Explained with ayahs 126–127
قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے
گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ سیدھی اور صاف راہ جو بےروک اللہ کی طرف پہنچا دے یہی ہے (مستقیما) کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ پس شرع محمدی کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے چناچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 93
”سلامی کا گھر“ یعنی جنت جہاں انسان ہر آفت سے محفوظ اور ہر خرابی سے مامون ہوگا۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) لَهُمْ دَار السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ یعنی جن لوگوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ وہ قرآنی ہدایتوں کو خالی الذہن ہو کر نصیحت حاصل کرنے کے لئے دیکھتے اور سنتے ہیں، اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ان ہدایتوں کو قبول کرتے ہیں، ان کے لئے ان کے رب کے پاس دار السلام کا انعام موجود اور محفوظ ہے، اس میں لفظ دار کے معنی گھر اور سلام کے معنی تمام آفتوں، مصیبتوں اور محنتوں سے سلامتی کے ہیں، اس لئے دار السلام اس گھر کو کہا جاسکتا ہے جس میں کسی تکلیف و مشقت اور رنج و غم اور آفت و مصیبت کا گزر نہ ہو، اور وہ ظاہر ہے کہ جنت ہی ہو سکتی ہے۔
اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یہ صلہ بیان ہوا ہے ان لوگوں کا جن کے سینے اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے کھولتا ہے۔ فرمایا کہ ان کے لیے اس اسلام کے صلہ میں دار السلام، سکھ اور چین کا گھر ہوگا اور اللہ ان کا ساتھی ہوگا جب کہ اسلام کے معاندین کے لیے ذلت اور عذاب کا گھر ہوگا اور چین کا گھر ہوگا اور اللہ ان کا ساتھی ہوگا جب کہ اسلام کے معاندین کے لیے ذلت اور عذاب کا گھر ہوگا اور ان کے ساتھ وہ شیاطین جن و انس ہوں گے جن کے القائے شیطانی کو قبول کر کے یہ گمراہ ہوئے۔ یہ ٹکڑا اوپر والے ٹکڑے سیصیب الذین اجرموا کے بالکل بالمقابل ہے۔
Read the full tafseer →127۔ 1 یعنی جس طرح دنیا میں اہل ایمان کفر و ضلالت کے کج راستوں سے بچ کر ایمان و ہدایت کی صراط مستقیم پر گامزن رہے، اب آخرت میں بھی ان کے لئے سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کا، ان کے نیک عملوں کی وجہ سے دوست اور کار ساز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
56: یعنی جب تک خود ہم پر ویسی وحی نازل نہیں ہوگی جیسی انبیاء کرام پر نازل ہوتی رہی ہے اور ویسے معجزات ہمیں نہیں دئے جائیں گے جیسے ان کو دئے گئے تھے اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے، خلاصہ یہ ہے کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر شخص کو پوری پیغمبری ملنی چاہیے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نہ یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ پیغمبری کس کو عطا کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
(آیت) ” نمبر 126۔ 127۔
یہ ہے صحیح راستہ اور تیرے رب کا راستہ ” تیرے رب “ کا لفظ نہایت ہی اطمینان بخش اور تفشی بخش ہے ۔ دل مومن کو اعتماد اور یقین سے بھر دینے والا ہے اور ایک اچھے انجام کے لئے خوشخبری ہے ۔ یعنی یہ ہے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الہیہ اور یہ ہے اسلام کا قانون حلال و حرام اور یہ دونوں دین اسلام کا حصہ ہیں اور سیاق قرآن میں اسی لئے انہیں یکجا اور ایک ٹکڑا بنایا گیا ہے ۔
ہم نے تو ان آیات الہیہ کو نہایت ہی واضح کرکے بیان کردیا ہے لیکن ان سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں گے جو ان کو بھلائیں گے نہیں بلکہ یاد رکھیں گے ۔ اس لئے کہ دل مومن تو یاد کرنے والا ہے ‘ بھولنے والا نہیں ہے ۔ نیز دل…
Read the full tafseer →1 یعنی جو اسلام و فرمانبرداری کے سیدھے راستہ پر چلے گا وہ ہی سلامتی کے گھر پہنچے گا اور خدا اس کا ولی و مددگار ہوگا۔ یہ حال تو ان کا ہوا جن کا ولی خدا ہے (یعنی اولیاء الرحمن) ۔ آگے اولیاء الشیطان کا حال بیان کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 127 لَہُمْ دَار السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَہُوَ وَلِیُّہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔
دار السلام جنت کا دوسرا نام ہے۔ انہوں نے اپنی محنتوں ‘ قربانیوں ‘ مشقتوں اور اپنے ایثار کے سبب اللہ کی دوستی کمائی ہے اور ہمیشہ کے لیے دار السلام کے مستحق ٹھہرے ہیں۔
Read the full tafseer →134 یعنی اللہ کے فرمانبردار بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ ایسی جائے رہائش عطا فرمائیں گے جہاں ہر تکلیف سے سلامتی اور حفاظت ہوگی وہ گھر قیامت کی رستاخیز ہولناکیوں سے اور دوزخ کی آگ کی گرمی سے محفوظ ہوگا وہاں ان پر اللہ کی طرف سے بھی سلامتی نازل ہوگی۔ فرشتے بھی ان کی سلامتی کی دعا کریں گے۔ آپس میں بھی وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیں گے۔ انہیں وہاں کسی مرض سے یا تکلیف سے یا غم واندوہ سے بھی دو چار نہ ہونا پڑے گا۔ بلکہ انہیں وہاں مسلسل اور لازوال نعمتیں مہیا ہوں گی۔
Read the full tafseer →189 ۔ اللہ کا اپنے صالح بندوں کے ساتھ جو یہ علاقہ قرب وولایت ہے۔ یہ ان بندوں کے حسن عمل کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” وھو ولیھم “۔ ولی کے معنی قریب کے ہیں۔ اور اسی سے مفسرین نے استدلال کیا ہے کہ آیت سے بندگان صالح کا انتہائی شرف ظاہر ہورہا ہے۔ (آیت) ” عندربھم “۔ اللہ سے بندوں کی قربت کا ترجمان ہے اور (آیت) ” ولیھم “۔ بندوں سے اللہ کی قربت کا مظہر۔ والولی معناہ القریب فقولہ عند ربھم یدل علی قربھم من اللہ تعالیٰ وقولہ ھو ولیھم یدل علی قرب اللہ منھم ولا نری فی العقل درجۃ للعبد اعلی من ھذہ الدرجۃ (کبیر) (آیت) ” ھو ولیھم “۔ کی ترکیب حصر پر بھی دلالت کررہی ہے۔ یعنی اللہ ہی اس کا دوست و کارساز ہے۔ نہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
وکذلک جعلنا فی۔۔۔۔۔۔۔ (الآیۃ) اکابر، اکبر کی جمع ہے مراد کافروں، فاسقوں کے سرغنے ہیں اسلئے کہ یہی انبیاء اور داعیان حق کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں، عام اور معمولی درجے کے لوگ ان کے پیچھے لگ لیتے ہیں اسی لئے ان کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے اور ایسے لوگ عام طور پر دنیاوی دولت اور خاندانی وجاہت کے اعتبار سے بھی نمایاں ہوتے ہیں اس لئے مخالفت حق میں بھی ممتاز ہوتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پاس بھی فرشتے وحی لے کر آئیں اور ان کے سروں پر تاج نبوت رکھا جائے، حالانکہ یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو نبی بنایا جائے ؟ یہ تو اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ وہ ہر بات کی حکمت مصلحت کو جانتا ہے اور اسے ہی معلوم ہے…
Read the full tafseer →لہم دارالسلام عند ربہم . ان (نصیحت پذیر) لوگوں کے لئے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے۔ کیونکہ جنت تمام نامرغوب چیزوں سے محفوظ ہے یا دارالسلام ہے وہ گھر مراد ہے جہاں ان کا استقبال اور باہم ملاپ) سلام علیکم : سے ہوگا۔ یا سلام : اللہ کا نام ہے اللہ کا گھر ان کے لئے ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جس گھر کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے وہ کیسا عظیم الشان ہوگا۔ عندربہم : سے مراد ہے اللہ کی ذمہ داری میں اللہ کے پاس موجود جس کی حقیقت سے اللہ کے سوا کوئی واقف نہیں۔
وہو ولیہم بما کانوا یعملون . اور ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ ان سے محبت رکھتا ہے۔
ولی سے مراد (یا محبت کرنے والا ہے جیسا کہ ترجمہ کیا گیا یا اس سے مراد)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
(127۔ 128) اور یہ حضرات دنیا میں جو نیکیاں کیا کرتے تھے، اس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ ان کو ثواب اور اعزاز عطا فرمائے گا، یعنی تمام جن وانس کو جمع کرکے جنات سے کہیں گے کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا ہے اور جنات سے تعلق رکھنے والے لوگ جو کہ بڑے جنوں میں سے تھے جب کسی وادی میں اترتے تھے یا کسی مقام پر شکار کھیلتے تھے وہاں کے سرکش جنوں سے پناہ چاہتے تھے جس سے وہاں وہ امن میں کے ساتھ اپنا کام کرلیتے تھے اب کہیں گے ہمارے پروردگار ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کیا اور اسی دوران ہمیں موت آپہنچی۔
انسانوں کا نفع تو جنات سے مطمئن ہونا اور جنات کا نفع ان کی قوم پر شرافت و بزرگی کا حاصل ہونا ہے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
وَھٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ۔۔ : ”َھٰذَا“ یعنی حکم برداری میں عقل کو راہ نہ دینا سیدھی راہ ہے۔ (موضح)
Read the full tafseer →ّآیت نمبر : 127
قولہ تعالیٰ آیت : لھم یعنی نصیحت قبول کرنے والے کے لیے۔ دار السلٰم جنت ہے، پس جنت اللہ کا گھر ہے، جس طرح کہ کہا جاتا ہے : الکعبۃ بیت اللہ ( کعبۃ معظمہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے) اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کا معنی دارالسلامہ ہو، یعنی وہ گھر جس میں آدمی آفات سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اور عند ربھم کا معنی ہے اس کے ہاں ان کے لیے یہ ضمانت دی گئی ہے کہ وہ انہیں اپنے فضل سے اس تک پہنچائے گا۔ آیت : وھو ولیھم اور وحی ان کا مددگار اور معاون ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
(1) امام عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قد فصلنا الایت یعنی ہم نے آیات کھول کر بیان کردی اور لفظ آیت لھم دارالسلم یعنی جنت۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے جابر بن زید سے روایت کیا کہ لفظ آیت السلم سے مراد ہے اللہ کی ذات۔
(3) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لھم دار السلم کہ اللہ تعالیٰ ہی سلام ہیں اور ان کا گھر جنت ہے۔
Read the full tafseer →لَهُمْ [ ان کے لئے ] دَارُ السَّلٰمِ [ سلامتی کا گھر ہے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ [ ان کے رب کے پاس ] وَهُوَ [ اور وہ ] وَلِيُّهُمْ [ ان کا کارساز ہے ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے ہیں
Read the full tafseer →اہل ایمان کے لیے دارالسلام کا وعدہ :
دارالسلام کا معنی ہے سلامتی کا گھر۔ اور اس سے جنت مراد ہے جنت میں ہر طرح کے مصائب اور تکالیف سے سلامتی ہوگی۔ نہ جسمانی کوئی تکلیف ہوگی نہ روحانی۔ نہ آپس میں بغض ہوگا نہ کینہ ہوگا نہ حسد ہوگا نہ دشمنی ہوگی۔ اور نہ نعمتوں کے ختم ہونے کا یا چھیننے کا اندیشہ ہوگا۔ جب جنت میں داخل ہوں گے تو فرمایا جائے گا (اُدْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ ) کہ داخل ہوجاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ امن وامان کی حالت میں۔ اہل جنت کو اللہ کی طرف سے سلام آئے گا۔ جس کا تذکرہ کرتے ہوئے سورة یٰسین میں فرمایا (سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَبٍّ رَّحِیْمٍ ) فرمایا ہے۔ الحاصل ! جنت دار السلام ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–127
مسلمان اور کافر کی مثال
قال اللہ تعالیٰ او من کان میتا فاحییناہ۔۔۔ الی۔۔۔ وھو ولیھم بما کانوا یعملون
(ربط) اوپر کی آیت میں اول مشرکین کے مجادلہ اور عناد کا ذکر فرمایا اور پھر مسلمانوں کو اہل جدال اور اہل ضلال کی اتباع سے منع فرمایا اب ان آیات میں مسلمان اور کافر کی مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دونوں میں فرق ظاہر ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ کون لائق اتباع ہے اور کون لائق نفرت ہے۔
وہ مثال یہ ہے کہ جو شخص کفر کے بعد مسلمان ہوا گویا کہ وہ زندہ ہوگیا اور اس کو روشنی مل گئی ایسا شخص قابل اطاعت اور لائق اتباع ہے اور جو شخص کفر پر قائم ہے وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور سرگرداں اور حیران ہے خلاصی کی کوئی…
Read the full tafseer →140:۔ بشارت اخروی ہے ضمیر مجرور قوم یذکرون کی طرف راجع ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی آیتوں سے نصیحت حاصل کرتے اور ان کے مطابق عمل کرتے ہیں آخرت میں ان کے لیے سلامتی اور امن ہے اور یہ ان کے اعمال صالحہ کی جزاء ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو شخصوں کی مثال بیان فرمائی ایک وہ شخص جس کے پاس ایمان اور ہدایات کی روشنی ہے اور وہ اس روشنی کے ذریعے لوگوں میں چلتا پھرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف کی ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کے پاس ایمان ، قرآن اور ہدایت کی روشنی نہیں ہے وہ اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ، ایسے لوگوں کی اللہ نے قباحت بیان فرمائی۔ اللہ نے ہر بستی اور شہر میں اکابر مجرمین کی موجودگی کا ذکر کیا ۔ اور فرمایا کہ ان میں سے اکثر و بیشتر سرمایہ دار اور صاحبت اقتدار لوگ ہوتے ہیں جو حق کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اللہ نے اپنے پیغمبر اور اس کی تبعین کو تسلی بھی دی ہے کہ اگر آج کے…
Read the full tafseer →لَہُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَہُوَ وَلِـيُّہُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 127
دار
الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة،
( د و ر ) الدار ۔
منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
ترکیب : فمن شرط یشرح جواب حرجا اے ضیقًا بکسر الراصفۃ وفتحہا مصدر وصف بہ مبالغہ کانما فی موضع نصب اوحال من الضمیر فی جرح۔ مستقیما حال ہے صراط ربک سے والعامل ہذا حرجا بالفتح جمع حرجۃ وہی شدۃ الضیق یصعد قری مخففامن الصعود ومشد دا واصلہ یتصعدو معناۃ یتکلف مالایطق مرۃ بعد مرۃ۔
تفسیر : پہلے کافر کی مثال مردہ اور اندھیریوں میں پڑے ہوئے کی اور مومن کی زندہ اور نور میں چلنے والی کی بیان کی تھی۔ اب یہاں سے اس تعجب واستبعاد کو دور کرکے اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ باوجود اس قدر معجزات و آیات نبی ات کے پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ وہ یہ کہ ایمان لانا اور کفر میں پڑا رہنا یہ سب باتیں قضاء و قدر کے بس میں ہیں…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
لَھُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَھُوَ وَلِیُّھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانعام : 127)
(ان کے لیے ‘ ان کے رب کے پاس سکھ کا گھر ہے اور وہ ان کا کارساز ہے ‘ ان کے اعمال کے صلہ میں)
دارالسلام کا مطلب
اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ان کے اعمال کے صلہ میں جو انعام عطا فرمائیں گے اس کو اس آیت کریمہ میں دارالسلام کہا گیا ہے۔ اصحاب علم نے دارالسلام کے مختلف معانی بیان کیے ہیں۔ عِنْدَ رَبِّھِمْ کے قرینہ سے بعض اہل تأویل نے اس کا ترجمہ جنت کیا ہے یقینا جنت کا ایک نام دارالسلام بھی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے راستے پر چلنے والے لوگوں کو قیامت کے دن جنت عطا فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
فہم القرآن
ربط کلام : جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل جائے اسے صراط مستقیم کی ہدایت ملتی ہے اور اسلام ہی صراط مستقیم اور دنیا وآخرت کی سلامتی کا ضامن ہے۔
پچھلی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے یہاں ” ھٰذا “ اسم اشارہ لا کر اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے اسلام ہی صراط مستقیم ہے۔ آخری نبی اور ان پر نازل ہونے والا یہی ” الاسلام “ آخری دین قرار پایا ہے۔
سورۃ المائدۃ، آیت : 3 میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ دین کامل اور مکمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے اسلام ہی کو دین کے طور پر پسند کیا…
Read the full tafseer →ایسے لوگ دارالاسلام کے حقدار ہیں :
آیت 127: لَہُمْ : اس نصیحت کو قبول کرنے والے لوگوں کے لئے دَارُالسَّلٰمِ اللہ کا گھر ہے یعنی جنت اپنی ذات کی طرف اضافت اس کی عظمت بتانے کے لئے ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے ہر آفت اور گدلے پن سے محفوظ۔ تیسری تفسیر۔ سلامتی والا گھر۔ اس کا نام دارالسلام اس ارشاد کی وجہ سے ہے : وتحیتہم فیہا سلام (یونس) الا قیلا سلٰما سلٰمًا (الواقعۃ 24) عِنْدَ رَبِّہِمْ اس کی ضمان میں۔ وَہُوَ وَلِیُّہُمْ ان کے محب یا دشمنوں کے خلاف مددگار۔ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ان کے اعمال کے بدلے۔ دوسری تفسیر ان کے اعمال کی جزاء کا متولی ہے۔ قول دیگر وہ دنیا میں ہمارا ولی توفیق اعمال کے سبب ہے…
Read the full tafseer →127 (لھم دارالسلم عندربھم) یعنی جنت۔ اکثر مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سلام اللہ تعالیٰ ہیں اور دار سے مراد جنت ہے۔
لھم دارالسلام کی تفسیر
اور بعض نے کہا سلام سلامتی ہے۔ یعنی ان کے لئے آفات سے سلامتی کا گھر ہے۔ یعنی جنت کو دار السلام اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جو بھی اس میں داخل ہوگا ہر قسم کی تکالیف سے محفوظ ہوجائے گا اور بعض نے کہا اس وجہ سے نام رکھا گیا کہ اس کے تمام حالات سلام کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ” ادخلوھا بسلام امنین “ …” والملائکۃ یدخلون علیھم من کل باب سلام علیکم “ وقال ” لایسمعون فیھا لغواً ولا تاثیما الاقیلا سلاماً سلاماً (تحیتھم فیھا سلام) (سلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ مکہ کے سرکش لوگوں نے اسلام سے روکنے کی تدبیریں جو نکالیں ہیں وہ تقدیر اور ارادہ تمنا پیدا ہوتی ہے کہ کاش خدا تعالیٰ کی طرف سے جلدی ان معجزوں کا ظہور ہوجاوے تاکہ یہ سرکش لوگ ایمان لے آویں ان کی یہ تمنا بھی کار آمد نہیں کس واسطے کہ یہ دونوں باتیں تدبیرات میں سے ہیں اور کوئی تدبیر تقدیر اور ارادہ ازلی کے مخالف گا رگر نہیں ہوسکتی علم ازلی میں جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مشرف باسلام ہونے کے لائق جان کر اس کی تقدیر میں مسلمان ہونا لکھ دیا ہے اس دنیا عالم اسباب میں خود اس کے سبب یوں پیدا ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا ارادہ ازلی اس کے اسلام لانے پر قائم ہوجاتا ہے جس کے سبب سے اس شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
آیت 126
یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے، جس کے احکام واضح کردیئے گئے ہیں، جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کردی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کردیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے لئے بہت بڑی جز اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔
اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لھم دارالسلم عندربھم) ” ان کے لئے سلامتی کا گھر ہے انکے رب کے ہاں “ چونکہ جنت ہر عیب، آفت و تکدر اور غم و ہموم جیسی ناخوشگواریوں سے سلامت اور پاک ہے، اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
251 ایمان والوں کے لیے دار السلام سے سرفرازی کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کو ماننے اور اپنانے والوں کیلئے دارالسلام کی خوشخبری ہے۔ یعنی سلامتی کے اس گھر سے سرفرازی کی جہاں ہر طرح کی اور ہر طرف سلامتی ہی سلامتی کا دور دورہ ہوگا۔ جہاں ۔ { اِلَّا قِیْلاً سَلامًا سَلامًا } ۔ کی صدائیں ہوں گی جہاں ۔ { سَلامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ } ۔ کا شرف عظیم اور اعزاز بےمثل نصیب ہوگا۔ جہاں فرشتوں کی نوری مخلوق کی طرف سے ۔ { سَلاَمٌ عَلَیْکُم بِمَا صَبَرُتُمْ } ۔ کے کلمات کریمہ سے استقبال کیا جائے گا ۔ مالک الملک اپنے کرم سے اس گھر میں داخل ہونا نصیب فرما دے اس بندہ ناچیز کو بھی، اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
سلامتی کی راہ
تشریح : ان دو آیات میں نیک لوگوں کے لیے دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اے رسول ﷺ ! جو کچھ آپ انہیں سکھا رہے ہیں یہی آپ کے رب کی مقرر کی ہوئی سیدھی راہ ہے۔ جو لوگ اس راہ پر چلیں گے وہ ایسی منزل پر پہنچ جائیں گے جہاں ان کے لیے سکون اور آرام کا بندوبست ہوگا۔ جنہوں نے دنیا کے غلط عیش و آرام کو ٹھکرا کر صرف اپنے رب کی فرمانبرداری کی ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ان کو مرنے کے بعد آخرت میں جنت کی تمام نعمتیں ملیں گی اور اللہ رب العزت ان کا بہترین مددگار ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–130
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔
اسرار و معارف :
اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
ف 10 اور پھر جنوں سے فرمائے گا۔۔۔۔۔۔11 یا ان کو مطیع اور فرماں بردار بناکر خوب مزے سے لوٹے،12 جنوں جنوں کا انسانوں سے فا ئدہ اٹھانا یہ ہے کہ انہوں نے ان کو گمراہی کی طرف دعوت دی اور انسانوں نے اسے قبول کرلیا اور انسانوں نے جنوں سے یہ فائدہ اٹھایا کہ انہوں نے ان سے طرح طرح کے گناہ اور برے کام سیکھے اور آخرت سے غافل ہو کر دنیا پرستی میں مست ہوگئے۔ (کذافی الکبیر )
Read the full tafseer →(6:127) دار السلام۔ سلامتی کا گھر یعنی جنت۔ ولیہم۔ ان کا دلی۔ ان کا دوست۔ ان کا حامی و ناصر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
لغات القرآن : آیت نمبر 125 تا 127 :
یرد اللہ ( اللہ چاہتا ہے) یشرح ( وہ کھولتا ہے) ‘ صدرہ ( اس کا سینہ۔ اسکا دل) ان یضلہ ( یہ کہ وہ اس کو گمراہ کر دے) ضیق ( تنگ) حرج (بھینچاہوا) کانما ( گویا کہ۔ جیسے کہ) یصعد (اونچائی پر) چڑھتا ہے) الرجس (گندگی۔ عذاب) دارالسلم ( سلامتی کا گھر) ۔
تشریح : آیت نمبر 125 تا 127 :
اسلام کے لئے انشراح صدر ہوجانا یعنی سینہ کھل جانا سراسر توفیق الٰہی سے ہے۔ یہ بھی نہ نسبی ہے نہ کسبی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے لئے دعا فرمائی تھی۔ اے رب میرا سینہ کھول دے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو بطور نعمت خاص کہا گیا۔ کیا ہم نے آپ کے سینے کو کھول نہیں دیا ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! قرآن میں جو احکام دین اسلام کے تم پر نازل کئے ہیں یہ وہ دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کا سیدھا رستہ ٹھہرایا ہے۔ اور اس میں سب باتوں کی تفصیل ہے جو اس پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ جنت عطا کرنے کا کفیل اور ضامن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–136
[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →سل امتی کا گھر :
(ف 2) جنت کا ایک نام ” دارالسلام “۔ ہے ، یعنی روح وجسم کی سل امتی کا ملجاواء نے ، جہاں ہر اضطراب اور بےچینی کا علاج ہے ، جہاں نفس کی بےقراریاں دور ہوتی ہیں ، جہاں کامل سکون اور طمانیت میسر ہے ،
Read the full tafseer →-127 جو لوگ اس سیدھے راستے کو اختیار کرتے ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں امن و سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار ہے ان اعمال حسنہ کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے یعنی ان کو جنت اور رضائے الٰہی میسر ہوگی اس سبب سے کہ انہوں نے سیدھا راستہ اختیار کیا اور اس راستے کے پابند رہے اور اچھے کام کرتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
ف 7۔ یعنی اسلام۔
8۔ تاکہ وہ اس کے اعجاز سے اس کی تصدیق کریں اور پھر اس کے مضامین پر عمل کرکے نجات حاصل کریں یہی تصدیق وعمل صراط مستقیم کامل ہے بخلاف ان کے جن کو نصیحت حاصل کرنے کی فکر ہی نہیں ان کے واسطے نہ یہ کافی ہے نہ دوسرے دلائل کافی۔
Read the full tafseer →سلامتی کا گھر انہی لوگوں کے لئے ہے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں :
196: ـ” سلامتی کا گھر “ ظاہر ہے کہ جنت ہی ہو سکتا ہے۔ دنیا میں کسی کے لئے سلامتی آخر کب تک ؟ اور یہ بھی کہ جب ” دارالبوار “ ہلاکت کا گھر آخرت ہی کا گھر ہے تو ” دارالسلام “ سلامتی کا گھر تو یقیناً آخرت ہی کا گھر ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →In the second verse (127), it was said: لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِندَ رَبِّهِمْ (For them there is the Abode of Peace with their Lord). It means that the people who have been mentioned above, people who see and hear the Qur'anic words of advice with an open mind and who, as an inevitable result, accept the advice and guidance, then, it is for them that there is that reward of Darus-Salam, present and preserved, waiting. Here, the word: دَارُ (dar) means home or abode and: سَلَامِ (salam) means peace and security from all calamities, catastrophies and hardships. Therefore, Darus-Salam can…
Read the full tafseer →93 The righteous will enjoy 'the Abode of Peace' since there he will be safe from every misfortune and evil.
Read the full tafseer →