Al-An'aam 6:130

Al-An'aam · from ayah 130

6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَیُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا ؕ— قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤی اَنْفُسِنَا وَغَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَشَهِدُوْا عَلٰۤی اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ ۟يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِىۡ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰذَا‌ ؕ قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰٓى اَنۡفُسِنَا‌ ۖ وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا وَشَهِدُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ

اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

"O company of jinn and mankind, did there not come to you messengers from among you, relating to you My verses and warning you of the meeting of this Day of yours?" They will say, "We bear witness against ourselves"; and the worldly life had deluded them, and they will bear witness against themselves that they were disbelievers.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 16 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:130

(اس موقع پر اللہ ان سے پوچھے گا کہ) "اے گروہ جن وانس، کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اِس دن کے انجام سے ڈراتے تھے؟" وہ کہیں گے "ہاں، ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں" آج دنیا کی زندگی نے اِن لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے، مگر اُس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے جنات اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہی پیغمبر نہیں آئے تھے، جو تم سے میرے احکام بیان کرتے اور تم کو اس آج کے دن کی خبر دیتے؟ وه سب عرض کریں گے کہ ہم اپنے اوپر اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیاوی زندگی نے بھول میں ڈالے رکھا اور یہ لوگ اقرار کرنے والے ہوں گے کہ وه کافر تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے جنات اور انسانوں کے گروہ ! کیا تمہارے پاس خود تم میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تمہیں میری آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور تم کو اسی دن کا سامنا کرنے سے خبردار کرتے تھے جو آج تمہارے سامنے ہے ؟ وہ کہیں گے : (آج) ہم نے خود اپنے خلاف گواہی دے دی ہے (کہ واقعی ہمارے پاس پیغمبر آئے تھے، اور ہم نے انہیں جھٹلایا تھا) اور (درحقیقت) ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا، اور (اب) انہوں نے خود اپنے خلاف گواہی دے دی کہ وہ کافر تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم میں کے رسول نہ آئے تھے تم پر میری آیتیں پڑھتے اور تمہیں یہ دن دیکھنے سے ڈراتے کہیں گے ہم نے اپنی جانوں پر گواہی دی اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے گروہِ جن و انس! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر میری آیتیں بیان کرتے تھے اور تمہاری اس دن کی پیشی سے تمہیں ڈراتے تھے؟ (تو) وہ کہیں گے: ہم اپنی جانوں کے خلاف گواہی دیتے ہیں، اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور وہ اپنی جانوں کے خلاف اس (بات) کی گواہی دیں گے کہ وہ (دنیا میں) کافر (یعنی حق کے انکاری) تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس تم میں سے کوئی رسول نہیں آئے، جو تم پر میری آیات بیان کرتے ہوں اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈراتے ہوں ؟ وہ کہیں گے ہم اپنے آپ پر گواہی دیتے ہیں اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ یقینا وہ کافر تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اللہ ان سے فرمائے گا : اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے ہاں تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تمہارے سامنے میری آیات بیان کرتے اور آج کے دن کی ملاقات سے تمہیں ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے ہاں ہم اپنے خلاف خود یہ گواہی دیتے ہیں۔ بات یہ تھی کہ دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا لہذا وہ اپنے خلاف گواہی دینے پر مجبور ہوں گے کہ فی الواقع وہ (اللہ کی آیات کے) منکر تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمہارے پاس تمہیں میری آیتیں سناتے اور تمہارے اس دن کی ملاقات سے تم کو ہوشیار کرتے ہوئے تم میں سے رسول نہیں آئے۔ وہ بولیں گے ہم خود اپنے خلاف شاہد ہیں اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ بیشک وہ کافر رہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(نیز اللہ فرمائے گا کہ) اے گروہ جن وانس (تم کیسے پھنس گئے مکاروں کے جال میں) کیا تمہارے پاس نہیں آئے تھے ہمارے رسول خود تم ہی لوگوں میں سے ؟ جو تم کو سناتے میری آیتیں اور خبردار کرتے تم کو اپنے اس (ہولناک) دن سے ؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہم خود گواہی دیتے ہیں اپنے خلاف اور آج ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے دنیا کی زندگی نے، مگر اس روز وہ خود اپنے خلاف دو ٹوک گواہی دیں گے کہ وہ قطعی طور پر کافر تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اے جماعت جن وانس ! کیا تمہارے پاس تمہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے (جو) میرے احکام تمہیں سناتے تھے اور تمہیں اسی آج کے دن کے وقوع سے ڈرایا کرتے تھے بولیں گے (بیشک) ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں۔ ان کو (آج) دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بیشک ہم کافر رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس نہیں آگئے تھے رسول تم ہی میں سے جو سناتے تھے تمہیں میری آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہارے اس دن کی ملاقات سے۔ وہ کہیں گے کہ ہم گواہ ہیں اپنی جانوں پر اور انہیں دھوکے میں ڈالے رکھا دنیوی زندگی نے اور وہ خود گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ وہ یقیناً کفر کی روش پر چلتے رہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے جنوں اور انسانوں کی جماعت ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ اے رب العزت ! ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں، ان لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور اب خود ہی اپنے لیے گواہی دی کہ وہ کفر کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Then Allah will also ask them): 'O assembly of jinn and men! Did there not come to y ou Messengers from among yourselves, relating to you My signs, and warning you of the encounter of this your Day (of Judgement)?' They will say: 'Yes, we bear witness against ourselves.' They have been deluded by the life of this world, and they will bear witness against themselves that they had disbelieved.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

:O species of Jinn and mankind, had the messengers not come to you, from among yourselves, who used to relate My verses to you, and used to warn you of the encounter of this your day? They will say, :We testify against ourselves. The worldly life had deceived them, and they will testify against themselves that they were disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

:O species of Jinn and mankind, had the messengers not come to you, from among yourselves, who used to relate My verses to you, and used to warn you of the encounter of this your day? They will say, :We testify against ourselves. The worldly life had deceived them, and they will testify against themselves that they were disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you assembly of Jinn and humans! "Did not there come to you Messengers from amongst you, reciting unto you My verses and warning you of the meeting of this Day of yours" They will say: "We bear witness against ourselves." It was the life of this world that deceived them. And they will bear witness against themselves that they were disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye assembly of the jinn and humankind! Came there not unto you messengers of your own who recounted unto you My tokens and warned you of the meeting of this your Day? They will say: We testify against ourselves. And the life of the world beguiled them. And they testify against themselves that they were disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

"O company of jinn and mankind, did there not come to you messengers from among you, relating to you My verses and warning you of the meeting of this Day of yours?" They will say, "We bear witness against ourselves"; and the worldly life had deluded them, and they will bear witness against themselves that they were disbelievers.

— Saheeh International

When people and jinn are asked, "Did not Messengers from your own people come to you to convey Our revelations and to warn you of the Day of Resurrection?" They will reply, "(Yes indeed)." The worldly life deceived them. They will testify that they were unbelievers.

— Muhammad Sarwar

O assembly of jinn and men! did there not come to you apostles from among you, relating to you My communications and warning you of the meeting of this day of yours? They shall say: We bear witness against ourselves; and this world's life deceived them, and they shall bear witness against their own souls that they were unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

O ye race of genii and mankind came there not apostles unto you from amongst you recounting unto you My signs and warning you of your meeting of this Day? They will say: we bear witness against ourselves. The life of the world hath deluded them, and they shall bear witness against themselves that verily they had been infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

"O ye assembly of Jinns and men! came there not unto you messengers from amongst you, setting forth unto you My signs, and warning you of the meeting of this Day of yours?" They will say: "We bear witness against ourselves." It was the life of this world that deceived them. So against themselves will they bear witness that they rejected Faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:130

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

جن اور انسان اور پاداش عمل یہ اور سرزنش اور ڈانت ڈپٹ ہے جو قیامت کے دن اللہ کی طرف سے انسانوں اور جنوں کو ہوگی ان سے سوال ہوگا کہ کیا تم میں سے ہی تمہارے پاس میرے بھیجے ہوئے رسول نہیں آئے تھے۔ یہ یاد رہے کہ رسول کل کے کل انسان ہی تھے کوئی جن رسول نہیں ہوا۔ ائمہ سلف خلف کا مذہب یہی ہے جنات میں نیک لوگ اور جنوں کو نیکی کی تعلیم کرتے تھے۔ بدی سے روکتے تھے لیکن رسول صرف انسانوں میں سے ہی آتے رہے۔ ضحاک بن مزاحم سے ایک روایت مروی ہے کہ جنات میں بھی رسول ہوتے ہیں اور ان کی دلیل ایک تو یہ آیت ہے سو یہ کوئی دلیل نہیں اس لئے کہ اس میں صراحت نہیں اور یہ آیت تو بالکل ویسی ہی ہے جیسے آیت (مَرَجَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 98 یعنی ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ کی طرف سے رسول پر رسول آتے اور ہمیں حقیقت سے خبردار کرتے رہے، مگر یہ ہمارا اپنا قصور تھا کہ ہم نے ان کی بات نہ مانی۔ سورة الْاَنْعَام 99 یعنی بیخبر اور ناواقف نہ تھے بلکہ کافر تھے۔ وہ خود تسلیم کریں گے کہ حق ہم تک پہنچا تھا مگر ہم نے خود اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں ایک سوال و جواب کا ذکر ہے جو محشر میں جنات اور انسانوں کو مخاطب کرکے کیا جائے گا، کہ تم جو کفر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا ہوئے اس کا کیا سبب ہے ؟ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں پہنچے جو تمہاری قوم میں سے تھے، جو میری آیات تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور آج کے دن کی حاضری اور حساب سے ڈراتے تھے ؟ اس کے جواب میں ان سب کی طرف سے رسولوں کے آنے اور پیغام حق سنانے کا اور اس کے باوجود کفر و نافرمانی میں مبتلا ہونے کا اقرار ذکر کیا گیا ہے، اور ان کی طرف سے کوئی وجہ اور سبب اس غلط کاری کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ حق تعالیٰ نے ہی اس کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ (آیت) وَغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا، یہ سوال ان سے بطور قطع عذر کے ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ شامت زود، کیا تمہارے پاس تمہی میں سے میری آیتیں سناتے اور اس دن کی آمد سے ہوشیار کرتے ہوئے رسول نہیں آئے ؟ پھر تم نے آخر اپنی یہ شامت کیوں بلائی ؟ رسول نہ آئے ہوتے تو تم کوئی عذر پیش کرسکتے تھے، اب کیا عذر پیش کرسکتے ہو ؟ تم نے تو سب کچھ سن اور سمجھ کے اپنی آنکھیں اور اپنے کان بند رکھے۔ رسل منکم سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر انسانوں ہی میں سے رسول بھیجے اسی طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

130۔ 1 رسالت و نبوت کے معاملے میں جنات انسانوں کے ہی تابع ہیں ورنہ جنات میں الگ نبی نہیں آئے البتہ رسولوں کا پیغام پہنچانے والے اور منذرین جنات میں ہوتے رہے ہیں جو اپنی قوم کے جنوں کو اللہ کی طرف دیتے رہے ہیں اور دیتے ہیں۔ لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ چونکہ جنات کا وجود انسان کے وجود سے پہلے سے ہے تو ان کی ہدایت کے لئے انہیں میں سے کوئی نبی آیا ہوگا پھر آدم ؑ کے وجود کے بعد ہوسکتا ہے وہ انسانی نبیوں کے تابع رہے ہوں، البتہ نبی کریم کی رسالت بہرحال تمام جن انس کے لئے ہے اس میں کوئی شبہ نہیں۔ 130۔ 2 میدان حشر میں کافر مختلف پینترے بدلیں گے، کبھی اپنے مشرک ہونے کا انکار کریں گے (الا نعام، 123) اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

60: انسانوں میں تو پیغمبروں کا تشریف لانا واضح ہے، اس آیت کی وجہ سے بعض علماء کا کہنا ہے کہ جنات میں بھی آنحضرت ﷺ سے پہلے پیغمبر آتے رہے اور دوسرے حضرات کا کہنا یہ ہے کہ باقاعدہ پیغمبر توجنات میں نہیں آئے ؛ لیکن انسانوں میں جو پیغمبر بھیجے گئے وہی جنات کو تبلیغ کرتے تھے اور جو جنات مسلمان ہوجاتے وہ پھر انبیاء کرام کے نمائندے بن کر دوسرے جنات کو بھی تبلیغ کرتے تھے، جیسا کہ سورة جن میں تفصیل سے مذکور ہے، آیت کی رو سے دونوں احتمال ممکن ہیں ؛ کیونکہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں اور جنات دونوں کو تبلیغ کا حق ادا کردیا گیا اور وہ دونوں طرح ممکن ہے۔ 61: پیچھے آیت نمبر 23 میں گذرا ہے کہ وہ شروع میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” َا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْْکُمْ آیَاتِیْ وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاء یَوْمِکُمْ ہَـذَا قَالُواْ شَہِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130) ”(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ) اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ہو پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے ۔ “ وہ کہیں گے ” ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں ۔ “ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 اوپر جن و انس کی شرارت اور سزا کا بیان تھا اور " اولیاء الجن " کی زبانی فی الجملہ معذرت بھی نقل کی گئی تھی، اب بتلایا جاتا ہے کہ ان کا کوئی عذر معقول اور قابل سماعت نہیں، دنیا میں خدا کی حجت تمام ہوچکی تھی جس کا خود انہیں بھی اقرار کرنا پڑے گا۔ یہ خطاب " یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ " کا قیامت کے دن ہوگا اور مخاطب جن وانس کا یعنی کل مکلفین کا مجموعہ ہے، ہر جماعت الگ الگ مخاطب نہیں جو یہ اعتراض ہو کہ رسول تو ہمیشہ انسانوں میں سے آئے قوم جن میں سے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا۔ پھر " رُسُلٌ مِّنْکُمْ " (رسول تم ہی میں کے) کہنا کیسے صحیح ہوگا۔ اصل یہ ہے کہ مجموعہ مخاطبین میں سے اگر کسی نوع…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 130 یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ اب چونکہ یہ بات جن و انس دونوں کو جمع کر کے کہی جا رہی ہے تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو انسانوں میں سے رسول ہیں وہی جنات کے لیے بھی رسول ہیں۔ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَاط قالُوْا شَہِدْنَا عَآٰی اَنْفُسِنَا یہاں پر علٰی کے معنی مخالف گواہی کے ہیں۔ یعنی ہم اپنی جانوں کے خلاف خود گواہ ہیں۔ وَغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُوْا عَآٰی اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ۔ ۔ قرآن مجید میں میدان حشر کے جو مکالمات آئے ہیں وہ مختلف آیات میں مختلف قسم کے ہیں۔ مثلاً…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

138 سلسلہ نبوت اب صرف انسانوں میں ہے :۔ انسان سے پہلے اس زمین پر جن ہی آباد تھے اور قرین قیاس یہی بات ہے کہ ان میں بھی رسول آتے ہوں گے۔ لیکن انسان کے زمین پر آباد ہونے کے بعد سلسلہ نبوت انسانوں سے ہی مختص ہوگیا۔ جو رسول انسانوں کے لیے ہوتا وہ جنوں کے لیے بھی ہوتا۔ انسانوں میں رسول آنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان ہی اشرف المخلوقات ہے جن نہیں۔ اور جن رسول سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ رسول بشر ہوتا ہے جو اپنی شکل بدل نہیں سکتا۔ لیکن اگر رسول جنوں میں سے ہوتے تو ان سے انسان استفادہ بھی نہ کرسکتا تھا۔ چناچہ رسول اللہ کا جنوں کے لیے بھی رسول ہونا قرآن میں دو مقامات سے ثابت ہے۔ سورة احقاف میں بھی ذکر آیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

194 ۔ (اور اپنے جرم کا اقرار کرتے ہیں۔ بیشک ہمارے پاس کوئی عذر و جواب نہیں) یہ مخاطبہ قیامت میں ہوگا۔ اور سوال ظاہر ہے کہ مزید توبیخ کے لیے ہوگا۔ (آیت) ” یمعشر الجن والانس “۔ معشر کے معنی اس جماعت کے ہیں جو حکم واحد میں ہو، اور ان کے افراد کے درمیان معاشرت ومخالطت ہو۔ قال اھل اللغۃ المعشر کل جماعۃ امرھم واحد ویحصل بینھم معاشرۃ ومخالطۃ (کبیر) (آیت) ” رسل منکم “۔ نے ایک بڑی بحث یہ پیدا کردی ہے کہ آیا جنات کے در میان بھی سلسلہ نبوت قائم رہا ہے ؟ ضحاک تابعی سے سوال کا جواب اثبات میں نقل ہوا ہے۔ ان سے کسی نے سوال کیا کہ آیا ہمارے رسول ﷺ سے قبل جنات میں بھی نبی گزرے ہیں ؟ انہوں نے جواب میں یہی آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 130–135

آیت نمبر 130 تا 140 ترجمہ : اے جن و انس کے گروہو ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے ؟ یعنی تمہارے مجموعہ میں سے جو کہ انسانوں پر صادق ہے، یا رسل جن سے وہ آگاہ کرنے والے جن مراد ہیں جو (انسانی) رسولوں کا کلام سنتے اور اپنی قوم کو پہنچاتے تھے، جو تم کو میری آیتیں پڑھ کر سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے آگاہ کرتے، وہ کہیں گے (ہاں) ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے پاس پیغام پہنچایا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لائے، اور وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے یہ رسولوں کو بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم . اے گروہ جن و بشر کیا تمہارے پاس میرے پیغام رساں نہیں پہنچے جو تم میں سے ہی تھے۔ یہ مسئلہ اختلافی ہے کہ کیا جنات بھی پیغمبر ہوئے یا نہیں۔ ضحاک سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا ضرور ہوئے تھے دیکھو اللہ نے فرمایا ہے یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم : یعنی انسانوں میں سے (انسان) اور جنات میں سے (جن) پیغمبر بنا کر کیا نہیں بھیجے گئے۔ کلبی کا قول ہے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے جن و انس سب کی طرف پیغمبر بھیجے جاتے تھے یعنی مختلف پیغمبر مختلف اقوام و اطراف کے لئے تمام جن و انس کی طرف تو صرف رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا (آپ سے پہلے کسی پیغمبر کی بعثت نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(130) تم لوگوں کے پاس کیا رسول اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام نہیں آئے اور جنات کے پاس بالخصوص وہ نو حضرات نہیں آئے جو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور پھر اپنی قوم کو عذاب الہی سے ڈرانے کے لیے گئے تھے اور بھی کہا گیا کہ جنات کی طرف بھی ایک نبی یوسف ﷺ بھیجے گئے تھے جو تمہیں پڑھ کر میرے اوامرو نواہی سناتے تھے اور اس دن کے عذاب سے تمہیں ڈراتے تھے، جن وانس جواب دیں گے، بیشک ان حضرات نے آپ کے احکامات ہم تک پوری طرح پہنچا دیئے تھے مگر ہم نے ان کا انکار کیا اور ان منکرین حق کو دنیاوی سازوسامان نے دھوکا میں ڈال رکھا ہے اور یہ لوگ آخرت میں اللہ کا عذاب سہیں گے کہ دنیا میں وہ کافر تھے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ :”تم میں سے رسول“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول جن و انس میں سے انسان ہی ہوئے ہیں۔ افضل مخلوق فرشتے یا انسان ہیں۔ دیکھیے سورة یوسف (109) اور سورة فرقان (20) جنوں کا نبی ہونا ثابت نہیں، علمائے سلف و خلف کی اکثریت کا یہی قول ہے کہ کسی جن کو رسول نہیں بنایا گیا، البتہ ان میں سے کئی منذرین گزرے ہیں، یعنی اپنی قوم کو خبردار کرنے والے، جو انسانوں کی طرف آنے والے رسولوں پر ایمان لاکر اپنی قوم کو پیغام پہنچاتے تھے۔ دیکھیے سورة احقاف (29 تا 32) اور سورة جن۔ دونوں میں جنوں نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا اقرار کیا ہے اور اپنی قوم کو ایمان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 130 قولہ تعالیٰ : آیت : یٰمعشر الجن والانس الم یاتکم یعنی جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو ہم ان کی کہیں گے۔ لھم کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے ؟ پھر اسے کلام سے حذف کردیا گیا، تو وہ اس بارے میں اعتراف کریں گے جس میں ان کی رسوائی ہوگی اور منکم کا معنی ہے فی الخلق والتکلیف والمخاطبۃ ( یعنی تخلیق میں، احکام کا مکلف ہونے میں اور مخاطب ہونے میں وہ تم میں سے تھے) اور جب جن ان میں سے ہیں جنہیں خطاب کیا جا رہا ہے اور وہ عقل اور سمجھ بوجھ بھی رکھتے ہیں تو فرمایا : منکم اگرچہ رسول انسانوں میں سے تھے اور خطاب میں انسانوں کو اسی طرح غلبہ دیا گیا ہے جس طرح مذکر مونث پر (یعنی مردوں کو عورتوں پر) غلبہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 130–131

(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم یعنی جنوں میں سے کوئی رسول نہیں بلاشبہ رسول انسانوں میں سے ہیں اور ایک ڈرانے والا ہوتا ہے جنوں میں اور (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین (الاحقاف آیت 29) یعنی پھر جب تلاوت ہوچکی تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر لوٹے۔ (2) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت رسل منکم یعنی رسولوں کے پیغامبر لفظ آیت ولوا الی قومھم منذرین (پھر وہ گئے اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے) (3) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے جن سے پوچھا کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ [ اے انسانوں اور جنوں کے گروہ ] اَ [ کیا ] لَمْ يَاْتِكُمْ [ نہیں پہنچے تمہارے پاس ] رُسُلٌ [ کچھ رسول ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] يَقُصُّوْنَ [ وہ بیان کرتے تھے ] عَلَيْكُمْ [ تم پر ] اٰيٰتِيْ [ میری آیتوں (یعنی ہدایات) کو ] وَيُنْذِرُوْنَكُمْ [ اور خبردار کرتے تھے تم کو ] لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا ۭ [ تمہارے اس دن کے ملاقات کرنے سے ] قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] شَهِدْنَا [ ہم نے گواہی دی ] عَلٰٓي اَنْفُسِـنَا [ اپنی جانوں کے خلاف ] وَغَرَّتْهُمُ [ اور (یہ کہ ) ان کو دھوکہ دیا ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی نے ] وَشَهِدُوْا [ اور وہ گواہی دیں گے ] عَلٰٓي…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جن و انس سے سوال ! کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے ؟ اور ان کا اقرار جرم ان آیات میں اول تو اللہ جل شانہٗ نے اپنے اس خطاب کا ذکر فرمایا جو جنات کی جماعت سے اور انسانوں سے قیامت کے دن ہوگا۔ دونوں جماعتوں کے مجرمین کافرین جو میدان حشر میں موجود ہوں گے ان سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے جنات اور اے انسانو ! کیا تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں آئے جو تمہیں میرے احکام بتاتے تھے اور تمہیں آج کے دن کی حاضری سے اور اعمال کے نتائج سامنے آنے سے باخبر کرتے تھے اور تمہیں ڈراتے تھے کہ دیکھو ایک دن ایسا آنے والا ہے تم اس کے لیے فکر مند ہوجاؤ اور ایمان لاؤ۔ اول تو مجرمین اقرار جرم سے گریز ہی کریں گے۔ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 128–135

قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون (ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

144 تخویف اخروی ہے اور اس سے قبل یُقَالُ لَھُمْ مقدر ہے۔ یعنی قیامت کے دن ان سے یہ کہا جائے گا قَالُوْا شَھِدْنَا عَلیٰ اَنْفُسِنَا یہ کفار جن و انس کی طرف سے اعتراف ہوگا کہ بلاشبہ ان کے پاس اللہ کے رسول آئے مگر وہ دنیوی عیش میں منہمک اور ظاہری شان و شوکت پر مغرور ہوگئے اور اللہ کے رسولوں کا انکار کردیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 130–135

گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کے ملف ہونے کا ذکر کیا اور قیامت کو جزائے عمل کا حال بیان کیا۔ اور اس سلسلے میں قیامت میں پیش آنے والے سوال و جواب کا تذکرہ کیا۔ قرآن کریم میں ایسے واقعات سے مشرکوں اور کافروں کی تنبیہ مراد ہے تاکہ اگر وہ بچنا چاہیں تو بچ سکیں۔ گذشتہ آیات میں جنوں سے خطاب تھا کہ سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملالیا ہے ، تو انسان بھی اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم میں سے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا۔ جنات نے اپنی سیادت قائم رکھی اور اپنی بات انسانوں سے منوائی جب کہ انسان نے باطل عقائد اور باطل اعمال پر خوشی کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا۝ 0 ۭ قَالُوْا شَہِدْنَا عَلٰٓي اَنْفُسِـنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا وَشَہِدُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْنَ۝ 130 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 130–134

ترکیب : یقصون موضع رفع میں صفت ہے رسل کی اور حال بھی ہوسکتا ہے ہذا خبر ہے مبتدا محذوف کی یایومکم کی صفت ان لم ان مصدریتہ یا مخففہ ہے اور لام محذوف ای لان لم یکن ریک موضعہ نصب اوجر۔ تفسیر : پھر اس عذر بارد کے رد کرنے کو ہر ایک جن و انسان سے خطاب کرکے فرمائے گا الم یاتکم رسل منکم الخ کہ کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے جو تمہیں میں سے تھے جن سے بوجہ ہم زبان و ہم قوم و موانست کے نصیحت حاصل کرنا بہت آسان تھا جو تمہیں میری آیتیں سناتے اور آج کے دن سے خوف دلاتے تھے ؟ اس کے بعد وہ اپنے کفر کا اقرار کریں گے۔ علمائِ اسلام میں سے جمہور بقرائنِ آیات ان اللہ اصطفیٰ آدم الخ وغیرہا اس بات کے قائل ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تمہید اگلی آیت کریمہ میں ایک اور سوال کا ذکر کیا جا رہا ہے جو جنوں اور انسانوں سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ جس سے صرف یہ تصور دینا مقصود ہے کہ اس دن تم اس سوال کا جواب اگرچہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے اور اپنے قصور کو تسلیم کر کے دو گے لیکن اس وقت تمہارا اعتراف تمہارے کسی کام نہیں آئے گا بجز اس کے کہ تمہارے پچھتاوے میں اضافہ ہو لیکن اگر آج تم اس تصور کو یقینی بنا کر کوئی فائدہ اٹھا سکو تو کل کو اس یقینی پیش آنے والے انجام سے بچ سکتے ہو اور مزید اس سے یہ تصور دینا بھی مقصود ہے کہ تم خود اس دن اعتراف کرو گے کہ ہمارے پاس عذر پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اگر آج تم اپنی حالت پر اس دن پیش آنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جہنم میں جانے والے جنات اور انسانوں کو مشترکہ خطاب۔ اللہ تعالیٰ اظہارِ حق اور مجرموں کو ان کے جرائم کا احساس دلانے کے لیے جنوں اور انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے پوچھیں گے کیا میں نے تمہارے پاس تم ہی سے رسول نہیں بھیجے تھے جو تمہیں میرے احکام پڑھ کر سناتے اور اس دن کے ہولناک انجام سے ڈراتے تھے۔ مجرم جواب دیں گے کیوں نہیں ہمارے رب آپ کے بھیجے ہوئے رسول تشریف لائے اور ہمیں سمجھاتے اور ڈراتے رہے لیکن ہمیں دنیا کی زندگی نے فریب میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے ہم تیرے حضور پیشی کو بھول گئے۔ اس طرح وہ اپنے بارے میں شہادت دیں گے کہ بلاشک ہم اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں۔ قیامت کے دن انسانوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رسول فقط انسانوں میں سے ہیں یا جنات میں سے بھی : آیت 130: یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ ضحاک سے منقول ہے جنات کی طرف ان میں سے رسول بھیجے جس طرح انسانوں کی طرف ان میں سے کیونکہ وہ انہیں سے مانوس ہیں۔ اور ظاہری نص اسی کی مؤید ہے۔ دوسرے علماء کا قول یہ ہے رسول فقط انسانوں میں آئے۔ باقی یہاں رُسُلٌ مِّنْکُمْ کا لفظ اس لئے بولا کہ خطاب میں جن و انس دونوں کو جمع کیا گیا ہے اور ایسے مواقع پر درست ہے اگرچہ رسول ایک میں سے ہوں۔ جیسا کہ دوسرے ارشاد میں ہے یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان (الرحمان 22) ایک اور قول یہ ہے کہ ان کے رسل سے ہمارے پیغمبر ﷺ کے نمائندے مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

-130 (یمعشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم) جنات میں رسول مبعوث ہوئے ہیں یا نہیں اس میں اختلاف ہے کہ جنوں میں رسول بھیجے گئے ہیں کہ نہیں ؟ ضحاک (رح) سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا بالکل کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ نے فرمایا ” الم یاتکم رسل منکم “ کیا نہیں آئے تمہارے پاس رسول انسانوں میں سے یا جنوں میں سے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے رسول جنوں اور انسانوں کی طرف بھیجے جاتے تھے اور محمد ﷺ جن و انس سب کی طرف بھیجے گئے ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ رسول انسانوں میں آئے ہیں اور جنوں میں ڈرانے والے آئے ہیں رسول نہیں آئے۔ پھر آیت پڑھی ” ولوا الی قومھم منذرین “ کہ جنہوں نے رسول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

علمائے مفسرین نے اس بات میں بڑا اختلاف کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر مضمون آیت کے موافق جن اور انسان دونوں قسم کے رسول آئے ہیں یا رسول فقط انسان ہی آئے ہیں اور ہدایت جن اور انسان دونوں فرقوں کی ان رسولوں کے ذمہ پر رہی ہے رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ پہلے قول کی روایت ضحاک بن مزاجم پر ختم ہوتی ہے اور ضحاک بن مزاحم اگرچہ متقدمین مفسرین میں سے ہیں اور اکثر متاخرین کی تفسیروں میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بواسطہ ضحاک کی روایت کی جاتی ہے لیکن دراصل یہ سلسلہ روایت کا منقطع ہے کس لیے کہ ضحاک بن مزاحم کی ملاقات امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نہیں ہوئی اور دوسرے قول کی روایت مجاہدبن جبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 129–135

آیت 129 (ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو “ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنہوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا : (یمعشرالجن قدر استکترتم من الانس) ” اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے۔ “ یعنی اے جنوں کی جماعت ! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 121–135

ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

255 قیامت کے روز حضرات انبیاء و رسل کے بارے میں سوال : ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہوں سے سوال ہوگا کہ " کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے ؟ " یعنی جن وانس کے تمہارے اس مجموعے میں سے۔ کیونکہ انبیاء و رسل انسانوں ہی میں سے آئے ہیں اور جن انہی کے تابع رہے ہیں ۔ کما قال بہ جمہور العلماء من السَّلف والْخَلَف۔ و لہذا تشہد النصوص من الکتاب والسنۃ۔ (قرطبی، مراغی، ابن کثیر اور معارف وغیرہ) ۔ جب کہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں کے اندر بھی انہی میں سے رسولوں کو مبعوث فرمایا گیا ہے کہ حضرات انبیاء و رسل کی بعثت سے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت بھی یہی رہی ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

میدان حشر میں حاضری تشریح : ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ قیامت کا دن آئے گا۔ اللہ کے سامنے اکٹھے کئے جائیں گے اور اعمال کا حساب کتاب ضرور ہوگا۔ اور اللہ جن و انس کا حساب ضرور کرے گا، جس کی وضاحت ان آیات میں بیان ہوچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 123–130

رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔ اسرار و معارف : اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی وہ رسول انسان تھے جنوں میں سے نہیں تھے ل علما نے سلف وخلف کی اکثریت یا یہی قول ہے کہ کسی جن کو رسول نہیں بنایا گیا ،۔ ( ابن کثیر)4 یعنی تیرے پیغمبر ہمارے پاس آئے اور انہوں نے تیرا پیغام پہنچا یا۔5 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس سورت میں اوپر مذکور ہوا کہ اول کافر اپنے کفر کا نکار کریں گے پھر حق تعالیٰ تدبیر سے ان کو قاتل کرے گا۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:130) یقصون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ قصص مصدر (باب نصر) وہ نقل کرتے ہیں۔ وہ پڑھتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں یا بیان کرتے تھے۔ ینذرونکم۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ انذار (افعال) وہ ڈراتے تھے۔ غرتھم۔ غرت۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہمضمیر جمع مذکر غائب۔ دنیوی زندگی نے ان کو دھوکہ میں رکھا ہوا تھا۔ ان کو بہکارکھا تھا

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 128–132

لغات القرآن : آیت نمبر 128 سا 132 : یمعشر (اے جماعت۔ اے گروہ) استکثرتم ( تم نے بتہ کچھ حاصل کرلیا) استمتع ( نفع اٹھایا۔ فائدہ اٹھایا) بلغنا ( ہمیں پہنچا) اجلت ( تو نے مقرر کیا تھا) مثوی (ٹھکانا) نولی ( ہم دوست بناتے ہیں) الم یا تکم ( کیا تمہارے پاس نہیں آئے) یقصون ( بیان کرتے ہیں) ینذرون (وہ ڈراتے ہیں) لقاء ( ملاقات۔ ملنا) غرت (دھوکے میں ڈال دیا) لم یکن ( نہیں ہے) مھلک القری ( بستیوں کو ہلاک کرنے والا) اھلھا ( اس کے رہنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 128 تا 132 : ان آیات میں اس وقت کی منظر کشی کی گئی ہے جب میدان حشر میں قوم جن اور قوم انس میں سے سارے گنہ گار ایک طرف جمع ہونگے۔ اللہ تعالیٰ قوم جن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ڑ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بت پرست، سورج پرست، جن وانس کے قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا اللہ کے رسولوں کی معرفت تمہیں اللہ کا وہ کلام نہیں پہنچا جس میں قیامت اور نافرمان لوگوں کے عذاب میں پکڑے جانے کا ذکر تھا۔ اس پر یہ اقرار کریں گے کہ اللہ کے رسولوں کی معرفت بلاشک کلام پہنچا لیکن دنیا کے مال ومتاع نے ہم کو ایسا مغرور کردی کہ ہم نے رسولوں کی نصیحت کو نہیں مانا بلکہ ہم ان کی نصیحت کو جھٹلاتے رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 126–136

[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 128–130

(ف 1) دنیا میں گناہ کے لئے قدم قدم پر آسانیاں ہیں ، جہاں چاہو ، جب چاہو ، نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب کرلو مشکل یہ ہے کہ نیک بنو شرارت اور گناہ کے بیشمار وداعی اور اسباب ہیں ، نیکی اور صداقت کے محرکات کم ہیں ایک طرف نفس امارہ ہے ، اس کی خواہشیں ہیں ، شیاطین کے دامہائے تزویر ہیں ، اور دھوکے ہیں ، کچھ پنہاں ہیں ، کچھ ظاہر ہیں ، دوسری جانب تنہا عقل ، جس کی بیچارگی معلوم ۔ ان آیات میں نہایت سادہ انداز میں اس حکیمانہ حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ، قیامت کے دن اللہ شیطانوں سے کہے گا ، تم نے بہت گمراہی پھیلائی ، آج مکافات کا دن ہے ، آؤ تمہیں سزا دیں ، کمزور ایمان کے لوگ جو شیطان کے بھرے میں جلد آجاتے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-130 اے جماعت جن و انس اور اے گروہ جنات و انسان کا کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے پیغمبر نہیں آئے جو تم پر میرے احکام بیان کرتے تھے اور تم کو میرے احکام بتایا اور سنایا کرتے تھے اور تم کو تمہارے اس دن کے پیش آنے سے ڈرایا کرتے تھے یعنی قیامت اور حشر کے دن سے اس پر وہ سب جنات و انسان کہیں گے ہ ہاں ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں اور اقرار جرم کرتے ہیں اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان ک دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور وہ اپنے خلاف گواہی دیتے ہوئے کہیں گے کہ بیشک وہ کافر تھے ۔ یعنی رسولوں کا آنا اور سمجھانا اور میدان حشر سے ڈرانا سب صحیح ہے لیکن ہم نے ان کا کہا نہ مانا اور وہ مانتے بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 128–130

ف 9۔ علم سے سب کے جرائم معلوم کرتا ہے اور حکمت سے مناسب سزا دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے گروہ جِنّ و انس کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول جو تم ہی میں سے تھے نہیں آئے تھے : 202: زیر نظر آیت میں لفظ ” رُسُلٌ مِّنْكُمْ “ آگیا جس کا مطلب بالکل واضح اور بالکل صاف تھا ” ہمارے پیغمبر جو تم ہی میں سے تھے “ کہ یہ دونوں گروہ وہ ہیں جن کی اصل ایک ہے لیکن طبائع کے لحاظ سے بالکل مختلف ہیں جس طرح مرد اور عورت جنس کے لحاظ سے ایک اور صنف کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں چونکہ جنس ایک ہے اس لئے ان کا ایک دوسرے سے استمتاع فطری چیز ہے اور اصناف دونوں کی الگ الگ ہیں اس لئے ان کی جسمانی ساخت اور بہت سے دوسرے عوارضات بھی بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں بالکل اسی طرح یہ دونوں گروہ جن کو ” جِنّ وانس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Mentioned in the second verse (130), is a question which will be asked of the Jinn and human beings on the plains of Resurrection. They will be asked to show the reason why they chose to disbelieve and disobey Allah Ta` ala. They were told that they could not deny that Divinely ordained messengers from among them did reach them, messengers who recited to them the verses of Allah and warned them of that day of reckoning. In the reply to this question, mentioned there is their confession that the messengers did come, they did tell them the truth, and that they were involved with disbelief and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

98. The wrong-doers would confess that even though the Prophets had come, in succession, in order to inform them of the Truth, it was their own fault that they did not respond to their call. 99. They were deniers of, and disbelievers in, rather than ignorant of the Truth. They acknowledged tha! the Truth had been conveyed to them and that they had refused to accept it.

Read the full tafseer →