Explained with ayahs 143–144
خود ساختہ حلال و حرام جہالت کا ثمر ہے
اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے چوپائے جانوروں میں تقسیم کر کے اپنے طور پر بہت سے حلال بنائے تھے اور بہت سے حرام کر لئے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ، وسیلہ اور حام وغیرہ۔ اسی طرح کھیت اور باغات میں بھی تقسیم کر رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سب کا خالق اللہ ہے، کھیت ہوں باغات ہوں، چوپائے ہوں " پھر ان چوپایوں کی قسمیں بیان فرمائیں " بھیڑ، مینڈھا، بکری، بکرا، اونٹ، اونٹنی، گائے، بیل۔ اللہ نے یہ سب چیزیں تمہارے کھانے پینے، سواریاں لینے، اور دوری قسم کے فائدوں کے لئے پیدا کی ہیں " جیسے فرمان ہے آیت (وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 119
یعنی گمان و وہم یا آبائی روایات نہ پیش کرو بلکہ علم پیش کرو اگر وہ تمہارے پاس ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
خلاصہ تفسیر
(اور یہ مواشی جن میں تحلیل و تحریم کر رہے ہو) آٹھ نر و مادہ (پیدا کئے) یعنی بھیڑ (اور دنبہ) میں دو قسم (ایک نر ایک مادہ) اور بکری میں دو قسم (ایک نر اور ایک مادہ) آپ (ان سے) کہئے کہ (یہ تو بتلاو کہ) کیا اللہ تعالیٰ نے ان (دونوں جانور کے) دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو (حرام کہا ہے) یا اس (بچہ) کو جس کو دونوں مادہ (اپنے) پیٹ میں لئے ہوئے ہوں (وہ بچہ نر ہو یا مادہ یعنی تم جو مختلف صورتوں سے تحریم کے مدعی ہو تو کیا تحریم اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے) تم مجھ کو کسی دلیل سے تو بتلاو اگر (اپنے دعوے میں) سچے ہو (یہ تو چھوٹے قد والے کے متعلق بیان ہوا آگے بڑے قد والوں کا بیان ہے کہ…
Read the full tafseer →ثَمٰنِيَةَ فعل محذوف سے منصوب ہے۔ عام طور پر لوگوں نے فعل ماضی محذوف مانا ہے لیکن ہمارے نزدیک قرینہ یہاں فعل امر کے محذوف ماننے کا ہے۔ جملہ کی وضاحت سے اس قرینے کی وضاحت ہوجائے گی۔ زوج کا لفط جس طرح جوڑے کے لیے آتا ہے اسی طرح جوڑے کے ایک فرد کے لیے بھی آتا ہے۔ عربی ادب اور قرآن دونوں میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔
لفظ انعام کا اطلاق کئی چوپایوں پر ہوتا ہے : پالتو چوپایوں میں سے جو گوشت یا دودھ وغیرہ کے لیے عرب میں پائے جاتے تھے چار معروف تھے۔ چھوٹے چوپایوں میں بھیڑ بکری، بڑے چوپایوں میں اونٹ گائے، انعام کا لفظ انہی کے لیے بولا جاتا ہے۔ جب اس کی طرف لفظ بہیمۃ کی نسبت ہوجاتی ہے تو اس میں جیسا کہ…
Read the full tafseer →143۔ 1 یعنی انشأ ثمانیۃ ازواج (اسی اللہ تعالیٰ نے آٹھ زوج پیدا کیئے) ایک ہی جنس کے نر اور مادہ کو زوج (جوڑا) کہا جاتا ہے اور ان دونوں کے ایک فرد کو بھی زوج کہہ لیا جاتا ہے کیا ان کہ ہر ایک دوسرے کے لئے زوج ہوتا ہے۔ قرآن میں اس مقام پر بھی ازواج، افراد ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی 8 افراد اللہ نے پیدا کیے۔ جو باہم ایک دوسرے کا جوڑا ہیں یہ نہیں کہ زوج کہ بمعنی جوڑے پیدا کیے کیونکہ اس طرح تعداد 8 کے بجائے 16 ہوجائے گی جو آیت کے اگلے حصہ کے مطابق نہیں ہے۔
143۔ 2 یہ ثَمَا نِیَۃَ سے بدل ہے اور مراد دو قسم نر اور مادہ یعنی بھیڑ سے نر اور مادہ۔ اور بکری سے نر اور مادہ پیدا کیئے (بھیڑ میں ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
75: مطلب یہ ہے کہ تم لوگ کبھی نر جانور کو حرام قرار دے دیتے ہو کبھی مادہ جانور کو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ جوڑے پیدا کرتے وقت نہ نر کو حرام کیا تھا نہ مادہ کو، اب تم ہی بتاؤ کہ اگر نر ہونے کی وجہ سے کوئی جانور حرام ہوتا ہے تو ہمیشہ نر ہی حرام ہونا چاہیے اور اگر مادہ ہونے کی وجہ سے حرمت آتی ہے تو ہمیشہ مادہ ہی حرام ہونا چاہیے، اور اگر کسی مادہ کے پیٹ میں ہونے کی وجہ سے حرمت آتی ہے تو پھر بچہ نرہویامادہ ہر صورت میں حرام ہونا چاہیے، لہذا تم نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ رکھے ہیں نہ ان کی کوئی علمی یا عقلی بنیاد ہے اور نہ اللہ کا کوئی حکم ایسا آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
آیت ” نمبر 142 تا 144۔
یہ مویشی جن کے بارے میں تنازعہ چل رہا ہے اور جن کے بارے میں آیت سابقہ میں یہ کہا گیا کہ یہ صرف اللہ کی مخلوق ہے ان کے آٹھ سیٹ ہیں لفظ ” ازواج “ اس وقت بولا جاتا ہے جب نر اور مادہ دونوں ہوں ‘ زوج کے معنے جوڑا ‘ ایک جوڑا بھیڑوں کا اور ایک بکریوں کا ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ نے کن لوگوں پر حرام قرار دیا ہے ؟ یا انکے پیٹ میں جو جنین ہیں ان کے بارے میں حرمت کا حکم کہاں ہے ؟ـ اگر تم سچے ہو تو بناؤ۔
آیت ” نَبِّؤُونِیْ بِعِلْمٍ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (143) اس لئے کہ حلال و حرام کے فیصلے محض ظن وتخمین سے تو نہیں ہو سکتے نہ ہی اٹکل بچو سے اس معاملے میں کوئی فتوی دیا جاسکتا…
Read the full tafseer →4 یعنی ایک نر ایک مادہ اس طرح ہر نوع میں دو دو زوج ہوئے اور مجموعہ آٹھ ہوگیا۔
5 یعنی کسی چیز کو حلال و حرام کہنا صرف اللہ کے حکم سے ہوسکتا ہے پھر ان میں سے نر کو یا مادہ کو یا بچہ کہ جو مادہ کے پیٹ میں ہے اگر تم سب آدمیوں کے یا بعض کے حق میں حرام کہتے ہو جیسا کہ پچھلی آیات میں گزرا، اس کی سند تمہارے پاس کیا ہے۔ جب خدائی حکم ہونے کی کوئی سند نہیں رکھتے تو محض آراء و ہواء سے خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو حلال یا حرام کہنا اس کا مترادف ہے کہ خدائی کا منصب معاذ اللہ تم اپنے لئے تجویز کرتے ہو یا خدا پر جان بوجھ کر افتراء کر رہے ہو۔ دونوں صورتیں تباہ کن اور مہلک ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
آیت 143 ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ج
یہ اس بات کا جواب ہے جو انہوں نے حاملہ ماداؤں کے بارے میں کہی تھی کہ ان کے پیٹوں میں جو بچے ہیں ان کا گوشت صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں ‘ جب کہ عورتوں پر یہ حرام ہے۔ ہاں اگر مرا ہوا بچہ پیدا ہو تو اس کا گوشت مردوں کے ساتھ عورتیں بھی کھا سکتی ہیں۔
مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ ط قُلْ ءٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ط
غور طلب نکتہ ہے کہ اس میں حرمت آخر کہاں سے آئی ہے۔ اللہ نے ان میں سے کس کو حرام کیا ہے ؟ نر کو ‘ مادہ کو ‘ یا بچے کو ؟ پھر یہ کہ اگر کوئی شے حرام ہے تو سب کے لیے ہے…
Read the full tafseer →155 اس آیت میں اور اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی ان خود ساختہ پابندیوں کا عقلی طور پر محاسبہ کیا ہے تاکہ ان کی بات کی غیر معقولیت کھل کر سامنے آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے آٹھ جوڑوں کا ذکر کیا یعنی کل جنسیں چار ہیں اور جوڑے آٹھ مثلاً بھیڑ اور مینڈھا، بکرا اور بکری، اونٹ اور اونٹنی اور گائے اور بیل۔ اور یہی جانور ہیں جو عرب میں پائے جاتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ ان مشرکوں سے پوچھو کہ یہ کیا بات ہوئی کہ ایک ہی جنس کا نر تو حلال ہو اور مادہ حرام ہو۔ یا مادہ حلال ہو اور نر حرام ہو یا جانور خود تو حلال ہو ؟ مگر اس کے پیٹ سے نکلا ہوا بچہ زندہ ہو تو کسی پر حرام…
Read the full tafseer →216 ۔ (ان چوپایوں کے جن کی حلت و حرمت میں تم اپنی تراش خراش سے کام لے رہے ہو) (آیت) ” ثمنیۃ ازواج “۔ کی تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ وانشأثمانیۃ ازواج (قرطبی) (آیت) ” ازواج “۔ سے مراد جانوروں کی قدرتی تقسیم نرومادہ میں ہے۔ ثمانیۃ ازواج یعنی ثمانیۃ افراد وکل فرد عند العرب محتاج الی اخر یسمی زوجا (قرطبی) اور یہی مراد آگے چل کر انثیین سے بھی ہے۔ ای الذکر والانثی (قرطبی)
217 ۔ (اپنے اس دعوے میں کہ فلاں، فلاں حرام ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–144
آیت نمبر 141 تا 144
ترجمہ : اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے بیلدار زمین پر پھیلنے والے بھی مثلاً خربوزہ (وغیرہ) اور تنے دار بھی جوتنے پر قائم ہوتے ہیں مثلاً کھجور کے درخت (وغیرہ) اور کھجور اور کھیتی پیدا کیں کہ اس کے پھل اور دانے ہیئت (شکل) اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں اور زیتون اور انار (پیدا کئے) کہ جن کے پتے ملتے جلتے اور ان کا مزہ الگ الگ ہوتا ہے پھل لگنے کے بعد پکنے سے پہلے کھاؤ (اور بعد بھی) اور اس کی کٹائی کے وقت اس کا حق زکوۃ ادا کرو (حِصَاد) فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے، (مراد) عشر یا نصف عشر ہے اور (انفاق میں) اسراف نہ کرو کہ کل پیداوار دے ڈالو، کہ تمہاری عیال کیلئے کچھ بھی باقی نہ رہے،…
Read the full tafseer →ثمنیۃ ازواج من الضان اثنین ومن المعز اثنین قلء الذکرین حرم ام الانثین اما اشتملت علیہ ارحام الانثیین نبونی بعلم ان کنتم صدقین : (اور یہ مواشی) آٹھ نر و مادہ (پیدا کئے) یعنی بھیڑ (اور دنبہ) میں دو قسم (نر و مادہ) اور بکری میں دو قسم (نر و مادہ) آپ ان سے کہئے کہ کیا اللہ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں کو یا اس بچہ کو جس کو دونوں مادہ اپنے پیٹ میں لئے ہوئے ہوں تم مجھے کسی دلیل سے تو بتلاؤ اگر تم سچے ہو
Read the full tafseer →(143) اور یہ جانور جن میں تم تحریم وتحلیل کررہے ہو، آٹھ نر و مادہ پیدا کیے، بھیڑ اور دنبہ میں دو قسم ایک نر دوسری مادہ اور اسی طرح بکری میں دو قسم نر و مادہ، محمد ﷺ آپ مالک سے کہیی کہ یہ تو بتلاؤ بحیرہ اور وصیلہ کو حرام کیا ہے تو نروں کے پانی کی وجہ سے ان کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کی وجہ سے یا اس بچہ پر دونوں مادہ کے اجتماع کی وجہ سے اسے حرام کیا ہے اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام کیا ہے تو میرے سامنے کوئی دلیل تو لاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۚ: یہ آیت (141) میں ”ٓ اَنْشَاَ“ کا مفعول بہ ہے۔ ”اَزْوَاجٍ“ زَوْجٌ کی جمع ہے۔ عربی میں جوڑے کے دو افراد میں سے ہر ایک کو زوج کہتے ہیں، نر ہو یا مادہ۔ اس لیے زوجین کا معنی (نر اور مادہ دو قسمیں) ایک جوڑا ہوگا نہ کہ دو جوڑے۔ اسی کے مطابق ترجمہ آٹھ قسمیں کیا گیا ہے۔
قُلْ ءٰۗالذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ۔۔ : جب مشرکین نے اونٹوں، گائیوں اور بھیڑ بکریوں میں سے بعض مخصوص جانوروں کو حرام اور ان کے پیٹ کے بچوں میں سے زندہ بچوں کو عورتوں کے لیے حرام اور مردہ کو سب کے لیے حلال قرار دیا تو اللہ تعالیٰ اب ان سے اس کی دلیل کا مطالبہ فرما رہے ہیں کہ اگر وہ دلیل عقلی ہے تو بتاؤ کہ حرام ہونے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
اس میں تین مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : ثمٰنیۃ ازواج اس میں ثمٰنیۃ فعل مضمر کے سبب منصوب ہے اور وہ فعل انشا ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ نے آٹھ جوڑے پیدا فرمائے) یہ کسائی سے منقول ہے۔ اور اخفش سعید نے کہا ہے : یہ آیت : حمولۃ و فرشا سے بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
اور اخفش علی بن سلیمان نے بیان کیا ہے : اس کی نصب ( فعل) کلوا کے سبب ہے، یعنی کلوا لحم ثمانیہ ازواج ( تم آٹھ جوڑوں کا گوشت کھاؤ ) ۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ کہ ما سے محل کے اعتبار سے بدل ہونے کی بنا پر منصوب ہو۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ کہ اس معنی میں منصوب ہو۔ معنی ہو کلوا المباح ثمٰنیۃ ازواج من الضان اثنین ( تم مباح کھاؤ ( یعنی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
(1) امام فریابی، عبد بن حمید، ابو عبید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، طبرانی اور حاکم نے (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ حمولہ وہ جانور ہے جن پر بوجھ لادا جاتا ہے۔ متلا اونٹ وغیرہ اور فرش سے مراد وہ چھوٹے اونٹ میں جن پر بوجھ نہیں اٹھایا جاتا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حمولہ سے مراد ہے بڑا اونٹ اور فرش سے مراد ہے چھوٹے اونٹ۔
(3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن الانعام حمولۃ وفرشا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد خالص اونٹ ہیں۔ اور حمولہ سے مراد مادہ اونٹ ہیں جن پر بوجھ اٹھایا…
Read the full tafseer →ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۚ [ (اس نے پیدا کئے ) آٹھ جوڑ ] مِنَ الضَّاْنِ [ بھیڑ میں سے ] اثْنَيْنِ [ دو ] وَمِنَ الْمَعْزِ [ اور بکری میں سے ] اثْنَيْنِ ۭ [ دو ] قُلْ [ آپ کہئے (یعنی پوچھئے) ] ءٰۗالذَّكَرَيْنِ [ کیا دو مذکر کو ] حَرَّمَ [ اس نے حرام کیا ] اَمِ [ یا ] الْاُنْثَيَيْنِ [ دو مونث کو ] اَمَّا [ یا اس کو ] اشْـتَمَلَتْ [ لپٹیں ] عَلَيْهِ [ جس پر ] اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ ۭ [ دو مونث کی بچہ دانیاں ] نَبِّـــــُٔـوْنِيْ [ تم لوگ بتاؤ مجھ کو ] بِعِلْمٍ [ کسی علم (یعنی سند) سے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] صٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
جانوروں کی آٹھ قسمیں ہیں ان میں مشرکین نے اپنے طور پر تحریم اور تحلیل کردی
مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے ان جانوروں کی آٹھ قسمیں پیدا فرمائیں جنہیں تم استعمال کرتے ہو جن کا دودھ پیتے ہو گوشت کھاتے ہو ان میں سے دو قسمیں بھیڑ سے پیدا فرمائیں یعنی نر اور مادہ، اور دو قسمیں بکری سے پیدا فرمائیں یعنی نر اور مادہ اور دو قسمیں اونٹ کی پیدا فرمائیں یعنی نر اور مادہ، اور دو قسمیں گائے کی پیدا فرمائیں۔ یعنی نر اور مادہ۔
اب ان جانوروں کی تحلیل و تحریم تم نے اپنے پاس سے کرلی تم نے کوئی شرط اور قید لگا کر نروں کو حرام قرار دے دیا۔ کبھی ان کے جوڑوں یعنی مادہ جانوروں کو حرام قرار دے دیا۔ پھر اپنی اس حرکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–144
تقریر توحید وتذکیر انعامات نباتیہ وحیوانیہ
قال اللہ تعالیٰ وھو الذی انشأ جنت معروشت۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین عرب کی رسوم شرکیہ اور ناشائستہ افعال اور جاہلانہ عادتوں کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کی تردید فرماتے ہیں اور حق جل شانہ نے اس تردید میں دو باتیں ذکر فرمائیں۔ اول یہ کہ ان تمام حیوانات اور نباتات کا خالق صرف حق جل شانہء ہے یہ تمام جانور اور باغات اس کے پیدا کئے ہوئے ہیں جن میں ذرا برابر کوئی اس کا شریک نہیں پھر تم کیوں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو کوئی چیز سوائے خالق کے کسی کے نامزد نہیں کی جاسکتی۔
دوسری چیز یہ بیان فرمائی کہ جو چیزیں تم…
Read the full tafseer →157 یہ حَمُوْلَۃً وَّ فَرْشًا سے بدل ہے یہاں حلال چوپایوں کی آٹھ جوڑوں میں تقسیم فرمائی اثنین (دو ) سے ہر جگہ نر و مادہ مراد ہے۔ ضَانٌ سے اس نے نر و مادہ پیدا کیا یعنی دنبہ اور دنبی۔ مینڈا اور بھیڑ بھی یہاں اسی میں داخل ہے۔ اور ایک جوڑا معز کا پیدا فرمایا یعنی بکر اور بکری۔ قُلْ ءٰ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ الخ استفہام انکار و توبیخ کے لیے ہے (بحر) اور اس میں مشرکین سے اس خود ساختہ تحریم پر دلیل عقلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ نے یہ دونوں جوڑے تمہارے انتفاع کے لیے پیدا فرمائے ہیں اب تم بتاؤ کہ تم نے ان کے نر و مادہ اور مادہ کے پیٹ کے بچے کے بارے میں اپنی طرف سے حلت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
گذشتہ درو میں مختلف اقسام ِ شرک کی تردید بیان ہوچکی ہے بعض لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کی نذر و نیاز بھی نکالتے تھے۔ بعض ایسی رسومات باطلہ ایجاد کر رکھی تھیں جن کی رو سے وہ بعض حلا ل اور طیب چیزوں کو از خود اپنے اوپر حرام قرار دے دیتے تھے ، اللہ ان کا بھی رد فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کے سلسلے میں پھلوں اور کھیتی کا تذکرہ فرمایا اور حکم دیا کہ ان کو استعمال کرو اور میری ان نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جب کھیتی اور پھل پک جائے تو اس میں سے اس کا حق ادا کرو یعنی غرباء اور مساکین کو بھی کچھ دے دیا کرو۔ اور اسراف نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ مسرفین کو ہرگز پسند…
Read the full tafseer →ثَمٰنِيَۃَ اَزْوَاجٍ 0 ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ 0 ۭ قُلْ ءٰۗالذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَـيَيْنِ اَمَّا اشْـتَمَلَتْ عَلَيْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَـيَيْنِ 0 ۭ نَبِّــــُٔــوْنِيْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 143 ۙ
زوج
يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ
[ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
4 ؎ یعنی چھوٹے قد کے جیسا کہ بھیڑ بکری یا زمین پر ذبح کے لئے لٹانے کے قابل۔ 12 منہ
؎ دنبہ بھی اس میں شامل ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
ارشاد فرمایا :
ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ج مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ ط قُلْ ئٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتُ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ط نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ ط قُلْ ئٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ط اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآئَ اِذْوَصّٰکُمُ اللہ ُ بِھٰذَا ج فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ ط اِنَّ اللہ َ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–144
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ جس طرح من ساختہ اصولوں کی بنیاد پر اپنی فصلوں میں اللہ کے سوا دو سروں کا حصہ مقرر کرتے تھے۔ اسی باطل اصول کی بنیاد پر انھوں نے جانوروں کے بارے میں بھی یہ اصول بنالیا تھا کہ فلاں مردوں کے لیے جائز ہے اور فلاں جانور صرف عورتوں کو کھانے کی اجازت ہوگی۔
شریعت نام ہے اللہ اور اس کے رسول کے فرمودات کا۔ رسول اکرم ﷺ بھی اسی چیز کو حلال اور حرام قرار دینے کے پابند ہیں۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام یا حلال کرنے کا حکم دیا ہو۔ بصورت دیگر کسی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ حلال و حرام کے ضابطے بنائے اور ان کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام اور اس کی حرام کی ہوئی چیز…
Read the full tafseer →پالتوں جانوروں کی اقسام ثمانیہ اور رسمی تحریمات کی تردید :
آیت 143: ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ یہ حمولۃً و فرشا سے بدل ہے۔ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ دو جوڑے مراد مذکر و مؤنث ہیں۔ واحد کا لفظ جب اکیلا ہو تو ایک مراد ہے اور جب اس کے ساتھ اس کی جنس میں سے ہو تو پھر ان میں سے ہر ایک کو زوج کہتے ہیں۔ دونوں زوجان کہلاتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے خلق الزوجین الذکر والانثٰی (النجم 45) اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی اس پر دال ہے ثمانیۃ ازواج پھر بطور تفسیر من الضأن اثنین ومن المعزاثنین۔ وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ الضأن اور المعزجمع ضائن اور…
Read the full tafseer →تفسیر 143 (ثمنیۃ ازواج) اس پر نصب الحمولتہ اور الفرش سے بدل ہونے کی بنا کی وجہ سے ہے۔ یعنی چوپایوں سے آٹھ قسموں کو پیدا کیا (من الضان اثنین) مذکر اور مئونث تو مذکر ایک قسم ہے اور مئونث ایک قسم اور عرب ایک کو زوج کہتے ہیں جب وہ دوسرے سے جدا نہ ہوسکتا ہو۔
” ضان “ اون والی بھیڑ۔ اس کی مئونث ” ضائنۃ “ اور جمع ” ضوائن “ ہے۔” ومن المعزاثنین “ ابن کثیر اور ابن عامر رحمہما اللہ اور اہل بصرہ نے ” من المعز “ عین کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرت ا نے سکون کے ساتھ اور ” المعز “ اور ” المعزی “ جمع ہے اس کے الفاظ سے اس کا کوئی واحد نہیں ہے۔ یہ بالوں والی بکری اور ” الماعز “ کی جمع ” معزی “ ہے اور ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
(143 ۔ 144) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان کے بہکانے سے مشرکین مکہ نے بعضے جانوروں پر سوار ہونا بوجھ لادنا اور بعضے جانورون کا گوشت کھانا اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا کہ شیطان کے بہکانے سے مشرکین مکہ نے بعضے جانوروں پر سوار ہونا بوجھ لادنا اور بعضے جانوروں کا گوشت کھانا اپنے اوپر حرام ٹھہرالیا تھا ان آیتوں میں فرمایا جن جانوروں کو ان نادانوں نے اپنے اوپر حرام کرلیا ہے وہاں آٹھ نرمادہ بھیڑ بکری اونٹ گائے میں سے ہیں پھر اگر ان حرام ٹھہرائے ہوئے جانوروں کو ان نادانوں نے ہونے کے سبب سے حرام ٹھہرایا ہے تو جو نر پیدا ہوچکے سب نروں کو حرام ٹھہرا دیں کیونکہ نر ہونے میں سب برابر ہیں اب یہی حال مادہ کا سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
آیت 143
(ومن الانعام حمولۃ و فرشتا) ” اور پیدا کئے مویشیوں میں سے بوجھ اٹھانے والے اور زمین سے لگے ہوئے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا کئے جن میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور ان سے بار برداری کا کام لیتے ہو۔ اور ان میں سے بعض اپنی کم عمری کی وجہ سے سواری اور بار برداری کے قابل نہیں ہوتے مثلاً ان چوپایوں کے بچے جو ابھی بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ پس یہ مویشی سواری اور بار برداری کے پہلو سے ان دو اقسام میں منقسم ہوتے ہیں۔ رہا ان کو کھانے کا پہلو اور ان سے دیگر مختلف انواع کے فوائد حاصل کرنا، تو یہ تمام مویشی کھائے بھی جاتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد بھی حاصل کئے جاتے ہیں۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
مشرکین کا ایک غلط عقیدہ
قول باری ہے ( ثمانیۃ ازواج من الضان اثنین و من العمز اثنین یہ آٹھ نرو مادہ ہیں۔ دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے) تا قول باری ( الظالمین) قول باری ( ثمانیۃ ازواج) قول باری ( حمولۃ و فرشا) بدل ہے اس لیے کہ یہ آٹھ نرو مادہ بھی انشاء یعنی پیدائش کے فعل میں داخل ہیں۔ گویا یوں فرمایا ” انشاء ثمانیہ ازواج ( نر و مادہ کے آٹھ جوڑے پیدا کیے) ان چاروں اصناف میں ہر صنف کے نر اور مادہ میں سے ہر ایک کو زوج کہا جاتا ہے۔ نر اور مادہ کے ایک جوڑے کو بھیی زوج کہا جاتا ہے جس طرح مقدمے کے ایک فریق کو خصم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور فریقین کو بھیی اسی نام سے پکارا جاتا ہے اللہ…
Read the full tafseer →284 تخلیق و انشاء، اللہ پاک ہی کی شان ہے : یعنی " ثَمَانِیَۃ " کا عامل محذوف ہے جو " خَلَقَ " یا " اَوْجَدَ " یا " اَنْشَأَ " وغیرہ کے کسی مناسب فعل کی صورت میں مقدر مانا جاسکتا ہے۔ (صفوۃ، جامع، محاسن وغیرہ) ۔ سو تخلیق و انشاء اور تکوین و ایجاد اسی خالق کل اور مالک مطلق کی شان اور اسی کا کام ہے۔ اور جب اس کی اس صفت میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہے تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کیسے ہوسکتا ہے۔ اور جب پیدا ان سب چیزوں کو اسی نے کیا ہے تو پھر تحلیل و تحریم کا اختیار اس کے سوا اور کسی کو کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس کسی کے لئے یہ امر جائز نہیں کہ وہ اللہ کی پیدا کردہ چیزوں میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–144
اللہ کی نعمتیں اور آٹھ مویشیوں کی حلت کا بیان
تشریح : ان آیات میں رب تعالیٰ کی کچھ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے، کچھ حکمتیں بتائی گئی ہیں، مثلاً پھلوں اور باغات کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے کہ اکثر پھلوں کی خاصیتیں اور مٹی کے کمالات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ ایک ہی جیسی زمین، ہوا اور پانی مل کر انسان کے لیے اللہ کے حکم سے کیسی کیسی مختلف تاثیر اور مزہ کی چیزیں پیدا کرتے ہیں، مثلاً کچھ بیلیں ایسی ہیں کہ اگر ان کو بلندی پر چھا جانے کا موقعہ نہ ملے تو اس میں پھل نہیں آتا اگر آجائے تو پھل تیار ہونے سے پہلے ضائع ہوجاتا ہے۔ مثلاً انگور کی بیل کو اگر ٹھیک جگہ ٹھکانا نہ ملے تو پھل نہیں آتا، اسی طرح کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–145
رکوع نمبر 17 ۔ آیات 142 ۔ تا ۔ 145:
اسرار و معارف :
غیر اللہ کے نام کی نذر کا ابطال :
بتوں اور غیر اللہ کے نام پر مختص کرنے کی ضرورت تب پیش آتی جب ان میں سے کوئی تخلیق میں بھی حصہ دار ہوتا چیزوں کو پیدا کرنے میں اللہ نے اس سے مدد حاصل کی ہوتی لیکن ایسا تو ہرگز نہیں بلکہ وہ اکیلا خالق ہے اور سب کائنات مخلوق یہ اسی کی قدرت کاملہ ہے کہ بعض میوہ دار بیلیں بنا دیں جو بلندی پر چڑھتی ہیں اور جس قدر بلند ہوں اچھا پھل آتا ہے جیسے انگور اور بعض زمین پر پھیلتی ہیں اگر بلندی پہ چڑھا دو تو پھل ہی نہ آئے یا آئے تو بوجھ ہی برداشت نہ کرسکیں جیسے خربوزہ وغیرہ اور اسی زمین پر درخت اگا دئیے جو بیلوں سے یکسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–143
ف 6 لادنے والے جیسے اونٹ اور بیل اور زمین سے لگے ہوئے بھیڑ اور بکری ( مو ضح) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حمو لتہ لا لفظ تمام بوجھ اٹھانے والے جانوروں کو شامل ہے جیسے اونٹ بیل گھوڑا خچر گدھا اور فرش سے بھیڑ بکری مراد ہے مگر بعد آیت میں ثمانیتہ ازواج کا لفظ حمولتہ وفر شا سے بد ل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان سے یہی آٹھ قسم کے جانور مراد ہیں اور پھر جو جانور اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیئے ہیں ان کو انعام فرمایا ہے ( قر طبی)7 یہ زوج کی جمع ہے عربی زبان میں کسی جوڑے کے ہر فرد کو زوج کہا جاتا ہے اور اس میں تذکیر و تانیث کا اعتبار نہیں ہوتا پس ثمانیہ ازواج کے معنی آٹھ افراد کے ہیں اور آیت میں ترجمہ…
Read the full tafseer →(6:143) ثمنیۃ ازواج۔ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یہ حمولۃ وفرشا کا بدل ہے۔
(2) یہ کلوا کا مفعول ہے۔ اور تقدیر کلام یوں ہے کلوا مما رزقکم اللہ ثمنیۃ ازواج اس صورت میں ولا تبعوا خطوات الشیطن انہ لکم عدو مبین جملہ معترضہ ہے۔
(3) اس کا فعل محذوف ہے ای انشأ ثمنیۃ ازواج اس نے پیدا کئے آٹھ جوڑے۔
ازواج۔ جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ اقران : زوج۔ کی جمع ہے۔ حیوانات کے جوڑے میں نر اور مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں ۔ لہٰذا ثمنیۃ ازواج کے معنی ہوئے آٹھ زوج یعنی آٹھ چوہائے مشتمل بر نر مادہ (پیدا کئے)
الضان۔ اسم جنس۔ بھڑ۔ مادہ دنبہ وغیرہ۔ جن پر اون ہو۔ ضائن کی جمع ہے جیسے راکب کی جمع رکب ہے ضائتۃ مؤنث۔ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
لغات القرآن : آیت نمبر 143 تا 144 :
ثمنیۃ (آٹھ) ازواج ( جوڑے) الضان ( بھیڑ) اثنین ( دو ) المعز ( بکری) ء الذکرین ( کیا دونر) اشتملت (لپٹی ہے) ارحام ( رحم) بچہ دان ‘ نبئونی ( مجھے بتائو) الابل ( اونٹ) البقر (گائے) وصکم ( اس نے تمہیں وصیت کی۔ حکم دیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 143 تا 144 :
مشرکوں کی طرف بیان کا رخ ہے۔ فرمایا گیا کہ یہ جو تم نے اونچے جانوروں اور نیچے جانوروں کے بارے میں خود ساختہ اصول اور قانون بنائے ہیں کہ کسی نر حرام کردیا ہے کسی کا مادہ حرام کردیا ہے ‘ کسی کے پیٹ کے بچے کے متعلق طے کرلیا ہے کہ اگر زندہ نکلے تو مردوں کے لئے جائز اور عورتوں کے لئے منع۔ اگر مردہ نکلے تو مرد عورت دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ بھیڑ بکری کے نر حرام کئے اور نہ ان کی مادئیں حرام کیں، نہ ان کی اولاد ان میں سے۔ تمہارا یہ جعل کہ کبھی نر حرام ٹھہراؤ کبھی مادہ کبھی ان کے بچے یہ سب تمہارا بنایا ہوا ہے جو کسی کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہوتے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں ایسے ظالم اور جھوٹھے لوگوں کو مجبور کر کے اللہ تعالیٰ راہ راست پر لانا نہیں چاہتا۔ اس لئے یہ لوگ جس حالت پر ہیں اسی حالت پر مریں گے اور عقبیٰ میں ان اعمال کی سخت سزا پاویں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–149
[15] مشرکین عرب کہتے تھے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے نہ حلال کو حرام ٹھہراتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے یہ افعال اللہ کو پسند ہی نہیں بلکہ اس کی عین مرضی سے ہو رہے ہیں۔ ان کا یہ استدلال اس غلط فہمی کی بنا پر تھا کہ اللہ کی مشیت اور اس کی رضا میں فرق نہیں کرتے تھے۔ مشیت الٰہی کی بنا پر انسان اپنے طریق عمل میں آزاد ہے، اچھی یا بری جو راہ چاہے اپنی پسند سے اختیار کرے لیکن رضائے الٰہی یہ ہے کہ انسان بدی کی راہ سے بچے اور نیکی کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ کے پیغمبروں نے نیکی اور بدی کی راہیں بتلا دیں اور اعمال نیک و بد کے نتائج سے آگاہ کردیا۔ اس کے بعد بھی جن لوگوں نے دیدہ و دانستہ بری راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
(ف 1) ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جو بعض جانوروں کو محض تخمین وہ ہم کی بنا پر حرام قرار دیا ہے ، اس کے لئے کوئی علمی دلیل موجود نہیں حرام ہونے کی معنی یہ ہیں کہ اس سے کسی برے ، یا جاہلانہ نظام کی تائید ہوتی ہو ، یا وہ جانور صحت کے لئے مضر ہو یا اس کے کھانے سے اخلاق وروحانیت پر برا اثر پڑے ، یا ذوق سلیم اسے گوارا نہ کرے ، اور جب ان میں سے کوئی بات بھی موجود نہ ہو ، تو محض صنمیات کی پیروی میں کیونکر نر یا مادہ کو ناجائز قرار دے لیں ،
حل لغات :
وصکم : تمہٰں تاکید کی ۔
توصیۃ : کے معنی بتاکید کسی بات کا اظہار کرنا ہے ۔
Read the full tafseer →-143 اللہ تعالیٰ نے ان مواشی میں جن کے حلال و حرام ہونے پر افتراء کرتے رہتے ہیں آٹھ نر اور مادہ پیدا کئے ہیں بھیڑ میں سے دو خواہ وہ چکنی والے ہوں یا بےچکنی کے اور بکری میں سے دو نر اور مادہ اے پیغمبر آپ ان سے پوچھئے کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں کو حرام کیا ہے یا اس بچہ کو حرام کیا ہے جس کو دونوں ماوائیں اپنے پیٹ میں لئے ہوئی ہیں تم مجھے صحیح دلیل سے بتائو اگر تم سچے ہو یعنی نر اور مادہ کا حساب لگائو تو ایک بھیڑ کی مادہ اور ایک نر اور ایک بکری میں سے مادہ اور ایک نر تواب بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں میں سے کس کو حرام کیا ہے یا اس بچہ کو حرام کیا ہے جو مادہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 141–143
ف 8۔ اس آیت میں جو حق شرعی خیرخیرات کا ذکر ہے اس سے عشرمراد نہیں جو کہ زمین کی زکوة ہے۔
Read the full tafseer →جانوروں یعنی چوپایوں کی وہ کونسی آٹھ قسمیں ہیں جو اس جگہ بیان ہوئیں :
219: ” ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ 1ۚ“ یہ تو آٹھ نرومادہ ہیں۔ (تفہیم ) ” آٹھ نرو مادہ “ (ابن کثیر مترجم ) ” آٹھ جوڑے “ (ضیاء القرآن ) ” چوپایوں کی آٹھ قسموں کو لو “ (تدبر) ” آٹھ نر و مادہ پیدا کئے “ (مظہری مترجم ) ” پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ “ (جواہر القرآن ) ” آٹھ جوڑے پیدا کئے “ (عثمانی ) یہ آٹھ قسم یا آٹھ جوڑے اس طرح مکمل کئے گئے ” بھیڑ میں سے دو نر و مادہ ، بکری میں سے دو نر و مادہ ، اونٹ میں سے دو نر و مادہ ، گائے میں سے دو نر و مادہ “ یہ معروف چوپائے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا چار تھے۔ بھیڑ ، بکری ، اونٹ اور گائے ان کے جوڑے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–150
Commentary
Mentioned in the previous verses was how astray the disbelievers of Makkah had gone when they had taken their self-carved, lifeless, insensate idols as partners in the Divinity of Allah as they made them share in animals created by Him and in many other blessings which were bestowed on them. Their transgression went to the limits when they would take out charities from these blessings as an act of worship, setting aside a portion for Allah and another for their idols. Then, they would employ different excuses to take out what belonged to the portion set aside for Allah and put it…
Read the full tafseer →119. That is, they should come forward with arguments based on sound, reliable knowledge, rather than with arguments which have no authority except that of ancestral tradition, conjecture or superstition.
Read the full tafseer →