یوم حشر
وہ دن بھی قریب ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرے گا۔ جناب انسان عابد معبود سب ایک میدان میں کھڑے ہوں گے اس وقت جنات سے ارشاد ہوگا کہ تم نے انسانوں کو خوب بہکایا اور ورغلایا۔ انسانوں کو یاد دلایا جائے گا کہ میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا وہ تمہارا دشمن ہے میری ہی عبادت کرتے رہنا یہی سیدھی راہ ہے لیکن تم نے سمجھ سے کام نہ لیا اور شیطانی راگ میں آگئے اس وقت جنات کے دوست انسان جواب دیں گے کہ ہاں انہوں نے حکم دیا اور ہم نے عمل کیا دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور فائدہ حاصل کرتے رہے، جاہلیت کے زمانہ میں جو مسافر کہیں اترتا تو کہتا کہ اس وادی کے بڑے جن کی پناہ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 94
یہاں جنوں سے مراد شیاطین جن ہیں۔
سورة الْاَنْعَام 95
یعنی ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے ناجائز فائدے اٹھائے ہیں، ہر ایک دوسرے کو فریب میں مبتلا کر کے اپنی خواہشات پوری کرتا رہا ہے۔
سورة الْاَنْعَام 96
یعنی اگرچہ اللہ کو اختیار ہے کہ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے، مگر یہ سزا اور معافی بلاوجہ معقول، مجرد خواہش کی بنا پر نہیں ہوگی، بلکہ علم اور حکمت پر مبنی ہوگی۔ خدا معاف اسی مجرم کو کرے گا جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ خود اپنے جرم کا ذمہ دار نہیں ہے اور جس کے متعلق اس کی حکمت یہ فیصلہ کرے گی کہ اسے سزا نہ دی جانی چاہیے۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں میدان حشر کے اندر تمام جنات اور انسانوں کو جمع کرنے کے بعد دونوں گروہوں سے ایک سوال و جواب کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ شیاطین الجن کو خطاب کرکے ان کے جرم کا اظہار اس طرح فرمائیں گے کہ تم نے انسانوں کی گمراہی میں بڑا حصہ لیا ہے، اس کے جواب میں جنات کیا کہیں گے قرآن نے اس کا ذکر نہیں کیا، ظاہر یہی ہے کہ علیم وخبیر کے سامنے اقرار کرنے کے سوا چارہ کیا ہے، مگر ان کا اقرار ذکر نہ کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ اس سوال پر وہ ایسے مبہوت ہوجائیں گے کہ جواب کیلئے زبان نہ اٹھ سکے گی (روح)۔
اس کے بعد شیاطین الانس یعنی وہ لوگ جو دنیا میں شیطانوں کے تابع رہے خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کی گمراہی کا…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا، ھم سے مراد وہی اکابر مجرمین ہیں جن کا ذکر آیات 123 تا 124 میں گزرا اور جمیعا کی تاکید اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ شیاطین انس کے ساتھ ساتھ وہ شیاطین الجن بھی جمع کیے جائیں گے جن کے القا والہام کی انہوں نے پیروی کی، جیسا کہ اوپر آیت 112 سے ان کا ذکر چلا آ رہا ہے، ان سب کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جمع کر کے شیاطین الجن کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ يٰمَعْشَرَالْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ (اے جنوں کے گروہ تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا) ظاہر ہے کہ یہاں جنوں کے گروہ، سے مراد جنوں کی پوری امت نہیں ہے بلکہ ان کے اندر کا وہی گروہ…
Read the full tafseer →128۔ 1 یعنی انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد تم نے گمراہ کرکے اپنا پیروکار بنا لیا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورة یٰسین میں فرمایا ' اے بنی آدم کیا میں نے تمہیں خبردار نہیں کردیا تھا کہ تم شیطان کی پوجا مت کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ تم صرف میری عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے اور شیطان نے تمہاری ایک بہت بڑی تعداد کو گمراہ کردیا ہے کیا پس تم نہیں سمجھتے (یٰسین۔ 60، 62)۔
128۔ 2 جنوں اور انسانوں نے ایک دوسر سے کیا فائدہ حاصل کیا ؟ اس کے دو مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا ان کو اپنا پیروکار بنا کر تلذذ حاصل کرنا اور انسانوں کا جنوں سے فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ شیطان نے…
Read the full tafseer →57: انسان تو شیطانوں سے یہ مزے لیتے رہے کہ ان کے بہکائے میں آ کر اپنی نفسانی خوہشات کی تکمیل کی اور وہ گناہ کیے جن سے ظاہری طور پر لذت حاصل ہوتی تھی۔ اور شیطان انسانوں سے یہ مزے لیتے رہے کہ انہیں گمراہ کر کے خوش ہوئے کہ یہ لوگ خوب اچھی طرح ہمارے قابو میں آگئے ہیں۔ در اصل وہ یہ کہہ کر اپنی غلطی کا اعتراف کر رہے ہوں گے، اور غالباً آگے معافی بھی مانگنا چاہتے ہوں گے، لیکن یا تو اس سے آگے کچھ کہنے کا حوصلہ نہیں ہوگا، یا چونکہ معافی کا وقت گذر چکا ہوگا، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ فرمائیں گے کہ اب معافی تلافی کا وقت گذر چکا، اب تو تمہیں جہنم کی سزا بھگتنی ہی ہوگی۔
58: اس کا…
Read the full tafseer →درس نمبر 69 تشریح آیات :
128۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 135۔
اس سے پہلے سبق میں یہ بات گزری ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دلوں کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے دل بیدار ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔ یہ لوگ دارالسلام میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے رب کی ولایت اور کفالت میں رہتے بستے ہیں ۔ اب یہاں ایسے لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو ان کے نقیض ہیں ۔ قیامت کے مناظر بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کا یہی انداز ہوتا ہے کہ وہ تصویر کے دونوں رخ انسان کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ اب یہاں انسانوں اور جنوں میں سے جو لوگ شیطانی کام کرتے ہیں ان کے شب وروز کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں…
Read the full tafseer →2 یعنی اے شیاطین الجن تم نے بہت سے بدبخت انسانوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا اور اپنی راہ پر لگا لیا۔
3 دنیا میں جو انسان بت وغیرہ پوجتے ہیں وہ فی الحقیقت خبیث جن (شیاطین) کی پوجا ہے۔ اس خیال پر کہ وہ ہمارے کام نکالیں گے ان کو نیازیں چڑھاتے ہیں اور ویسے بہت سے اہل جاہلیت تشویش و اضطراب کے وقت جنوں سے استعانت کرتے تھے۔ جیسا کہ سورة جن " میں اشارہ کیا گیا ہے اور ابن کثیر وغیرہ نے روایات نقل کی ہیں۔ جب آخرت میں وہ شیاطین الجن اور انسان برابر پکڑے جائیں گے اور حقائق کا انکشاف ہوگا تب مشرک لوگ یوں عذر کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے پوجا نہیں کی لیکن آپس میں وقتی کارروائی کرلی تھی اور موت کا وعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
آیت 128 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًاج یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ج
وہ جو تمہارے بڑے جن عزازیل نے کہا تھا : وَلاَ تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ الاعراف اور تو ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا نہیں پائے گا۔ تو واقعی بہت سے انسانوں کو تم نے ہتھیا لیا ہے۔ یہ گویا ایک طرح کی شاباش ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو دی جائے گی۔
وَقَالَ اَوْلِیٰٓءُہُمْ مِّنَ الْاِنْسِ
اس پر جنوں کے ساتھی انسانوں کی غیرت ذرا جاگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہہ دیا ہے کہ جنات نے ہمیں ہتھیا لیا ہے ‘ شکار کرلیا ہے۔ اس پر وہ بول اٹھیں گے :
رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ
ہم ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
135 جنوں کا انسانوں کے سر چڑھنا :۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون سے ملتا جلتا مضمون بیان فرمایا ہے کہ آدمیوں میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو جنوں سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ انسانوں کے اس فعل نے جنوں کی سرکشی کو اور بڑھا دیا۔ یعنی جن انسانوں کے سر پر چڑھ گئے۔ دور جاہلیت میں جب کوئی شخص جنگل میں پھنس جاتا یا کسی سفر میں اسے جان کا خطرہ درپیش ہوتا تو وہ یوں کہتا میں اس جنگل کے مالک کی پناہ میں آتا ہوں۔ یعنی ان لوگوں کے وہم کے مطابق ہر جنگل کا الگ الگ بادشاہ ہوتا تھا اور جو شخص اس سے پناہ مانگتا تو وہ اس کی فریاد کو بھی پہنچتا تھا اور یہ بادشاہ کوئی شیطان یا جن ہی ہوا کرتا تھا۔ جو آدمیوں کی ایسی…
Read the full tafseer →190 ۔ یعنی انسانوں کو خوب بہکایا۔ ای من الاستمتاع بالانس (قرطبی) قد استکثرتم من الدعاء الی الضلال (کبیر) ای من اغواءھم واضلالھم (بیضاوی) (آیت) ” یحشرھم جمیعا “۔ سارے خلائق کے حشر کیے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ المراد حشر جمیع الخلق فی موقف القیامۃ (قرطبی) الضمیر یعود الی المعلوم لاالی المذکور وھو الثقلان و جمیع المکلفین الذین علم ان اللہ یبعثھم (کبیر) (آیت) ” یمعشرالجن “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ فیقال لھم یمعشر الجن۔ یہ صیغہ مجہول اس لیے کہ یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں سے براہ راست کلام کرے، قال الزجاج التقدیر فیقال لھم یا معشر الجن لانہ یبعد ان یتکلم اللہ تعالیٰ بنفسہ مع الکفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
یا معشر الجن قد۔۔ (الآیۃ) اے جنو ! تم نے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو گمراہ کرکے اپنا پیرو بنا لیا ہے، جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے کیا فائدہ حاصل کیا ؟ اس کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا ان کو اپنا پیروکار بنا کر ان سے تلمذ حاصل کرنا ہے اور انسانوں کے جنوں سے فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں نے ان کے گناہوں کو خوشنما بنا کر پیش کیا جسے انہوں نے قبول کرلیا، دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان ان غیبی خبروں کی تصدیق کرتے رہے جو شیطین و جنات کی طرف سے کہانت کے طور پر پھیلاتی جاتی تھیں یہ گویا کہ جنات نے انسانوں کو بیوقوف بنا کر فائدہ اٹھایا، اور انسانوں کا فائدہ…
Read the full tafseer →ویوم یحشرہم جمیعا یمعشر الجن قد استکثرتم من الانس . اور جس روز اللہ سب مخلوق کو جمع کرے گا (اور) فرمائے گا اے گروہ جنات تم نے انسانوں (کے گمراہ کرنے) میں بڑا حصہ لیا یہ مطلب ہے کہ تم نے بہت آدمیوں کو گمراہ کیا گمراہی میں اپنا تابع بنایا۔
وقال اولیۂم من الناس ربنا استمتع بعضنا ببعض وبلغنا اجلنا الذی اجلت لنا . اور جو انسان گمراہ کرنے والے جنات سے تعلق رکھنے والے تھے وہ (اقراراً ) کہیں گے
اے ہماے رب ہم میں سے ایک نے دوسرے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آپہنچے جو تو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی۔ بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں نے جنات سے کچھ افسوں جادو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
(127۔ 128) اور یہ حضرات دنیا میں جو نیکیاں کیا کرتے تھے، اس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ ان کو ثواب اور اعزاز عطا فرمائے گا، یعنی تمام جن وانس کو جمع کرکے جنات سے کہیں گے کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا ہے اور جنات سے تعلق رکھنے والے لوگ جو کہ بڑے جنوں میں سے تھے جب کسی وادی میں اترتے تھے یا کسی مقام پر شکار کھیلتے تھے وہاں کے سرکش جنوں سے پناہ چاہتے تھے جس سے وہاں وہ امن میں کے ساتھ اپنا کام کرلیتے تھے اب کہیں گے ہمارے پروردگار ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کیا اور اسی دوران ہمیں موت آپہنچی۔
انسانوں کا نفع تو جنات سے مطمئن ہونا اور جنات کا نفع ان کی قوم پر شرافت و بزرگی کا حاصل ہونا ہے اللہ…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ۚ: جنوں سے مراد یہاں شیطان جن ہیں۔ ان کا بہت سے انسانوں کو اپنا بنا لینے کا مطلب انھیں گمراہ کر کے اپنے راستے پر لگا لینا ہے اور جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ انھوں نے ان کو گمراہی کی دعوت دی اور انھوں نے اسے قبول کرلیا اور ان کی تعظیم و تکریم اور مصیبتوں کے وقت ان کو پکارنا شروع کردیا اور یہی شیاطین کی کامیابی ہے اور انسانوں کے جنوں سے فائدہ اٹھانے سے مراد ان سے آسمان کے فرشتوں سے سنی ہوئی خبریں، جو وہ جھوٹ ملا کر بتاتے ہیں، سن کر اپنی جھوٹی غیب دانی کا بازار چمکانا، جادو ٹونے میں ان سے مدد لینا وغیرہ ہے اور پھر لوگوں سے پیسے بٹورنا، مزید کئی فوائد…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 128
قولہ تعالیٰ : آیت : ویوم یحشرھم یہ فعل محذوف کی وجہ سے منصوب ہے یعنی ویوم یحشرھم یقول جمعیا یہ حال ہونے کی سجہ سے مضصوب ہے اور مراد قیامت کے دن تمام مخلوق کو میدان حشر میں جمع کرنا ہے۔ آیت : یمعشر الجن اس میں منادی مضاف ہے۔ آیت : قد استکثرتم من الانس اے جنوں کے گروہ ! تم نے انسانوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ( انہیں بہت گمراہ کیا) اس میں وہ مصدر جو مفعول کی طرف مضاف ہے اسے حذف کردیا گیا اور حرف جر با کو حذف کردیا ( یعنی من الاستمتاع بالانس)
اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : آیت : ربنا استمتع بعضنا ببعض اور یہ اس کے قول کو رد کرتا ہے جس نے کہا : بیشک جن وہ ہیں جنہوں نے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قد استکثرتم من الانس یعنی تمہارے گمراہ کرنے میں انہوں نے خاص طور پر (حصہ لیا) یعنی تم نے ان میں سے بہت لوگوں کو گمراہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت قال النار مثوکم خلدین فیھا الا ماشآء اللہ فرمایا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ کسی کو نہیں چاہئے کہ وہ اللہ پر فیصلہ کرے اس کی مخلوق میں کہ وہ ان کو جنت میں نہیں داخل کرے گا اور ان کو جہنم میں داخل نہیں کرے گا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یمعشر الجن قد استکثرتم من الانس…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَحْشُرُهُمْ [ وہ اکٹھا کرے گا ان لوگوں کو ] جَمِيْعًا ۚ [ سب کے سب کو ] يٰمَعْشَرَالْجِنِّ [ (پھر کہے گا) اے جنوں کے گروہ ] قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ [ تم نے بہت جمع کیا ہے ] مِّنَ الْاِنْسِ ۚ [ انسانوں میں سے ] وَقَالَ [ اور کہیں گے ] اَوْلِيٰۗـؤُهُمْ [ ان کے ساتھی ] مِّنَ الْاِنْسِ [ انسانوں میں سے ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] اسْتَمْتَعَ [ فائدہ اٹھایا ] بَعْضُنَا [ ہمارے بعض نے ] بِبَعْضٍ [ بعض سے ] وَّبَلَغْنَآ [ اور ہم پہنچے ] اَجَلَنَا الَّذِيْٓ [ اپنی اس مدت کو جو ] اَجَّلْتَ [ تو نے وقت مقرر کیا ] لَنَا ۭ [ ہمارے لئے ] قَالَ [ وہ (یعنی اللہ ) کہے گا ] النَّارُ [ آگ ]…
Read the full tafseer →قیامت کے دن جنات سے اور انسانوں سے سوال :
اس کے بعد قیامت کے دن جو سوالات ہوں گے ان میں سے ایک سوال کا ذکر فرمایا (وَ یَوْمَ یَحْشَرُھُمْ جَمِیْعًا) کہ جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو یعنی جنات اور انسانوں کو محشر میں جمع فرمائے گا اور جنات سے اللہ تعالیٰ کا یوں خطاب ہوگا۔ (یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ) کہ اے جنات کے گروہ تم نے کثیر تعداد میں انسانوں کو اپنے تابع کرلیا۔ جنات سے شیاطین مراد ہیں۔
جب ابلیس مردود ہوا تھا اس نے کہا تھا (لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًامَّفْرُوْضًا) (کہ میں تیرے بندوں میں سے حصہ مقرر بنا لوں گا) اور یہ بھی کہا تھا۔ (لَاَقْعُدَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–135
قال اللہ تعالیٰ ویوم یحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ انہ لا یفلح الظلمون
(ربط) گذشتہ آیات میں مومن اور کافر کی مثال بیان کی اور یہ بتلایا کہ یہ کافر جو مسلمانوں سے مجادلہ کرتے ہیں اور ان سے جھگڑتے ہیں یہ سب شیاطین کے اغواء سے ہے اب ان آیات میں یہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن شیاطین جن سے باز پرس ہوگی کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس کے بعد جو آدمی ان کے مطیع تھے وہ اس کا جواب دیں گے اور بعد اذان شیاطین جن وانس دونوں کے لیے سزا کا اعلان کیا جائے گا چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن خدا تعالیٰ جن وانس سب کو یکجا جمع کرے گا تاکہ ایک دوسرے کے سوال جواب کو سن سکے اس دن خدا تعالیٰ سب کو جمع کر کے یہ کہے گا…
Read the full tafseer →141:۔ یہ تخویف اخروی ہے یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ اس سے پہلے یَقُوْلُ مقدر ہے اِسْتَکْثَرْتُمْ مَّنَ الْاِنْسِ تم نے بہت سے انسانوں کو اپنے تابع کرلیا اور بہت سوں کو گمراہ کیا اَوْلِیَاءُھُمْ مِّنَ الْاِنسِ ضمیر مجرور الجن کی طرف راجع ہے اور اولیاء سے مراد متبعین ہے وقال اولیاء الجن ای الکفار من الانس (بحر ج 4 ص 220) ای الذین اطاعوھم واتبعوھم (روح ص 25 ج 8) ۔ جن لوگوں نے دنیا میں شیاطین کی پیروی کی وہ اظہار ندامت اور اعترافِ جرم کے طور پر کہیں گے اے اللہ بیشک ہم ایک دوسرے سے (یعنی جن انسانوں سے اور انسان جنوں سے) فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور آج اس میعاد پر آپہنچے ہیں جو تو نے مقرر کر رکھی تھی یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
ربط آیات
گذشتہ دورس میں یہ بیان آچکا ہے۔ کہ جسے اللہ تعالیٰ راہ راست کی طرف ہدیت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہی میں رکھنا چاہتا ہے اس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے اور اس میں ایمان اور اسلام جیسی اعلیٰ چیز داخل نہیں ہو سکتی اور پھر اس شخص کی حالت ایسی ہوجاتی ہے جیسے اس کو آسمان پر چڑھنا پڑے۔ جس طرح کوئی شخص اس مادی جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں چڑھ سکتا اسی طرح تنگدل شخص ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ کفر شرک کرنے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نجاست ڈال دیتا ہے۔ جو ایمان سے محروم ہوتے ہیں ، ضد اور عناد کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان پر شیطان مسلط…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يَحْشُرُہُمْ جَمِيْعًا 0 ۚ يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ 0 ۚ وَقَالَ اَوْلِيٰۗـؤُہُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّبَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِيْٓ اَجَّلْتَ لَنَا 0 ۭ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اِلَّا مَا شَاۗءَ اللہُ 0 ۭ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 128
حشر
الحَشْرُ : إخراج الجماعة عن مقرّهم وإزعاجهم عنه إلى الحرب ونحوها، وروي :
«النّساء لا يُحْشَرن» أي : لا يخرجن إلى الغزو، ويقال ذلک في الإنسان وفي غيره، يقال :
حَشَرَتِ السنة مال بني فلان، أي : أزالته عنهم، ولا يقال الحشر إلا في الجماعة، قال اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
ترکیب : فمن شرط یشرح جواب حرجا اے ضیقًا بکسر الراصفۃ وفتحہا مصدر وصف بہ مبالغہ کانما فی موضع نصب اوحال من الضمیر فی جرح۔ مستقیما حال ہے صراط ربک سے والعامل ہذا حرجا بالفتح جمع حرجۃ وہی شدۃ الضیق یصعد قری مخففامن الصعود ومشد دا واصلہ یتصعدو معناۃ یتکلف مالایطق مرۃ بعد مرۃ۔
تفسیر : پہلے کافر کی مثال مردہ اور اندھیریوں میں پڑے ہوئے کی اور مومن کی زندہ اور نور میں چلنے والی کی بیان کی تھی۔ اب یہاں سے اس تعجب واستبعاد کو دور کرکے اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ باوجود اس قدر معجزات و آیات نبی ات کے پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ وہ یہ کہ ایمان لانا اور کفر میں پڑا رہنا یہ سب باتیں قضاء و قدر کے بس میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
چناچہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
وَ یَوْمَ یَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ج یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ج وَقَالَ اَوْلِیٰٓؤُھُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِیْٓ اَجَّلْتَ لَنَا ط قَالَ النَّارُ مَثْوٰکُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اِلَّا مَا شَآئَ اللہ ُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًام بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (الانعام : 128۔ 129)
(اور اس دن کا دھیان کرو ‘ جس دن وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ کہے گا ‘ اے جنوں کے گروہ ! تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو اپنا لیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
فہم القرآن
ربط کلام : اسلام کو چھوڑنے والے انسانوں اور جنوں کا انجام اور ان کا اقرار۔
جن لوگوں اور جنات نے اسلام کے بغیر کوئی اور دین اپنایا وہ صراط مستقیم سے گمراہ ہوئے جس کا نتیجہ ہے کہ وہ ” دارالسلام “ یعنی جنت سے محروم ہوگئے۔ انسان کی گمراہی شیطان کی وجہ سے ہوتی ہے اور شیاطین کی اکثریت کا تعلق جنات سے ہے اس لیے محشر کے دن اللہ تعالیٰ جنات کو خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا۔ اے جنو ! تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا جس کا اقرار شیاطین کے ساتھ انسان اس طرح کریں گے اے ہمارے رب تیرا فرمان سچا ہے اور واقعی ہم نے ایک دوسرے سے مفادات اور فائدے اٹھائے اور ہم نے بڑے بڑے جرائم کیے ہیں یہاں تک کہ ہماری…
Read the full tafseer →قیامت کا ایک حسرتناک منظر اور اعتراف مجرمین :
آیت 128: وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًاحفص نے یاء کے ساتھ پڑھا۔ اور نافع ابن کثیر ابو عمرو ابن حمزہ نے نحشرہم پڑھا ہے یعنی اذ کر یوم نحشرہم یا ویوم نحشرہم قلنا یٰمعشرا لجن اس دن ہم ان کو جمع کر کے کہیں گے اے گروہ جن۔ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ تم نے ان میں سے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اور ان کو اپنا پیرو بنایا۔ جیسا کہ تم کہتے ہو۔ استکثر الامیر من الجنود۔ امیر نے لشکروں کو تابع بنایا۔ وَقَالَ اَوْلِیٰٓؤُہُمْ مِّنَ الْاِنْسِ وہ جنہوں نے ان جنات کی اطاعت کی اور ان کے وسوسہ کی طرف کان لگایا۔ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ…
Read the full tafseer →128” ویوم یحشرھم “ حفص نے ” یحشرھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” جمیعاً “ یعنی جنون اور انسانوں کو قیامت کے موقف میں جمع کرے گا اور کہے گا۔ ” یمعشرالجن “ جن سے مراد شیاطین ہیں (قد استکثرتم میں الانس) سے یعنی تم نے گمراہ کر کے بہت سے انسان اپنے ساتھ ملا لئے۔ (وقال اولیوھم من الانس) یعنی شیطانوں کے وہ انسان دوست جنہوں نے ان کی اطاعت کی ہے۔ (ربنا استمتع بعضنا ببعض) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ انسانوں نے جنوں سے نفع یوں حاصل کیا کہ جب کوئی انسان جنگل بیابان میں سفر کرتا اور وہاں پڑائو ڈالتا اور جنوں کا خوف ہوتا تو وہ کہتا میں اس وادی کے سردار کی پناہ میں آجاتا ہوں اس کی قوم کے بیوقوفوں کے شر سے تو وہاں…
Read the full tafseer →جن شیاطینوں کے بہکانے سے بت پرست لوگ دنیا میں بت پرستی کرتے تھے اور جو شیطان الجن شیاطین الانس کے دل میں ملمع کی باتیں لوگوں کے بہکانے کے لیے ڈالتے تھے قیامت کے دن ان سب کو ساتھ کھڑا کیا جاکر جس طرح ذلیل کیا جاویگا مکہ کے بت پرستوں کی تنبیہ کے لیے اس آیت میں اس کا ذکر فرمایا ہے قَدِ اسْتَکْثَرْ نُمِْ مِنَ الِاْنِسْ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی آدم کے بہکانے والے شیاطینوں سے قائل کرنے کے طور پر اللہ تعالیٰ یہ پوچھے گا کہ تم نے بہت سے بنی آدم کہ بہکانے کا وبال اپنے سرلیا یا نہیں۔ شیاطین تو اس کا کچھ جواب نہ دے سکیں گے بہکنے والے بنی آدم فقط یہ کہویں گے کہ ہم اور شیاطین مل جل کر ایک دوسرے سے جیتے جی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
آیت 126
یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے، جس کے احکام واضح کردیئے گئے ہیں، جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کردی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کردیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے لئے بہت بڑی جز اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔
اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لھم دارالسلم عندربھم) ” ان کے لئے سلامتی کا گھر ہے انکے رب کے ہاں “ چونکہ جنت ہر عیب، آفت و تکدر اور غم و ہموم جیسی ناخوشگواریوں سے سلامت اور پاک ہے، اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
251 ایمان والوں کے لیے دار السلام سے سرفرازی کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کو ماننے اور اپنانے والوں کیلئے دارالسلام کی خوشخبری ہے۔ یعنی سلامتی کے اس گھر سے سرفرازی کی جہاں ہر طرح کی اور ہر طرف سلامتی ہی سلامتی کا دور دورہ ہوگا۔ جہاں ۔ { اِلَّا قِیْلاً سَلامًا سَلامًا } ۔ کی صدائیں ہوں گی جہاں ۔ { سَلامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ } ۔ کا شرف عظیم اور اعزاز بےمثل نصیب ہوگا۔ جہاں فرشتوں کی نوری مخلوق کی طرف سے ۔ { سَلاَمٌ عَلَیْکُم بِمَا صَبَرُتُمْ } ۔ کے کلمات کریمہ سے استقبال کیا جائے گا ۔ مالک الملک اپنے کرم سے اس گھر میں داخل ہونا نصیب فرما دے اس بندہ ناچیز کو بھی، اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
سلامتی کی راہ
تشریح : ان دو آیات میں نیک لوگوں کے لیے دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اے رسول ﷺ ! جو کچھ آپ انہیں سکھا رہے ہیں یہی آپ کے رب کی مقرر کی ہوئی سیدھی راہ ہے۔ جو لوگ اس راہ پر چلیں گے وہ ایسی منزل پر پہنچ جائیں گے جہاں ان کے لیے سکون اور آرام کا بندوبست ہوگا۔ جنہوں نے دنیا کے غلط عیش و آرام کو ٹھکرا کر صرف اپنے رب کی فرمانبرداری کی ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ان کو مرنے کے بعد آخرت میں جنت کی تمام نعمتیں ملیں گی اور اللہ رب العزت ان کا بہترین مددگار ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–130
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔
اسرار و معارف :
اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
ف 10 اور پھر جنوں سے فرمائے گا۔۔۔۔۔۔11 یا ان کو مطیع اور فرماں بردار بناکر خوب مزے سے لوٹے،12 جنوں جنوں کا انسانوں سے فا ئدہ اٹھانا یہ ہے کہ انہوں نے ان کو گمراہی کی طرف دعوت دی اور انسانوں نے اسے قبول کرلیا اور انسانوں نے جنوں سے یہ فائدہ اٹھایا کہ انہوں نے ان سے طرح طرح کے گناہ اور برے کام سیکھے اور آخرت سے غافل ہو کر دنیا پرستی میں مست ہوگئے۔ (کذافی الکبیر )
Read the full tafseer →(6:128) ویوم یحشرھم۔ ای اذکر یوم یحشرھم۔ اور یاد کرو وہ دن جب وہ (اللہ) ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ۔ جمیع جن و انس کے لئے ہے۔ الخازن۔ صاحب مدارک التنزیل اور بیضاوی نے نحشر (نون کے ساتھ صیغہ جمع متکلم پڑھا ہے)
یمعشرالجن۔ اس سے پہلے یقول محذوف ہے تقدیر ہے ویقول یمعشرالجن ۔۔ اے جنات کے گروہ۔ یہاں جنات سے مراد شیاطین ہیں۔ المعشر۔ اسم مفرد معاشر جمع ۔ بڑا گروہ۔
استکثرتم۔ تم نے بہت زیادہ (تابع) کرلیا۔ استکبار (استفعال) سے ۔ کسی کام کو بہت زیادہ کرنا۔ اسی باب سے لفظ استحصال ہے بہت زیادہ وصول کرنا۔ یہاں استکثرتم من الانس سے مراد یہ ہے کہ انسانوں میں بہتوں کو تم ضلالت اور سرکشی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–132
لغات القرآن : آیت نمبر 128 سا 132 :
یمعشر (اے جماعت۔ اے گروہ) استکثرتم ( تم نے بتہ کچھ حاصل کرلیا) استمتع ( نفع اٹھایا۔ فائدہ اٹھایا) بلغنا ( ہمیں پہنچا) اجلت ( تو نے مقرر کیا تھا) مثوی (ٹھکانا) نولی ( ہم دوست بناتے ہیں) الم یا تکم ( کیا تمہارے پاس نہیں آئے) یقصون ( بیان کرتے ہیں) ینذرون (وہ ڈراتے ہیں) لقاء ( ملاقات۔ ملنا) غرت (دھوکے میں ڈال دیا) لم یکن ( نہیں ہے) مھلک القری ( بستیوں کو ہلاک کرنے والا) اھلھا ( اس کے رہنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 128 تا 132 :
ان آیات میں اس وقت کی منظر کشی کی گئی ہے جب میدان حشر میں قوم جن اور قوم انس میں سے سارے گنہ گار ایک طرف جمع ہونگے۔ اللہ تعالیٰ قوم جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
اس کا مطلب یہ ہے کہ بہکانے والے شیاطین اور بہکنے والے بنی آدم کا جس طرح عام گروہ اوپر کی آیت کے موافق جہنمی قرار پاوے گا، اسی طرح اس عام گروہ میں سے خاص خاص ٹکڑیاں اس آیت کے موافق چھانٹ کر جہنم مین ڈالی جائیں گی مثلا بت پرستوں کی ایک ٹکڑی، تو سورج پرستوں کی دوسری ٹکڑی (جماعت)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
(ف 1) دنیا میں گناہ کے لئے قدم قدم پر آسانیاں ہیں ، جہاں چاہو ، جب چاہو ، نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب کرلو مشکل یہ ہے کہ نیک بنو شرارت اور گناہ کے بیشمار وداعی اور اسباب ہیں ، نیکی اور صداقت کے محرکات کم ہیں ایک طرف نفس امارہ ہے ، اس کی خواہشیں ہیں ، شیاطین کے دامہائے تزویر ہیں ، اور دھوکے ہیں ، کچھ پنہاں ہیں ، کچھ ظاہر ہیں ، دوسری جانب تنہا عقل ، جس کی بیچارگی معلوم ۔
ان آیات میں نہایت سادہ انداز میں اس حکیمانہ حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ، قیامت کے دن اللہ شیطانوں سے کہے گا ، تم نے بہت گمراہی پھیلائی ، آج مکافات کا دن ہے ، آؤ تمہیں سزا دیں ،
کمزور ایمان کے لوگ جو شیطان کے بھرے میں جلد آجاتے…
Read the full tafseer →-128 اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ تمام جنات اور انسانوں کو جمع کرے گا اور خاص کو جنات کو خطاب فرمائے گا اے گروہ جنات تم نے انسانوں میں سے بہت بڑی اکثریت کو حاصل کرلیا یعنی تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا اس پر ان جنات کے وہ رفیق و مددگار اور دوست جو انسانوں میں سے تھے کہیں گے یعنی وہ انسان جو جنات کے دنیا میں دوست تھے وہ جواب دیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے آپس میں ایک نے دوسرے سے فائدہ حاصل کیا اور جو میعاد تو نے ہمارے لئے مقرر کی تھی ہم اس کو پہنچ گئے یعنی ہم کو اپنے اپنے مقرر ہ وقت پر موت آگئی یا قیامت آگئی۔
اللہ تعالیٰ سب جنات اور انسان کفار سے فرمائے گا تم سب کا ٹھکانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–130
ف 9۔ علم سے سب کے جرائم معلوم کرتا ہے اور حکمت سے مناسب سزا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →روز حشر کے اس خطاب کا ذکر جو اللہ تعالیٰ گروہ ” جن “ کو مخاطب کر کے فرمائے گا :
197: روز حشر کا ذکر قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر مختلف طریقوں سے کیا گیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھایا بھی گیا ہے۔ وہ دن ہوگا جب اس زمین کے نشیب و فراز ختم کر کے اس کو بالکل ہموار کردیا جائے گا گویا وہ یہ زمین نہیں ہوگی بلکہ ایک نئی زمین بنائی جائے گی اور ہر انسان جو آدم (علیہ السلام) سے لے کر قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے ان سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور سب کو ایک وقت ایک جگہ جمع کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس پورے مجمع میں ایک ” گروہ جن “ کو مخاطب کر کے فرمائے گا اے جنوں کے گروہ تم نے تو انسانوں میں سے ایک بڑی…
Read the full tafseer →Mentioned in the third verse (128) is a dialogue before a gathering of Jinns and human beings on the plains of the Resurrection (Al-Hashr). Allah Ta` ala will address the satans among Jinns telling them about their excessive role in misleading human beings. What would they say in reply has not been mentioned by the Qur'an. As obvious, there was not much they could do but to confess the truth before the All-Knowing and the All-Aware. But, in not mentioning their confession, the hint given is that they will be so confounded with the question that they would not know how to make an answer. (Ruh…
Read the full tafseer →94. The term finn here refers to the evil ones among the jinn.
95. This means that they had derived unfair benefit from one another and had served their selfish ends by mutual deception.
96. Even though God has the right to punish whoever He wishes and to forgive whoever He wishes, His punishing and forgiving will be neither arbitrary nor whimsical. It will rather be founded on absolute knowledge and wisdom. God will forgive those whom He knows not to be responsible for their guilt, and thus not liable to punishment according to His wisdom and justice.
Read the full tafseer →