Explained with ayahs 131–132
حجت تمام
جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کردیئے اس لئے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے، فرماتا ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ) 35۔ فاطر :24) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو اور آیت میں ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو اور جگہ ہے ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے۔ سورة تبارک میں ہے جب جہنم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
سورة الْاَنْعَام 100
یعنی اللہ اپنے بندوں کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ اس کے مقابلے میں یہ احتجاج کرسکیں کہ آپ نے ہمیں حقیقت سے تو آگاہ کیا نہیں، اور نہ ہم کو صحیح راستہ بتانے کا کوئی انتظام فرمایا، مگر جب ناواقفیت کی بنا پر ہم غلط راہ پر چل پڑے تو اب آپ ہمیں پکڑتے ہیں۔ اس حجت کو قطع کردینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے اور کتابیں نازل کیں تاکہ جن و انس کو صاف صاف خبردار کردیا جائے۔ اب اگر لوگ غلط راستوں پر چلتے ہیں اور اللہ ان کو سزا دیتا ہے تو اس کا الزام خود ان پر ہے نہ کہ اللہ پر۔
Read the full tafseer →چوتھی آیت کا مفہوم واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسانوں اور جنّات میں ہر طبقہ کے لوگوں کے درجات مقرر ہیں، اور یہ درجات ان کے اعمال ہی کے مطابق رکھے گئے، ان میں سے ہر ایک کی جزاء و سزا انہی اعمال کے پیمانہ کے مطابق ہوگی۔
Read the full tafseer →وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ۭوَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ۔ لفظ ‘ کل ’ پر ہم مختلف مقامات میں لکھ چکے ہیں کہ جب یہ اس طرح آتا ہے تو اس سے مراد وہی اشخاص یا پارٹیاں ہوتی ہیں جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہوتا ہے۔ یہاں اس سے مراد جنوں اور انسانوں کے وہی گروہ ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا۔ فرمایا۔ کہ انہوں نے جو کچھ کیا، جان بوجھ کر، خدا کی طرف سے اتمام حجت کے بعد کیا، اس وجہ سے حق ہے کہ وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں اور جن کے جس درجہ کے جرائم ہیں اسی اعتبار سے وہ دوزخ میں اپنا مقام پائیں۔ چونکہ اللہ ان کے اعمال سے جو یہ کرتے رہے ہیں یا کرتے ہیں اچھی طرح باخبر ہے اس وجہ سے اس کو ان کی درجہ…
Read the full tafseer →132۔ 1 یعنی ہر انسان اور جن کے، ان کے با ہمی درجات میں، عملوں کے مطابق، فرق، تفاوت ہوگا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح جنتی اور جہنمی ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
62: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان بستی والوں کی کسی زیادتی کی وجہ سے ان کو ہلاک کرنا اللہ تعالیٰ کو اس وقت تک گوارا نہیں تھا جب تک انہیں انبیائے کرام کے ذریعے متوجہ نہ کردیا جائے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود یہ زیادتی نہیں کرسکتا تھا کہ پہلے سے متوجہ کیے بغیر لوگوں کو ہلاک کردے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 132۔
اہل ایمان کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ شیاطین کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ اور سب لوگوں کے اعمال ریکارڈ شدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بیخبر نہیں ہے ۔
(آیت) ” وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ (132)
” اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے رسول بھیجے ‘ یہ محض اس کا کرم ہے کہ اس نے ایسا کیا ‘ اس لئے کہ وہ غنی بادشاہ ہے ‘ اسے ان کے ایمان کی کوئی ضرورت لاحق نہیں ہے ۔ نہ ان کی جانب سے عبادت اور بندگی کی کوئی احتیاج ہے ۔ اگر وہ نیک بنتے ہیں تو وہ دنیا اور آخرت میں اپنی بھلائی کے لئے نیک بنیں گے ۔ اسی طرح اللہ رحمت کا اظہار اس وقت بھی علی وجہ الاثم ہوتا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
1 یعنی خدا کی یہ عادت نہیں کہ بدون آگاہ اور خبردار کئے کسی کو اس کے ظلم و عصیان پر دنیا یا آخرت میں پکڑ کر ہلاک کر دے۔ اسی لئے رسول اور نذیر بھیجے کہ وہ خوب کھول کر تمام جن وانس کو ان کے بھلے برے اور آغاز و انجام سے خبردار کریں۔ پھر جس درجہ کا کسی کا عمل ہوگا حق تعالیٰ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 132 وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ط۔
ظاہر بات ہے کہ سب نیکو کار بھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے اور نہ ہی سب بد کار ایک جیسے ہوسکتے ہیں ‘ بلکہ اعمال کے لحاظ سے مختلف افراد کے مختلف مقامات اور مراتب ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
139 اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ لوگوں کو ان کے گناہوں کے انجام سے خبردار کیے بغیر انہیں اس دنیا میں تباہ کر ڈالے یا آخرت میں عذاب دے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بیشمار انبیاء لوگوں کی ہدایت اور انہیں ڈرانے کے لیے بھیجے اور قرآن میں ایک جگہ فرمایا (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ 24 ) 35 ۔ فاطر :24) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی ڈرانے والا نہ بھیجا گیا ہو۔ اور یہ ڈرانے والے جنوں اور انسانوں دونوں کے لیے ہوتے تھے۔ پھر جس جس نے ان انبیاء کی دعوت پر لبیک کہا اور اعمال صالحہ بجا لایا۔ تو ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق درجات عطا ہوں گے۔
Read the full tafseer →197 ۔ وہاں تو ایک ایک کے اعمال کے ہر ہر جزئیہ کی پوری روداد موجود ہے۔ اسے سب کو ان کے مناسب حال جزاوسزا دینا مشکل کیا ہے ؟ (آیت) ” ولکل درجت “۔ ہر ایک کے لیے الگ الگ درجے ہیں جزاوسزا کے۔ ای لکل عامل بطاعۃ درجات فی الثواب ولکل عامل بمعصیۃ درکات فی العقاب (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
آیت نمبر 130 تا 140
ترجمہ : اے جن و انس کے گروہو ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے ؟ یعنی تمہارے مجموعہ میں سے جو کہ انسانوں پر صادق ہے، یا رسل جن سے وہ آگاہ کرنے والے جن مراد ہیں جو (انسانی) رسولوں کا کلام سنتے اور اپنی قوم کو پہنچاتے تھے، جو تم کو میری آیتیں پڑھ کر سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے آگاہ کرتے، وہ کہیں گے (ہاں) ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے پاس پیغام پہنچایا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لائے، اور وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے یہ رسولوں کو بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب…
Read the full tafseer →ولکل درجت مما عملوا . ہر ایک کے لئے درجے ہیں ان کے اعمال کے سبب۔ یعنی اللہ کے قرب و بعد کے اعتبار سے ہر مکلف کا مرتبہ جدا جدا ہے۔ مما عملوا : اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے کسی کو بہت بڑا ثواب اور مرتبۂ قرب نصیب ہوگا اور کوئی رحمت سے دور سخت ترین عذاب میں پڑا ہوگا۔
وما ربک بغافل عما یعملون . اور آپ کا رب ان کے اعمال سے لا علم نہیں ہے اس لئے ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →(132) جن وانس میں سے ہر ایک مومن کو ان کے خیر کی وجہ سے جنت میں درجات ملیں گے اور کافروں کو ان کی برائیوں کے باعث سزائیں دی جائیں اور خیر وشر سے آپ کا پروردگار غافل نہیں یا یہ کہ جو گناہ کرتے ہیں اس پر سزا اور گرفت کو وہ چھوڑنے والا نہیں۔
Read the full tafseer →وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ جنوں میں سے بھی جو نیک ہیں وہ جنت میں اور جو بدرکار ہیں وہ جہنم میں جائیں گے۔ سورة رحمن میں اس کی تفصیل موجود ہے اور جنت اور جہنم میں بھی ان کے درجات و دَرکات مختلف ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 132
قولہ تعالیٰ : آیت : ولکل درجت مما عملوا یعنی جن وانس میں سے ہر ایک کے لیے درجے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے آیت میں فرمایا : اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قد خلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خسرین (الاحقاف) ( یہی وہ (بدبخت) ہیں جن پر ثابت ہوچکا ہے عذاب کا فرمان ان گروہوں میں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں جنہوں اور انسانوں میں سے۔ بیشک وہ سرسر گھاٹے میں تھے)
پھر فرمایا : آیت ولکل درجٰت مما عملوا ولیوفیھم اعمالھم وھم لا یظلمون (الاحقاف) ( اور ہر ایک کے لیے مرتبے ہوں گے ان کے اعمال کے مطابق اور اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا انہیں ان کے اعمال کا بدلہ اور ان پر ظلم نہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 132–133
(1) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے عظمہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جنات جنت میں داخل ہوں گے اور وہ کھائیں گے اور پئیں گے۔
(2) امام ابن منذر نے لیث (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جنات کے لئے کوئی ثواب نہیں۔
(3) امام ابو الشیخ نے عظمۃ میں لبث بن ابی سلیم (رح) سے روایت کیا کہ مسلمان جنات نہ جنت میں داخل ہوں گے اور نہ آگ میں یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا پھر اس کو دوبارہ نہیں لے جائیں گے اور نہ اس کی اولاد کو لے جائیں گے۔
(4) امام ابن ابی حاتم نے ابن ابی لیلیٰ (رح) سے روایت کیا کہ جن کے لئے ثواب ہے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے لفظ آیت…
Read the full tafseer →وَلِكُلٍّ [ اور ہر ایک کے لئے ] دَرَجٰتٌ [ درجے ہیں ] مِّمَّا [ اس میں سے جو ] عَمِلُوْا ۭ [ انہوں نے عمل کئے ] وَمَارَبُّكَ [ اور آپ کا رب نہیں ہے ] بِغَافِلٍ [ غافل ] عَمَّا [ اس سے جو ] يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ عمل کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →اعمال کے اعتبار سے لوگوں کے درجات مختلف ہیں۔ پھر فرمایا (وَ لِکُلِّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا) ( اور ہر ایک کے لیے اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے مختلف درجات ہیں) ثواب والوں کے بھی مختلف درجات ہیں اور عقاب والوں کے بھی، اور جس نے جو کچھ کیا اپنے اپنے عمل کے اعتبار سے جزا اور سزا پالے گا۔
(وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ) ( اور تیرا رب ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو وہ کرتے ہیں) اس میں یہ بات بتادی کہ حساب لینے والا اور جزا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے علم سے کسی کا کوئی عمل باہر نہیں۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میرے سارے اعمال کا بدلہ کیسے ملے گا۔ کسے خبر ہے کہ میں نے کیا کیا کیا ؟ خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون
(ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا…
Read the full tafseer →146 لِکُلٍّ کی تنوین مضاف الیہ محذوف سے عوض ہے اصل میں تھا لکل عامل بطاعۃ اللہ او بمعصیتہ درجات ای منازل یبلغھا بعملہ ان کان خیرا فخیر وانکان شرا فشر (خازن ج 2 ص 153) ۔ یعنی ہر مومن و کافر کو اس کے اعمال کے مطابق درجہ ملے گا۔ جس طرح مومن و کافر کے درجات میں تفاوت ہے اسی طرح مومنوں اور کافروں کے درجات میں بھی کثرت وقلت حسنات و سیئات کے اعتبار سے تفاوت ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کے ملف ہونے کا ذکر کیا اور قیامت کو جزائے عمل کا حال بیان کیا۔ اور اس سلسلے میں قیامت میں پیش آنے والے سوال و جواب کا تذکرہ کیا۔ قرآن کریم میں ایسے واقعات سے مشرکوں اور کافروں کی تنبیہ مراد ہے تاکہ اگر وہ بچنا چاہیں تو بچ سکیں۔ گذشتہ آیات میں جنوں سے خطاب تھا کہ سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملالیا ہے ، تو انسان بھی اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم میں سے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا۔ جنات نے اپنی سیادت قائم رکھی اور اپنی بات انسانوں سے منوائی جب کہ انسان نے باطل عقائد اور باطل اعمال پر خوشی کا…
Read the full tafseer →وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا 0 ۭ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ 132
درج
الدّرجة نحو المنزلة، لکن يقال للمنزلة : درجة إذا اعتبرت بالصّعود دون الامتداد علی البسیطة، کدرجة السّطح والسّلّم، ويعبّر بها عن المنزلة الرفیعة : قال تعالی: وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228]
( د ر ج ) الدرجۃ
: کا لفظ منزلہ ميں اترنے کی جگہ کو درجۃ اس وقت کہتے ہیں جب اس سے صعود یعنی اوپر چڑھتے کا اعتبار کیا جائے ورنہ بسیط جگہ پر امدیاد کے اعتبار سے اسے درجۃ نہیں کہتے جیسا کہ چھت اور سیڑھی کے درجات ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا اطلاق مزدلہ رفیع یعنی
بلند مرتبہ پر بھی ہوجاتا ہے ۔ چناچہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
ترکیب : یقصون موضع رفع میں صفت ہے رسل کی اور حال بھی ہوسکتا ہے ہذا خبر ہے مبتدا محذوف کی یایومکم کی صفت ان لم ان مصدریتہ یا مخففہ ہے اور لام محذوف ای لان لم یکن ریک موضعہ نصب اوجر۔
تفسیر : پھر اس عذر بارد کے رد کرنے کو ہر ایک جن و انسان سے خطاب کرکے فرمائے گا الم یاتکم رسل منکم الخ کہ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے جو تمہیں میں سے تھے جن سے بوجہ ہم زبان و ہم قوم و موانست کے نصیحت حاصل کرنا بہت آسان تھا جو تمہیں میری آیتیں سناتے اور آج کے دن سے خوف دلاتے تھے ؟ اس کے بعد وہ اپنے کفر کا اقرار کریں گے۔ علمائِ اسلام میں سے جمہور بقرائنِ آیات ان اللہ اصطفیٰ آدم الخ وغیرہا اس بات کے قائل ہیں کہ…
Read the full tafseer →وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ط وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانعام : 132)
(اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں ‘ ان کے عمل کے اعتبار سے اور تیرا رب اس چیز سے بیخبر نہیں ہے ‘ جو وہ کرتے رہے ہیں)
اللہ تعالیٰ کفار کو ان کے جرم کی نوعیت کے مطابق درجہ بدرجہ سزا دے گا
عدل و انصاف میں انسان انتہائی کوشش بھی کرے تو زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتا ہے کہ جس آدمی نے جو جرم کیا ہے اور اس سے جو نقصان پہنچا ہے اسے سامنے رکھ کر سزا تجویز کرے کہ ایک سزا چوری کی ہو اور ایک ڈاکے کی ‘ ایک قتل کی ہو اور ایک مارپیٹ کی ‘ ایک عزت لوٹنے کی ہو اور ایک مال لوٹنے کی ‘ ایک کسی ایک انسان کی جان لینے کی ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجتا رہا تاکہ لوگوں پر حجت تمام ہوجائے۔
اس سے پہلے فرمان میں ” رُسُلٌ مِنْکُمْ “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ ذٰلک کا اشارہ انھی الفاظ کی ترجمانی کر رہا ہے کہ لوگوں میں انہی سے رسول بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پڑھ کر سنائیں اور ان پر من و عن عمل کرکے دکھلائیں تاکہ کسی کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی بتلانے اور سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہم غفلت میں پڑے رہے اور آج ہمیں بد ترین انجام سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس بات کے ازالہ کے لیے فرمایا اے پیغمبر ! تیرے رب کا یہ وطیرہ…
Read the full tafseer →ائمہ کا استدلال :
آیت 132: وَلِکُلٍّ تمام مکلفین کے لئے دَرَجٰتٌ مراتب مِّمَّا عَمِلُوْا ان کے اعمال کے بدلے میں سے۔ آیت سے استدلال ہے امام ابو یوسف و امام محمد رحمہما اللہ جنات کو بھی ان کی اطاعت پر ثواب ہے۔ کیونکہ ثقلین کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ اس کو بھولنے والا۔ شامی قراء نے تعملون پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →132 (ولکل درجت مما عملوا) یعنی ثواب اور عقاب دنیا میں جو انہوں نے عمل کئے اس کے مطابق ہوگا۔ بعض کو بہت سخت عذاب اور بعض کو بہت زیادہ ثواب ہوگا (وما ربک بغافل عما یعملون) ابن عامر نے ” تعملون “ تاء کے ساتھ اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن اللہ نافرمان جن و انس سے پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسولوں کی معرفت تمہیں اللہ کا کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت کے آنے کا اور اس دن نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانیکا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصانی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غفلت کرنا منظور نہیں اسی واسطے اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کہ فرعون اور اس کی قوم تک کے لوگوں کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا جس میں ہر طرح کی نصیحتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت 129
(ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو “ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنہوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا : (یمعشرالجن قدر استکترتم من الانس) ” اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے۔ “ یعنی اے جنوں کی جماعت ! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →258 درجات و مراتب کا انحصار انسان کے اپنے عمل و کردار پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہر کسی کے لیے درجے ہیں ان کے اپنے عمل و کردار کی بنا پر۔ اور تمہارا رب بیخبر نہیں ان کاموں سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر کسی کے درجات و مراتب کا مدار اسکے عمل و کردار پر ہوگا۔ جیسا کسی کا عمل ہوگا، ویسا ہی وہ اس کا صلہ اور بدلہ پائے گا۔ مدار بہرحال اپنے عقیدہ و عمل اور اخلاق و کردار پر ہوگا نہ کہ رنگ و نسل وغیرہ کے ان مصنوعی فوارق و امتیازات پر جو کہ اہل دنیا نے از خود گھڑ رکھے ہیں اور آخرت میں ان درجات و مراتب کا تفاضل تو دنیا سے کہیں بڑھ کر ہوگا { وَلَلْاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
اللہ تعالیٰ بےانصافی نہیں کرتا
تشریح : اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس نے اپنے نفس پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اس نے اپنی توحید کا پرچار کرنے کے لیے انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا پھر بھی جو برے کاموں سے باز نہ آئے ان پر دنیا میں عذاب آئے جیسا کہ حضر (علیہ السلام) ت نوح (علیہ السلام) کی قوم، سیدنا لوط کی قوم یہ سب عبرت دلانے کے لیے کافی ہیں اور پھر اللہ کا انصاف اس قدر ٹھیک ہے کہ ہر شخص کو قیامت کے دن اپنے اعمال کے مطابق درجات ملیں گے۔ کسی کو جنت کا نچلا درجہ، کسی کو درمیانہ اور کسی کو جنت الفردوس میں جگہ ملے گی، اسی طرح دوزخ میں بھی درجات ہیں اور عذابوں کے بھی درجات ہیں۔ یہ سب بالکل سچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…
Read the full tafseer →ف 7 اس سے معلوم ہوا کہ جنوں میں سے بھی جو نیک ہیں وہ جنت میں اور جو بدکار ہیں وہ جہنم میں جائیں گے۔ (وحیدی)8 یعنی وہ ان سے بےنیاز ونے کے باوجود ان پر رحم فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →(6:132) لکل۔ ای لکل من العکلفین۔ لکل عامل۔ ہر عاقل بالغ عامل کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
لغات القرآن : آیت نمبر 128 سا 132 :
یمعشر (اے جماعت۔ اے گروہ) استکثرتم ( تم نے بتہ کچھ حاصل کرلیا) استمتع ( نفع اٹھایا۔ فائدہ اٹھایا) بلغنا ( ہمیں پہنچا) اجلت ( تو نے مقرر کیا تھا) مثوی (ٹھکانا) نولی ( ہم دوست بناتے ہیں) الم یا تکم ( کیا تمہارے پاس نہیں آئے) یقصون ( بیان کرتے ہیں) ینذرون (وہ ڈراتے ہیں) لقاء ( ملاقات۔ ملنا) غرت (دھوکے میں ڈال دیا) لم یکن ( نہیں ہے) مھلک القری ( بستیوں کو ہلاک کرنے والا) اھلھا ( اس کے رہنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 128 تا 132 :
ان آیات میں اس وقت کی منظر کشی کی گئی ہے جب میدان حشر میں قوم جن اور قوم انس میں سے سارے گنہ گار ایک طرف جمع ہونگے۔ اللہ تعالیٰ قوم جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصافی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غارت کرنا منظور نہیں۔ سب کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا اور پوری نصیحت کی اور پوری مہلت دی مگر وہ باز نہ آئے۔ جس سے دنیا مین طرح طرح کے عذاب سے ہلاک ہوگئے۔ عقبیٰ میں جدا سزا پائیں گے۔ کیونکہ ہر ایک کے عملوں کے موافق جزا وسزا کے درجے ٹھہرا رکھے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو اب تک پچھلی قوموں کی طرح ان کو ہلاک کرکے دوسری کسی فرمانبردار قوم کو ان کی جگہ پیدا کردیتا۔ جس طرح پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
اتمام حجت :
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ہر چیز کے لئے کچھ قواعد تجویز کر رکھے ہیں جن پر عمل پیرا ہونا ، ان کی زندگی اور بقا کے لئے بیحد ضروری ہے ،
انسانوں اور جنوں کے لئے بھی خدائے ذوالجلال نے وقتا فوقتا ہدایات نازل کی ہیں ، تاکہ بقاوارتقاء کے لئے وہ انہیں ہمیشہ ملحوظ رکھیں ، جس طرح انسانوں کے لئے انبیاء ورسل ہیں ، اسی طرح جنوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کے طریق مقرر کر رکھے ہیں ،
جن بھی انسانوں کی طرح ایک ذمہ دار مخلوق ہے ، جو ہمیں نظر نہیں آتی ، مگر ان کے وجود سے انکار محض بےعقلی ہے ، ایسے شواہد اور دلائل موجود ہیں ، جن سے پتہ چلتا ہے ، کہ جنات ایک نوع کی پراسرار مخلوق ہے ، ہمارے…
Read the full tafseer →-132 اور سب لوگوں کے اچھے برے اعمال کے لحاظ سے مختلف درجات اور مراتبمقرر ہیں اور آپ کا پروردگار ان لوگوں کے کردار اور اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔ یعنی ہر عمل کا خواہ وہ اچھا ہو یا برا ایک درجہ مقرر ہے جیسا عمل ویسا درجہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ف 1۔ اس لیے رسولوں کو بھیجتے ہیں تاکہ ان کو جرائم کی اطلاع ہوجائے پھر جس کو عذاب ہوا استحقاق کی وجہ سے ہوا۔
Read the full tafseer →اعمال انسانی سے اللہ غافل نہیں اور ہر ایک کا درجہ عمل کے مطابق لازم ہے :
206: وہاں تو ایک ایک کے اعمال کے ہر ہر جزئیہ کی پوری روداد موجود ہے۔ اسے سب کو ان کے مناسب حال جزاء وسزا دینا مشکل ہی کیا ہے ؟ اور یہ بھی کہ وہاں ہر ایک کے لئے الگ الگ درجے ہیں اور انہیں کے مطابق ان کو جزاء و سزاء ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سے کسی انسان کا حال پوشیدہ نہیں ” وَ لِكُلٍّ “ ہر ایک سے مراد جِنّ و انس کے افراد ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ یہی دونوں گروہ مکلف ہیں اور انہی کی طرف رسول مبعوث ہوتے رہے جو درحقیقت اولاد آدم (علیہ السلام) ہی کے دو گروہ ہیں جن کے اختلاف طبع کے باعث ان کو تمثیلاً جِنّ و انس کے خطاب سے خطاب کیا…
Read the full tafseer →The sense of the fourth verse (132) is fairly clear. It says that with Allah there are ranks for classes of people among human beings and the Jinn. These ranks have been assigned in terms of their deeds. When rewarded or punished, the measure used shall be that of their deeds.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
100. God does not want His creatures to have any valid reason to complain that He had left them ignorant of the Right Way, and then convicted them of error. God has forestalled any such grievance by sending Prophets and revealing Holy Books to warn both jinn and human beings. If people continue to falter in spite of God's arrangements for their guidance, they themselves are to blame for the punishment they will receive, and they have no justification for blaming their misfortune on God.
Read the full tafseer →