Al-An'aam 6:138

Al-An'aam · from ayah 138

6:138

وَقَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ ۖۗ— لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَاَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ ؕ— سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۟وَقَالُوۡا هٰذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ‌ۖ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَاَنۡعَامٌ حُرِّمَتۡ ظُهُوۡرُهَا وَاَنۡعَامٌ لَّا يَذۡكُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰهِ عَلَيۡهَا افۡتِرَآءً عَلَيۡهِ ‌ؕ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "These animals and crops are forbidden; no one may eat from them except whom we will," by their claim. And there are those [camels] whose backs are forbidden [by them] and those upon which the name of Allah is not mentioned - [all of this] an invention of untruth about Him. He will punish them for what they were inventing.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 16 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:138

کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، ا نہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کر دی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیا ہے، عنقریب اللہ انہیں ان افترا پرداز یوں کا بدلہ دے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه اپنے خیال پر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کچھ مواشی ہیں اور کھیت ہیں جن کا استعمال ہر شخص کو جائز نہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا سوائے ان کے جن کو ہم چاہیں اور مواشی ہیں جن پر سواری یا باربرداری حرام کردی گئی اور کچھ مواشی ہیں جن پر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے محض اللہ پر افترا باندھنے کے طور پر۔ ابھی اللہ تعالیٰ ان کو ان کے افترا کی سزا دیئے دیتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یوں کہتے ہیں کہ : ان چوپایوں اور کھیتیوں پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ ان کا زعم یہ ہے کہ : ان کو سوائے ان لوگوں کے کوئی نہیں کھا سکتا جنہیں ہم کھلانا چاہیں۔ ۔ اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جن کی پشت حرام قرار دی گئی ہے، اور کچھ چوپائے وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے۔ جو افترا پردازی یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ انہیں عنقریب اس کا پورا پورا بدلہ دے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے یہ مویشی اور کھیتی روکی ہوئی ہے اسے وہی کھائے جسے ہم چاہیں اپنے جھوٹے خیال سے اور کچھ مویشی ہیں جن پر چڑھنا حرام ٹھہرایا اور کچھ مویشی کے ذبح پر اللہ کا نام نہیں لیتے یہ سب اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے، عنقریب وہ انہیں بدلے دے گا ان کے افتراؤں کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اپنے خیالِ (باطل) سے (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (مخصوص) مویشی اور کھیتی ممنوع ہے، اسے کوئی نہیں کھا سکتا سوائے اس کے جسے ہم چاہیں اور (یہ کہ بعض) چوپائے ایسے ہیں جن کی پیٹھ (پر سواری) کو حرام کیا گیا ہے اور (بعض) مویشی ایسے ہیں کہ جن پر (ذبح کے وقت) یہ لوگ اﷲ کا نام نہیں لیتے (یہ سب) اﷲ پر بہتان باندھنا ہے، عنقریب وہ انہیں (اس بات کی) سزا دے گا جو وہ بہتان باندھتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہیں، انھیں اس کے سوا کوئی نہیں کھائے گا جسے ہم چاہیں گے، ان کے خیال کے مطابق اور کچھ چوپائے ہیں جن کی پیٹھیں حرام کی گئی ہیں اور کچھ چوپائے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے، اس پر جھوٹ باندھتے ہوئے۔ عنقریب وہ انھیں اس کی جزا دے گا جو وہ جھوٹ باندھتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہتے ہیں کہ اس اس قسم کے مویشی اور کھیتی ممنوع ہیں۔ انہیں ان کے گمان کے مطابق وہی کھا سکتا ہے جسے وہ چاہیں۔ اور کچھ مویشی ہیں جن کی پشتیں حرام ہیں (ان پر نہ کوئی سوار ہوسکتا ہے نہ بوجھ لاد سکتا ہے) اور کچھ مویشی ایسے ہیں جن پر وہ (ذبح کے وقت) اللہ کا نام نہیں لیتے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے۔ اور اللہ عنقریب انہیں ان کی افتراء پردازیوں کا بدلہ دے دے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کہتے ہیں فلاں فلاں چوپائے اور فلاں فلاں کھیتی ممنوع ہے، ان کو نہیں کھا سکتے مگر وہی جن کو ہم چاہیں، اپنے گمان کے مطابق، اور کچھ چوپائے ہیں جن کی پیٹھیں حرام ٹھہرائی گئی ہیں اور کچھ چوپائے ہیں جن پر خدا کا نام نہیں لیتے، محض اللہ پر افترا کے طور پر اللہ عنقریب ان کو اس افترا کا بدلہ دے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ یہ جانور اور کھیتی ممنوع ہیں، ان کو کوئی نہیں کھا سکتا بجز اس کے جس کو ہم چاہیں، ان کے اپنے گمان کے مطابق، اور کچھ جانوروں (کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ان) پر سواری حرام کردی گئی، اور کچھ جانور وہ ہیں جن پر یہ لوگ اللہ کا کام نہیں لیتے، (یہ سب کچھ محض) اللہ پر افتراء باندھتے ہوئے، عنقریب ہی اللہ بدلہ دے گا ان کو ان کی ان افتراء پردازیوں کا جو یہ لوگ کرتے رہے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور کہتے ہیں اپنے خیال کے مطابق کہ یہ (فلاں فلاں) مواشی اور کھیت ممنوع ہیں انہیں کوئی نہیں کھا سکتا سوا ان کے جن کو ہم چاہیں اور (فلاں) چوپائے ہیں کہ ان کی پشت حرام کردی گئی ہے اور (فلاں) چوپائے ہیں کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے ہیں (یہ سب) اللہ ہی پر بہتان باندھے ہوئے۔ (اللہ) انہیں ابھی بدلہ دیتا ہے اس بہتان کا جو یہ باندھ رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیتی ممنوع ہیں ان کو نہیں کھا سکتے مگر وہی جن کے بارے میں ہم چاہیں اپنے گمان کے مطابق اور کچھ چوپائے ہیں جن کی پیٹھیں حرام ٹھہرائی گئی ہیں اور کچھ چوپائے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے یہ سب کچھ جھوٹ گھڑتے ہیں اس پر اللہ عنقریب انہیں سزا دے گا ان کے اس افترا کی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی دوسرا نہ کھائے اور بعض جانوروں کی سواری منع کردی گئی اور بعض کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیتے یہ سب اللہ پر جھوٹا الزام ہے۔ وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ ضرور دے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: 'These animals and these crops are sacrosanct: none may eat of them save those whom we will' - imposing interdictions of their own contriving. And they declare that it is forbidden to burden the backs of certain cattle, and these are the cattle over which they do not pronounce the name of Allah. All these are false fabrications against Allah, and He will soon requite them for all that they fabricate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :These are prohibited cattle and produce; none can eat them except those whom we wish - so they claimed - :and there are cattle whose backs are prohibited (for riding or loading) , and there are cattle over which they do not pronounce the name of Allah,__all being fabrications against Him. He will soon punish them for what they have been fabricating.

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :These are prohibited cattle and produce; none can eat them except those whom we wish - so they claimed - :and there are cattle whose backs are prohibited (for riding or loading) , and there are cattle over which they do not pronounce the name of Allah,__all being fabrications against Him. He will soon punish them for what they have been fabricating.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And according to their claim, they say that such and such cattle and crops are Hijr (forbidden), and none should eat of them except those whom we allow. And (they say) there are cattle forbidden to be used for burden, and cattle on which (at slaughtering) the Name of Allah is not pronounced; lying against Him (Allah). He will recompense them for what they used to fabricate.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: Such cattle and crops are forbidden. No-one is to eat of them save whom we will - in their make-believe - cattle whose backs are forbidden, cattle over which they mention not the name of Allah. (All that is) a lie against Him. He will repay them for that which they invent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "These animals and crops are forbidden; no one may eat from them except whom we will," by their claim. And there are those [camels] whose backs are forbidden [by them] and those upon which the name of Allah is not mentioned - [all of this] an invention of untruth about Him. He will punish them for what they were inventing.

— Saheeh International

They, (the pagans), have said that their cattle and farms are dedicated to private idols and that no one can consume (the produce) except those whom We wanted, in their opinion. They prohibited the riding of certain animals and they ate the flesh of certain animals slaughtered without a mention of the Name of God. Instead, they ascribed falsehood to Him. They will all be given an evil recompense for their sinful invention.

— Muhammad Sarwar

And they say: These are cattle and tilth prohibited, none shall eat them except such as We please-- so they assert-- and cattle whose backs are forbidden, and cattle on which they would not mention Allah's name-- forging a lie against Him; He shall requite them for what they forged.

— Muhammad Habib Shakir

And they say according to their fancy: such cattle and tilth are taboo none shall eat thereof save whom we allow, and there are cattle whose backs are forbidden, and cattle over which they pronounce not the name of Allah: a fabrication against Him Anon He shall requite them for that which they were wont to fabricate.

— Abdul Majid Daryabadi

And they say that such and such cattle and crops are taboo, and none should eat of them except those whom - so they say - We wish; further, there are cattle forbidden to yoke or burden, and cattle on which, (at slaughter), the name of Allah is not pronounced; - inventions against Allah's name: soon will He requite them for their inventions.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:138

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ کا مقرر کردہ راستہ حجر کے معنی احرام کے ہیں۔ یہ طریقے شیطانی تھے کوئی اللہ کا مقرر کردہ راستہ نہ تھا۔ اپنے معبودوں کے نام یہ چیزیں کردیتے تھے۔ پھر جسے چاہتے کھلاتے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا) 10۔ یونس :59) یعنی بتلاؤ تو یہ اللہ کے دیئے رزق میں سے تم جو اپنے طور پر حلال حرام مقرر کرلیتے ہو اس کا حکم تمہیں اللہ نے دیا ہے یا تم نے خود ہی خود پر تراش لیا ہے ؟ دوسری آیت میں صاف فرمایا آیت (مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 111 اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ بعض جانوروں کے متعلق یا بعض کھیتیوں کی پیداوار کے متعلق منت مان لیتے تھے کہ یہ فلاں آستانے یا فلاں حضرت کی نیاز کے لیے مخصوص ہیں۔ اس نیاز کو ہر ایک نہ کھا سکتا تھا بلکہ اس کے لیے ان کے ہاں ایک مفصل ضابطہ تھا جس کی رو سے مختلف نیازوں کو مختلف قسم کے مخصوص لوگ ہی کھا سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہ صرف مشرکانہ افعال میں شمار کرتا ہے، بلکہ اس پہلو پر بھی تنبیہ فرماتا ہے کہ یہ ضابطہ ان کا خود ساختہ ہے۔ یعنی جس خدا کے رزق میں سے وہ یہ منتیں مانتے اور نیازیں کرتے ہیں اس نے نہ ان منتوں اور نیازوں کا حکم دیا ہے اور نہ ان کے کھانے کے متعلق یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 137–140

ربط آیات پچھلی آیتوں میں مشرکین کے عقائد باطلہ شرکیہ کفریہ کا بیان تھا، ان آیات میں ان کی عملی غلطیوں اور جاہلانہ رسموں کا ذکر ہے، جن رسوم جاہلیت کا ذکر ان آیات میں آیا ہے وہ یہ ہیں، اول غلہ اور پھل میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکالتے ہیں اور کچھ بتوں اور جنّات کے نام کا، پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو اسی طرح ملا رہنے دیتے تھے، اور معاملہ برعکس ہوتا تو اس کو نکال کر پھر بتوں کے حصہ کو پورا کردیتے تھے اور بہانہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کا حصہ کم ہوجانے سے اس کا کوئی ضرر نہیں، اور شرکاء محتاج ہیں، ان کا حصہ نہ گھٹنا چاہئے، اس رسم بد کا بیان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَالُوْا هٰذِهٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ ڰ لَّا يَطْعَمُهَآ اِلَّا مَنْ نَّشَاۗءُ بِزَعْمِهِمْ۔ حجر کے معنی ممنوع کے ہیں لیکن یہ لفظ عرب جاہللیت کی ایک دینی اصطلاح ہے۔ اس سے مراد وہ چیز ہو ہوتی ہے جو کسی دینی رسم کے تحت ممنوع ہو اسلامی اصطلاح اس کے لیے حرام کی ہے۔ یہ ان کے تھانوں اور استھانوں کے پروہتوں اور مجاوروں کے من گھڑت فتوے نقل ہو رہے ہیں۔ ان کے ہاں زمینی پیداوار چوپایوں کے جو چڑھاوے پیش ہوتے ان کے کھانے کے باب میں چڑھاوے کی نوعیت کے اعتبار سے بڑی بڑی قیدیں اور پابندیاں تھیں۔ مثلاً مرد کھا سکتے ہیں، عورتیں نہیں کھا سکتیں، یا بیوہ کھا سکتی ہے سہاگن یا کنواری نہیں ہاتھ لگا سکتی، یا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

138۔ 1 اس میں ان کی جاہلی شریعت اور اباطیل کی تین صورتیں اور بیان فرمائی ہیں۔ حجرً (بمعنی منع) اگرچہ مصدر ہے لیکن مفعول یعنی مَحْجُوْر (ممنوع) کے معنی ہیں یہ پہلی صورت ہے کہ جانور یا فلاں کھیت کی پیداوار، ان کا استعمال ممنوع ہے۔ اسے صرف وہی کھائے گا جسے ہم اجازت دیں گے۔ یہ اجازت بتوں کے خادم اور مجاورین کے لئے ہوتی ہے۔ 138۔ 2 یہ دوسری صورت ہے کہ مختلف قسم کے جانوروں کو اپنے بتوں کے نام آزاد چھوڑ دیتے ہیں جن سے وہ بار برداری یا سواری کا کام نہ لیتے جیسے تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ 138۔ 3 یہ تیسری صورت ہے کہ وہ ذبح کرتے وقت صرف اپنے بتوں کا نام لیتے ہیں، اللہ کا نام نہ لیتے، بعض نے اس کا مفہوم یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

68: یہ ایک اور رسم کا بیان ہے جس کی رو سے وہ اپنے من گھڑت دیوتاؤں کو اپنے گمان کے مطابق خوش کرنے کے لئے کسی خاص کھیتی یا مویشی پر پابندی لگا دیتے تھے کہ ان کی پیداوار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتا، البتہ جس شخص کو چاہتے اس پابندی سے مستثنی کردیتے تھے۔ 69: ایک اور رسم یہ تھی کہ کسی سواری کے جانور کو کسی بت کے نام وقف کردیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اس پر سواری کرنا حرام ہے۔ 70: بعض جانوروں کے بارے میں انہوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیا جاسکتا، نہ ذبح کرتے وقت، نہ سواری کے وقت اور نہ ان کا گوشت کھاتے وقت، چنانچہ ان پر سوار ہو کر حج کرنے کو بھی ناجائز سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت ” نمبر 138۔ ابن جریر طبری کہتے ہیں ان جاہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ لوگ از خود بعض چیزوں کو حلال قرار دیتے تھے اور بعض کو حرام قرار دیتے تھے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قانون سازی کے اختیارات نہیں دیئے تھے ۔ آیت میں لفظ حجر کے معنی حرام کے ہیں ۔ یہ لوگ جو اللہ کے حق قانون سازی اور حق حاکمیت پر دست درازی کرتے تھے ‘ یہ دعوی کرتے تھے ‘ کہ یہ اللہ کی شریعت ہے جو ایک جرم ہے ۔ انہوں نے اپنی فصلوں کے ایک حصے کو اور بعض قسم کے مویشیوں کو اپنے الہوں کے لئے مختص کر رکھا تھا جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پھل اور مویشی ان کے لئے حرام ہیں اور ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 مثلاً مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں یا صرف مہنت کھا سکیں جو بت خانوں کے مجاور تھے۔ یہ قیود اپنے خیال میں بعض مواشی اور کھیتوں کے متعلق عائد کر رکھی تھیں جو بتوں کے نام پر وقف کئے جاتے تھے، اسی طرح بعض جانوروں کی پیٹھ پر سواری اور بار برداری کو حرام سمجھتے تھے۔ بعض جانوروں کی نسبت یہ اقرار دیا تھا کہ ذبح کرنے یا سواری لینے یا دودھ نکالنے کے وقت ان پر خدا کا نام نہ لیا جائے کہیں بتوں کی چیز میں خدا کی شرکت نہ ہوجائے۔ پھر غضب یہ تھا کہ ان خرافات اور جہالتوں کو خدا کی طرف نسبت کرتے تھے۔ گویا اس نے معاذ اللہ یہ احکام دیے ہیں اور ان ہی طریقوں سے اس کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایسی بد عنوانیوں کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 138 وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌق لاَّ یَطْعَمُہَآ اِلاَّ مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِہِمْ یعنی یہ ساری خود ساختہ پابندیاں وہ بزعم خویش درست سمجھتے تھے۔ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَاَنْعَامٌ لاَّ یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا افْتِرَآءً عَلَیْہِ ط۔ یعنی اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت بعض جانوروں کو سواری اور بار برداری کے لیے ممنوع قرار دیتے تھے اور کچھ حیوانات کے بارے میں طے کرلیتے تھے کہ ان کو جب ذبح کرنا ہے تو اللہ کا نام ہرگز نہیں لینا۔ لہٰذا اس سے پہلے آیت 121 میں جو حکم آیا تھا کہ مت کھاؤ اس چیز کو جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے وہ دراصل ان کے اس عقیدے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 138–139

148 مشرکوں کی اپنی وضع کردہ شریعت :۔ ان مشرکوں کی مشرکانہ رسوم کی فہرست بڑی طویل ہے۔ ان کے بزرگوں نے آہستہ آہستہ پوری شریعت ہی وضع کر ڈالی تھی جن میں سے چند مزید امور کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ ہیں۔ (1) ان مشرکوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ جس کھیتی یا مویشی کے متعلق وہ یہ منت مان لیتے کہ وہ فلاں بت یا فلاں دربار یا فلاں سیدہ کے لیے مخصوص ہے تو ایسی نیاز کو ہر ایک نہیں کھا سکتا تھا بلکہ اس کے متعلق بھی انہوں نے ایک فہرست بنا رکھی تھی۔ کہ فلاں قسم کی نذر ہو تو اسے فلاں فلاں لوگ کھا سکتے ہیں اور فلاں قسم کی ہو تو فلاں فلاں۔ (2) جن مویشیوں کو بتوں یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

206 ۔ یہ سب جاہلیت عرب کے مختلف دستوروں کا بیان ہورہا ہے۔ اور ان سے ملتی ہوئی رسمیں دوسری مشرک قوموں میں بھی عام ہیں۔ (آیت) ” افترآء علیہ “۔ کمال افتراء یہ ہے کہ ان مشرکانہ رسموں کو عبادت اور ذریعہ تقرب الہی مشہور کر رکھا ہے ! (آیت) ” حجر “۔ یعنی عام استعمال کے لیے مخصوص۔ یقال فلان فی حجر فلان ای فی منع منہ عن التصرف فی مالہ وکثیر من احوالہ (راغب) الحجر لفظ مشترک وھو ھنا بمعنی الحرام واصلہ المنع (قرطبی) الحجر الممنوع منہ بتحریمہ (راغب) قال قتادۃ یعنی حراما واصلہ المنع (جصاص) (آیت) ” الامن نشآء “۔ یہ کھانا مخصوص انہی مندروں کے پجاریوں پروہتوں کے لیے تھا۔ وھم خدام الاصنام (قرطبی) یعنون خدم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 136–140

وَجَعَلوا للہ مما۔۔۔۔ نصیباً ۔ اس آیت میں مشرکوں کے اس عقیدہ و عمل کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر گھڑ رکھا تھا کہ وہ زمینی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کیلئے اور کچھ حصہ خود ساختہ معبودوں کے لئے مقرر کرلیتے تھے، اللہ کے حصہ کو مہمانوں محتاجوں اور صلہ رحمی پر خرچ کرتے تھے اور بتوں کے حصہ کو بتوں کے مجاوروں اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے، پھر اگر بتوں کے حصہ میں توقع کے مطابق پیداوار نہ ہوتی تو اللہ کے حصہ میں سے نکال کر بتوں کے حصہ میں شامل کرلیتے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہوتا تو بتوں کے حصہ میں سے نہ نکالتے اور کہہ دیتے کہ اللہ تو غنی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا ہذہ . اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ یعنی جو کھیتی اور چوپائے اللہ کے نام اور بتوں کے نام کے وہ کر رکھتے ہیں وہ انعام و حرث حجر . ممنوع چوپائے اور ممنوع کھیت ہیں یعنی حرام ہیں۔ حجر : مصدر ہے اس کا اطلاق واحد جمع اور مذکر مونث سب پر یکساں ہوتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ انعام سے مراد ہیں بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام۔ لا یطعمہا الا من نشآء بزعمہم . جن کو ان کے گمان کے مطابق سوائے اس کے جس کو وہ چاہیں اور کوئی نہیں کھا سکتا۔ یعنی عورتیں نہیں کھا سکتیں صرف مرد اور بتوں کے مجاور کھا سکتے ہیں۔ بزعمہم : سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے خیال سے بغیر کسی دلیل کے حرمت حلت بناتے ہیں۔ وانعام حرمت ظہورہا . اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(138) اور یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مخصوص مویشی مثلا بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، اور حام کہ ان کا گوشت عورتوں کو کھانا حرام ہے ان کو صرف مرد ہی کھاسکتے ہیں اور ان کے زعم میں حام پر سواری حرام اور بحیرہ پر اللہ کا نام نہیں لیا جاتا، نہ بار برداری کرتے وقت اور نہ سوار ہوتے وقت سب کچھ یہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے کہ اس نے ہمیں ان باتوں کا حکم دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

’ حِجْرٌ“ بمعنی ”مَحْجُوْرٌ“ ہے، یعنی ممنوع۔ اس میں ان کی جاہلیت کی تین اور صورتیں بیان فرمائی ہیں، پہلی صورت یہ کہ فلاں جانور یا کھیت کا استعمال ممنوع ہے، مگر اس کے لیے جسے ہم اجازت دیں گے اور یہ اجازت بت خانوں کے مجاوروں اور خادموں کے لیے ہوتی تھی۔ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا : یہ دوسری صورت ہے کہ وہ مختلف قسم کے جانوروں کو اپنے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور ان سے سواری یا بوجھ اٹھوانے کا کام نہ لیتے، جیسے بحیرہ، سائبہ وغیرہ۔ دیکھیے سورة مائدہ (103)۔ وَاَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا۔۔ : یہ تیسری صورت ہے کہ وہ کچھ جانوروں کو بت خانوں کے مجاوروں کے لیے خاص کرتے ہوئے انھیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 138 اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کی ایک دوسری قسم بینا کی ہے۔ ابان بن عثمان حجر حا اور جیم کے ضمہ کے ساتھ قرات کی ہے۔ اور حسن اور قتادہ نے حا کے فتۃ اور جیم کے سکون کے ساتھ حجر پڑھا ہے۔ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ اور حسن سے حا کے ضمہ کے ساتھ حجر بھی منقول ہے۔ ابو عبید نے ہارون سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : سارے قرآن کریم میں حجر کے لفظ کو حسن حا کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں سوائے اس قول کے : آیت : برزخا وحجرا محجورا ( الفرقان) اس مقام پر وہ کسرہ پڑھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر ؓ عنہھم سے روایت ہے وحرث حرج اس میں راجیم سے پہلے ہے۔ اسی طرح مصحف ابی میں ہے اور اس میں دو قل ہیں : ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر کے بارے میں فرمایا کہ (اس میں) حجر سے مراد ہے کہ جو انہوں نے حرام کیا وصیلہ سے اور اسی جیسے دیگر وہ جانور ہیں جو انہوں نے حرام کر رکھے تھے اور اس سے مراد ان چیزوں کو حرام قرار دینا ہے جو انہوں نے حرام کی ہوئی تھیں۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر یعنی جو کچھ انہوں نے اللہ کے لئے اپنے شرکاء کے لئے رکھا تھا۔ (3) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْا [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] هٰذِهٖٓ [ یہ ] اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ ڰ [ یہ ممنوع مویشی اور کھیتی ہیں ] لَّا يَطْعَمُهَآ [ نہیں کھاتا اس کو ] اِلَّا [ مگر ] مَنْ [ وہ جسے ] نَّشَاۗءُ [ ہم چاہیں ] بِزَعْمِهِمْ [ ان کے گمان میں ] وَاَنْعَامٌ [ اور مویشی ] حُرِّمَتْ [ حرام کیا گیا ] ظُهُوْرُهَا [ جن پر سوار ہونا ] وَاَنْعَامٌ [ اور مویشی ] لَّا يَذْكُرُوْنَ [ وہ لوگ یاد نہیں کرتے ] اسْمَ اللّٰهِ [ اللہ کا نام ] عَلَيْهَا [ جن پر ] افْتِرَاۗءً [ گھڑتے ہوئے ] عَلَيْهِ ۭ [ اس پر (یعنی اللہ پر )] سَيَجْزِيْهِمْ [ وہ بدلہ دے گا ان کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 137–139

مشرکین کا اپنی اولاد کو قتل کرنا اور کھیتیوں اور جانوروں کے بارے میں اپنی طرف سے تحریم اور تحلیل کے قواعد بنانا اس دنیا میں ہادی عالم رحمتہ للعالمین ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے پوری دنیا جہالت، ضلالت، سفاہت، کفر و شرک سے بھری ہوئی تھی۔ عرب کے لوگ مشرک بھی تھے اور جاہل بھی، ان میں جہالت اور جاہلیت دونوں پوری طرح جگہ پکڑے ہوئی تھی طرح طرح کی شرکیہ رسمیں نکال رکھی تھیں۔ جانوروں اور ان کے بچوں اور کھیتیوں کے بارے میں طرح طرح کے افعال قبیحہ میں مبتلا تھے اور یہ افعال اور رسوم انہیں شیاطین الجن اور شیاطین الانس نے سجھا رکھی تھیں جن میں بعض کا ذکر (فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ ) میں اور بعض کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 136–140

ابطال رسوم جاہلیت قال اللہ تعالیٰ وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام۔۔۔ الے۔۔۔ وما کانو مھتدین (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کی اعتقادی جہالتوں کا بیان تھا اب ان آیات میں ان کی بعض عملی جہالتوں یعنی ان کی بعض جاہلانہ رسموں اور عادتوں کو بیان کرتے ہیں وہ رسمیں یہ ہیں۔ رسم اول : اور من جملہ ان کی ہزاروں جہالتوں کے ایک جہالت یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز اللہ کے لیے مقرر کیا۔ یعنی مشرکین عرب میں ایک رسم یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز کے خدا کے نام کا نکالتے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے اللہ کا حصہ مہمانوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 138–139

152 یہ تحریمات غیر اللہ کا دوسری بار ذکر ہے۔ یہاں باقی ماندہ صورتوں میں سے چار کا ذکر ہے۔ 1 ۔ ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌالخ۔ کچھ چوپایوں اور کھیتوں کو وہ اپنے معبودوں کے لیے مقرر کردیتے تھے اور کہتے تھے انہیں کوئی نہیں کھا سکتا۔ 2 ۔ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُھُوْرُھَا۔ بعض نام زد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 3 ۔ وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا۔ جن چوپایوں کو وہ غیر اللہ کے لیے نامزد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 4 ۔ وَ قَالُوْا مَافِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہٖ الاَْنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا الخ۔ بحائر وسوائب کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 138–140

گذشتہ آیات کی طرح یہ آیات بھی شرک ہی سے متعلق ہیں ان آیات میں بھی عملی شرک ہی کا بیان ہے۔ مشرکین عرب نے جو رسومات باطلہ ایجاد کر رکھی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا ہے ، وہ لوگ دو طرح کے نذر و نیاز دیتے تھے ، ایک اللہ کے نام پر اور دوسری معبودان باطلہ کے نام پر اور پھر اللہ کے حصے کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے تھے مگر غیر اللہ کی نذر کے لیے خاص اہتمام کرتے تھے اور اس پر کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ قتل اولاد کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ کہ وہ لوگ اولاد کو مختلف حیلوں سے قتل کردیتے تھے۔ کبھی ننگ و ناموس کے نام پر اور کبھی معاشی تنگدستی کے پیش نظر گر سب سے بڑی قباحت یہ تھی کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ۝ 0 ۤۖ لَّا يَطْعَمُہَآ اِلَّا مَنْ نَّشَاۗءُ بِزَعْمِہِمْ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَاَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَيْہَا افْتِرَاۗءً عَلَيْہِ۝ 0 ۭ سَيَجْزِيْہِمْ بِمَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۝ 138 نعم ( جانور) [ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ ذبح کرتے وقت یہ وہ تھے کہ جن کو بتوں کے نام پر چھوڑ رکھا تھا۔ ترکیب : لایطعمہا موضع رفع میں صفت ہے حرث کی حجر بکسر جاء و سکون جیم اور بضم حاء و سکون جیم بھی جائز ہے۔ اس کے معنی منع اور حرام افترائً مفعول مطلق بھی ہوسکتا ہے کس لئے کہ ان کا قول سابق افتراء ہے ‘ اے یفترون افترائً اور مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے۔ اول صورت میں علیہ قالوا سے متعلق ہوگا۔ دوسرے میں نفس مصدر سے ما بمعنی الذی مبتداء خالصۃ خبرو التانیث لرعایۃ المعنی لان ما فی البطون انعام وقیل للمبالغۃ کعلامۃ والمعنی حلال وصفہم منصوب ہے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے سفہاء مفعول لہ ہے یا تمیز مختلفا حال مقدرہ ہے۔ ایسا ہی متشابہا حمولۃ وفرشا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 138–140

ارشاد ہوتا ہے : وَقَالُوْا ھٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ ق صلے لَّا یَطْعَمُھَآ اِلَّا مَنْ نَّشَآئُ بِزَعْمِھِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُھُوْرُھَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا افْتِرَآئً عََلَیْہِ ط سَیَجْزِیْھِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ وَ قَالُوْا مَا فِی بُطُوْنِ ھٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ج وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَھُمْ فِیْہِ شُرَکَآئُ ط سَیَجْزِیْھِمْ وَصْفَھُمْ ط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ قَدْخَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَھُمْ سَفَھًام بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللہ ُ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 138–140

فہم القرآن ربط کلام : مشرکوں کے شرک و رسومات کی مزید تفصیلات زمانۂ جاہلیت میں کفار اور مشرکین نے اپنے مویشیوں اور کھیتیوں کو چار اقسام میں تقسیم کر رکھا تھا۔ 1۔ غیر اللہ کے نام پر مخصوص کیے ہوئے مویشی اور کھیت جنہیں مجاورین کی اجازت کے بغیر کوئی استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ 2۔ جو جانور غیر اللہ اور آستانوں کے لیے وقف کیے جاتے ان پر سواری کرنا بھی ان کے ہاں جائز نہیں تھا۔ 3۔ غیر اللہ کے نام پر وقف کیے ہوئے جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 4۔ وقف کی ہوئی اونٹنی، گائے، بکری کا دودھ پینامردوں کے لیے جائز اور عورتوں کے لیے حرام تھا اسی طرح ان جانوروں سے جو بچہ پیدا ہوتا اس کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

افتراء پردازی کے مزید نمونے : آیت 138: وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ بتوں کے لئے حِجْرٌ حرام ہے۔ یہ فعل بمعنی مفعول ہے۔ جیسا ذبح بمعنی مذبوح ٗ طحن بمعنی مطحون اور اس صفت میں تذکیر و تانیث اور واحد وجمع برابر ہیں کیونکہ اس کا حکم اسماء کا ہے جو صفت نہیں ان کا طرز عمل یہ تھا کہ جب وہ بعض اشیاء اپنی کھیتی اور چوپائوں میں اپنے الٰہ کے نام معین کرلیتے تو وہ کہتے لاَّیَطْعَمُہَآ اِلاَّ مَنْ نَّشَآئُ بِزَعْمِہِمْ من نشاء سے وہ بتوں کے خدام اور فقط مرد عورتیں مراد لیتے تھے۔ الزعم گمان سے کوئی بات کہنا جس میں جھوٹ کی ملاوٹ ہو۔ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وہ بحیرہ ٗ سائبہ ٗ حام تھے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 138 (وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر) یعنی حرام ہے۔ یعنی جو کھیتی اور مویشی اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لئے خاص کی ہے وہ حرام ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مویشیوں سے بحیرۃ ، سائبۃ ، وصیلۃ حام مراد ہیں۔ (لایطعمھآ الا من نشآء بزعمھم) یعنی مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں (وانعام حرمت ظھورھا) یعنی حام کی پیٹھ پر سوار نہ ہوتے تھے (وانعام لا یذکرون اسم اللہ علیھا) یعنی ان کو بتوں کے نام کے ساتھ ذبح کرتے ہیں۔ ابو وائل کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ان پر نہ نج کرتے ہیں اور نہ کوئی نیکی کا کام۔ اس لئے کہ یہی عادت جاری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام ہر خیر کے کام پر لیا جاتا ہے تو یہاں اللہ کے ذکر سے فعل خیر مراد لیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اوپر کے سلسلہ میں مشرکین مکہ کی یہ ایک اور نادانی کا ذکر ہے۔ یہ لوگ کچھ جانوروں کو اور کچھ کھیتی کے حصہ کو بتوں کے نام کا ٹھہرا کر عورتوں پر اس کو حرام کردیتے تھے فقط بتوں کے پوجاری اور مرد اس کو کام میں لاتے تھے اسی طرح بعضے جانوروں کو بتوں کے نام پر آزاد کر کے چھوڑ دیتے تھے جس کے سبب سے ان پر سواری کا کرنا اور بوجھ کا لادنا حرام ٹھہرا دیا جاتا تھا ان سب باتوں کو یہ لوگ یوں مشہور کرتے تھے کہ دین ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) میں ہم کو اسی طرح ان باتوں کا حکم ہے اس واسطے ہم ان باتوں کو اپنے دین کے موافق کرتے ہیں اس آیت میں تو ان باتوں کا ذکر فرمایا کر مختصر طور پر فقط اتنا ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 136–140

آیت 136 اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ چناچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں، حق میں نقص کا باعث نہیں۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (وجعلو اللہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیباً ) ” اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔ “…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 138–140

قول باری ہے ( وقالوا ھذہ انعام وحدث حجر۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں) ضحاک کا قول ہے کہ حرث سے وہ کھیتی مراد ہے جسے وہ بتوں کے لیے وقف کردیتے تھے۔ پہلی آیت میں مذکورہ انعام سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں کھیتی کی طرح بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے تا کہ ان بتوں کی دیکھ بھال کرنے والے مہنتوں اور خدمت گاروں کے اخراجات ان سے پورے کیے جاسکیں۔ ایک قول ہے ان انعام سے وہ جانور مراد ہیں جو ان بتوں پر قربان کرنے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ دوسری آیت میں مذکورہ انعام سے سائبہ، وصیلہ اور حامی مراد ہیں حسن اور مجاہد کا یہی قول ہے ( ان جانوروں پر مفصل نوٹ پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔ ) تیسری دفعہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

268 منکرین و مفترین کو ان کی ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے منکرین و مفترین کو ان کے ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی فرما دی گئی کہ ان کو اِ فترا علی اللہ کی سزا بہرحال بھگتنا ہوگی۔ یعنی اپنی ان باتوں کی سزا جن کو یہ از خود اپنے طور پر اللہ کے ذمے لگاتے تھے بغیر کسی سند و دلیل کے۔ سو یہ لوگ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتیں گے اور خاص کر اس بات کا کہ انہوں نے اللہ پاک کی طرف ایسی باتوں کو منسوب کیا تھا جو کہ اس نے نہیں فرمائی تھیں۔ اور جو اس کی شان اقدس و اَعلیٰ کے لا ئق نہیں تھیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا ایک سنگین جرم ہے اور کسی کو کسی بھی طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 138–140

مشرکوں کی غلط رسمیں تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں ان کی بےہودہ رسموں کا ذکر کیا گیا ہے ان آیات میں ان کو دہرایا گیا ہے۔ ایک بہت بری رسم جاہل عربوں میں یہ بھی تھی کہ اگر ان کے گھر لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو زندہ دفن کردیتے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ جب اس کی شادی ہوگی یہ کسی کی بیوی بن جائے گی تو ہماری عزت اور غیرت ختم ہوجائے گی اور کبھی غربت کے ڈر سے مار دیتے کہ اس کو کیسے پالیں گے۔ یہ گناہ عظیم وہ کرتے اور اللہ کی دی ہوئی حلال چیزوں کو خود ہی حرام ٹھہراتے اور حرام کو حلال بنا دیتے اور پھر کہتے کہ یہ سب کچھ ہم اللہ کے حکم سے کرتے ہیں۔ ایک تو گناہ کرتے اور پھر اللہ پر جھوٹا بہتان بھی لگاتے۔ کیونکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 131–141

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141: اسرار و معارف : میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی انہوں نے محض اپنے خیال سے کھیتی اور چوپایوں کے حصے مقرر کر رکھے تھے، حجر کے اصل معنی مندش لگانے اور منع کرنے کے ہیں اور یہاں اس کے معنی حرام کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس کھیتی یا چار پائے کو بتوں کے کے نام وقف کرتے اور اس پر بندش لگاتے کہ اس کو بت خانوں کے بجاری اور مردیہی کھاسکتے ہیں عورتوں پر حرام ہے۔ (قرطبی)9 جیسے بحیرہ سائبہ اور حام۔ دیکھئے سورة مائدہ آیت 103 (کبیر)10 یعنی یہ سب جہالت اور وہم پرستی کے کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی نسبت محض جھوٹ ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی جہالتوں کا کبھی حکم نہیں دیا۔ ( ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:138) حجر۔ ممنوع۔ عقل۔ اصل میں جس مکان کا احاطہ پتھروں سے بنایا جائے اسے حجر کہنا جانا ہے ۔ اس لئے غطیم کعبہ اور دیار ثمود کو حجر کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے : ولقد کذت اصحب الحجر المرسلین (15:80) اور وادی حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ اور حجر (پتھروں سے احاطہ کرنا) سے حفاظت اور روکنے کے معنی لے کر عقل انسانی کو بھی مجر کہا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے : ہل فی ذلک قسم لذی حجر (89:5) کیا بیشک یہ چیزیں قسم کھانے کے لائق ہیں۔ حجر حرام چیز کو بھی کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیتی حرام ہیں ۔ یہاں حجر اسم مصدر ہے جو اسم مفعول (محجور) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جس طرح ذبح مذبوح کے معنوں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 137–140

لغات القرآن : آیت نمبر 137 تا 140 : لیردو (تاکہ وہ برباد کریں) لیلبسوا ( تاکہ وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ کردیں) حجر ( ممنوع ہے) لایطعم ( نہیں کھاتا) حرمت (حرام کردی گئی) بطون ( بطن) پیٹ ‘ خالصۃ ( خالص۔ محض) لذکورنا (ہمارے مردوں کے لئے ہے) محرم ( حرام کردیا گیا) ازواجنا ( ہماری بیوں ( پر حرام ہے) ۔ میتۃ (مردار) وصفھم (ان کی باتیں بنانا) سفھا (بےوقوفی۔ نادانی) تشریح : آیت نمبر 137 تا 140 : انسانوں میں جو چالاک طبقہ ہے وہ بلامحنت امیر اور امیر تر بننے کے لئے پنڈت ‘ پروہت ‘ پادری ‘ مجاور ‘ آستانہ دار اور تکیہ دار بن جاتا ہے۔ وہ بتوں کو ‘ صلیبوں کو ‘ قبروں کو اور خلوتوں کو تقدس کا رنگ دے کر اپنی آمدنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 138–139

مشرکین کچھ جانوروں کو اور کچھ کھیتی کے حصہ کو بتوں کے نام ٹھہرا کر عورتوں پر اس کو حرام کردیتے تھے کہ فقط بتوں کے پجاری اور مرد کام میں لاویں۔ اسی طرح بتوں کے نام کے جانور آزاد کردیتے تھے اور سواری تک نہیں لیتے تھے، کہ حرام ہے۔ ان سب باتوں کو دین ابراہیمی مشہور کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ ان لوگون کا یہ جھوٹ ہے کہ یہ باتیں دین ابراہیمی کے موافق ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے اس جھوٹ کی سزا دیوے گا۔ بحیرہ اور سائبہ وہ جانور جو کان چیر کر بتوں کے نام پر آزاد کردیئے جاتے ہیں۔ ان میں سے اگر کسی کے جیتا بچہ پیدا ہو تو وہ عورتوں پر حرام ٹھہرا رکھا تھا اور مردہ بچہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 137–138

(ف 2) شرک پرستی کے معنی یہ ہیں ، کہ بہت سی ناجائز باتوں کو محض جہالت کی وجہ سے قبول کرلیا جاتا ہے رسوم و رواج کی اندھا دھند پر وی کی جاتی ہے ، چاہے جان تک ضائع ہوجائے ، قتل اولاد کس قدر ہولناک جرم ہے مگر مکہ کے مشرک اسے جائز قرار دیتے تھے ، محض جذبہ غیرت کی پرستش کے لئے بچیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے یعنی غیرت ایک بت ہے ، جس کی بھینٹ ہزاروں بچیوں کو چڑھا دیا جاتا تھا ، (آیت) ” ولو شآء اللہ مافعلوہ “۔ سے غرض یہ ہے کہ اللہ کی مشیت تکوینی چاہتی ہے ، اجالے کے ساتھ اندھیرا بھی باقی رہے ، ورنہ شرک اسے قطعا پسند نہیں غرض یہ ہے کہ حضور ﷺ زیادہ غم نہ کریں ، اور ان کی گمراہی پر حد سے زیادہ تاسف نہ فرمائیں ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-138 اور یہ مشرکین مکہ اپنے خیال فاسدہ کی بنا پر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خاص کھیتی اور یہ خاص مویشی حرام اور ممنوع ہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا ہے جس کو ہم چاہیں یعنی جو لوگ بتوں کی خدمت وغیرہ کرتے ہیں ان کے لئے کوئی کھیت اور کوئی جانور مخصوص کرلیا کرتے تھے اور کچھ مویشی یعنی بحیرہ سائب اور حواری وغیرہ خاص ہیں اور ان کی پیٹھ پر سوار ہونا اور ان پر سواری لینا حرام و ممنوع قرار دیدیا اور بعض مواشی اس طرح مخصوص ہیں کہ ان کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے یعنی خاص طور پر وہ مویشی جو بتوں کی منت کے ہوتے ہیں کہ ا ن کے ذبح پر بتوں ہی کا نام لیتے ہیں یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ پر محض افترا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ کچھ کھیت بتوں کے نام وقت کردیتے اور کہتے کہ اس کا اصل مصرف مرد ہیں اور عورتوں کو اس میں سے کچھ دینا ہماری رائے پر ہے اگر ہماری مرضی ہو تو کچھ حصہ ان کو دے سکتے ہیں ورنہ وہ اسکا مصرف نہیں اسی طرح مواشی کے باب میں بھی ان کا عمل تھا۔ 2۔ جن انعام کو بتوں کے نام مخصوص کرکے چھوڑ دیتے تھے ان پر سواری اور بار برداری کو جائز نہ سمجھتے تھے۔ 3۔ افتراء اس لیے کہ وہ ان امور کو موجب خوشنودی اللہ تعالیٰ سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شیطانی چالوں کا مزید بیان جو اس نے انسانوں کو پھنسانے کے لئے چلیں : 213: ” حجر “ حجر سے ہے جس کے معنی پتھر اور سخت چیز کے ہیں۔ پتھر اور سخت چیز کس طرح مانع ہوتی ہے سب کو معلوم ہے اور اس جگہ مراد اس سے ” ممنوع چیز “ کے ہیں۔ یہ لفظ دراصل عرب جاہلیت کی ایک دینی اصطلاح ہے اور اس سے مراد وہ چیز ہے جو کسی دینی رسم کے تحت ممنوع تصور کی گئی ہو جس کو اسلام کی زبان میں حرام کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس جگہ قرآن کریم ان کے تھانوں اور استھانوں کے پروہتوں ، مجاوروں اور مذہبی پیشوائوں کے من گھڑت فتوے نقل کر رہا ہے اس لئے اس رسم کا بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کے زمینی پیداوار اور جانوروں وغیرہ کے جو چڑھاوے چڑھائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 137–141

Linkage of Verses Described in the previous verses were false beliefs of the mushriks of Arabia while the present verses recount their practical errors and ignorant customs. The customs of Jahiliyyah mentioned in these verses are: (1) They took out a portion in the name of Allah from grains and fruits, and some in the name of idols and Jinns. Then, if by chance, some part of what belonged to the portion of Allah got mixed up with the portion reserved for idols, they would let it stay mixed as it was. When the position was the reverse of it, they would take it out and make the portion set for…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

111. There was a practice among the people of Arabia whereby they used to consecrate certain animals and farms to certain shrines, and at offerings at certain altars. These consecrated offerings could not be used by everybody. An elaborate code laid down what kind of offering could be used by what kind of people. God not only judges such practices to be polytheistic, but also censures them as man-made innovations. God was the master of all that they had consecrated as offerings to the deities. He had neither encumbered human beings with the need to make any of those offerings and…

Read the full tafseer →