اللہ کا مقرر کردہ راستہ
حجر کے معنی احرام کے ہیں۔ یہ طریقے شیطانی تھے کوئی اللہ کا مقرر کردہ راستہ نہ تھا۔ اپنے معبودوں کے نام یہ چیزیں کردیتے تھے۔ پھر جسے چاہتے کھلاتے۔ جیسے فرمان ہے آیت (قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا) 10۔ یونس :59) یعنی بتلاؤ تو یہ اللہ کے دیئے رزق میں سے تم جو اپنے طور پر حلال حرام مقرر کرلیتے ہو اس کا حکم تمہیں اللہ نے دیا ہے یا تم نے خود ہی خود پر تراش لیا ہے ؟ دوسری آیت میں صاف فرمایا آیت (مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 111
اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ بعض جانوروں کے متعلق یا بعض کھیتیوں کی پیداوار کے متعلق منت مان لیتے تھے کہ یہ فلاں آستانے یا فلاں حضرت کی نیاز کے لیے مخصوص ہیں۔ اس نیاز کو ہر ایک نہ کھا سکتا تھا بلکہ اس کے لیے ان کے ہاں ایک مفصل ضابطہ تھا جس کی رو سے مختلف نیازوں کو مختلف قسم کے مخصوص لوگ ہی کھا سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہ صرف مشرکانہ افعال میں شمار کرتا ہے، بلکہ اس پہلو پر بھی تنبیہ فرماتا ہے کہ یہ ضابطہ ان کا خود ساختہ ہے۔ یعنی جس خدا کے رزق میں سے وہ یہ منتیں مانتے اور نیازیں کرتے ہیں اس نے نہ ان منتوں اور نیازوں کا حکم دیا ہے اور نہ ان کے کھانے کے متعلق یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
ربط آیات
پچھلی آیتوں میں مشرکین کے عقائد باطلہ شرکیہ کفریہ کا بیان تھا، ان آیات میں ان کی عملی غلطیوں اور جاہلانہ رسموں کا ذکر ہے، جن رسوم جاہلیت کا ذکر ان آیات میں آیا ہے وہ یہ ہیں، اول غلہ اور پھل میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکالتے ہیں اور کچھ بتوں اور جنّات کے نام کا، پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو اسی طرح ملا رہنے دیتے تھے، اور معاملہ برعکس ہوتا تو اس کو نکال کر پھر بتوں کے حصہ کو پورا کردیتے تھے اور بہانہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کا حصہ کم ہوجانے سے اس کا کوئی ضرر نہیں، اور شرکاء محتاج ہیں، ان کا حصہ نہ گھٹنا چاہئے، اس رسم بد کا بیان…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا هٰذِهٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ ڰ لَّا يَطْعَمُهَآ اِلَّا مَنْ نَّشَاۗءُ بِزَعْمِهِمْ۔ حجر کے معنی ممنوع کے ہیں لیکن یہ لفظ عرب جاہللیت کی ایک دینی اصطلاح ہے۔ اس سے مراد وہ چیز ہو ہوتی ہے جو کسی دینی رسم کے تحت ممنوع ہو اسلامی اصطلاح اس کے لیے حرام کی ہے۔ یہ ان کے تھانوں اور استھانوں کے پروہتوں اور مجاوروں کے من گھڑت فتوے نقل ہو رہے ہیں۔ ان کے ہاں زمینی پیداوار چوپایوں کے جو چڑھاوے پیش ہوتے ان کے کھانے کے باب میں چڑھاوے کی نوعیت کے اعتبار سے بڑی بڑی قیدیں اور پابندیاں تھیں۔ مثلاً مرد کھا سکتے ہیں، عورتیں نہیں کھا سکتیں، یا بیوہ کھا سکتی ہے سہاگن یا کنواری نہیں ہاتھ لگا سکتی، یا…
Read the full tafseer →138۔ 1 اس میں ان کی جاہلی شریعت اور اباطیل کی تین صورتیں اور بیان فرمائی ہیں۔ حجرً (بمعنی منع) اگرچہ مصدر ہے لیکن مفعول یعنی مَحْجُوْر (ممنوع) کے معنی ہیں یہ پہلی صورت ہے کہ جانور یا فلاں کھیت کی پیداوار، ان کا استعمال ممنوع ہے۔ اسے صرف وہی کھائے گا جسے ہم اجازت دیں گے۔ یہ اجازت بتوں کے خادم اور مجاورین کے لئے ہوتی ہے۔
138۔ 2 یہ دوسری صورت ہے کہ مختلف قسم کے جانوروں کو اپنے بتوں کے نام آزاد چھوڑ دیتے ہیں جن سے وہ بار برداری یا سواری کا کام نہ لیتے جیسے تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
138۔ 3 یہ تیسری صورت ہے کہ وہ ذبح کرتے وقت صرف اپنے بتوں کا نام لیتے ہیں، اللہ کا نام نہ لیتے، بعض نے اس کا مفہوم یہ…
Read the full tafseer →68: یہ ایک اور رسم کا بیان ہے جس کی رو سے وہ اپنے من گھڑت دیوتاؤں کو اپنے گمان کے مطابق خوش کرنے کے لئے کسی خاص کھیتی یا مویشی پر پابندی لگا دیتے تھے کہ ان کی پیداوار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتا، البتہ جس شخص کو چاہتے اس پابندی سے مستثنی کردیتے تھے۔
69: ایک اور رسم یہ تھی کہ کسی سواری کے جانور کو کسی بت کے نام وقف کردیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اس پر سواری کرنا حرام ہے۔
70: بعض جانوروں کے بارے میں انہوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیا جاسکتا، نہ ذبح کرتے وقت، نہ سواری کے وقت اور نہ ان کا گوشت کھاتے وقت، چنانچہ ان پر سوار ہو کر حج کرنے کو بھی ناجائز سمجھتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 138۔
ابن جریر طبری کہتے ہیں ان جاہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ لوگ از خود بعض چیزوں کو حلال قرار دیتے تھے اور بعض کو حرام قرار دیتے تھے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قانون سازی کے اختیارات نہیں دیئے تھے ۔
آیت میں لفظ حجر کے معنی حرام کے ہیں ۔ یہ لوگ جو اللہ کے حق قانون سازی اور حق حاکمیت پر دست درازی کرتے تھے ‘ یہ دعوی کرتے تھے ‘ کہ یہ اللہ کی شریعت ہے جو ایک جرم ہے ۔ انہوں نے اپنی فصلوں کے ایک حصے کو اور بعض قسم کے مویشیوں کو اپنے الہوں کے لئے مختص کر رکھا تھا جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پھل اور مویشی ان کے لئے حرام ہیں اور ان کو…
Read the full tafseer →1 مثلاً مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں یا صرف مہنت کھا سکیں جو بت خانوں کے مجاور تھے۔ یہ قیود اپنے خیال میں بعض مواشی اور کھیتوں کے متعلق عائد کر رکھی تھیں جو بتوں کے نام پر وقف کئے جاتے تھے، اسی طرح بعض جانوروں کی پیٹھ پر سواری اور بار برداری کو حرام سمجھتے تھے۔ بعض جانوروں کی نسبت یہ اقرار دیا تھا کہ ذبح کرنے یا سواری لینے یا دودھ نکالنے کے وقت ان پر خدا کا نام نہ لیا جائے کہیں بتوں کی چیز میں خدا کی شرکت نہ ہوجائے۔ پھر غضب یہ تھا کہ ان خرافات اور جہالتوں کو خدا کی طرف نسبت کرتے تھے۔ گویا اس نے معاذ اللہ یہ احکام دیے ہیں اور ان ہی طریقوں سے اس کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایسی بد عنوانیوں کے…
Read the full tafseer →آیت 138 وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌق لاَّ یَطْعَمُہَآ اِلاَّ مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِہِمْ
یعنی یہ ساری خود ساختہ پابندیاں وہ بزعم خویش درست سمجھتے تھے۔
وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَاَنْعَامٌ لاَّ یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا افْتِرَآءً عَلَیْہِ ط۔
یعنی اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت بعض جانوروں کو سواری اور بار برداری کے لیے ممنوع قرار دیتے تھے اور کچھ حیوانات کے بارے میں طے کرلیتے تھے کہ ان کو جب ذبح کرنا ہے تو اللہ کا نام ہرگز نہیں لینا۔ لہٰذا اس سے پہلے آیت 121 میں جو حکم آیا تھا کہ مت کھاؤ اس چیز کو جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے وہ دراصل ان کے اس عقیدے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
148 مشرکوں کی اپنی وضع کردہ شریعت :۔ ان مشرکوں کی مشرکانہ رسوم کی فہرست بڑی طویل ہے۔ ان کے بزرگوں نے آہستہ آہستہ پوری شریعت ہی وضع کر ڈالی تھی جن میں سے چند مزید امور کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ ہیں۔
(1) ان مشرکوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ جس کھیتی یا مویشی کے متعلق وہ یہ منت مان لیتے کہ وہ فلاں بت یا فلاں دربار یا فلاں سیدہ کے لیے مخصوص ہے تو ایسی نیاز کو ہر ایک نہیں کھا سکتا تھا بلکہ اس کے متعلق بھی انہوں نے ایک فہرست بنا رکھی تھی۔ کہ فلاں قسم کی نذر ہو تو اسے فلاں فلاں لوگ کھا سکتے ہیں اور فلاں قسم کی ہو تو فلاں فلاں۔
(2) جن مویشیوں کو بتوں یا…
Read the full tafseer →206 ۔ یہ سب جاہلیت عرب کے مختلف دستوروں کا بیان ہورہا ہے۔ اور ان سے ملتی ہوئی رسمیں دوسری مشرک قوموں میں بھی عام ہیں۔ (آیت) ” افترآء علیہ “۔ کمال افتراء یہ ہے کہ ان مشرکانہ رسموں کو عبادت اور ذریعہ تقرب الہی مشہور کر رکھا ہے ! (آیت) ” حجر “۔ یعنی عام استعمال کے لیے مخصوص۔ یقال فلان فی حجر فلان ای فی منع منہ عن التصرف فی مالہ وکثیر من احوالہ (راغب) الحجر لفظ مشترک وھو ھنا بمعنی الحرام واصلہ المنع (قرطبی) الحجر الممنوع منہ بتحریمہ (راغب) قال قتادۃ یعنی حراما واصلہ المنع (جصاص) (آیت) ” الامن نشآء “۔ یہ کھانا مخصوص انہی مندروں کے پجاریوں پروہتوں کے لیے تھا۔ وھم خدام الاصنام (قرطبی) یعنون خدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
وَجَعَلوا للہ مما۔۔۔۔ نصیباً ۔ اس آیت میں مشرکوں کے اس عقیدہ و عمل کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر گھڑ رکھا تھا کہ وہ زمینی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کیلئے اور کچھ حصہ خود ساختہ معبودوں کے لئے مقرر کرلیتے تھے، اللہ کے حصہ کو مہمانوں محتاجوں اور صلہ رحمی پر خرچ کرتے تھے اور بتوں کے حصہ کو بتوں کے مجاوروں اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے، پھر اگر بتوں کے حصہ میں توقع کے مطابق پیداوار نہ ہوتی تو اللہ کے حصہ میں سے نکال کر بتوں کے حصہ میں شامل کرلیتے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہوتا تو بتوں کے حصہ میں سے نہ نکالتے اور کہہ دیتے کہ اللہ تو غنی ہے۔
Read the full tafseer →وقالوا ہذہ . اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ یعنی جو کھیتی اور چوپائے اللہ کے نام اور بتوں کے نام کے وہ کر رکھتے ہیں وہ
انعام و حرث حجر . ممنوع چوپائے اور ممنوع کھیت ہیں یعنی حرام ہیں۔ حجر : مصدر ہے اس کا اطلاق واحد جمع اور مذکر مونث سب پر یکساں ہوتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ انعام سے مراد ہیں بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام۔
لا یطعمہا الا من نشآء بزعمہم . جن کو ان کے گمان کے مطابق سوائے اس کے جس کو وہ چاہیں اور کوئی نہیں کھا سکتا۔ یعنی عورتیں نہیں کھا سکتیں صرف مرد اور بتوں کے مجاور کھا سکتے ہیں۔ بزعمہم : سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے خیال سے بغیر کسی دلیل کے حرمت حلت بناتے ہیں۔
وانعام حرمت ظہورہا . اور…
Read the full tafseer →(138) اور یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مخصوص مویشی مثلا بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، اور حام کہ ان کا گوشت عورتوں کو کھانا حرام ہے ان کو صرف مرد ہی کھاسکتے ہیں اور ان کے زعم میں حام پر سواری حرام اور بحیرہ پر اللہ کا نام نہیں لیا جاتا، نہ بار برداری کرتے وقت اور نہ سوار ہوتے وقت سب کچھ یہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے کہ اس نے ہمیں ان باتوں کا حکم دیا ہے۔
Read the full tafseer →’ حِجْرٌ“ بمعنی ”مَحْجُوْرٌ“ ہے، یعنی ممنوع۔ اس میں ان کی جاہلیت کی تین اور صورتیں بیان فرمائی ہیں، پہلی صورت یہ کہ فلاں جانور یا کھیت کا استعمال ممنوع ہے، مگر اس کے لیے جسے ہم اجازت دیں گے اور یہ اجازت بت خانوں کے مجاوروں اور خادموں کے لیے ہوتی تھی۔
حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا : یہ دوسری صورت ہے کہ وہ مختلف قسم کے جانوروں کو اپنے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور ان سے سواری یا بوجھ اٹھوانے کا کام نہ لیتے، جیسے بحیرہ، سائبہ وغیرہ۔ دیکھیے سورة مائدہ (103)۔
وَاَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا۔۔ : یہ تیسری صورت ہے کہ وہ کچھ جانوروں کو بت خانوں کے مجاوروں کے لیے خاص کرتے ہوئے انھیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 138
اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کی ایک دوسری قسم بینا کی ہے۔ ابان بن عثمان حجر حا اور جیم کے ضمہ کے ساتھ قرات کی ہے۔ اور حسن اور قتادہ نے حا کے فتۃ اور جیم کے سکون کے ساتھ حجر پڑھا ہے۔ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ اور حسن سے حا کے ضمہ کے ساتھ حجر بھی منقول ہے۔
ابو عبید نے ہارون سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : سارے قرآن کریم میں حجر کے لفظ کو حسن حا کے ضمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں سوائے اس قول کے : آیت : برزخا وحجرا محجورا ( الفرقان) اس مقام پر وہ کسرہ پڑھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر ؓ عنہھم سے روایت ہے وحرث حرج اس میں راجیم سے پہلے ہے۔ اسی طرح مصحف ابی میں ہے اور اس میں دو قل ہیں : ان…
Read the full tafseer →(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر کے بارے میں فرمایا کہ (اس میں) حجر سے مراد ہے کہ جو انہوں نے حرام کیا وصیلہ سے اور اسی جیسے دیگر وہ جانور ہیں جو انہوں نے حرام کر رکھے تھے اور اس سے مراد ان چیزوں کو حرام قرار دینا ہے جو انہوں نے حرام کی ہوئی تھیں۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر یعنی جو کچھ انہوں نے اللہ کے لئے اپنے شرکاء کے لئے رکھا تھا۔
(3) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] هٰذِهٖٓ [ یہ ] اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ ڰ [ یہ ممنوع مویشی اور کھیتی ہیں ] لَّا يَطْعَمُهَآ [ نہیں کھاتا اس کو ] اِلَّا [ مگر ] مَنْ [ وہ جسے ] نَّشَاۗءُ [ ہم چاہیں ] بِزَعْمِهِمْ [ ان کے گمان میں ] وَاَنْعَامٌ [ اور مویشی ] حُرِّمَتْ [ حرام کیا گیا ] ظُهُوْرُهَا [ جن پر سوار ہونا ] وَاَنْعَامٌ [ اور مویشی ] لَّا يَذْكُرُوْنَ [ وہ لوگ یاد نہیں کرتے ] اسْمَ اللّٰهِ [ اللہ کا نام ] عَلَيْهَا [ جن پر ] افْتِرَاۗءً [ گھڑتے ہوئے ] عَلَيْهِ ۭ [ اس پر (یعنی اللہ پر )] سَيَجْزِيْهِمْ [ وہ بدلہ دے گا ان کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
مشرکین کا اپنی اولاد کو قتل کرنا اور کھیتیوں اور جانوروں کے بارے میں اپنی طرف سے تحریم اور تحلیل کے قواعد بنانا
اس دنیا میں ہادی عالم رحمتہ للعالمین ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے پوری دنیا جہالت، ضلالت، سفاہت، کفر و شرک سے بھری ہوئی تھی۔ عرب کے لوگ مشرک بھی تھے اور جاہل بھی، ان میں جہالت اور جاہلیت دونوں پوری طرح جگہ پکڑے ہوئی تھی طرح طرح کی شرکیہ رسمیں نکال رکھی تھیں۔
جانوروں اور ان کے بچوں اور کھیتیوں کے بارے میں طرح طرح کے افعال قبیحہ میں مبتلا تھے اور یہ افعال اور رسوم انہیں شیاطین الجن اور شیاطین الانس نے سجھا رکھی تھیں جن میں بعض کا ذکر (فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ ) میں اور بعض کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
ابطال رسوم جاہلیت
قال اللہ تعالیٰ وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام۔۔۔ الے۔۔۔ وما کانو مھتدین
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کی اعتقادی جہالتوں کا بیان تھا اب ان آیات میں ان کی بعض عملی جہالتوں یعنی ان کی بعض جاہلانہ رسموں اور عادتوں کو بیان کرتے ہیں وہ رسمیں یہ ہیں۔
رسم اول : اور من جملہ ان کی ہزاروں جہالتوں کے ایک جہالت یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز اللہ کے لیے مقرر کیا۔ یعنی مشرکین عرب میں ایک رسم یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز کے خدا کے نام کا نکالتے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے اللہ کا حصہ مہمانوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
152 یہ تحریمات غیر اللہ کا دوسری بار ذکر ہے۔ یہاں باقی ماندہ صورتوں میں سے چار کا ذکر ہے۔ 1 ۔ ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌالخ۔ کچھ چوپایوں اور کھیتوں کو وہ اپنے معبودوں کے لیے مقرر کردیتے تھے اور کہتے تھے انہیں کوئی نہیں کھا سکتا۔ 2 ۔ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُھُوْرُھَا۔ بعض نام زد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 3 ۔ وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا۔ جن چوپایوں کو وہ غیر اللہ کے لیے نامزد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 4 ۔ وَ قَالُوْا مَافِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہٖ الاَْنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا الخ۔ بحائر وسوائب کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
گذشتہ آیات کی طرح یہ آیات بھی شرک ہی سے متعلق ہیں ان آیات میں بھی عملی شرک ہی کا بیان ہے۔ مشرکین عرب نے جو رسومات باطلہ ایجاد کر رکھی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا ہے ، وہ لوگ دو طرح کے نذر و نیاز دیتے تھے ، ایک اللہ کے نام پر اور دوسری معبودان باطلہ کے نام پر اور پھر اللہ کے حصے کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے تھے مگر غیر اللہ کی نذر کے لیے خاص اہتمام کرتے تھے اور اس پر کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ قتل اولاد کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ کہ وہ لوگ اولاد کو مختلف حیلوں سے قتل کردیتے تھے۔ کبھی ننگ و ناموس کے نام پر اور کبھی معاشی تنگدستی کے پیش نظر گر سب سے بڑی قباحت یہ تھی کہ وہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ 0 ۤۖ لَّا يَطْعَمُہَآ اِلَّا مَنْ نَّشَاۗءُ بِزَعْمِہِمْ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَاَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَيْہَا افْتِرَاۗءً عَلَيْہِ 0 ۭ سَيَجْزِيْہِمْ بِمَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 138
نعم ( جانور)
[ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً…
Read the full tafseer →1 ؎ ذبح کرتے وقت یہ وہ تھے کہ جن کو بتوں کے نام پر چھوڑ رکھا تھا۔
ترکیب : لایطعمہا موضع رفع میں صفت ہے حرث کی حجر بکسر جاء و سکون جیم اور بضم حاء و سکون جیم بھی جائز ہے۔ اس کے معنی منع اور حرام افترائً مفعول مطلق بھی ہوسکتا ہے کس لئے کہ ان کا قول سابق افتراء ہے ‘ اے یفترون افترائً اور مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے۔ اول صورت میں علیہ قالوا سے متعلق ہوگا۔ دوسرے میں نفس مصدر سے ما بمعنی الذی مبتداء خالصۃ خبرو التانیث لرعایۃ المعنی لان ما فی البطون انعام وقیل للمبالغۃ کعلامۃ والمعنی حلال وصفہم منصوب ہے مفعول لہ ہونے کی وجہ سے سفہاء مفعول لہ ہے یا تمیز مختلفا حال مقدرہ ہے۔ ایسا ہی متشابہا حمولۃ وفرشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
ارشاد ہوتا ہے :
وَقَالُوْا ھٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ ق صلے لَّا یَطْعَمُھَآ اِلَّا مَنْ نَّشَآئُ بِزَعْمِھِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُھُوْرُھَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا افْتِرَآئً عََلَیْہِ ط سَیَجْزِیْھِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ وَ قَالُوْا مَا فِی بُطُوْنِ ھٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ج وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَھُمْ فِیْہِ شُرَکَآئُ ط سَیَجْزِیْھِمْ وَصْفَھُمْ ط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ قَدْخَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَھُمْ سَفَھًام بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللہ ُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکوں کے شرک و رسومات کی مزید تفصیلات
زمانۂ جاہلیت میں کفار اور مشرکین نے اپنے مویشیوں اور کھیتیوں کو چار اقسام میں تقسیم کر رکھا تھا۔
1۔ غیر اللہ کے نام پر مخصوص کیے ہوئے مویشی اور کھیت جنہیں مجاورین کی اجازت کے بغیر کوئی استعمال نہیں کرسکتا تھا۔
2۔ جو جانور غیر اللہ اور آستانوں کے لیے وقف کیے جاتے ان پر سواری کرنا بھی ان کے ہاں جائز نہیں تھا۔
3۔ غیر اللہ کے نام پر وقف کیے ہوئے جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔
4۔ وقف کی ہوئی اونٹنی، گائے، بکری کا دودھ پینامردوں کے لیے جائز اور عورتوں کے لیے حرام تھا اسی طرح ان جانوروں سے جو بچہ پیدا ہوتا اس کا…
Read the full tafseer →افتراء پردازی کے مزید نمونے :
آیت 138: وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ بتوں کے لئے حِجْرٌ حرام ہے۔ یہ فعل بمعنی مفعول ہے۔ جیسا ذبح بمعنی مذبوح ٗ طحن بمعنی مطحون اور اس صفت میں تذکیر و تانیث اور واحد وجمع برابر ہیں کیونکہ اس کا حکم اسماء کا ہے جو صفت نہیں ان کا طرز عمل یہ تھا کہ جب وہ بعض اشیاء اپنی کھیتی اور چوپائوں میں اپنے الٰہ کے نام معین کرلیتے تو وہ کہتے لاَّیَطْعَمُہَآ اِلاَّ مَنْ نَّشَآئُ بِزَعْمِہِمْ من نشاء سے وہ بتوں کے خدام اور فقط مرد عورتیں مراد لیتے تھے۔ الزعم گمان سے کوئی بات کہنا جس میں جھوٹ کی ملاوٹ ہو۔ وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وہ بحیرہ ٗ سائبہ ٗ حام تھے۔…
Read the full tafseer →تفسیر 138 (وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر) یعنی حرام ہے۔ یعنی جو کھیتی اور مویشی اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لئے خاص کی ہے وہ حرام ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مویشیوں سے بحیرۃ ، سائبۃ ، وصیلۃ حام مراد ہیں۔ (لایطعمھآ الا من نشآء بزعمھم) یعنی مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں (وانعام حرمت ظھورھا) یعنی حام کی پیٹھ پر سوار نہ ہوتے تھے (وانعام لا یذکرون اسم اللہ علیھا) یعنی ان کو بتوں کے نام کے ساتھ ذبح کرتے ہیں۔ ابو وائل کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ ان پر نہ نج کرتے ہیں اور نہ کوئی نیکی کا کام۔ اس لئے کہ یہی عادت جاری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام ہر خیر کے کام پر لیا جاتا ہے تو یہاں اللہ کے ذکر سے فعل خیر مراد لیا…
Read the full tafseer →اوپر کے سلسلہ میں مشرکین مکہ کی یہ ایک اور نادانی کا ذکر ہے۔ یہ لوگ کچھ جانوروں کو اور کچھ کھیتی کے حصہ کو بتوں کے نام کا ٹھہرا کر عورتوں پر اس کو حرام کردیتے تھے فقط بتوں کے پوجاری اور مرد اس کو کام میں لاتے تھے اسی طرح بعضے جانوروں کو بتوں کے نام پر آزاد کر کے چھوڑ دیتے تھے جس کے سبب سے ان پر سواری کا کرنا اور بوجھ کا لادنا حرام ٹھہرا دیا جاتا تھا ان سب باتوں کو یہ لوگ یوں مشہور کرتے تھے کہ دین ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) میں ہم کو اسی طرح ان باتوں کا حکم ہے اس واسطے ہم ان باتوں کو اپنے دین کے موافق کرتے ہیں اس آیت میں تو ان باتوں کا ذکر فرمایا کر مختصر طور پر فقط اتنا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
آیت 136
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ چناچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں، حق میں نقص کا باعث نہیں۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (وجعلو اللہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیباً ) ” اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
قول باری ہے ( وقالوا ھذہ انعام وحدث حجر۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں) ضحاک کا قول ہے کہ حرث سے وہ کھیتی مراد ہے جسے وہ بتوں کے لیے وقف کردیتے تھے۔ پہلی آیت میں مذکورہ انعام سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں کھیتی کی طرح بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے تا کہ ان بتوں کی دیکھ بھال کرنے والے مہنتوں اور خدمت گاروں کے اخراجات ان سے پورے کیے جاسکیں۔ ایک قول ہے ان انعام سے وہ جانور مراد ہیں جو ان بتوں پر قربان کرنے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ دوسری آیت میں مذکورہ انعام سے سائبہ، وصیلہ اور حامی مراد ہیں حسن اور مجاہد کا یہی قول ہے ( ان جانوروں پر مفصل نوٹ پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔ ) تیسری دفعہ…
Read the full tafseer →268 منکرین و مفترین کو ان کی ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے منکرین و مفترین کو ان کے ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی فرما دی گئی کہ ان کو اِ فترا علی اللہ کی سزا بہرحال بھگتنا ہوگی۔ یعنی اپنی ان باتوں کی سزا جن کو یہ از خود اپنے طور پر اللہ کے ذمے لگاتے تھے بغیر کسی سند و دلیل کے۔ سو یہ لوگ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتیں گے اور خاص کر اس بات کا کہ انہوں نے اللہ پاک کی طرف ایسی باتوں کو منسوب کیا تھا جو کہ اس نے نہیں فرمائی تھیں۔ اور جو اس کی شان اقدس و اَعلیٰ کے لا ئق نہیں تھیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا ایک سنگین جرم ہے اور کسی کو کسی بھی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
مشرکوں کی غلط رسمیں
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں ان کی بےہودہ رسموں کا ذکر کیا گیا ہے ان آیات میں ان کو دہرایا گیا ہے۔ ایک بہت بری رسم جاہل عربوں میں یہ بھی تھی کہ اگر ان کے گھر لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو زندہ دفن کردیتے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ جب اس کی شادی ہوگی یہ کسی کی بیوی بن جائے گی تو ہماری عزت اور غیرت ختم ہوجائے گی اور کبھی غربت کے ڈر سے مار دیتے کہ اس کو کیسے پالیں گے۔ یہ گناہ عظیم وہ کرتے اور اللہ کی دی ہوئی حلال چیزوں کو خود ہی حرام ٹھہراتے اور حرام کو حلال بنا دیتے اور پھر کہتے کہ یہ سب کچھ ہم اللہ کے حکم سے کرتے ہیں۔ ایک تو گناہ کرتے اور پھر اللہ پر جھوٹا بہتان بھی لگاتے۔ کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی انہوں نے محض اپنے خیال سے کھیتی اور چوپایوں کے حصے مقرر کر رکھے تھے، حجر کے اصل معنی مندش لگانے اور منع کرنے کے ہیں اور یہاں اس کے معنی حرام کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس کھیتی یا چار پائے کو بتوں کے کے نام وقف کرتے اور اس پر بندش لگاتے کہ اس کو بت خانوں کے بجاری اور مردیہی کھاسکتے ہیں عورتوں پر حرام ہے۔ (قرطبی)9 جیسے بحیرہ سائبہ اور حام۔ دیکھئے سورة مائدہ آیت 103 (کبیر)10 یعنی یہ سب جہالت اور وہم پرستی کے کام ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی نسبت محض جھوٹ ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی جہالتوں کا کبھی حکم نہیں دیا۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(6:138) حجر۔ ممنوع۔ عقل۔ اصل میں جس مکان کا احاطہ پتھروں سے بنایا جائے اسے حجر کہنا جانا ہے ۔ اس لئے غطیم کعبہ اور دیار ثمود کو حجر کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے : ولقد کذت اصحب الحجر المرسلین (15:80) اور وادی حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔ اور حجر (پتھروں سے احاطہ کرنا) سے حفاظت اور روکنے کے معنی لے کر عقل انسانی کو بھی مجر کہا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے : ہل فی ذلک قسم لذی حجر (89:5) کیا بیشک یہ چیزیں قسم کھانے کے لائق ہیں۔ حجر حرام چیز کو بھی کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیتی حرام ہیں ۔ یہاں حجر اسم مصدر ہے جو اسم مفعول (محجور) کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جس طرح ذبح مذبوح کے معنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
لغات القرآن : آیت نمبر 137 تا 140 :
لیردو (تاکہ وہ برباد کریں) لیلبسوا ( تاکہ وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ کردیں) حجر ( ممنوع ہے) لایطعم ( نہیں کھاتا) حرمت (حرام کردی گئی) بطون ( بطن) پیٹ ‘ خالصۃ ( خالص۔ محض) لذکورنا (ہمارے مردوں کے لئے ہے) محرم ( حرام کردیا گیا) ازواجنا ( ہماری بیوں ( پر حرام ہے) ۔ میتۃ (مردار) وصفھم (ان کی باتیں بنانا) سفھا (بےوقوفی۔ نادانی)
تشریح : آیت نمبر 137 تا 140 :
انسانوں میں جو چالاک طبقہ ہے وہ بلامحنت امیر اور امیر تر بننے کے لئے پنڈت ‘ پروہت ‘ پادری ‘ مجاور ‘ آستانہ دار اور تکیہ دار بن جاتا ہے۔ وہ بتوں کو ‘ صلیبوں کو ‘ قبروں کو اور خلوتوں کو تقدس کا رنگ دے کر اپنی آمدنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
مشرکین کچھ جانوروں کو اور کچھ کھیتی کے حصہ کو بتوں کے نام ٹھہرا کر عورتوں پر اس کو حرام کردیتے تھے کہ فقط بتوں کے پجاری اور مرد کام میں لاویں۔ اسی طرح بتوں کے نام کے جانور آزاد کردیتے تھے اور سواری تک نہیں لیتے تھے، کہ حرام ہے۔ ان سب باتوں کو دین ابراہیمی مشہور کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ ان لوگون کا یہ جھوٹ ہے کہ یہ باتیں دین ابراہیمی کے موافق ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے اس جھوٹ کی سزا دیوے گا۔
بحیرہ اور سائبہ وہ جانور جو کان چیر کر بتوں کے نام پر آزاد کردیئے جاتے ہیں۔ ان میں سے اگر کسی کے جیتا بچہ پیدا ہو تو وہ عورتوں پر حرام ٹھہرا رکھا تھا اور مردہ بچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–141
[50] یعنی جب فصل کاٹی جائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
(ف 2) شرک پرستی کے معنی یہ ہیں ، کہ بہت سی ناجائز باتوں کو محض جہالت کی وجہ سے قبول کرلیا جاتا ہے رسوم و رواج کی اندھا دھند پر وی کی جاتی ہے ، چاہے جان تک ضائع ہوجائے ، قتل اولاد کس قدر ہولناک جرم ہے مگر مکہ کے مشرک اسے جائز قرار دیتے تھے ، محض جذبہ غیرت کی پرستش کے لئے بچیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے یعنی غیرت ایک بت ہے ، جس کی بھینٹ ہزاروں بچیوں کو چڑھا دیا جاتا تھا ،
(آیت) ” ولو شآء اللہ مافعلوہ “۔ سے غرض یہ ہے کہ اللہ کی مشیت تکوینی چاہتی ہے ، اجالے کے ساتھ اندھیرا بھی باقی رہے ، ورنہ شرک اسے قطعا پسند نہیں غرض یہ ہے کہ حضور ﷺ زیادہ غم نہ کریں ، اور ان کی گمراہی پر حد سے زیادہ تاسف نہ فرمائیں ،
Read the full tafseer →-138 اور یہ مشرکین مکہ اپنے خیال فاسدہ کی بنا پر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خاص کھیتی اور یہ خاص مویشی حرام اور ممنوع ہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا ہے جس کو ہم چاہیں یعنی جو لوگ بتوں کی خدمت وغیرہ کرتے ہیں ان کے لئے کوئی کھیت اور کوئی جانور مخصوص کرلیا کرتے تھے اور کچھ مویشی یعنی بحیرہ سائب اور حواری وغیرہ خاص ہیں اور ان کی پیٹھ پر سوار ہونا اور ان پر سواری لینا حرام و ممنوع قرار دیدیا اور بعض مواشی اس طرح مخصوص ہیں کہ ان کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے یعنی خاص طور پر وہ مویشی جو بتوں کی منت کے ہوتے ہیں کہ ا ن کے ذبح پر بتوں ہی کا نام لیتے ہیں یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ پر محض افترا…
Read the full tafseer →ف 1۔ کچھ کھیت بتوں کے نام وقت کردیتے اور کہتے کہ اس کا اصل مصرف مرد ہیں اور عورتوں کو اس میں سے کچھ دینا ہماری رائے پر ہے اگر ہماری مرضی ہو تو کچھ حصہ ان کو دے سکتے ہیں ورنہ وہ اسکا مصرف نہیں اسی طرح مواشی کے باب میں بھی ان کا عمل تھا۔
2۔ جن انعام کو بتوں کے نام مخصوص کرکے چھوڑ دیتے تھے ان پر سواری اور بار برداری کو جائز نہ سمجھتے تھے۔
3۔ افتراء اس لیے کہ وہ ان امور کو موجب خوشنودی اللہ تعالیٰ سمجھتے تھے۔
Read the full tafseer →شیطانی چالوں کا مزید بیان جو اس نے انسانوں کو پھنسانے کے لئے چلیں :
213: ” حجر “ حجر سے ہے جس کے معنی پتھر اور سخت چیز کے ہیں۔ پتھر اور سخت چیز کس طرح مانع ہوتی ہے سب کو معلوم ہے اور اس جگہ مراد اس سے ” ممنوع چیز “ کے ہیں۔ یہ لفظ دراصل عرب جاہلیت کی ایک دینی اصطلاح ہے اور اس سے مراد وہ چیز ہے جو کسی دینی رسم کے تحت ممنوع تصور کی گئی ہو جس کو اسلام کی زبان میں حرام کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس جگہ قرآن کریم ان کے تھانوں اور استھانوں کے پروہتوں ، مجاوروں اور مذہبی پیشوائوں کے من گھڑت فتوے نقل کر رہا ہے اس لئے اس رسم کا بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کے زمینی پیداوار اور جانوروں وغیرہ کے جو چڑھاوے چڑھائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–141
Linkage of Verses
Described in the previous verses were false beliefs of the mushriks of Arabia while the present verses recount their practical errors and ignorant customs. The customs of Jahiliyyah mentioned in these verses are: (1) They took out a portion in the name of Allah from grains and fruits, and some in the name of idols and Jinns. Then, if by chance, some part of what belonged to the portion of Allah got mixed up with the portion reserved for idols, they would let it stay mixed as it was. When the position was the reverse of it, they would take it out and make the portion set for…
Read the full tafseer →111. There was a practice among the people of Arabia whereby they used to consecrate certain animals and farms to certain shrines, and at offerings at certain altars. These consecrated offerings could not be used by everybody. An elaborate code laid down what kind of offering could be used by what kind of people. God not only judges such practices to be polytheistic, but also censures them as man-made innovations. God was the master of all that they had consecrated as offerings to the deities. He had neither encumbered human beings with the need to make any of those offerings and…
Read the full tafseer →