →225 ۔ (جب اس عذاب کا وقت حکمت الہی اور مصلحت تکوینی کے ماتحت آجاتا ہے) توریت وانجیل کے حوالوں کے لیے ملاحظہ ہو انگریزی کی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ (آیت) ” فان کذبوک “۔ یہ اشارہ کن لوگوں کی طرف ہے ؟ سیاق سے تو یہود ہی مراد معلوم ہوتے ہیں۔ اور اکثر محققین بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ای الیھود کما قال مجاھد والسدی وھو الذی یقتضیہ الظاہر (روح) الظاھر عود الضمیر علی اقرب مذکور وھم الیھود (بحر) لیکن اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ اشارہ تمام مخالفین ومعاندین کے حق میں جامع سمجھا جائے۔ اور یہود ومشرکین اور ان کے اشباہ وامثال سب ہی مراد لیے جائیں۔ ای فان کذبوک یا محمد مخالفوک من المشرکین والیھود ومن شابھھم (ابن کثیر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–150
وعلی الذین۔۔۔۔ ذی ظفر (الآیۃ) سابق میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حرام صرف وہی چیزیں ہیں جن کو اللہ نے حرام کیا ہے کسی انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلال ٹھہرانے کا اختیار نہیں اس پر مشرکین مکہ نے یہ کہا کہ یہود جب چیزوں کو نہیں کھاتے اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا اسلئے ہم بھی وہ چیزیں نہیں کھاتے، پھر یہ بات کیونکر درست ہوسکتی ہے کہ انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلام ٹھہرانیکا اختیار نہیں ہے بلکہ اس وقت کے نبی کی معرفت ان کی سرکشی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اوپر حرام کردی تھیں یہ بات غلط ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →فان کذبوک فقل ربکم ذو رحمۃ واسعۃ . پس اگر وہ (یہودی) آپ کو جھوٹا کہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ یعنی آپ کے پاس جو وحی کے ذریعہ سے ہدایات بھیجی گئی ہیں اگر یہودی ان کی تکذیب کریں تو ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ بڑی وسیع رحمت والا ہے کہ باوجود تمہاری تکذیب کے اس نے تم کو ڈھیل دے رکھی ہے لیکن اللہ کے ڈھیل دینے سے تم فریب نہ کھا جانا وہ ڈھیل دیتا ہے چھوڑ نہیں دے گا (گرفت آخر میں ضرور کرے گا)
ولا یرد باسہ عن القوم المجرمین . اور (جب وقت آجائے گا تو) اس کا عذاب مجرموں سے لوٹایا نہیں جائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ مؤمنوں کے لئے وسیع رحمت والا اور تکذیب کرنے والوں کو سخت عذاب دینے…
Read the full tafseer →(147) اے محمد ﷺ تحریم وتحلیل کے متعلق جو کچھ آپ نے ان سے بیان کیا ہے اگر آپ کی وہ تکذیب کریں تو فرمادیجئے کہ تمہارا رب رحمت والا ہے نیک وبد سے عذاب کو موخر کرتا ہے تاہم اس کا عذاب مشرکوں سے نہیں ٹلے گا ،
Read the full tafseer →فَاِنْ كَذَّبُوْكَ۔۔ : یعنی اگر تم اب بھی نافرمانی کی روش چھوڑ کر حق کی سیدھی راہ اختیار کرلو تو اپنے رب کے دامن رحمت کو اپنے لیے کھلا پاؤ گے، لیکن اگر اپنی موجودہ روش پر اڑے رہے تو یہ مت سمجھو کہ اللہ کا عذاب تم پر سے ٹل گیا ہے، جب اس کا عذاب آتا ہے تو مجرموں اور سرکشوں کو کوئی چیز اس سے بچا نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ آیت کے پہلے حصے ”ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ ۚ“ میں ترغیب (شوق دلانا) ہے اور آخری حصہ ”وَلَا يُرَدُّ بَاْسُهٗ“ میں ترہیب (ڈرانا) ہے اور یہ قرآن کا خاص انداز نصیحت ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 147
قولہ تعالیٰ : آیت : فان کذبوک یہ شرط ہے اور جواب شرط یہ ارشاد گرامی ہے : آیت : فقل ربکم ذو رحمۃ واسعۃ یعنی اس نے اپنی رحمت کے وسیع ہونے کے سبب تم سے در گزر فرمائی اور تمہیں دنیا میں کوئی سزا دنہ دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کے بارے خبر دی جو اس نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے اور فرمایا : آیت : ولا یرد باسہ عنہ القوم المجرمین ( اور اس کا عذاب جرائم پیشہ قوم سے نہیں ٹالا جاسکتا ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے جب اللہ تعالیٰ دنیا میں عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمالے تو پھر جرائم پیشہ قوم سے اس عذاب کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فان کذبوک سے مراد ہیں یہودی (یعنی اگر آپ کو یہودی جھٹلائیں)
(2) امام ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہودی گوشت کے بارے میں کہتے تھے کہ اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اس کو حرام کیا تھا۔ اس لئے ہم بھی اس کو حرام کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت فان کذبوک فقل ربکم
Read the full tafseer →فَاِنْ [ پھر اگر ] كَذَّبُوْكَ [ اور جھٹلائیں آپ کو ] فَقُلْ [ تو آپ کہہ دیں ] رَّبُّكُمْ [ تم لوگوں کا رب ] ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ ۚ [ وسیع رحمت والا ہے ] وَ [ اور (یعنی مگر) ] لَا يُرَدُّ [ نہیں لوٹائی جائے ] بَاْسُهٗ [ اس کی سختی ] عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والے گروہ سے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا۔
(فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ رَّبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ ) یعنی اگر وہ آپ کی تکذیب کریں اور تکذیب کے لیے بہانہ بنائیں کہ اگر آپ سچے ہیں اور ہم مجرم ہیں تو ہم پر اللہ کا عذاب کیوں نہیں آتا تو آپ ان کو جواب دیں کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے وہ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہتا ہے عذاب بھیجتا ہے اس کی طرف سے سزا دینے میں ڈھیل دیے جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ تمہارا مواخذہ نہ ہوگا۔ جب اس کا عذاب آتا ہے تو وہ ٹالا نہیں جاسکتا۔ مجرمین جب گرفتار عذاب ہوتے ہیں تو ان کا چھٹکارا نہیں ہوتا۔
1 قیل جمع حاویۃ کزاویۃ وزاویۃ وزاویا ووزنہ فواعل۔ و اصلہ حواوی فقلبت الواو التیھی عین الکلمۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
تفصیل محرمات شرعیہ
قال اللہ تعالیٰ قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما۔۔۔ الی۔۔۔ ولا یرد بأسہ عن القوم المجرمین
(ربط) اوپر کی آیتوں میں ان حلال چیزوں کا بیان تھ اجن کو اہل جاہلیت اپنے خیال میں حرام سمجھتے تھے اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہے جن کو مشرکین عرب حلال سمجھتے تھے اور اللہ کے نزدیک وہ چیزیں حرام ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان سے کہدیجیے ان چیزوں کی حرمت کے بارے میں جن کی حرمت کو تم خدا کی طرف منسوب کرتے ہو میں اس وحی میں جو مجھ پر کی گئی ہے ان میں سے کسی چیز کو بھی کھانے والے پر جو اسے کھاوے حرام نہیں پاتا خواہ مرد ہو یا عورت مگر یہ کہ مردار ہو یا بہتا ہوا خوان ہر یا خنزیر کا گوشت ہو…
Read the full tafseer →164 یہ لوگ اللہ کے حکم پر مغرور ہیں اور تکذیب پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ آپ فرما دیں بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ لیکن اس کا عذاب بھی بڑا سخت اور اٹل ہوتا ہے جو کسی مجرم سرکش و معاند سے ٹل نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
ربط آیات :
غیر اللہ کی نیاز اور فعلی شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے گذشتہ درس میں چار بنیادی حرام چیزوں کا تذکرہ کیا۔ یہ چار چیزیں ہر دور میں انسانوں کے لیے حرام رہی ہیں اور وہ ہیں مردار ، بہتا ہوا خون ، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر نامزد کی جانے والی چیز جس سے اس کا تقریب اور خوشنودی مطلوب ہو۔ جو لوگ ایسی چیزوں کو استعمال کریں گے وہ جسمانی یا روحانی خرابیوں میں مبتلا ہوں ۔ گے چناچہ مردار کھانے سے انسان کی جسمانی نشوو نما خراب ہوتی ہے۔ بہتا ہوا خون زہریلے مادوں سے مرکب ہوتا ہے۔ اور جسمانی صحت کے لیے مضر ہے۔ اسی طرح خنزیر ایک نجس العین جانور ہے ، نجاست خور اور بےغیرت ہے لہٰذا اس کو…
Read the full tafseer →فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ 0 ۚ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ 147
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
ذو
ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث…
Read the full tafseer →2 ؎ یعنی اس کی رحمت جلد عذاب نازل ہونے سے روکے ہوئے ہے۔ آخر تو عذاب آوے گا ہی جو کسی کے روکے رکنے کا نہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ رَّبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ ج وَلَا یُرَدُّ بَاْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔
(الانعام : 147)
(پس اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرموں سے ٹالا نہ جاسکے گا)
مشرکین اور بنی اسرائیل کو دھمکی
اس آیت کریمہ میں مشرکین اور بنی اسرائیل کو صاف صاف دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تم اس بحث کے تمام گوشوں کے واضح ہوجانے کے بعد بھی راہ راست اختیار نہیں کرتے ہو اور تم برابر اللہ کے آخری رسول کو جھٹلاتے ہو تو پھر یاد رکھو تمہارا انجام اچھا نہیں ہوگا تمہیں غلط فہمی یہ ہے کہ تم نے اب تک جو کچھ کیا اس پر ہونا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
فہم القرآن
ربط کلام : حرام و حلال کے عقلی، شرعی اور توحید کے دلائل دینے کے بعد نبی اکرم ﷺ کو وضاحت کے لیے مزید کہا جارہا ہے۔
اہل مکہ نے اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو ایک دوسرے کے لیے حرام قرار دے لیا تھا۔ جس کی سابقہ آیات میں نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق کو خود ساختہ شریعت کی وجہ سے اپنے آپ پر حرام کرلیا ہے وہ گمراہ ہوئے۔ پھر نباتات اور حیوانات کے حوالے سے توحید کے دلائل دیے جس میں یہ ثابت کیا گیا ان کے خالق کے علاوہ کسی کو حرام و حلال کے تعین کرنے کا حق نہیں۔ کفار نے من مرضی سے قانون بنا کر لوگوں کو یہ تاثر دیا تھا کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ان کو تکذیب کی سزا ذرا ٹھہر کر ملے گی :
آیت 147: فَاِنْ کَذَّبُوْکَ اس میں جو آپ کی طرف قرآن کی وحی کی گئی۔ فَقُلْ رَّبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعۃٍ اس لئے کہ تکذیب کرنے والوں کو مہلت دیتا ہے اور ان کو جلد سزا نہیں دیتا۔ وَلَا یُرَدُّ بَاْسُہٗٗ اس کا عذاب اور اس کی وسعت رحمت کے ساتھ ساتھ ہیں۔ عَنِ الْقَومِْ الْمُجْرِمِیْنَ جب آجائے پس اس کی وسعت رحمت کو دیکھ کر عذاب سے بےخوف نہ ہونا چاہیئے۔
Read the full tafseer →تفسیر 147 (فان کذبوک فقل ربکم ذو رحمۃ واسعۃ) کہ تم سے عذاب کو مئوخر کردیا (ولا یرد باسہ) جب اس کا (عن القوم المجرمین) وقت آجائے گا۔
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں فرمایا تھا بعض حلال چیزیں یہود پر جو حرام ہوگئی ہیں وہ ان لوگوں کی سرکشی کی سزا میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے حرام ہوئی ہیں یعقوب (علیہ السلام) کے حرام ٹھہرانے سے حرام نہیں ہوئی اس آیت میں فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کے ان لوگوں کے دل جانتے ہیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی وہی سچی ہے اس پر ضد سے یہ لوگ تم کو جھٹلاویں تو ان سے کہہ دیا جاوے کہ یہ اللہ کی مہربانی کی سمائی کا سبب ہے جو تم لوگ باوجود سرکشی اور طرح طرح کے گناہوں کے اب تک عذاب الٰہی سے بچے ہوئے ہو لیکن یہ عادت الٰہی ہے کہ کثرت گناہوں کے سبب سے جب کسی گنہگار قوم پر عذاب آجاتا ہے تو پھر وہ نہیں ملتا صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ…
Read the full tafseer →آیت 147
یعنی اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے ان کو دعوت دیتے رہے اور ان کو آگاہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ (ذو رحمۃ واسعۃ) ” بےپایاں رحمت کا مالک ہے “ جو تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ لہٰذا اس کی رحمت کی طرف اس کے اسباب کے ذریعے سے سبق کرو۔ جس کی اساس اور بنیاد محمد مصطفیٰ ﷺ اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق ہے۔ (ولا یردباسہ عن القوم المجرمین) ” اور اس کا عذاب گناہ گاروں سے نہیں ٹالا جاتا “ یعنی جن کے جرائم اور گناہ بہت بڑھ گئے ہوں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے والے جرائم سے بچو، ان میں سب سے بڑا جرم محمد مصطفیٰ صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی تکذیب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
ناخن والے جانور
قول باری ہے (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی تھی ان پر ہم نے ناخن والے تمام جانور حرام کردیے تھے) تا آخر آیت۔ حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن حبیر، قتادہ ، سدی اور مجاہد کا قول ہے کہ اس سے ہر وہ جانور مراد ہے جس کی انگلیاں کھلی نہیں ہوتیں مثلاً اونٹ، شتر مرغ، بطخ اور مرغابی وغیرہ۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ اس میں درندوں کی تمام قسمیں نیز کتے، بلیاں اور وہ تمام پرندے شامل ہیں جو اپنے ناخنوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ انبیاء سابقین کی زبان سے ان امتوں پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان چیزوں کی تحریم ثابت ہوچکی ہے۔ تحریم کا یہ حکم ہمارے…
Read the full tafseer →299 اَعمال کا کسی قدر بدلہ اس دنیا میں بھی ملتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہم نے ان لوگوں کو بدلہ دیا تھا ان کی بغاوت و سرکشی کا اور بلاشبہ ہم قطعی طور پر سچے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ برائیوں کی کچھ نہ کچھ سزا انسان کو دنیا میں بھی ملتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اگرچہ پوری سزا آخرت ہی میں ملے گی۔ جیسا کہ نیکیوں کا پوراصلہ و بدلہ تو اگرچہ آخرت ہی میں ملے گا، مگر ان کا کچھ نہ کچھ صلہ وبدلہ انسان کو مختلف نعمتوں کی شکلوں میں اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی ۔ (رح) ۔ نے " جزاء الاعمال " کے نام سے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ اردو میں تالیف فرمایا ہے جس میں اس طرح کی بہت…
Read the full tafseer →مجرم سزا ضرور پائیں گے
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں کہ اگر کافر آپ کو جھوٹا کہیں، اس وجہ سے کہ ان پر عذاب کیوں نہیں آیا، آپ ایسے ہی دھمکیاں دے رہے ہیں تو ان کو اچھی طرح خبر کردیں کہ اللہ بڑا رحم کرنے والا ہے وہ بار بار تنبیہ کرتا ہے کہ گناہ سے باز آجاؤ تاکہ عذاب سے بچ سکو، اسی لیے وہ تمہیں مہلت دیتا ہے کہ شاید توبہ کرلو اور نیکی کی راہ اختیار کرلو تو تمہیں بخش دیا جائے گا ورنہ تو عذاب کا ملنا بالکل ضروری ہے یہ تو اس کی رحمت کی ہی وجہ ہے کہ برے لوگوں کو فوراً عذاب نہیں دیا جاتا بلکہ ان کو سوچنے کی مہلت دی جاتی ہے۔ بس یہی وجہ ہے ورنہ گناہ گاروں کو عذاب ضرور ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–151
رکوع نمبر 18 ۔ آیات نمبر 146 ۔ تا۔ 151
اسرار و معارف :
آپ انہیں فرما دیجیے کہ مجھے تو اللہ کریم نے وحی سے مشرف فرمایا ہے جو علم کا سب سے اعلی ذریعہ ہے مگر اس میں تمہاری خرافات کی تائید نہیں ملتی بلکہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ مردار حرام ہے یعنی وہ جانور جو مردار قرار دئیے گئے اور ذبح سے بھی حلال نہیں ہوتے یا وہ حلال جانور جو بغیر ذبح کے مر جائے یا پھر بہتا ہوا خون اور خنزیر حرام ہے کہ یہ سخت ناپاک ہے یا پھر اس جانور کا گوشت حرام ہے جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے نام پہ ذبح ہو اور حرام مرد عورت سب کے لیے برابر ہے سوائے اس کے کہ کوئی جان بچانے کے لیے اس قدر کھالے کہ موت سے بچ جائے پیٹ بھرنے یا لذت کے…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اگر تم اب بھی نافرمانی کی روز چھوڑ کر حق کی سیدھی راہ اختیار کرلو تو اپنے رب کے دامن رحمت کو اپنے لیے کشادہ پاو گے لیکن اگر اپنی موجودہ روش پر اڑے رہے تو یہ مت سمجھو کہ اللہ کا عذاب تم پر سے ٹل گیا ہے۔ جب اس کا عذاب آتا ہے تو مجرموں اروسر کشوں کو کوئی چیز اس سے نہیں بچاسکتی، یہ اللہ تعالیٰ کی ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ آیت کے حصہ ذو رحمتہ واسعتہ میں تر غیب ہے۔ اور آخری حصہ میں تر ہیب ہے اور یہ خا ص قرآن کا انداز نصیحت ہے۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(6:147) یرد۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب رد مصدر (باب نصر) لا یرد۔ نہیں لوٹا یا جائے گا۔
باسہ۔ اس کا عذاب۔ مضاف مضاف الیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
لغات القرآن : آیت نمبر 146 تا 147 :
ذی ظفر ( ناخن والا جانور) شحوم ( چربیاں) حملت (اٹھائے ہے) الحوایا ( حویۃ) انتڑیاں ‘ اختلط (مل گیا) عظم ( ہڈی) جزینا ( ہم نے بدلہ دیا) ‘ ببغیھم ( ان کی نافرمانی کی وجہ سے) ذورحمۃ ( رحمت والا) واسعۃ (وسعت والا۔ گنجائس والا) لا یرد باسہ ( اس کا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا) ۔
تشریح : آیت نمبر 146 تا 147 :
جن کافروں اور مشرکوں نے وحی جلی یا وحی خفی کی سند کے بغیر چند غذائیں اپنے اوپر حرام کرلی تھیں ان کو نصیحت ہے کہ : یہ جو کچھ تم نے خود بخود کرلیا ( یعنی حلال کو حرام کربیٹھے یا اس کے برعکس) یہ بھی اللہ کا عذاب ہے۔ تم نے جو قرآن وحدیث سے بغاوت کی ہے اور آپ اپنے شارع…
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ان لوگوں کے دل جانتے ہیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے وہی سچی ہے۔ اس پر ضد سے یہ لوگ تم کو جھٹلاویں تو ان سے کہہ دیا جاوے کہ یہ اللہ کی مہربانی کی سمائی کا سبب ہے جو تم لوگ باوجود سرکشی اور طرح طرح کے گناہوں کے اب تک عذاب الٰہی سے بچے ہوئے ہو۔ لیکن یہ عادت الٰہی ہے کہ کثرت گناہوں کی سبب سے جب کسی گنہگار قوم پر عذاب آجاتا ہے تو پھر وہ نہیں ٹلتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–149
[15] مشرکین عرب کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ حلال کو حرام ٹھہراتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے یہ افعال اللہ کو پسند ہی نہیں بلکہ اس کی عین مرضی سے ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ استدلال اس غلط فہمی کی بنا پر تھا کہ اللہ کی مشیت اور اس کی رضا میں فرق نہیں کرتے تھے۔ مشیت الٰہی کی بنا پر انسان اپنے طریق عمل میں آزاد ہے، اچھی یا بری جو راہ چاہے اپنی پسند سے اختیار کرے لیکن رضائے الٰہی یہ ہے کہ انسان بدی کی راہ سے بچے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ کے پیغمبروں نے نیکی اور بدی کی راہیں بتلا دیں اور اعمال نیک و بد کے نتائج سے آگاہ کردیا۔ اس کے بعد بھی جن لوگوں نے دیدہ و دانستہ بری راہ…
Read the full tafseer →(ف 2) مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو نہایت اور حد درجہ رحیم ہے وہ نہیں چاہتا ، اس کے بندے تنگی اور ضیق میں زندگی بسر کریں ، مگر جب وہ خود ہی اپنے لئے پابندیوں اور تکلیفوں کو انتخاب کرلیں ، تو وہ بطور سزا و عذاب کے انہیں مشکلوں میں مبتلا کردیتا ہے ، اور حقیقت میں جب دین اس حد تک پھیل جائے ، اور وسیع ہوجائے کہ ہر لمحہ رسوم و خرافات کی پیروی ضروری ہو ، بات بات میں سختی اور تکلیف کا سامنا ہو تو پھر یہ مذہب نوع انسانی کے لئے عذاب ہوجاتا ہے ۔
وہ لوگ جو دین کو بدعات کا مجموعہ خیال کرتے ہیں اور جنہوں نے بیحد رسمیں ایجاد کرلی ہیں ان کو دیکھو کس قدر مجبوری کی زندگی بسر کر کرتے ہیں ، سوسائٹی کے ڈر سے وہ…
Read the full tafseer →-147 پھر اے پیغمبر اگر اس تحلیل و تحریم کو بیان کرنے کے بعد بھی یہ یہود اور مشرکین آپ کی تکذیب کریں اور آپ کو جھٹلائیں تو آپ فرما دیجیے کہ تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے یعنی یہ اس کی وسعت رحمت ہے کہ نافرن اور گناہ گار بھی اس کی رحمت سے محروم نہیں ہیں اور باوجود تکذیب رسل کے عذاب میں جلدی نہیں ہوتی ہاں ! جو وقت عذاب کا مقرر ہے اسی وقت آئے گا اور گناہگار لوگوں سے اس کا عذاب جب آجائے گا تو ٹالے سے نہیں ٹلے گا اور آئے پیچھے واپس نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →ف 5۔ اس لیے بعض حکمتوں سے جلدی مواخذہ نہیں فرماتا۔
Read the full tafseer →اللہ کی رحمت بلاشبہ بےپایاں ہے لیکن مجرموں کو عذاب دینے کا فیصلہ بھی اسی کا ہے :
227: رحمت الٰہی کو حاصل کرنے کے لئے جو قانون اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے وہ تو یہی ہے کہ جو شخص اپنی نافرمانی کی روش سے باز آجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت فوراً اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے لیکن جو لوگ اپنی اس مجرمانہ وباغیانہ روش پر اڑے رہیں گے تو وہ بھی کان کھول کر سن لیں کہ ان کو اس کے غضب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ رحمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہٹ دھرموں اور حلت و حرمت میں بےجا دخل اندازی کرنے والوں کو فوراً دھر نہیں لیتا بلکہ اپنے قانون امہال کے تحت ان کو ڈھیل دیتا رہتا ہے جس کا اصل مدعا تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ سنبھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–150
Commentary
Mentioned in the previous verses was how astray the disbelievers of Makkah had gone when they had taken their self-carved, lifeless, insensate idols as partners in the Divinity of Allah as they made them share in animals created by Him and in many other blessings which were bestowed on them. Their transgression went to the limits when they would take out charities from these blessings as an act of worship, setting aside a portion for Allah and another for their idols. Then, they would employ different excuses to take out what belonged to the portion set aside for Allah and put it…
Read the full tafseer →123. If they could still give up their disobedience and return to the true service of God, they would find Him ready to embrace them with His mercy. But if they persisted, they should remember that no one could save them from His wrath.
Read the full tafseer →