Al-An'aam 6:141

Al-An'aam · from ayah 141

6:141

وَهُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّغَیْرَ مُتَشَابِهٍ ؕ— كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ ۖؗ— وَلَا تُسْرِفُوْا ؕ— اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ۟ۙوَهُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ مَّعۡرُوۡشٰتٍ وَّغَيۡرَ مَعۡرُوۡشٰتٍ وَّالنَّخۡلَ وَالزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا اُكُلُهٗ وَالزَّيۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّغَيۡرَ مُتَشَابِهٍ ‌ؕ كُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَاٰتُوۡا حَقَّهٗ يَوۡمَ حَصَادِهٖ‌ ‌ۖ وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He it is who causes gardens to grow, [both] trellised and untrellised, and palm trees and crops of different [kinds of] food and olives and pomegranates, similar and dissimilar. Eat of [each of] its fruit when it yields and give its due [zakah] on the day of its harvest. And be not excessive. Indeed, He does not like those who commit excess.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 17 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:141

وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اور نخلستان پیدا کیے، کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں، زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں، اور اللہ کا حق ادا کرو جب اس کی فصل کاٹو، اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے وه بھی جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وه بھی جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن میں کھانے کی چیزیں مختلف طور کی ہوتی ہیں اور زیتون اور انار جو باہم ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے، ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وه نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وه اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو اور حد سے مت گزرو یقیناً وه حد سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ وہ ہے جس نے باغات پیدا کیے جن میں سے کچھ (بیل دار ہیں جو) سہاروں سے اوپر چڑھائے جاتے ہیں، اور کچھ سہاروں کے بغیر بلند ہوتے ہیں، اور نخلستان اور کھیتیاں، جن کے ذائقے الگ الگ ہیں، اور زیتون اور انار، جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں، اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ جب یہ درخت پھل دیں تو ان کے پھلوں کو کھانے میں استعمال کرو، اور جب ان کی کٹائی کا دن آئے تو اللہ کا حق ادا کرو، اور فضول خرچی نہ کرو۔ یاد رکھو، وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی ہے جس نے پیدا کیے باغ کچھ زمین پر چھئے (چھائے) ہوئے اور کچھ بے چھئے (پھیلے) اور کھجور اور کھیتی جس میں رنگ رنگ کے کھانے اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی میں الگ کھاؤ اس کا پھل جب پھل لائے اور اس کا حق دو جس دن کٹے اور بے جا نہ خرچو بیشک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی ہے جس نے برداشتہ اور غیر برداشتہ (یعنی بیلوں کے ذریعے اوپر چڑھائے گئے اور بغیر اوپر چڑھائے گئے) باغات پیدا فرمائے اور کھجور (کے درخت) اور زراعت جس کے پھل گوناگوں ہیں اور زیتون اور انار (جو شکل میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (ذائقہ میں) جداگانہ ہیں (بھی پیدا کئے)۔ جب (یہ درخت) پھل لائیں تو تم ان کے پھل کھایا (بھی) کرو اور اس (کھیتی اور پھل) کے کٹنے کے دن اس کا (اﷲ کی طرف سے مقرر کردہ) حق (بھی) ادا کر دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو، بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کیے چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور نہ چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور کھیتی، جن کے پھل مختلف ہیں اور زیتون اور انار ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور نہ ملتے جلتے۔ اس کے پھل میں سے کھاؤ، جب وہ پھل لائے اور اس کا حق اس کی کٹائی کے دن ادا کرو اور حد سے نہ گزرو، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے دونوں طرح کے باغات پیدا کئے ایک وہ جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ دوسرے وہ درخت جو خود اپنے تنے پر کھڑے ہوتے ہیں (ان کی بیل نہیں ہوتی جو ٹٹیوں پر چڑھائی جائے) نیز کھجوریں اور کھیتیاں پیدا کیں جن سے کئی طرح کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں۔ نیز اس نے زیتون اور انار پیدا کئے جن کے پھل اور مزا ملتے جلتے بھی ہوتے ہیں اور مختلف بھی۔ جب یہ درخت پھل لائیں تو ان سے خود بھی کھاؤ اور فصل اٹھاتے وقت ان میں سے اللہ کا حق بھی ادا کرو۔ اور بےجا خرچ نہ کرو۔ کیونکہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہی خدا ہے جس نے باغ پیدا کیے، کچھ ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں کچھ نہیں چڑھائے جاتے۔ اور کھجور اور کھیتی پیدا کی مختلف النوع پیداوار کی۔ اور زیتون اور انار باہمدگر ملتے جلتے بھی اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ ان کے پھلوں سے فائدہ اٹھاؤ جب وہ پھلیں اور اس کی کٹائی کے وقت اس کا حق ادا کرو اور اسراف نہ کرو۔ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ اللہ وہی ہے جس نے پیدا فرمائے طرح طرح کے عظیم الشان باغات، وہ بھی جو چھتوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وہ بھی جو نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی بھی، جن سے کھانے کی طرح طرح کی چیزیں حاصل کی جاتی ہیں، اور (اسی نے پیدا فرمایا) زیتون اور انار کو بھی، جو کہ آپس میں ملتے جلتے بھی ہیں اور جدا جدا بھی) ، کھاؤ تم اس کے پھلوں میں سے جب کہ وہ پھل دے، اور ادا کرو اس کا حق جس دن اسے کاٹو، اور حد سے نہ بڑھو، بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا حد سے بڑھنے والوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ وہی (اللہ) تو ہے جس نے باغ پیدا کئے (ٹیٹوں پر) چڑھائے ہوئے اور بغیر چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ ان کے کھانے کی چیزیں مختلف ہوتی ہیں اور زیتوں اور انار باہم مشابہ (بھی) اور غیر مشابہ (بھی) ۔ اس کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ نکل آئے اور اس کا حق (شرعی) اس کے کاٹنے کے دن ادا کردیا کرو۔ اور اسراف مت کرو بیشک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیے باغات وہ بھی جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وہ بھی جو نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور اور کھیتی جس کے ذائقے مختلف ہیں اور زیتون اور انار ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی اور مختلف بھی کھایا کرو ان کے پھلوں میں سے جبکہ وہ پھل دیں اور اللہ کا حق ادا کرو ان کے کاٹنے (اور توڑنے) کے دن اور بےجا خرچ نہ کرو یقیناً اللہ کو بےجا خرچ کرنے والے پسند نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے، چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور زمین پر پھیلے ہوئے بھی اور کھجور اور کھیتی جن سے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں۔ (نیز) زیتون اور انار (بھی) پیدا کیے جو بعض لحاظ سے آپس میں ملتے جلتے ہیں اور بعض لحاظ سے نہیں ملتے۔ جب یہ درخت پھل دیں تو ان کے پھل کھائو اور جس دن پھل توڑو اور کھیتی کاٹو تو اللہ کا حق اس میں سے ادا کرو۔ بےجا نہ اڑانا کہ فضول خرچ لوگوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is He Who has brought into being gardens - the trellised and untrellised - and the palm trees, and crops, all varying in taste, and. the olive and pomegranates, all resembling one another and yet so different. Eat of their fruits when they come to fruition and pay His due on the day of harvesting. And do not exceed the proper limits, for He does not love those who exceed the proper limits.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who has created gardens, trellised and untrellised, and date-palms and crops with a variety of edibles, and the olive and the pomegranate, (some) similar to one another, and (some) dissimilar. Eat of its fruit when it bears fruits, and pay its due on the day of harvest, and do not be extravagant. Surely, Allah does not like the extravagant

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who has created gardens, trellised and untrellised, and date-palms and crops with a variety of edibles, and the olive and the pomegranate, (some) similar to one another, and (some) dissimilar. Eat of its fruit when it bears fruits, and pay its due on the day of harvest, and do not be extravagant. Surely, Allah does not like the extravagant

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And it is He Who produces gardens Ma`rushat and not Ma`rushat, and date palms, and crops of different shape and taste, and olives, and pomegranates, similar, and different. Eat of their fruit when they ripen, but pay the due thereof on the day of their harvest, and waste not by extravagance. Verily, He likes not the wasteful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who produceth gardens trellised and untrellised, and the date-palm, and crops of divers flavour, and the olive and the pomegranate, like and unlike. Eat ye of the fruit thereof when it fruiteth, and pay the due thereof upon the harvest day, and be not prodigal. Lo! Allah loveth not the prodigals.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He it is who causes gardens to grow, [both] trellised and untrellised, and palm trees and crops of different [kinds of] food and olives and pomegranates, similar and dissimilar. Eat of [each of] its fruit when it yields and give its due [zakah] on the day of its harvest. And be not excessive. Indeed, He does not like those who commit excess.

— Saheeh International

It is He who has created all kinds of gardens, those raised on trellises and those without, palm-trees and the crops of different seasons, and olives and pomegranates of all types. You may eat their fruits that they produce but pay God's share on the harvest day. Do not be excessive for God does not love those who are excessive.

— Muhammad Sarwar

And He it is Who produces gardens (of vine), trellised and untrellised, and palms and seed-produce of which the fruits are of various sorts, and olives and pomegranates, like and unlike; eat of its fruit when it bears fruit, and pay the due of it on the day of its reaping, and do not act extravagantly; surely He does not love the extravagant.

— Muhammad Habib Shakir

And it is He who hath produced gardens, trellised and untrellised, and the date-palm and the corn of varied produce, and the olives and the pomegranates alike and unlike. Eat of the fruit thereof when it fruiteth, and give the due thereof on the day of its harvesting; and waste not; verily He approveth not the wasters.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who produceth gardens, with trellises and without, and dates, and tilth with produce of all kinds, and olives and pomegranates, similar (in kind) and different (in variety): eat of their fruit in their season, but render the dues that are proper on the day that the harvest is gathered. But waste not by excess: for Allah loveth not the wasters.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:141

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 141–142

مسائل زکوٰۃ اور عشر مظاہر قدرت خالق کل اللہ تعالیٰ ہی ہے کھیتیاں پھل چوپائے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں کافروں کو کوئی حق نہیں کہ حرام حلال کی تقسیم از خود کریں۔ درخت بعض تو بیل والے ہیں جیسے انگور وغیرہ کہ وہ محفوظ ہوتے ہیں بعض کھڑے جو جنگلوں اور پہاڑوں پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دیکھنے میں ایک دورے سے ملتے جلتے مگر پھلوں کے ذائقے کے لحاظ سے الگ الگ۔ انگور کھجور یہ درخت تمہیں دیتے ہیں کہ تم کھاؤ مزہ اٹھاؤ لطف پاؤ۔ اس کا حق اس کے کٹنے اور ناپ تول ہونے کے دن ہی دو یعنی فرض زکوٰۃ جو اس میں مقرر ہو وہ ادا کردو۔ پہلے لوگ کچھ نہیں دیتے تھے شریعت نے دسواں حصہ مقرر کیا اور ویسے بھی مسکینوں اور بھوکوں کا خیال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 116 اصل میں جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے مراد دو طرح کے باغ ہیں، ایک وہ جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں، دوسرے وہ جن کے درخت خود اپنے تنوں پر کھڑے رہتے ہیں۔ ہماری زبان میں باغ کا لفظ صرف دوسری قسم کے باغوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اس لیے ہم نے جَنّٰتٍّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ کا ترجمہ ”باغ“ کیا ہے اور جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ کے لیے ”تاکستان“ (یعنی انگوری باغ) کا لفظ اختیار کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–142

خلاصہ تفسیر اور وہی (اللہ پاک) ہے جس نے باغات پیدا کئے وہ بھی جو ٹیٹوں پر چڑھائے جاتے ہیں (جیسے انگور) اور وہ بھی جو ٹیٹوں پر نہیں چڑھائے جاتے (یا تو اس لئے کہ بیلدار نہیں جیسے تنہ دار درخت، یا باوجود بیلدار ہونے کے عادت نہیں، جیسے خربوزہ، تربوز وغیرہ) اور کھجور کے درخت اور کھیتی (بھی اس نے پیدا کئے) جو (انار انار) باہم (اور زیتون زیتون باہم رنگ و مزہ و شکل و مقدار میں سے بعض صفات میں کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور (کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے (اور اللہ نے ان چیزوں کو پیدا کرکے اجازت دی ہے کہ) ان سب کی پیداوار کھاؤ (خواہ اسی وقت سے سہی) جب وہ نکل آوے (اور پکنے بھی نہ پاوے)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ : یعنی کھیتی اور باغ سب پیدا کیے ہوئے تو خدا کے ہیں تو ان میں تم نے دوسرے دیویوں، دیوتاؤں کو کس حق کی بنا پر شریک بنا ڈالا، مَّعْرُوْشٰتٍ سے مراد انگور وغیرہ ہیں جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ سے وہ چیزیں مراد ہیں جو ٹٹیوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ انگور کی بیلوں کی مناسبت سے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ غَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وہ بیلیں ہیں جو زمین ہی پر پھیلتی اور پھلتی پھولتی ہیں۔ مثلاً خربوزے، تربوز، ککڑیاں، کھیرے وغیرہ۔ سورة عبس میں، عنب، اور، قضب، دو چیزوں دو چیزوں کو جمع کیا ہے، عنب، انگور کو کہتے ہیں اور قضب، ان سبزیوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

141۔ 1 معروشات کا مادہ عرش ہے جس کے معنی بلند کرنے اور اٹھانے کے ہیں۔ معروشات سے مراد بعض درختوں کی وہ بیلیں ہیں ٹٹیوں (چھپروں منڈیروں وغیرہ) پر چڑھائی جاتی ہیں، جیسے انگور اور بعض ترکاریوں کی بیلیں ہیں۔ اور غیر معروشات، وہ درخت ہیں جن کی بیلیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں بلکہ زمین پر ہی پھیلتی ہیں، جیسے خربوزہ اور تربوز کی بیلیں درخت اور کھجور کے درخت اور کھیتیاں، جن کے ذائقے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور زیتون اور انار، ان سب کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ 141۔ 2 اس کے لیے دیکھئے آیت 99 کا حاشیہ۔ 141۔ 3 یعنی جب کھیتی سے غلہ کاٹ کر صاف کرلو اور پھل درختوں سے توڑ لو، تو اس کا حق ادا کرو۔ حق سے مراد…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

72: تشریح کے لیے دیکھئے پیچھے آیت نمبر 99 کا حاشیہ 73: اس سے مراد عشر ہے جو زرعی پیداوار پر واجب ہوتا ہے مکی زندگی میں اس کی کوئی خاص شرح مقرر نہیں تھی، بلکہ جب کٹائی کا وقت آتا تو کھیتی کے مالک پر فرض تھا کہ جو فقراء اس وقت موجود ہوں ان کو اپنی صوابدید کے مطابق کچھ دے دیا کرے، مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد اس کے مفصل احکام آئے اور آنحضرت ﷺ نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ بارانی زمینوں پر پیداوار کا دسواں حصہ اور نہری زمینوں پر بیسواں حصہ غریبوں کا حق ہے، آیت نے بتایا ہے کہ یہ حق کٹائی ہی کے وقت ادا کردینا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 141–142

آیت ” نمبر 141 تا 142۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے ابتداء ان باغات کو پیدا کیا لہذا وہی ہے جو ایک مردہ سے زندہ چیز کو نکالتا ہے ۔ ان باغوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو تاکستان کی شکل کے ہیں اور انسان انہیں اگاتا ہے ۔ اور ان کے اردگرد باڑ لگاتا ہے اور کچھ نخلستان کی شکل کے ہیں ۔ جو خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور ان کو انسان کی جانب سے کسی قسم کی اعانت کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ اور فصلیں اس نے اگائیں ۔ زیتون اور انار اس نے پیدا کیے اور قسم قسم کے پھل ہیں جو ملتے جلتے بھی ہیں اور جدا جدا بھی ہیں ۔ پھر حیوانات بھی اس نے پیدا کیے جن میں سے بعض اونچے قد کے ہیں اور کچھ چھوٹے جسم کے ہیں اور وہ تمہارے کھانے کے لئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں۔ مثلاً انگور وغیرہ اور جو ایسے نہیں مثلاً کھجور، آم وغیرہ تنہ دار درخت یا خربوزہ تربوز وغیرہ جن کی بیل بدون کسی سہارے کے زمین پر پھیلتی ہے۔ 5 یعنی صورت شکل میں ملتے جلتے، مزہ میں جدا جدا۔ 1 یعنی جو غلے اور پھل حق تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں ان کے کھانے سے بدون سند کے مت رکو ہاں دو باتوں کا خیال رکھو، ایک یہ کہ کاٹنے اور اتارنے کے ساتھ ہی جو اللہ کا حق اس میں ہے وہ ادا کردو۔ دوسرے فضول اور بےموقع خرچ مت کرو۔ اللہ کے حق سے یہاں کیا مراد ہے اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، ابن کثیر کی رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابتداء مکہ معظمہ میں کھیتی اور باغ کی پیداوار میں سے کچھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 141 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ ’ ’ معروشات کے زمرے میں بیل نما پودے آتے ہیں ‘ جن کا اپنا تنا نہیں ہوتا جس پر خود وہ کھڑے ہوسکیں۔ اس لیے ایسے پودوں کو سہارا دے کر کھڑا کرنا پڑتا ہے ‘ جیسے انگور کی بیل وغیرہ۔ دوسری طرف غیرمعروشات میں عام درخت شامل ہیں جو خود اپنے مضبوط تنے پر کھڑے ہوتے ہیں ‘ جیسے انار یا آم کا درخت ہے۔ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُکُلُہٗ وَالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِہًا وَّغَیْرَمُتَشَابِہٍ ط۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صناعی کی مثالیں ہیں کہ اس نے مختلف النوع درخت ‘ کھیتیاں اور پھل پیدا کیے ‘ جو آپس میں ملتے جلتے بھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

150 اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں مشرکوں کو یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ کھیتیاں اور مویشی جن کے متعلق تم نے احکام کی ایک طویل فہرست اختراع کر رکھی ہے ان کو پیدا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے پھر کیا یہ نمک حرامی نہیں کہ تم اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے درباروں اور بتوں کے حصے نکالو اور اس میں بھی بتوں کے ہی حصوں کو تمہیں پورا کرنے کی فکر ہوتی ہے اور اللہ سے زیادہ تم انہیں سے ڈرتے ہو۔ کھیتی اور مویشی تو اللہ نے پیدا کیے مگر حلال و حرام کے اختیار تم نے خود سنبھال رکھے ہیں۔ 151 اس میں درختوں، پھلوں اور کھیتی کے متعلق جو کچھ ذکر ہوا ہے ان میں سے ایک ایک بات پر غور کیا جائے تو ان سے اللہ کی معرفت حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

212 ۔ ان سارے نباتات، اشجار واثمار کا پیدا کرنے والا ہی ایک خالق بےہمتا ہے نہ کہ زراعت کا کوئی دیوتا بارش کی کوئی دیوی وغیرہ، مثالوں میں نام قدرۃ انہیں چیزوں کے آئے جن سے مخاطبین اول یعنی عرب مانوس وواقف تھے۔ (آیت) ” متشابھا وغیر متشابہ “۔ یہ مماثلت وعدم مماثلت رنگ، مزہ، خوشبو، جسامت ہر اعتبار سے ہوسکتی ہے۔ 213 ۔ (مسکینوں اور اہل حاجت کو دے دلا کر) (آیت) ” حقہ “۔ فقہاء حنفیہ نے تصریح کردی ہے کہ یہاں حق شرعی سے مراد خیر و خیرات ہیں عشر مراد نہیں جو زمین کی زکوٰۃ ہے اور بہت سے تابعین اور بعض صحابہ کا یہی قول ہے۔ قال علی بن الحسین وعطاء والحکم وحماد و سعید بن جبیر و مجاھد ھو حق فی المال سوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 141–144

آیت نمبر 141 تا 144 ترجمہ : اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے بیلدار زمین پر پھیلنے والے بھی مثلاً خربوزہ (وغیرہ) اور تنے دار بھی جوتنے پر قائم ہوتے ہیں مثلاً کھجور کے درخت (وغیرہ) اور کھجور اور کھیتی پیدا کیں کہ اس کے پھل اور دانے ہیئت (شکل) اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں اور زیتون اور انار (پیدا کئے) کہ جن کے پتے ملتے جلتے اور ان کا مزہ الگ الگ ہوتا ہے پھل لگنے کے بعد پکنے سے پہلے کھاؤ (اور بعد بھی) اور اس کی کٹائی کے وقت اس کا حق زکوۃ ادا کرو (حِصَاد) فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے، (مراد) عشر یا نصف عشر ہے اور (انفاق میں) اسراف نہ کرو کہ کل پیداوار دے ڈالو، کہ تمہاری عیال کیلئے کچھ بھی باقی نہ رہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہو الذی انشا جنت معروشت وغیر معروشت . اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے جن کے کچھ پیڑوں کو ٹٹیوں پر چڑھایا جاتا ہے اور کچھ پیڑوں کو ٹٹیوں پر نہیں چڑھایا جاتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تشریح میں فرمایا معروشت : زمین پر پھیلنے والی بیلیں جن کو ٹٹیوں پر پھیلایا جاتا ہے جیسے کدو اور انگور اور خربوزہ کی بیلیں۔ اور غیر معروشات وہ پودے اور درخت جن کا تنہ اور ڈنڈی ہوتی ہے جس پر وہ کھڑے ہوتے ہیں جیسے کھجور کا درخت اور (جو گیہوں وغیرہ کی) کھیتی۔ ضحاک نے کہا معروشات : اور غیر معروشات دونوں سے مراد انگور کی بیلیں ہیں اول سے مراد وہ بیلیں ہیں جن کو لوگ بوتے اور ٹٹیوں پر پھیلاتے ہیں اور دوسرے سے مراد وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(141) جس نے باغات پیدا کیے وہ بھی جو بغیرتنوں کے اونچی دیواروں وغیرہ پر پھیلائے جاتے ہیں جیسا کہ انگور وغیرہ اور وہ بھی جو خود تنوں پر کھڑے ہوتے ہیں یا یہ کہ ایسے باغات پیدا کیے جن کو زمین میں گاڑا جاتا ہے اور جن کو زمین میں نہیں گاڑا جاتا جن میں کھانے کی چیزیں مٹھاس اور کھٹاس کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں اور زیتوں اور انار کے درخت پیدا کیے جو رنگت اور منظر میں تو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لیکن ذائقے میں مختلف ہوتے ہیں ایسے ہی کھجور کے پھل جب پک جائیں تو اسے کھاؤ اور اس کے ماپنے وپھل اتارنیکے دن جو شریعت کا حق ہو یا یہ کہ کاٹنے کے دن حق شرع کو ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مت خرچ کرو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ۔۔ : ”مَعْرُوْشٰتٍ“ کا مادہ ”عرش“ (ن، ض) ہے۔ جب اس کا ذکر کسی پودے کی بیل کے ساتھ ہو تو اس کا معنی اس کی ٹہنیوں کو لکڑیوں وغیرہ پر اوپر اٹھانا ہے۔ ”عَرَشَ الْکَرْمَ“ یعنی اس نے انگور کی بیل کو لکڑی وغیرہ پر بلند کیا۔ مُتَشَابِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ : اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت (99) کا حاشیہ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمین سے پیدا ہونے والی ہر کھیتی، پھل، سبزی اور درخت کا ذکر فرما کر حکم دیا ہے کہ کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو، اس لیے زمین سے پیدا ہونے والے ہر پھل اور کھیتی میں سے اللہ کا حق ادا کرنا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 141 اس میں تئیس مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ آیت : انشا یعنی اس نے پیدا کیا۔ آیت : جنت معروشٰت ایسے باغات کو جو زمین پر بچھے اور چھپروں پر چڑھائے ہوئے ہیں۔ آیت : وغیر معروشٰت اور ایسے جو چھپروں پر نہیں چڑھائے گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : معروشت سے مراد وہ ہیں جو زمین پر پھیل جائیں ان میں سے جو بچھ جاتے ہیں مثلا انگور کی بیلیں، کھیتیاں اور تربوز کی بیل وغیرہ۔ اور غیر معروشت سے مراد وہ ہیں جو اپنے تنے پر کھڑے ہوں مثلا کھجور کے درخت اور دیگر تمام درخت۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معروشات وہ زمین جن کے درخت بلند ہوجائیں اور تعریش کا اصل معنی الرفع ( بلند ہونا) ہے اور حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

ہر طرح کے پھل اللہ نے اگائے ہیں (1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھو الذی انشا جنت معروشت وغیر معروشت میں معروشات سے مراد وہ باغیچے ہیں جن کو لوگ چھپر کے طور پر لگاتے تھے۔ (اور فرمایا) لفظ آیت وغیر معروشت سے مراد وہ پھل ہیں جو پہاڑوں اور جنگلوں میں اگتے ہیں۔ (2) امام عبدبن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت معروشت سے مراد وہ باغات ہیں جو مکڑی اور بانسری پر چڑھائے گئے ہیں۔ اور لفظ آیت وغیر معروشت سے مراد وہ باغات جو باہر اور ظاہر (جنگلوں) میں ہوں۔ (3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت معروشت سے خاص کر انگور (کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَنْشَاَ [ پیدا کیے ] جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ [ چھپڑ پر ڈالے ہوئے باغات کو ] وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ [ اور چھپر پر نہ ڈالے ہوؤں کو ] وَّالنَّخْلَ [ اور کھجور کو ] وَالزَّرْعَ [ اور کھیتی کو ] مُخْتَلِفًا [ مختلف ہوتے ہوئے ] اُكُلُهٗ [ اس کا پھل ] وَالزَّيْتُوْنَ [ اور زیتون کو ] وَالرُّمَّانَ [ اور انارکو ] مُتَشَابِهًا [ باہم مشابہ ہونے والے ] وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۭ [ اور باہم مشابہ نہ ہونے والے ] كُلُوْا [ تم لوگ کھاؤ] مِنْ ثَمَرِهٖٓ [ اس کے پھل میں سے ] اِذَآ [ جب بھی ] اَثْمَرَ [ وہ پھل دے ] وَاٰتُوْا [ اور تم لوگ دو ] حَقَّهٗ [ اس کا حق ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

باغات اور کھیتیاں اور چوپائے انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے بڑے انعامات ہیں ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے اپنے ان انعامات کا تذکرہ فرمایا جو اپنی مخلوق پر پھلوں اور کھیتیوں کے ذریعے فرمائے ہیں۔ اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے باغ پیدا فرمائے کچھ باغ ایسے ہیں جو معروشات ہیں یعنی ان کی بیلیں جو چھپریوں پر چڑھائی جاتی ہیں جیسے انگوروں کی اور بعض سبزیوں کی بیلیں، اور بہت سے باغ ایسے ہیں جن کی شاخیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں۔ اس دوسری قسم میں کچھ درخت ایسے ہوتے ہیں جن کا تنا ہوتا ہے اس کی بیل ہی نہیں ہوتی جیسے زیتون، انار، انجیر، کھجور، آم اور جیسے گیہوں وغیرہ جو اپنے مختصر سے تنے پر کھڑے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 141–144

تقریر توحید وتذکیر انعامات نباتیہ وحیوانیہ قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشأ جنت معروشت۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین عرب کی رسوم شرکیہ اور ناشائستہ افعال اور جاہلانہ عادتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کی تردید فرماتے ہیں اور حق جل شانہ نے اس تردید میں دو باتیں ذکر فرمائیں۔ اول یہ کہ ان تمام حیوانات اور نباتات کا خالق صرف حق جل شانہء ہے یہ تمام جانور اور باغات اس کے پیدا کئے ہوئے ہیں جن میں ذرا برابر کوئی اس کا شریک نہیں پھر تم کیوں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو کوئی چیز سوائے خالق کے کسی کے نامزد نہیں کی جاسکتی۔ دوسری چیز یہ بیان فرمائی کہ جو چیزیں تم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

154:۔ یہ نذر غیر اللہ کا چوتھی بار ذکر ہے یہاں اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ تک غلوں، پھلوں اور میووں کی مختلف انواع و اقسام کا ذکر کرے کے فرمایا ان سے خالص اللہ کا حق ادا کرو اور ان میں غیر اللہ کی نذرو نیاز مت دو ۔ مَعْرُوْشَاتٍ وَّ غَیْڑَ مَعْرُوْشَاتٍ ۔ بعض مفسرین نے ان دونوں صفتوں کو انگور سے متعلق کیا ہے یعنی بعض انگور ایسے ہیں جن کے لیے لکڑی کے عریش (چھپر) بنا کر ان پر ان کو چڑھا یا جاتا ہے اور بعض ویسے ہی زمین پر پھیل جاتے ہیں۔ بعض کے نزدیک معروشات سے انگور اور دوسری اسی قسم کی بیلیں مراد ہیں جو عریش پر چڑھائی جاتی ہیں اور غیر معروشات سے تناور درخت مراد ہیں۔ مُتَشَابِھًا، غَیْرَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 141–142

گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اس مشرکانہ رسم کا رد فرمایا جس کی رو سے مشرک لوگ اپنے جانوروں اور کھیتی کی پیداوار میں غیر اللہ کی نیاز نکالتے تھے اس کے ساتھ ساتھ قتل اولاد کی قباحت کا بھی ذکر کیا۔ فرمایا مشرکانہ افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منسوب کرنا اللہ پر افتراء باندھنا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی پیدا کردہ جانوروں کو خد اپنے آپ پر حرام ٹھہرالیتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے کے مترادف ہے ، اس سے بچنا چاہئے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے آج کے درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اناج ، پھل اور جانوروں جیسی نعمت کو کھانے کی ترغیب دی ہے۔ البتہ فضول خرچی سے نع فرمایا ہے۔ اور ساتھ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُہٗ وَالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِہًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِہٍ۝ 0 ۭ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّہٗ يَوْمَ حَصَادِہٖ۝ 0 ۡ ۖ وَلَا تُسْرِفُوْا۝ 0 ۭ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۝ 141 ۙ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی[ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

3 ؎ یعنی ٹیٹوں پر ان کی بیل چڑھتی ہی جائے انگور وغیرہ۔ 12 منہ طریق اول : ھو الذی سے لے کر لا لئہب المسرفین تک یعنی ہر قسم کے باغ اور سب نباتات اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں سو تم شوق سے ان کو کھاؤ کلوا من ثمرہ البتہ دو باتوں کی پابندی کرنی چاہیے ایک تو واتو حقہ یوم حصا وہ اس میں علماء کے تین قول ہیں اول ابن عباس وعطاء و ابن عمر و مجاہد و سعید وغیر ہم کا کہ اس حق ادا کرنے سے مراد زکوٰۃ یعنی عشر دسواں یا چالیسواں حصہ ہے اس کو بقدر امکان کٹنے کے روز ادا کرے ورنہ بعد میں اور حصاد کھیتی اور پھلوں کے کٹنے کو کہتے ہیں اور گو مدینہ میں آکر دوسرے برس آیت زکوٰۃ نازل ہوئی مگر اس سے قبل واجب ہونا خصوصاً…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 141–142

تمہید گزشتہ پانچ آیتوں میں مشرکین عرب نے اللہ کے پیدا کردہ جانوروں اور اس کی نعمتوں میں جس طرح مشرکانہ تصورات اختیار کرلیے تھے اور قدم قدم پر مشرکانہ اعمال کا اتکارب کر رہے تھے ‘ اس کی تفصیل بیان کی گئی تھی اور ساتھ ہی ساتھ ان کے مشرکانہ رویہ کا جو نتیجہ دنیا اور آخرت میں نکل سکتا تھا ‘ اس کا ذکر فرمایا گیا تھا۔ اب پیش نظر رکوع میں عقلی اور نقلی انداز میں ان کے مشرکانہ رویہ پر تنقید فرمائی گئی ہے اور نہایت جامع اور مسکت دلائل کے ساتھ ان کے تصورات کی غلطیوں اور ان کے عقائد کی خرابیوں کو واضح فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : وَھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَجَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جن کھیتوں میں مشرک غیر اللہ کا حصہ مقرر کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی پیدا کرنے، اگانے اور پکانے والا ہے۔ زیتون : Olive (انگریزی، فرانسیسی، جرمن ) Oliva (روسی، لاطینی ) زیتون ( عربی، فارسی، ہندی، اردو، پنجابی) zayit , Zaith ( عبرانی) نباتاتی نام : Ole ae uropae a Linn. قرآنی آیات بسلسلہ زیتون : 1۔ سورة الانعام آیت : 100 2۔ سورة الانعام آیت : 142 3۔ سورة النحل آیت : 11 4۔ سورة المومنون آیت : 20 4۔ سورة التین آیت :2 زیتون کا ذکر قرآن پاک میں اس کے نام سے چھ بار آیا ہے اور ایک مرتبہ سورة المومنون، آیت : 20 اس کی جانب یہ کہہ کر اشارہ کیا گیا ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے طور سینا کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حلال نعمتیں کھائو اور ان کا حق دو اور اسراف سے بچو : آیت 141: وَہُوَ الَّذِیْٓٓ اَنْشَأَ پیدا کیا جَنّٰتٍ انگوروں کے مَّعْرُوْشٰتٍ بلند چھپروں والے وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ زمین پر چھوڑے ہوئے جن کے لئے چھپر نہیں بنائے گئے۔ کہا جاتا ہے عرشت الکرم جب کہ اس کیلئے بلندیاں اور ٹیکیں بنادی جائیں اور شاخوں کو ان پر موڑ دیا جائے۔ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا رنگ ٗ ذائقہ ٗ حجم ٗ خوشبو وغیرہ میں وہ حال مقدرہ ہے۔ کیونکہ کھجور میں نکلنے کے وقت ذائقہ نہیں ہوتا۔ جب تک کہ وہ مختلف نہ ہوجائے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی طرح ہے۔ فادخلوہا خالدین (الزمر 73) اُکُلُہٗٗ حجازی نے اُکْلُہ پڑھا ہے۔ کھائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

141 (وھو الذی انشا جنت) معروشت وغیر معروشت) یعنی اٹھے ہوئے اور غیر مرفوع۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ معروشات وہ جو زمین پر پھیل جائیں مثلاً انگور ، تربوز وغیرہ اور غیر معروشات جو تنے پر کھڑے ہوجائیں جیسے کھجور، کھیتی اور تمام درخت اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ دونوں سے انگور مراد ہیں کہ بعض کو سہارا دے کر کھڑا کیا جاتا ہے اور بعض انگوروں کو ایسے چھوڑ دیا جاتا ہے (والنحل والزرع ) اور پیدا کئے اس میں (مختلفاً اکلہ) پھلوں میں مٹھاس و کھٹاس اچھے اور خراب (والزیتون والرمان متشابھا) دیکھنے میں (وغیر متشابہ) ذائقے میں جیسے دو انار دیکھنے میں رنگ ان کا ایک ہو لیکن ذائقہ مختلف ہوگا (کلوا من ثمرہ اذا اثمر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ اپنی کھیتی کی پیداوار میں اور پھل دار درختوں کے پھل میں بتوں کا حصہ ٹھہراتے تھے اس آیت میں ان لوگوں کے یاد دلانے کے طور پر اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ جتلایا ہے کہ کھیتی کی پیداوار میں اور پھل دار درختوں کے پھل میں بتوں کا حصہ ٹھہراتے تھے اس آیت میں ان لوگوں کے یاد دلانے کے طور پر اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ جتلایا ہے کہ کھیتی کی پیدا وار پھل دار درختوں کے پھل یہ سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں ان مشرکوں کے بتوں کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے پھر ان لوگوں کی یہ بڑی نادانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں بغیر کسی استحقاق کے یہ لوگ پتھر کی مورتوں کا حصہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 141–142

آیت 141 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کھیتوں اور مویشیوں میں مشرکین کے تصرف کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال ٹھہرایا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت کا تذکرہ فرمایا اور کھیتوں اور مویشیوں کے بارے میں ان کے لازمی وظیفہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وھو الذین انشا جنت) ” وہی ہے جس نے باغ پیدا کئے جس میں مختلف انواع کے درخت اور نباتات ہیں۔ (معروشت وغیر معروشت) ” جو ٹٹیوں (چھتریوں) پر چڑھائے جاتے ہیں اور جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے “ یعنی ان میں سے بعض باغات کے لئے چھتریاں بنائی جاتی ہیں اور ان کو ان چھتریوں پر چڑھایا جاتا ہے اور یہ چھتریاں انہیں اوپر اٹھنے میں مدد دیتی ہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے ( وھوالذی انشا جنت معروشات و غیر معروشات وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان پیدا کیے) تا قول باری ( واتوا حقہ یوم حصادہ ۔ اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو) حضرت ابن عبا س اور سدی کا قول ہے کہ ( معروشات) سے مراد وہ انگوری باغ ہیں جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ ایک قول کے مطابق تعریش کا مفہوم یہ ہے کہ باے کو کسی دییوار کے ذریعے گھیر دیا جاتے۔ اس لفظ کے اصل معنی بلند کرنے کے ہیں۔ اس سے قول باری ( خاویۃ علی عروشھا) ہے۔ یعنی اپنی بلند کی ہوئی ٹٹیوں پر گر پڑی تھیں۔ عرش تخت کو کہتے ہیں) اس لیے کہ عرش زمین سے بلند ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کھیت ، کھجور، زیتون اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

274 " معروشات " سے مقصود و مراد ؟ : سو " معروشات " سے مراد وہ درخت ہیں جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ یعنی بیلدار درخت جیسے انگور، توری اور لوکی وغیرہ کی بیلیں۔ ان کو ذرا دیکھو تو سہی کہ وہ کس طرح چھتوں، ٹٹیوں اور درختوں وغیرہ پر چڑھتی اور تمہارے لیے قسما قسم کے عمدہ پھل اور طرح طرح کی غذاؤں کے سامان مہیا کرتی ہیں۔ مگر تم لوگ ہو کہ دن رات ان سے مستفید ہوتے رہنے کے باوجود کبھی اس بارے غور بھی نہیں کرتے کہ یہ سب کچھ اس نے بخشا اور اس کا ہم پر کیا حق ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اگر انسان صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو وہ انہی درختوں سے جو اس کے سامنے پیدا ہوئے، پروان چڑھتے پھولتے پھلتے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 141–144

اللہ کی نعمتیں اور آٹھ مویشیوں کی حلت کا بیان تشریح : ان آیات میں رب تعالیٰ کی کچھ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے، کچھ حکمتیں بتائی گئی ہیں، مثلاً پھلوں اور باغات کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اکثر پھلوں کی خاصیتیں اور مٹی کے کمالات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ ایک ہی جیسی زمین، ہوا اور پانی مل کر انسان کے لیے اللہ کے حکم سے کیسی کیسی مختلف تاثیر اور مزہ کی چیزیں پیدا کرتے ہیں، مثلاً کچھ بیلیں ایسی ہیں کہ اگر ان کو بلندی پر چھا جانے کا موقعہ نہ ملے تو اس میں پھل نہیں آتا اگر آجائے تو پھل تیار ہونے سے پہلے ضائع ہوجاتا ہے۔ مثلاً انگور کی بیل کو اگر ٹھیک جگہ ٹھکانا نہ ملے تو پھل نہیں آتا، اسی طرح کچھ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 131–141

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141: اسرار و معارف : میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی ان میں سے کچھ حصہ فقیروں) مسکینوں بیوأؤں اور یتیموں کو بطور صدقہ دو ، یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی تھی، اس وقت رزعی پیدا رکے صدقہ کا یہ حکم عام تھا اور اس کی کوئی مقدار مقرر نہ تھی، مدینہ پہنچ کر 2 ھ میں زکوٰۃ (عشر) کی مقدار اور شرح مقرر ہوئی یعنی بارانی زمین کی پیدا وار میں دسواں حصہ اور جس زمین کو کنویں ی امحنت سے پانی لاکر سیراب کیا جائے تو اس کی پیداوار میں سے پیسواں حصہ۔ تفصیللات حدیث وفقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ( ابن کثیر، قرطبی) مسئلہ، عشر صرف اقوات یعنی اس پیدار پر ہے جو بطور ذخیرہ جمع کر کے مصنوعی تدبیر کے بغیر رکھی جاسکتی ہو اس بنا پر ہے کیونکہ عشر کی فرضیت کے بعد عہد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:141) معروشت۔ اسم مفعول کی جمع مؤنث۔ معروشۃ واحد۔ عرش سے عشر اس نے لکڑی کا گھر بنایا۔ عرش چھتر۔ ٹٹی۔ عرشت الکرم۔ میں نے انگور کی بیل کے لئے چھتری بنادی۔ (باب ضرب) ہر چھتری کے لئے اونچا ہونا لازم ہے۔ اسی علو کے مفہوم کے لحاظ سے عرش بادشاہ کے تخت کو بھی کہتے ہیں۔ اور مجازاً اقتدار و سلطنت بھی مراد لیتے ہیں۔ معروشت۔ چھتری پر چڑھائی ہو بیلیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے عام بیلیں مراد ہیں خواہ چھتریوں پر چڑھائی گئی ہوں یا نہ۔ مگر اوپر پھیلائی جاتی ہوں۔ مثلاً انگور۔ خربوزہ۔ تربوز۔ کدو وغیرہ۔ غیر معروشت۔ وہ پودا جو چھتری پر نہ چڑھایا جائے۔ جس کی بیل نہ ہو اور اپنے تنہ پر کھڑا ہو۔ مثلاً کھجور کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 141–142

لغات القرآن آیت نمبر : 141 تا 142 : معروشت (اونچے چڑھائے ہوئے) النخل ( کھجور) الزرع ( کھیتی) اکل (پھل) الرمان (انار) متشابھا ( مشابہ۔ ایک دوسرے سے ملتے جلتے) اثمر (وہ پھل لے آیا) حقہ ( اس کا حق) حصاد ( پکی کیتی ۔ پکے پھل) لاتسرفوا ( حد سے نہ بڑھو۔ فضول خرچی نہ کرو) لا یحب ( وہ پسند نہیں کرتا) المسرفنو ( فضول خرچی کرنے والے) حمولۃ ( جس جانور پر بوجھ لاداجاتا ہے) فرش ( زمین سے لگے چھوٹے قد کے جانور) خطوات (خطوات) قدم۔ تشریح : آیت نمبر 141 تا 142 : اس سے پہلے ذکر تھا کہ کس طرح عرب کے کفار و مشرکین نے اناج ‘ پھل ‘ دودھ ‘ مویشی اور تمام غذائیات کے متعلق اپنے لئے حرام و حلال کے اصول بنارکھے تھے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

کھیتی اور پھلوں پر زکٰوۃ اور حرام و حلال کا ذکر مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ جتلایا کہ کھیتی کی پیداوار، پھل دار اور درختوں کے پھل اور انگور کی بیلیں جو چھتریوں پر چڑھائی جاتی ہیں اور آم، انگور، انار یہ صورت اور مزہ دونوں میں ملتے جلتے ہیں اور بعضوں کی صورت ملتی جلتی ہے لیکن مزہ الگ ہوتا ہے اور بعضوں کی صورت اور مزہ دونوں الگ الگ ہوتے ہیں، یہ سب اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ پھر یہ لوگ شیطان کا حصہ ٹھہراتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنی بردباری سے ان چیزوں کے پیدا کرنے کو بدستور جاری رکھتا ہے۔ جب کھیتی کاٹی جاوے یا پھل توڑے جاویں تو اس کی زکٰوۃ یعنی عشر اس وقت واجب ہوتی ہے۔ لکڑی،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 141–142

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ کھیت اور باغات انگوریاں اور پھل ، جانور اور تمام آسائش کی چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں ، پھر اس کے ساتھ دوسروں کو کیوں شریک ٹھہرایا جائے ، ان تمام انعامات کا تقاضا تو یہ ہے ، کہ تم صرف اللہ کا شکریہ ادا کرو ، مگر تم ہو کہ ڈھوروں تک کو اس میں شریک اور ساجھی بناتے ہو ، عشر : (ف 2) جب کھیت کٹے اور غلبہ جمع ہو ، تو اس میں سے دسواں حصہ بطور زکوۃ کے دنیا چاہئے ، بشرطیکہ زمین بارانی ہو ، اور اگر چاہی ہو ، پانی خود مہیا کرو ، یا اس کا ٹیکس ادا کرو ، تو بیسواں حصہ ضروری ہے ۔ حل لغات : فرشا : بچھے ہوئے یعنی بہت چھوٹے قد سے مراد ہے ، خطوت : جمع خطوط ، بمعنے قدم ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-141 اور اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس ذات ہے جس نے ایسے باغات پیدا کئے جن کی بیلیں ٹیٹوں اور چھتریوں وغیرہ پر پھیلائی جاتی ہیں جیسے انگور اور ایسے باغ بھی جن کی بیلیں ٹیٹوں وغیرہ پر نہیں چڑھائی جاتیں یعنی یا تو کوئی بیل ہی نہیں سب تنے دار درخت ہیں یا بیل ہو لیکن اس کے چڑھانے کا قاعدہ نہ ہو جیسے خربوزہ اور ککڑی وغیرہ کی بیلیں اور اس اللہ تعالیٰ نے کھجور کے درخت بھی پیدا کئے اور کھیتی بھی پیدا کی ان سب کے پھل مختلف قسم کے ہوتے ہیں یعنی رنگ بو اور مزے وغیرہ میں اور اسی نے زیتون اور انار کو پیدا کیا ان درختوں کے پھلآپس میں ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور غیر مشابہ بھی یعنی زیتون کے پھل آپس میں ایک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 141–143

ف 8۔ اس آیت میں جو حق شرعی خیرخیرات کا ذکر ہے اس سے عشرمراد نہیں جو کہ زمین کی زکوة ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قدرت الٰہی کے وہ نشانات جن کو ہر انسان کی آنکھ دیکھتی اور دماغ سمجھتا ہے : 216: ” اَنْشَاَ “ اس نے پیدا کیا۔ اس نے پرورش کی۔ قرآن کریم نے قدرت الٰہی کے نشانات جہاں بھی بیان کئے صرف اور صرف اس بات کی تفہیم کے لئے کئے تاکہ انسان اللہ کو پہچانے اور اس کو مالک حقیقی تصور کرتے ہوئے اس کی ملک اور اس کے ملک میں رہ کر اس کے حکم کا پابند ہو اس نے انسانوں کو ان کی اپنی پیدائش سے استدلال کر کے سمجھایا کہ تم یہ بات دیکھتے اور سمجھتے ہو کہ پہلے تم کیسے پیدا کئے گئے تھے اور پھر تمہاری پیدائش کے لئے قدرت الٰہی نے کیا ضابطہ مقرر کردیا۔ کس طرح باپ کی صلب سے وہ نطفہ منتقل ہوا جس سے تم وجود میں آئے۔ کس طرح رحم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 137–141

Linkage of Verses Described in the previous verses were false beliefs of the mushriks of Arabia while the present verses recount their practical errors and ignorant customs. The customs of Jahiliyyah mentioned in these verses are: (1) They took out a portion in the name of Allah from grains and fruits, and some in the name of idols and Jinns. Then, if by chance, some part of what belonged to the portion of Allah got mixed up with the portion reserved for idols, they would let it stay mixed as it was. When the position was the reverse of it, they would take it out and make the portion set for…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

116. Tle Arabic expression "Jannaatim Ma'rushaatin wa khairu ma'rushatin" signifies two kinds of gardens: first, those consisting of trellised plants and, second, those consisting of trees which stand on their own.

Read the full tafseer →