ہم مزاج ہی دوست ہوتے ہیں
لوگوں کی دوستیاں اعمال پر ہوتی ہیں مومن کا دل مومن سے ہی لگتا ہے گو وہ کہیں کا ہو اور کیسا ہی ہو اور کافر کافر بھی ایک ہی ہیں گو وہ مختلف ممالک اور مختلف ذات پات کے ہوں۔ ایمان تمناؤں اور ظاہر داریوں کا نام نہیں۔ اس مطلب کے علاوہ اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے تمام کفار جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ مالک بن دینار کہتے ہیں میں نے زبور میں پڑھا ہے اللہ فرماتا ہے میں منافقوں سے انتقام منافقوں کے ساتھ ہی لوں گا پھر سب سے ہی انتقام لوں گا۔ اس کی تصدیق قرآن کی مندرجہ بالا آیت سے بھی ہوتی ہے کہ ہم ولی بنائیں گے بعض ظالموں کا یعنی ظالم جن اور ظالم انس۔…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 97
یعنی جس طرح وہ دنیا میں گناہ سمیٹنے اور برائیوں کا اکتساب کرنے میں ایک دوسرے کے شریک تھے اسی طرح آخرت کی سزا پانے میں بھی وہ ایک دوسرے کے شریک حال ہوں گے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (جس طرح دنیا میں گمراہی کے لحاظ سے سب میں تعلق و قرب تھا) اسی طرح (دوزخ میں) بعض کفار کو بعض کے قریب (اور مجتمع) رکھیں گے ان کے اعمال (کفریہ) کے سبب (یہ خطاب مذکور تو جن و انس کو باعتبار ان کے احوال متعلقہ باہم دگر کے تھا، آگے ہر ایک کو باعتبار احوال متعلقہ بذات خاص کے خطاب ہے کہ) اے جماعت جنات اور انسانوں کی (ہاں یہ تو بتلاؤ جو تم کفر و انکار کرتے رہے تو) کیا تمہارے پاس تم ہی میں کے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم سے میرے احکام (متعلق عقائد و اعمال کے) بیان کیا کرتے تھے اور تم کو اس آج کے دن (کے وقوع) کی خبر دیا کرتے تھے (پھر کیا وجہ کہ تم کفر و انکار سے باز نہ آئے) وہ سب عرض کریں…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًا الایہ، یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف جو اوپر یمعشر الجن قد اسکتثرتم من الانس کے ٹکڑے میں مذکور ہوئی اور ولی، تولیۃ فلانا الامر کے معنی ہیں فلاں کو اس پر حاکم، والی اور قابض بنا دیا اور اس پر مسلط کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو شیاطین جن نے بیشمار انسانوں پر اپنا تسلط جما لیا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان شیاطین کو انسانوں پر اختیار ملا ہوا تھا بلکہ اس کا سبب خود ان کے اعمال ہوئے ہیں۔ انہوں نے خدا کی ہدایت چھوڑ کر اپنی خواہشات و بدعات کی پیروی کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ شیطان کے پیرو بن گئے اور اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جو لوگ شیاطین کے پیرو بن جاتے…
Read the full tafseer →129۔ 1 یعنی جہنم میں جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ہم نے انسانوں اور جنوں کو ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار بنایا اسی طرح ہم نے ظالموں کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ایک ظالم کو دوسرے ظالم پر ہم مسلط کردیتے ہیں اس ایک ظالم دوسرے ظالم کو ہلاک اور تباہ کرتا ہے اور ایک ظالم کا انتقام دوسرے ظالم سے لے لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →59: یعنی جس طرح ان کافروں پر ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے شیاطین کو مسلط کردیا گیا جو انہیں بہکاتے رہے، اسی طرح ہم ظالموں کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر دوسرے ظالموں کو مسلط کردیتے ہیں، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب کسی ملک کے لوگ بداعمالیوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر ظالم حکمران مسلط کردئے جاتے ہیں، اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص کسی ظالم کے ظلم میں اس کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اسی ظالم کو مدد کرنے والے پر مسلط کردیتا ہے۔ ابن کثیر۔
Read the full tafseer →(آیت) ” وَکَذَلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظَّالِمِیْنَ بَعْضاً بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُونَ (129)
” دیکھو اس طرح (آخرت میں) ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے ۔ اس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کرتے تھے ) ۔
یعنی یہ بات قابل عبرت ہے کہ جنوں اور انسانوں کے درمیان اس طرح دوستی قائم ہوجاتی ہے اور اس دوستی کا یہ انجام ہوتا ہے ۔ اس طرح اللہ انہیں ایک دوسرے کے لئے ساز گار بنا دیتا ہے ۔ خود ان کی اپنی کمائی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے مزاج اور ان کی خواہشات ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتی ہیں ۔ انکے رجحانات اور اہداف ایک ہوتے ہیں اور پھر ان کا…
Read the full tafseer →6 جیسے تم نے " شیاطین الجن " اور ان کے اولیاء انسی کا حال سنا۔ اسی طرح تمام ظالموں اور گنہگاروں کو ان کے ظلم اور سیہ کاریوں کے تناسب سے دوزخ میں ہم ایک دوسرے کے قریب کردیں گے اور جو جس درجہ کا ظالم و گنہگار ہوگا اس کو اسی کے طبقہ عصاۃ میں ملا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
آیت 128 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًاج یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ج
وہ جو تمہارے بڑے جن عزازیل نے کہا تھا : وَلاَ تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ الاعراف اور تو ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا نہیں پائے گا۔ تو واقعی بہت سے انسانوں کو تم نے ہتھیا لیا ہے۔ یہ گویا ایک طرح کی شاباش ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو دی جائے گی۔
وَقَالَ اَوْلِیٰٓءُہُمْ مِّنَ الْاِنْسِ
اس پر جنوں کے ساتھی انسانوں کی غیرت ذرا جاگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہہ دیا ہے کہ جنات نے ہمیں ہتھیا لیا ہے ‘ شکار کرلیا ہے۔ اس پر وہ بول اٹھیں گے :
رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ
ہم ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
135 جنوں کا انسانوں کے سر چڑھنا :۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون سے ملتا جلتا مضمون بیان فرمایا ہے کہ آدمیوں میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو جنوں سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ انسانوں کے اس فعل نے جنوں کی سرکشی کو اور بڑھا دیا۔ یعنی جن انسانوں کے سر پر چڑھ گئے۔ دور جاہلیت میں جب کوئی شخص جنگل میں پھنس جاتا یا کسی سفر میں اسے جان کا خطرہ درپیش ہوتا تو وہ یوں کہتا میں اس جنگل کے مالک کی پناہ میں آتا ہوں۔ یعنی ان لوگوں کے وہم کے مطابق ہر جنگل کا الگ الگ بادشاہ ہوتا تھا اور جو شخص اس سے پناہ مانگتا تو وہ اس کی فریاد کو بھی پہنچتا تھا اور یہ بادشاہ کوئی شیطان یا جن ہی ہوا کرتا تھا۔ جو آدمیوں کی ایسی…
Read the full tafseer →193 ۔ یہ ٹھیک ٹھیک بدلہ ان کے اعمال کا ہوگا، کوئی ظلم و زیادتی ہرگز ہرگز نہ ہوگی۔ ارواح میں باہم مشابہت وہم جنسی ہوتی ہے۔ خبیث روحین جن وانس کی ایک جگہ رہیں گی، اور طاہر روحیں جن وانس کی یکجا۔ لان الجنسیۃ علۃ الضم فالارواح الخبیثۃ تنضم الی ما یشاکلھا فی الخبث (کبیر) (آیت) ’ کذلک “۔ یعنی جس طرح دنیا میں ایک دوسرے سے علاقہ قرب وولایت تھا۔ قرناء ھم فی العذاب کما کانوا فی الدنیا (بیضاوی) (آیت) ” نولی بعض الظلمین بعضا “۔ میں نولی کے معنی ” ہم مسلط کردیں گے “ کے بھی کیے گئے ہیں۔ قال ابن زید تسلط ظلمۃ الجن علی ظلمۃ الانس (قرطبی) اور یہ معنی لے کر بھی محققین نے کہا ہے کہ ظلم کے تحت میں ہر قسم کا ظلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
یا معشر الجن قد۔۔ (الآیۃ) اے جنو ! تم نے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو گمراہ کرکے اپنا پیرو بنا لیا ہے، جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے کیا فائدہ حاصل کیا ؟ اس کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا ان کو اپنا پیروکار بنا کر ان سے تلمذ حاصل کرنا ہے اور انسانوں کے جنوں سے فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں نے ان کے گناہوں کو خوشنما بنا کر پیش کیا جسے انہوں نے قبول کرلیا، دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان ان غیبی خبروں کی تصدیق کرتے رہے جو شیطین و جنات کی طرف سے کہانت کے طور پر پھیلاتی جاتی تھیں یہ گویا کہ جنات نے انسانوں کو بیوقوف بنا کر فائدہ اٹھایا، اور انسانوں کا فائدہ…
Read the full tafseer →وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا بما کانوا یکسبون . اور (جس طرح ہم نے کفار جن و انس کو بےمدد چھوڑ دیا اور ایک کو دوسرے سے فائدہ اندوز ہونے کا موقع دیا) اسی طرح ہم بعض کافروں کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے اعمال کے سبب سے۔ نولی : کا ترجمہ علماء نے مختلف طور پر کیا ہے ہم بعض کو بعض کا دوست بنا دیتے ہیں مؤمن کا دوست مؤمن کو خیر پر ابھارتا اور نیکی میں اس کی مدد کرتا ہے اور کافر کا دوست کافر کو شر پر اکساتا اور شر میں اس کی مدد کرتا ہے (قتادہ) معمر کی روایت سے قتادہ کا قول اس طرح آیا ہے کہ ہم دوزخ کے اندر ایک کے پیچھے دوسرے کو (قطار در قطار) بھیجیں گے۔ نولی : کا لفظ موالات سے ماخوذ ہے اور موالات کا…
Read the full tafseer →(129) اور اسی طرح ہم مشرکین کو دنیا وآخرت میں بعض کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے افعال واقول شرکیہ کی وجہ سے یا یہ کہ مشرکوں میں سے ایک کو ایک پر غلبہ دیں گے۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًۢا۔۔ : یعنی جس طرح ہم نے جنات اور بعض انسانوں کو ایک دوسرے کا دوست بنادیا اسی طرح ہم ظالم اور فاسق و فاجر انسانوں کو ان کے اعمال کے سبب ایک دوسرے کا دوست بنا دیتے ہیں، جیسا کہ دیکھیے سورة توبہ (67، 71)۔ ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسی طرح ہم (آخرت میں) ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنادیں گے کہ جس طرح وہ دنیا میں گناہوں کے ارتکاب میں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار تھے اسی طرح آخرت کا عذاب بھگتنے میں بھی وہ ایک دوسرے کے شریک حال ہوں گے۔ بعض نے ”َ نُوَلِّيْ“ کا ایک معنی یہ کیا ہے کہ ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر والی اور حاکم بنا دیتے ہیں کہ جس…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 129
قولہ تعالیٰ : آیت : وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا اس کا معنی ہے جس طرح ہم نے ان کے ساتھ کیا ہے ان کاموں کے متعلق جو میں نے تمہارے لیے بیان کیے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے فائدہ اور حظ اٹھاتے ہیں ( اسی طرح) میں بعض ظالموں کو بعض کا دوست بنا دیتا ہوں، پھر کل وہ ایک دوسرے سے برأت اختیار کرلیں گے۔ اس تفسیر پر نولی کا معنی ہے نجعل ولیا ( ہم دوست بنا دیتے ہیں)
ابن زید نے کہا ہے : ہم ظالم جنوں کو ظالم انسانوں پر مسلط کردیتے ہیں۔ اور ان سے یہ بھی منقول ہے کہ ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں اور وہ انہیں ہلاک اور ذلیل و رسوا کرتے ہیں۔ یہ ظالموں کے لیے تہدید اور دھمکی ہے کہ اگر وہ…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک نولی بعض الظلمین یعنی جنات میں سے ظلم کرنے والے اور انسانوں میں سے ظلم کرنے والوں کو ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں اور (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین اور فرمایا کہ ہم مسلط کردیتے ہیں ظلم کرنے والے جنوں کو ظلم کرنے والے انسانوں پر۔
(2) امام عبد الرزاق، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا کہ اللہ تعالیٰ مسلط کردیتے ہیں بعض ظالموں کو بعض پر دنیا میں اور جہنم میں بھی بعض بعض کی اتباع کریں گے۔
(3) امام عبد بن حمید، ابن…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نُوَلِّيْ [ ہم پھیر دیں گے (یعنی ساتھ ملا دیں گے ) ] بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظالموں کے بعض کو ] بَعْضًۢا [ بعض کے ساتھ ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ وہ کمائی کرتے تھے ]
Read the full tafseer →نُوَلِّیْ بَعْضَ الظَّالِمِیْنَ کی تفسیر :
نُوَلِّیْ کا یہ ترجمہ جو ابھی لکھا گیا حضرت قتادہ سے منقول ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے ان سے نقل کیا ہے۔ نَجْعَلُ بَعْضَھُمْ اَوْلِیْآءَ بَعْضٍ کہ ہم ظالموں کو آپس میں ایک دوسرے کا دوست بناتے ہیں۔ یہ معنی بھی صحیح ہے دنیا میں ہر وقت اس کا مظاہرہ ہے اور اسی دوستی کی وجہ سے آپس میں مل کر اسلام اور اہل اسلام کی دشمنی میں ایک دوسرے کی معاونت کرتے رہتے ہیں۔
اور بعض حضرات نے نُوَلِّیْ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ظالموں کو ایک دوسرے سے قریب کردیں گے۔ یعنی قیامت کے دن ایک ہی قسم کے لوگوں کی جماعتیں بنا دی جائیں گی۔ پھر یہ جماعتیں دوزخ میں چلی جائیں گی۔ جیسا کہ سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون
(ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا…
Read the full tafseer →143 نہ ماننے کی ساتویں وجہ۔ یعنی بوجہ شرک تمام مشرکین ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں اور دعویٰ توحید کو قبول نہیں کرتے۔ جیسا کہ سورة عنکبوت ع 3 میں ہے اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اَوْثَانًا مَوَدَّۃً بَیْنَکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا جس طرح مشرک پیر کے مرید باہم پیر بھائی ہوتے ہیں اور اہل توحید کی بات نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
ربط آیات
گذشتہ دورس میں یہ بیان آچکا ہے۔ کہ جسے اللہ تعالیٰ راہ راست کی طرف ہدیت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہی میں رکھنا چاہتا ہے اس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے اور اس میں ایمان اور اسلام جیسی اعلیٰ چیز داخل نہیں ہو سکتی اور پھر اس شخص کی حالت ایسی ہوجاتی ہے جیسے اس کو آسمان پر چڑھنا پڑے۔ جس طرح کوئی شخص اس مادی جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں چڑھ سکتا اسی طرح تنگدل شخص ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ کفر شرک کرنے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نجاست ڈال دیتا ہے۔ جو ایمان سے محروم ہوتے ہیں ، ضد اور عناد کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان پر شیطان مسلط…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِـمِيْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 129 ۧ
نولی
۔ مضارع جمع متکلم۔ تولیۃ ( تفعیل) ہم حاکم بنا دیتے ہیں۔ ہم مسلط کردیتے ہیں۔ باہم دوست بنا دیتے ہیں۔
صاحب مدارک نے نولی بعض الظلمین بعضا کی تشریح تین طرح کی ہے :۔
(1) ایک کو دوسرے کے پیچھے دوزخ میں داخل کرنا۔ اس وقت نولی کا ماخذ موالاۃ ہوگا۔ کسی کام کا پیہم پے در پے کرنا۔
(2) ایک ظالم کو دوسرے ظالم پر مسلط کرنا۔ اس وقت نولی کا ماخذ ولایۃ ہوگا۔ حکومت۔ غلبہ۔ تسلط۔ یہ قول عام اہل تفسیر کا ہے۔
(3) ایک کو دوسرے کا درست اور مددگار بنا دینا۔ اس وقت نولی کا ماخذ ولایۃ ہوگا۔ دوستی۔ مدد۔ قتادہ کا یہی قول ہے۔ ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
ترکیب : فمن شرط یشرح جواب حرجا اے ضیقًا بکسر الراصفۃ وفتحہا مصدر وصف بہ مبالغہ کانما فی موضع نصب اوحال من الضمیر فی جرح۔ مستقیما حال ہے صراط ربک سے والعامل ہذا حرجا بالفتح جمع حرجۃ وہی شدۃ الضیق یصعد قری مخففامن الصعود ومشد دا واصلہ یتصعدو معناۃ یتکلف مالایطق مرۃ بعد مرۃ۔
تفسیر : پہلے کافر کی مثال مردہ اور اندھیریوں میں پڑے ہوئے کی اور مومن کی زندہ اور نور میں چلنے والی کی بیان کی تھی۔ اب یہاں سے اس تعجب واستبعاد کو دور کرکے اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ باوجود اس قدر معجزات و آیات نبی ات کے پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ وہ یہ کہ ایمان لانا اور کفر میں پڑا رہنا یہ سب باتیں قضاء و قدر کے بس میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
چناچہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
وَ یَوْمَ یَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ج یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ج وَقَالَ اَوْلِیٰٓؤُھُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِیْٓ اَجَّلْتَ لَنَا ط قَالَ النَّارُ مَثْوٰکُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اِلَّا مَا شَآئَ اللہ ُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًام بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (الانعام : 128۔ 129)
(اور اس دن کا دھیان کرو ‘ جس دن وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ کہے گا ‘ اے جنوں کے گروہ ! تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو اپنا لیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کو چھوڑنے والے انسانوں اور جنوں کا انجام اور ان کا اقرار۔
جن لوگوں اور جنات نے اسلام کے بغیر کوئی اور دین اپنایا وہ صراط مستقیم سے گمراہ ہوئے جس کا نتیجہ ہے کہ وہ ” دارالسلام “ یعنی جنت سے محروم ہوگئے۔ انسان کی گمراہی شیطان کی وجہ سے ہوتی ہے اور شیاطین کی اکثریت کا تعلق جنات سے ہے اس لیے محشر کے دن اللہ تعالیٰ جنات کو خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا۔ اے جنو ! تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا جس کا اقرار شیاطین کے ساتھ انسان اس طرح کریں گے اے ہمارے رب تیرا فرمان سچا ہے اور واقعی ہم نے ایک دوسرے سے مفادات اور فائدے اٹھائے اور ہم نے بڑے بڑے جرائم کیے ہیں یہاں تک کہ ہماری…
Read the full tafseer →کند ہم جنس باہم جنس پرواز :
آیت 129: وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًا آگ میں ان کو ایک دوسرے کے پیچھے لگا دیں گے۔ دوسری تفسیر ایک دوسرے پر مسلط کردیں گے۔ تفسیر دیگر۔ ایک دوسرے کا دوست بنادیں گے۔ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ اس وجہ سے کہ انہوں نے کفر و معاصی کمائے۔ پھر ان کو قیامت کے دن توبیخ کے طور پر کہا جائے گا۔
Read the full tafseer →تفسیر 129 (وکذلک نولی بعض الظلمین بعضام بما اکنوا یکسبون) بعض نے کہا یعنی جیسے ہم نے نافرمان جن و انس کو ذلیل کیا حتیٰ کہ انہوں نے ایک دوسرے سے نفع اٹھایا۔ اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیں گے اور ظالم سے ظالم کے ذریعے بدلہ لیں گے جیسا کہ وارد ہوا ہے کہ جس نے ظالم کی مدد کی اللہ اس ظالم کو اسی پر مسلط کر دے گا۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہم ان میں سے بعض کو بعض کا دوست بنادیں گے۔ پس مئومن جہاں بھی ہو مئومن کا دوست وہ گا اور کافر کافر کا دوست ہے جہاں بھی ہو اور معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے ہم ان میں سے بعض کو بعض کے آگے پیچھے لگا دیں گے۔ موالاۃ سے ہے اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی ہم ظالم…
Read the full tafseer →قتادہ کے قول کے موافق آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ بہکانے والے شیاطین اور بہکنے والے بنی آدم کا جس طرح عام گروہ اور آیت کے موافق جہنمی قرار پاوے گا اسی طرح پر اس عام گروہ میں سے خاص خاص ٹکڑیاں اس آیت کے موافق چھانٹی جاکر جہنم میں ڈالی جاوے گی مثلا بت پرستوں کی ایک ٹکڑی ہوگی تو سورج پرستوں کی دوسری ٹکڑی۔ صحیح بخاری وغیرہ میں ابو سعیدخدری ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے حکم سے فرشتے یہ پکار کر کہہ دیویں گے کہ ہر طرح کے مشرکوں کی ایک ایک ٹکڑی الگ الگ ہوجاوے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 129–135
آیت 129
(ویوم یحشرھم جمیعاً ) ” اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو “ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنہوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنہوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا : (یمعشرالجن قدر استکترتم من الانس) ” اے گروہ جنات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے۔ “ یعنی اے جنوں کی جماعت ! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →254 دفع ظلم کے لیے قانون و دستور خداوندی کا ذکر : سو اس سے ظالموں کے ظالموں پر مسلط کرنے کے قانون و دستور خداوندی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اسی طرح مسلط کردیتے ہیں بعض ظالموں کو بعض پر۔ تاکہ ان کو ان کے مظالم کا کسی حد تک مزہ چکھایا جاسکے اور دنیا کو ان کے مظالم سے رہائی مل سکے۔ اور کافر کا دوست کافر اور مومن کا دوست مومن کہ جنس اپنی جنس ہی کی طرف مائل ہوتی ہے۔ اسی لئے کافر کافر کا دوست ہوتا ہے اور مومن مومن کا، وہ جہاں کہیں بھی ہو۔ اسی طرح ظالم ایک دوسرے کے ساتھ لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ سب جاکر دوزخ میں گریں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
سلامتی کی راہ
تشریح : ان دو آیات میں نیک لوگوں کے لیے دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اے رسول ﷺ ! جو کچھ آپ انہیں سکھا رہے ہیں یہی آپ کے رب کی مقرر کی ہوئی سیدھی راہ ہے۔ جو لوگ اس راہ پر چلیں گے وہ ایسی منزل پر پہنچ جائیں گے جہاں ان کے لیے سکون اور آرام کا بندوبست ہوگا۔ جنہوں نے دنیا کے غلط عیش و آرام کو ٹھکرا کر صرف اپنے رب کی فرمانبرداری کی ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ان کو مرنے کے بعد آخرت میں جنت کی تمام نعمتیں ملیں گی اور اللہ رب العزت ان کا بہترین مددگار ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–130
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔
اسرار و معارف :
اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے…
Read the full tafseer →ف 1 یا جب اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ اس میں نہ رہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ دوزخ بآلا خر فناہو جائے گی بلکہ دوزخ تو جنت کی طرح ہمیشہ رہے گی۔ ( دیکھئے سورة ہود آیت 107) لفظ الا ما شا ش اللہ سے جو شبہ پیدا ہوتا ہے اس کے جواب شاہ صا حب (رح) فرماتے ہیں جو فرمایا کہ آگ میں رہا کریں گے مگر جو چاہے اللہ تو یہ اس لے کہ اگر دوزخ کا عذاب دائمی ہے تو اس کے چاہنے سے ہے۔ وہ چاہے تو مو قوف کوے لیکن وہ ایک چیز چاہ چکا ، ( مو ضح)2 پھر وہ انہیں اپنے ظلم وستم کا تختہ مشق بناتا ہے ،۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے اس طرح ہم آخرت میں ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے ان اعمال کی و جہ سے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے…
Read the full tafseer →(6:129) نولی۔ مضارع جمع متکلم۔ تولیۃ (تفعیل) ہم حاکم بنا دیتے ہیں۔ ہم مسلط کردیتے ہیں۔ باہم دوست بنا دیتے ہیں۔
صاحب مدارک نے نولی بعض الظلمین بعضا کی تشریح تین طرح کی ہے :۔
(1) ایک کو دوسرے کے پیچھے دوزخ میں داخل کرنا۔ اس وقت نولی کا ماخذ موالاۃ ہوگا۔ کسی کام کا پیہم پے در پے کرنا۔
(2) ایک ظالم کو دوسرے ظالم پر مسلط کرنا۔ اس وقت نولی کا ماخذ ولایۃ ہوگا۔ حکومت۔ غلبہ۔ تسلط۔ یہ قول عام اہل تفسیر کا ہے۔
(3) ایک کو دوسرے کا درست اور مددگار بنادینا۔ اس وقت نولی کا ماخذ ولایۃ ہوگا۔ دوستی۔ مدد۔ قتادہ کا یہی قول ہے۔ ابن کثیر نے بھی یہی مطلب لیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
لغات القرآن : آیت نمبر 128 سا 132 :
یمعشر (اے جماعت۔ اے گروہ) استکثرتم ( تم نے بتہ کچھ حاصل کرلیا) استمتع ( نفع اٹھایا۔ فائدہ اٹھایا) بلغنا ( ہمیں پہنچا) اجلت ( تو نے مقرر کیا تھا) مثوی (ٹھکانا) نولی ( ہم دوست بناتے ہیں) الم یا تکم ( کیا تمہارے پاس نہیں آئے) یقصون ( بیان کرتے ہیں) ینذرون (وہ ڈراتے ہیں) لقاء ( ملاقات۔ ملنا) غرت (دھوکے میں ڈال دیا) لم یکن ( نہیں ہے) مھلک القری ( بستیوں کو ہلاک کرنے والا) اھلھا ( اس کے رہنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 128 تا 132 :
ان آیات میں اس وقت کی منظر کشی کی گئی ہے جب میدان حشر میں قوم جن اور قوم انس میں سے سارے گنہ گار ایک طرف جمع ہونگے۔ اللہ تعالیٰ قوم جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
اس کا مطلب یہ ہے کہ بہکانے والے شیاطین اور بہکنے والے بنی آدم کا جس طرح عام گروہ اوپر کی آیت کے موافق جہنمی قرار پاوے گا، اسی طرح اس عام گروہ میں سے خاص خاص ٹکڑیاں اس آیت کے موافق چھانٹ کر جہنم مین ڈالی جائیں گی مثلا بت پرستوں کی ایک ٹکڑی، تو سورج پرستوں کی دوسری ٹکڑی (جماعت)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
(ف 1) دنیا میں گناہ کے لئے قدم قدم پر آسانیاں ہیں ، جہاں چاہو ، جب چاہو ، نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب کرلو مشکل یہ ہے کہ نیک بنو شرارت اور گناہ کے بیشمار وداعی اور اسباب ہیں ، نیکی اور صداقت کے محرکات کم ہیں ایک طرف نفس امارہ ہے ، اس کی خواہشیں ہیں ، شیاطین کے دامہائے تزویر ہیں ، اور دھوکے ہیں ، کچھ پنہاں ہیں ، کچھ ظاہر ہیں ، دوسری جانب تنہا عقل ، جس کی بیچارگی معلوم ۔
ان آیات میں نہایت سادہ انداز میں اس حکیمانہ حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ، قیامت کے دن اللہ شیطانوں سے کہے گا ، تم نے بہت گمراہی پھیلائی ، آج مکافات کا دن ہے ، آؤ تمہیں سزا دیں ،
کمزور ایمان کے لوگ جو شیطان کے بھرے میں جلد آجاتے…
Read the full tafseer →-129 اور جس طرح دنیا میں سب گمراہوں میں باہمی تعلق تھا اسی طرح بعض ظالموں کو بعض کے ساتھ ملا دیں گے اس کمائی کے سبب اور ان کے ان اعمال کے باعث جو وہ کیا کرتے تھے یعنی جس طرح دنیا میں ایک ظالم دوسرے ظالم کا ساتھ دیتا ہے اسی طرح ہم آگ میں بھی ایک ظالم کو دوسرے ظالم کے ساتھ ملا جلا کر جہنم میں ڈال دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
ف 9۔ علم سے سب کے جرائم معلوم کرتا ہے اور حکمت سے مناسب سزا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں :
201: چور اگر ظالم ہے تو بلاشبہ چوری کرانے والے یعنی جس کے بل بوتے پر اس نے چوری کی وہ اس سے بھی بڑا ظالم ہے اس طرح ایک دوسرے پر مسلط بھی ہوا اور اسی کے عمل میں برابر کا شریک بھی کیونکہ اس نے جو کچھ چوری کی اس میں وہ برابر کا شریک ہے یعنی حصہ دار ہے اور اگر یہ چور پکڑا جائے تو اس کا چھڑانے والا بھی ہے اس زور اور قوت کے بل پر جو اس کے پاس ہے اور آج بھی اس دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہی کچھ ہے بشرطیکہ کوئی ان حالات پر نگاہ رکھنا چاہئے اور جن علمائے کرام نے قوم کی بیٹیوں اور بچوں ہی کو ان جنات اور ان کے سایوں سے ڈرا دھمکا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھا…
Read the full tafseer →Commentary
Lexically, the word: (nuwalli) appearing in the first (129) of the three verses cited above can be translated either in the sense of joining up and bringing closer, or in the sense of setting on or imposing on. Narrations reported from leading authorities in Tafsir among the Sahabah and Tabi` in also carry the explanation of this word as based on these two meanings.
The Basis of Human Groupings after Resurrection
Early authorities Said ibn Jubayr and Qatadah and others have taken the first sense and, according to them, the verse means that, on the day of Qiyamah before Allah Ta`…
Read the full tafseer →97. Just as the wrong-doers had been accomplices in sin and evil during their earthly life, they would remain companions in the After-life as well and share its punishment.
Read the full tafseer →