Al-An'aam 6:126

Al-An'aam · from ayah 126

6:126

وَهٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا ؕ— قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ ۟وَهٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسۡتَقِيۡمًا‌ ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّذَّكَّرُوۡنَ

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And this is the path of your Lord, [leading] straight. We have detailed the verses for a people who remember.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 15 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:126

حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات اُن لوگوں کے لیے واضح کر دیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہی تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے واسطے ان آیتوں کو صاف صاف بیان کردیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ (اسلام) تمہارے پروردگار کا (بتایا ہوا) سیدھا سیدھا راستہ ہے۔ جو لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں، ان کے لیے ہم نے (اس راستے کی) نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ تمہارے رب کی سیدھی راہ ہے ہم نے آیتیں مفصل بیان کردیں نصیحت ماننے والوں کے لیے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ (اسلام ہی) آپ کے رب کا سیدھا راستہ ہے، بیشک ہم نے نصیحت قبول کرنے والے لوگوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ تمہارے رب کا راستہ ہے سیدھا۔ بیشک ہم نے ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کردی ہیں جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ (اسلام) ہی آپ کے پروردگار کی سیدھی راہ ہے۔ بیشک ہم نے نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے آیات کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ تیرے رب کی راہ ہے سیدھی، ہم نے اپنی آیتیں تفصیل سے بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو یاد دہانی حاصل کریں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ (دین حق یعنی اسلام ہی) ہے تیرے رب تک پہنچنے کا سیدھا راستہ، بیشک ہم نے کھول کر بیان کردیں اپنی آیتیں ان لوگوں کے لئے جو نصیحت قبول کرتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہی تیرے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے آیتوں کو خوب کھول کر بیان کردیا ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ ہے تیرے رب کا سیدھا راستہ۔ ہم نے اپنی آیات خوب تفصیل سے بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو نصیحت حاصل کرنا چاہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہی آپ کے رب کا سیدھا راستہ ہے جو لوگ نصیحت حاصل کرنے والے ہیں، ہم نے ان کے لیے نشانیاں واضح کرکے بیان کردی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

even though this way is the straight way of your Lord, and We have distinguished its signs to those who heed to admonition.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is the path of your Lord, a straight path. We have made the verses elaborate for people who accept the advice.

— Muhammad Taqi Usmani

This is the path of your Lord, a straight path. We have made the verses elaborate for people who accept the advice.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And this is the path of your Lord leading straight. We have detailed Our Ayat for a people who take heed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This is the path of thy Lord, a straight path. We have detailed Our revelations for a people who take heed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And this is the path of your Lord, [leading] straight. We have detailed the verses for a people who remember.

— Saheeh International

This is the path of your Lord and it is straight. We have explained Our revelations to those who take heed.

— Muhammad Sarwar

And this is the path of your Lord, (a) right (path); indeed We have made the communications clear for a people who mind.

— Muhammad Habib Shakir

And this is the path of thine Lord, straight. We have surely detailed the revelations unto a people who would be admonished.

— Abdul Majid Daryabadi

This is the way of thy Lord, leading straight: We have detailed the signs for those who receive admonition.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:126

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 126–127

قرآن حکیم ہی صراط مستقیم کی تشریح ہے گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ سیدھی اور صاف راہ جو بےروک اللہ کی طرف پہنچا دے یہی ہے (مستقیما) کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ پس شرع محمدی کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے چناچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 125–126

سورة الْاَنْعَام 92 سینہ کھول دینے سے مراد اسلام کی صداقت پر پوری طرح مطمئن کردینا اور شکوک و شبہات اور تذبذب و تردد کو دور کردینا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (اوپر جو اسلام کا ذکر ہے تو) یہی (اسلام) تیرے رب کا (بتلایا ہوا) سیدھا راستہ ہے (جس پر چلنے سے نجات ہوتی ہے، جس کا ذکر (آیت) فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ ، میں ہے، اور اسی صراط مستقیم کی توضیح کے لئے) ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے واسطے ان آیتوں کو صاف صاف بیان کردیا ہے، (جس سے وہ اس کے اعجاز سے اس کی تصدیق کریں اور پھر اس کے مضامین پر عمل کرکے نجات حاصل کریں، یہی تصدیق و عمل صراط مستقیم کامل ہے، بخلاف ان کے جن کو نصیحت حاصل کرنے کی فکر ہی نہیں ان کے واسطے نہ یہ کافی نہ دوسرے دلائل کافی، آگے ان ماننے والوں کی جزاء کا ذکر ہے، جیسا نہ ماننے والوں کی سزا اوپر کئی جملوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِـيْمًا الایہ : چونکہ اشارہ کے اندر فعل کے معنی پائے جاتے ہیں اس وجہ سے مستقیما یہاں صراط سے حال پڑا ہوا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ اسلام ہے تو خدا کی کھولی ہوئی سیدھی راہ، فطرت کی صراط مستقیم، نہ اس میں پیچ و خم ہیں، نہ چڑھائیاں اور گھاٹیاں لیکن جنہوں نے اپنے اوپر اتنی غیر فطری نجاستیں لاد رکھی ہوں ان کو یہ راہ دشوار گزار معلوم ہو رہی ہے، قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ ، یعنی اس کے دین فطرت اور ملت ابراہیم ہونے کے سارے دلائل تفصیل سے ہم نے بیان کردیے ہیں لیکن دلائل کار آمد ان کے لیے ہوتے ہیں جن کے اندر یاد دہانی حاصل کرنے اور سوچنے سمجھنے کا ارادہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 125–126

125۔ 1 یعنی جس طرح زور لگا کر آسمان پر چڑھنا ممکن نہیں۔ اسی طرح جس شخص کے سینے کو اللہ تعالیٰ تنگ کردے اس میں توحید اور ایمان کا داخلہ ممکن نہیں، الایہ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا سینہ اس کے لئے کھول دے۔ 125۔ 2 یعنی جس طرح سینہ تنگ کردیتا ہے اسی طرح رجس میں مبتلا کردیتا ہے، رجس سے مراد پلیدی یا عذاب یا شیطان کا تسلط ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 124–127

56: یعنی جب تک خود ہم پر ویسی وحی نازل نہیں ہوگی جیسی انبیاء کرام پر نازل ہوتی رہی ہے اور ویسے معجزات ہمیں نہیں دئے جائیں گے جیسے ان کو دئے گئے تھے اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے، خلاصہ یہ ہے کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر شخص کو پوری پیغمبری ملنی چاہیے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نہ یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ پیغمبری کس کو عطا کی جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 126–127

(آیت) ” نمبر 126۔ 127۔ یہ ہے صحیح راستہ اور تیرے رب کا راستہ ” تیرے رب “ کا لفظ نہایت ہی اطمینان بخش اور تفشی بخش ہے ۔ دل مومن کو اعتماد اور یقین سے بھر دینے والا ہے اور ایک اچھے انجام کے لئے خوشخبری ہے ۔ یعنی یہ ہے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الہیہ اور یہ ہے اسلام کا قانون حلال و حرام اور یہ دونوں دین اسلام کا حصہ ہیں اور سیاق قرآن میں اسی لئے انہیں یکجا اور ایک ٹکڑا بنایا گیا ہے ۔ ہم نے تو ان آیات الہیہ کو نہایت ہی واضح کرکے بیان کردیا ہے لیکن ان سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں گے جو ان کو بھلائیں گے نہیں بلکہ یاد رکھیں گے ۔ اس لئے کہ دل مومن تو یاد کرنے والا ہے ‘ بھولنے والا نہیں ہے ۔ نیز دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 جو لوگ ایمان لانے کا ارادہ نہیں رکھتے ان پر اسی طرح عذاب اور تباہی ڈالی جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ ان کا سینہ اس قدر تنگ کردیا جاتا ہے کہ اس میں حق کے گھسنے کی قطعاً گنجائش نہیں رہتی۔ پھر یہ ہی ضیق صدر عذاب ہے جو قیامت میں بشکل محسوس سامنے آجائے گا۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے " رجس " کا ترجمہ جو عذاب سے کیا ہے اس کے موافق یہ تقریر ہے۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے " رجس " کے معنی عذاب ہی کے لئے ہیں۔ مگر ابن عباس نے یہاں " رجس " سے مراد شیطان لیا ہے۔ شاید اس لئے کہ " رجس " ناپاک کو کہتے ہیں اور شیطان سے بڑھ کر کون ناپاک ہوگا۔ بہرحال اس تفسیر پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح ان پر بےایمانیوں کی وجہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 125–126

آیت 125 فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ ج۔ یہ ایک غور طلب معنوی حقیقت ہے۔ شرح صدر اللہ کی وہ نعمت اور خاص عنایت ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة الانشراح کی پہلی آیت میں حضور ﷺ کے لیے ایک بہت بڑے احسان کے طور پر کیا ہے : اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اس شرح صدر کے لیے دعا کرنی چاہیے : اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بالْاِیْمَانِ وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا لِلْاِسلَامِ اے اللہ ‘ اے ہمارے ربّ ! تو ہمارے دلوں کو نور ایمان سے منور فرما دے اور ہمارے سینوں کو اسلام کے لیے کھول دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ایسی باطنی بصیرت مانگنی چاہیے جس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 125–126

132 انشراح صدر کیا ہے ؟ سینہ کھول دینے سے مراد یہ ہے کہ وہ فراخدلی کے ساتھ اسلام کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے اور اس کی حقانیت پر اس کا دل مکمل طور پر مطمئن ہوجاتا ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور سینہ میں گھٹن پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دعوت سنتے ہی اس کے دل میں گھٹن پیدا ہوجاتی ہے وہ اس دعوت کو سمجھنے اور اس میں غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا پھر اس کے اس رویہ سے یہ گھٹن دم بدم بڑھتی جاتی ہے۔ پھر اس کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ حق اس کے دل میں داخل ہی نہیں ہوسکتا۔ اس وقت اسے اسلام کی کامیابی سے اتنی کوفت ہوتی ہے جیسے وہ بمشکل کسی بلندی یا پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ رہا ہو اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

187 ۔ (اے مخاطب) (آیت) ” ھذا “۔ یعنی دین اسلام۔ ای ھذا الذی انت علیہ یا محمد والمومنون (قرطبی) اشارۃ الی البیان الذی جاء بہ القران اوالی الاسلام (بیضاوی) (آیت) ” مستقیما “۔ تاکید کے لیے ہے ورنہ صراط رب تو ظاہر ہے کہ مستقیم ہی ہوگی۔ یہ تاکیدایسی ہے جیسے حق کے ساتھ مصدق قرآن میں آتا ہے۔ وھو حال مؤکدۃ کقولہ وھو الحق مصدقا (بیضاوی) 188 ۔ آیتیں مفصل ہیں تو سب ہی کے لیے۔ البتہ نفع ان سے وہی لوگ حاصل کریں گے۔ جن کے دلوں میں نصیحت و ہدایت کی طلب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 123–127

وکذلک جعلنا فی۔۔۔۔۔۔۔ (الآیۃ) اکابر، اکبر کی جمع ہے مراد کافروں، فاسقوں کے سرغنے ہیں اسلئے کہ یہی انبیاء اور داعیان حق کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں، عام اور معمولی درجے کے لوگ ان کے پیچھے لگ لیتے ہیں اسی لئے ان کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے اور ایسے لوگ عام طور پر دنیاوی دولت اور خاندانی وجاہت کے اعتبار سے بھی نمایاں ہوتے ہیں اس لئے مخالفت حق میں بھی ممتاز ہوتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پاس بھی فرشتے وحی لے کر آئیں اور ان کے سروں پر تاج نبوت رکھا جائے، حالانکہ یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو نبی بنایا جائے ؟ یہ تو اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ وہ ہر بات کی حکمت مصلحت کو جانتا ہے اور اسے ہی معلوم ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہذا صراط ربک مستقیما . اور یہ ہی (یعنی جس کو اللہ ہدایت کرنا چاہے اس کا سینہ ایمان کے لئے کھول دینا اور جس کو گمراہ رکھنا چاہے اس کے سینہ کو بہت تنگ کردینا) تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے۔ رب کے راستہ سے مراد ہے وہ راستہ جو تقاضائے حکمت اور اللہ کے مقررہ ضابطہ کے مطابق ہے۔ بعض نے کہا یہ راستہ جس پر اے محمد ﷺ آپ چل رہے ہیں اور قرآن نے جس کو پیش کیا ہے یعنی اسلام آپ کے رب تک پہنچانے والا راستہ ہے ومستقیما : حال ہے اول الذکر تفسیر پر اس کا معنی ہوگا۔ معتدل ہموار اور مؤثر الذکر تفسیر پر اس کا معنی ہوگا سیدھا جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ قد فصلنا الایت لقوم یذکرون . نصیحت پذیر لوگوں کے لئے ہم نے آیات صاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(126) ہم نے بذریعہ قرآن حکیم اوامرو نواہی اور اہانت و کرامت کو ایسے لوگوں کیلیے بیان کردیا ہے جو نصیحت حاصل کرکے ایمان لائیں کہا گیا ہے۔ (آیت) ”فمن یرد اللہ ان یھدیہ“۔ (الخ) یہ آیت رسول اکرم ﷺ اور ابوجہل کے موازنہ میں نازل ہوئی ہے یا یہ کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی اور ان مومنین کے لیے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے، سلام اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور گھر سے مراد جنت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 126–127

وَھٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ۔۔ : ”َھٰذَا“ یعنی حکم برداری میں عقل کو راہ نہ دینا سیدھی راہ ہے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 126 قولہ تعالیٰ : آیت وھذا صراط ربک مستقیا یعنی یہ وہ ہے جس پر اے محمد ! ﷺ آپ اور مومنین ہیں۔ آپ کے رب کا دین ہے اس میں کوئی کجی نہیں ہے۔ آیت : قد فصلنا الایٰت یعنی ہم نے دلائل کو بیان کردیا ہے۔ آیت : لقوم یذکرون ( ان لوگوں کے لیے جو نصیحت قبول کرتے ہیں)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 126–127

(1) امام عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قد فصلنا الایت یعنی ہم نے آیات کھول کر بیان کردی اور لفظ آیت لھم دارالسلم یعنی جنت۔ (2) امام ابن ابی حاتم نے جابر بن زید سے روایت کیا کہ لفظ آیت السلم سے مراد ہے اللہ کی ذات۔ (3) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت لھم دار السلم کہ اللہ تعالیٰ ہی سلام ہیں اور ان کا گھر جنت ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَھٰذَا [ اور یہ ] صِرَاطُ رَبِّكَ [ آپ کے رب کا راستہ ہے ] مُسْتَقِـيْمًا ۭ [ ہر کجی اور جھکاؤ سے پاک ہوتے ہوئے ] قَدْ فَصَّلْنَا [ ہم نے تفصیل سے بیان کردیا ہے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لئے جو ] يَّذَّكَّرُوْنَ [ نصیحت حاصل کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ کا راستہ سیدھا ہے مومن اور کافر کا فرق بیان فرمانے کے بعد اب صراط مستقیم کی دعوت دی جا رہی ہے۔ (دین اسلام) تیرے رب کا راستہ ہے جو سیدھا راستہ ہے اس میں کوئی کجی اور ٹیڑھا پن نہیں ہے اس کی دعوت بھی واضح ہے، جو لوگ نصیحت حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے واضح طور پر آیات بیان کردیں۔ پھر صراط مستقیم پر چلنے والوں کے لیے دو انعام ذکر فرمائے اول یہ کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس دارالسلام ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 122–127

مسلمان اور کافر کی مثال قال اللہ تعالیٰ او من کان میتا فاحییناہ۔۔۔ الی۔۔۔ وھو ولیھم بما کانوا یعملون (ربط) اوپر کی آیت میں اول مشرکین کے مجادلہ اور عناد کا ذکر فرمایا اور پھر مسلمانوں کو اہل جدال اور اہل ضلال کی اتباع سے منع فرمایا اب ان آیات میں مسلمان اور کافر کی مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دونوں میں فرق ظاہر ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ کون لائق اتباع ہے اور کون لائق نفرت ہے۔ وہ مثال یہ ہے کہ جو شخص کفر کے بعد مسلمان ہوا گویا کہ وہ زندہ ہوگیا اور اس کو روشنی مل گئی ایسا شخص قابل اطاعت اور لائق اتباع ہے اور جو شخص کفر پر قائم ہے وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور سرگرداں اور حیران ہے خلاصی کی کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

139: یہ مذکورہ بیان کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی تحریمات غیر اللہ کی نذور کو حرام جاننا شرک اعتقادی اور شرک فعلی سے اجتناب کرنا یہ تمام چیزیں ہی صراط مستقیم اور یہی اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر فرمایا ہے ای ھذا لادین الذی شرعناہ لک یا محمد بما اوحینا الیک ھذا القراٰن ھو صراط اللہ المستقیم الخ (ابن کثیر ص 175 ج 2) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 125–127

گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو شخصوں کی مثال بیان فرمائی ایک وہ شخص جس کے پاس ایمان اور ہدایات کی روشنی ہے اور وہ اس روشنی کے ذریعے لوگوں میں چلتا پھرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف کی ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کے پاس ایمان ، قرآن اور ہدایت کی روشنی نہیں ہے وہ اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ، ایسے لوگوں کی اللہ نے قباحت بیان فرمائی۔ اللہ نے ہر بستی اور شہر میں اکابر مجرمین کی موجودگی کا ذکر کیا ۔ اور فرمایا کہ ان میں سے اکثر و بیشتر سرمایہ دار اور صاحبت اقتدار لوگ ہوتے ہیں جو حق کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اللہ نے اپنے پیغمبر اور اس کی تبعین کو تسلی بھی دی ہے کہ اگر آج کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَھٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِـيْمًا۝ 0 ۭ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ۝ 126 صرط الصِّرَاطُ : الطّريقُ المستقیمُ. قال تعالی: وَأَنَّ هذا صِراطِي مُسْتَقِيماً [ الأنعام/ 153] ، ويقال له : سِرَاطٌ ، وقد تقدّم . سرط السِّرَاطُ : الطّريق المستسهل، أصله من : سَرَطْتُ الطعامَ وزردته : ابتلعته، فقیل : سِرَاطٌ ، تصوّرا أنه يبتلعه سالکه، أو يبتلع سالکه، ألا تری أنه قيل : قتل أرضا عالمها، وقتلت أرض جاهلها، وعلی النّظرین قال أبو تمام : 231- رعته الفیافي بعد ما کان حقبة ... رعاها وماء المزن ينهلّ ساكبه «2» وکذا سمّي الطریق اللّقم، والملتقم، اعتبارا بأنّ سالکه يلتقمه . ( ص ر ط )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 125–129

ترکیب : فمن شرط یشرح جواب حرجا اے ضیقًا بکسر الراصفۃ وفتحہا مصدر وصف بہ مبالغہ کانما فی موضع نصب اوحال من الضمیر فی جرح۔ مستقیما حال ہے صراط ربک سے والعامل ہذا حرجا بالفتح جمع حرجۃ وہی شدۃ الضیق یصعد قری مخففامن الصعود ومشد دا واصلہ یتصعدو معناۃ یتکلف مالایطق مرۃ بعد مرۃ۔ تفسیر : پہلے کافر کی مثال مردہ اور اندھیریوں میں پڑے ہوئے کی اور مومن کی زندہ اور نور میں چلنے والی کی بیان کی تھی۔ اب یہاں سے اس تعجب واستبعاد کو دور کرکے اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ باوجود اس قدر معجزات و آیات نبی ات کے پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ وہ یہ کہ ایمان لانا اور کفر میں پڑا رہنا یہ سب باتیں قضاء و قدر کے بس میں ہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَھٰذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیْمًا ط قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَ ۔ (الانعام : 126) (اور یہ تیرے رب کی راہ ہے ‘ سیدھی۔ ہم نے اپنی آیتیں تفصیل سے بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے ‘ جو یاددہانی حاصل کریں) اللہ کا راستہ سیدھا ہے جو چاہے اس پر چل کر فائدہ حاصل کر لے اس آیت کا پہلا حصہ نہایت غور طلب ہے۔ عربیت کے لحاظ سے یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اشارہ کے اندر فعل کے معنی پائے جا رہے ہیں۔ اس وجہ سے مستقیماً یہاں صراط کی صفت کی بجائے حال واقع ہو رہا ہے جس میں یہ زور دینا مقصود ہے کہ اے مشرکین مکہ تم جس دین کو قبول کرنے میں الجھ رہے ہو بلکہ تم اس کی دشمنی میں اندھے ہوئے جا رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 126–127

فہم القرآن ربط کلام : جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل جائے اسے صراط مستقیم کی ہدایت ملتی ہے اور اسلام ہی صراط مستقیم اور دنیا وآخرت کی سلامتی کا ضامن ہے۔ پچھلی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے یہاں ” ھٰذا “ اسم اشارہ لا کر اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے اسلام ہی صراط مستقیم ہے۔ آخری نبی اور ان پر نازل ہونے والا یہی ” الاسلام “ آخری دین قرار پایا ہے۔ سورۃ المائدۃ، آیت : 3 میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ دین کامل اور مکمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے اسلام ہی کو دین کے طور پر پسند کیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہ سیدھی راہ ہے ‘ شرح صدر والا اس کو قبول کرتا ہے : آیت 126: وَہٰذَا صِرَاطُ رَبِّکَ یعنی وہ طریقہ جس کا حکمت تقاضا کرتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے شرح صدر فرما دیتے ہیں جس کی وہ ہدایت کا ارادہ فرمائیں اور جس کی گمراہی کا ارادہ کریں اس کے لئے تنگ کردیتا ہے۔ مُسْتَقِیْمًا عدل والا، چلتا ہوا راہ یہ حال مؤکد ہے۔ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّکَّرُوْنَ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (126) (وھذا صراط ربک مستقیماً ) یعنی جو ہم نے بیان کیا اور بعض نے کہا وہ راستہ جس پر محمد ﷺ ہیں اور وہ دین جو آپ (علیہ السلام) کے لئے اللہ تعالیٰ نے پسند کیا ہے بالکل سیدھا ہے کہ اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں۔ (قد فضلنا الایت لقوم یذکرون)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 125–127

حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ مکہ کے سرکش لوگوں نے اسلام سے روکنے کی تدبیریں جو نکالیں ہیں وہ تقدیر اور ارادہ تمنا پیدا ہوتی ہے کہ کاش خدا تعالیٰ کی طرف سے جلدی ان معجزوں کا ظہور ہوجاوے تاکہ یہ سرکش لوگ ایمان لے آویں ان کی یہ تمنا بھی کار آمد نہیں کس واسطے کہ یہ دونوں باتیں تدبیرات میں سے ہیں اور کوئی تدبیر تقدیر اور ارادہ ازلی کے مخالف گا رگر نہیں ہوسکتی علم ازلی میں جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مشرف باسلام ہونے کے لائق جان کر اس کی تقدیر میں مسلمان ہونا لکھ دیا ہے اس دنیا عالم اسباب میں خود اس کے سبب یوں پیدا ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا ارادہ ازلی اس کے اسلام لانے پر قائم ہوجاتا ہے جس کے سبب سے اس شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 126–128

آیت 126 یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے، جس کے احکام واضح کردیئے گئے ہیں، جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کردی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کردیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے لئے بہت بڑی جز اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لھم دارالسلم عندربھم) ” ان کے لئے سلامتی کا گھر ہے انکے رب کے ہاں “ چونکہ جنت ہر عیب، آفت و تکدر اور غم و ہموم جیسی ناخوشگواریوں سے سلامت اور پاک ہے، اس لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 121–135

ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

250 دین حق اسلام رب تک پہنچنے کا سیدھا اور صحیح راستہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہے تمہارے رب تک پہنچنے کا سیدھا راستہ جو انسان کو مشرف کرتا ہے دارین کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح سے۔ جبکہ اس کے سوا ہر راستہ ہلاکت و تباہی کے ابدی اور ہولناک گڑھے میں ڈالنے والا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے اسلام کے سوا دوسرا کوئی دین اس وحدہ لاشریک کے یہاں شرف قبولیت نہیں پاسکتا۔ اور ایسے تمام لوگ جو اسلام کے سوا دوسرا کوئی بھی دین اپنائے ہوئے ہیں وہ سراسر خسارے میں ہیں۔ آج ایسے لوگوں کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آرہی لیکن کل قیامت میں جب سب پردے چھٹ جائیں گے اور حقیقت حال پوری طرح آشکارا وعیاں ہوجائے گی تو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 126–129

سلامتی کی راہ تشریح : ان دو آیات میں نیک لوگوں کے لیے دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اے رسول ﷺ ! جو کچھ آپ انہیں سکھا رہے ہیں یہی آپ کے رب کی مقرر کی ہوئی سیدھی راہ ہے۔ جو لوگ اس راہ پر چلیں گے وہ ایسی منزل پر پہنچ جائیں گے جہاں ان کے لیے سکون اور آرام کا بندوبست ہوگا۔ جنہوں نے دنیا کے غلط عیش و آرام کو ٹھکرا کر صرف اپنے رب کی فرمانبرداری کی ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ان کو مرنے کے بعد آخرت میں جنت کی تمام نعمتیں ملیں گی اور اللہ رب العزت ان کا بہترین مددگار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 123–130

رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔ اسرار و معارف : اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:126) ھذا۔ اشارہ ہے اس طرف جو قرآن میں آیا ہے۔ یا اشارہ ہے اسلام کی طرف یا اس بیان کی طرف جو دا نے توفیق شرح صدر اور خذلان کے متعلق اوپر فرمایا ہے (بیضاوی) قرآن ۔ اسلام۔ دین حق۔ مستقیما۔ منصوب بوجہ حال ہونے کے۔ یذکرون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تذکر (تفعل) سے ۔ نصیحت پکڑتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 125–127

لغات القرآن : آیت نمبر 125 تا 127 : یرد اللہ ( اللہ چاہتا ہے) یشرح ( وہ کھولتا ہے) ‘ صدرہ ( اس کا سینہ۔ اسکا دل) ان یضلہ ( یہ کہ وہ اس کو گمراہ کر دے) ضیق ( تنگ) حرج (بھینچاہوا) کانما ( گویا کہ۔ جیسے کہ) یصعد (اونچائی پر) چڑھتا ہے) الرجس (گندگی۔ عذاب) دارالسلم ( سلامتی کا گھر) ۔ تشریح : آیت نمبر 125 تا 127 : اسلام کے لئے انشراح صدر ہوجانا یعنی سینہ کھل جانا سراسر توفیق الٰہی سے ہے۔ یہ بھی نہ نسبی ہے نہ کسبی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے لئے دعا فرمائی تھی۔ اے رب میرا سینہ کھول دے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو بطور نعمت خاص کہا گیا۔ کیا ہم نے آپ کے سینے کو کھول نہیں دیا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 126–127

مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! قرآن میں جو احکام دین اسلام کے تم پر نازل کئے ہیں یہ وہ دین ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کا سیدھا رستہ ٹھہرایا ہے۔ اور اس میں سب باتوں کی تفصیل ہے جو اس پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ جنت عطا کرنے کا کفیل اور ضامن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 126–136

[49] مشرکین عرب جو نیازیں چڑھاتے تھے اس میں سے ایک حصہ اللہ کا بھی رکھتے باقی بتوں کا۔ جو حصہ اللہ کا مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں مل جاتا تو اسے رہنے دیتے اور اگر بتوں والے حصے میں سے کچھ حصہ اللہ کے حصے میں مل جاتا تو اسے نکال کر پھر بتوں کے حصے میں شامل کردیتے کیونکہ ان کو بتوں کی خوشنودی کا زیادہ خیال تھا۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 125–126

مومن کا سینہ : (ف 1) مقصد یہ ہے کہ مسلمان نہایت فراخدل ہوتا ہے ، اس کا سینہ معارف وصداقت کا گنجینہ ہے ، حق بات کے قبول کرلینے میں ذرہ بھر تامل نہیں ہوتا ، اور وہ جو گمراہ ہے ، نہایت متعصب اور تنگدل ہوتا ہے ، سچی بات کو ماننے میں بھی ہزار پس وپیش ہے تامل ہے ، جھجک ہے ، رسم و رواج کے پردے حائل ہیں ، مذہبی تنگ نظری مانع ہے ، تقلید وجمود سنگ راہ ہے ، یعنی اسلام تعصب کی تاریکیوں کو دور کردیتا ہے ، ظلمت وتنگ نظری کے پردے چاک کردیتا ہے ، اور انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ ہر صداقت کا احترام کرے ۔ یہی وجہ ہے ، مسلمان میں ہر عیب موجود ہے ، مگر وہ اب تک تعصب کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا ، کیونکہ یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-126 اور یہ راستہ جس کو قرآن کریم بیان کرتا ہے یعنی اسلام ! اے پیغمبر آپ کے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے ہم نے ان لوگوں کے لئے اپنے دلائل کو مفصل بیان کیا ہے جو نصیحت قبول کیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 126–127

ف 7۔ یعنی اسلام۔ 8۔ تاکہ وہ اس کے اعجاز سے اس کی تصدیق کریں اور پھر اس کے مضامین پر عمل کرکے نجات حاصل کریں یہی تصدیق وعمل صراط مستقیم کامل ہے بخلاف ان کے جن کو نصیحت حاصل کرنے کی فکر ہی نہیں ان کے واسطے نہ یہ کافی ہے نہ دوسرے دلائل کافی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دھیان دینے والوں کے لئے اس کائنات میں نشانیوں کی کوئی کمی نہیں : 195: اللہ تعالیٰ کے عالمگیر دین کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے ” صراط مستقیم “ سے بہتر تعبیر نہیں ہوسکتی تھی۔ غور کرو کہ کسی خاص مقام تک پہنچنے کے لئے کتنی ہی راہیں نکال لو لیکن سیدھی راہ ہمیشہ ایک ہی ہوگی اور اس پر چل کر ہر مسافر منزل مقصود تک بحفاظت و امن پہنچ سکے گا اور یہ بھی کہ سیدھی راہ ہمیشہ شاہراہ عام ہوگی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ دین اسلام کی راہ بھی ایک ہی ہے اس لیے یہ جملہ ـ” کہ سارے صحیح ہیں “ کبھی درست نہیں ہو سکتا۔ کائنات کی ہرچیز کی حقیقی راہ ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کائنات کا نظام درستگی سے چل رہا ہے ، پھر انسان ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary In the first (126) of the three verses appearing here, the address is to the Holy Prophet ﷺ and it has been said: وَهَـٰذَا صِرَ‌اطُ رَ‌بِّكَ مُسْتَقِيمًا (And this is the path of your Lord, a straight path). Here, as said by Sayyidna ` Abdullah ibn Masud ؓ عنہما the word: ھذا (hadha: this) refers to the Qur'an, and as said by Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ it means Islam (Ruh al-Ma'ni). The sense of the sentence is: This Way is the Way of your Lord, that is, this is a Way which has been proposed by your Lord in His infinite Wisdom, and with Him it finds favour. Here, by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 125–126

92. 'To open someone's breast to Islam' means to make him feel fully convinced of the truth of Islam and to remove all his doubts, hesitations and reluctance.

Read the full tafseer →