Explained with ayahs 133–135
سب سے بےنیاز اللہ
اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :143) اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کرسکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 103
یعنی اگر میرے سمجھانے سے تم نہیں سمجھے اور اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو جس راہ پر تم چل رہے ہو چلے جاؤ، اور مجھے اپنی راہ چلنے کے لیے چھوڑ دو ، انجام کار جو کچھ ہوگا وہ تمہارے سامنے بھی آجائے گا اور میرے سامنے بھی۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں پھر ان کو غفلت سے چونکانے کا ایک دوسرا طریقہ اختیار کرکے ارشاد فرمایا(آیت) قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ جس میں رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ ﷺ ان اہل مکہ سے کہہ دیجئے کہ اے میری قوم اگر تم میری بات نہیں مانتے تو تمہیں اختیار ہے نہ مانو اور اپنی حالت پر اپنے عقیدہ اور عناد کے مطابق عمل کرتے رہو میں بھی اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرتا رہوں گا، میرا اس میں کوئی نقصان نہیں، مگر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا، کہ دار آخرت کی نجات اور فلاح کس کو حاصل ہوتی ہے،…
Read the full tafseer →قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ۔ اس میں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق ایک مقابل محذوف ہے۔ یعنی انی عامل علی مکانتی، مکانۃ کے معنی جگہ، منزلت اور مقام کے ہیں، قرآن میں یہ جگہ ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ولا نشاء لمسخناہم علی مکانتہم (اگر ہم چاہتے ان کی جگہ ہی پر ان کو مسخ کردیتے)۔ طریقہ کا مفہوم اس لفظ کے لوازم میں سے ہے۔ جب ہم کہیں گے تم اپنی جگ کام کرو، میں اپنی جگہ کام کرتا ہوں تو طریقہ کا مفہوم اس کے اندر آپ سے آپ پیدا ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے مقام کفر اور موقف مخالفتِ حق سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہو تو کرو جو کرنا چاہتے ہو۔ میں بھی اپنے موقف…
Read the full tafseer →135۔ 1 یہ کفر اور معصیت پر قائم رہنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ سخت وعید ہے جیسا کہ اگلے الفاظ سے واضح ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (جو ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دیجئے ! کہ تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ ہم بھی عمل کرتے ہیں اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں) سورة ہود۔ 21۔ 221۔
135۔ 2 جیسا کہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ سچا کر دکھا یا۔ 8 ہجری میں مکہ فتح ہوگیا اور اس کی فتح کے بعد عرب قبائل جوق در جوق مسلمان ہونا شروع ہوگئے اور پورا جزیرہ عرب مسلمانوں کے زیرنگیں آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
65: اس سے مراد آخرت اور جنت اور جہنم ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 135۔
یہ نہایت ہی پختہ تہدید ہے ‘ حق پر مشتمل ہے اور اس کی پشت پر سچائی کی قوت ہے ۔ یہ تہدید نبی کریم ﷺ کی زبانی ہے کہ وہ ان کے معاملات سے ہاتھ نکال رہے ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ وہ سچائی پر ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ ان کا طریق کار اور نظام سچائی پر مشتمل ہے اور انہیں پختہ یقین ہے کہ ان کے مخالفین گمراہی پر ہیں اور ان کا انجام برا ہونے والا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ :
(آیت) ” إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (135) ” کہ ظالم فلاح نہیں پاسکتے “۔
اس لئے کہ یہ غیر متبدل اصول ہے ‘ کہ مشرکین جو اللہ کے سوا کسی اور کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں اور انہیں اپنا دوست بتاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے اس…
Read the full tafseer →3 یعنی ہم سب نیک و بد اور نفع و ضرر سے آگاہ کرچکے۔ اس پر بھی اگر تم اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے باز نہیں آئے تو تم جانو۔ تم اپنا کام کئے جاؤ میں اپنا فرض ادا کرتا ہوں۔ عنقریب کھل جائے گا کہ اس دنیا کا آخری انجام کس کے ہاتھ رہتا ہے۔ بلاشبہ ظالموں کا انجام بھلا نہیں ہوسکتا۔ آگے ان کے چند اعتقادی اور عملی ظلم بیان کئے جاتے ہیں جو ان میں رائج تھے اور سب سے بڑا ظلم وہ ہی ہے جسے فرمایا ( اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31 ۔ لقمان :13)
Read the full tafseer →آیت 135 قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ ج۔
یہ گویا چیلنج کرنے کا سا انداز ہے کہ مجھے تم لوگوں کو دعوت دیتے ہوئے بارہ برس ہوگئے ہیں۔ تم نے اس دعوت کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے ‘ ہر ہر طرح سے مجھے ستایا ہے ‘ تین سال تک شعب بنی ہاشم میں محصور رکھا ہے ‘ میرے ساتھیوں پر تم لوگوں نے تشدد کا ہر ممکن حربہ آزمایا ہے۔ غرض تم میرے خلاف جو کچھ کرسکتے تھے کرتے رہے ہو ‘ ابھی مزید بھی جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو ‘ جو میرا فرض منصبی ہے وہ میں ادا کر رہا ہوں۔
فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ لا مَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدّارِط اِنَّہٗ لاَ یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔
عاقبت کی دائمی…
Read the full tafseer →142 یعنی اگر تم اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو اس پر جمے رہو اور مجھے اپنی راہ پر چلنے دو ۔ عنقریب ہم سب کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ انجام ہمارا بہتر رہا یا تمہارا۔ بہرحال یہ بات تو یقینی ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ سیدنا لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ بیٹے ! کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک ہی سب سے بڑا ظلم ہے۔ اور یہاں ظلم سے شرک اس لیے مراد لیا گیا ہے کہ آئندہ مشرکوں کے بعض افعال و رسومات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →201 ۔ (نہ آخرت میں نہ دنیا میں آخر کار) (آیت) ” قل “۔ اس پیام کا یہ حکم رسول اللہ ﷺ کو بطور اتمام حجت کے مل رہا ہے۔ اور مقصود اس سے تہدید ہے۔ مقصود ان لوگوں کو ان کی گمراہی میں قائم وثابت رہنے کی اجازت نہیں۔ ھذا تھدید شدید ووعیداکید (ابن کثیر) ھی تفویض الامر الیہم علی سبیل التھدید (کبیر) والتھدید بصیغۃ الامر مبالغۃ فی الوعید (بیضاوی) (آیت) ” مکانۃ “۔ کے معنی طور وطریقہ کے ہیں۔ المکانۃ الطریقۃ “ (قرطبی) (آیت) ” الظلمون “۔ اور سب سے بڑھ کر ظاہم وہی کافر و مشرک ہیں جو حق تعالیٰ کے باب میں سرسرناانصافی کررہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
آیت نمبر 130 تا 140
ترجمہ : اے جن و انس کے گروہو ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے ؟ یعنی تمہارے مجموعہ میں سے جو کہ انسانوں پر صادق ہے، یا رسل جن سے وہ آگاہ کرنے والے جن مراد ہیں جو (انسانی) رسولوں کا کلام سنتے اور اپنی قوم کو پہنچاتے تھے، جو تم کو میری آیتیں پڑھ کر سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے آگاہ کرتے، وہ کہیں گے (ہاں) ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے پاس پیغام پہنچایا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لائے، اور وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے یہ رسولوں کو بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب…
Read the full tafseer →قل یقوم اعملوا علی مکانتکم انی عامل فسوس تعلمون۔ من تکون لہ عاقبۃ الدار . آپ کہہ دیجئے اے میری قوم تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی عمل کر رہا ہوں
آئندہ جلد ہی تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اس عالم کا انجام کار کس کے لئے نافع ہوگا۔ مکانۃ : یا مصدر ہے مکن مکانۃ : وہ جم گیا کسی چیز پر مسلط ہوگیا یعنی جتنی انتہائی طاقت رکھتے ہو اور جتنا ہو سکے کئے جاؤ۔ یا اسم ظرف ہے مجازاً حالت مراد ہے اگر کسی شخص کو حکم دیا جائے کہ وہ اپنی حالت پر قائم رہے تو کہا جاتا ہے علی مکانتک : (اپنی جگہ پر۔ اپنی حالت پر رہو) یعنی جس حالت پر تم ہو اسی پر رہتے ہوئے عمل کرو۔ دونوں صورتوں میں کلام کا مقصود تہدید و وعید ہے…
Read the full tafseer →(135) محمد ﷺ آپ مکہ کے کافروں سے فرمادیجیے کہ تم اپنے گھروں میں اپنے دین پر رہ کر میری ہلاکت کی تدابیر کرتے رہو میں بھی عمل کررہا ہوں، عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ جنت کس کو ملے گی، مشرک تو عذاب الہی سے کسی بھی طرح نجات نہیں پاسکتے۔
Read the full tafseer →قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ : مطلب یہ نہیں کہ تمہیں اجازت ہے کہ جو چاہو کرو، بلکہ ڈانٹنا مقصود ہے، جیسے کوئی شخص کہتا ہے کہ اچھا جو کچھ تم کر رہے ہو کرتے رہو، میں عنقریب تم سے نمٹ لوں گا۔
مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۭ: ابن کثیر ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے وعدہ پورا فرمایا اور انھیں تمام ملک پر قبضہ عطا فرمایا، مخالفین ان کے رحم و کرم پر رہ گئے، مکہ فتح کروا دیا اور یہ سب کچھ آپ کی زندگی میں ہوگیا، پھر آپ کی وفات کے بعد مشرق سے مغرب تک ملک فتح ہوگئے۔ آخرت میں اس سے بھی کہیں بڑھ کر اچھا انجام ہوگا۔ دیکھیے سورة مومن (51، 52)
اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 135
قولہ تعالیٰ : آیت : قل یقوم اعملوا علی مکانتکم ابوبکر نے جمع کے ساتھ مکاناتکم پڑھا ہے۔ اور مکانۃ کا معنی طریقہ ہے اور آیت کا معنی یہ ہے : تم اس طریقہ پر ثابت (قائم) رہو جس پر تم ہو اور میں اس پر ثابت ہوں جس پر میں ہوں۔ اور اگر کہا جائے : کیسے یہ جائز ہے کہ انہیں اس پر ثابت رہنے کا حکم دیا جائے جس پر وہ ہیں، حالانکہ وہ کفار ہیں ؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ تہدید اور جھڑک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے : آیت : فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا (التوبہ : 82) (تو انہیں چاہیے کہ ہنسیں تھوڑا اور روئیں زیادہ) اور اس پر دلیل آیت : فسوف تعلمون من تکون لہ عاقبۃ الدار ہے، یعنی اچھا…
Read the full tafseer →(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت علی مکانتکم یعنی لفظ آیت علی ناحیتکم اپنی طرف پر۔
(2) امام ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت علی مکانتکم یعنی اپنے طریقے اور طرف پر عمل کئے جاؤ۔
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہے ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اعْمَلُوْا [ تم لوگ عمل کرو ] عَلٰي مَكَانَتِكُمْ [ اپنی جگہ پر ] اِنِّىْ [ بیشک میں (بھی) ] عَامِلٌ ۚ [ ایک عمل کرنے والا ہوں ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] تَعْلَمُوْنَ ۙ [ تم لوگ جان لوگے ] مَنْ [ (کہ ) کون ہے،] تَكُوْنُ [ ہوگا ] لَهٗ [ جس کے لئے ] عَاقِبَةُ الدَّارِ ۭ [ گھر کا (اچھا ) انجام ] اِنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] لَايُفْلِحُ [ فلاح نہیں پاتے ] الظّٰلِمُوْنَ [ ظلم کرنے والے ]
Read the full tafseer →اپنی اپنی جگہ عمل کرتے رہو انجام کا پتہ چل جائے گا :
پھر فرمایا (قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ) (آپ فرما دیجیے کہ اے میری قوم ! تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو میں بھی اپنے طور پر عمل کرتا ہوں)
میں تمہیں بتارہا ہوں کہ کفر و شرک کا انجام برا ہے اس وقت تم نہیں مانتے۔ (فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ مَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ ) (سو عنقریب تم جان لوگے کہ اس عالم میں انجام کار کس کے لیے نفع مند ہوا) جب آنکھیں مچیں گی اس وقت آنکھیں کھلیں گی کہ نفع والا ہم اپنے کو سمجھ رہے تھے لیکن اب پتہ چلا کہ نفع والے ایمان اور اعمال صالحہ والے تھے لیکن وہاں سمجھ میں آنا بےفائدہ ہوگا اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون
(ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا…
Read the full tafseer →148:۔ یہاں اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْن تک تخویف اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کے ملف ہونے کا ذکر کیا اور قیامت کو جزائے عمل کا حال بیان کیا۔ اور اس سلسلے میں قیامت میں پیش آنے والے سوال و جواب کا تذکرہ کیا۔ قرآن کریم میں ایسے واقعات سے مشرکوں اور کافروں کی تنبیہ مراد ہے تاکہ اگر وہ بچنا چاہیں تو بچ سکیں۔ گذشتہ آیات میں جنوں سے خطاب تھا کہ سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملالیا ہے ، تو انسان بھی اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم میں سے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا۔ جنات نے اپنی سیادت قائم رکھی اور اپنی بات انسانوں سے منوائی جب کہ انسان نے باطل عقائد اور باطل اعمال پر خوشی کا…
Read the full tafseer →قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ 0 ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 0 ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ 0 ۭ اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ 135
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–137
ترکیب : مکانتکم ای حالتکم ‘ من موصولہ مفعول تعلمون ‘ نصیبا مفعول اول جعلوا للہ اور مما ذراجعل سے متعلق من الحرث ما کا بیان شرکاؤھم فاعل زین قتل مصدر مضاف الی المفعول مفعول زین۔
تفسیر : ان ما تو عدون الآت فرما کر قیامت اور وعدہ الٰہی کے منکروں کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کو بمزید وثوق سے یہ حکم ہوتا ہے کہ ان سے کہہ دو اچھا اگر تمہیں یقین نہیں تو تم جو کچھ کرتے ہو کئے جائو اور جو میں کرتا ہوں وہ میں کئے جاتا ہوں۔ آپ معلوم ہوجاوے گا کہ کس کے لئے دار آخرت اور وہاں کی خوبیاں ہیں اور اس کے ساتھ یہ حکم ناطق بھی سنا دیا کہ ظالموں کو فلاح نہ ہوگی۔
اس کے بعد کفار عرب کی چند وہ حماقتیں بیان کرتا ہے کہ جن کو…
Read the full tafseer →قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌج فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ لا مَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ ط اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الانعام : 135)
(کہہ دو ‘ اے میرے ہم قومو ! تم اپنے طریقے پر چلو ‘ میں اپنے طریقے پر چلتا ہوں۔ تم جلد جان لو گے کہ انجام کار کی کامیابی کس کا حصہ ہے۔ یقینا ظالم فلاح پانے والے نہیں ہوسکتے)
رسول اللہ ﷺ کو فرمایا جا رہا ہے کہ کفار کو کہہ دیں تم اپنے طریقے پر چلو میں اپنے طریقے پر چلتا ہوں
اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ تم نے اگر میری دعوت کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور میری کوئی دلیل تم پر اثر انداز نہیں ہو رہی اور تمہارے دل پتھروں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے سامنے انسان بےبس اور کمزور ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ انسان کو اپنے احکام جبراً نہیں منواتا۔
میرے پیارے رسول ! کھلا اعلان کر دو کہ اے لوگو ! تم میری بات نہیں مانتے ہو تو تمہاری مرضی مجھ سے الجھنے اور میرا راستہ روکنے کے بجائے تم اپنے اپنے طریقہ پر عمل کرو۔ میں اپنے طریقہ پر عمل پیرا رہوں گا۔ عنقریب تم جان جاؤ گے کہ آخرت کا گھر کس کے لیے بہتر ہوگا۔ یقین رکھو کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ وعظ و نصیحت کے میدان میں داعی کو ایسے افراد کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے کہ نہایت خلوص اور سوز مندی کے ساتھ سمجھانے کے باوجودلوگ آباؤ اجداد کی تقلید، زمانے کی رسومات اور…
Read the full tafseer →انذار کا لطیف انداز :
آیت 135: المکانۃ مصدر ہوتا ہے۔ محاورہ مَکُنَ مَکَانَۃًجب وہ اس پر پورا قابو پالے اور مکان کے معنی میں آتا ہے کہا جاتا ہے مکان و مکانۃً ٗ مقام و مقامۃ اور ارشاد الٰہی قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اس میں احتمال یہ ہے کہ مطلب یہ ہو تم کام کرو اپنے معاملہ میں قدرت کی حد تک اور اپنی انتہائی استطاعت اور امکان کی حد تک اور تم اپنے انداز اور اس حال کے مطابق عمل کرو۔ جس پر تم ہو۔ آدمی کو کہا جاتا ہے جبکہ اس کو اپنی حالت پر ثابت قدمی کا حکم دیا جائے۔ علٰی مکانتک یافلان یعنی تو ثابت قدم رہ جس پر تو ہے۔ اِنِّیْ عَامِلٌ اپنے اس مرتبے پر جس پر ہوں یعنی تم اپنے کفر اور…
Read the full tafseer →تفسیر (قل اے محمد آپ کہہ دیجیے یقوم اعملوا علی مکاتتکم) ابوبکر نے عاصم سے ” مکاناتکم “ جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی جہاں بھی ہو۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں جس حالت پر تم ہو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں جس پر تم ہو اسی پر عمل کرتے رہو۔ آدمی جو جب وہ کسی حالت پر ہو اور اس پر ثابت قدم رہنے کا حکم کیا جائے تو کہا جاتا ہے ” علی مکانتک یا فلان “ یعنی اپنی حالت پر ثابت قدم رہ اور یہ امرو عید میں مبالغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (علیہ السلام) کو کہہ رہے ہیں کہ آپ ﷺ ان کو کہہ دیں جو تم کرتے ہو کرتے رہو۔” انی عامل “ جو مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے۔ ” فسوف تعلمون من تکون لہ عاقبہ الدار “ یعنی جنت ۔ حمزہ اور کسائی رحمہما…
Read the full tafseer →بعض مفسروں نے اس میت کو درگذر کی آیتوں میں شمار کیا ہے اور جہاد کی آیت سے اس آیت کو منسوخ کہا ہے لیکن درگذر کی آیتوں کی یہ شان نہیں ہے جس طرح اس میت کی شان ہے کیونکہ درگذر کی آیتوں میں اس طرح کی تنبیہ کہا ہے جیسے اس آیت میں کافروں کو خطاب کر کے آخر کو فرمایا ہے فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ اس لیے صحیح قول یہی ہے کہ آیت تنبیہ عذاب کی ہے جس کا دنیوی ظہور بدر کی لڑائی میں ہوا اور عقبے کے عذاب کا ظہور وقت مقررہ پر ہوگا غرض جہاد کی آیت سے یہ آیت منسوخ نہیں ہے اس کے اوپر گذر چکا ہے کہ جہاد کی آیت سے کوئی درگذر کی آیت منسوخ نہیں ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں میں پچھلی قوموں کی بربادی کا حال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت 129
(ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو “ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنہوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا : (یمعشرالجن قدر استکترتم من الانس) ” اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے۔ “ یعنی اے جنوں کی جماعت ! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
261 اللہ کا وعدہ بہرحال پورا ہو کر رہے گا : پس روز جزاء کا واقع ہونا اور تمہارا اپنے اعمال کا بدلہ اور جزاء پانا کہ کوئی مانے یا نہ مانے، ایسے بہرحال ہو کر رہے گا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ اور ہر کسی کو اسکی زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ مل سکے۔ اور اس کائنات کے سروجود اور مقصد تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ سو رسولوں کی تکذیب اور حق و ہدایت کے انکار پر اس خالق ومالک نے عذاب کا جو وعدہ تم لوگوں سے فرما رکھا ہے وہ بہرحال شدنی ہے، خواہ وہ دنیا کے عذاب عاجل کی شکل میں آئے یا یوم الحساب کے عذاب اخروی کی صورت میں۔ اس کو روکنے یا ٹالنے کا بل بوتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
اللہ کی بےنیازی اور ظالموں کا انجام
تشریح : ان آیات میں رب العالمین کی طاقت اور قدرت کا ذکر ہے اور پھر اس کے نظم و نسق کا بھی ذکر ہے۔ وہ تو انسانوں کے کسی بھی عمل سے بےنیاز ہے اس کو نہ ہمارے نیک اعمال سے کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ برے اعمال سے کوئی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ سب تو خود انسان اپنی بھلائی یا نقصان کے لیے کرتا ہے۔ اللہ کی مرضی سے دنیا کا نظام چل رہا ہے ایک قوم آتی ہے ختم ہوجاتی ہے تو اس کی جگہ دوسری قوم پیدا کردی جاتی ہے۔ جس قوم نے نیک راہیں اختیار کیں دنیا میں ترقی حاصل کرلی اور جس نے نافرمانی، بدکرداری کی اور حد سے بڑھ گئی تو اس کو سزا کے طور پر اللہ نے نیست و نابود کردیا۔ اسی طرح تم سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…
Read the full tafseer →ف 11 اس میں کفار کو زجر وتوبیخ ہے جو قیامت اور جزا اور سزا اکنکار کرتے تھے جیسے کوئی شخص کہتا ہے کہ اچھا جو کچھ تم کر رہے ہو کرتے رہو میں عبقریب تم سے نبٹ لوں گا۔ ای تفویض ال ھو الیھم علی ٰ سبیل التھدید۔ مطلب نہیں کہ ہماری طرف سے تمہیں کفر وشرک پر رہنے کی اجازت ہے۔ ( کبیر )
1 لپ کیسے دنیا میں فتح مندی اور آخرت میں جنت نصیب ہوتی ہے۔2 اس کا تعلق اس تہدید سے ہے کہ اعمو علی مکانتکم میں مذکور ہے یعنی تم لوگ چونکہ ظالم اور بدبخت ہو اس سے دینا وآخرت میں تمہیں کوئی بھلائی اور کامیابی نصیب نہیں ہوسکتی (کبیر)
Read the full tafseer →(6:135) علی مکانتکم۔ علی غایۃ استطاعتکم جتنا تم سے ہوسکے۔ اعملوا علی مکانتکم۔ تم سے جو ہوسکتا ہے کہ گزرو۔
انی عامل۔ ای انی عامل ما امرنی بہ ربی۔ میں تو وہی کرتا رہوں گا جو میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے۔ یا یوں بھی ہوسکتا ہے انی عامل علی مکانتی۔ جو کچھ مجھ سے ہوسکتا ہے میں کرتا رہوں گا۔
عاقبۃ الدار۔ مضاف مضاف الیہ۔ عاقبۃ۔ عاقبت۔ انجام امر۔ عقب یعقب کا مصدر ہے جس کے معنی پیچھے آنے کے ہیں۔ لیکن اس کا استعمال ہر شے کے آخر اور انجام کے لئے ہوتا ہے۔ اس کا استعمال ثواب کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے والعاقبۃ للمتقین (28:3) اور انجام نیک تو پرہیزگاروں ہی کا ہے۔ مگر اضافتہ کی صورت میں کبھی عقوبت کے معنی میں آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
لغات القرآن : آیت نمبر 133 تا 135 :
الغنی (بےنیاز۔ بےپرواہ) یستخلف (وہ قائم مقام بنادیتا ہے) ذریۃ ( اولاد) توعدون ( وعدہ کئے گئے ہیں) مکانتکم ( اپنی جگہ) عاقبۃ ( انجام) ۔
تشریح آیت نمبر 133 تا 135 :
اللہ رحمت والا ہے یعنی کسی کو سزا دینے میں اسے کوئی لطف نہیں آتا۔ اسے تو انعام و اکرام دینے میں لطف آتا ہے اس کی رحمت کا تقاضا یہی ہے۔ تمہاری خوشی سے خوش ہے۔ تمہاری تکلیف سے ناخوش ہے۔ کیا تم اس کے بنائے ہوئے نہیں ہو ؟ جس جسم و جان کو اتنی محبتوں سے عنایت کیا اور اتنی محبتوں اور سفقتوں سے عمر کی مختلف منزلوں سے گذارا ۔ کیا وہ اسے دوزخ میں ڈال کر خوش ہو سکتا ہے ؟ مگر سزا۔ وہ بھی رحمت کا ایک حصہ ہے…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان سب باتوں کا حال سننے کے بعد بھی تم لوگ اپنی سرکشی سے بعض نہیں آتے تو اچھا تم اپنی حالت پر رہو میں اپنی حالت میں رہتا ہوں۔ چند دنوں میں انجام ہر ایک کا تم کو معلوم ہوجاوے گا مگر اتنی جات یاد رکھو کہ تم جو دوسروں کو اللہ کا شریک کرتے ہو یہ بڑے ظلم اور ناانصافی کی بات ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی بردباری سے چھوڑ رکھا ہے۔ اس کو غنیمت جانو ورنہ آخر ایسے ناانصافوں کا کبھی کچھ بھلا نہ ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ جس کا بدر کی لڑائی میں نتیجہ نکل آیا کہ مارے گئے۔
زمانہ جاہلیت میں مشرکین کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے کھیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 135–136
عاقبت کن کی ہے ؟
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ساری دنیائے کفر وضلالت کو چیلنج ہے ، سب لوگ اپنی سی کر دیکھیں ، حق کی پرزور مخالفت کرلیں ، رب کے پیارے اور دوستوں کو وحی بھر کے تکلیفیں دے لیں ، پوری قوت کے ساتھ شیطنت پھیلائیں ، دار درس کو ہاتھ میں لے لیں ، اور جسے چاہیں ، ٹانگ دیں ، آخرت اور عاقبت کے لحاظ سے مظلوموں کی فتح ہوگی حق پرست کامیاب رہیں گے اللہ اپنے بندوں کی اعانت کرے گا ، کیونکہ ظلم و استبداد کے لئے بقا نہیں ، جھوٹ اور شرک فانی وعارضی ہے ،
Read the full tafseer →-135 اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اے میری قوم ! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو اور اپنی جگہ اپنا کام کئے جائو میں بھی اپنا کام کر رہا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا اور تم جان لو گے کہ اس عالم کا انجام کس کے حق میں بہتر اور مفید و نافع ہوتا ہے ہاں یہ امر واقعی اور ایک سچی حقیقت ہے کہ ظالم اور بےانصاف لوگوں کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوتی۔ یعنی ان کے کاموں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →ف 4۔ اوپرمشرکین کی جہالات اعتقادیہ شرکیہ وکفریہ کا بیان تھا آگے ان کے بعض جہالات عملیہ کا جس کا منشاء شرک وکفر تھا بیان ہے۔
Read the full tafseer →میں اپنا کام کئے جا رہا ہوں اور تم بھی اپنا کام کئے جائو :
209: خطاب اول نبی کریم ﷺ ہی سے ہے کہ آپ ﷺ اہل مکہ سے کہہ دیجئے کہ اے میری قوم ! اگر تم میری بات نہیں مانتے تو تمہیں اختیار ہے نہ مانو اور اپنی حالت پر اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرتے رہو میں بھی اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کر رہا ہوں عنقریب یہ بات تم پر روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ دار آخرت کی نجات اور فلاح کس کو حاصل ہوتی ہے اور نجات یافتہ کون ہوتا ہے ؟ اور یاد رکھو کہ قانون الٰہی یہ ہے کہ ظالم یعنی حق تلفی کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے۔ آخرت کی فلاح و کامیابی تو یقینی ہے لیکن دار آخرت سے پہلے دار دنیا میں بھی انجام کار فلاح و کامیابی…
Read the full tafseer →Commenting on this verse, Tafsir authority, Ibn Kathir pointed out that the exact words of the text here are: مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ (for whom is the ultimate abode) and not: عَاقِبَةُ الدَّارِاَلآخِرَۃِ (the ultimate abode of Akhirah), that is, the suffix of 'Akhirah or Hereafter is not there. This tells us that, much earlier than the abode of Akhirah, the ultimate success falls to the lot of the righteous servants of Allah alone even within the present abode of the world. This stands proved from the life and times of the Holy Prophet ﷺ and his blessed Companions ؓ . Not much…
Read the full tafseer →103. If people prefer to ignore the Prophet's admonition and do not recant their misconduct, they are at liberty to follow their chosen path, but they should let the Prophet (peace be on him) follow his. The ultimate results of their conduct will, in due time, become evident to all - to the Prophet (peace be on him) as well as to his opponents.
Read the full tafseer →