Explained with ayahs 133–135
سب سے بےنیاز اللہ
اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے، اسے کسی کی کوئی حاجت نہیں۔ اسے کسی سے کوئی فائدہ نہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ساری مخلوق اپنے ہر حال میں اس کی محتاج ہے۔ وہ بڑی ہی رافت و رحمت والا ہے رحم و کرم اس کی خاص صفتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :143) اللہ اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف سے پیش آنے والا ہے تو جو اس کی مخالفت کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ اگر وہ چاہے تو تمہیں ایک آن میں غارت کرسکتا ہے اور تمہارے بعد ایسے لوگوں کو بسا سکتا ہے جو اس کی اطاعت کریں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے تم دیکھ لو اس نے آخر اوروں کے قائم مقام تمہیں…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 101
”تمہارا رب بےنیاز ہے“ یعنی اس کی کوئی غرض تم سے اٹکی ہوئی نہیں ہے، اس کا کوئی مفاد تم سے وابستہ نہیں ہے کہ تمہاری نافرمانی سے اس کا کچھ بگڑ جاتا ہو، یا تمہاری فرماں برداری سے اس کو کوئی فائدہ پہنچ جاتا ہو۔ تم سب مل کر سخت نافرمان بن جاؤ تو اس کی بادشاہی میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے، اور سب کے سب مل کر اس کے مطیع فرمان اور عبادت گزار بن جاؤ تو اس کے ملک میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ وہ نہ تمہاری سلامیوں کا محتاج ہے اور نہ تمہاری نذر و نیاز کا۔ اپنے بیشمار خزانے تم پر لٹا رہا ہے بغیر اس کے کہ ان کے بدلہ میں اپنے لیے تم سے کچھ چاہے۔
”مہربانی اس کا شیوہ ہے“۔ یہاں موقع و محل…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور آپ ﷺ کا رب (رسولوں کو کچھ اس لئے نہیں بھیجتا کہ نعوذ باللہ وہ محتاج عبادت ہے وہ تو) بالکل غنی ہے (بلکہ اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ) رحمت والا (بھی) ہے (اپنی رحمت سے رسولوں کو بھیجا تاکہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو منافع و مضار (نقصان دینی والی چیزیں) معلوم ہوجائیں، پھر منافع سے منتفع اور مضار سے محفوظ رہیں، سو اس میں بندوں ہی کا فائدہ ہے، اور باقی ان کا گناہ تو ایسا ہے کہ) اگر وہ چاہے تو تم سب کو (دنیا سے دفعةً) اٹھالیوے اور تمہارے بعد جس (مخلوق) کو چاہے تمہاری جگہ (دنیا میں) آباد کر دے جیسا (اس کی نظیر پہلے سے موجود ہے کہ) تم کو (جو کہ اب موجود ہو) ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے…
Read the full tafseer →قریش کو براہ راست دھمکی : اوپر جو باتیں بیان ہوئی تھیں اگرچہ واضح طور پر ان کا رخ قریش ہی کی طرف تھا لیکن ان کی نوعیت اصولی باتوں کی تھی۔ اب یہ صاف صاف قریش کو مخاطب کر کے دھمکی دی کہ جہاں تک اتمام حجت کا تعلق ہے اس کا سامان خدا نے تمہارے لیے بھی کردیا ہے۔ اب تمہاری قسمت میں بھی میزان میں ہے۔ اگر تم نے اپنے آپ کو نہ سنبھالا تو خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے اور جب اس کی پکڑ میں آجاؤ گے تو پھر اس کے قابو سے باہر نہ نکل سکو گے۔
وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ۔ فرمایا کہ تمہارا خداوند غنی اور بےنیاز بھی ہے اور رحمت والا بھی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ صفات جب اس طرح حرف عطف کے بغیر بیان…
Read the full tafseer →133۔ 1 وہ غنی بےنیاز ہے اپنی مخلوقات سے۔ ان کا محتاج ہے نہ ان کی عبادتوں کا ضرورت مند ہے، ان کا ایمان اس کے لیے نفع مند ہے نہ ان کا کفر اس کے لیے ضرر رساں لیکن اس شان غنا کے ساتھ وہ اپنی مخلوق کے لیے رحیم بھی ہے۔ اس کی بےنیازی اپنی مخلوق پر رحمت کرنے میں مانع نہیں ہے۔
133۔ 2 یہ اس کی بےپناہ قوت اور غیر محدود قدرت کا اظہار ہے جس طرح پچھلی کئی قوموں کو اس نے حرف غلط کی طرح مٹا دیا اور ان کی جگہ نئی قوموں کو اٹھا کھڑا کیا، وہ اب بھی اس بات پر قادر ہے کہ جب چاہے تمہیں نیست و نبود کردے اور تمہاری جگہ ایسی قوم پیدا کردے جو تم جیسی نہ ہو۔ مزید ملاحظہ ہو سورة نساء 133، سورة ابراہیم 20، سورة فاطر 15،…
Read the full tafseer →63: یعنی اس نے رسولوں کو بھیجنے کا جو سلسلہ جاری فرمایا اس کی وجہ معاذ اللہ یہ نہیں تھی کہ وہ تمہاری عبادت کا محتاج ہے وہ تو مخلوق کی عبادت سے بےنیاز ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ رحمت والا بھی ہے، اس لیے اس نے پیغمبر بھیجے ہیں جو بندوں کو اس صحیح راہ عمل کی طرف متوجہ کرتے رہیں جس میں ان کی دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہتری کا سامن ہو۔
64: جس طرح آج کے تمام لوگ ان لوگوں کی نسل سے ہیں جن کا اب کوئی پتہ نشان باقی نہیں رہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو یہ بھی قدرت ہے کہ آج کے تمام لوگوں کو ایک ہی مرتبہ میں ختم کر کے دوسری قوم پیدا کردے، لیکن وہ اپنی رحمت کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 133۔
لوگوں کو یہ بات بھولنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں محض اللہ کی مہربانی کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ ان کا یہاں رہنا اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ۔ ان کے پاس جو قوت اور حکمت ہے یہ انہیں اللہ کی عطا کی ہوئی ہے ۔ یہ اصل قوت نہیں ہے بلکہ عطائی ہے ۔ وہ خود مختار نہیں ہیں اس لئے کہ کوئی شخص اپنی پیدائش اپنے وجود اور اس جہان میں اپنی بقا میں کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔ انسان کو جو بھی قوت دی گئی ہے اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ان کو یہاں سے ہٹانا اور ان کی جگہ دوسری اقوام کو لانا اللہ کے لئے بہت ہی آسان ہے ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ خود اللہ نے دوسری اقوام کی جگہ انہیں یہاں وجود بخشا اور اپنی قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
2 خدا نے رسول بھیج کر اپنی حجت تمام کردی۔ اب اگر تم نہ مانو اور سیدھے راستہ پر نہ چلو تو وہ غنی ہے اسے تمہاری کچھ پرواہ نہیں۔ وہ چاہے تو تم کو ایک دم میں لے جائے اور اپنی رحمت سے دوسری قوم کو تمہاری جگہ کھڑا کر دے جو خدا کی مطیع و وفادار ہو اور تم کو لے جا کر دوسری قوم کا لے آنا خدا کے لئے کیا مشکل ہے۔ آج تم اپنے جن آباء و اجداد کے جانشین بنے بیٹھے ہو، آخر ان کو اٹھا کر تم کو دنیا میں اسی خدا نے جگہ دی ہے۔ بہرحال خدا کا کام رک نہیں سکتا۔ تم نہ کرو گے دوسرے کھڑے کئے جائیں گے۔ ہاں یہ سوچ رکھو کہ یہ ہی بغاوت و شرارت رہی تو خدا کا عذاب اٹل ہے۔ تم اگر سمجھو کہ بھاگ کر یا کسی کی پناہ لے کر سزا سے…
Read the full tafseer →آیت 133 وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذو الرَّحْمَۃِ ط۔
اسے کسی کو عذاب دے کر کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور کسی کی بندگی اور اطاعت سے اس کا کوئی رکا ہوا کام چل نہیں پڑتا۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے۔
اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ وَیَسْتَخْلِفْ مِنْم بَعْدِکُمْ مَّا یَشَآءُ
وہ اس پر قادر ہے کہ ایک نئی مخلوق کو تمہارا جانشین بنا دے ‘ کوئی نئی species لے آئے۔ اللہ کا اختیار مطلق ہے ‘ وہ چاہے تو ایک نئی نسل آدم پیدا کر دے۔
کَمَآ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ ۔
جیسے قوم عاد عرب کی بڑی زبردست اور طاقتور قوم تھی ‘ لیکن جب اس کو تباہ برباد کردیا گیا تو ان ہی میں سے کچھ اہل ایمان لوگ جو حضرت ہود علیہ…
Read the full tafseer →140 تم پر اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ تم سے دین کی خدمت لے رہا ہے :۔ یعنی اللہ کی کوئی غرض تمہاری وجہ سے ان کی ہوئی نہیں ہے نہ ہی اس کا کوئی مفاد تم سے وابستہ ہے کہ تمہاری نافرمانی سے اس کا کچھ بگڑتا ہو اور فرمانبرداری سے اس کا کچھ سنورتا ہو بلکہ یہ اس کی انتہائی رحمت اور مہربانی ہے کہ اس نے تمہیں ہدایت کی راہ دکھائی۔ جس پر عمل کر کے تم عذاب سے بھی بچ سکتے ہو اور بلند درجات بھی حاصل کرسکتے ہو۔ اس کے مہربان ہونے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں فوراً سزا نہیں دے رہا اور تمہارے قصور معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ ورنہ اگر وہ سخت گیر ہوتا تو تمہارے جرائم اتنے زیادہ ہیں کہ تمہیں اس…
Read the full tafseer →198 ۔ صفت غنا لا کر یہ یاد دلا دیا کہ وہ جو بار بار پیغمبر بھیجتا رہا ہے تو کچھ اس لیے نہیں کہ وہ بندوں کی عبادت کا محتاج رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احتیاج وشائبہ احتیاج سے پاک ہے۔ اور صفت غنا لاکر یاد دیا کہ وہ جو بار بار پیغمبر بھیجتا رہا ہے تو کچھ اس لیے نہی کہ وہ بندوں کی عبادت کا محتاج و متمنی ہے۔ یہ تو مشرکوں ہی کے دیوتا ہوتے ہیں جو اپنے پوجا ریوں کی پوجا وپاٹ کے محتاج رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احتیاج وشائبہ احتیاج سے پاک ہے۔ اور صفت رحمت لاکر یہ یاد دلادیا کہ اس کا یہ باربار پیغمبروں کو بھیجتے رہنا اسی رحمت کے تقاضہ سے ہے تاکہ بندے مرضیات الہی سے آگاہ باخبر ہو کر دنیا میں نفع زیادہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
آیت نمبر 130 تا 140
ترجمہ : اے جن و انس کے گروہو ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے ؟ یعنی تمہارے مجموعہ میں سے جو کہ انسانوں پر صادق ہے، یا رسل جن سے وہ آگاہ کرنے والے جن مراد ہیں جو (انسانی) رسولوں کا کلام سنتے اور اپنی قوم کو پہنچاتے تھے، جو تم کو میری آیتیں پڑھ کر سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے آگاہ کرتے، وہ کہیں گے (ہاں) ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے پاس پیغام پہنچایا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لائے، اور وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے یہ رسولوں کو بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب…
Read the full tafseer →وربک الغنی . اور آپ کا رب بےنیاز ہے۔ بندوں کی عبادت سے ‘ بندوں کو اوامرو نواہی کا مکلف بنانے میں اس کی کوئی غرض نہیں بلکہ۔
ذوالرحمۃ . وہ (اپنی مخلوق پر) رحمت کرنے والا ہے مہربان ہے۔ بندوں کے منافع کی تکمیل کے لئے ہی اس نے پیغمبر بھیجے اور لوگوں کو اوامرو نواہی کا مکلف کیا۔ یہ بھی اسی کی رحمت ہے کہ گناہوں کے باوجود گناہگاروں کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور فوری گرفت نہیں کرتا لیکن
ان یشایذہبکم (اے اہل مکہ) اگر وہ چاہے تو (تمہارے گناہوں کی پاداش میں) تم کو فنا کر دے تمہارے فنا ہونے سے اس کی کوئی غرض فوت نہیں ہوجائے گی۔
ویستخلف من بعدکم مایشآء . اور تمہارے بعد تمہاری جگہ جس کو چاہے پیدا کر دے جو تم سے…
Read the full tafseer →(133) آپ کا پروردگار ان کے ایمان سے غنی (بےنیاز) ہے اور جو ایمان لائے اس سے عذاب کو موخر کرکے رحمت فرماتا ہے مکہ والو ! اگر وہ چاہیے تو تم سب کو ہلاک کردے اور تمہارے بعد دوسری قوم کو آباد کرے۔
Read the full tafseer →وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ : یہاں ”الْغَنِيُّ“ خبر معرفہ ہونے اور ”الرَّحْمَةِ“ پر ”الف لام“ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے ”اور تیرا رب ہی ہر طرح بےپروا، کمال رحمت والا ہے“ اس کے سوا کوئی اور نہ ہی بےپروا ہے نہ کمال رحمت والا، یعنی اسے مخلوق سے کوئی حاجت نہیں، پھر بھی بطور احسان کمال رحمت والا ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ پہلے جو نعمتیں ذکر ہوئی ہیں، مثلاً رسولوں کا بھیجنا وغیرہ، محض رحمت کی بنا پر ہیں، اپنے کسی فائدے کے لیے نہیں۔
ذُو الرَّحْمَةِ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ایک رحمت اس نے جنوں، آدمیوں، جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتاری ہے، وہ اسی ایک رحمت کی وجہ سے ایک دوسرے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 133
قولہ تعالیٰ : آیت : وربک الغنی یعنی آپ کا پروردگار اپنی مخلوق سے اور ان کے اعمال سے غنی ہے ( اسے ان کی کوئی حاجت اور پرواہ نہیں ہے) ذو الرحمۃ وہ اپنے دوستوں اور اہل طاعت کے ساتھ رحمت کا سلوک کرنے والا ہے۔ آیت : ان یشا یذھبکم اگر وہ چاہے تو تمہیں موت دے کر اور عذاب کے ساتھ تباہ کر کے ختم کر دے۔
آیت : ویستخلف من بعد کم ما یشاء یعنی وہ تمہاری جگہ ایک دوسری مخلوق لے آئے جو تم سے زیادہ فضیلت والی اور زیادہ اطاعت شعار ہو۔ آیت : کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین اس میں کاف محل نصب میں ہے، یعنی آیت : یستخلف من بعد کم ما یشاء استخلافا مثل ما انشاء کم ( تمہارے بعد تمہاری جگہ لے آئے جسے لانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
(1) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے عظمہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جنات جنت میں داخل ہوں گے اور وہ کھائیں گے اور پئیں گے۔
(2) امام ابن منذر نے لیث (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جنات کے لئے کوئی ثواب نہیں۔
(3) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں لبث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ مسلمان جنات نہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ آگ میں یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا پھر اس کو دوبارہ نہیں لے جائیں گے اور نہ اس کی اولاد کو لے جائیں گے۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے ابن ابی لیلیٰ (رح) سے روایت کیا کہ جن کے لئے ثواب ہے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے لفظ آیت…
Read the full tafseer →وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ [ اور آپ کا بےنیاز رب ] ذُو الرَّحْمَةِ ۭ [ رحمت والا ہے ] اِنْ [ اگر ] يَّشَاْ [ وہ چاہے ] يُذْهِبْكُمْ [ تو لے جائے تم لوگوں کو ] وَيَسْتَخْلِفْ [ اور جانشین بنائے ] مِنْۢ بَعْدِكُمْ [ تمہارے بعد ] مَّا [ جس کو ] يَشَاۗءُ [ وہ چاہے ] كَمَآ [ جیسے کہ ] اَنْشَاَكُمْ [ اس نے پیدا کیا تم کو ] مِّنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِيْنَ [ ایک دوسری قوم کی اولاد سے ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ غنی ہے رحمت والا ہے۔ پھر فرمایا (وَ رَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُوالرَّحْمَۃِ ) (تیرا رب غنی ہے بےنیاز ہے، رحمت والا ہے) اسے کسی چیز کی اور کسی کے عمل کی حاجت نہیں۔ ہاں ! ساری مخلوق اس کی محتاج ہے وہ اپنی مخلوق پر رحم کرتا ہے اس نے مخلوق کو وجودبھی بخشا، ان کو رزق بھی بخشتا ہے اور ان کی حاجتیں بھی پوری فرماتا ہے، دنیا میں تو سب ہی پر اس کی رحمت ہے اور آخرت میں اہل اطاعت کے لیے مخصوص ہے۔
اللہ چاہے تو تمہیں ختم کر کے دوسرے لوگوں کو لے آئے :
(اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِکُمْ مَّا یَّشَآءُ ) (اگر پروردگار عالم جل مجدہ چاہے تو تمہیں ختم کردے اور تمہارے بعد دوسروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون
(ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
147 یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہاں اگر کسی کے دل میں یہ اشکال پیدا ہو کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت اور صفت عذاب دونوں کو کیوں جمع کردیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی دونوں صفتوں کو بیان کرنا مقصود ہے کہ بیشک اللہ رحیم اور مہربان ہے۔ لیکن نافرمانوں کو عذاب دینے پر بھی قادر ہے۔ تائید وَھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ذوْ الْعَرْشِ الْمَجِیْد فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ تم نہیں مانو گے تو وہ تمہیں ہلاک کردے گا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو آباد کردے گا جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی جگہ تم کو دی۔ اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ الخ تمہیں جس چیز (عذاب یا قیامت) کا وعدہ دیا جارہا ہے وہ آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کے ملف ہونے کا ذکر کیا اور قیامت کو جزائے عمل کا حال بیان کیا۔ اور اس سلسلے میں قیامت میں پیش آنے والے سوال و جواب کا تذکرہ کیا۔ قرآن کریم میں ایسے واقعات سے مشرکوں اور کافروں کی تنبیہ مراد ہے تاکہ اگر وہ بچنا چاہیں تو بچ سکیں۔ گذشتہ آیات میں جنوں سے خطاب تھا کہ سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملالیا ہے ، تو انسان بھی اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم میں سے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا۔ جنات نے اپنی سیادت قائم رکھی اور اپنی بات انسانوں سے منوائی جب کہ انسان نے باطل عقائد اور باطل اعمال پر خوشی کا…
Read the full tafseer →وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَۃِ 0 ۭ اِنْ يَّشَاْ يُذْہِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا يَشَاۗءُ كَـمَآ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّيَّۃِ قَوْمٍ اٰخَرِيْنَ 133 ۭ
غنی
الغِنَى يقال علی ضروب :
أحدها : عدم الحاجات،
ولیس ذلک إلا لله تعالی، وهو المذکور في قوله : إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] ،
الثاني : قلّة الحاجات،
وهو المشار إليه بقوله : وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] ، وذلک هو المذکور في قوله عليه السلام : «الغِنَى غِنَى النّفس»
والثالث : كثرة القنيّات بحسب ضروب الناس
کقوله : وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] ،
( غ ن ی ) الغنیٰ
( تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
ترکیب : یقصون موضع رفع میں صفت ہے رسل کی اور حال بھی ہوسکتا ہے ہذا خبر ہے مبتدا محذوف کی یایومکم کی صفت ان لم ان مصدریتہ یا مخففہ ہے اور لام محذوف ای لان لم یکن ریک موضعہ نصب اوجر۔
تفسیر : پھر اس عذر بارد کے رد کرنے کو ہر ایک جن و انسان سے خطاب کرکے فرمائے گا الم یاتکم رسل منکم الخ کہ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے جو تمہیں میں سے تھے جن سے بوجہ ہم زبان و ہم قوم و موانست کے نصیحت حاصل کرنا بہت آسان تھا جو تمہیں میری آیتیں سناتے اور آج کے دن سے خوف دلاتے تھے ؟ اس کے بعد وہ اپنے کفر کا اقرار کریں گے۔ علمائِ اسلام میں سے جمہور بقرائنِ آیات ان اللہ اصطفیٰ آدم الخ وغیرہا اس بات کے قائل ہیں کہ…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَۃِ ط اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْم بَعْدِکُمْ مَّا یَشَآئُ کَمَآ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ ۔ (الانعام : 133)
(اور تیرا رب ‘ بےنیاز رحمت والا ہے۔ اگر وہ چاہے ‘ تم کو فنا کر دے اور تمہارے بعد تمہاری جگہ جس کو چاہے لائے ‘ جس طرح اس نے تم کو پیدا کیا دوسروں کی نسل سے )
اللہ غنی اور رحیم ہے
آیت کی تشریح سے پہلے آیت کے پہلے جملے کو دیکھیے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے ” تیرا رب غنی رحمت والا ہے “ اس میں رب کی دو صفات بیان ہوئی ہیں ” غنی “ اور ” رحمت والا “ قاعدے کے اعتبار سے غنی کے بعد ’ واو ‘ یعنی حرف عطف آنا چاہیے تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجتا رہا تاکہ لوگوں پر حجت تمام ہوجائے۔
اس سے پہلے فرمان میں ” رُسُلٌ مِنْکُمْ “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ ذٰلک کا اشارہ انھی الفاظ کی ترجمانی کر رہا ہے کہ لوگوں میں انہی سے رسول بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پڑھ کر سنائیں اور ان پر من و عن عمل کرکے دکھلائیں تاکہ کسی کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی بتلانے اور سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہم غفلت میں پڑے رہے اور آج ہمیں بد ترین انجام سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس بات کے ازالہ کے لیے فرمایا اے پیغمبر ! تیرے رب کا یہ وطیرہ…
Read the full tafseer →وہ بےنیاز رحیم ہے :
آیت 133: وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ بندوں اور ان کی عبادت سے ذوالرَّحْمَۃِ ان پر تکالیف کے ذریعہ تاکہ دائمی منافع کے لئے ان کو تعریض کیا جائے۔ اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ اے ظالمو وَیَسْتَخْلِفْ مِنْم بَعْدِکُمْ مَّایَشَآئُ مطیع مخلوقات سے کَمَآ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ ٰاخَرِیْنَ دوسری قوم کی اولاد سے جو تمہاری حالت پر نہ تھے اور وہ کشتی نوح ( علیہ السلام) والے لوگ تھے۔
Read the full tafseer →133 (وربک الغنی) اپنی مخلوق سے (ذو الرحمۃ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اپنے اولیاء اور اطاعت کرنے والوں پر (ان یشا یذھبکم) تم کو ہلاک کر دے۔ یہ اہل مکہ کو وعید ہے (ویستخلف من م بعدکم ما یشآئ) تمہارے علاوہ مخلوق کو جو زیادہ فرمانبردار ہو (کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین) یعنی تمہارے پچھلے آباء و اجداد سے نسل در نسل ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن اللہ نافرمان جن و انس سے پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسولوں کی معرفت تمہیں اللہ کا کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت کے آنے کا اور اس دن نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانیکا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصانی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غفلت کرنا منظور نہیں اسی واسطے اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کہ فرعون اور اس کی قوم تک کے لوگوں کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا جس میں ہر طرح کی نصیحتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت 129
(ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو “ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنہوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا : (یمعشرالجن قدر استکترتم من الانس) ” اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے۔ “ یعنی اے جنوں کی جماعت ! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →259 رب کی بےنیازی اور اس کی رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارا رب بڑا ہی بےنیاز، نہایت ہی رحمت والا ہے۔ سو وہ ہر کسی سے اور ہر طرح سے بےنیاز ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کو نہ کسی کے عمل کی کوئی ضرورت ہے نہ پرواہ۔ وہ جو تم لوگوں سے اعمال صالحہ کا مطالبہ کرتا ہے تو محض اسلئے تاکہ تم کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازے کہ وہ بڑا مہربان نہایت ہی رحمتوں والا ہے اور اس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ اور تمہارے ان اعمال کو وہ اپنے کرم سے تمہارے لئے محفوظ فرماتا ہے تاکہ وہ تمہیں ان کے صلے اور بدلے سے نوازے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ، وبحمدِہٖ ۔ جَلّ وَعَلا ۔ تَتِمُّ الصّالِحاتُ ۔ پس ہر کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
اللہ کی بےنیازی اور ظالموں کا انجام
تشریح : ان آیات میں رب العالمین کی طاقت اور قدرت کا ذکر ہے اور پھر اس کے نظم و نسق کا بھی ذکر ہے۔ وہ تو انسانوں کے کسی بھی عمل سے بےنیاز ہے اس کو نہ ہمارے نیک اعمال سے کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ برے اعمال سے کوئی نقصان پہنچتا ہے۔ یہ سب تو خود انسان اپنی بھلائی یا نقصان کے لیے کرتا ہے۔ اللہ کی مرضی سے دنیا کا نظام چل رہا ہے ایک قوم آتی ہے ختم ہوجاتی ہے تو اس کی جگہ دوسری قوم پیدا کردی جاتی ہے۔ جس قوم نے نیک راہیں اختیار کیں دنیا میں ترقی حاصل کرلی اور جس نے نافرمانی، بدکرداری کی اور حد سے بڑھ گئی تو اس کو سزا کے طور پر اللہ نے نیست و نابود کردیا۔ اسی طرح تم سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی جس طرح تمہیں پہلے لوگوں کا جانشین، بنایا اسی طرح تمہیں تباہ کرکے دوسروں کو تمہارا جانشین بنا سکتا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت جن وانس کے پیدا کرنے پر ہی منحٖصر نہیں ہے بلکہ ان کی بجائے کوئی تیسری قسم کی مخلوق بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ، (کبیر )
Read the full tafseer →(6:133) یستخلف۔ مضارع واحد مذکر غائب مجزوم ۔ بو کہ جواب شرط (تمہارا جانشین بنا دے تمہاری جگہ لے آئے۔
مایشائ۔ ما بیانہ ہے۔ جسے چاہے۔ جیسے چاہے۔
ذریۃ۔ اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے۔ لیکن عرف عام میں چھوٹی اور بڑی سب اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے۔ ذریۃ کے بارے میں تین اقوال ہیں :۔
(1) یہ ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں اور اس کی ہمزہ متروک ہوگئی ہے جیسے رویۃ اور بریۃ میں۔
(2) اس کی اصل ذرویۃ سے ہے۔
(3) ذر سے جس کے معنی بکھیرنے کے ہیں۔ فعلیۃ کے وزن پر جیسے قمریۃ۔ ذرای۔ وریات جمع۔
قوم اخرین۔ اخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–135
لغات القرآن : آیت نمبر 133 تا 135 :
الغنی (بےنیاز۔ بےپرواہ) یستخلف (وہ قائم مقام بنادیتا ہے) ذریۃ ( اولاد) توعدون ( وعدہ کئے گئے ہیں) مکانتکم ( اپنی جگہ) عاقبۃ ( انجام) ۔
تشریح آیت نمبر 133 تا 135 :
اللہ رحمت والا ہے یعنی کسی کو سزا دینے میں اسے کوئی لطف نہیں آتا۔ اسے تو انعام و اکرام دینے میں لطف آتا ہے اس کی رحمت کا تقاضا یہی ہے۔ تمہاری خوشی سے خوش ہے۔ تمہاری تکلیف سے ناخوش ہے۔ کیا تم اس کے بنائے ہوئے نہیں ہو ؟ جس جسم و جان کو اتنی محبتوں سے عنایت کیا اور اتنی محبتوں اور سفقتوں سے عمر کی مختلف منزلوں سے گذارا ۔ کیا وہ اسے دوزخ میں ڈال کر خوش ہو سکتا ہے ؟ مگر سزا۔ وہ بھی رحمت کا ایک حصہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصافی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غارت کرنا منظور نہیں۔ سب کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا اور پوری نصیحت کی اور پوری مہلت دی مگر وہ باز نہ آئے۔ جس سے دنیا مین طرح طرح کے عذاب سے ہلاک ہوگئے۔ عقبیٰ میں جدا سزا پائیں گے۔ کیونکہ ہر ایک کے عملوں کے موافق جزا وسزا کے درجے ٹھہرا رکھے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو اب تک پچھلی قوموں کی طرح ان کو ہلاک کرکے دوسری کسی فرمانبردار قوم کو ان کی جگہ پیدا کردیتا۔ جس طرح پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 133–134
(ف 2) اللہ کی بےنیازی مذکور ہے یعنی اللہ کا منشاء پورا ہو کر رہے گا ، تم رہو نہ رہو اس کا جلال ابد الآباد تک قائم رہے گا ، تم اگر نہ مانو گے ، اور اس کے حکموں کو ٹھکرا دو گے ، تو وہ ایسے اور لوگ پیدا کر دے گا ، جو اطاعت شعار ہوں ، اسے یہی منظور ہے کہ اس کا دین سربلند رہے ، اس کی بات مانی جائے ، اس کے حکموں کو پوری فرمانبرداری کے ساتھ تسلیم کیا جائے ، اور اگر اس کے لئے تیار نہیں ہو ، تو مٹ جاؤ گے ، اللہ کی حکومت بہر حال برقرار رہے گی ،
حل لغات :
درجت : رتبے ،
Read the full tafseer →-133 اے پیغمبر ! آپ کا پروردگار غنی اور بےنیاز اور صاحب رحمت ہے یعنی خود کسی کا محتاج نہیں اور اس کا شیوہ مہربانی اور رحم و کرم ہے وہ اگر چاہے تو تم سب کو اس عالم سے اٹھا لے اور یہاں سے لے جائے اور تمہارے بعد جس مخلوق کو چاہے تمہارا جانشین کر دے اور جس کو چاہے تمہاری جگہ آباد کر دے جس طرح تم کو دوسرے لوگوں کی نسل سے اور اولاد سے پیدا کیا ہے۔ یعنی وہ تمہارے بڑے موجود نہیں اور تم ان کی جگہ موجود ہو اسی طرح ہم اگر چاہیں تو دفعتاً الٹ پلٹ کردیں جیسا کہ انقلاب کے وقت بھی ایسا ہوا کرتا ہے وہ اگر چاہے تو بڑے پیمانہ پر سارے عالم میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ وہ رسولوں کو کچھ اس لیے نہیں بھیجتا کہ نعوذ باللہ وہ محتاج عبادت ہے وہ تو بالکل غنی ہے بلکہ اس لیے بھیجتا ہے کہ وہ رحمت والا بھی ہے اپنی رحمت سے رسولوں کو بھیجا تاکہ ان کے ذریعہ لوگوں کو منافع ومضار معلوم ہوجائیں پھر منافع سے منتفع اور مضار سے محفوظ رہیں اس میں بندوں کا ہی نفع ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کے قانون کا بیان جس کے تحت وہ ایک کو دوسرے کا جانشین بنا دیتا ہے :
207: رب کریم نے اپنی صفت ” غنی “ غنا لا کر یہ بات یاد دلادی کہ وہ جو بار بار رسولوں کو بھیجتا رہا ہے تو اس لئے نہیں کہ وہ بندوں کی عبادت کا محتاج اور متمنی ہے کہ لوگ اس کی عبادت کریں اور اس کی پوجا پاٹ ادا کریں تب وہ خدا رہے گا ورنہ اس کی خدائی کوئی اور لے جائے گا۔ اللہ ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کا بار بار پیغمبروں کو بھیجنا تو رحمت کے تقاضا سے تھا تاکہ بندے مرضیات الٰہی سے آگاہ وباخبر ہو کر دنیا میں نفع زیادہ سے زیادہ حاصل کرتے رہیں اور لوگوں میں جو صلاحیتیں ہیں ان کی نشو ونما کے لئے ایسی شریعت عطا…
Read the full tafseer →Commentary
Stated in previous verses was that Allah Ta` ala has always been sending His messengers and the rules of conduct required by Him to every set of people among the Jinn and the human beings and, unless they were fully warned through their messengers, punishment was never given to them for their disbelief and disobedience.
In the first (133) of the four verses cited above, it has been pointed out that the practice of sending needed our obediences and worthier because the Lord of the universe needed our obedience and worship, or some task of His depended on our obedience. No, this was…
Read the full tafseer →101. The Qur'anic statement: 'Your Lord is Self-Sufficient' signifies that God is in need of nothing from anyone, that none of His interests will be jeopardized by disobedience to Him, and that no benefit will accrue to Him from obedience. Even if all human beings became disobedient, God's dominion will not shrink. Nor will His dominion expand if everybody were to become obedient and serve and worship Him as they ought to. God is dependent neither upon their show of veneration nor upon their offerings. He lavishes His limitless treasures on human beings and seeks nothing in return.
The other…
Read the full tafseer →