Explained with ayahs 133–135
سب سے بےنیاز اللہ
اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :143) اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کرسکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 102
یعنی قیامت، جس کے بعد تمام اگلے پچھلے انسان ازسرنو زندہ کیے جائیں گے اور اپنے رب کے سامنے آخری فیصلے کے لیے پیش ہوں گے۔
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ جل شانہ کے غنی اور بےنیاز ہونے کا، پھر صاحب رحمت ہونے کا، اور پھر قدرت کاملہ کے مالک ہونے کا بیان کرنے کے بعد دوسری آیت میں نافرمانوں اور حکم نہ ماننے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ(آیت)
اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ۙ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو جس عذاب سے ڈرایا ہے وہ ضرور آنے والا ہے، اور تم سب مل کر بھی خدائی عذاب کو نہیں ٹال سکتے۔
Read the full tafseer →اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ۙ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ ، ‘ توعدون ’ ٰمیں وہ عذاب بھی داخل ہے جس کی رسول کی تکذیب کی صورت میں ان کو دھمکی سنا دی گئی تھی اور وہ یوم الحساب بھی جو اس کائنات کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ فرمایا کہ یہ دونوں باتیں شدنی ہیں اور جب ان کا ظہور ہوگا تو تم خدا کے قابو سے کسی طرح باہر نہ نکل سکو گے۔ اعجزہ الشیئ، فاتہ و لم یقدر علیہ، اعجزہ الشیء کے معنی ہوں گے کہ فلاں چیز اس کے قبضہ سے نکل گئی اور وہ اس پر قابو نہ پا سکا۔ اس دھمکی میں یہ بات مضمر ہے کہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچاؤ، اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو یہ چیز تو آ کے رہے گی۔
Read the full tafseer →134۔ 1 اس سے مراد قیامت ہے اور تم عاجز نہیں کرسکتے کا مطلب ہے کہ وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے چاہے تم مٹی میں مل کر ریزہ ریزہ ہوچکے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
65: اس سے مراد آخرت اور جنت اور جہنم ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 134۔
تم اللہ کے قبضہ قدرت میں ہو ‘ اور تم اس کی مشیت کے مر ہوں منت ہو۔ تم اللہ کی مشیت کے دائرے سے نہ باہر نکل سکتے ہو اور نہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی کرسکتے ہو ۔ اس سے قبل مناظر قیامت جن کی ایک جھلک تم دیکھ چکے ہو ‘ تمہارے انتظار میں ہیں ۔ یہ مناظر عملا تمہارے سامنے آنے والے ہیں ۔ تم ان سے بچ کر نہیں نکل سکو گے کیونکہ اللہ کا نظام نہایت ہی قوی اور متین ہے ۔
اب یہ تبصرے اور نتائج ایک نہایت ہی سخت تہدید پر ختم ہوتے ہیں جس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
2 خدا نے رسول بھیج کر اپنی حجت تمام کردی۔ اب اگر تم نہ مانو اور سیدھے راستہ پر نہ چلو تو وہ غنی ہے اسے تمہاری کچھ پرواہ نہیں۔ وہ چاہے تو تم کو ایک دم میں لے جائے اور اپنی رحمت سے دوسری قوم کو تمہاری جگہ کھڑا کر دے جو خدا کی مطیع و وفادار ہو اور تم کو لے جا کر دوسری قوم کا لے آنا خدا کے لئے کیا مشکل ہے۔ آج تم اپنے جن آباء و اجداد کے جانشین بنے بیٹھے ہو، آخر ان کو اٹھا کر تم کو دنیا میں اسی خدا نے جگہ دی ہے۔ بہرحال خدا کا کام رک نہیں سکتا۔ تم نہ کرو گے دوسرے کھڑے کئے جائیں گے۔ ہاں یہ سوچ رکھو کہ یہ ہی بغاوت و شرارت رہی تو خدا کا عذاب اٹل ہے۔ تم اگر سمجھو کہ بھاگ کر یا کسی کی پناہ لے کر سزا سے…
Read the full tafseer →آیت 134 اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍلا وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ
تم اپنی سازشوں سے اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے ‘ اس کے قابو سے باہر نہیں جاسکتے۔ اللہ کے تمام وعدے پورے ہو کر رہیں گے۔
Read the full tafseer →141 یعنی اللہ نے جس قیامت کے دن کا تم سے وعدہ کر رکھا ہے وہ بہرحال آ کے رہے گا۔ تم اپنی سر توڑ کوششیں کر دیکھو تم اس دن کو ٹالنے پر کبھی قادر نہیں ہوسکتے۔ پھر اس دن تمہارا پورا پورا محاسبہ کیا جائے گا۔ نیز یہاں وعدہ سے مراد عذاب کا وعدہ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسا عذاب بھی جیسا کافروں پر آیا تو پھر انہیں نجات کی کوئی راہ نہ ملی۔
Read the full tafseer →200 ۔ (اپنے کسی حیلہ وتدبیر سے) یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا کہ تم اللہ کے ہاتھ نہ آؤ (آیت) ” ما تو عدون “۔ یعنی وعدہ قیامت ووعدۂ عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
آیت نمبر 130 تا 140
ترجمہ : اے جن و انس کے گروہو ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے ؟ یعنی تمہارے مجموعہ میں سے جو کہ انسانوں پر صادق ہے، یا رسل جن سے وہ آگاہ کرنے والے جن مراد ہیں جو (انسانی) رسولوں کا کلام سنتے اور اپنی قوم کو پہنچاتے تھے، جو تم کو میری آیتیں پڑھ کر سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے آگاہ کرتے، وہ کہیں گے (ہاں) ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے پاس پیغام پہنچایا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لائے، اور وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے یہ رسولوں کو بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب…
Read the full tafseer →ان ما تو عدون لات . جس چیز کو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی چیز ہے۔ یعنی حشر ونشر حساب وثواب عذاب ضرور ہوگا اس میں کوئی شک نہیں۔
وما انتم بمعجزین . اور تم عاجز نہیں کرسکتے۔ یعنی پکڑنے والے کو عاجز نہیں کرسکتے۔ تم جہاں بھی ہو گے وہ تم کو ضرور پکڑ لے گا۔
Read the full tafseer →(134) عذاب یقیناً آنے والا ہے اللہ کے اس عذاب سے تم بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے جہاں بھی تم ہوگے وہ تمہیں پکڑ لے گا۔
Read the full tafseer →وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ : باء تاکید کی وجہ سے ترجمہ میں ”کسی صورت“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ تم اس سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے کہ وہ تمہیں پکڑنے سے عاجز رہ جائے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 134
قولہ تعالیٰ : آیت : ان ما توعدون لاٰت اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اوعدت فی الشر سے ہو ( تجھے شر کے بارے میں وعید سنائی گئی) اور اس کا مصدر الایعاد ہو اور مراد آخرت کا عذاب ہو۔ اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ وعدت سے ہو یعنی وہ ساعت جس کے آنے کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اس کے آنے میں خیر اور شر دونوں ہیں پس خیر کو غلبہ دیا گیا ہے۔ اس کا یہ معنی حسن سے مروی ہے۔ آیت : وما انتم بمعجزین اور تم اسے عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ کہا جاتا ہے : اعجزنی فلان ( فلاں نے مجھے عاجز کردیا ہے) یعنی فاتنی وغلبنی ( فلاں میری طرف آگے بڑھا اور مجھ پر غالب آگیا)
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب الامل میں ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الشعب میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ اسامہ بن زید نے ایک باندی سو دینار میں ایک ماہ کے ادھار پر خریدی میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کیا تم تعجب نہیں کرتے اسامہ پر جو خریدنے والا ہے ایک ماہ (کے ادھار پر) بلاشبہ اسامہ لمبی امید لئے ہوئے ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میری آنکھیں نہیں جھپکتیں اور میں گمان کرتا ہوں میرے ہونٹ جو ملتے ہیں یہاں تک کہ میں اتنی دیر میں قبض کرلیا جاؤں (یعنی مجھے موت آجائے) اور میری آنکھیں بلند نہیں ہوتی۔ اور میں گمان کرتا ہوں کہ ان کے نیچے ہونے سے پہلے میں قبض کرلیا جاؤں…
Read the full tafseer →اِنَّ [ بیشک ] مَا تُوْعَدُوْنَ [ جس چیز سے تم کو ڈرایا جاتا ہے وہ ] لَاٰتٍ ۙ [ یقینا آنے والی ہے ] وَّمَآ اَنْتُمْ [ اور تم لوگ نہیں ہو ] بِمُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے ]
Read the full tafseer →قیامت ضرور آنے والی ہے :
پھر فرمایا (اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ) (بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آنے والی چیز ہے) یعنی قیامت اور حساب و کتاب اور عذاب وثواب اور جنت و دوزخ کی جو خبریں تمہیں دی جا رہی ہیں اور تمہیں جو یہ بتایا جا رہا ہے کہ مومنین کی یہ جزا ہے اور کافروں کی یہ سزا ہے یہ سب کچھ ہونے والا ہے سامنے آجانے والا ہے۔ دیر لگنے کی وجہ سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ یونہی باتیں ہیں۔
(وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ) ( اور تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے) اور موت سے اور قیامت کے دن پیش آنے والے حالات سے جان چھڑا کر کہیں جا نہیں سکتے۔ سورة مریم میں فرمایا۔ (لَقَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون
(ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
147 یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہاں اگر کسی کے دل میں یہ اشکال پیدا ہو کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت اور صفت عذاب دونوں کو کیوں جمع کردیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی دونوں صفتوں کو بیان کرنا مقصود ہے کہ بیشک اللہ رحیم اور مہربان ہے۔ لیکن نافرمانوں کو عذاب دینے پر بھی قادر ہے۔ تائید وَھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ذوْ الْعَرْشِ الْمَجِیْد فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ تم نہیں مانو گے تو وہ تمہیں ہلاک کردے گا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو آباد کردے گا جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی جگہ تم کو دی۔ اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ الخ تمہیں جس چیز (عذاب یا قیامت) کا وعدہ دیا جارہا ہے وہ آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کے ملف ہونے کا ذکر کیا اور قیامت کو جزائے عمل کا حال بیان کیا۔ اور اس سلسلے میں قیامت میں پیش آنے والے سوال و جواب کا تذکرہ کیا۔ قرآن کریم میں ایسے واقعات سے مشرکوں اور کافروں کی تنبیہ مراد ہے تاکہ اگر وہ بچنا چاہیں تو بچ سکیں۔ گذشتہ آیات میں جنوں سے خطاب تھا کہ سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملالیا ہے ، تو انسان بھی اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم میں سے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا۔ جنات نے اپنی سیادت قائم رکھی اور اپنی بات انسانوں سے منوائی جب کہ انسان نے باطل عقائد اور باطل اعمال پر خوشی کا…
Read the full tafseer →اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ 0 ۙ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 134
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ،
( وع د ) الوعد
( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
ترکیب : یقصون موضع رفع میں صفت ہے رسل کی اور حال بھی ہوسکتا ہے ہذا خبر ہے مبتدا محذوف کی یایومکم کی صفت ان لم ان مصدریتہ یا مخففہ ہے اور لام محذوف ای لان لم یکن ریک موضعہ نصب اوجر۔
تفسیر : پھر اس عذر بارد کے رد کرنے کو ہر ایک جن و انسان سے خطاب کرکے فرمائے گا الم یاتکم رسل منکم الخ کہ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے جو تمہیں میں سے تھے جن سے بوجہ ہم زبان و ہم قوم و موانست کے نصیحت حاصل کرنا بہت آسان تھا جو تمہیں میری آیتیں سناتے اور آج کے دن سے خوف دلاتے تھے ؟ اس کے بعد وہ اپنے کفر کا اقرار کریں گے۔ علمائِ اسلام میں سے جمہور بقرائنِ آیات ان اللہ اصطفیٰ آدم الخ وغیرہا اس بات کے قائل ہیں کہ…
Read the full tafseer →اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتِ لا وَّ مَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔ (الانعام : 134)
(اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ‘ وہ آکے رہے گی اور تم ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکتے )
اللہ نے جس کا وعدہ کیا ہے وہ آ کر رہے گی اور کوئی اللہ کے قابو سے باہر نہیں ہوگا
رسول اللہ ﷺ اہل مکہ کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے جہاں دعوت کی افادیت ‘ اہمیت اور اس کی ضرورت پر گفتگو فرماتے وہاں دو باتوں کا تذکرہ بھی ہوتا۔ ایک تو یہ بات کہ تمہارے گردوپیش میں ان قوموں کے کھنڈرات موجود ہیں اور تم اپنے تجارتی اسفار میں ان کھنڈرات سے گزرتے بھی ہو جنھوں نے اللہ کے رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا اور بالآخر عذاب کا شکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجتا رہا تاکہ لوگوں پر حجت تمام ہوجائے۔
اس سے پہلے فرمان میں ” رُسُلٌ مِنْکُمْ “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ ذٰلک کا اشارہ انھی الفاظ کی ترجمانی کر رہا ہے کہ لوگوں میں انہی سے رسول بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پڑھ کر سنائیں اور ان پر من و عن عمل کرکے دکھلائیں تاکہ کسی کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی بتلانے اور سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہم غفلت میں پڑے رہے اور آج ہمیں بد ترین انجام سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس بات کے ازالہ کے لیے فرمایا اے پیغمبر ! تیرے رب کا یہ وطیرہ…
Read the full tafseer →بعث ہوگا مر کر چھوٹ نہیں سکتے :
آیت 134: اِنَّمَا ما بمعنی الذی ہے۔ تُوْعَدُوْنَ یعنی بعث اور حساب اور ثواب و عقاب لَاٰتٍ یہ انّ کی خبر ہے۔ یعنی
لَکَاپنٌ ضروری ہونے والی ہے۔ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ آگے بڑھ جانے والے۔ یہ ان کے اس قول کی تردید ہے جو زبان زدعام تھا من مات فقد فات جو مرگیا وہ گزر گیا۔
Read the full tafseer →134 (ان ماتوعدون) یعنی حشر اور قیامت کے آنے کا جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے (لاب وما انتم بمعجزین) یعنی اس سے چھوٹنے والے نہیں ہیں یعنی جہاں بھی تم ہو گے موت تمہیں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن اللہ نافرمان جن و انس سے پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسولوں کی معرفت تمہیں اللہ کا کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت کے آنے کا اور اس دن نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانیکا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصانی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غفلت کرنا منظور نہیں اسی واسطے اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کہ فرعون اور اس کی قوم تک کے لوگوں کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا جس میں ہر طرح کی نصیحتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت 129
(ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو “ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنہوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا : (یمعشرالجن قدر استکترتم من الانس) ” اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے۔ “ یعنی اے جنوں کی جماعت ! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 134–135
261 اللہ کا وعدہ بہرحال پورا ہو کر رہے گا : پس روز جزاء کا واقع ہونا اور تمہارا اپنے اعمال کا بدلہ اور جزاء پانا کہ کوئی مانے یا نہ مانے، ایسے بہرحال ہو کر رہے گا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں۔ اور ہر کسی کو اسکی زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ مل سکے۔ اور اس کائنات کے سروجود اور مقصد تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ سو رسولوں کی تکذیب اور حق و ہدایت کے انکار پر اس خالق ومالک نے عذاب کا جو وعدہ تم لوگوں سے فرما رکھا ہے وہ بہرحال شدنی ہے، خواہ وہ دنیا کے عذاب عاجل کی شکل میں آئے یا یوم الحساب کے عذاب اخروی کی صورت میں۔ اس کو روکنے یا ٹالنے کا بل بوتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
اللہ کی بےنیازی اور ظالموں کا انجام
تشریح : ان آیات میں رب العالمین کی طاقت اور قدرت کا ذکر ہے اور پھر اس کے نظم و نسق کا بھی ذکر ہے۔ وہ تو انسانوں کے کسی بھی عمل سے بےنیاز ہے اس کو نہ ہمارے نیک اعمال سے کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ برے اعمال سے کوئی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ سب تو خود انسان اپنی بھلائی یا نقصان کے لیے کرتا ہے۔ اللہ کی مرضی سے دنیا کا نظام چل رہا ہے ایک قوم آتی ہے ختم ہوجاتی ہے تو اس کی جگہ دوسری قوم پیدا کردی جاتی ہے۔ جس قوم نے نیک راہیں اختیار کیں دنیا میں ترقی حاصل کرلی اور جس نے نافرمانی، بدکرداری کی اور حد سے بڑھ گئی تو اس کو سزا کے طور پر اللہ نے نیست و نابود کردیا۔ اسی طرح تم سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…
Read the full tafseer →ف 10 یا اس سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتے
Read the full tafseer →(6:134) لات۔ ات۔ آنے والا۔ ایتان سے جس کے معنی آنے کے ہیں۔ لام تاکید کے لئے آیا ہے۔ اسم فاعل واحد مذکر۔
معجزین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ عاجز کردینے والے۔ ہرا دینے والے۔ اعجاز (افعال) سے دوسرے کو عاجز بنادینا۔ عاجز کردینا۔ معاحزۃ (مفاعلۃ) مقابلہ کرکے اپنے حریف کو ہرا دینا۔ یعنی تم اس کو ایسا کرنے سے ہرگز روک نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
لغات القرآن : آیت نمبر 133 تا 135 :
الغنی (بےنیاز۔ بےپرواہ) یستخلف (وہ قائم مقام بنادیتا ہے) ذریۃ ( اولاد) توعدون ( وعدہ کئے گئے ہیں) مکانتکم ( اپنی جگہ) عاقبۃ ( انجام) ۔
تشریح آیت نمبر 133 تا 135 :
اللہ رحمت والا ہے یعنی کسی کو سزا دینے میں اسے کوئی لطف نہیں آتا۔ اسے تو انعام و اکرام دینے میں لطف آتا ہے اس کی رحمت کا تقاضا یہی ہے۔ تمہاری خوشی سے خوش ہے۔ تمہاری تکلیف سے ناخوش ہے۔ کیا تم اس کے بنائے ہوئے نہیں ہو ؟ جس جسم و جان کو اتنی محبتوں سے عنایت کیا اور اتنی محبتوں اور سفقتوں سے عمر کی مختلف منزلوں سے گذارا ۔ کیا وہ اسے دوزخ میں ڈال کر خوش ہو سکتا ہے ؟ مگر سزا۔ وہ بھی رحمت کا ایک حصہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصافی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غارت کرنا منظور نہیں۔ سب کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا اور پوری نصیحت کی اور پوری مہلت دی مگر وہ باز نہ آئے۔ جس سے دنیا مین طرح طرح کے عذاب سے ہلاک ہوگئے۔ عقبیٰ میں جدا سزا پائیں گے۔ کیونکہ ہر ایک کے عملوں کے موافق جزا وسزا کے درجے ٹھہرا رکھے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو اب تک پچھلی قوموں کی طرح ان کو ہلاک کرکے دوسری کسی فرمانبردار قوم کو ان کی جگہ پیدا کردیتا۔ جس طرح پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
(ف 2) اللہ کی بےنیازی مذکور ہے یعنی اللہ کا منشاء پورا ہو کر رہے گا ، تم رہو نہ رہو اس کا جلال ابد الآباد تک قائم رہے گا ، تم اگر نہ مانو گے ، اور اس کے حکموں کو ٹھکرا دو گے ، تو وہ ایسے اور لوگ پیدا کر دے گا ، جو اطاعت شعار ہوں ، اسے یہی منظور ہے کہ اس کا دین سربلند رہے ، اس کی بات مانی جائے ، اس کے حکموں کو پوری فرمانبرداری کے ساتھ تسلیم کیا جائے ، اور اگر اس کے لئے تیار نہیں ہو ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی حکومت بہر حال برقرار رہے گی ،
حل لغات :
درجت : رتبے ،
Read the full tafseer →-134 جس چیز کا تم سے رسولوں کی معرفت وعدہ کیا جاتا ہے یعنی عذاب یا قیامت وہ چیز یقینا آنیوالی ہے اور تم کہیں بھاگ کر اس کو ہرا نہیں سکتے اور نہ خدا تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہو۔ یعنی قیامت ضرور آ کر رہے گی اور اگر تم چاہو کہ کہیں بھاگ کر روپوش ہو جائو اور چھپ جائوتو یہ بھی نہیں ہوسکتا اور خدا کے ہاتھ سے بچ نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی قیامت و عذاب۔
Read the full tafseer →جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے :
208: اللہ تعالیٰ نے جس دن سے تم کو ڈرایا ہے یقیناً وہ دن آنے والا ہے اور تم سب مل کر بھی اس دن کو نہیں ٹال سکتے ” تُوْعَدُوْنَ “ میں وہ عذاب بھی داخل ہے جس کی رسول کی تکذیب کی صورت میں ان کو دھمکی سنائی گئی تھی اور وہ یوم حساب بھی جو اس کائنات کی ایک اٹل حقیقت ہے اس لئے کہ اگر اس عالم کا کوئی شروع ہے تو اس کا آخر بھی ہونا چاہئے۔ فرمایا یہ دونوں باتیں ہونے والی ہیں اور جب ان کا ظہور ہوگا تو تم اللہ تعالیٰ کے قابو سے کسی طرح باہر نہ نکل سکو گے اور یہ بھی کہ جس کو ہونا ہے اس کو ہونا ہی ہے تو پھر تم اس کو ہونے کے لئے جلدی کیوں مچاتے ہو ؟…
Read the full tafseer →After having established in the first verse that Allah is All-Independent (Ghaniyy), Master of Mercy (Dhur-Rahmah) and All-Powerful too, the text carries a warning given to disobedient people: إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ ۖ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ﴿134﴾: Surely what you are promised [ that is, the Divine punishment ] is bound to come, and you cannot frustrate [ it ].'
Another method to awaken them from their heedlessness was adopted in the third verse (135) where it was said: قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ…
Read the full tafseer →102. This refers to the Resurrection, when human beings of every epoch will be raised anew and made to stand before God for final judgement.
Read the full tafseer →