Explained with ayahs 131–132
حجت تمام
جن اور انسانوں کی طرف رسول بھیج کر، کتابیں اتار کر ان کے عذر ختم کردیئے اس لئے کہ یہ اللہ کا اصول نہیں کہ وہ کسی بستی کے لوگوں کو اپنی منشاء معلوم کرائے بغیر چپ چاپ اپنے عذابوں میں جکڑ لے اور اپنا پیغام پہنچائے بغیر بلا وجہ ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے، فرماتا ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ) 35۔ فاطر :24) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی آگاہ کرنے والا نہ آیا ہو اور آیت میں ہے ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے بچو اور جگہ ہے ہم رسولوں کو بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں کیا کرتے۔ سورة تبارک میں ہے جب جہنم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
سورة الْاَنْعَام 100
یعنی اللہ اپنے بندوں کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ اس کے مقابلے میں یہ احتجاج کرسکیں کہ آپ نے ہمیں حقیقت سے تو آگاہ کیا نہیں، اور نہ ہم کو صحیح راستہ بتانے کا کوئی انتظام فرمایا، مگر جب ناواقفیت کی بنا پر ہم غلط راہ پر چل پڑے تو اب آپ ہمیں پکڑتے ہیں۔ اس حجت کو قطع کردینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے اور کتابیں نازل کیں تاکہ جن و انس کو صاف صاف خبردار کردیا جائے۔ اب اگر لوگ غلط راستوں پر چلتے ہیں اور اللہ ان کو سزا دیتا ہے تو اس کا الزام خود ان پر ہے نہ کہ اللہ پر۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ انسانوں اور جنّات میں رسول بھیجنا اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی قوم پر ویسے ہی عذاب نہیں بھیج دیتے جب تک کہ ان کو پہلے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ بیدار نہ کردیا جائے اور ہدایت کی روشنی ان کے لئے نہ بھیج دی جائے۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ۔ یہ وجہ بیان فرمائی ہے اس بات کی کہ کیوں یہ اہتمام کیا گیا کہ ہر قوم کے اندر، خواہ انسان ہوں یا جن، انہی کے اندر سے رسول آئیں۔ فرمایا کہ ایسا اس لیے ہوا کہ تیرے رب کی رحمت سے یہ بات بعید تھی کہ وہ کسی قوم کو اس کے کفر و شرک پر، اس کے نتائج و عواقب سے آگاہ کیے بغیر، ان پر عذاب بھیج دے، وہ کسی کو سزا دیتا ہے تو اس سے پہلے ان کو اچھی طرح آگاہ کردیتا ہے تاکہ وہ توبہ و اصلاح کرنا چاہیں تو توبہ و اصلاح کرلیں اور اگر نہ کرنا چاہیں تو اپنی ذمہ داری پر اس کے نتائج بھگتیں۔
Read the full tafseer →131۔ 1 یعنی رسولوں کے ذریعے سے جب تک اپنی حجت قائم نہیں کردیتا، ہلاک نہیں کرتا جیسا کہ یہی بات سورة فاطر آیت، 42۔ سورة نحل 62، سورة بنی اسرائیل 15 اور سورة ملک 8، 9 وغیرہ میں بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
62: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان بستی والوں کی کسی زیادتی کی وجہ سے ان کو ہلاک کرنا اللہ تعالیٰ کو اس وقت تک گوارا نہیں تھا جب تک انہیں انبیائے کرام کے ذریعے متوجہ نہ کردیا جائے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود یہ زیادتی نہیں کرسکتا تھا کہ پہلے سے متوجہ کیے بغیر لوگوں کو ہلاک کردے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 131۔
اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک ‘ کفر اور نافرمانی پر اس وقت تک سزا نہ دے جب تک ان تک رسولوں کے ذریعے اپنا پیغام پہنچا نہ دے حالانکہ اللہ نے لوگوں کی فطرت کے اندر یہ صلاحیت ودیعت کردی تھی کہ وہ از خود اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی تلاش کریں ۔ یہ انتظام اس لئے کیا گیا کہ انسانی فطرت بعض اوقات صحیح راہ کو تم کردیتی ہے ۔ انسان کے فطری رجحانات کے علاوہ اللہ نے انسان کو عقلی قوت دے کر بھی ایک امتیاز بخشا لیکن اللہ نے اس عقلی قوت کے باوجود رسول بھیجے اس لئے کہ عقلی قوت بھی نفسانی خواہشات کے نتیجے میں بسا اوقات دب جاتی ہے نیز اس کائنات کے مشاہد ومناظر کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
1 یعنی خدا کی یہ عادت نہیں کہ بدون آگاہ اور خبردار کئے کسی کو اس کے ظلم و عصیان پر دنیا یا آخرت میں پکڑ کر ہلاک کر دے۔ اسی لئے رسول اور نذیر بھیجے کہ وہ خوب کھول کر تمام جن وانس کو ان کے بھلے برے اور آغاز و انجام سے خبردار کریں۔ پھر جس درجہ کا کسی کا عمل ہوگا حق تعالیٰ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 131 ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَا غٰفِلُوْنَ
اس سے مراد یہ ہے کہ مختلف قوموں کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا اور انہوں نے اپنی قوموں میں رہ کر انذار ‘ تذکیر اور تبشیر کا فرض ادا کردیا۔ پھر بھی اگر اس قوم نے قبول حق سے انکار کیا تو تب ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ ایسا نہیں ہو تاکہ اچانک کسی بستی یا قوم پر عذاب ٹوٹ پڑا ہو ‘ بلکہ اللہ نے سورة بنی اسرائیل میں یہ قاعدہ ‘ کلیہ اس طرح بیان فرمایا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً یعنی وہ عذا بِ استیصال جس سے کسی قوم کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے اور اسے تباہ کر کے نسیاً منسیا کردیا جاتا ہے ‘ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
139 اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں کہ لوگوں کو ان کے گناہوں کے انجام سے خبردار کیے بغیر انہیں اس دنیا میں تباہ کر ڈالے یا آخرت میں عذاب دے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بیشمار انبیاء لوگوں کی ہدایت اور انہیں ڈرانے کے لیے بھیجے اور قرآن میں ایک جگہ فرمایا (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ 24 ) 35 ۔ فاطر :24) یعنی کوئی بستی ایسی نہیں جہاں کوئی ڈرانے والا نہ بھیجا گیا ہو۔ اور یہ ڈرانے والے جنوں اور انسانوں دونوں کے لیے ہوتے تھے۔ پھر جس جس نے ان انبیاء کی دعوت پر لبیک کہا اور اعمال صالحہ بجا لایا۔ تو ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق درجات عطا ہوں گے۔
Read the full tafseer →196 ۔ یہاں یہ صراحت کردی ہے کہ یہ پیغمبروں کا بھیجنا تو اسی لیے ہوتا ہے کہ منکروں پر خوب اتمام حجت ہوجائے، ان میں تبلیغ عقائد پوری طرح ہوجائے۔ کیونکہ ان مراتب کے پورے ہوئے بغیر، منکروں اور بدمذہبوں کو بیخبر ی میں پکڑلینا سنت الہی ہے بھی نہیں۔ ذلک۔ یعنی یہ رسولوں کا بھیجنا۔ اشارۃ الی ما تقدم من بعثۃ الرسل الیھم (مدارک) اشارۃ الی ارسال الرسل (بیضاوی) (آیت) ” مھلک القری بظلم “۔ یہاں یہ سنت الہی بیان کردی کہ آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی گرفت بیخبر ی میں اور بلااتمام حجت نہیں کی جاتی۔ (آیت) ” واھلھا غفلون “۔ یعنی یہ لوگ احکام الہی سے بیخبر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
آیت نمبر 130 تا 140
ترجمہ : اے جن و انس کے گروہو ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے ؟ یعنی تمہارے مجموعہ میں سے جو کہ انسانوں پر صادق ہے، یا رسل جن سے وہ آگاہ کرنے والے جن مراد ہیں جو (انسانی) رسولوں کا کلام سنتے اور اپنی قوم کو پہنچاتے تھے، جو تم کو میری آیتیں پڑھ کر سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے آگاہ کرتے، وہ کہیں گے (ہاں) ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے پاس پیغام پہنچایا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لائے، اور وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے یہ رسولوں کو بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب…
Read the full tafseer →ذلک ان لم یکن ربک مہلک القری بظلم واہلہا غفلون . اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ظلم کے ساتھ بستیوں کو ایسی حالت میں تباہ نہیں کیا کرتا کہ ان کے رہنے والے بیخبر ہوں ذلک : سے بعثت انبیاء کی طرف اشارہ ہے اور اس سے حکم کی علت بیان کی گئی ہے۔ ان : مصدریہ ہے یعنی انبیاء کی بعثت کی علت اللہ کا مہلک بالظلم نہ ہونا ہے یا ان : مخففہ ہے اور اس کا اسم ضمیر شان محذوف ہے۔ مہلک القری : بستیوں کو یعنی بستیوں کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے والا۔ غافلون : کا یہ مطلب ہے کہ کسی پیغمبر کو بھیج کر ان کو متنبہ نہ کیا گیا ہو۔ بظلم : یا حال ہے یعنی ظلم کے ساتھ اللہ بستیوں کو تباہ کرتا یا یہ مطلب ہے کہ بستی والوں کے ظلم کرنے کی…
Read the full tafseer →(131) اور یہ رسولوں کے بھیجنے کا سلسلہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا پروردگار کسی بستی والوں کو شرک و گناہ اور ظلم کی بنا پر اس حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ وہ اوامرو نواہی اور تبلیغ رسل سے بیخبر ہوں۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ : یعنی ان کے پاس کوئی پیغمبر یا اس کا نائب نہ پہنچا ہو اور اس نے انھیں حقیقت حال سے آگاہ نہ کردیا ہو۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (15)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 131
قولہ تعالیٰ ۔ آیت : ذلک یہ سیبویہ کے نزدیک محل رفع میں ہے : یعنی الامر ذالک اور ان مخففہ من الثقیلہ ہے۔ یعنی ہم نے ان کے ساتھ یہ کیا کیونکہ میں بستیوں کو ان کے ظلم کے سبب ہلاک کرنے والا نہیں ہوں، یعنی ان کے شرک کے سبب اس سے پہلے کہ ان کی طرف رسل (علیہم السلام) بھیجے جائیں کہ وہ کہ کہیں : ہمارے پاس تو کوئی بشارت دینے والا آیا ہی نہیں اور نہ ہی کوئی ڈرانے والا آیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : میں نہیں ہوں کہ بستی کے رہنے والوں میں سے کسی ایک کے شرک کرنے کے سبب پوری بستی کو ہلاک کر دوں، تو یہ اس ارشاد کی مثل ہے آیت : ولا تزروازرۃ وزر اخری (الانعام : 164) ( اور نہ اٹھائے گا کوئی بوجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم یعنی جنوں میں سے کوئی رسول نہیں بلاشبہ رسول انسانوں میں سے ہیں اور ایک ڈرانے والا ہوتا ہے جنوں میں اور (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین (الاحقاف آیت 29) یعنی پھر جب تلاوت ہوچکی تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر لوٹے۔
(2) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت رسل منکم یعنی رسولوں کے پیغامبر لفظ آیت ولوا الی قومھم منذرین (پھر وہ گئے اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے)
(3) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے جن سے پوچھا کیا…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ [ یہ ] اَنْ [ کہ ] لَّمْ يَكُنْ [ تھا ہی نہیں ] رَّبُّكَ [ آپ کا رب ] مُهْلِكَ الْقُرٰي [ بستیوں کو ہلاک کرنے والا ] بِظُلْمٍ [ ظلم سے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] اَهْلُهَا [ اس کے لوگ ] غٰفِلُوْنَ [ غافل ہوں ]
Read the full tafseer →(ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی) یعنی یہ رسولوں کا بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ تیرا رب بستیوں کو یعنی ان کے رہنے والوں کو ان کے ظلم کے سبب اس طرح ہلاک نہیں فرماتا کہ وہ لوگ اپنے ظلم کے انجام سے بیخبر ہوں۔
اللہ جل شانہٗ پیغمبر بھیجتا ہے جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں۔ توحید اختیار کرنے والوں کا اچھا انجام اور مشرکوں و کافروں کا برا انجام بتاتے ہیں۔
حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعہ سب کچھ بتادینے کے بعد جب لوگ باز نہیں آتے تو اللہ پاک کی طرف سے ان لوگوں کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ ہلاکت کا سبب بھی بتادیا کہ وہ ظلم ہے ہر گناہ ظلم ہے اور کفر بھی ظلم ہے اور سب سے بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون
(ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا…
Read the full tafseer →145 اشارہ مضمون مذکور کی جانب ہے یعنی ہم اپنی آیتیں بیان کرنے والے، ڈر سنانے والے اور خوشخبری دینے والے رسولوں کو اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ لوگوں پر ہماری حجت قائم ہوجائے اور یہ بات ہمارے دستور کے خلاف ہے کہ لوگ ہمارے احکام سے بیخبر ہوں اور ان کے پاس کوئی رسول نہ بھیجا ہو۔ اور پھر ان کو ہلاک کردیا جائے۔ ای لایھلکھم حتی یبعث الیھم رسولا (بحر ج 4 س 224) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کے ملف ہونے کا ذکر کیا اور قیامت کو جزائے عمل کا حال بیان کیا۔ اور اس سلسلے میں قیامت میں پیش آنے والے سوال و جواب کا تذکرہ کیا۔ قرآن کریم میں ایسے واقعات سے مشرکوں اور کافروں کی تنبیہ مراد ہے تاکہ اگر وہ بچنا چاہیں تو بچ سکیں۔ گذشتہ آیات میں جنوں سے خطاب تھا کہ سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملالیا ہے ، تو انسان بھی اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم میں سے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا۔ جنات نے اپنی سیادت قائم رکھی اور اپنی بات انسانوں سے منوائی جب کہ انسان نے باطل عقائد اور باطل اعمال پر خوشی کا…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُہْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَا غٰفِلُوْنَ 131
هلك
الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه :
افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29]
- وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله :
وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام .
والثالث :
الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] .
( ھ ل ک ) الھلاک
یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے
ایک یہ کہ
کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
ترکیب : یقصون موضع رفع میں صفت ہے رسل کی اور حال بھی ہوسکتا ہے ہذا خبر ہے مبتدا محذوف کی یایومکم کی صفت ان لم ان مصدریتہ یا مخففہ ہے اور لام محذوف ای لان لم یکن ریک موضعہ نصب اوجر۔
تفسیر : پھر اس عذر بارد کے رد کرنے کو ہر ایک جن و انسان سے خطاب کرکے فرمائے گا الم یاتکم رسل منکم الخ کہ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے جو تمہیں میں سے تھے جن سے بوجہ ہم زبان و ہم قوم و موانست کے نصیحت حاصل کرنا بہت آسان تھا جو تمہیں میری آیتیں سناتے اور آج کے دن سے خوف دلاتے تھے ؟ اس کے بعد وہ اپنے کفر کا اقرار کریں گے۔ علمائِ اسلام میں سے جمہور بقرائنِ آیات ان اللہ اصطفیٰ آدم الخ وغیرہا اس بات کے قائل ہیں کہ…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَھْلُھَا غٰفِلُوْنَ ۔ (الانعام : 131)
(یہ اس وجہ سے ہے کہ تیرا رب بستیوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں ‘ اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں ہے کہ ان کے باشندے بیخبر ہوں)
اللہ تعالیٰ بغیر اپنی ہدایت پہنچائے کسی بستی والوں کو ہلاک نہیں کرتا
اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوقات بھی پیدا فرمائی ہیں محض اپنے فضل و کرم سے اپنے اوپر یہ پابندی عائد کی ہے کہ ان تمام کو زندگی گزارنے کا طریقہ میں سکھائوں گا۔ چناچہ آپ تمام حیوانات حتیٰ کہ حشرات الارض تک کو دیکھ لیجئے ان میں سے ہر ذی روح اچھی طرح جانتا ہے کہ مجھے جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجتا رہا تاکہ لوگوں پر حجت تمام ہوجائے۔
اس سے پہلے فرمان میں ” رُسُلٌ مِنْکُمْ “ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ ذٰلک کا اشارہ انھی الفاظ کی ترجمانی کر رہا ہے کہ لوگوں میں انہی سے رسول بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام پڑھ کر سنائیں اور ان پر من و عن عمل کرکے دکھلائیں تاکہ کسی کے لیے یہ بہانہ نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی بتلانے اور سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جس کی وجہ سے ہم غفلت میں پڑے رہے اور آج ہمیں بد ترین انجام سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس بات کے ازالہ کے لیے فرمایا اے پیغمبر ! تیرے رب کا یہ وطیرہ…
Read the full tafseer →خبردار کئے بغیر عذاب نہیں آتا :
آیت 131: ذٰلِکَ یہ اشارہ اس طرف ہے جو پہلے گزرا کہ ان کی طرف بعثت رسل ہوئی یہ محذوف مبتداء کی خبر ہے۔ یعنی الامر ذلک۔ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَہْلُہَا غٰفِلُوْنَ یہ تعلیل ہے یعنی بات اسی طرح ہے جو ہم نے تم پر بیان کردی اس لئے کہ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ تیرا رب کسی بستی کو ظلم کے سبب ہلاک کر دے۔ اس طور پر کہ اَن مصدر یہ ہو۔ دوسرا قول ان محففہ من المثقلہ بھی ہوسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کیونکہ حالت اور بات یہ ہے۔ کہ تیرا رب ظلم سے کسی بستی کو ہلاک کرنے والا نہیں اس ظلم کے سبب جس کا انہوں نے ارتکاب کیا یا اس حال میں وہ ظلم کرنے والا ہوتا…
Read the full tafseer →تفسیر 131 (ذلک ان لم یکن ربک مھلک القری بظلم) یعنی یہ جو ہم نے آپ (علیہ السلام) پر رسولوں کے واقعات اور ان کی تکذیب کرنے والوں کا عذاب بیان کیا اس لئے کہ آپ کا رب بستیوں کو ان کے ظلم و شرک کی وجہ سے ہلاک کرنے والا نہیں ہے کہ ” واھلھا غفلون “ ان کو ڈرایا نہ گیا ہو حتی کہ ان کی طرف رسولوں کو بھیجتا ہے جو ان کو ڈراتے ہیں اور وہاں کے لوگ بیخبر ہوں کہ ان کو ڈرایا نہ گیا ہو۔ کلبی (رح) کہتے ہیں کہ ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتے جب تک رسول نہ بھیج دیں اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ بغیر تنبیہ اور بغیر تذکیر کے ان کو ہلاک نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کی ہے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
(131 ۔ 134) ۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن اللہ نافرمان جن و انس سے پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسولوں کی معرفت تمہیں اللہ کا کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت کے آنے کا اور اس دن نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانیکا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصانی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غفلت کرنا منظور نہیں اسی واسطے اول صاحب شریعت نبی نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کہ فرعون اور اس کی قوم تک کے لوگوں کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا جس میں ہر طرح کی نصیحتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت 129
(ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو “ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنہوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا : (یمعشرالجن قدر استکترتم من الانس) ” اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے۔ “ یعنی اے جنوں کی جماعت ! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →257 اَنبیاء و رسل کی بعثت عدل و انصاف خداوندی کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ اس لیے کہ تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو یونہی ہلاک کر دے ان کے ظلم کی بنا پر جبکہ ان کے باشندے بیخبر ہوں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تمہارا رب ایسا نہیں کہ لوگوں کو خبردار کئے بغیر یونہی سزا دے دے کہ ایسا کرنا اس کے عدل کامل اور رحمت بےغایت کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس نے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کو مبعوث فرمایا۔ ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور ان کے ذریعے اپنا پیغام دنیا کو پہنچا دیا۔ تاکہ حق پوری طرح واضح ہوجائے اور حجت پوری ہوجائے۔ تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
اللہ تعالیٰ بےانصافی نہیں کرتا
تشریح : اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس نے اپنے نفس پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اس نے اپنی توحید کا پرچار کرنے کے لیے انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا پھر بھی جو برے کاموں سے باز نہ آئے ان پر دنیا میں عذاب آئے جیسا کہ حضر (علیہ السلام) ت نوح (علیہ السلام) کی قوم، سیدنا لوط کی قوم یہ سب عبرت دلانے کے لیے کافی ہیں اور پھر اللہ کا انصاف اس قدر ٹھیک ہے کہ ہر شخص کو قیامت کے دن اپنے اعمال کے مطابق درجات ملیں گے۔ کسی کو جنت کا نچلا درجہ، کسی کو درمیانہ اور کسی کو جنت الفردوس میں جگہ ملے گی، اسی طرح دوزخ میں بھی درجات ہیں اور عذابوں کے بھی درجات ہیں۔ یہ سب بالکل سچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی ان کے پاس کوئی پیغمبر یا اس کا نائب نہ پہنچا ہو اور اس نے انہیں حقیقت حال سے آگاہ نہ کردیا ہو۔ (دیکھئے سورت اسرا آیت 15)
Read the full tafseer →(6:131) ذلک۔ ذلک خبر ہے جس کا مبتدا محذوف ہے ای الامر ذلک حقیقت یہ ہے ۔ یا بات یہ ہے۔
یہ اشارہ ہے ارسال رسل کی طرف یعنی یہ رسولوں کا بھیجنا اور ان کا لوگوں کو سوء عاقبت سے ڈرانا۔ اس وجہ سے ہے کہ :۔ ان۔ مصدریہ ہے۔
لم یکن۔ نہیں ہے ۔ لم یکن فعل ناقص۔ مضارع مجزوم ۔ نفی جحد بلم کون سے باب نصر۔
مہلک القری۔ بستیوں کو ہلاک کرنے والا۔ یعنی تیرا رب بستیوں کو ہرگز ہلاک نہیں کرتا۔ مضاف مضاف الیہ ہو کر خبر کان کی۔
بظلم۔ کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) بظلم منھم۔ (2) بظلم منہ (من اللہ) جمہور نے اول الذکر کو ترجیح دی ہے۔
غفلون۔ غفلت کرنے والے، بیخبر ۔
مطلب یہ ہے کہ ۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
لغات القرآن : آیت نمبر 128 سا 132 :
یمعشر (اے جماعت۔ اے گروہ) استکثرتم ( تم نے بتہ کچھ حاصل کرلیا) استمتع ( نفع اٹھایا۔ فائدہ اٹھایا) بلغنا ( ہمیں پہنچا) اجلت ( تو نے مقرر کیا تھا) مثوی (ٹھکانا) نولی ( ہم دوست بناتے ہیں) الم یا تکم ( کیا تمہارے پاس نہیں آئے) یقصون ( بیان کرتے ہیں) ینذرون (وہ ڈراتے ہیں) لقاء ( ملاقات۔ ملنا) غرت (دھوکے میں ڈال دیا) لم یکن ( نہیں ہے) مھلک القری ( بستیوں کو ہلاک کرنے والا) اھلھا ( اس کے رہنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 128 تا 132 :
ان آیات میں اس وقت کی منظر کشی کی گئی ہے جب میدان حشر میں قوم جن اور قوم انس میں سے سارے گنہ گار ایک طرف جمع ہونگے۔ اللہ تعالیٰ قوم جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–134
مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ یہ آسمانی کتابیں اور رسول اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ناانصافی کے طور پر کسی بستی کے لوگوں کو غفلت اور بیخبر ی کی حالت میں غارت کرنا منظور نہیں۔ سب کو اللہ کے رسولوں کی معرفت اللہ کا کلام پہنچایا گیا اور پوری نصیحت کی اور پوری مہلت دی مگر وہ باز نہ آئے۔ جس سے دنیا مین طرح طرح کے عذاب سے ہلاک ہوگئے۔ عقبیٰ میں جدا سزا پائیں گے۔ کیونکہ ہر ایک کے عملوں کے موافق جزا وسزا کے درجے ٹھہرا رکھے ہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو اب تک پچھلی قوموں کی طرح ان کو ہلاک کرکے دوسری کسی فرمانبردار قوم کو ان کی جگہ پیدا کردیتا۔ جس طرح پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
اتمام حجت :
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے کائنات میں ہر چیز کے لئے کچھ قواعد تجویز کر رکھے ہیں جن پر عمل پیرا ہونا ، ان کی زندگی اور بقا کے لئے بیحد ضروری ہے ،
انسانوں اور جنوں کے لئے بھی خدائے ذوالجلال نے وقتا فوقتا ہدایات نازل کی ہیں ، تاکہ بقاوارتقاء کے لئے وہ انہیں ہمیشہ ملحوظ رکھیں ، جس طرح انسانوں کے لئے انبیاء ورسل ہیں ، اسی طرح جنوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کے طریق مقرر کر رکھے ہیں ،
جن بھی انسانوں کی طرح ایک ذمہ دار مخلوق ہے ، جو ہمیں نظر نہیں آتی ، مگر ان کے وجود سے انکار محض بےعقلی ہے ، ایسے شواہد اور دلائل موجود ہیں ، جن سے پتہ چلتا ہے ، کہ جنات ایک نوع کی پراسرار مخلوق ہے ، ہمارے…
Read the full tafseer →-131 یہ رسولوں کا بھیجنا اور احکام الٰہی کا پہنچانا اس بنا پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بستی کے باشندوں کو ایسی حالت میں ہلاک نہیں کیا کرتا کہ وہ احکام الٰہی سے بیجز ہوں۔ یعنی جب تک کسی بستی کے رہنے والوں کو پیغمبروں کی معرفت احکام الٰہی پہنچا دیئے جائیں اور ان کی جانب سے انکار نہ ہوجائے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کسی بستی کے رہنے والوں کو عذاب سے ہلاک نہیں کیا کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
ف 1۔ اس لیے رسولوں کو بھیجتے ہیں تاکہ ان کو جرائم کی اطلاع ہوجائے پھر جس کو عذاب ہوا استحقاق کی وجہ سے ہوا۔
Read the full tafseer →قانون الٰہی کا اعلان کہ جب تک لوگوں تک حق نہ پہنچایا جائے گرفت نہیں ہوتی :
205: انسان کسی مزاج اور کسی طبع ہی کا کیوں نہ ہو جب تک اس کے علم میں حق اور ناحق آنہ جائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر گرفت نہیں آتی یہ قانون الٰہی ہے اور اللہ اپنے قانون کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کو کرنے دے گا کیونکہ وہ سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور اور سب زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے۔ کون ہے جو اس کے سامنے ناحق زبان کھولے۔ اس لئے ضروری تھا کہ انسانوں کی جنس ہی سے رسولوں کو مبعوث کیا جائے اور یہی کچھ ہوا۔ انسانی طبائع کا کتنا ہی واضح فرق کیوں نہ ہو لیکن ان کی ضروریات اور حوائج مختلف نہیں ہو سکتیں اور اسی…
Read the full tafseer →The third verse (131) tells us that sending prophets and messengers among human beings and the Jinn is based on the dictate of justice and mercy of Allah Ta` ala for He does not send punishment over a people unless they have been awakened through His blessed messengers and provided with the light of guidance.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–132
100. God does not want His creatures to have any valid reason to complain that He had left them ignorant of the Right Way, and then convicted them of error. God has forestalled any such grievance by sending Prophets and revealing Holy Books to warn both jinn and human beings. If people continue to falter in spite of God's arrangements for their guidance, they themselves are to blame for the punishment they will receive, and they have no justification for blaming their misfortune on God.
Read the full tafseer →