شیطان کے چیلے
جیسے کہ شیطانوں نے انہیں راہ پر لگا دیا ہے کہ وہ اللہ کے لئے خیرات کریں تو اپنے بزرگوں کا نام کا بھی حصہ نکالیں اسی طرح انہیں شیطان نے اس راہ پر بھی لگا رکھا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بےوجہ قتل کردیں۔ کوئی اس وجہ سے کہ ہم اسے کھلائیں گے کہاں سے ؟ کوئی اس وجہ سے کہ ان بیٹیوں کی بنا پر ہم کسی کے خسر بنیں گے وغیرہ۔ اس شیطانی حرکت کا نتیجہ ہلاکت اور دین کی الجھن ہے۔ یہاں تک کہ یہ بدترین طریقہ ان میں پھیل گیا تھا کہ لڑکی کے ہونے کی خبر ان کے چہرے سیاہ کردیتی تھی ان کے منہ سے یہ نکلتا نہ تھا کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی، قرآن نے فرمایا کہ ان بےگناہ زندہ درگور کی ہوئی بچیوں سے قیامت کے دن سوال…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 107
یہاں ”شریکوں“ کا لفظ ایک دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے جو اوپر کے معنی سے مختلف ہے۔ اوپر کی آیت میں جنھیں ”شریک“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا وہ ان کے معبود تھے جن کی برکت یا سفارش یا توسط کو یہ لوگ نعمت کے حصول میں مددگار سمجھتے تھے اور شکر نعمت کے استحقاق میں انہیں خدا کے ساتھ حصہ دار بناتے تھے۔ بخلاف اس کے اس آیت میں ”شریک“ سے مراد وہ انسان اور شیطان ہیں جنھوں نے قتل اولاد کو ان لوگوں کی نگاہ میں ایک جائز اور پسندیدہ فعل بنادیا تھا۔ انہیں شریک کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے جس طرح پرستش کا مستحق تنہا اللہ تعالیٰ ہے، اسی طرح بندوں کے لیے قانون بنانے اور جائز و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
ربط آیات
پچھلی آیتوں میں مشرکین کے عقائد باطلہ شرکیہ کفریہ کا بیان تھا، ان آیات میں ان کی عملی غلطیوں اور جاہلانہ رسموں کا ذکر ہے، جن رسوم جاہلیت کا ذکر ان آیات میں آیا ہے وہ یہ ہیں، اول غلہ اور پھل میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکالتے ہیں اور کچھ بتوں اور جنّات کے نام کا، پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو اسی طرح ملا رہنے دیتے تھے، اور معاملہ برعکس ہوتا تو اس کو نکال کر پھر بتوں کے حصہ کو پورا کردیتے تھے اور بہانہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کا حصہ کم ہوجانے سے اس کا کوئی ضرر نہیں، اور شرکاء محتاج ہیں، ان کا حصہ نہ گھٹنا چاہئے، اس رسم بد کا بیان…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍمِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَاۗؤُهُمْ۔ یعنی ان کے یہ شرکا صرف مالوں ہی میں حصہ دار نہیں ہیں بلکہ خدا کی بخشی ہوئی جانوں میں بھی حصہ دار بنا دیے گئے ہیں۔ بہت سے مشرکین ان کی خوشنودی کے لیے اپنی اولاد بھی ان کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ ہم آیت 100 کے تحت بیان کر آئے ہیں کہ یہ سنگین جرم بعض مزعومہ سرکش جن بھوتوں کو راضی رکھنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ غالباً سخت قسم کے جاہل مشرکین اس وہم کے تحت کہ فلاں وادی یا فلاں درخت کے جن کو انہوں نے اپنی کسی اولاد کی نذر دے کر راضی نہ رکھا تو وہ ان کی ساری اولاد یا ان کے سارے خدا ندان پر آفت لائے گا، یہ حرکت کرتے…
Read the full tafseer →137۔ 1 یہ اشارہ ہے ان کی بچیوں کے زندہ درگور کردینے یا بتوں کی بھینٹ چڑھانے کی طرف۔
137۔ 2 یعنی ان کے دین میں شرک کی آمیزش کردیں۔
137۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے اختیارات اور قدرت سے ان کے ارادہ و اختیار کی آزادی کو سلب کرلیتا، تو پھر یقینا یہ وہ کام نہ کرتے جو مذکور ہوئے ہی لیکن ایسا کرنا چونکہ جبر ہوتا، جس میں انسان کی آزمائش نہیں ہوسکتی تھی، جب کہ اللہ انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر آزمانا چاہتا ہے، اس لئے اللہ نے جبر نہیں فرمایا۔
Read the full tafseer →67: اس کی تشریح کے لیے دیکھئے اسی سورت میں پیچھے آیت نمبر 12 کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 137۔
جس طرح ان لوگوں کے لئے ان کے شرکاء اور ان کے شیاطین نے اپنے مالوں اور فصلوں میں یہ تصرفات خوبصورت بنادیئے ہیں ‘ اسی طرح انہوں نے ان کے لئے قتل اولاد کو بھی مزین بنا دیا ہے ۔ یوں کہ وہ لوگ اپنی بیٹیوں کو تنگدستی کے خوف سے زندہ درگور کردیتے تھے ‘ یا اس لئے کہ وہ جنگی قیدی بن جائیں گی اور ان کے لئے موجب طار ہوں گی ۔ بعض اوقات وہ اولاد کو بطور نذر بھی قتل کرتے تھے ۔ جس طرح حضرت عبدالمطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے ان کو دس ایسے بیٹے بخشے جوان کے لئے دست وبازو ہوں تو وہ ان میں سے ایک کو قربان کریں گے ۔
یہ تمام باتیں ان کے دل و دماغ میں انکی جاہلی رسومات…
Read the full tafseer →5 یہاں " شرکاء " کی تفسیر مجاہد نے " شیاطین " سے کی ہے۔ مشرکین کی انتہائی جہالت اور سنگدلی کا ایک نمونہ یہ تھا کہ بعض اپنی بیٹیوں کو سسر بننے کے خوف سے اور بعض اس اندیشہ پر کہ کہاں سے کھلائیں گے حقیقی اولاد کو قتل کردیتے تھے اور بعض اوقات منت مانتے تھے کہ اگر اتنے بیٹے ہوجائیں گے یا فلاں مراد پوری ہوگی تو ایک بیٹا فلاں بت کے نام پر ذبح کریں گے۔ پھر اس ظلم و بےرحمی کو بڑی عبادت اور قربت سمجھتے تھے۔ شاید یہ رسم شیطان نے سنت خلیل اللہ ہی کے جواب میں سجھائی ہوگی۔ یہود میں بھی مدت تک قتل اولاد کی رسم بطور ایک عبادت و قربت کے جاری رہی ہے جس کا انبیائے بنی اسرائیل نے بڑی شدو مد سے رد کیا۔ بہرحال اس…
Read the full tafseer →آیت 137 وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ اَوْلاَدِہِمْ شُرَکَآؤُہُمْ
اس میں اشارہ ہے مشرکین کے ان اعتقادات کی طرف جن کے تحت وہ اپنے بچوں کو جنوں یا مختلف بتوں کے نام پر قربان کردیتے تھے۔ آج بھی ہندوستان میں اس طرح کے واقعات سننے میں آتے ہیں کہ کسی نے اپنے بچے کو دیوی کی بھینٹ چڑھا دیا۔
وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔
دین کو مشتبہ کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسے عقائد اور ایسی چیزیں بھی دین میں شامل کردی جائیں جن کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ قتل اولاد بھی اس کی مثال ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ وہ دین اور مذہب کے نام پر ہی…
Read the full tafseer →145 قتل اولاد کی تین وجوہ :۔ دور جاہلیت میں اولاد کو تین وجوہ سے قتل کیا جاتا تھا۔
(1) بیٹیوں کو اس عار کی وجہ سے زندہ درگور کرتے تھے کہ کوئی نہ کوئی ان کا داماد بنے گا جس کے آگے ان کی آنکھیں نیچی ہوں گی اور اس لیے بھی کہ اگر وہ کسی دوسرے قبیلے میں چلی گئی یا بیاہی گئی تو کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہوجائیں گے کیونکہ ان میں رائج قبائلی نظام عصبیت کے سہارے چلتا اور جھگڑوں اور جنگوں پر ختم ہوتا تھا۔
(2) اللہ پر عدم توکل۔ بعض لوگ اپنی اولاد کو خواہ بیٹا ہو یا بیٹی، اس لیے مار ڈالتے تھے کہ ان کا خرچ برداشت نہ کرسکیں گے یا اپنا معیار زندگی برقرار نہ رکھ سکیں گے اور اس جرم میں آج کی دنیا کا تقریباً پورا…
Read the full tafseer →204 ۔ (چنانچہ یہ احمق مشرکین ان دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے دھڑا دھڑ اپنی اولاد کو موت کے گھاٹ اتارتے جاتے ہیں ! ) مفسرین کا خیال آیت کے الفاظ سے عرب جاہلی کی رسم دختر کشی کی طرف گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے لیکن زیادہ لگتی ہوئی بات یہ ہے کہ اس مقام پر اشارہ دختر کشی کی جانب نہیں، بلکہ عام اولاد کشی کی جانب ہے۔۔۔ غریب مفسرین کو کیا خبر کہ بڑی بڑی ” مہذب وشائستہ “ لیکن جاہلی و مشرک قوموں میں کیسی کیسی ظالمانہ ووحشیانہ رسمیں موجود رہ چکی ہیں ! اولاد کو دیوتاؤں کے استھانوں پر بےتکلف بھینٹ چڑھا دینے کا دستور سامی قوموں میں عام رہا ہے اور خود ہندوستان میں مدتوں یہ رسم رہی ہے کہ بچوں کو گنگا مائی کی موجوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
وَجَعَلوا للہ مما۔۔۔۔ نصیباً ۔ اس آیت میں مشرکوں کے اس عقیدہ و عمل کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر گھڑ رکھا تھا کہ وہ زمینی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کیلئے اور کچھ حصہ خود ساختہ معبودوں کے لئے مقرر کرلیتے تھے، اللہ کے حصہ کو مہمانوں محتاجوں اور صلہ رحمی پر خرچ کرتے تھے اور بتوں کے حصہ کو بتوں کے مجاوروں اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے، پھر اگر بتوں کے حصہ میں توقع کے مطابق پیداوار نہ ہوتی تو اللہ کے حصہ میں سے نکال کر بتوں کے حصہ میں شامل کرلیتے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہوتا تو بتوں کے حصہ میں سے نہ نکالتے اور کہہ دیتے کہ اللہ تو غنی ہے۔
Read the full tafseer →وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادہم شرکآۂم لیردوہم ولیبلبسو علیہم دینہم . اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے خیال میں ان کے معبودوں نے اپنی
اولاد کے قتل کرنے کو مستحسن بنا رکھا ہے تاکہ وہ ان کو برباد کردیں اور ان کے مذہبی طریقہ کو مشتبہ کردیں۔
وکذلک : یہ مفعول محذوف کی صفت ہے یعنی جس طرح کھیتی اور چوپایوں کی تقسیم کو ان کے معبودوں نے ان کی نظر میں مستحسن بنا دیا ہے اسی طرح قتل اولاد کو بھی پسندیدہ فعل بنا دیا ہے۔ قتل اولاد سے مراد ہے لڑکیوں کو زندہ دفن کردینا اور دیوتاؤں کے نام پر بھینٹ چڑھانا۔ شرکاۂم : سے مجاہد کے نزدیک شیاطین مراد ہیں جنہوں نے مشرکوں کے لئے اس بات کو پسندیدہ فعل بنا دیا تھا…
Read the full tafseer →(137) اسی طرح شیاطین نے ان کی لڑکیوں کے قتل کرنے کو مستحسن بنادیا ہے تاکہ وہ ان کو برباد کرے اور ان پر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے دین کو مخلوط کردے۔
اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو اپنا یہ طریقہ مستحسن نہ معلوم ہوتا اور نہ اس طرح یہ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کرتے (لیکن اللہ نے اپنی مشیت خاص کے تحت انہیں محدود اختیار دے رکھا ہے) اور جو کچھ یہ غلط باتیں بناتے ہیں کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کے دفن کرنے کا حکم دیا ہے آپ انہیں ان کی حالت پر یوں ہی رہنے دیجیے ،
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍمِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔۔ : یہ ان کی دوسری جہالت اور گمراہی تھی، اس کا عطف ”َجَعَلُوْا“ پر ہے، یعنی جیسے کھیتی اور جانوروں میں سے انھوں نے اپنے شرکاء کا حصہ مقرر کیا، اسی طرح بہت سے مشرکین کے لیے ان کے شرکاء نے اپنی اولاد کو قتل کرنا بھی خوش نما بنادیا اور عام طور پر ان کے سامنے تین چیزیں جواز کے بہانے کے طور پر رکھ دیں، ایک یہ کہ انھیں کہاں سے کھلاؤ گے، یعنی : (ْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ) [ بنی إسرائیل : 31 ] ”مفلسی کے ڈر سے۔“ جیسا کہ آج کل کے نام نہاد مسلمان بھی منصوبہ بندی کے نام پر یہ کام کر رہے ہیں، کفار کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ دوسرا لڑکی کا باعث عار ہونا، جیسا کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 137
قولہ تعالیٰ : آیت : وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکاؤ ھم اس کا معنی ہے جس طرح انہوں نے ان کے لیے اسے خوشنما بنایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک حصہ مقرر کردیں اور ایک حصہ اپنے بتوں کے لیے مقرر کردیں اسی طرح ان کے شریکوں نے بہت سے مشرکین کے لیے اپنی اولاد کے قتل کرنے کو خوشنما بنا دیا۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : ان کے لیے فقر وفاقہ کے خوف سے بیٹیوں کے قتل کو خوشنما بنا دیا گیا۔ فراء اور زجاج نے کہا ہے : یہاں ان کے شریکوں سے مراد وہ ہیں جو بتوں کی خدمت میں رہا کرتے تھے (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 174) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے ( ایضا) کہ مراد لوگوں میں گمراہ اور خواہش…
Read the full tafseer →(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکاؤھم کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لئے اپنی اولاد کو قتل کرنا مزین کردیا گیا (یعنی وہ اپنی اولاد کے قتل کرنے کو اچھا کام سمجھتے تھے) ۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت وکذلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم شرکاؤھم کے بارے میں فرمایا کہ ان کے شیاطین ان کو حکم کرتے تھے کہ اپنی اولاد کو زندہ درگور کرو مفلسی کے ڈر سے۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] زَيَّنَ [ سجایا ] لِكَثِيْرٍ [ بہتوں کے لئے ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں میں سے ] قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ [ اپنی اولاد کے قتل کرنے کو ] شُرَكَاۗؤُهُمْ [ ان کے شریکوں نے ] لِيُرْدُوْهُمْ [ تاکہ وہ تباہ و برباد کریں ان کو ] وَلِيَلْبِسُوْا [ اور تاکہ وہ گڈمڈ کریں ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] دِيْنَهُمْ ۭ [ ان کے دین کو ] وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَا فَعَلُوْهُ [ تو وہ نہ کرتے اس کو ] فَذَرْهُمْ [ پس آپ چھوڑ دیں ان کو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] يَفْتَرُوْنَ [ وہ گھڑتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
مشرکین کا اپنی اولاد کو قتل کرنا اور کھیتیوں اور جانوروں کے بارے میں اپنی طرف سے تحریم اور تحلیل کے قواعد بنانا
اس دنیا میں ہادی عالم رحمتہ للعالمین ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے پوری دنیا جہالت، ضلالت، سفاہت، کفر و شرک سے بھری ہوئی تھی۔ عرب کے لوگ مشرک بھی تھے اور جاہل بھی، ان میں جہالت اور جاہلیت دونوں پوری طرح جگہ پکڑے ہوئی تھی طرح طرح کی شرکیہ رسمیں نکال رکھی تھیں۔
جانوروں اور ان کے بچوں اور کھیتیوں کے بارے میں طرح طرح کے افعال قبیحہ میں مبتلا تھے اور یہ افعال اور رسوم انہیں شیاطین الجن اور شیاطین الانس نے سجھا رکھی تھیں جن میں بعض کا ذکر (فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ ) میں اور بعض کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
ابطال رسوم جاہلیت
قال اللہ تعالیٰ وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام۔۔۔ الے۔۔۔ وما کانو مھتدین
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کی اعتقادی جہالتوں کا بیان تھا اب ان آیات میں ان کی بعض عملی جہالتوں یعنی ان کی بعض جاہلانہ رسموں اور عادتوں کو بیان کرتے ہیں وہ رسمیں یہ ہیں۔
رسم اول : اور من جملہ ان کی ہزاروں جہالتوں کے ایک جہالت یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز اللہ کے لیے مقرر کیا۔ یعنی مشرکین عرب میں ایک رسم یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز کے خدا کے نام کا نکالتے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے اللہ کا حصہ مہمانوں اور…
Read the full tafseer →151 یہ غیر اللہ کی نذر ونیاز کی ایک تیسری شق کا بیان ہے۔ جس طرح مشرکین پھلوں، غلوں اور چوپایوں سے غیر اللہ کا حصہ نکالتے تھے اسی طرح وہ اپنی اولاد میں سے بھی بعض کو اپنے معبودوں کی نذر کو طور پر ذبح کرتے تھے۔ وقیل انھم کانواینذاحدھم اذا بلغ بنوہ عشرۃ نحر واحد منھم (روح ج 8 ص 32) ۔ شُرَکَاءُھُمْ ۔ زَیَّنَ کا فاعل اور قَتْلَ اَوْلَادِھِمْ اس کا مفعول ہے۔ چونکہ معبودوں سے محبت و عقیدت ان سے یہ کام کراتی تھی اور اسی وجہ سے وہ اس کام کو عبادت سمجھتے تھے اس لیے مجازاً فعل تزیین کو شرکاء کی طرف منسوب کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد اور قیامت کے محاسبے کا ذکر فرمایا تھا اور یہ کہ جنوں اور انسانوں سے باز پُرس ہوگی اور انہیں جواب دینا پڑے گا۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ اچھا انجام ایمان اور نیک اعمال پر منحصر ہوتا ہے ، اور ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۔ چونکہ ظلم میں سر فہرست کفر اور شرک ہے ، اس لیے اللہ نے اس سورة مبارک میں کفر و شرک کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے گذشتہ درس میں اعتقدی شرک کی تردید کی گئی تھی اور اب اس درس میں عملی شرک کی مذمت بیان کی گئی ہے زمانہ جاہلیت میں مشرکوں نے بہت سے شرکیہ اعمال و عقائد وضع کرلیے تھے جن پر وہ عمل پیرا تھے ان میں سے بعض رسمات جاہلیت کی تردید کی…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ قَتْلَ اَوْلَادِہِمْ شُرَكَاۗؤُہُمْ لِيُرْدُوْہُمْ وَلِيَلْبِسُوْا عَلَيْہِمْ دِيْنَہُمْ 0 ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْہُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ 137
زين
الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين،
( زی ن ) الزینہ
زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–137
ترکیب : مکانتکم ای حالتکم ‘ من موصولہ مفعول تعلمون ‘ نصیبا مفعول اول جعلوا للہ اور مما ذراجعل سے متعلق من الحرث ما کا بیان شرکاؤھم فاعل زین قتل مصدر مضاف الی المفعول مفعول زین۔
تفسیر : ان ما تو عدون الآت فرما کر قیامت اور وعدہ الٰہی کے منکروں کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کو بمزید وثوق سے یہ حکم ہوتا ہے کہ ان سے کہہ دو اچھا اگر تمہیں یقین نہیں تو تم جو کچھ کرتے ہو کئے جائو اور جو میں کرتا ہوں وہ میں کئے جاتا ہوں۔ آپ معلوم ہوجاوے گا کہ کس کے لئے دار آخرت اور وہاں کی خوبیاں ہیں اور اس کے ساتھ یہ حکم ناطق بھی سنا دیا کہ ظالموں کو فلاح نہ ہوگی۔
اس کے بعد کفار عرب کی چند وہ حماقتیں بیان کرتا ہے کہ جن کو…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتَلَ اَوْلَادِھِمْ شُرَکَآؤُھُمْ لِیُرْدُوْھُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْھِمْ دِیْنَھُمْ ط وَلَوْ شَآئَ اللہ ُ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْھُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔ (الانعام : 137)
(اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنادیا ہے۔ تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں۔ اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے۔ لہٰذا انھیں چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں)
مشرکین کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا
مشرکین عرب کی جہالت نے ان کے مشرکانہ اثرات…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرک جس طرح مال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو شریک بناتے ہیں اس طرح اولاد میں بھی غیر اللہ کو شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کو غیر اللہ کے نام پر قربان کرتے تھے۔
مشرکوں کا شروع سے عقیدہ ہے کہ جب تک فلان بزرگ کی روح کو خوش نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ہمارے مال اور اولاد میں برکت پیدا نہیں ہوسکتی اسی وجہ سے بےاولاد مشرک غیر اللہ کے نام پر چڑھاوے اور بزرگوں کے مزارات پر نذرانے پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی گود ہری ہوجائے۔ اولاد کی خواہش میں اس قدر آگے بڑھ کر منتیں مانتے ہیں اگر بزرگوں نے اولاد عنایت کر وا دی تو ایک بچے کو فلاں بت پر قربان کریں گے۔ اسی عقیدہ کی بنا پر اپنے بچوں کو…
Read the full tafseer →مشرکین کے قبائح میں ایک قبیح فعل کا اضافہ :
آیت 137: وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍمِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ یعنی جس طرح ان کے لئے مزین کیا۔ اموال کے حصے بنانا مزین کیا گیا اسی طرح لڑکیوں کا زندہ در گور کرنا بھی مزین کیا گیا۔ قَتْلَ یہ زیّن کا مفعول ہے۔ اَوْلَادِہِمْ شُرَکَآؤُہُمْ یہ زیّنکا فاعل ہے۔
قراءت : زُیّن زاء کا ضمہ قتل کی لام پر ضمہ۔ اولادَہم کی دال پر نصب شرکاپہم کی ہمزہ مکسور پڑھی شامی نے قتل کی اضافت شرکاء کی طرف کی مراد اس سے شیاطین ہیں اور ان کے درمیان فاصلہ بغیر ظرف کے ہے اور وہ مفعول ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے زین لکثیر من المشرکین قتل شرکائہم اولادہم۔ بہت سے مشرکین کے لئے ان کے…
Read the full tafseer →137 (وکذلک زین لکثیر من المشرکین) جیسا کہ کھیتی اور مویشیوں کی حرمت ان کے لئے مزین کی گئی اسی طرح اکثر مشرکین کے لئے مزین کردیا (قتل اولادھم شرکآئوھم لبردوھم ولیلبسوا علیھم دینھم) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ شیاطین نے ان کے لئے بیٹیوں کے قتل کو مزید کردیا۔ شیاطین کو شرکاء کہا کیونکہ انہوں نے ان کی اطاعت کی اللہ کی نافرمانی کرنے میں۔
کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے شرکاء ان کے معبودوں کے خادم ہیں جنہوں نے کفار کے لئے اولاد کے قتل کو مزید کر دای تو مشرکین یہ دعا کرتے تھے کہ اگر اتنے بیٹے پیدا ہوئے تو ایک ذبح کر دوں گا جیسا کہ عبدالمطلب نے اپنے بیٹے عبداللہ پر قسم کھائی تھی اور ابن عامر (رح) نے ” زین…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں مشرکین مکہ کی ایک نادانی کا جس طرح ذکر تھا اس میت میں اسی طرح ان کی ایک اور نادانی کا ذکر ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ قیس بن عاصم تمیمی ؓ صحابی کے اسلام لانے سے پہلے ان کے ایک دشمن نے ان پر حملہ کیا اور ان کی بیٹی کو چھین کرلے گیا اس دن سے انہوں نے قسم کھائی کہ آئندہ جو لڑکی ان کے گھر میں پیدا ہوگی وہ اس کو زندہ گاڑ دیا کریں گے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ رسم عرب میں نکالی پھر رفتہ رفتہ اکثر عرب میں یہ رسم پھیل گئی کہ یا تو پیدا ہوتے ہی لڑکی کو ایک گڑھا کھود کر اس میں دبا دیتے تھے یا جب لڑکی کچھ بڑی ہوجاتی تھی تو اس کی کو جنگل میں لے جاکر کسی کنویں میں ڈال دیتے تھے یہ رسم ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
آیت 136
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ چناچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں، حق میں نقص کا باعث نہیں۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (وجعلو اللہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیباً ) ” اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
بتوں کے چڑھاوے
قول باری ہے ( وجعلوا للہ مما ذراأ من الحرث والانعام نصیبا فقالو ھذا للہ بذعمھم و ھذا لشرکانئنا۔ ان لوگوں نے اللہ کے لیے خود اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے۔ بزعم خود اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے) تا آخر آیت۔ حرث کھیتی کو کہتے ہیں اور اس زمین کو جسے زراعت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ گمراہ لوگوں کے ایک ٹولے نے اپنی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے اور ایک حصہ اللہ کے شریکوں کے لیے مقرر کرلیا اگر شریکوں کے لیے مقرر کردہ حصے میں سے کچھ اللہ کے لیے مقرر…
Read the full tafseer →265 مشرکین کا اپنی اولاد کو قتل کرنے کی حماقت کا ارتکاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح مزین و خوشنما بنادیا ہے بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کردینا ان کا خود اپنی اولاد کو ان کے خود ساختہ اور من گھڑت شریکوں نے۔ سو اپنے شریکوں کی تزیین کی بنا پر یہ لوگ اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں، تاکہ اس طرح یہ لوگ اپنے ایسے خود ساختہ شریکوں اور فرضی و بناوٹی معبودوں کو خوش کرسکیں۔ اور آج تک جگہ جگہ ایسے ہو رہا ہے، جیسا کہ اس کے بارے میں مختلف مظاہر کی خبریں وقتا ً فوقتاً چھپتی رہتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور مشرکین عرب اس مشرکانہ اور سفیہانہ حرکت کا ارتکاب کئی وجوہ سے کرتے تھے۔ کبھی فقر و افلاس کی وجہ سے، جیسا کہ…
Read the full tafseer →ایک اور بڑی حماقت
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں کفار کے صدقہ خیرات کرنے کے غلط طریقہ کا ذکر کیا گیا ہے اس آیت میں ان کی ایک اور بےمعنی اور فضول عادت کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ شیطان کے شاگرد تھے جو شیطان انکو کہتا وہ کرتے اپنی عقل سے تو وہ بالکل کام ہی نہ لیتے تھے جیسا کہ ان کے اس عقیدہ سے پتہ چلتا ہے کہ بےجان بتوں کی پوجا کرتے، کوئی درخت کو، کوئی آگ کو، کوئی سورج، چاند، ستاروں کو پوجتا تھا۔ ان کے آگے سر جھکاتے ان کی عبادت کرتے اور ان سے منتیں مانگتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے یہ بھی اصول بنا رکھے تھے کہ بعض اوقات جانور بتوں کے نام پر قربان کرتے، کبھی جانور کھلا چھوڑ دیتے کہ یہ بت کے نام آزاد ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…
Read the full tafseer →ف 4 یہ مشرکین کی پہلی گمراہی اور جہالت کا بیان ہے کہ وہ اپنی کھتی اور جانوروں کی نسل میں جو نیاز اور خیرات نکالتے اور کے دو حصے کرلیتے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور دوسرا اپنے بتوں اور کاہنوں کے لیے خرچ کرنے پر جب بتوں اور کاہنوں کے لیے خرچ کرنے پر جب بتوں اور کاہنوں کا حصہ کم پڑجاتا تو اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے لے کر اس میں ڈال دیتے اور کہتے کہ اللہ تو غنی ہے اس کو زیادہ مال کی کیا ضرورت ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ کم پڑجاتا تو اس میں بتوں کے حصے کے میں سے کچھ نہ ڈالتے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اب جاننا چاہے کہ اللہ تعالیٰ کی نیاز کہ اس کی راہ جن کی دلوا دیا ہے ان کو دینا اسکا فائدہ…
Read the full tafseer →(6:137) زین۔ اس نے سنوارا۔ اس نے زینت دی۔ اس نے بھلا کرکے دکھایا۔
تزیین (تفعیل) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس کا فاعل شرکائہم۔ اور قتل اولادھم مفعول۔
یردوھم۔ مضارع جمع مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر ردی۔ مادہ۔ کہ وہ ہلاکت میں ڈال دیں ان کو ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ کثیر من المشرکین کی طرف راجع ہے۔ ردی ہلاک ردی اور ردیان مصدر۔ لازم (باب ضرب) کو دکر چلنا۔ لڑھکنا۔ مقدی۔ ریزہ ریزہ ۔ چورا کردینا۔ کوٹنا۔ ردی مصدر (باب سمع) ہلاک ہونا ارداء (افعال) ہلاک کرنا۔ مشقت ڈال دینا۔
لیردوھم میں لام عاقبت۔ یا لام مآل ہے۔ جو کسی فعل پر مرتب ہونے والے نتیجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ یا لام علت ہے۔
لیلبسوا علیہم دینھم۔ تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
لغات القرآن : آیت نمبر 137 تا 140 :
لیردو (تاکہ وہ برباد کریں) لیلبسوا ( تاکہ وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ کردیں) حجر ( ممنوع ہے) لایطعم ( نہیں کھاتا) حرمت (حرام کردی گئی) بطون ( بطن) پیٹ ‘ خالصۃ ( خالص۔ محض) لذکورنا (ہمارے مردوں کے لئے ہے) محرم ( حرام کردیا گیا) ازواجنا ( ہماری بیوں ( پر حرام ہے) ۔ میتۃ (مردار) وصفھم (ان کی باتیں بنانا) سفھا (بےوقوفی۔ نادانی)
تشریح : آیت نمبر 137 تا 140 :
انسانوں میں جو چالاک طبقہ ہے وہ بلامحنت امیر اور امیر تر بننے کے لئے پنڈت ‘ پروہت ‘ پادری ‘ مجاور ‘ آستانہ دار اور تکیہ دار بن جاتا ہے۔ وہ بتوں کو ‘ صلیبوں کو ‘ قبروں کو اور خلوتوں کو تقدس کا رنگ دے کر اپنی آمدنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
زندہ لڑکیوں کے گاڑنے کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیس بن عاصم تمیمی صحابی ؓ کے اسلام لانے سے پہلے ان کے دشمن نے ان پر حملہ کیا اور ان کی بیٹی کو چھین کرلے گیا۔ اس دن سے انہوں نے قسم کھالی کہ آئندہ جو لڑکی ان کے گھر میں پیدا ہوگی وہ اس کو زندہ گاڑ دیا کریں گے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسم عرب میں نکالی، پھر رفتہ رفتہ اکثر عرب میں پھیل گئی۔ یہ رسم ایک نادانی کی بات تھی اس لئے مذمت کے طور پر اس کا ذکر اس آیت میں فرمایا : اذ الشمس کورت میں آوے گا کہ قیامت کے دن اس جرم کی سزادی جاوے گی۔ جس طرح شیاطین نے ان لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈال دیا ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے مال میں بتوں کا حصہ ٹھہراویں گے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–141
[50] یعنی جب فصل کاٹی جائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–138
(ف 2) شرک پرستی کے معنی یہ ہیں ، کہ بہت سی ناجائز باتوں کو محض جہالت کی وجہ سے قبول کرلیا جاتا ہے رسوم و رواج کی اندھا دھند پر وی کی جاتی ہے ، چاہے جان تک ضائع ہوجائے ، قتل اولاد کس قدر ہولناک جرم ہے مگر مکہ کے مشرک اسے جائز قرار دیتے تھے ، محض جذبہ غیرت کی پرستش کے لئے بچیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے یعنی غیرت ایک بت ہے ، جس کی بھینٹ ہزاروں بچیوں کو چڑھا دیا جاتا تھا ،
(آیت) ” ولو شآء اللہ مافعلوہ “۔ سے غرض یہ ہے کہ اللہ کی مشیت تکوینی چاہتی ہے ، اجالے کے ساتھ اندھیرا بھی باقی رہے ، ورنہ شرک اسے قطعا پسند نہیں غرض یہ ہے کہ حضور ﷺ زیادہ غم نہ کریں ، اور ان کی گمراہی پر حد سے زیادہ تاسف نہ فرمائیں ،
Read the full tafseer →-137 اور جس طرح یہ شرکیہ تقسیم ان مشرکوں کی نظر میں مستحسن ہے اسی طرح ان کے معبود ان باطلہ یعنی جنات و شیاطین نے ان منکروں کی نظر میں اولاد کو قتل کرنا اور بتوں کے نام پر چڑھانا ناخوش نما اور مستحسن و مزین بنا رکھا ہے تاکہ وہ جنات ان مشرکین کو عذاب کی ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو مخلوط و مشتبہ کردیں یعنی دین ابراہیمی جو ان کا اصل دین تھا اس کو بدعات و محرمات کے ساتھ ایسا گڈ مڈ کردیں کہ حق و باطل کا امتیاز باقی نہ رہے اور اگر خدا چاہتا اور اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ مشرکین ایسا نہ کرتے پس اے پیغمبر آپ ان کو اور ان کی افترا پردازیوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیجیے۔
Read the full tafseer →ف 6۔ تاکہ وہ ہمیشہ غلطی میں پھنسے رہیں۔
Read the full tafseer →عقائد کے بعد مشرکین عرب کی عملی غلطیوں کا اظہار کیا جا رہا ہے :
211: پیچھے سے مشرکین کے عقائد باطلہ اور شرکیہ کا بیان تھا اب ان کی عملی غلطیوں اور جاہلانہ رسم و رواج کا ذکر کیا جا رہا ہے ان کی عملی غلطی جس کا پہلے سے بیان چلا آرہا ہے کہ اللہ کے نام سے نذر ومنت بھی دیتے اور غیر اللہ کے نام سے بھی اور پھر اللہ کے نام کی چیز ضرورت کے ساتھ غیر اللہ کی نذر ومنت میں دے دیتے تھے لیکن غیر اللہ کی نذر ومنت کبھی اللہ کی نذر ومنت میں شامل نہ کرتے اور اس کے لئے اس عقیدہ سے کام لیتے کہ اللہ تو پہلے ہی مستغنی ہے اور اس آڑ میں جو حقیقت تھی وہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر غیر اللہ کے نام کی چیز اللہ کے نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–141
Linkage of Verses
Described in the previous verses were false beliefs of the mushriks of Arabia while the present verses recount their practical errors and ignorant customs. The customs of Jahiliyyah mentioned in these verses are: (1) They took out a portion in the name of Allah from grains and fruits, and some in the name of idols and Jinns. Then, if by chance, some part of what belonged to the portion of Allah got mixed up with the portion reserved for idols, they would let it stay mixed as it was. When the position was the reverse of it, they would take it out and make the portion set for…
Read the full tafseer →107. The word 'partners' is now used in a different sense. In this verse the word 'partners' denotes those human beings and devils who had legitimized infanticide and even represented it as a commendable act.
The reason for calling such people 'partners' is that just as God alone deserves to be worshipped, so He alone has the right to make laws for His creatures and to determine the limits of what is lawful and what is unlawful. Also, just as consecrating acts of devotion to anyone other than God amounts to setting up partners with Him, so to follow man-made laws in the belief that human…
Read the full tafseer →