ہدعت کا آغاز
مشرکین کی ایک نو ایجاد (بدعت) جو کفر و شرک کا ایک طریقہ تھی بیان ہو رہی ہے کہ ہر چیز پیدا کی ہوئی تو ہماری ہے پھر یہ اس میں سے نذرانہ کا کچھ حصہ ہمارے نام کا ٹھہراتے ہیں اور کچھ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کا جنہیں وہ ہمارا شریک بنائے ہوئے ہیں، اسی کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے ہیں کہ اللہ کے نام کا ٹھہرایا ہوا نذرانہ بتوں کے نام والے میں مل گیا تو وہ تو بتوں کا ہوگیا لیکن اگر بتوں کے لئے ٹھہرائے ہوئے میں سے کچھ اللہ کے نام والے میں مل گیا تو اسے جھٹ سے نکال لیتے تھے۔ کوئی ذبیحہ اپنے معبودوں کے نام کا کریں تو بھول کر بھی اس پر اللہ کا نام نہیں لیتے یہ کیسی بری تقسیم کرتے ہیں۔ اولاً تو یہ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 104
اوپر کا سلسلہ تقریر اس بات پر تمام ہوا تھا کہ اگر یہ لوگ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اپنی جاہلیت پر اصرار کیے جاتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ اچھا، تم اپنے طریقہ پر عمل کرتے رہو اور میں اپنے طریقہ پر عمل کروں گا، قیامت ایک دن ضرور آنی ہے، اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس روش کا کیا انجام ہوتا ہے، بہرحال یہ خوب سمجھ لو کہ وہاں ظالموں کو فلاح نصیب نہ ہوگی۔ اس کے بعد اب اس جاہلیت کی کچھ تشریح کی جاتی ہے جس پر وہ لوگ اصرار کر رہے تھے اور جسے چھوڑنے پر کسی طرح آمادہ نہ ہوتے تھے۔ انہیں بتایا جارہا ہے کہ تمہارا وہ ”ظلم“ کیا ہے جس پر قائم رہتے ہوئے تم کسی فلاح کی امید…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں مشرکین عرب کی ایک خاص گمراہی اور غلط کاری پر تنبیہ فرمائی گئی ہے، عرب کی عادت یہ تھی کہ کھیتی اور باغات سے نیز تجارتوں سے جو کچھ پیداوار ہوتی تھی، اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے لئے نکالا کرتے تھے، اللہ کے نام کا حصہ غرباء و فقراء و مساکین پر خرچ کرتے اور بتوں کے نام کا حصہ بت خانہ کے پجاریوں اور نگہبانوں پر صرف کیا کرتے تھے۔
اول تو یہی ظلم کم نہ تھا کہ ساری چیزیں پیدا تو خدا تعالیٰ نے فرمائی اور ہر چیز کی پیداوار اس نے عطا فرمائیں، پھر اس کی دی ہوئی چیزوں میں بتوں کو شریک کردیا، اس پر مزید ستم برستم یہ تھا کہ اگر کبھی پیداوار میں کچھ کمی آجائے تو اس کمی…
Read the full tafseer →مشرکین کی بدعات کی تفصیل : اس سلسلہ بحث کا آغاز جیسا کہ آیات 118 تا 112 سے معلوم ہوا، مشرکین مکہ کی ان بدعات کی تردید سے ہوا تھا جو اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت انہوں نے تحریم و تحلیل کی نوعیت کی ایجاد کی تھیں، اس تردید کے جواب میں انہوں نے جو ہنگامہ بحث وجدال کھڑا کیا اس کے تقاضے سے بیچ میں بعض مناسب حالات ہدایات مسلمانوں کو دی گئیں اور بعض ضروری تنبیہا مشرکین کو سنائی گئیں۔ اب یہ ان بدعات کی تفصیل آرہی ہے تاکہ مسلمان اپنے آپ کو ان نجاستوں سے محفوظ رکھیں۔
وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا،…
Read the full tafseer →136۔ 1 اس آیت میں مشرکوں کے عقیدہ و عمل کا ایک نمونہ بتلایا گیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر گھڑ رکھا تھا اور وہ زمینی پیداوار اور مال مویشی میں سے کچھ حصہ اللہ کے لئے اور کچھ اپنے خود ساختہ معبودوں کے لئے مقرر کرلیتے اللہ کے حصے کو مہمانوں، فقرا اور صلہ رحمی پر خرچ کرتے اور بتوں کے حصے کو مجاورین اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے۔ پھر اگر بتوں کے مقرر حصے میں توقع کے مطابق پیداوار نہ ہوتی تو اللہ کے حصے میں سے نکال کر اس میں شامل کرلیتے اور اس کے برعکس معاملہ ہو تو بتوں کے حصے میں سے نہ نکالتے اور کہتے کہ اللہ تو غنی ہے۔
136۔ 2 یعنی اللہ کے حصہ کی کمی کی صورت میں بتوں کی مقررہ حصے میں سے صدقات و…
Read the full tafseer →66: یہاں سے آیت نمبر : 144 تک عرب کے مشرکین کی کچھ بےبنیاد رسموں کا بیان ہے، ان لوگوں نے کسی معقول اور علمی بنیاد کے بغیر مختلف کاموں کو من گھڑت اسباب کی بنیاد پر حلال یا حرام قرار دے رکھا تھا، مثلاً خود اپنی اولاد کو انتہائی سنگ دلی سے قتل کردیتے تھے، اگر لڑکی پیدا ہوئی تو اسے اپنے لئے بڑی شرم کی بات سمجھ کر اسے زندہ زمین میں دفن کردیتے تھے، بعض لوگ اس وجہ سے بھی لڑکیوں کو دفن کردیتے تھے کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اس لئے انسانوں کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لڑکیاں رکھیں، لڑکوں کو بعض اس وجہ سے قتل کر ڈالتے تھے کہ ان کو کہاں سے کھلائیں گے، اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو یہ…
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 136۔
فصلوں اور مویشیوں کے بارے میں جاہلی سوسائٹی کے رسم و رواج کے بیان کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ ان فصلوں اور مویشیوں کی خالق اللہ کی ذات ہے اور وہی ہے جو زمین آسمان سے لوگوں کے لیے وسائل رزق فراہم کرتا ہے ۔ لیکن ان حقائق کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے بعد ذرا سوچیں کہ تم لوگو اللہ کے عطا کردہ رزق کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ‘ یہ کہ وہ اس کا ایک حصہ تو اللہ کے لئے قرار دیتے ہیں اور دوسرا حصہ اپنے بتوں کے نام منسوب کرتے ہیں ۔ (ظاہر ہے کہ بتوں کے مجاور ہی وہ لوگ ہیں جو بتوں کے حصے کو حاصل کرنے کے حقدار ہوتے ہیں) ۔ اب اللہ کے حصے کے ساتھ وہ یہ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں جس کی تفصیلات آیت…
Read the full tafseer →4 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " کافر اپنی کھیتی میں سے اور مواشی کے بچوں میں سے اللہ کی نیاز نکالتے اور بتوں کی بھی نیاز نکالتے۔ پھر بعضا جانور اللہ کے نام کا بہتر دیکھا تو بتوں کی طرف بدل دیا۔ مگر بتوں کی طرف کا اللہ کی طرف نہ کرتے، ان سے زیادہ ڈرتے "۔ اسی طرح غلہ وغیرہ میں سے اگر بتوں کے نام کا اتفاقاً اللہ کے حصّہ میں مل گیا تو پھر جدا کر کے بتوں کی طرف لوٹا دیتے اور اللہ نام کا بتوں کے حصہ میں جا پڑا تو اسے نہ لوٹاتے۔ بہانہ یہ کرتے تھے کہ اللہ تو غنی ہے اس کا کم ہوجائے تو کیا پروا ہے بخلاف بتوں کے کہ وہ ایسے نہیں۔ تماشہ یہ ہے کہ یہ کہہ کر بھی شرماتے نہ تھے کہ جو ایسے محتاج ہوں ان کو معبود…
Read the full tafseer →آیت 136 وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا
ایک بڑے خدا کو مان کر چھوٹے خداؤں کو اس کی الوہیت میں شریک کردینا ہی در اصل شرک ہے۔ اس میں بڑے خدا کا انکار نہیں ہوتا۔ جیسے ہندوؤں میں مہا دیو تو ایک ہی ہے جب کہ چھوٹی سطح پر دیوی دیوتا بیشمار ہیں۔ اسی طرح انگریزی میں بھی بڑے G سے لکھے جانے والا God ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ وہ Omnipotent ہے ‘ Omniscient ہے ‘ Omnipresent ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے ‘ وہ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ہے ‘ وہ ہر جگہ موجود ہے۔ یہ اس کی صفات ہیں ‘ یہ اس کے Attributes ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے تو G بڑا capital ہی آئے گا ‘ لیکن چھوٹے g سے…
Read the full tafseer →143 صدقہ و خیرات میں مشرکوں کی ناانصافیاں :۔ مشرکین نے صدقہ و خیرات کرتے وقت اللہ کا حصہ الگ مقرر کر رکھا تھا اور اپنے بتوں یا دیوی دیوتاؤں کا الگ۔ ان کا پہلا ظلم تو یہ تھا کہ اس بات کے اعتراف کے باوجود کہ ان کی کھیتی اور مویشیوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کا بھی حصہ مقرر کردیا۔ اور دوسرا ظلم یہ تھا کہ وہ اپنے وہم و گمان کی بنا پر اپنے شارع خود ہی بن بیٹھے تھے اور ان کا زعم باطل یہ تھا کہ ہم اللہ کا حصہ تو اس لیے نکالتے ہیں کہ ہماری کھیتی اور مویشیوں کو پیدا کرنے والا وہی ہے اور دوسرے معبودوں یعنی دیوی دیوتاؤں، فرشتوں، ستاروں کی ارواح اور پہلے بزرگوں کی روحوں کا…
Read the full tafseer →202 ۔ جاہلیت عرب میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ یہ لوگ اپنی سالانہ پیداوار وغیرہ میں سے ایک حصہ بطور خیرو خیرات الگ نکال رکھتے اس میں ایک جزو اللہ تعالیٰ کے نام کا رکھتے۔ اور اسے مسافروں، مسیکنوں، مہمانوں پر خرچ کرتے، اور ایک جزو اپنے دیوتاؤں کے لیے نامزد کردیتے، اسے مجاوروں، پنڈتوں، پروہتوں کے ذریعہ مندروں میں بتوں اور مورتیوں پر چڑھاتے۔ اصولی اور نظری حیثیت سے تو یہی تقسیم تھی لیکن عملا یہ بھی تھا کہ دونوں حصوں میں اگر اتفاق سے کچھ خلط ہوجاتا تو کل کا کل دیوتاؤں ہی کے لیے چڑھا وے پر منتقل کردیتے یا اگر یہ دیکھتے کہ عمدہ مال اللہ والے حصہ میں چلا جارہا ہے، جب بھی اسے دیوتاؤں کی طرف کردیتے یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
وَجَعَلوا للہ مما۔۔۔۔ نصیباً ۔ اس آیت میں مشرکوں کے اس عقیدہ و عمل کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر گھڑ رکھا تھا کہ وہ زمینی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کیلئے اور کچھ حصہ خود ساختہ معبودوں کے لئے مقرر کرلیتے تھے، اللہ کے حصہ کو مہمانوں محتاجوں اور صلہ رحمی پر خرچ کرتے تھے اور بتوں کے حصہ کو بتوں کے مجاوروں اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے، پھر اگر بتوں کے حصہ میں توقع کے مطابق پیداوار نہ ہوتی تو اللہ کے حصہ میں سے نکال کر بتوں کے حصہ میں شامل کرلیتے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہوتا تو بتوں کے حصہ میں سے نہ نکالتے اور کہہ دیتے کہ اللہ تو غنی ہے۔
Read the full tafseer →وجعلوا اللہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا . اور اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور چوپایوں میں انہوں نے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور کچھ حصہ اپنے (مفروضہ) معبودوں کا۔ چونکہ تقابل کی وجہ سے یہ آخری فقرہ ظاہر تھا اس لئے ذکر نہیں فرمایا۔
فقالوا ہذا للہ بزعمہم . اور بزعم خود کہتے ہیں یہ حصہ تو اللہ کا ہے یعنی اللہ نے ان کو حکم نہیں دیا اور نہ یہ تقسیم شریعت خداوندی میں آئی بلکہ محض ان کی خود ساختہ ہے۔
وہذا لشرکآئنا . اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے (یعنی اللہ کی عبادت میں ہم جن کو شریک کرتے ہیں یہ ان کا حصہ ہے)
فما کان لشرکآۂم فلا یصل الی اللہ وما کان للہ فہو یصل الی شرکآۂم . پھر جو چیز ان کے معبودوں (کے…
Read the full tafseer →(136) ان اونٹ گائے اور کھیتی میں سے ان لوگوں نے کچھ حصہ اللہ کے نام کا اور کچھ حصہ اپنے بتوں کے نام کا مقرر کیا ہے، پھر جو چیز ان کئے بتوں کی ہوتی ہے وہ اس حصہ کی طرف نہیں پہنچتی جو ان کے زعم میں اللہ کا ہے اور جو اللہ کا حصہ ہوتا ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتا ہے، اپنے لیے انہوں نے کیا ہی بدترین تجویز نکال رکھی ہے خود فریبی اور دلوں کے ٹیڑھے پن کی وجہ سے ان کے قول وفعل کا یہ تضاد انہیں اچھا دکھائی دے رہا ہے۔
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ : قیامت اور جزا و سزا کے متعلق ان کے خیالات کی تردید کے بعد یہاں سے ان کی دوسری اعتقادی اور عملی حماقتوں اور جہالتوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جو مدت سے چلی آئی تھیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب تم عربوں کی جہالت معلوم کرنا چاہو تو سورة انعام کی آیت (130) سے لے کر (قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْٓا) یعنی آیت (140) تک پڑھ لو۔ [ بخاری، المناقب، باب قصۃ زمزم و جہل العرب : 3524 ] ان میں سے پہلی جہالت یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور چوپاؤں میں سے ایک حصہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے، یعنی مہمان نوازی، صلہ رحمی اور اللہ کو خوش کرنے والے کاموں کے لیے مقرر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 136
قولہ تعالیٰ : آیت : وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا اس میں ایک مسئلہ ہے :
اور کہا جاتا ہے : ذرا یذرا ذرا، ای خلق ( اس نے پیدا کیا) اور کلام میں حذف اور اختصار ہے اور وہ یہ ہے وجعلوا لاصنامھم نصیبا ( اور انہوں نے اپنے بتوں کے لیے حصہ مقرر کیا) اور اس پر دلیل ما بعد کلام ہے اور یہ ان چیزوں میں سے ہے جسے شیطان نے ان کے لیے آراستہ کیا اور انہیں گمراہ کردیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے مال کا ایک مقررہ حصہ اپنے گمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دیا اور ایک حصہ اپنے بتوں کی طرف۔ حضرت ابن عباس، حسن، مجاہد اور حضرت قتادہ ؓ نے یہی کہا ہے اور معنی باہم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔…
Read the full tafseer →(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت وجعلوا للہ مما ذرا کے بارے میں فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنے پھلوں کو اپنے پانی میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے بنایا اور ایک حصہ شیطان اور بتوں کے لئے بنایا اگر اس پھل میں سے کچھ گر جاتا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے مقرر کیا تھا شیطان کے حصہ میں تو اس کو چھوڑ دیتے۔ اگر شیطان کے حصہ میں سے کچھ گر جاتا اللہ تعالیٰ کے حصہ میں تو اس کو شیطان کے حصہ میں لوٹا دیتے۔ اور اگر اللہ کے حصہ میں سے کچھ پانی بہہ پڑتا شیطان کے حصہ میں تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر شیطان کے حصہ میں سے کچھ پانی بہہ پڑتا اللہ…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا [ اور وہ لوگ بناتے ہیں ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ] مِمَّا [ اس میں سے جو ] ذَرَاَ [ اس نے پیدا کیا ] مِنَ الْحَرْثِ [ کھیتی میں سے ] وَالْاَنْعَامِ [ اور مویشیوں میں سے ] نَصِيْبًا [ ایک حصہ ] فَقَالُوْا [ پھر کہتے ہیں ] ھٰذَا [ یہ ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ہے ] بِزَعْمِهِمْ [ ان کے گمان میں ] وَھٰذَا [ اور یہ ] لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ [ ہمارے شریکوں کے لئے ہے ] فَمَا [ پس جو ] كَانَ [ ہوتا ہے ] لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ [ ان کے شریکوں کے لئے ] فَلَا يَصِلُ [ تو وہ نہیں پہنچتا ] اِلَى اللّٰهِ ۚ [ اللہ تک ] وَمَا [ اور جو ] كَانَ [ ہوتا ہے ] لِلّٰهِ [ اللہ کیلئے ] فَهُوَ يَصِلُ [ تو وہ پہنچتا ہے ]…
Read the full tafseer →مشرکین نے کھیتوں اور جانوروں کو شرک کا ذریعہ بنایا
مشرکین میں جو طرح طرح سے شرک پھیلا ہوا ہے جس کی کئی صورتیں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اپنے شرکاء یعنی اپنے باطل معبودوں کے نام پر کچھ مال نامزد کردیتے تھے۔ اور بہت سا مال ان پر بھینٹ کے طور پر چڑھاتے تھے ان کے ناموں پر جانوروں کے کان کاٹ دیتے تھے اور ان کے نام سے بہت سے جانوروں کو آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ مشرکین میں اب بھی ایسے طریقے رائج ہیں۔
آیت بالا میں مالیاتی سلسلہ کے ایک شرک کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے کھیتیاں اور مویشی پیدا فرمائے ہیں اور یہ سب اسی کی ملکیت ہے۔ مشرکین یہ کرتے تھے کہ ان میں سے کچھ حصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
ابطال رسوم جاہلیت
قال اللہ تعالیٰ وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام۔۔۔ الے۔۔۔ وما کانو مھتدین
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کی اعتقادی جہالتوں کا بیان تھا اب ان آیات میں ان کی بعض عملی جہالتوں یعنی ان کی بعض جاہلانہ رسموں اور عادتوں کو بیان کرتے ہیں وہ رسمیں یہ ہیں۔
رسم اول : اور من جملہ ان کی ہزاروں جہالتوں کے ایک جہالت یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز اللہ کے لیے مقرر کیا۔ یعنی مشرکین عرب میں ایک رسم یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز کے خدا کے نام کا نکالتے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے اللہ کا حصہ مہمانوں اور…
Read the full tafseer →149 یہ غیر اللہ کی نذر ونیاز کا دوسری بار ذکر ہے پہلے قَدْ فَصَّلَ الخ میں اجمالاً ذکر کیا یہاں قدرے تفصیل سے ذکر فرمایا یعنی مشرکین نہ صرف چوپایوں ہی کو غیر اللہ کا حصہ نکالتے ہیں بلکہ وہ غلوں اور پھلوں سے بھی غیر اللہ کی نذر و نیاز مقرر کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف وہی جانور حرام نہیں جسے غیر اللہ کی تعظیم کیلئے ذبح کیا جائے بلکہ وہ بھی حرام ہے جو زندہ غیر اللہ کی نذر و نیاز کے طور پر دیدیا جائے۔ مشرکین زمین کی پیداوار سے اور جانوروں سے اپنے معبودوں کی نیاز کے سے معین کردیتے تھے ور ساتھ اللہ کا حصہ بھی متعین کرتے تھے۔
150:۔ اپنے معبودانِ باطلہ کی نذر و نیاز کے حصوں کو اللہ کی نذر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد اور قیامت کے محاسبے کا ذکر فرمایا تھا اور یہ کہ جنوں اور انسانوں سے باز پُرس ہوگی اور انہیں جواب دینا پڑے گا۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ اچھا انجام ایمان اور نیک اعمال پر منحصر ہوتا ہے ، اور ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۔ چونکہ ظلم میں سر فہرست کفر اور شرک ہے ، اس لیے اللہ نے اس سورة مبارک میں کفر و شرک کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے گذشتہ درس میں اعتقدی شرک کی تردید کی گئی تھی اور اب اس درس میں عملی شرک کی مذمت بیان کی گئی ہے زمانہ جاہلیت میں مشرکوں نے بہت سے شرکیہ اعمال و عقائد وضع کرلیے تھے جن پر وہ عمل پیرا تھے ان میں سے بعض رسمات جاہلیت کی تردید کی…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا لِلہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلہِ بِزَعْمِہِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا 0 ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕہِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللہِ 0 ۚ وَمَا كَانَ لِلہِ فَہُوَيَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕہِمْ 0 ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 136
وذر
[يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی:
قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–137
ترکیب : مکانتکم ای حالتکم ‘ من موصولہ مفعول تعلمون ‘ نصیبا مفعول اول جعلوا للہ اور مما ذراجعل سے متعلق من الحرث ما کا بیان شرکاؤھم فاعل زین قتل مصدر مضاف الی المفعول مفعول زین۔
تفسیر : ان ما تو عدون الآت فرما کر قیامت اور وعدہ الٰہی کے منکروں کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کو بمزید وثوق سے یہ حکم ہوتا ہے کہ ان سے کہہ دو اچھا اگر تمہیں یقین نہیں تو تم جو کچھ کرتے ہو کئے جائو اور جو میں کرتا ہوں وہ میں کئے جاتا ہوں۔ آپ معلوم ہوجاوے گا کہ کس کے لئے دار آخرت اور وہاں کی خوبیاں ہیں اور اس کے ساتھ یہ حکم ناطق بھی سنا دیا کہ ظالموں کو فلاح نہ ہوگی۔
اس کے بعد کفار عرب کی چند وہ حماقتیں بیان کرتا ہے کہ جن کو…
Read the full tafseer →وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآئِنَا ج فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِھِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللہِ ج وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَھُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآئِھِمْ ط سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ ۔ (الانعام : 136)
(ان لوگوں نے اللہ کے لیے خود اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے ‘ ان کے گمان کے مطابق اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے۔ پھر جو حصہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے ‘ وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا۔ مگر جو اللہ کے لیے ہے ‘ وہ ان کے شریکوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دنیا میں سب سے بڑا ظلم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے شرک کے مرتکب جن اور انسان جس طرح قولی اور جسمانی عبادات میں گمراہ ہوتے ہیں اسی طرح مالی معاملات اور صدقہ کرنے میں شرک کرتے ہیں۔
اب مشرکوں کے مالی عبادات میں شرک کی نشاندہی اور اس کی مذمت کی جاتی ہے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ذکر کرتے ہیں کہ مشرکین مکہ اپنی خود ساختہ تقسیم کے مطابق اپنے جانوروں میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کرتے تھے اور دوسرا حصہ معبودان باطل کے لیے۔ جن کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ سب کچھ ان کی حرمت و طفیل اور صدقہ سے ملتا ہے۔ جو حصہ ان کے معبودوں کے نام کا ہوتا وہ پورے کا پورا ان…
Read the full tafseer →کفار کی من مانی تحریمات کی مذمت :
آیت 136: وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَمِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا یعنی بتوں کے لئے حصہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی دلالت پر اکتفا کیا گیا۔ فَقَالُوْا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِہِمْ وَ ہٰذَا لِشُرَکَآپنَا۔ قراءت : علی نے بزعمہم پڑھا اور اسی طرح مابعد بھی۔ یعنی زعموا انہ للّٰہ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو حکم نہیں دیا اور نہ ان کے لئے وہ تقسیم جائز تھی۔ فَمَا کَانَ لِشُرَکَآپہِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ یعنی ان مصارف میں نہ مل سکتا جن میں وہ اس کو صرف کرتے تھے۔ یعنی مہمانوں کی میزبانی اور مساکین پر صدقہ۔ وَمَاکَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی…
Read the full tafseer →136 (وجعلوا للہ مما ذرا من الحرب والانعام نصیباً )
کھیتوں میں اور چوپالوں میں مشرکین بتوں کا حصہ بھی رکھتے ہیں
مشرکین اپنی کھیتوں، مویشیوں اور پھلوں اور تمام اموال میں اللہ تعالیٰ کا حصہ رکھتے تھے اور بتوں کا بھی حصہ رکھتے تھے جو اللہ تعالیٰ کا حصہ ہوتا وہ مہمانوں اور مسکینوں پر خرچ کرتے اور جو بتوں کے نام پر جو متعین کرتے وہ بتوں کے خدام کے لئے مقرر کرتے اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصہ میں سے بتوں کے حصہ میں گرجاتی اس کو نہ اٹھاتے اور کہتے اللہ ان چیزوں سے غنی ہے اور اگر بتوں کے حصہ سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصہ میں گرجاتی تو اس کو اٹھا لیتے اور کہتے یہ محتاج ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حصہ میں…
Read the full tafseer →مشرکین اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کے تو قائل تھے لیکن رسولوں کے اور مرنے کے بعد پھر جینے کے اور قیامت کے دن کی سزا وجزا کے قائل نہیں تھے اب تو یہ ظاہر ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو خالق مانے گا اس کو یہ ضرور ماننا پڑیگا کہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب حکمت ہے کیونکہ سب کی آنکھوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی حکمت کے سمجھنے سے بڑے بڑے صاحب حکمت انسان عاجز ہیں مثلا بڑے سے بڑا صاحب حکمت انسان خود اپنی پیدائش پر غور کرلے کہ ایک قطرہ پانی سے اس کی پیدائش کس حکمت سے ہوئی ہے اس کی سمجھ سے باہر ایک کارخانہ نظر آویگا پھر اللہ کی قدرت اور حکمت کچھ اسی ایک کار خانہ پر منحصر نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
آیت 136
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ چناچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں، حق میں نقص کا باعث نہیں۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (وجعلو اللہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیباً ) ” اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
بتوں کے چڑھاوے
قول باری ہے ( وجعلوا للہ مما ذراأ من الحرث والانعام نصیبا فقالو ھذا للہ بذعمھم و ھذا لشرکانئنا۔ ان لوگوں نے اللہ کے لیے خود اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے۔ بزعم خود اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے) تا آخر آیت۔ حرث کھیتی کو کہتے ہیں اور اس زمین کو جسے زراعت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ گمراہ لوگوں کے ایک ٹولے نے اپنی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے اور ایک حصہ اللہ کے شریکوں کے لیے مقرر کرلیا اگر شریکوں کے لیے مقرر کردہ حصے میں سے کچھ اللہ کے لیے مقرر…
Read the full tafseer →263 مشرکوں کی مت ماری کے ایک نمونہ و مظہر کا ذکر وبیان : سو اس سے مشرک انسان کی مت ماری اور اس کے ایک اہم سبب کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اللہ کے لیے ایک حصہ مقرر کیا ہے اس کھیتی اور ان مویشیوں میں سے جن کو اللہ ہی نے پیدا فرمایا ہے۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفر و شرک سے انسان کی مت مار دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اللہ کے لئے اس کھیتی کا ایک حصہ مقرر کیا حالانکہ اس کو سیدھا اللہ ہی نے کیا اپنی قدرت و عنائت سے۔ سو ان لوگوں کی مت کیسی مار دی گئی کہ سب کچھ پیدا کرنے والا اور سب کو عطا فرمانے والا تو اللہ وحدہ لاشریک…
Read the full tafseer →اللہ کے ساتھ بےادبی
تشریح : اس آیت میں کفار کی اس بےادبی کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ خیرات کے وقت کرتے تھے۔ ان کی خیرات اللہ کو نہ پہنچتی تھی نہ اللہ کو اس کی ضرورت تھی یہ تو صرف شکرانہ ادا کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ وہ اس میں بھی اپنی بدخصلت کا اظہار کرنے سے باز نہ آتے تھے۔ بات یہ تھی کہ عرب لوگ اپنے مال مویشی میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکال دیتے کچھ اپنے بتوں کے نام کا نکال دیتے حالانکہ جو بھی ان کو ملتا تھا سب اللہ کی رحمت اور عنایت سے ملتا تھا مگر چونکہ وہ مشرک تھے اس لیے سوچتے تھے کہ بتوں کی عبادت کریں کیونکہ وہی ان کا اچھا برا کرنے والے ہیں۔ بیوقوف لوگ جو اللہ کے لیے نکالتے وہ غریبوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…
Read the full tafseer →ف 3 بعثت وجزا کے متعلق ان کے خیلات کی تردید کے اب یہاں سے ان کی دوسری اعتقاد اوعملی حماقتوں اور جہالتوں کا بیان ہورہا ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص اہل عرب کے جاہلا نہ نظریات کو جاننا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ سورة انعام کی 130 آیتوں کے بعد دے ایات قد خسر الذین قتلو او لا دھم سفھا بغیر علم۔۔۔۔ الا یہ تک تلاوت کرے ابن العربی فرماتے ہیں کہ ابن عباس نے بالکل صحیح کیا ہے کہ اللہ تعلای کے مقابلے میں بتوں کی ترجیح دینے سے بڑی جہالت اور کون سی ہوسکتی ہے (کبیر، قرطبی) مطلب یہ ہے کہ کھیتی اور مو یشیوں میں سے کچھ حصہ صلہ رحمی اور مسافروں کی مہمان کے لیے مخصوص کرلیتے۔
Read the full tafseer →(6:136) جعلوا۔ انہوں نے کیا۔ انہوں نے ٹھہرایا۔ انہوں نے مقرر کیا۔ جعلوا للہ شرکاء (6:100) انہوں نے اللہ کے شریک بنائے (وصفی طور پر) اور آیہ ہذا میں : انہوں نے اللہ کے لئے ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے ان کھیتوں اور مویشیوں سے جو اس نے پیدا کئے ہیں (فعلی طور پر۔ ای فعلوا بالفعل)
ذرا۔ اس نے پیدا کیا۔ اس نے پھیلایا۔ اس نے بکھیرا۔ ذرا (باب فتح) سے۔ جس کے معنی پیدا کرنے ۔ ظاہر کرنے اور بکھیرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔
الحرث۔ حرث یحرث (ضرب) کا مصدر۔ کھیتی ۔ زراعت۔ کھیت کو حرث کہتے ہیں۔ جیسے نساء کم حرث لکم (2:223) تمہاری بیویاں تمہاری کھتی ہیں۔
الانعام۔ مویشی ۔ بھیڑ۔ بکری۔ گائے۔…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 136 :
ذرا (اس نے پھیلایا) الحرث ( کھیتی) الانعام ( مویشی) نصیب (حصہ) لایصل (نہیں پہنچتا ہے) یحکمون ( وہ فیصلہ کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 136 :
مشرکین عرب کھیتی اور باغ کی پیدا وار اور مویشیوں میں سے ہر سال چند حصے الگ کرلیتے۔ ایک حصہ اپنے گھر یلو استعمال کے لئے۔ ایک حصہ بت خانہ کے پجاریوں اور نگہبانوں کے لئے۔ ایک حصہ اللہ کے لئے جو غربا اور مساکین پر خرچ کرتے۔ حصوں کی تقسیم کے بعد بھی وہ اللہ کے حصے میں سے تھوڑا تھوڑا وقتاً فوقتاً کاٹتے رہتے اور اپنے یا پجاریوں کے حصے میں ملا دیا کرتے تھے۔ نیز اگر کسی وقت اتفاق سے اللہ کے لئے مختص کئے ہوئے حصوں میں سے کوئی حصہ اپنے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–137
زندہ لڑکیوں کے گاڑنے کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیس بن عاصم تمیمی صحابی ؓ کے اسلام لانے سے پہلے ان کے دشمن نے ان پر حملہ کیا اور ان کی بیٹی کو چھین کرلے گیا۔ اس دن سے انہوں نے قسم کھالی کہ آئندہ جو لڑکی ان کے گھر میں پیدا ہوگی وہ اس کو زندہ گاڑ دیا کریں گے۔ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے رسم عرب میں نکالی، پھر رفتہ رفتہ اکثر عرب میں پھیل گئی۔ یہ رسم ایک نادانی کی بات تھی اس لئے مذمت کے طور پر اس کا ذکر اس آیت میں فرمایا : اذ الشمس کورت میں آوے گا کہ قیامت کے دن اس جرم کی سزادی جاوے گی۔ جس طرح شیاطین نے ان لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈال دیا ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے مال میں بتوں کا حصہ ٹھہراویں گے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–136
عاقبت کن کی ہے ؟
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ساری دنیائے کفر وضلالت کو چیلنج ہے ، سب لوگ اپنی سی کر دیکھیں ، حق کی پرزور مخالفت کرلیں ، رب کے پیارے اور دوستوں کو وحی بھر کے تکلیفیں دے لیں ، پوری قوت کے ساتھ شیطنت پھیلائیں ، دار درس کو ہاتھ میں لے لیں ، اور جسے چاہیں ، ٹانگ دیں ، آخرت اور عاقبت کے لحاظ سے مظلوموں کی فتح ہوگی حق پرست کامیاب رہیں گے اللہ اپنے بندوں کی اعانت کرے گا ، کیونکہ ظلم و استبداد کے لئے بقا نہیں ، جھوٹ اور شرک فانی وعارضی ہے ،
Read the full tafseer →-136 اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان میں سے یہ منکرین اسلام کچھ حصہ تو اللہ کے لئے مقرر کردیتے ہیں پھر اپنے خیال فاسدہ کی بنا پر یوں کہتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اتنا حصہ تو اللہ کے لئے ہے اور یہ اتنا حصہ ہمارے ان معبودوں کا ہے جو اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں پھر ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ جو حصہ ان کے معبودوں کا ہوتا ہے وہ خدا کی طرف نہیں پہونچتا اور جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے وہ ان کے معبودوں تک پہونچ جاتا ہے کیا ہی برا فیصلہ ہے اور کیا ہی برا وہ انصاف ہے جو یہ کرتے ہیں یعنی اول تو کھیتی اور مویشی میں یہ تقسیم کہ اتنا حصہ خدا کے نام پر دیا جائے اور اتنا بتوں کے…
Read the full tafseer →ف 5۔ غلہ اور پھل میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکالتے اور کچھ بتوں اور جنات کے نام کا پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصے میں مل جاتا تو اس کو ملا رہنے دیتے اور عکس میں اس کو نکال کر پھر بتوں کے حصہ میں ملادیتے اور بہانہ یہ کرتے کہ اللہ تو غنی ہے اس کا حصہ کم ہوجانے سے اس کا کوئی ضرر نہیں اور شرکاء محتاج ہیں انکا حصہ نہ گھٹنا چاہیے۔
Read the full tafseer →مشرکین کے اختراعی عقائد کا بیان شروع ہو رہا ہے :
210: زیر نظر آیت میں مشرکین عرب کی ایک خاص گمراہی کا ذکر کیا گیا ہے جس سے قوموں کے اختراعی عقائد کا مکمل طور پر رد ہوتا ہے۔ عرب مشرکین کی عادت یہ تھی کہ وہ کھیتی ، باغات ، جانوروں اور تجارت کے کاروباروں میں سے جو نفع حاصل ہوتا ہے اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے اور ایک حصہ اپنے بزرگوں ، ولیوں اور مذہبی پیشوائوں کے نام سے نکالتے تھے اور اگر وہ مر گئے ہوتے تو ان کے بت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتے تھے اور وہ ان کے بت خانے کے مجاور کھاتے تھے ؟ ؟ ؟ اور اس ظلم کو قرآن کریم اور اسلام کی زبان سے شرک کہا گیا ہے۔ اس کو ظلم کیوں کہا گیا ؟ اس لئے کہ ساری…
Read the full tafseer →In the fourth verse (136), the disbelievers of Arabia have been admonished for a particular error in their behaviour. The custom was that they would take out from the produce of their lands and from the income of their businesses a portion for Allah and a portion for their idols. The portion taken out for Allah they would spend on the poor and the needy while the portion taken out in the name of their idols they would spend on the priests and keepers of the temple of idols.
To begin with, enough was their injustice in that everything was created by Allah Ta` ala, and the produce which came…
Read the full tafseer →104. There now follows an elucidation of the 'ignorance' which those people-insistently clung to, and which they were not prepared to forsake. They are also told about that major 'wrong' which, if not abandoned, will bar their way to salvation.
105. They themselves acknowledged that the earth belongs to God, and that it is He Who causes the vegetation to grow. They also affirmed that God is the creator of the animals which were yoked to their service. They believed, however, that the grace of God for them was the outcome of the blessing and benediction of the angels, jinn, heavenly stars,…
Read the full tafseer →