Explained with ayahs 141–142
مسائل زکوٰۃ اور عشر مظاہر قدرت
خالق کل اللہ تعالیٰ ہی ہے کھیتیاں پھل چوپائے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں کافروں کو کوئی حق نہیں کہ حرام حلال کی تقسیم از خود کریں۔ درخت بعض تو بیل والے ہیں جیسے انگور وغیرہ کہ وہ محفوظ ہوتے ہیں بعض کھڑے جو جنگلوں اور پہاڑوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں ایک دورے سے ملتے جلتے مگر پھلوں کے ذائقے کے لحاظ سے الگ الگ۔ انگور کھجور یہ درخت تمہیں دیتے ہیں کہ تم کھاؤ مزہ اٹھاؤ لطف پاؤ۔ اس کا حق اس کے کٹنے اور ناپ تول ہونے کے دن ہی دو یعنی فرض زکوٰۃ جو اس میں مقرر ہو وہ ادا کردو۔ پہلے لوگ کچھ نہیں دیتے تھے شریعت نے دسواں حصہ مقرر کیا اور ویسے بھی مسکینوں اور بھوکوں کا خیال…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 117
اصل میں لفظ فَرْش استعمال ہوا ہے۔ جانوروں کو فرش کہنا یا تو اس رعایت سے ہے کہ وہ چھوٹے قد کے ہیں اور زمین سے لگے ہوئے چلتے ہیں۔ یا اس رعایت سے کہ وہ ذبح کے لیے زمین پر لٹائے جاتے ہیں، یا اس رعایت سے کہ ان کی کھالوں اور ان کے بالوں سے فرش بنائے جاتے ہیں۔
سورة الْاَنْعَام 118
سلسلہ کلام پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ تین باتیں ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔ ایک یہ کہ یہ باغ اور کھیت اور یہ جانور جو تم کو حاصل ہیں، یہ سب اللہ کے بخشے ہوئے ہیں، کسی دوسرے کا اس بخشش میں کوئی حصہ نہیں ہے، اس لیے بخشش کے شکریہ میں بھی کسی کا کوئی حصہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرے یہ کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
خلاصہ تفسیر
اور وہی (اللہ پاک) ہے جس نے باغات پیدا کئے وہ بھی جو ٹیٹوں پر چڑھائے جاتے ہیں (جیسے انگور) اور وہ بھی جو ٹیٹوں پر نہیں چڑھائے جاتے (یا تو اس لئے کہ بیلدار نہیں جیسے تنہ دار درخت، یا باوجود بیلدار ہونے کے عادت نہیں، جیسے خربوزہ، تربوز وغیرہ) اور کھجور کے درخت اور کھیتی (بھی اس نے پیدا کئے) جو (انار انار) باہم (اور زیتون زیتون باہم رنگ و مزہ و شکل و مقدار میں سے بعض صفات میں کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور (کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے (اور اللہ نے ان چیزوں کو پیدا کرکے اجازت دی ہے کہ) ان سب کی پیداوار کھاؤ (خواہ اسی وقت سے سہی) جب وہ نکل آوے (اور پکنے بھی نہ پاوے)…
Read the full tafseer →وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّفَرْشًا۔ حمولۃ، رکوبہ اور حلوبہ کے وزن پر ہے اور اس سے مراد وہ چوپائے ہیں جو سواری اور بار برداری کے لیے موزوں ہیں۔ مثلاً اونٹ، گھوڑے، خچر وگیرہ، الابل التی تحمل کل ماتحتمل علیہ القوم من بعیر، حمار و نحوہ
الفر، اس زمین کو بھی کہتے ہیں جہاں نباتات کی کثرت ہو۔ اس کھیتی کو بھی کہتے ہیں جو ابھی اپنے ڈنٹھلوں پر کھڑی نہ ہوئی ہو اور حیوانات کے تعلق سے یہ لفظ آئے تو اس سے مراد وہ چھوٹے جانور ہوتے ہیں جو سواری یا باربرداری کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ صرف ذبح یا دوسری ضروریات ہی کے لیے موزوں ہیں مثلا بکریاں، بھیڑیں وغیرہ۔ قرینہ دلیل ہو تو اس میں چھوٹے اونٹ اور گائے بیل بھی…
Read the full tafseer →142۔ 1 حُمُولَۃً (بوجھ اٹھانے والے) مراد اونٹ، بیل، گدھا خچر وغیرہ ہیں، جو بار برداری کے کام آتے ہیں اور فَرْشًا سے مراد زمین سے لگے ہوئے جانور، جیسے بکری وغیرہ جس کا دودھ پیتے ہو گوشت کھاتے ہو۔
142۔ 2 یعنی پھلوں کھیتوں اور چوپایوں سے۔ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انکو تمہاری خوراک بنایا ہے۔
142۔ 3 جس طرح مشرکین اس کے پیچھے لگ گئے اور حلال جانوروں کو بھی اپنے اوپر حرام کرلیا گویا اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام یا حرام کو حلال کرلینا، یہ شیطان کی پیروی ہے۔
Read the full tafseer →74: زمین سے لگے ہوئے ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ان کا قد چھوٹا ہوتا ہے، جیسے بھیڑ بکریاں، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کی کھال زمین پر بچھانے کے کام آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
آیت ” نمبر 141 تا 142۔
اللہ وہ ذات ہے جس نے ابتداء ان باغات کو پیدا کیا لہذا وہی ہے جو ایک مردہ سے زندہ چیز کو نکالتا ہے ۔ ان باغوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو تاکستان کی شکل کے ہیں اور انسان انہیں اگاتا ہے ۔ اور ان کے اردگرد باڑ لگاتا ہے اور کچھ نخلستان کی شکل کے ہیں ۔ جو خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور ان کو انسان کی جانب سے کسی قسم کی اعانت کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ اور فصلیں اس نے اگائیں ۔ زیتون اور انار اس نے پیدا کیے اور قسم قسم کے پھل ہیں جو ملتے جلتے بھی ہیں اور جدا جدا بھی ہیں ۔ پھر حیوانات بھی اس نے پیدا کیے جن میں سے بعض اونچے قد کے ہیں اور کچھ چھوٹے جسم کے ہیں اور وہ تمہارے کھانے کے لئے اور…
Read the full tafseer →2 بوجھ اٹھانے والے جیسے اونٹ وغیرہ اور زمین سے لگے ہوئے چھوٹے قدو قامت کے جانور جیسے بھیڑ بکری۔
3 اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے منتفع ہونا چاہئے۔ شیطان کے قدموں پر چلنا یہ ہے کہ ان کو خواہی نخواہی بدون حجت شرعی کے حرام کرلیا جائے یا شرک و بت پرستی کا ذریعہ بنا لیا جائے۔ شیطان کی اس سے زیادہ کھلی ہوئی دشمنی کیا ہوگی کہ ان نعمتوں سے تم کو دنیا میں محروم رکھا اور آخرت کا عذاب رہا سو الگ۔
Read the full tafseer →آیت 142 وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّفَرْشًا ط
حَمُوْلَۃ وہ جانور ہیں جو قد کاٹھ اور ڈیل ڈول میں بڑے بڑے ہیں اور جن سے باربرداری کا کام لیا جاسکتا ہے ‘ مثلاً گھوڑا ‘ خچر ‘ اونٹ وغیرہ۔ ان کے برعکس کچھ ایسے جانور ہیں جو اس طرح کی خدمت کے اہل نہیں ہیں اور چھوٹی جسامت کی وجہ سے استعارۃً انہیں فرش زمین سے منسوب کیا گیا ہے ‘ گویا زمین سے لگے ہوئے ہیں ‘ مثلاً بھیڑ ‘ بکری وغیرہ۔ یہ ہر طرح کے جانور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے ہیں۔
Read the full tafseer →154 حمولہ کے معنی باربر دار جانور جیسے اونٹ، بیل، گھوڑا، گدھا وغیرہ اور فرشاً بمعنی پست قد جانور جیسے بھیڑ بکری وغیرہ۔ ان میں سے حلال جانوروں کا گوشت کھا بھی سکتے ہو۔ اور شیطان کے قدموں پر چلنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی حلت و حرمت اور ان کے کھانے یا نہ کھانے کے متعلق تم خود ہی اپنی طرف سے ضابطے نہ بنا ڈالو۔ جیسا کہ مشرکین مکہ کے بارے میں ایسی کئی صورتیں مذکور ہوچکی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام اور ان کے کھانے یا نہ کھانے پر پابندیاں عائد کرنے والے اور ایجاد کرنے والے سب لوگوں کو شیطان قرار دیا ہے اور ایسے لوگوں کی باتیں ماننے والوں کو شیطان کے پیروکار۔
Read the full tafseer →215 ۔ (کہ جس چیز کو چاہا اپنے دل سے حرام کرڈالا، اپنے دل سے حلال ٹھہرالیا) ای فی التحلیل والتحریم من عند انفسکم کما فعلہ اھل الجاھلیۃ (کبیر) ذکر شرک کی انہی صورتوں کا ہورہا ہے، جو عرب میں عام طور پر رائج تھیں۔ (آیت) ” مما رزقکم اللہ “۔ اشارہ یہ کردیا کہ یہ جانور بھی صرف اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے، اللہ ہی کے عطیہ ہیں۔ کسی دیوی، دیوتا کے نہیں۔ جو تم انہیں خواہ مخواہ شریک کیے لیتے ہو۔ رزق سے مراد حلال ہی جانور ہیں۔ یرید ما احلھا لکم (کبیر) جانوروں کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے جیسا باغ اور زراعت کا تھا۔ (آیت) ” حمولۃ وفرشا “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ وانشاحمولۃ وفرشامن الانعام (قرطبی) وھو الذی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–144
آیت نمبر 141 تا 144
ترجمہ : اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے بیلدار زمین پر پھیلنے والے بھی مثلاً خربوزہ (وغیرہ) اور تنے دار بھی جوتنے پر قائم ہوتے ہیں مثلاً کھجور کے درخت (وغیرہ) اور کھجور اور کھیتی پیدا کیں کہ اس کے پھل اور دانے ہیئت (شکل) اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں اور زیتون اور انار (پیدا کئے) کہ جن کے پتے ملتے جلتے اور ان کا مزہ الگ الگ ہوتا ہے پھل لگنے کے بعد پکنے سے پہلے کھاؤ (اور بعد بھی) اور اس کی کٹائی کے وقت اس کا حق زکوۃ ادا کرو (حِصَاد) فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے، (مراد) عشر یا نصف عشر ہے اور (انفاق میں) اسراف نہ کرو کہ کل پیداوار دے ڈالو، کہ تمہاری عیال کیلئے کچھ بھی باقی نہ رہے،…
Read the full tafseer →ومن الانعام حمولۃ وفرشا کلوا مما رزقکم اللہ ولا تتبعوا خطوات الشیطن انہ لکم عدو مبین . اور مویشیوں میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے جو کچھ اللہ نے تم کو دیا
ہے کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو بلاشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
حمولۃ : سواری یا باربرداری کے جانور جیسے اونٹ بیل۔ فرشاً : وہ پست قد چھوٹے جانور جو سواری یا باربرداری کے کام میں نہیں آتے جیسے بھیڑ ‘ بکری اور اونٹ اور گائے کے بچے۔ کلوا : میں امر اباحت کے لئے ہے یعنی کھا سکتے ہو کھانے کی اجازت ہے مما : میں من : تبیعضیہ ہے کیونکہ اللہ نے جو رزق دیا ہے وہ سب تو نہیں کھایا جاسکتا۔ شیطان کی پیروی نہ کرو کا یہ مطلب ہے کہ شیطانی راستہ پر نہ چلو…
Read the full tafseer →(142) اور اس نے کچھ ایسے مویشی پیدا کیے جن سے بار برداری کا کام نکالا جاتا ہے، جیسے اونٹ اور بیل اور کچھ مویشی ایسے پیدا کیے جو بار برداری کے کام نہیں آتے، مثلا بکری وغیرہ، سوکھیتی، اور مویشی میں سے کھاؤ اور شیطانی وساوس سے کھیتی اور مویشی کو اپنے اوپر مت حرام کرو، وہ تمہارا صریح دشمن ہے جو کھیتی اور مویشی کے حرام کرنے کی تمہیں ترغیب کرتا ہے۔
Read the full tafseer →وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّفَرْشًا : ”حَمُوْلَةً“ جن پر بوجھ لادا جاتا ہے، مثلاً اونٹ اور بیل اور ”فَرْشًا“ سے مراد زمین سے لگے ہوئے، جیسے بھیڑ اور بکری۔ (موضح) جیسا کہ اگلی آیات میں ان کی تصریح ہے۔ بیل کی پشت پر اگرچہ بوجھ نہیں لادا جاتا مگر وہ بہت بھاری بوجھ کھینچ کرلے جاتے ہیں، اسے بھی بوجھ لادنا کہہ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کھیت اور چوپائے جو تمہیں عطا کیے ہیں تمہارے لیے حلال ہیں، انھیں کھاؤ اور شیطان کی پیروی مت کرو، جس کے بہکانے پر جاہل مشرکوں نے ان میں سے کئی قسموں کو حرام کر رکھا ہے، جیسا کہ اوپر گزرا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 142
قولی تعالیٰ : آیت : ومن الانعام حمولۃ وفرشا اس کا قبل پر عطف ہے، یعنی وانشاء حمولۃ وفرشا من الانعام ( یعنی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے مویشوں میں سے بعض بوجھ اٹھانے کے لیے اور بعض زمین پر لٹا ذبح کرنے کے لیے) اور الانعام کے بارے میں علما کے تین اقوال ہیں :
(1) انعام سے مراد صرف اونٹ ہیں، عنقریب اس کا بیان سورة النحل میں آئے گا۔
(2) کہ انعام کا اطلاق اکیلے اونٹ پر ہے اور جب اس کے ساتھ گائیں اور بکریاں ہوں تو بھی وہ انعام ہی ہیں۔ حلال قرار دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس قول کے صحیح ہونے پر دلالت کرتا ہے : آیت : احلت لکم بھیمۃ الانعام الا ما یتلی علیکم ( المائدہ : 1) ( حلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
(1) امام فریابی، عبد بن حمید، ابو عبید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی اور حاکم نے (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ حمولہ وہ جانور ہے جن پر بوجھ لادا جاتا ہے۔ متلا اونٹ وغیرہ اور فرش سے مراد وہ چھوٹے اونٹ میں جن پر بوجھ نہیں اٹھایا جاتا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حمولہ سے مراد ہے بڑا اونٹ اور فرش سے مراد ہے چھوٹے اونٹ۔
(3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن الانعام حمولۃ وفرشا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد خالص اونٹ ہیں۔ اور حمولہ سے مراد مادہ اونٹ ہیں جن پر بوجھ اٹھایا…
Read the full tafseer →وَمِنَ الْاَنْعَامِ [ اور (اس نے پیدا کئے ) مویشیوں میں سے ] حَمُوْلَةً [ کوئی بکثرت بوجھ اٹھانے والا ] وَّفَرْشًا ۭ [ اور کوئی بچھا ہوا ] كُلُوْا [ تم لوگ کھاؤ ] مِمَّا [ اس میں سے جو ] رَزَقَكُمُ [ رزق دیا تم کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَلَا تَتَّبِعُوْا [ اور تم لوگ پیروی مت کرو ] خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ [ شیطان کے نقوش قدم کی ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا دشمن ہے ]
Read the full tafseer →پھر اس انعام کا ذکر فرمایا جو انسانوں پر مویشیوں کے ذریعہ فرمایا ہے اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ جانور ایسے پیدا فرمائے جو حمولہ ہیں یعنی بار برداری کا کام کرتے ہیں اور ان کے قد بھی بڑے ہیں۔
اور دوسری قسم کے جانور وہ ہیں جن کے قد چھوٹے ہیں گویا کہ وہ زمین پر بچھے ہوئے ہیں ان پر بوجھ نہیں لا دا جاسکتا جیسے کہ بھیڑ بکری اور دنبہ، ان چھوٹے قسم کے جانوروں پر سامان تو نہیں لادا جاسکتا لیکن ان کے دوسرے فائدے ہیں۔ ان کا دودھ پیا جاسکتا ہے گوشت کھایا جاتا ہے۔ اور بڑے جانوروں کی نسبت ان کا گوشت عمدہ ہوتا ہے اور ان کے بالوں سے اوڑھنے پہننے اور بچھانے کے کپڑے تیار کیے جاتے ہیں۔
پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–144
تقریر توحید وتذکیر انعامات نباتیہ وحیوانیہ
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشأ جنت معروشت۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین عرب کی رسوم شرکیہ اور ناشائستہ افعال اور جاہلانہ عادتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کی تردید فرماتے ہیں اور حق جل شانہ نے اس تردید میں دو باتیں ذکر فرمائیں۔ اول یہ کہ ان تمام حیوانات اور نباتات کا خالق صرف حق جل شانہء ہے یہ تمام جانور اور باغات اس کے پیدا کئے ہوئے ہیں جن میں ذرا برابر کوئی اس کا شریک نہیں پھر تم کیوں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو کوئی چیز سوائے خالق کے کسی کے نامزد نہیں کی جاسکتی۔
دوسری چیز یہ بیان فرمائی کہ جو چیزیں تم…
Read the full tafseer →156 حَمُوْلَۃً وَّ فَرْشًا دونوں جَنّٰتٍ پر معطوف ہیں۔ یہ تحریمات غیر اللہ کا چوتھی بار تفصیل سے ذکر ہے۔ حَمُوْلَۃٌ سے وہ چوپائے مراد ہیں جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور فرش سے وہ مراد ہیں جنہیں ذبح کے لیے زمین پر گرایا جاتا ہے یا جن کے بالوں سے بنے ہوئے فرش زمین پر بچھائے جاتے ہیں۔ کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ یعنی ان میں سے جو حلال ہیں انہیں کھاؤ اور زمانہ جاہلیت کی تحریمات کو اٹھاؤ اور اللہ کا شکر بجا لاؤ اور شیطان کی پیروی میں اللہ کی حلال چیزوں کو حرام نہ کرو۔ ای مما احللہ اللہ لکم ولا تحرموا کفعل الجاھلیۃ وھذا نص فی الاباغۃ وازالۃ ما سنہ الکفار من البحیرۃ والسائبۃ (بحر ج 4 ص 239)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اس مشرکانہ رسم کا رد فرمایا جس کی رو سے مشرک لوگ اپنے جانوروں اور کھیتی کی پیداوار میں غیر اللہ کی نیاز نکالتے تھے اس کے ساتھ ساتھ قتل اولاد کی قباحت کا بھی ذکر کیا۔ فرمایا مشرکانہ افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منسوب کرنا اللہ پر افتراء باندھنا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی پیدا کردہ جانوروں کو خد اپنے آپ پر حرام ٹھہرالیتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے کے مترادف ہے ، اس سے بچنا چاہئے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے آج کے درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اناج ، پھل اور جانوروں جیسی نعمت کو کھانے کی ترغیب دی ہے۔ البتہ فضول خرچی سے نع فرمایا ہے۔ اور ساتھ…
Read the full tafseer →وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّفَرْشًا 0 ۭ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ 0 ۭ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 142 ۙ
نعم ( جانور)
[ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
4 ؎ یعنی چھوٹے قد کے جیسا کہ بھیڑ بکری یا زمین پر ذبح کے لئے لٹانے کے قابل۔ 12 منہ
؎ دنبہ بھی اس میں شامل ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
تمہید
گزشتہ پانچ آیتوں میں مشرکین عرب نے اللہ کے پیدا کردہ جانوروں اور اس کی نعمتوں میں جس طرح مشرکانہ تصورات اختیار کرلیے تھے اور قدم قدم پر مشرکانہ اعمال کا اتکارب کر رہے تھے ‘ اس کی تفصیل بیان کی گئی تھی اور ساتھ ہی ساتھ ان کے مشرکانہ رویہ کا جو نتیجہ دنیا اور آخرت میں نکل سکتا تھا ‘ اس کا ذکر فرمایا گیا تھا۔ اب پیش نظر رکوع میں عقلی اور نقلی انداز میں ان کے مشرکانہ رویہ پر تنقید فرمائی گئی ہے اور نہایت جامع اور مسکت دلائل کے ساتھ ان کے تصورات کی غلطیوں اور ان کے عقائد کی خرابیوں کو واضح فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَجَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ جس طرح من ساختہ اصولوں کی بنیاد پر اپنی فصلوں میں اللہ کے سوا دو سروں کا حصہ مقرر کرتے تھے۔ اسی باطل اصول کی بنیاد پر انھوں نے جانوروں کے بارے میں بھی یہ اصول بنالیا تھا کہ فلاں مردوں کے لیے جائز ہے اور فلاں جانور صرف عورتوں کو کھانے کی اجازت ہوگی۔
شریعت نام ہے اللہ اور اس کے رسول کے فرمودات کا۔ رسول اکرم ﷺ بھی اسی چیز کو حلال اور حرام قرار دینے کے پابند ہیں۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام یا حلال کرنے کا حکم دیا ہو۔ بصورت دیگر کسی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ حلال و حرام کے ضابطے بنائے اور ان کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کی ہوئی چیز…
Read the full tafseer →آیت 142: وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّفَرْشًا اس کا عطف جنات پر ہے۔ یعنی انشأمن الانعام ما یحمل الاثقال۔ اس نے ایسے چوپائے بنائے جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ بھی جو ذبح کے لئے لٹائے جاتے ہیں۔ یا بڑے بوجھ بردار جانور اور الفرش سے چھوٹے جیسے بھیڑ ٗ بکری ٗ اونٹ گائے کے بچے کیونکہ وہ قد کے لحاظ سے زمین سے قریب ہوتے ہیں۔ جیسے فرش جو زمین پر بچھا ہوا ہو۔ کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ جو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے تمہارے لئے حلال کیے ہیں ان کو زمانہ جاہلیت کی طرح حرام مت قرار دو ۔ وَلاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِحرام و حلال میں اس کے طریقوں کی۔ جیسا اہل جاہلیت کرتے تھے۔ اِنَّہٗ لَکُمْ…
Read the full tafseer →تفسیر (142) (ومن الانعام حمولۃ و فرشا) یعنی وہ چھوٹے اونٹ جو بوجھ اٹھا سکیں (کلوا مما رزقکم اللہ ولا تتبعوا خطوت الشیطن) یعنی اس کے آثار قدم پر نہ چلو کھیتی اور مویشی حرام کرنے میں۔ (انہ لکم عدومبین) اب ” حمولۃ “ اور فرش کو بیان کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →سورة یسٰ میں آویگا اَوَ لم یَرَوُاَ نَّا خَلَقْنَا لَھُمِْ ممَّاعَمِلَتْ اَیْدِیْنَا اَنْعَامًا فَھُمْ لَھَا مَا لِکُوْنَ وَذَلَّلْنٰہَا لَھُمْ فَمِنْھَا رَکُوْ بُھُمْ وَ مِنْہَا یَاکلُوْنُ (36: 71۔ 72) سورة یس کی یہ آیت گویا اس میت کی تفسیر ہے حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ بغیر کسی مدد اور شراکت کے اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر کے جانور دو فائدوں کے لئے پیدا کئے ہیں بعضے جانوروں سے سواری اور اسباب کی بار برداری کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور بعضوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت کھایا جاتا ہے ذبح کرنے کے جانوروں کو زمین پر لٹا کر ذبح کیا جاتا ہے اس لیے ان کو فرش کی طرح دبے اور بچھے ہوئے جانور فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
آیت 141
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کھیتوں اور مویشیوں میں مشرکین کے تصرف کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال ٹھہرایا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت کا تذکرہ فرمایا اور کھیتوں اور مویشیوں کے بارے میں ان کے لازمی وظیفہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وھو الذین انشا جنت) ” وہی ہے جس نے باغ پیدا کئے جس میں مختلف انواع کے درخت اور نباتات ہیں۔ (معروشت وغیر معروشت) ” جو ٹٹیوں (چھتریوں) پر چڑھائے جاتے ہیں اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے “ یعنی ان میں سے بعض باغات کے لئے چھتریاں بنائی جاتی ہیں اور ان کو ان چھتریوں پر چڑھایا جاتا ہے اور یہ چھتریاں انہیں اوپر اٹھنے میں مدد دیتی ہیں…
Read the full tafseer →مویشی اور سواری کے جانور
قول باری ہے ( ومن الانعام حمولۃ و فرشا پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کیے جس سے سواری اور باربرداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ (ایک روایت کے مطابق ) حسن بصری اور حضرت ابن مسعود ؓ ( ایک روایت کے مطابق) اور مجاہد کا قول ہے کہ حمولۃ سے بڑی عمر کے اونٹ اور فرش سے چھوٹی عمر کے اونٹ مراد ہیں۔ قتادہ ، ربیع بن انس، ضحاک ، سدی اور حسن بصری ( ایک روایت کے مطابق ) کا قول ہے کہ حمولۃ ان اونٹوں کو کہتے ہیں جس سے سواری اور بار برداری کا کام لیا جاتا ہے۔ اور فرش سے بھیڑ بکریاں مراد ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ ایک…
Read the full tafseer →281 " حمولہ " سے مقصود و مراد ؟ : یعنی ایسے جانور جو بوجھ اٹھانے والے ہوتے ہیں۔ جیسے اونٹ، گھوڑے اور خچر وغیرہ۔ " حمولہ " " حمل " سے مشتق و ماخوذ ہے جسکے معنیٰ ہیں کہ جو بوجھ اٹھانے کے لائق ہو۔ جیسے " رکوبہ " اس جانور کو کہا جاتا ہے جو سواری کے قابل ہو۔ اور " حلوبہ " اسکو جو دودھ دینے کے لائق ہو۔ سو ربِّ رحمن و رحیم اور علیم و قدیر کی قدرت و عنایت کی شان ملاحظہ ہو کہ اس نے اونٹ گھوڑے اور خچر وغیرہ کچھ جانوروں کو اس طرح کا بنایا کہ وہ تمہاری باربرداری کے کام آتے ہیں۔ اور تمہارے سامان اور خود تم کو اٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَتَحْمِلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–144
اللہ کی نعمتیں اور آٹھ مویشیوں کی حلت کا بیان
تشریح : ان آیات میں رب تعالیٰ کی کچھ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے، کچھ حکمتیں بتائی گئی ہیں، مثلاً پھلوں اور باغات کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اکثر پھلوں کی خاصیتیں اور مٹی کے کمالات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ ایک ہی جیسی زمین، ہوا اور پانی مل کر انسان کے لیے اللہ کے حکم سے کیسی کیسی مختلف تاثیر اور مزہ کی چیزیں پیدا کرتے ہیں، مثلاً کچھ بیلیں ایسی ہیں کہ اگر ان کو بلندی پر چھا جانے کا موقعہ نہ ملے تو اس میں پھل نہیں آتا اگر آجائے تو پھل تیار ہونے سے پہلے ضائع ہوجاتا ہے۔ مثلاً انگور کی بیل کو اگر ٹھیک جگہ ٹھکانا نہ ملے تو پھل نہیں آتا، اسی طرح کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–145
رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 ۔ تا ۔ 145:
اسرار و معارف :
غیر اللہ کے نام کی نذر کا ابطال :
بتوں اور غیر اللہ کے نام پر مختص کرنے کی ضرورت تب پیش آتی جب ان میں سے کوئی تخلیق میں بھی حصہ دار ہوتا چیزوں کو پیدا کرنے میں اللہ نے اس سے مدد حاصل کی ہوتی لیکن ایسا تو ہرگز نہیں بلکہ وہ اکیلا خالق ہے اور سب کائنات مخلوق یہ اسی کی قدرت کاملہ ہے کہ بعض میوہ دار بیلیں بنا دیں جو بلندی پر چڑھتی ہیں اور جس قدر بلند ہوں اچھا پھل آتا ہے جیسے انگور اور بعض زمین پر پھیلتی ہیں اگر بلندی پہ چڑھا دو تو پھل ہی نہ آئے یا آئے تو بوجھ ہی برداشت نہ کرسکیں جیسے خربوزہ وغیرہ اور اسی زمین پر درخت اگا دئیے جو بیلوں سے یکسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
ف 6 لادنے والے جیسے اونٹ اور بیل اور زمین سے لگے ہوئے بھیڑ اور بکری ( مو ضح) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حمو لتہ لا لفظ تمام بوجھ اٹھانے والے جانوروں کو شامل ہے جیسے اونٹ بیل گھوڑا خچر گدھا اور فرش سے بھیڑ بکری مراد ہے مگر بعد آیت میں ثمانیتہ ازواج کا لفظ حمولتہ وفر شا سے بد ل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان سے یہی آٹھ قسم کے جانور مراد ہیں اور پھر جو جانور اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیئے ہیں ان کو انعام فرمایا ہے ( قر طبی)7 یہ زوج کی جمع ہے عربی زبان میں کسی جوڑے کے ہر فرد کو زوج کہا جاتا ہے اور اس میں تذکیر و تانیث کا اعتبار نہیں ہوتا پس ثمانیہ ازواج کے معنی آٹھ افراد کے ہیں اور آیت میں ترجمہ…
Read the full tafseer →(6:142) ومن الانعام۔ اور پیدا کیا اس نے چوپایوں میں سے۔
حمولۃ۔ لادنے والے جانور۔ بوجھ اٹھانے والے۔ حمل سے صفت مشبہ کا صیغہ ۔ چوپائے ازم قسم اونٹ ۔ گھوڑا۔ گدھا وغیرہ
فرسا۔ مصدر بھی ہے لیکن اس جگہ ایسے چھوٹے چوپائے مراد ہیں جو کہ ان پر بوجھ نہیں لادا جاتا جیسے بکریاں بھیڑیں وغیرہ۔ یا ایسے جانور جو فرش پر لٹا کر ذبح کئے جاتے ہیں۔
خطوات۔ خطوۃ کی جمع ۔ قدم۔ شیطان کی پیروی مت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
لغات القرآن آیت نمبر : 141 تا 142 :
معروشت (اونچے چڑھائے ہوئے) النخل ( کھجور) الزرع ( کھیتی) اکل (پھل) الرمان (انار) متشابھا ( مشابہ۔ ایک دوسرے سے ملتے جلتے) اثمر (وہ پھل لے آیا) حقہ ( اس کا حق) حصاد ( پکی کیتی ۔ پکے پھل) لاتسرفوا ( حد سے نہ بڑھو۔ فضول خرچی نہ کرو) لا یحب ( وہ پسند نہیں کرتا) المسرفنو ( فضول خرچی کرنے والے) حمولۃ ( جس جانور پر بوجھ لاداجاتا ہے) فرش ( زمین سے لگے چھوٹے قد کے جانور) خطوات (خطوات) قدم۔
تشریح : آیت نمبر 141 تا 142 :
اس سے پہلے ذکر تھا کہ کس طرح عرب کے کفار و مشرکین نے اناج ‘ پھل ‘ دودھ ‘ مویشی اور تمام غذائیات کے متعلق اپنے لئے حرام و حلال کے اصول بنارکھے تھے…
Read the full tafseer →مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن فائدوں کے لئے جانوروں کو پیدا کیا ہے ان مشرکوں نے ان فائدوں کو چھوڑ کر بعضے جانوروں کی سواری کو اور بعضوں کے گوشت کو اپنی طرف سے جو حرام ٹھہرایا ہے یہ شیطانی بہکاوا ہے جس سے ہر ایک کو بچنا چاہیے۔ کیونکہ شیطان ہر آدمی کا کھلا کھلا اور بڑا دشمن ہے اور دشمن کے فریب سے بچنا ہر عقلمند کا کام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–149
[15] مشرکین عرب کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ حلال کو حرام ٹھہراتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے یہ افعال اللہ کو پسند ہی نہیں بلکہ اس کی عین مرضی سے ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ استدلال اس غلط فہمی کی بنا پر تھا کہ اللہ کی مشیت اور اس کی رضا میں فرق نہیں کرتے تھے۔ مشیت الٰہی کی بنا پر انسان اپنے طریق عمل میں آزاد ہے، اچھی یا بری جو راہ چاہے اپنی پسند سے اختیار کرے لیکن رضائے الٰہی یہ ہے کہ انسان بدی کی راہ سے بچے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ کے پیغمبروں نے نیکی اور بدی کی راہیں بتلا دیں اور اعمال نیک و بد کے نتائج سے آگاہ کردیا۔ اس کے بعد بھی جن لوگوں نے دیدہ و دانستہ بری راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–142
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ کھیت اور باغات انگوریاں اور پھل ، جانور اور تمام آسائش کی چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں ، پھر اس کے ساتھ دوسروں کو کیوں شریک ٹھہرایا جائے ،
ان تمام انعامات کا تقاضا تو یہ ہے ، کہ تم صرف اللہ کا شکریہ ادا کرو ، مگر تم ہو کہ ڈھوروں تک کو اس میں شریک اور ساجھی بناتے ہو ،
عشر :
(ف 2) جب کھیت کٹے اور غلبہ جمع ہو ، تو اس میں سے دسواں حصہ بطور زکوۃ کے دنیا چاہئے ، بشرطیکہ زمین بارانی ہو ، اور اگر چاہی ہو ، پانی خود مہیا کرو ، یا اس کا ٹیکس ادا کرو ، تو بیسواں حصہ ضروری ہے ۔
حل لغات :
فرشا : بچھے ہوئے یعنی بہت چھوٹے قد سے مراد ہے ،
خطوت : جمع خطوط ، بمعنے قدم ،
Read the full tafseer →-142 اور اللہ تعالیٰ نے پھل اور کھیت اور مواشی بھی پیدا کئے ہیں ان مویشیوں میں سے بعض تو بار برداری کے لئے اونچے قد کے ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو زمین سے لگے ہوئے چھوٹے قد کے ہیں یعنی اونٹ، خچر ، ہاتھی اور جیسے بھیڑ بکری ، اللہ تعالیٰ نے جو رزق تم کو دیا ہے اس میں سے کھائو اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو اور اس کے نقش ہائے قدم کی پیروی نہ کرو بلاشبہ وہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے یعنی اس نے جو کچھ تمہارے باپ کے ساتھ کیا وہ ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–143
ف 8۔ اس آیت میں جو حق شرعی خیرخیرات کا ذکر ہے اس سے عشرمراد نہیں جو کہ زمین کی زکوة ہے۔
Read the full tafseer →جانوروں میں ہر ایک چھوٹا ہو یا بڑا سب کے سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں :
218: کھیتیوں اور باغات کے بعد ان جانوروں کا ذکر کیا گیا جن سے انسان طرح طرح کے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ کچھ جانور بوجھ لادنے کے کام آتے ہیں ، کچھ کو بطور غذا استعمال کیا جاتا ہے اور ان کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے اور صرف گوشت ہی نہیں جانوروں کی ہرچیز کار آمد ہے اور اس سے طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں ان کی اون اور بالوں سے لے کر ہڈیوں اور گوبر تک سب چیزوں سے انسان فائدہ حاصل کرتا ہے۔ زیر نظر آیت میں دو لفظ ایک دوسرے کے بالمقابل استعمال ہوئے ہیں ” حَمُوْلَةً “ اور ” فَرْشًا 1ؕ“ ” حملۃ “ کے معنی بوجھ اٹھانے والے کے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–150
Commentary
Mentioned in the previous verses was how astray the disbelievers of Makkah had gone when they had taken their self-carved, lifeless, insensate idols as partners in the Divinity of Allah as they made them share in animals created by Him and in many other blessings which were bestowed on them. Their transgression went to the limits when they would take out charities from these blessings as an act of worship, setting aside a portion for Allah and another for their idols. Then, they would employ different excuses to take out what belonged to the portion set aside for Allah and put it…
Read the full tafseer →117. The word "Farasha" (which means 'to spread, to pave, to cover the ground, floor or path') has been used in the context of cattle either (1) because they are relatively short, and in moving about seem to be touching the ground, (2) because when they are slaughtered, they have to be laid on the ground, or (3) because their skins and hair are used for furnishing purposes.
118. It becomes clear from the context that God wants to emphasize three things. First, that the orchards, fields and cattle are all bounties of God. No one else has made any contribution to them and hence no one is…
Read the full tafseer →