Al-An'aam 6:145

Al-An'aam · from ayah 145

6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ ۚ— فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟‌قُل لَّاۤ اَجِدُ فِىۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطۡعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ مَيۡتَةً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ خِنۡزِيۡرٍ فَاِنَّهٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ‌‌ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "I do not find within that which was revealed to me [anything] forbidden to one who would eat it unless it be a dead animal or blood spilled out or the flesh of swine - for indeed, it is impure - or it be [that slaughtered in] disobedience, dedicated to other than Allah. But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit], then indeed, your Lord is Forgiving and Merciful."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 18 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:145

اے محمدؐ! ان سے کہو کہ جو وحی تمہارے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، الا یہ کہ وہ مُردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یاسور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں (کوئی چیز اِن میں سے کھا لے) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حد ضرورت سے تجاوز کرے، تو یقیناً تمہارا رب در گزر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وه مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وه بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیراللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہوجائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے واﻻ ہو تو واقعی آپ کا رب غفور و رحیم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : جو وحی مجھ پر نازل کی گئی ہے اس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا کسی کھانے والے کے لیے حرام ہو الا یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا سور کا گوشت ہو، کیونکہ وہ ناپاک ہے، یا جو ایسا گناہ کا جانور ہو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ ہاں جو شخص (ان چیزوں میں سے کسی کے کھانے پر) انتہائی مجبور ہوجائے جبکہ وہ نہ لذت حاصل کرنے کی غرض سے ایسا کر رہا ہو، اور نہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھے، تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام مگر یہ کہ مردار ہو یا رگوں کا بہتا خون یا بد جانور کا گوشت وہ نجاست ہے یا وہ بے حکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا تو جو ناچار ہوا نہ یوں کہ آپ خواہش کرے اور نہ یوں کہ ضرورت سے بڑھے تو بے شیک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے میں اس وحی میں، جو میری طرف کی گئی ہے، کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کہ بیشک وہ گندگی ہے، یا نافرمانی (کا باعث) ہو، جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو، پھر جو مجبور کردیا جائے، اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو بیشک تیرا رب بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : جو وحی میری طرف آئی ہے اس میں میں تو کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام کی گئی ہو الا یہ کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ وہ چیز اللہ کے سوا کسی اور کے نام سے مشہور کردی گئی ہو۔ ہاں جو شخص لاچار ہوجائے درآنحالیکہ وہ نہ تو (اللہ کے قانون کا) باغی ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ کھانے والا ہو (تو وہ اسے معاف ہے) کیونکہ آپ کا پروردگار بخش دینے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو میں تو اس وحی میں جو مجھ پر آئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز جس کو وہ کھائے ھرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون یا سور کا گوشت کہ یہ چیزیں بیشک ناپاک ہیں یا فسق کر کے اس کو غیر اللہ کے لیے نامزد کیا گیا ہو، اس پر بھی جو مجبور ہوجائے، نہ چاہنے والا بنے اور نہ حد سے بڑھنے والا تو تیرا رب بخشنے والا اور مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہہ دو کہ میں بہر حال کسی بھی چیز کو حرام نہیں پاتا اس وحی میں جو بھیجی گئی ہے میری طرف (میرے رب کی جانب سے) کسی بھی کھانے والے پر، جو اسے کھاتا ہو، مگر یہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون، یا سور کا گوشت کہ یہ نری نجاست ہے، یا وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، پھر بھی جو شخص مجبور ہوجائے (اور وہ کوئی چیز ان میں سے کھالے) بشرطیکہ نہ تو وہ لذت کا متلاشی ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو (اسے معاف ہے کہ) بیشک تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجے مجھ پر جو وحی آئی ہے اس میں تو میں (اور) کچھ نہیں حرام پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اسے کھائے سوا اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون کیا سؤر کا گوشت ہو کیوں کہ وہ (بالکل) گندہ ہے۔ یا جو فسق (کا ذریعہ) ہو غیر اللہ کے لئے نامزد کیا گیا۔ لیکن جو کوئی بیقرار ہوجائے اور طالب لذت نہ ہو نہ حد سے تجاوز کرے تو بیشک آپ کا پروردگار بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہہ دیجیے میں تو نہیں پاتا اس (قرآن) میں جو میری طرف وحی کیا گیا ہے کوئی چیز حرام کسی کھانے والے پر کہ وہ اسے کھاتا ہو سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا خون ہو بہتا ہوا یا خنزیر کا گوشت کہ وہ تو ہے ہی ناپاک یا کوئی ناجائز (گناہ کی) شے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو لیکن (ان صورتوں میں بھی اگر) کوئی مجبور ہوجائے نہ تو اس کے اندر ان کی طلب ہو اور نہ حد سے بڑھے تو یقیناً آپ کا رب بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے، حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا خون یا سؤر کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں۔ یا ناجائز جانور جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر مشہور کیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہوجائے لیکن نہ تو (اللہ کے قانون کا) باغی ہو اور نہ ہی حد سے باہر نکل جائے تو آپ کا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them (O Muhammad!): 'I do not find in what has been revealed to me anything forbidden for anyone who wants to eat unless it is carrion, outpoured blood and the flesh of swine, all of which is unclean; or that which is profane having been slaughtered in a name other than that of Allah. But whosoever is constrained to it by necessity - neither desiring to disobey nor exceeding the limit of necessity - your Lord is surely AllForgiving, All-Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :I do not find, in what has been revealed to me, anything (out of the cattle under discussion) prohibited for anyone who eats it, unless it be carrion or blood that pours forth, or flesh of swine - because it is impure - or there be an animal slaughtered sinfully by invoking on it the name of someone other than Allah. However, if anyone is compelled by necessity, neither seeking pleasure nor crossing the limit, then your Lord is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :I do not find, in what has been revealed to me, anything (out of the cattle under discussion) prohibited for anyone who eats it, unless it be carrion or blood that pours forth, or flesh of swine - because it is impure - or there be an animal slaughtered sinfully by invoking on it the name of someone other than Allah. However, if anyone is compelled by necessity, neither seeking pleasure nor crossing the limit, then your Lord is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "I find not in that which has been revealed to me anything forbidden to be eaten by one who wishes to eat it, unless it be Maytah (a dead animal) or blood poured forth, or the flesh of swine; for that surely, is unclean (Rijs), or immorally slaughtered in the name of other than Allah. But whosoever is forced by necessity without willful disobedience, nor transgressing due limits; (for him) certainly, your Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: I find not in that which is revealed unto me aught prohibited to an eater that he eat thereof, except it be carrion, or blood poured forth, or swineflesh - for that verily is foul - or the abomination which was immolated to the name of other than Allah. But whoso is compelled (thereto), neither craving nor transgressing, (for him) lo! thy Lord is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "I do not find within that which was revealed to me [anything] forbidden to one who would eat it unless it be a dead animal or blood spilled out or the flesh of swine - for indeed, it is impure - or it be [that slaughtered in] disobedience, dedicated to other than Allah. But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit], then indeed, your Lord is Forgiving and Merciful."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "I do not find anything which has been made unlawful to eat in what has been revealed to me except carrion, blood flowing from the body, pork [for pork is absolutely filthy] and the flesh of the animals slaughtered without the mention of the name of God. However, in an emergency, when one does not have any intention of rebelling or transgressing against the law, your Lord will be All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

Say: I do not find in that which has been revealed to me anything forbidden for an eater to eat of except that it be what has died of itself, or blood poured forth, or flesh of swine-- for that surely is unclean-- or that which is a transgression, other than (the name of) Allah having been invoked on it; but whoever is driven to necessity, not desiring nor exceeding the limit, then surely your Lord is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: I find not in that which hath been revealed unto me aught forbidden unto an eater that eateth thereof, except it be carcass, or blood poured forth, or flesh of swine, for that verily is foul, or an abomination over which is invoked the name of other than that of Allah. Then whosoever is driven thereto, neither lusting nor transgressing, verily thy Lord is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "I find not in the message received by me by inspiration any (meat) forbidden to be eaten by one who wishes to eat it, unless it be dead meat, or blood poured forth, or the flesh of swine,- for it is an abomination - or, what is impious, (meat) on which a name has been invoked, other than Allah's". But (even so), if a person is forced by necessity, without wilful disobedience, nor transgressing due limits,- thy Lord is Oft-forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:145

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال و حرام اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے بندے اور نبی حضرت محمد ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان کافروں سے جو اللہ کے حلال کو اپنی طرف سے حرام کرتے ہیں فرما دیں کہ جو وحی الٰہی میرے پاس آئی ہے اس میں تو حرام صرف ان چیزوں کو کیا گیا ہے، جو میں تمہیں سناتا ہوں، اس میں وہ چیزیں حرمت والی نہیں، جن کی حرمت کو تم رائج کر رہے ہو، کسی کھانے والے پر حیوانوں میں سے سوا ان جانوروں کے جو بیان ہوئے ہیں کوئی بھی حرام نہیں۔ اس آیت کے مفہوم کا رفع کرنے والی سورة مائدہ کی آئیندہ آیتیں اور دوسری حدیثیں ہیں جن میں حرمت کا بیان ہے وہ بیان کی جائیں گی، بعض لوگ اسے نسخ کہتے ہیں اور اکثر متأخرین اسے نسخ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 121 یہ مضمون سورة بقرہ آیت 73 اور سورة مائدہ آیت 3 میں گزر چکا ہے، اور آگے سورة نحل آیت 115 میں آنے والا ہے۔ سورة بقرہ کی آیت اور اس آیت میں بظاہر اتنا اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہاں محض ”خون“ کہا گیا ہے اور یہاں خون کے ساتھ مَسْفُوْح کی قید لگائی گئی ہے، یعنی ایسا خون جو کسی جانور کو زخمی کر کے یا ذبح کر کے نکالا گیا ہو۔ مگر دراصل یہ اختلاف نہیں بلکہ اس حکم کی تشریح ہے۔ اسی طرح سورة مائدہ کی آیت میں ان چار چیزوں کے علاوہ چند اور چیزوں کی حرمت کا بھی ذکر ملتا ہے، یعنی وہ جانور جو گلا گھونٹ کر یا چوٹ کھا کر یا بلندی سے گر کر یا ٹکر کھا کر مرا ہو یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو۔ لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 145–147

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ (جن حیوانات میں کلام ہو رہا ہے ان کے متعلق) جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھاوے (خواہ مرد ہو یا عورت) مگر (ان چیزوں کو البتہ حرام پاتا ہوں وہ) یہ کہ وہ مردار (جانور) ہو، (یعنی جو باوجود واجب الذبح ہونے کے بلا ذبح شرعی مر جائے) یا یہ کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ (خنزیر) بالکل ناپاک ہے، (اس لئے اس کے سب اجزاء نجس اور حرام ہیں ایسا نجس نجس العین کہلاتا ہے) یا جو (جانور وغیرہ) شرک کا ذریعہ ہو (اس طرح) کہ (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو (سو یہ سب حرام ہیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ الایہ۔ اب یہ نبی ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا ہے کہ ملت ابراہیم میں انعام میں سے کیا چیزیں حرام تھیں۔ اوپر کے مباحث سے یہ بات واضح ہے کہ یہاں مشرکین عرب کے ساتھ جو بحث چل رہی ہے وہ ملت ابراہیم ہی سے متعلق ہے اور یہ بحث بھی خاص کر چوپایوں سے متعلق ہے اس لیے کہ انہی میں بعض کو انہوں نے، جیسا کہ اوپر کے بیان سے واضح ہے، اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت حرام ٹھہرا رکھا تھا۔ موقع و محل کی یہ خصوصیت مقتضی ہے کہ اس اعلان کو اس مخصوص زاویہ ہی سے دیکھا جائے۔ جن لوگوں نے اس مخصوص موقع و محل سے ہٹا کر اس کو اسلام کے عام ضابطہ حلت و حرمت کی حیثیت دے دی ہے وہ اپنی اس غلط…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

145۔ 1 اس آیت میں جن چار محرمات کا ذکر ہے، اس کی ضروری تفصیل سورة بقرہ 173 کے حاشیہ میں گزر چکی ہے یہاں یہ نکتہ مزید قابل وضاحت ہے کہ ان چار محرمات کا ذکر کلمہ حصر سے کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چار قسموں کے علاوہ اور جانور بھی شریعت میں حرام ہیں، پھر یہاں حصر کیوں کیا گیا ؟ بات دراصل یہ ہے کہ اس سے قبل مشرکین جاہلانہ طریقوں اور ان کے بیان چلا رہا ہے۔ ان ہی میں بعض جانوروں کا بھی ذکر آیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر حرام کر رکھے تھے۔ امام شوکانی نے اس کی توجیہ اس طرح کی ہے اگر یہ آیت مکی نہ ہوتی تو پھر یقینا محرمات کا حصر قابل تسلیم تھا لیکن چونکہ اس کے بعد خود قرآن نے المائدہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 145–146

76: مطلب یہ ہے کہ جن جانوروں کو بت پرستوں نے حرام قرار دے رکھا ہے ان میں سے کسی جانور کے بارے میں مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ممانعت کا حکم ان چار چیزوں کے سوا نہیں آیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے جانوروں میں بھی کوئی جانور حرام نہیں، چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ہر قسم کے درندوں وغیرہ کے حرام ہونے کی وضاحت فرمادی ہے۔ 77: اگر آدمی بھوک سے بےتاب ہو اور کھانے کے لئے کوئی حلال چیز میسر نہ ہو تو جان بچانے کے لئے ان حرام چیزوں میں سے کسی چیز کا کھانا بقدر ضرورت جائز ہوجاتا ہے۔ ان چیزوں کی ھرمت کا یہ حکم پیچھے سورة بقری کی آیت 73 اور سورة مائدہ کی آیت نمبر 3 میں بھی گذرا ہے، اور آگے سورة نحل کی آیت…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 145–146

آیت ” نمبر 145 تا 146۔ ” ابن جریر طبری لکھتے ہیں ” اللہ اپنے نبی سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں اے محمد ! ان لوگوں سے یہ کہہ دیں جنہوں نے اللہ کی پیدا کردہ فصلوں اور مویشیوں میں ایک حصہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا ہے اور ایک حصہ اپنے ان معبودوں کے لئے مخصوص کردیا ہے جو خود انہوں نے اللہ کے شریک قرار دیئے ہیں ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور یہ فصل اور لوگوں کے ممنوع ہے اور اسے صرف وہی لوگ استعمال کرسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم چاہیں یہ قانون وہ بزعم خود بناتے ہیں جو بعض جانوروں پر بار برداری کو حرام کرتے ہیں اور بعض جانور ایسے ہیں جن پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہیں سمجھتے ۔ وہ بعض جانوروں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں " یعنی جن جانوروں کا کھانا دستور ہے ان میں سے یہ ہی حرام ہے۔ " اس آیت میں کفار کو یہ بتلانا ہے کہ جو چیزیں اوپر مذکور ہوئیں حلال تھیں جن کو تم نے حرام بنا لیا۔ اب وہ چیزیں بتلائی جاتی ہیں جو واقعی حرام ہیں اور تم ان کو حلال سمجھتے ہو۔ باقی مضمون آیت کی تفسیر و توضیح " سورة مائدہ کے شروع میں (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ ۔ الخ) 5 ۔ المائدہ :3) کے نیچے گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 145 قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ یہاں پھر وہ قانون دہرایا جا رہا ہے کہ شریعت میں کن چیزوں کو حرام کیا گیا ہے۔ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اس مردار کی قسمیں الْمُنْخَنِقَۃ ‘ الْمَوْقُوْذَۃ ‘ الْمُتَرَدِّیَۃ اور تفصیل سورة المائدۃ کی آیت 3 میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ یعنی جانور کسی بھی طرح سے مرگیا ہو وہ مردار کے زمرے میں شمار ہوگا۔ لیکن اگر مرنے سے پہلے اسے ذبح کرلیا جائے اور ذبح کرنے سے اس کے جسم سے خون نکل جائے تو اس کا کھانا جائز ہوگا۔ اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا یعنی ایک خون تو وہ ہے جو مذبوح جانور کے جسم کے سکیڑ اور کھچاؤ rigormortis کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

157 بنیادی طور پر کونسی اشیاء حرام ہیں ؟ یہی مضمون سورة بقرہ کی آیت نمبر 173 اور سورة مائدہ کی آیت نمبر 3 میں گزر چکا ہے۔ ان سب مقامات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر چار ہی چیزیں ہیں جو حرام ہیں۔ (1) مردار (2) خون (3) خنزیر کا گوشت اور (4) ہر وہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر مشہور کردی جائے۔ اس آیت میں یہ وضاحت مزید ہے کہ خون سے مراد وہ خون ہے جو ذبح کرتے وقت جانور کے جسم سے نکل جاتا ہے اور اگر کچھ تھوڑا بہت جسم میں رہ جائے تو وہ حرام نہیں اور سورة مائدہ کی آیت نمبر 3 میں مردار کی بھی بعض صورتیں بیان ہوئی ہیں یعنی خواہ وہ مردار گلا گھٹ کر مرا ہو یا چھڑی کی ضرب سے یا بلندی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

220 ۔ (اور اسی لیے اس کے گوشت کے علاوہ بھی دوسرے اجزاء مثلاکھال، چربی وغیرہ نجس اور حرام ہیں) (آیت) ” فانہ “۔ میں ضمیر خنزیر کی طرف ہے۔ ای اللحم او الخنزیر لانہ الاقرب ذکرا (روح) واستدل الشافعیۃ بقول سبحانہ فانہ رجس علی نجاسۃ الخنزیر بناء علی عود الضمیر علی خنزیر لانہ اقرب مذکور (روح) اذا احتمل للضمیر العود علی شیئین کان عودہ علی الاقرب ارجع (بحر) (آیت) ” فی ما اوحی الی “۔ یعنی ان جانوروں کے سلسلہ میں جو وحی مجھ پر آئی ہے، جن کی حلت و حرمت پر یہاں گفتگو ہورہی ہے، یہاں جن حرام چیزوں کا حصر کیا گیا ہے، ان سے مراد یہی ہے کہ تم اور چیزوں کو اپنی رائے وتجویز سے کہاں سے حرام ٹھہرائے لیتے ہو، وحی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 145 تا 150 ترجمہ : (اے محمد ﷺ ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس لائی گئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا کہ کسی کھانے والے پر حرام ہو اِلاَّ یہ کہ وہ مردار ہو (یکون) یاء اور تاء کے ساتھ (میتۃً ) نصب کے ساتھ ہے اور ایک قراء میں یاء تحتانیہ کے ساتھ ہے، یا بہایا ہوا خون ہو یعنی دم سائل بخلاف غیر سائل کے مثلاً جگر، اور تلّی، یا خنزیر کا گوشت اسلئے کہ وہ تو ناپاک حرام ہے یا فسق ہو جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہے، یعنی غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو، سو جو شخص مذکورہ چیزوں میں سے کسی چیز کی طرف مجبور ہوا اور اس نے ان میں سے کھالیا بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کرنے کا ارادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل لا اجد فی ما اوحی الی . آپ کہہ دیجئے میں نہیں پاتا ان ہدایات میں جو مجھے وحی کی گئی ہیں۔ اس جگہ وحی سے مراد صرف قرآن ہی نہیں بلکہ عام وحی مراد ہے۔ مشرکوں نے بحیرہ وغیرہ کی از خود تحریم کر رکھی تھی اللہ کے حکم کا ان کو علم نہ تھا ان کی تردید کے لئے اس آیت کا نزول ہوا اور تکمیل تردید اسی وقت ہوگی جب عام وحی مراد لی جائے کیونکہ کلام کی اصل غرض یہ ہے کہ تحریم تحلیل وغیرہ کا حکم وحی سے ہی معلوم ہوسکتا ہے اپنی طرف سے نہیں کیا جاسکتا۔ اجد : اس جگہ افعال قلوب میں سے ہے جو دو مفعول چاہتا ہے پہلا مفعول (طعاماً ) محذوف ہے اور دوسرا مفعول محرماً ہے یعنی میں کسی غذا کو حرام نہیں جانتا۔ محرما علی طاعم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(145) اس کے بعد مالک بن عوف کہنے لگا کہ آپ ہی بتائیے پھر ہمارے آباؤ اجداد نے ان کو کیوں حرام کیا ہے اور آپ کی بات کو میں سنتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ فرما دیجیے کہ میں قرآن کریم میں تو کسی کھانے والے کے لیے کوئی حرام غذا نہیں پاتا، البتہ مردار کا گوشت اور بہتا ہوا خون وغیرہ یہ قطعی حرام ہیں یا جو جانور وغیرہ شرک کا ذریعہ ہو عمدا غیر اللہ کے نامزد کیا گیا ہو۔ پھر بھی جو شخص مردار کے کھانے کے لیے بھوک سے بیتاب ہوجائے اور طالب لذت نہ ہو اور بغیر سخت ضرورت کے مردار کے گوشت کو حلال نہ سمجھتا ہو اور نہ اسلام کے راستے پر چھوڑنے والا یعنی باغی نہ ہو اور نہ دانستہ بغیر سخت حاجت کے مردار کا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ۔۔ : مردہ سے مراد ہر وہ حلال جانور ہے جو بغیر ذبح کیے طبعی طور پر یا حادثے سے (جس کی تفصیل مائدہ کی آیت 3 میں ہے) مرجائے یا شرعی طریقے کے خلاف ذبح کیا گیا ہو، مثلاً جان بوجھ کر تیز دھار آلے کی ایک ہی ضرب سے گردن جدا کردی جائے، یا سخت گرم پانی میں ڈبو کر مار دیا جائے، یا کرنٹ وغیرہ کے ذریعے سے غرض شرعی ذبیحہ یا شکار کے علاوہ سب مردار ہیں اور حرام ہیں۔ خون جو بہایا جائے، زندہ کا یا ذبیحہ کا، حرام ہے، البتہ جسم کے ساتھ لگا رہ جانے والا خون یا کلیجی اور تلی، بہایا ہوا خون نہ ہونے کی وجہ سے حلال ہیں۔ خنزیر کا گوشت کہ وہ گندگی ہے، یعنی صحت کے لحاظ سے بیشمار…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں چار مسائل ہیں مسئلہ نمبر۔ قولہٰ تعالیٰ : قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان چیزوں کے بارے میں بتایا ہے جو اس نے حرام قرار دی ہے۔ اور معنی یہ ہے : اے محمد ! ﷺ آپ فرمادیجئے جو ( کتاب) میری طرف وحی کی گئی ہے میں اس میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے ان چیزوں کے، نہ کہ وہ جنہیں تم اپنی مرضی سے حرام قرار دیتے ہو۔ یہ آیت مکی ہے۔ اس وقت شریعت میں سوائے ان چیزوں کے کوئی چیز حرام نہ تھی، پھر مدینہ طیبہ میں سورة المائدہ نازل ہوئی۔ اور محرمات میں اضافہ کیا گیا جیسا کہ المنخنقۃ ( گلا گھونٹنے سے مرا ہوا جانور) الموقوذۃ ( چوٹ سے مرا ہوا جانور) المتردیۃ ( اوپر سے نیچے گر کر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

حرام گوشت اور اجزاء (1) امام عبد بن حمید نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت والے لوگ کچھ چیزوں کو حرام کرلیتے تھے اور کچھ چیزوں کو حلال کرلیتے تھے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما (2) امام عبد بن حمید، ابو داؤد، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور حاکم نے (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جاہلیت والے کچھ چیزوں کو کھالیتے تھے اور کچھ چیزوں کو ناپاک اور غلیظ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا اپنی کتاب کو نازل فرمایا اس کے حلال چیزوں کو حلال قرار دیا۔ اور حرام چیزوں کو حرام قرار دیا۔ پس جس کو حلال کیا تو وہ حلال…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] لَّآ اَجِدُ [ میں نہیں پاتا ] فِيْ مَآ [ اس میں جو ] اُوْحِيَ [ وحی کیا گیا ] اِلَيَّ [ میری طرف ] مُحَرَّمًا [ حرام کیا ہوا ] عَلٰي طَاعِمٍ [ کسی کھانے والے پر ] يَّطْعَمُهٗٓ [ وہ کھاتا ہے جس کو ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] يَّكُوْنَ [ وہ ہو ] مَيْتَةً [ کوئی مردہ ] اَوْ [ یا ] دَمًا مَّسْفُوْحًا [ بہایا ہوا خون ] اَوْ [ یا ] لَحْمَ خِنْزِيْرٍ [ سور کا گوشت ] فَاِنَّهٗ [ پس بیشک یہ ] رِجْسٌ [ نجاست ہے ] اَوْ [ یا ] فِسْقًا [ ایسی نافرمانی ] اُهِلَّ [ (کہ ) پکارا گیا ] لِغَيْرِ اللّٰهِ [ غیر اللہ کیلئے ] بِهٖ ۚ [ جس پر ] فَمَنِ [ پھر جو ] اضْطُرَّ [ مجبور کیا گیا ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کیا کیا چیزیں حرام ہیں مشرکین عرب نے جانوروں کے کھانے پینے اور استعمال کرنے میں جو اپنی طرف سے تحریم و تحلیل کا معاملہ کرلیا تھا جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ہوچکا ہے۔ اس کی تردید فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میرے رب نے میری طرف جو وحی بھیجی ہے میں اس میں صرف ان چیزوں کو حرام پاتا ہوں۔ (اول): مردار (جو جانورخود اپنی موت سے مرجائے) (دوم): دم مسفوح یعنی بہنے والا خون (یہ قید اس لیے لگائی کہ ذبح شرعی کے بعد جو خون گوشت میں لگا رہ جاتا ہے اس کا کھانا جائز ہے۔ نیز تلی اور جگر کا کھانا جائر ہے، یہ دونوں اگرچہ خون ہیں لیکن منجمد ہونے کی وجہ سے دم مسفوح نہیں رہے) ۔ (سوم): خنزیر کا گوشت۔ اس کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 145–147

تفصیل محرمات شرعیہ قال اللہ تعالیٰ قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما۔۔۔ الی۔۔۔ ولا یرد بأسہ عن القوم المجرمین (ربط) اوپر کی آیتوں میں ان حلال چیزوں کا بیان تھ اجن کو اہل جاہلیت اپنے خیال میں حرام سمجھتے تھے اب ان آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہے جن کو مشرکین عرب حلال سمجھتے تھے اور اللہ کے نزدیک وہ چیزیں حرام ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان سے کہدیجیے ان چیزوں کی حرمت کے بارے میں جن کی حرمت کو تم خدا کی طرف منسوب کرتے ہو میں اس وحی میں جو مجھ پر کی گئی ہے ان میں سے کسی چیز کو بھی کھانے والے پر جو اسے کھاوے حرام نہیں پاتا خواہ مرد ہو یا عورت مگر یہ کہ مردار ہو یا بہتا ہوا خوان ہر یا خنزیر کا گوشت ہو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

162 یہ نذر غیر اللہ کا پانچویں بار ذکر ہے۔ اس آیت میں نذر غیر اللہ فِسْقًا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فِسْقًا کا مضاف محذوف ہے۔ جسے حذف کر کے اس کو اس کے قائم مقام کیا گیا ہے۔ ای ذات فسق اور یہ موصوف کو مقدر کی صفت ہے ای کلمۃ ذات فسق یعنی فسق و معصیت کا وہ کلمہ بھی حرام ہے۔ جس کے ذریعے غیر اللہ کی نذر مانی جائے۔ لہذا نذر غیر اللہ بطریق اولی حرام ہے۔ یہ تفسیر حضرت شیخ قدس سرہ کے قول کے مطابق ہے۔ دیگر مفسرین کے نزدیک اصل میں شیئًا فسقًا ہے اور اس کو عین فسق اس لیے قرار دیا کہ یہ فعل انتہائی فسق اور اللہ کی نافرمانی سے ناشی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انمحرمات کا کر فرمایا تھا جن کو مشرکین نے اپنے اعتقاد فاسد کے ساتھ مشرکہ نہ طریقے سے از خود حرام قرار دے رکھا تھا۔ اللہ نے ان باطل عقائد کی تردید فرمائی اور پھر مویشیوں میں سے آٹھ قسم کے مویشیوں کی حلت کا زکر کیا۔ اور فرمایا اگر تم ان میں سے بعض کو حرام سمجھتے ہو تو اس کے لیے کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش کرو۔ اور اگر اس کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ اور بغیر علم اور تحقیق کے لوگوں کو گمراہ کرنے والی بات ہے۔ ایسا کرنا بڑاظلم ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم کو کبھی صراط مستقیم کی طرف ہدیت نہیں کرتا اب آج کی دایت میں اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَيْرِ اللہِ بِہٖ۝ 0 ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ 145 وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 145–146

1 ؎ یعنی قرآن 12 منہ ترکیب : یطعمہ طاعم کی صفت محلا مجرور الا ان یکون استثناء ہے جنس سے اس کا موضع نصب ہے ای لا اجد محرماً الا المیتۃ بالنصب خبر ہے یکون کی اسم الماکول محذوف او وماء ولحم خنزیر اس پر معطوف اوفسقاء عطف ہے لحم خنزیر پر۔ بعض کہتے ہیں موضع الا ان یکون پر معطوف ہے اور فانہ رجس فاصل ہے اہل فسقا کی صفت ومن البقراء معطوف ہے کل پر اوالحوایا موضع نصب میں عطا علی ما السفح الصب وقیل السیلان ویستعمل لازما ومتعدیا و الفرق فی المصدر فی الاول المصدر السفوح وفی الثانی السفح۔ الحوایا الا معاء جمع حاویۃ کضاربۃ وضوارب وقیل جمع حاویاء مثل قاصعاء و قواصع وقیل جمع حویۃ۔ تفسیر : اب دوسرے طریق سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْدَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌاَوْفِسْقًا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہٖ ج فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (الانعام : 145) (کہہ دو میں تو اس وحی میں جو مجھ پر آئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز جس کو وہ کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہایا ہوا خون یا سور کا گوشت کہ یہ چیزیں بیشک ناپاک ہیں یا فسق کر کے اس کو غیر اللہ کے لیے نامزد کیا گیا ہو اس پر بھی جو مجبور ہوجائے نہ چاہنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 145–147

فہم القرآن ربط کلام : حرام و حلال کے عقلی، شرعی اور توحید کے دلائل دینے کے بعد نبی اکرم ﷺ کو وضاحت کے لیے مزید کہا جارہا ہے۔ اہل مکہ نے اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو ایک دوسرے کے لیے حرام قرار دے لیا تھا۔ جس کی سابقہ آیات میں نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق کو خود ساختہ شریعت کی وجہ سے اپنے آپ پر حرام کرلیا ہے وہ گمراہ ہوئے۔ پھر نباتات اور حیوانات کے حوالے سے توحید کے دلائل دیے جس میں یہ ثابت کیا گیا ان کے خالق کے علاوہ کسی کو حرام و حلال کے تعین کرنے کا حق نہیں۔ کفار نے من مرضی سے قانون بنا کر لوگوں کو یہ تاثر دیا تھا کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تحریم صرف وحی سے ہے : آیت 145: قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّاس وقت میں یا وحی قرآن میں کیونکہ وحی سنت میں اور بھی حرام کیے گئے۔ یا چوپائے مراد ہیں کیونکہ یہ آیت بحیرہ وغیرہ کی تردید کے سلسلہ میں ہے۔ باقی موقوذہ ٗ متردّیہٗ اور نطیحہ یہ میتہ کی ہی اقسام ہیں (جن کا تذکرہ سورة مائدہ میں ہے) اس آیت میں خبردار کردیا کہ تحریم اللہ تعالیٰ کی وحی اور تشریع سے ثابت ہوتی ہے۔ خواہش نفس سے نہیں۔ مُحَرَّمًا وہ حیوان جس کا کھانا حرام ہو۔ عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ کسی کھانے والے پر جو اس کو کھائے الَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً مگر یہ کہ وہ حرام شئی مردار ہو۔ قراءت : ان تکون شامی ٗ مکی ٗ حمزہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

-145 (قل لا اجد فی مآ اوحی الی محرماً ) مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ پھر کون سی چیز حرام ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (علی طاعم یطعمہ) جو وہ کھاتا اور کھلاتا ہے۔ (الا ان یکون میتۃ) (او دما مسفوحاً )” میتۃ “ ابن عامر اور ابو جعفر رحمہما اللہ نے یکون یاء کے ساتھ ” میتۃ “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی مگر یہ کہ وہ مردہ واقع ہو اور ابن کثیر اور حمزہ رحمہما اللہ نے ” تکون “ یاء کے ساتھ ” میتۃ “ زبر کے ساتھ اسم مئونث کی تقدیر پر ہے۔ یعنی مگر یہ کہ ہو نفس یعنی وہ جسم مردار اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ ” میتۃ “ زبر کے ساتھ۔ یعنی مگر یہ کہ وہ کھانا مردار ہو۔ ”’ ما مسفوحا “ یعنی بہایا ہوا بہنے والا یا بہتا ہوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

مشرکین مکہ نے شیطان کے بہکانے سے جو جانور اپنے اوپر حرام کر لئے تھے اس کا اوپر ذکر تھا اس آیت میں ان مشرکین کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ جن جانوروں کو تم لوگوں نے اپنی طرف سے حلال یا حرام ٹھہرا رکھا ہے انکا ذکر اللہ کے حکم میں کہیں نہیں پایا جاتا بلکہ میرے پاس جو اللہ کا حکم قرآن کے ذریعہ سے آیا ہے اس میں تم لوگوں کی رسموں کے برخلاف حکم ہے جس طرح مثلا مردہ جانور کو اور بتوں کے نام پر جو جانور ذبح کرتے ہو اس جانور کو اور جانور کے ذبح کرتے وقت جو خون بہتا ہے اس کو تم لوگ حلال گنتے ہو اور اللہ کے حکم میں یہ سب چیزیں حرام ہیں اسی طرح مثلا وہ سانڈھ جن کو بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 145–146

آیت 145 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر پر مشرکین کی مذمت کی کہ انہوں نے حلال کو حرام ٹھہرایا اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا اور ان کے اس قول کا ابطال کیا تو اس نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح کردیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز ان پر حرام ٹھہرائی ہے تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حلال ہے اور جوئی کوئی اس کی تحریم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے وہ جھوٹا اور باطل پرست ہے، کیونکہ تحریم صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے توسط سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : (قل لا اجد فی ما اوحی الی محرماً علی طاعم یطعمہ) ” آپ کہہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

حلال اور حرام جانوروں کی تفصیل قول باری ہے ( قل لا اجد فیما او حی الی محرما علی طاعم بصعمہ اے محمد ﷺ ! انسے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو) تا آخر آیت ۔ طائوس سے مروی ہے ک اہل جاہلیت یہت سی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے اور بہت سی اشیاء کو حرام۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( قل لا اجد فیما اوحی الی محرما) یعنی ان چیزوں میں سے جنہیں تم حلال سمجھتے تھے ( الا ان تکون میتتاً او دما مسفوحا او لحم خنزیر ۔ الا یہ کہ وہ مردار ہوں یا بہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو) تا آخر آیت ۔ مخاطبت کا سیاق اس مفہوم پر دلالت کرتا ہے جو طائوس سے مروی ہے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

292 محرمات الہیہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ میں کسی بھی چیز کو حرام نہیں پاتا اس وحی میں جو میری طرف کی گئی ہے میرے رب کی جانب سے سوائے ان چند چیزوں کے جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ یعنی چوپایہ جانوروں میں سے۔ یعنی یہ حصر حقیقی نہیں اضافی ہے۔ یعنی ان جانوروں کے اعتبار سے ہے جن کا گوشت وغیرہ بالعموم کھایا جاتا ہے اور جن کا ذکر وبیان اس سیاق وسباق میں کیا جارہا ہے۔ سو سیاق وسباق کے اس قرینے کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے بہت سے مفسرین کرام کو اس حصر کے بارے میں بہت الجھن پیش آئی کہ اشیائے محرمہ جب ان چند چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت سی ہیں تو پھر اس حصر کا کیا مطلب ؟ تو اس کے جواب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

حرام چیزیں تشریح : اللہ سبحانہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر رہے ہیں فرماتے ہیں اے رسول ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ چاروں چیزیں حرام ہیں۔ بہتا ہوا خون، مردار، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر مشہور کردیا جائے یا جس پر ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ سوائے مجبوری کی حالت میں جو کہ واقعی مجبوری ہو، نافرمانی کی وجہ نہ ہو۔ تو پھر اللہ مہربان ہے مجبوری کے عمل کو وہ معاف کردیتا ہے۔ اسی طرح کا مضمون سورة المائدہ کے پہلے رکوع میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 142–145

رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 ۔ تا ۔ 145: اسرار و معارف : غیر اللہ کے نام کی نذر کا ابطال : بتوں اور غیر اللہ کے نام پر مختص کرنے کی ضرورت تب پیش آتی جب ان میں سے کوئی تخلیق میں بھی حصہ دار ہوتا چیزوں کو پیدا کرنے میں اللہ نے اس سے مدد حاصل کی ہوتی لیکن ایسا تو ہرگز نہیں بلکہ وہ اکیلا خالق ہے اور سب کائنات مخلوق یہ اسی کی قدرت کاملہ ہے کہ بعض میوہ دار بیلیں بنا دیں جو بلندی پر چڑھتی ہیں اور جس قدر بلند ہوں اچھا پھل آتا ہے جیسے انگور اور بعض زمین پر پھیلتی ہیں اگر بلندی پہ چڑھا دو تو پھل ہی نہ آئے یا آئے تو بوجھ ہی برداشت نہ کرسکیں جیسے خربوزہ وغیرہ اور اسی زمین پر درخت اگا دئیے جو بیلوں سے یکسر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی ان جانوروں میں سے کسی کے حرام ہونے کا۔2 یعنی اسے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راسست کوئی علم حاصل ہو اہو اور نہ اس کے کسی رسول ﷺ کے واسطے سے مگر وہ غلط طور پر اللہ کا نام لے کر بعض چیزوں کو حلال اور بعض چیزوں کو حرام قرار دے اور اس طرح لوگوں کو گمراہ کرے، مطلب یہ یہ ہے کہ تم لوگوں سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے۔ (وحیدی)3 اوفسقا عطف علی لخم خنزیر وما بینھما اعتراض واحل لغیر اللہ بہ صفتہ مو ضحتہ اصل میں اھلال کے معنی اواز بلند کرنا کے ہیں یہاں مراد غیر اللہ کے پر کوئی جانور ذبح کرتا ہے جیسے بکرا شیخ سدو کا گا أ سید احمد کبیر کی مر غازین خاں کا تو شہ شاہ عبد الحق کا صخک بی بی فاطمہ کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:145) مسفوحا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ سفح مصدر (باب فتح) بہایا ہوا۔ بہتا ہوا۔ رجس۔ ناپاک ۔ پلید۔ گندہ۔ عذاب۔ بلا ۔ ارجاس۔ جمع۔ فانہ۔ میں ضمیر ہ لحم الخنزیر کی طرف راجع ہے۔ فسقا۔ اسم فعل۔ حالت نصب ۔ گناہ کی چیز۔ فسق کے معنی ہیں دائرہ شریعت سے نکل جانا عربی میں محاورہ ہے فسق الرطب عن قشرہ کھجور اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی۔ اوفسقا۔ یا ناپاک گوشت (یہاں چونکہ جانوروں کے گوشت کا ذکر ہو رہا ہے اس لئے فسق سے مراد وہ گوشت ہے جو نافرمانی کا سبب بن سکے یا گناہ کا موجب ہوسکے۔ یا ایسا کو کہ وہ شریعت کے احکام کے خلاف ہو) ۔ فسقا کا عطف ہے لحم الخنزیر پر اور فانہ رجس جملہ معترضہ ہے۔ اہل لغیر اللہ بہ فسق کی صفت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن : آیت نمبر 145 : لا اجد ( میں نہیں پاتا) محرما ( حرام کیا گیا) طاعم ( کھانے والا) دما مسفوحا ( بہتا ہوا خون) اھل (پکارا گیا۔ لیا گیا) غیر باغ (نافرمانی کا ارادہ نہ ہو) لاعاد (زیادتی کا ارادہ نہ ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 145 : یہ اسلام کا احسان ہے جس نے حرام اشیاء کی فہرست دے دی اور بقیہ تمام نعمتوں کو ہر مردوزن کے لئے حلال کردیا۔ اور وہ فہرست بھی مختصر ترین ہے۔ اور یہ حرام کی قید بھی انسان کی ذہنی اور جسمانی حفاظت کے لئے ہے۔ (1) مردار (2) خون جو جسم سے باہر نکل گیا ہو یا نکلنے والا ہو۔ (3) سور کا گوشت ‘ ہڈی چربی اور اس کی ہر چیز کیونکہ وہ تمام ناپاک ہے اور نجس عین ہے۔ (4) اللہ کے سوا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں مشرکین کو تنبیہ فرمائی کہ اے محبوب ﷺ ! تم ان سے کہہ دو کہ جن جانوروں کو تم نے اپنی طرف سے حلال یا حرام ٹھہرا رکھا ہے ان کا ذکر اللہ کا حکم قرآن کے ذریعہ جو آیا ہے وہ خلاف حکم ہے۔ مثلا مردہ جانور جو بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہو اور جو ذبح کرتے وقت خون بہتا ہے یہ سب حرام ہیں۔ اسی طرح وہ سانڈ جو بتوں کے نام پر چھوڑ دیا کرتے ہو، وہ اونٹ جس کے دل جھول بچوں کے پیدا ہوئے ہوں اور حرام نہیں۔ اور سور حرام ہے اور سور کا جسم ناپاک ہے۔ مردار میں سے دو مردار مچھلی اور ٹڈی او خون میں سے دو خون کلیجی اور تلی حلال ہیں۔ مسئلہ : ہے کہ جو شخص بھوک کے سبب سے ایسا عاجز اور بےبس ہوجائے کہ اس کو اپنی جان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 142–149

[15] مشرکین عرب کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ حلال کو حرام ٹھہراتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے یہ افعال اللہ کو پسند ہی نہیں بلکہ اس کی عین مرضی سے ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ استدلال اس غلط فہمی کی بنا پر تھا کہ اللہ کی مشیت اور اس کی رضا میں فرق نہیں کرتے تھے۔ مشیت الٰہی کی بنا پر انسان اپنے طریق عمل میں آزاد ہے، اچھی یا بری جو راہ چاہے اپنی پسند سے اختیار کرے لیکن رضائے الٰہی یہ ہے کہ انسان بدی کی راہ سے بچے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ کے پیغمبروں نے نیکی اور بدی کی راہیں بتلا دیں اور اعمال نیک و بد کے نتائج سے آگاہ کردیا۔ اس کے بعد بھی جن لوگوں نے دیدہ و دانستہ بری راہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حرام چیزیں کون کون ہیں ؟ (ف 1) اسلام نے بھی بعض چیزوں کو حرام اور ناقابل استعمال ٹھہرایا ہے ، مگر وہ محض وہم وظن کی بنا پر نہیں ، بلکہ علم وتجز کی روشنی مین ۔ مردار حرام ہے ، اس لئے کہ عہد وحشت کی یادگار سے ، کوئی مہذب اور شائستہ قوم مردار نہیں کھاتی ، اس لئے بھی کہ اس کے تعفن سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں خون بھی حرام ہے ، کیونکہ یہ بھی صحت کے لئے مضر ہے ، اور درندگی کی علامت ہے ، سؤر بھی حرام ہے کیونکہ اس کا کھانا جسم و روح دونوں کے لئے مضر ہے ، تشمم کے مرض کو پیدا کرتا ہے جس سے فوری موت بھی واقع ہوجاتی ہے ، اخلاق کے لئے بھی اس کا کھانا سخت نقصان دہ ہے اس سے غیرت جاتی رہتی ہے ، بتوں اور بزرگوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-145 اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ جو احکام مجھ پر بذریعہ وحی نازل ہوئے ہیں ان میں تو میں کوئی ایسی چیز حرام نہیں پاتا جس کو کوئی کھانے والا کھائے یعنی جن حیوانات کو تم حرام کہتے ہو ان میں سے کوئی حیوان یا جس کھیتی کو تم حرام کہتے ہو اس میں سے کوئی کھیتی اس وحی میں جو مجھ پر نازل ہوتی ہے ان میں سے کوئی بھی کھانے کے لائق چیز جس کو کوئی کھانا چاہے مجھ کو حرام نہیں ملتی اور جب قرآن میں ا ن کی حرمت و ممانعت کا حکم نہیں ہے تو معلوم ہوتا ہے تمہاری خانہ ساز باتیں اور تمہارا افترا ہے قرآن کریم نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں مگر ہاں قرآنی احکام کے بموجب وہ مرا ہوا جانور حرام ہے جو بغیر ذبح کے مرگیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 145–146

ف 2۔ یعنی جو واجب الذبح ہونے کے باوجود بلاذبح شرعی مرجائے۔ 3۔ خنزیر کے سب اجزاء نجس اور حرام ہیں ایسانجس نجس العین کہلاتا ہے۔ 4۔ اوپر جو مضمون مذکور تھا آگے اس کے متعلق ایک شبہ کا جواب ہے کہ مطعومات زیر بحث میں بجز مستثنیات مذکورہ کے سب کو حلال کہا گیا ہے حالانکہ بعض اہل کتاب سے معلوم ہوا کہ بعض اور حیوانات بھی حرام ہیں جواب یہ ہے کہ یہ تحریم صرف یہود کے لیے ایک عارض کی وجہ سے ہوئی تھی جواب منسوخ ہوگئی پس دعوی بحالہ صحیح اور اس کی نقیض بحالہ غلط ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس طرح کی حلت و حرمت تم کہتے ہو اس طرح کی کوئی چیز وحی الٰہی میں حرام نہیں : 223: ” رِجْسٌ “ ناپاک۔ پلید۔ گندہ۔ عقوبت۔ عذاب بلا ارجاس (ج) اس کی تین صورتیں ہیں : (1) ۔ طبیعت کی جہت سے۔ (2) ۔ عقل کی جہت سے۔ ( 3) ۔ شرع کی جہت سے۔ ان تینوں جہت سے رجس شرعی جوا اور شراب۔ رجس عقلی شرک اور لحم خنزیر۔ دونوں کا مجموعہ میتہ یعنی مردار اور اسی کو دوسری جگہ نجس کہا ہے اور ” نجس “ اور ” نجاسۃ “ (سمع ونصر) مراد ناپاک ، پلید ، حرام۔ وہ چیز جو عقائد واخلاق کے لحاظ سے ناپاک ہو گویا نجس ہونے سے مراد ہے غیر حسی نجس ہونا۔ ایسے نجس جن کی نجاست بصیرت سے معلوم ہوتی ہے بصر سے معلوم نہیں ہوتی جو ” حسی “ نجاست ہے ”…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 142–150

Commentary Mentioned in the previous verses was how astray the disbelievers of Makkah had gone when they had taken their self-carved, lifeless, insensate idols as partners in the Divinity of Allah as they made them share in animals created by Him and in many other blessings which were bestowed on them. Their transgression went to the limits when they would take out charities from these blessings as an act of worship, setting aside a portion for Allah and another for their idols. Then, they would employ different excuses to take out what belonged to the portion set aside for Allah and put it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

121. See for this (Surah al-Baqarah 2: 173), (Surah al-Md'idah 5: 3) and (Surah al-Nahl 16: 115.) The slight difference between this verse and (Surah al-Baqarah 2:173)is that whereas the latter mentions 'blood' as prohibited, the present verse qualifies it with 'outpoured', i.e. the blood which has flowed as a result of either injuring or slaughtering an animal. This, in fact, constitutes an elucidation of the former injunction rather than the revelation of a different one. Likewise,(Surah al-Ma'idah 5: 3)mentions the prohibition of certain other categories - animals strangled or killed by…

Read the full tafseer →