جن اور انسان اور پاداش عمل
یہ اور سرزنش اور ڈانت ڈپٹ ہے جو قیامت کے دن اللہ کی طرف سے انسانوں اور جنوں کو ہوگی ان سے سوال ہوگا کہ کیا تم میں سے ہی تمہارے پاس میرے بھیجے ہوئے رسول نہیں آئے تھے۔ یہ یاد رہے کہ رسول کل کے کل انسان ہی تھے کوئی جن رسول نہیں ہوا۔ ائمہ سلف خلف کا مذہب یہی ہے جنات میں نیک لوگ اور جنوں کو نیکی کی تعلیم کرتے تھے۔ بدی سے روکتے تھے لیکن رسول صرف انسانوں میں سے ہی آتے رہے۔ ضحاک بن مزاحم سے ایک روایت مروی ہے کہ جنات میں بھی رسول ہوتے ہیں اور ان کی دلیل ایک تو یہ آیت ہے سو یہ کوئی دلیل نہیں اس لئے کہ اس میں صراحت نہیں اور یہ آیت تو بالکل ویسی ہی ہے جیسے آیت (مَرَجَ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 98
یعنی ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ کی طرف سے رسول پر رسول آتے اور ہمیں حقیقت سے خبردار کرتے رہے، مگر یہ ہمارا اپنا قصور تھا کہ ہم نے ان کی بات نہ مانی۔
سورة الْاَنْعَام 99
یعنی بیخبر اور ناواقف نہ تھے بلکہ کافر تھے۔ وہ خود تسلیم کریں گے کہ حق ہم تک پہنچا تھا مگر ہم نے خود اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ایک سوال و جواب کا ذکر ہے جو محشر میں جنات اور انسانوں کو مخاطب کرکے کیا جائے گا، کہ تم جو کفر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا ہوئے اس کا کیا سبب ہے ؟ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں پہنچے جو تمہاری قوم میں سے تھے، جو میری آیات تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور آج کے دن کی حاضری اور حساب سے ڈراتے تھے ؟ اس کے جواب میں ان سب کی طرف سے رسولوں کے آنے اور پیغام حق سنانے کا اور اس کے باوجود کفر و نافرمانی میں مبتلا ہونے کا اقرار ذکر کیا گیا ہے، اور ان کی طرف سے کوئی وجہ اور سبب اس غلط کاری کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ حق تعالیٰ نے ہی اس کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ (آیت) وَغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ…
Read the full tafseer →يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا، یہ سوال ان سے بطور قطع عذر کے ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ شامت زود، کیا تمہارے پاس تمہی میں سے میری آیتیں سناتے اور اس دن کی آمد سے ہوشیار کرتے ہوئے رسول نہیں آئے ؟ پھر تم نے آخر اپنی یہ شامت کیوں بلائی ؟ رسول نہ آئے ہوتے تو تم کوئی عذر پیش کرسکتے تھے، اب کیا عذر پیش کرسکتے ہو ؟ تم نے تو سب کچھ سن اور سمجھ کے اپنی آنکھیں اور اپنے کان بند رکھے۔
رسل منکم سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر انسانوں ہی میں سے رسول بھیجے اسی طرح…
Read the full tafseer →130۔ 1 رسالت و نبوت کے معاملے میں جنات انسانوں کے ہی تابع ہیں ورنہ جنات میں الگ نبی نہیں آئے البتہ رسولوں کا پیغام پہنچانے والے اور منذرین جنات میں ہوتے رہے ہیں جو اپنی قوم کے جنوں کو اللہ کی طرف دیتے رہے ہیں اور دیتے ہیں۔ لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ چونکہ جنات کا وجود انسان کے وجود سے پہلے سے ہے تو ان کی ہدایت کے لئے انہیں میں سے کوئی نبی آیا ہوگا پھر آدم ؑ کے وجود کے بعد ہوسکتا ہے وہ انسانی نبیوں کے تابع رہے ہوں، البتہ نبی کریم کی رسالت بہرحال تمام جن انس کے لئے ہے اس میں کوئی شبہ نہیں۔
130۔ 2 میدان حشر میں کافر مختلف پینترے بدلیں گے، کبھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کریں گے (الا نعام، 123) اور…
Read the full tafseer →60: انسانوں میں تو پیغمبروں کا تشریف لانا واضح ہے، اس آیت کی وجہ سے بعض علماء کا کہنا ہے کہ جنات میں بھی آنحضرت ﷺ سے پہلے پیغمبر آتے رہے اور دوسرے حضرات کا کہنا یہ ہے کہ باقاعدہ پیغمبر توجنات میں نہیں آئے ؛ لیکن انسانوں میں جو پیغمبر بھیجے گئے وہی جنات کو تبلیغ کرتے تھے اور جو جنات مسلمان ہوجاتے وہ پھر انبیاء کرام کے نمائندے بن کر دوسرے جنات کو بھی تبلیغ کرتے تھے، جیسا کہ سورة جن میں تفصیل سے مذکور ہے، آیت کی رو سے دونوں احتمال ممکن ہیں ؛ کیونکہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں اور جنات دونوں کو تبلیغ کا حق ادا کردیا گیا اور وہ دونوں طرح ممکن ہے۔
61: پیچھے آیت نمبر 23 میں گذرا ہے کہ وہ شروع میں…
Read the full tafseer →(آیت) ” َا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْْکُمْ آیَاتِیْ وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاء یَوْمِکُمْ ہَـذَا قَالُواْ شَہِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130)
”(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ) اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ہو پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے ۔ “ وہ کہیں گے ” ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں ۔ “ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود…
Read the full tafseer →7 اوپر جن و انس کی شرارت اور سزا کا بیان تھا اور " اولیاء الجن " کی زبانی فی الجملہ معذرت بھی نقل کی گئی تھی، اب بتلایا جاتا ہے کہ ان کا کوئی عذر معقول اور قابل سماعت نہیں، دنیا میں خدا کی حجت تمام ہوچکی تھی جس کا خود انہیں بھی اقرار کرنا پڑے گا۔ یہ خطاب " یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ " کا قیامت کے دن ہوگا اور مخاطب جن وانس کا یعنی کل مکلفین کا مجموعہ ہے، ہر جماعت الگ الگ مخاطب نہیں جو یہ اعتراض ہو کہ رسول تو ہمیشہ انسانوں میں سے آئے قوم جن میں سے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا۔ پھر " رُسُلٌ مِّنْکُمْ " (رسول تم ہی میں کے) کہنا کیسے صحیح ہوگا۔ اصل یہ ہے کہ مجموعہ مخاطبین میں سے اگر کسی نوع…
Read the full tafseer →آیت 130 یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ
اب چونکہ یہ بات جن و انس دونوں کو جمع کر کے کہی جا رہی ہے تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو انسانوں میں سے رسول ہیں وہی جنات کے لیے بھی رسول ہیں۔
وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَاط قالُوْا شَہِدْنَا عَآٰی اَنْفُسِنَا
یہاں پر علٰی کے معنی مخالف گواہی کے ہیں۔ یعنی ہم اپنی جانوں کے خلاف خود گواہ ہیں۔
وَغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُوْا عَآٰی اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ۔ ۔
قرآن مجید میں میدان حشر کے جو مکالمات آئے ہیں وہ مختلف آیات میں مختلف قسم کے ہیں۔ مثلاً…
Read the full tafseer →138 سلسلہ نبوت اب صرف انسانوں میں ہے :۔ انسان سے پہلے اس زمین پر جن ہی آباد تھے اور قرین قیاس یہی بات ہے کہ ان میں بھی رسول آتے ہوں گے۔ لیکن انسان کے زمین پر آباد ہونے کے بعد سلسلہ نبوت انسانوں سے ہی مختص ہوگیا۔ جو رسول انسانوں کے لیے ہوتا وہ جنوں کے لیے بھی ہوتا۔ انسانوں میں رسول آنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان ہی اشرف المخلوقات ہے جن نہیں۔ اور جن رسول سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ رسول بشر ہوتا ہے جو اپنی شکل بدل نہیں سکتا۔ لیکن اگر رسول جنوں میں سے ہوتے تو ان سے انسان استفادہ بھی نہ کرسکتا تھا۔ چناچہ رسول اللہ کا جنوں کے لیے بھی رسول ہونا قرآن میں دو مقامات سے ثابت ہے۔ سورة احقاف میں بھی ذکر آیا…
Read the full tafseer →194 ۔ (اور اپنے جرم کا اقرار کرتے ہیں۔ بیشک ہمارے پاس کوئی عذر و جواب نہیں) یہ مخاطبہ قیامت میں ہوگا۔ اور سوال ظاہر ہے کہ مزید توبیخ کے لیے ہوگا۔ (آیت) ” یمعشر الجن والانس “۔ معشر کے معنی اس جماعت کے ہیں جو حکم واحد میں ہو، اور ان کے افراد کے درمیان معاشرت ومخالطت ہو۔ قال اھل اللغۃ المعشر کل جماعۃ امرھم واحد ویحصل بینھم معاشرۃ ومخالطۃ (کبیر) (آیت) ” رسل منکم “۔ نے ایک بڑی بحث یہ پیدا کردی ہے کہ آیا جنات کے در میان بھی سلسلہ نبوت قائم رہا ہے ؟ ضحاک تابعی سے سوال کا جواب اثبات میں نقل ہوا ہے۔ ان سے کسی نے سوال کیا کہ آیا ہمارے رسول ﷺ سے قبل جنات میں بھی نبی گزرے ہیں ؟ انہوں نے جواب میں یہی آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
آیت نمبر 130 تا 140
ترجمہ : اے جن و انس کے گروہو ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے ؟ یعنی تمہارے مجموعہ میں سے جو کہ انسانوں پر صادق ہے، یا رسل جن سے وہ آگاہ کرنے والے جن مراد ہیں جو (انسانی) رسولوں کا کلام سنتے اور اپنی قوم کو پہنچاتے تھے، جو تم کو میری آیتیں پڑھ کر سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے آگاہ کرتے، وہ کہیں گے (ہاں) ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے پاس پیغام پہنچایا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لائے، اور وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے یہ رسولوں کو بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب…
Read the full tafseer →یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم . اے گروہ جن و بشر کیا تمہارے پاس میرے پیغام رساں نہیں پہنچے جو تم میں سے ہی تھے۔
یہ مسئلہ اختلافی ہے کہ کیا جنات بھی پیغمبر ہوئے یا نہیں۔ ضحاک سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا ضرور ہوئے تھے دیکھو اللہ نے فرمایا ہے یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم : یعنی انسانوں میں سے (انسان) اور جنات میں سے (جن) پیغمبر بنا کر کیا نہیں بھیجے گئے۔ کلبی کا قول ہے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے جن و انس سب کی طرف پیغمبر بھیجے جاتے تھے یعنی مختلف پیغمبر مختلف اقوام و اطراف کے لئے تمام جن و انس کی طرف تو صرف رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا (آپ سے پہلے کسی پیغمبر کی بعثت نہ…
Read the full tafseer →(130) تم لوگوں کے پاس کیا رسول اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام نہیں آئے اور جنات کے پاس بالخصوص وہ نو حضرات نہیں آئے جو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور پھر اپنی قوم کو عذاب الہی سے ڈرانے کے لیے گئے تھے اور بھی کہا گیا کہ جنات کی طرف بھی ایک نبی یوسف ﷺ بھیجے گئے تھے جو تمہیں پڑھ کر میرے اوامرو نواہی سناتے تھے اور اس دن کے عذاب سے تمہیں ڈراتے تھے، جن وانس جواب دیں گے، بیشک ان حضرات نے آپ کے احکامات ہم تک پوری طرح پہنچا دیئے تھے مگر ہم نے ان کا انکار کیا اور ان منکرین حق کو دنیاوی سازوسامان نے دھوکا میں ڈال رکھا ہے اور یہ لوگ آخرت میں اللہ کا عذاب سہیں گے کہ دنیا میں وہ کافر تھے ،
Read the full tafseer →يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ :”تم میں سے رسول“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول جن و انس میں سے انسان ہی ہوئے ہیں۔ افضل مخلوق فرشتے یا انسان ہیں۔ دیکھیے سورة یوسف (109) اور سورة فرقان (20) جنوں کا نبی ہونا ثابت نہیں، علمائے سلف و خلف کی اکثریت کا یہی قول ہے کہ کسی جن کو رسول نہیں بنایا گیا، البتہ ان میں سے کئی منذرین گزرے ہیں، یعنی اپنی قوم کو خبردار کرنے والے، جو انسانوں کی طرف آنے والے رسولوں پر ایمان لاکر اپنی قوم کو پیغام پہنچاتے تھے۔ دیکھیے سورة احقاف (29 تا 32) اور سورة جن۔ دونوں میں جنوں نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا اقرار کیا ہے اور اپنی قوم کو ایمان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 130
قولہ تعالیٰ : آیت : یٰمعشر الجن والانس الم یاتکم یعنی جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو ہم ان کی کہیں گے۔ لھم کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے ؟ پھر اسے کلام سے حذف کردیا گیا، تو وہ اس بارے میں اعتراف کریں گے جس میں ان کی رسوائی ہوگی اور منکم کا معنی ہے فی الخلق والتکلیف والمخاطبۃ ( یعنی تخلیق میں، احکام کا مکلف ہونے میں اور مخاطب ہونے میں وہ تم میں سے تھے) اور جب جن ان میں سے ہیں جنہیں خطاب کیا جا رہا ہے اور وہ عقل اور سمجھ بوجھ بھی رکھتے ہیں تو فرمایا : منکم اگرچہ رسول انسانوں میں سے تھے اور خطاب میں انسانوں کو اسی طرح غلبہ دیا گیا ہے جس طرح مذکر مونث پر (یعنی مردوں کو عورتوں پر) غلبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–131
(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم یعنی جنوں میں سے کوئی رسول نہیں بلاشبہ رسول انسانوں میں سے ہیں اور ایک ڈرانے والا ہوتا ہے جنوں میں اور (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین (الاحقاف آیت 29) یعنی پھر جب تلاوت ہوچکی تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر لوٹے۔
(2) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت رسل منکم یعنی رسولوں کے پیغامبر لفظ آیت ولوا الی قومھم منذرین (پھر وہ گئے اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے)
(3) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے جن سے پوچھا کیا…
Read the full tafseer →يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ [ اے انسانوں اور جنوں کے گروہ ] اَ [ کیا ] لَمْ يَاْتِكُمْ [ نہیں پہنچے تمہارے پاس ] رُسُلٌ [ کچھ رسول ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] يَقُصُّوْنَ [ وہ بیان کرتے تھے ] عَلَيْكُمْ [ تم پر ] اٰيٰتِيْ [ میری آیتوں (یعنی ہدایات) کو ] وَيُنْذِرُوْنَكُمْ [ اور خبردار کرتے تھے تم کو ] لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا ۭ [ تمہارے اس دن کے ملاقات کرنے سے ] قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] شَهِدْنَا [ ہم نے گواہی دی ] عَلٰٓي اَنْفُسِـنَا [ اپنی جانوں کے خلاف ] وَغَرَّتْهُمُ [ اور (یہ کہ ) ان کو دھوکہ دیا ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی نے ] وَشَهِدُوْا [ اور وہ گواہی دیں گے ] عَلٰٓي…
Read the full tafseer →جن و انس سے سوال ! کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے ؟ اور ان کا اقرار جرم
ان آیات میں اول تو اللہ جل شانہٗ نے اپنے اس خطاب کا ذکر فرمایا جو جنات کی جماعت سے اور انسانوں سے قیامت کے دن ہوگا۔ دونوں جماعتوں کے مجرمین کافرین جو میدان حشر میں موجود ہوں گے ان سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے جنات اور اے انسانو ! کیا تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں آئے جو تمہیں میرے احکام بتاتے تھے اور تمہیں آج کے دن کی حاضری سے اور اعمال کے نتائج سامنے آنے سے باخبر کرتے تھے اور تمہیں ڈراتے تھے کہ دیکھو ایک دن ایسا آنے والا ہے تم اس کے لیے فکر مند ہوجاؤ اور ایمان لاؤ۔
اول تو مجرمین اقرار جرم سے گریز ہی کریں گے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون
(ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا…
Read the full tafseer →144 تخویف اخروی ہے اور اس سے قبل یُقَالُ لَھُمْ مقدر ہے۔ یعنی قیامت کے دن ان سے یہ کہا جائے گا قَالُوْا شَھِدْنَا عَلیٰ اَنْفُسِنَا یہ کفار جن و انس کی طرف سے اعتراف ہوگا کہ بلاشبہ ان کے پاس اللہ کے رسول آئے مگر وہ دنیوی عیش میں منہمک اور ظاہری شان و شوکت پر مغرور ہوگئے اور اللہ کے رسولوں کا انکار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–135
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کے ملف ہونے کا ذکر کیا اور قیامت کو جزائے عمل کا حال بیان کیا۔ اور اس سلسلے میں قیامت میں پیش آنے والے سوال و جواب کا تذکرہ کیا۔ قرآن کریم میں ایسے واقعات سے مشرکوں اور کافروں کی تنبیہ مراد ہے تاکہ اگر وہ بچنا چاہیں تو بچ سکیں۔ گذشتہ آیات میں جنوں سے خطاب تھا کہ سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملالیا ہے ، تو انسان بھی اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم میں سے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا۔ جنات نے اپنی سیادت قائم رکھی اور اپنی بات انسانوں سے منوائی جب کہ انسان نے باطل عقائد اور باطل اعمال پر خوشی کا…
Read the full tafseer →يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا 0 ۭ قَالُوْا شَہِدْنَا عَلٰٓي اَنْفُسِـنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا وَشَہِدُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ 130
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 130–134
ترکیب : یقصون موضع رفع میں صفت ہے رسل کی اور حال بھی ہوسکتا ہے ہذا خبر ہے مبتدا محذوف کی یایومکم کی صفت ان لم ان مصدریتہ یا مخففہ ہے اور لام محذوف ای لان لم یکن ریک موضعہ نصب اوجر۔
تفسیر : پھر اس عذر بارد کے رد کرنے کو ہر ایک جن و انسان سے خطاب کرکے فرمائے گا الم یاتکم رسل منکم الخ کہ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے جو تمہیں میں سے تھے جن سے بوجہ ہم زبان و ہم قوم و موانست کے نصیحت حاصل کرنا بہت آسان تھا جو تمہیں میری آیتیں سناتے اور آج کے دن سے خوف دلاتے تھے ؟ اس کے بعد وہ اپنے کفر کا اقرار کریں گے۔ علمائِ اسلام میں سے جمہور بقرائنِ آیات ان اللہ اصطفیٰ آدم الخ وغیرہا اس بات کے قائل ہیں کہ…
Read the full tafseer →تمہید
اگلی آیت کریمہ میں ایک اور سوال کا ذکر کیا جا رہا ہے جو جنوں اور انسانوں سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ جس سے صرف یہ تصور دینا مقصود ہے کہ اس دن تم اس سوال کا جواب اگرچہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے اور اپنے قصور کو تسلیم کر کے دو گے لیکن اس وقت تمہارا اعتراف تمہارے کسی کام نہیں آئے گا بجز اس کے کہ تمہارے پچھتاوے میں اضافہ ہو لیکن اگر آج تم اس تصور کو یقینی بنا کر کوئی فائدہ اٹھا سکو تو کل کو اس یقینی پیش آنے والے انجام سے بچ سکتے ہو اور مزید اس سے یہ تصور دینا بھی مقصود ہے کہ تم خود اس دن اعتراف کرو گے کہ ہمارے پاس عذر پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اگر آج تم اپنی حالت پر اس دن پیش آنے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہنم میں جانے والے جنات اور انسانوں کو مشترکہ خطاب۔
اللہ تعالیٰ اظہارِ حق اور مجرموں کو ان کے جرائم کا احساس دلانے کے لیے جنوں اور انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے پوچھیں گے کیا میں نے تمہارے پاس تم ہی سے رسول نہیں بھیجے تھے جو تمہیں میرے احکام پڑھ کر سناتے اور اس دن کے ہولناک انجام سے ڈراتے تھے۔ مجرم جواب دیں گے کیوں نہیں ہمارے رب آپ کے بھیجے ہوئے رسول تشریف لائے اور ہمیں سمجھاتے اور ڈراتے رہے لیکن ہمیں دنیا کی زندگی نے فریب میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے ہم تیرے حضور پیشی کو بھول گئے۔ اس طرح وہ اپنے بارے میں شہادت دیں گے کہ بلاشک ہم اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں۔ قیامت کے دن انسانوں…
Read the full tafseer →رسول فقط انسانوں میں سے ہیں یا جنات میں سے بھی :
آیت 130: یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ ضحاک سے منقول ہے جنات کی طرف ان میں سے رسول بھیجے جس طرح انسانوں کی طرف ان میں سے کیونکہ وہ انہیں سے مانوس ہیں۔ اور ظاہری نص اسی کی مؤید ہے۔
دوسرے علماء کا قول یہ ہے رسول فقط انسانوں میں آئے۔ باقی یہاں رُسُلٌ مِّنْکُمْ کا لفظ اس لئے بولا کہ خطاب میں جن و انس دونوں کو جمع کیا گیا ہے اور ایسے مواقع پر درست ہے اگرچہ رسول ایک میں سے ہوں۔ جیسا کہ دوسرے ارشاد میں ہے یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان (الرحمان 22) ایک اور قول یہ ہے کہ ان کے رسل سے ہمارے پیغمبر ﷺ کے نمائندے مراد…
Read the full tafseer →-130 (یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم)
جنات میں رسول مبعوث ہوئے ہیں یا نہیں
اس میں اختلاف ہے کہ جنوں میں رسول بھیجے گئے ہیں کہ نہیں ؟ ضحاک (رح) سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا بالکل کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ نے فرمایا ” الم یاتکم رسل منکم “ کیا نہیں آئے تمہارے پاس رسول انسانوں میں سے یا جنوں میں سے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے رسول جنوں اور انسانوں کی طرف بھیجے جاتے تھے اور محمد ﷺ جن و انس سب کی طرف بھیجے گئے ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ رسول انسانوں میں آئے ہیں اور جنوں میں ڈرانے والے آئے ہیں رسول نہیں آئے۔ پھر آیت پڑھی ” ولوا الی قومھم منذرین “ کہ جنہوں نے رسول…
Read the full tafseer →علمائے مفسرین نے اس بات میں بڑا اختلاف کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر مضمون آیت کے موافق جن اور انسان دونوں قسم کے رسول آئے ہیں یا رسول فقط انسان ہی آئے ہیں اور ہدایت جن اور انسان دونوں فرقوں کی ان رسولوں کے ذمہ پر رہی ہے رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ پہلے قول کی روایت ضحاک بن مزاجم پر ختم ہوتی ہے اور ضحاک بن مزاحم اگرچہ متقدمین مفسرین میں سے ہیں اور اکثر متاخرین کی تفسیروں میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بواسطہ ضحاک کی روایت کی جاتی ہے لیکن دراصل یہ سلسلہ روایت کا منقطع ہے کس لیے کہ ضحاک بن مزاحم کی ملاقات امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نہیں ہوئی اور دوسرے قول کی روایت مجاہدبن جبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت 129
(ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو “ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنہوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا : (یمعشرالجن قدر استکترتم من الانس) ” اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے۔ “ یعنی اے جنوں کی جماعت ! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →255 قیامت کے روز حضرات انبیاء و رسل کے بارے میں سوال : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہوں سے سوال ہوگا کہ " کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے ؟ " یعنی جن وانس کے تمہارے اس مجموعے میں سے۔ کیونکہ انبیاء و رسل انسانوں ہی میں سے آئے ہیں اور جن انہی کے تابع رہے ہیں ۔ کما قال بہ جمہور العلماء من السَّلف والْخَلَف۔ و لہذا تشہد النصوص من الکتاب والسنۃ۔ (قرطبی، مراغی، ابن کثیر اور معارف وغیرہ) ۔ جب کہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں کے اندر بھی انہی میں سے رسولوں کو مبعوث فرمایا گیا ہے کہ حضرات انبیاء و رسل کی بعثت سے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت بھی یہی رہی ہے۔…
Read the full tafseer →میدان حشر میں حاضری
تشریح : ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ قیامت کا دن آئے گا۔ اللہ کے سامنے اکٹھے کئے جائیں گے اور اعمال کا حساب کتاب ضرور ہوگا۔ اور اللہ جن و انس کا حساب ضرور کرے گا، جس کی وضاحت ان آیات میں بیان ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–130
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔
اسرار و معارف :
اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی وہ رسول انسان تھے جنوں میں سے نہیں تھے ل علما نے سلف وخلف کی اکثریت یا یہی قول ہے کہ کسی جن کو رسول نہیں بنایا گیا ،۔ ( ابن کثیر)4 یعنی تیرے پیغمبر ہمارے پاس آئے اور انہوں نے تیرا پیغام پہنچا یا۔5 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس سورت میں اوپر مذکور ہوا کہ اول کافر اپنے کفر کا نکار کریں گے پھر حق تعالیٰ تدبیر سے ان کو قاتل کرے گا۔ (موضح)
Read the full tafseer →(6:130) یقصون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ قصص مصدر (باب نصر) وہ نقل کرتے ہیں۔ وہ پڑھتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں یا بیان کرتے تھے۔
ینذرونکم۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ انذار (افعال) وہ ڈراتے تھے۔
غرتھم۔ غرت۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہمضمیر جمع مذکر غائب۔ دنیوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں رکھا ہوا تھا۔ ان کو بہکارکھا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
لغات القرآن : آیت نمبر 128 سا 132 :
یمعشر (اے جماعت۔ اے گروہ) استکثرتم ( تم نے بتہ کچھ حاصل کرلیا) استمتع ( نفع اٹھایا۔ فائدہ اٹھایا) بلغنا ( ہمیں پہنچا) اجلت ( تو نے مقرر کیا تھا) مثوی (ٹھکانا) نولی ( ہم دوست بناتے ہیں) الم یا تکم ( کیا تمہارے پاس نہیں آئے) یقصون ( بیان کرتے ہیں) ینذرون (وہ ڈراتے ہیں) لقاء ( ملاقات۔ ملنا) غرت (دھوکے میں ڈال دیا) لم یکن ( نہیں ہے) مھلک القری ( بستیوں کو ہلاک کرنے والا) اھلھا ( اس کے رہنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 128 تا 132 :
ان آیات میں اس وقت کی منظر کشی کی گئی ہے جب میدان حشر میں قوم جن اور قوم انس میں سے سارے گنہ گار ایک طرف جمع ہونگے۔ اللہ تعالیٰ قوم جن…
Read the full tafseer →ڑ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بت پرست، سورج پرست، جن وانس کے قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسولوں کی معرفت تمہیں اللہ کا وہ کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت اور نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانے کا ذکر تھا۔ اس پر یہ اقرار کریں گے کہ اللہ کے رسولوں کی معرفت بلاشک کلام پہنچا لیکن دنیا کے مال ومتاع نے ہم کو ایسا مغرور کردی کہ ہم نے رسولوں کی نصیحت کو نہیں مانا بلکہ ہم ان کی نصیحت کو جھٹلاتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
(ف 1) دنیا میں گناہ کے لئے قدم قدم پر آسانیاں ہیں ، جہاں چاہو ، جب چاہو ، نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب کرلو مشکل یہ ہے کہ نیک بنو شرارت اور گناہ کے بیشمار وداعی اور اسباب ہیں ، نیکی اور صداقت کے محرکات کم ہیں ایک طرف نفس امارہ ہے ، اس کی خواہشیں ہیں ، شیاطین کے دامہائے تزویر ہیں ، اور دھوکے ہیں ، کچھ پنہاں ہیں ، کچھ ظاہر ہیں ، دوسری جانب تنہا عقل ، جس کی بیچارگی معلوم ۔
ان آیات میں نہایت سادہ انداز میں اس حکیمانہ حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ، قیامت کے دن اللہ شیطانوں سے کہے گا ، تم نے بہت گمراہی پھیلائی ، آج مکافات کا دن ہے ، آؤ تمہیں سزا دیں ،
کمزور ایمان کے لوگ جو شیطان کے بھرے میں جلد آجاتے…
Read the full tafseer →-130 اے جماعت جن و انس اور اے گروہ جنات و انسان کا کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے پیغمبر نہیں آئے جو تم پر میرے احکام بیان کرتے تھے اور تم کو میرے احکام بتایا اور سنایا کرتے تھے اور تم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے یعنی قیامت اور حشر کے دن سے اس پر وہ سب جنات و انسان کہیں گے ہ ہاں ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں اور اقرار جرم کرتے ہیں اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان ک دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور وہ اپنے خلاف گواہی دیتے ہوئے کہیں گے کہ بیشک وہ کافر تھے ۔ یعنی رسولوں کا آنا اور سمجھانا اور میدان حشر سے ڈرانا سب صحیح ہے لیکن ہم نے ان کا کہا نہ مانا اور وہ مانتے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
ف 9۔ علم سے سب کے جرائم معلوم کرتا ہے اور حکمت سے مناسب سزا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →اے گروہ جِنّ و انس کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول جو تم ہی میں سے تھے نہیں آئے تھے :
202: زیر نظر آیت میں لفظ ” رُسُلٌ مِّنْكُمْ “ آگیا جس کا مطلب بالکل واضح اور بالکل صاف تھا ” ہمارے پیغمبر جو تم ہی میں سے تھے “ کہ یہ دونوں گروہ وہ ہیں جن کی اصل ایک ہے لیکن طبائع کے لحاظ سے بالکل مختلف ہیں جس طرح مرد اور عورت جنس کے لحاظ سے ایک اور صنف کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں چونکہ جنس ایک ہے اس لئے ان کا ایک دوسرے سے استمتاع فطری چیز ہے اور اصناف دونوں کی الگ الگ ہیں اس لئے ان کی جسمانی ساخت اور بہت سے دوسرے عوارضات بھی بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں بالکل اسی طرح یہ دونوں گروہ جن کو ” جِنّ وانس…
Read the full tafseer →Mentioned in the second verse (130), is a question which will be asked of the Jinn and human beings on the plains of Resurrection.
They will be asked to show the reason why they chose to disbelieve and disobey Allah Ta` ala. They were told that they could not deny that Divinely ordained messengers from among them did reach them, messengers who recited to them the verses of Allah and warned them of that day of reckoning. In the reply to this question, mentioned there is their confession that the messengers did come, they did tell them the truth, and that they were involved with disbelief and…
Read the full tafseer →98. The wrong-doers would confess that even though the Prophets had come, in succession, in order to inform them of the Truth, it was their own fault that they did not respond to their call.
99. They were deniers of, and disbelievers in, rather than ignorant of the Truth. They acknowledged tha! the Truth had been conveyed to them and that they had refused to accept it.
Read the full tafseer →