جس پر اللہ کا کرم اس پہ راہ ہدایت آسان
اللہ کا ارادہ جسے ہدایت کرنے کا ہوتا ہے اس پر نیکی کے راستے آسان ہوجاتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ) الخ، یعنی اللہ ان کے سینے اسلام کی طرف کھول دیتا ہے اور انہیں اپنا نور عطا فرماتا ہے اور آیت میں فرمایا آیت (وَلٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ ۭاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ) 49۔ الحجرات :7) اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کردی اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دار بنادیا اور کفر فسق اور نافرمانی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
سورة الْاَنْعَام 92
سینہ کھول دینے سے مراد اسلام کی صداقت پر پوری طرح مطمئن کردینا اور شکوک و شبہات اور تذبذب و تردد کو دور کردینا ہے۔
Read the full tafseer →دین میں شرح صدر اور اس کی علامات
تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پانے والوں اور گمراہی پر جمے رہنے والوں کے کچھ حالات اور علامات بتلائی گئی ہیں، ارشاد فرمایافَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ ”یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتے ہیں اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتے ہیں“۔
حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر یعنی سینہ اسلام کے لئے کھول دینے کی تفسیر دریافت کی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں ایک…
Read the full tafseer →فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ الایۃ۔ حرج، جھاڑیوں سے بھری ہوئی تنگ جگہ کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ ‘ ضیّق ’ کے بعد اس کی تاکید مزید کے طور پر آیا، تصعد، بہ تکلف اور بہ مشقت کسی بلندی پر چرھنے کے لیے معروف ہے۔ لفظ سما جس طرح آسمان اور بادلوں کے لیے آتا ہے اسی طرح فضا اور اس کی بلندی کے لیے بھی آتا ہے مثلاً کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ اصلہا ثابت و فرعہا فی السماء : کلمہ طیبہ کی مثال ایک بار آور درخت کی ہے جس کی جر زمین میں گہری اتری ہوئی ہو اور اس کی شاخین فضا میں پھیلی ہوئی ہوں ،
ایمان سے گریز کی اصلی علت : اب یہ اصل علت بیان ہو رہی ہے ان کے ایمان نہ لانے کی، وہ یہ ہے کہ یہ اللہ کی توفیق ہدایت سے محروم ہوگئے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
125۔ 1 یعنی جس طرح زور لگا کر آسمان پر چڑھنا ممکن نہیں۔ اسی طرح جس شخص کے سینے کو اللہ تعالیٰ تنگ کردے اس میں توحید اور ایمان کا داخلہ ممکن نہیں، الایہ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا سینہ اس کے لئے کھول دے۔
125۔ 2 یعنی جس طرح سینہ تنگ کردیتا ہے اسی طرح رجس میں مبتلا کردیتا ہے، رجس سے مراد پلیدی یا عذاب یا شیطان کا تسلط ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
56: یعنی جب تک خود ہم پر ویسی وحی نازل نہیں ہوگی جیسی انبیاء کرام پر نازل ہوتی رہی ہے اور ویسے معجزات ہمیں نہیں دئے جائیں گے جیسے ان کو دئے گئے تھے اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے، خلاصہ یہ ہے کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر شخص کو پوری پیغمبری ملنی چاہیے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نہ یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ پیغمبری کس کو عطا کی جائے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” فَمَن یُرِدِ اللّہُ أَن یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)
” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا کہ اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘
اللہ تعالیٰ نے اس جہاں میں ہر شخص کو اختیار تمیزی اور آزادی دی ہے کہ ضلالت اختیار کرے یا ہدایت ۔…
Read the full tafseer →4 یعنی زور سے آسمان پر چڑھنا چاہتا ہے مگر چڑھ نہیں سکتا، اس لئے سخت تنگ دل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
آیت 125 فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ ج۔
یہ ایک غور طلب معنوی حقیقت ہے۔ شرح صدر اللہ کی وہ نعمت اور خاص عنایت ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة الانشراح کی پہلی آیت میں حضور ﷺ کے لیے ایک بہت بڑے احسان کے طور پر کیا ہے : اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اس شرح صدر کے لیے دعا کرنی چاہیے : اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بالْاِیْمَانِ وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا لِلْاِسلَامِ اے اللہ ‘ اے ہمارے ربّ ! تو ہمارے دلوں کو نور ایمان سے منور فرما دے اور ہمارے سینوں کو اسلام کے لیے کھول دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ایسی باطنی بصیرت مانگنی چاہیے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
132 انشراح صدر کیا ہے ؟ سینہ کھول دینے سے مراد یہ ہے کہ وہ فراخدلی کے ساتھ اسلام کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے اور اس کی حقانیت پر اس کا دل مکمل طور پر مطمئن ہوجاتا ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور سینہ میں گھٹن پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دعوت سنتے ہی اس کے دل میں گھٹن پیدا ہوجاتی ہے وہ اس دعوت کو سمجھنے اور اس میں غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا پھر اس کے اس رویہ سے یہ گھٹن دم بدم بڑھتی جاتی ہے۔ پھر اس کی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ حق اس کے دل میں داخل ہی نہیں ہوسکتا۔ اس وقت اسے اسلام کی کامیابی سے اتنی کوفت ہوتی ہے جیسے وہ بمشکل کسی بلندی یا پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ رہا ہو اور…
Read the full tafseer →184 ۔ (چنانچہ وہ شخص قبول اسلام میں کوئی پس وپیش نہیں کرتا) (آیت) ” فمن یرد اللہ “۔ ارادۂ الہی سے مراد اس کی مشیت تکوینی ہے۔
185 ۔ (اور چڑھ نہ پاتا ہو، تو ظاہر ہے کہ اسے کس درجہ میں مشقت اٹھانی پڑرہی ہوگی۔ اور اس کی سانس کیسی پھول رہی ہوگی) تشبیہ سے مقصود اس تکلیف شدید کا اظہار ہے جو کافر کو ایمان لانے کے خیال سے ہوتی ہے۔ شبہ اللہ الکافر فی نفورہ من الایمان وثقلہ علیہ بمنزلۃ من تکلف ما لایطیقہ کما ان صعود السماء لایطاق (قرطبی) کانما یزاول امر اغیر ممکن لان صعود السماء مثل فی مایمتنعوی بعد من الاستطاعۃ وتضیق عنہ المقدرۃ (کشاف) والمراد المبالغۃ فی ضیق صدرہ (روح) (آیت) ” ومن یرد ان یضلہ “۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
وکذلک جعلنا فی۔۔۔۔۔۔۔ (الآیۃ) اکابر، اکبر کی جمع ہے مراد کافروں، فاسقوں کے سرغنے ہیں اسلئے کہ یہی انبیاء اور داعیان حق کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں، عام اور معمولی درجے کے لوگ ان کے پیچھے لگ لیتے ہیں اسی لئے ان کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے اور ایسے لوگ عام طور پر دنیاوی دولت اور خاندانی وجاہت کے اعتبار سے بھی نمایاں ہوتے ہیں اس لئے مخالفت حق میں بھی ممتاز ہوتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پاس بھی فرشتے وحی لے کر آئیں اور ان کے سروں پر تاج نبوت رکھا جائے، حالانکہ یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو نبی بنایا جائے ؟ یہ تو اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ وہ ہر بات کی حکمت مصلحت کو جانتا ہے اور اسے ہی معلوم ہے…
Read the full tafseer →فمن یرد اللہ ان یہدیہ یشرح صدرہ للاسلام . پس جس شخص کو اللہ راہ حق کی ہدایت کرنی چاہتا ہے
اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے جب یہ آیت اتری تو رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر کی تشریح دریافت کی گئی فرمایا مؤمن کے دل کے اندر اللہ ایک نور ڈال دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا دل کشادہ اور وسیع ہوجاتا ہے میں کہتا ہوں مراد یہ ہے کہ معرفت حق کے لئے کھل جاتا ہے اور ایمان لے آتا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کیا اس کی کوئی علامت ہوتی ہے فرمایا ہاں غیر فانی گھر (آخرت) کی طرف میلان قلب ‘ اس فریب خانہ (دنیا) سے طبیعت کی دوری اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری یہ حدیث حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی…
Read the full tafseer →(125) جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے دین کی دولت عطا کرنا چاہتے ہیں تو اس کا سینہ قبول اسلام کے لیے کشادہ کردیتے ہیں تاکہ وہ اسلام قبول کرے۔
اور جس کو گمراہ یا کافر ہی رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے سینہ کو تنگ اور بہت ہی تنگ کردیتے ہیں کہ اس کے دل میں نفوذ اور مجاز کے اعتبار سے بھی نور ایمانی کا کوئی شائبہ نہیں رہتا جیسا کہ کسی کو آسمان پر چڑھنے کے لیے مجبور کیا جائے۔
اسی طرح اس شخص کا سینہ اسلام کی طرف رہنمائی نہیں کرتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے، تکذیب ڈال دیتا ہے، پھر اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو ان کو عذاب دیتا ہے۔
اور یہ آپ کے پروردگار…
Read the full tafseer →فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ۔۔ : ”اسلام“ کا لفظی معنی ہے تابع ہوجانا، اپنے آپ کو سپرد کردینا۔ ”حَرَجًا“ نہایت تنگ، گھٹا ہوا، درختوں کا وہ جھنڈ جس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے۔ ”حَرَجًا“ یہ ”صَعِدَ یَصْعَدُ“ (س) سے باب تفعل کا مضارع ہے، یعنی ”یَصَّعَّدُ“ اصل میں ”یَتَصَعَّدُ“ تھا، حروف زیادہ ہونے سے معنی میں ایک لفظ کا اضافہ کیا ہے، یعنی مشکل سے چڑھ رہا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ رسالت کی طرح ہدایت و گمراہی بھی اس کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے نظام عدل کے مطابق جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ صحیح بات تسلیم کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اس کے لیے ہدایت کے راستے آسان کردیتا ہے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 125
قولہ تعالیٰ : آیت : فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام یعنی وہ اسلام کے لے اس کا سینہ وسیع کردیتا ہے اور اسے توفیق عطا فرما دیتا ہے اور اس کے نزدیک اس کا اجروثواب مزین اور آراستہ کردیتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے : شرح کا معنی شق کرنا ہے، اور اس کی اصل التوسعۃ ( وسعت کرنا) ہے۔ اور آیت : شرح اللہ صدرہ (الزمر : 22) کا معنی ہے اس نے اس پر سینہ اس کی وضاحت وبیان کے ساتھ وسیع کردیا اور شرحت الامر کا معنی ہے میں نے اس کو بیان کردیا اور اسے خوب واضح کردیا۔ اور قریش عورتوں کے لیے خوب وسعت رکھتے تھے۔ اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ کا نت قریش تشرح النساء شرھا یہ توسعۃ البسط سے ماخوذ ہے اور یہ…
Read the full tafseer →(1) امام ابن مبارک نے زھد میں، عبد الرزاق، فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابو جعفر المدائنی (رح) سے روایت کیا کہ جو بنو ہاشم میں سے ایک مرد ہیں وہ محمد بن علی نہیں ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کون سے ایمان والے زیادہ عقلمند ہیں۔ آپ نے فرمایا جو اکثر موت کو یاد کرنے والے ہوں اور ان میں سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اس کے بعد آنے والی زندگی کے لئے تیاری کرنے والے ہیں۔ راوی نے کہا پھر نبی ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا یعنی لفظ آیت فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام اور انہوں نے کہا کس طرح اس کا سینہ…
Read the full tafseer →فَمَنْ [ پس جس کے لئے ] يُّرِدِ [ ارادہ کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنْ [ کہ ] يَّهدِيَهٗ [ وہ ہدایت دے اس کو ] يَشْرَحْ [ تو وہ کشادہ کردیتا ہے ] صَدْرَهٗ [ اس کے سینے کو ] لِلْاِسْلَامِ ۚ [ اسلام کے لئے ] وَمَنْ [ اور جس کے لئے ] يُّرِدْ [ وہ ارادہ کرتا ہے ] اَنْ [ کہ ] يُّضِلَّهٗ [ وہ بھٹکا دے اس کو ] يَجْعَلْ [ تو وہ بنا دیتا ہے ] صَدْرَهٗ [ اس کے سینے کو ] ضَيِّقًا [ تنگ ] حَرَجًا [ تنگ ہوتے ہوئے ] كَاَنَّمَا [ گویا کہ ] يَصَّعَّدُ [ وہ ہانپتے کانپتے چڑھتا ہے ] فِي السَّمَاۗءِ ۭ [ آسمان میں ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] يَجْعَلُ [ رکھ دیتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] الرِّجْسَ [ نجاست کو ] عَلَي…
Read the full tafseer →صاحب ہدایت کا سینہ کشادہ اور گمراہ کا سینہ تنگ ہوتا ہے
آیت قرآنیہ سن کر اور آیات تکوینیہ دیکھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہوجاتے تھے اور اکثر کفر سے چمٹے رہتے تھے اس آیت میں اللہ رب العزت تعالیٰ شانہٗ نے یہ بتایا کہ اللہ جل شانہٗ جس شخص کو ہدایت دینا چاہیے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ اس کے دل میں اسلام کی طرف سے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ اور بلا پس و پیش سچے دل سے پورے اخلاص کے ساتھ قبول کرلیتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ جسے گمراہی میں باقی رکھنا چاہے اس کے سینہ کو تنگ کردیتا ہے اسلام کی دعوت سن کر اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور اسلام قبول کرنے کی بات سامنے آتی ہے تو یہ ایسا دو بھر اور دشوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–127
مسلمان اور کافر کی مثال
قال اللہ تعالیٰ او من کان میتا فاحییناہ۔۔۔ الی۔۔۔ وھو ولیھم بما کانوا یعملون
(ربط) اوپر کی آیت میں اول مشرکین کے مجادلہ اور عناد کا ذکر فرمایا اور پھر مسلمانوں کو اہل جدال اور اہل ضلال کی اتباع سے منع فرمایا اب ان آیات میں مسلمان اور کافر کی مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دونوں میں فرق ظاہر ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ کون لائق اتباع ہے اور کون لائق نفرت ہے۔
وہ مثال یہ ہے کہ جو شخص کفر کے بعد مسلمان ہوا گویا کہ وہ زندہ ہوگیا اور اس کو روشنی مل گئی ایسا شخص قابل اطاعت اور لائق اتباع ہے اور جو شخص کفر پر قائم ہے وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور سرگرداں اور حیران ہے خلاصی کی کوئی…
Read the full tafseer →138 ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے جسے وہ ہدایت دینا چاہے اس کے سینے میں وسعت پیدا کردیتا ہے اور اسے قبول حق کی توفیق عطا کردیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہے اس کا سینہ تنگ کردیتا ہے اور اس سے قبول حق کی توفیق سلب کرلیتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس کے قانون تکوینی کے مطابق ہوتا ہے۔ وہ منیبین کو ہدایت دیتا ہے اور معاندین کو گمراہ کرتا ہے۔ ضد وعناد کی وجہ سے ان کے دلوں میں قبول حق کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو شخصوں کی مثال بیان فرمائی ایک وہ شخص جس کے پاس ایمان اور ہدایات کی روشنی ہے اور وہ اس روشنی کے ذریعے لوگوں میں چلتا پھرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف کی ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کے پاس ایمان ، قرآن اور ہدایت کی روشنی نہیں ہے وہ اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ، ایسے لوگوں کی اللہ نے قباحت بیان فرمائی۔ اللہ نے ہر بستی اور شہر میں اکابر مجرمین کی موجودگی کا ذکر کیا ۔ اور فرمایا کہ ان میں سے اکثر و بیشتر سرمایہ دار اور صاحبت اقتدار لوگ ہوتے ہیں جو حق کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اللہ نے اپنے پیغمبر اور اس کی تبعین کو تسلی بھی دی ہے کہ اگر آج کے…
Read the full tafseer →فَمَنْ يُّرِدِ اللہُ اَنْ يَّہْدِيَہٗ يَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ 0 ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّہٗ يَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ 0 ۭ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللہُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَايُؤْمِنُوْنَ 125
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
ترکیب : فمن شرط یشرح جواب حرجا اے ضیقًا بکسر الراصفۃ وفتحہا مصدر وصف بہ مبالغہ کانما فی موضع نصب اوحال من الضمیر فی جرح۔ مستقیما حال ہے صراط ربک سے والعامل ہذا حرجا بالفتح جمع حرجۃ وہی شدۃ الضیق یصعد قری مخففامن الصعود ومشد دا واصلہ یتصعدو معناۃ یتکلف مالایطق مرۃ بعد مرۃ۔
تفسیر : پہلے کافر کی مثال مردہ اور اندھیریوں میں پڑے ہوئے کی اور مومن کی زندہ اور نور میں چلنے والی کی بیان کی تھی۔ اب یہاں سے اس تعجب واستبعاد کو دور کرکے اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ باوجود اس قدر معجزات و آیات نبی ات کے پھر کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ وہ یہ کہ ایمان لانا اور کفر میں پڑا رہنا یہ سب باتیں قضاء و قدر کے بس میں ہیں…
Read the full tafseer →تمہید
متذکرہ بالا پوری صورتحال کو سامنے رکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ مشرکین مکہ اور دیگر مشرکین نے اسلام قبول نہ کرنے کے بظاہر مختلف بہانے تراش رکھے تھے اور وہ اپنے انکار کے اصل سبب کو چھپانے کے لیے نئے سے نئے عذر اختراع کرتے رہتے تھے اور نئے نئے مطالبات رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کر کے لوگوں کو مطمئن رکھنے کی کوشش بھی کرتے اور اپنے انکار کے اصل سبب پر پردہ ڈالنے کی بھی سعی ناتمام کرتے۔ لیکن قرآن کریم نے ان کی اس حرکت کا پردہ بار بار چاک کیا اور گزشتہ آیت میں ‘ جیسا کہ اس کی تفصیل عرض کی گئی ‘ بتایا گیا کہ ان کے انکار کا اصل سبب ان کا استکبار ہے ‘ جس کی سزا ان کو دنیا میں بھی ملی اور آخرت میں وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے کفر، مشرکوں کے شرک اور منافقوں کی منافقت کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان کے سینے اسلام کے بارے میں بند ہوجاتے ہیں۔
قرآن مجید نے ہدایت پانے اور بات کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ اصول بیان کیا ہے کہ سننے والا پوری توجہ، دل کی حاضری اور ہدایت پانے کے لیے بات سنے یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے بہرہ مند کردیتا ہے۔ ( ق : 37)
لیکن منکرین حق کی شروع سے ہی یہ بری عادت ہے کہ وہ سچی بات قبول کرنا تو درکنار اس کی سماعت بھی ان کے لیے گرانی کا باعث ہوا کرتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کفار نے یہاں تک معاندانہ رویہ اختیار کیا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) توحید کی دعوت دیتے تو…
Read the full tafseer →ہر دل نور ایمان و نبوت کے قابل نہیں :
آیت 125: فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ اس کو وسعت دیتا ہے اور اس کے دل کو منور کردیتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا دخل النور فی القلب انشرح وانفتح (جب نور ایمان دل میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ کھل جاتا ہے) آپ سے عرض کی گئی قیل ما علامتہ ذلک ؟ اس کی علامت کیا ہے قال الا نابۃ الی دارالخلود والتجافی عن دار الغرور والا ستعداد للموت قبل نزول الموت۔ کہ ہمیشگی کے گھر کی طرف رجوع اور دھوکہ کے گھر سے لا تعلقی اور موت کی آمد سے قبل اس کی تیاری (ابن جریر ج : 8) بیہقی فی شعب الایمان عن ابن مسعودؓ) وَمَنْ یُّرِدْیعنی اللہ…
Read the full tafseer →(آیت 125)
یشرح صدرہ للاسلام کی تفسیر اور علامات
تفسیر 125 (فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام) یعنی اس کا دل کھول دیتا ہے اور اس کو روشن کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسلام کو قول کرلیتا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ نور ہے جس کو ﷺ مئومن کے دل میں ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا سینہ کھل جاتا ہے تو سوال کیا گیا کہ کیا اس کی کوئی علامت ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہمیشگی کے گھر کی طرف رجوع کرنا اور دھوکے کے گھر (دنیا) سے کنارہ کش ہونا اور موت کی تیاری کرنا موت آنے سے پہلے (ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ صیقا حرجاً )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ مکہ کے سرکش لوگوں نے اسلام سے روکنے کی تدبیریں جو نکالیں ہیں وہ تقدیر اور ارادہ تمنا پیدا ہوتی ہے کہ کاش خدا تعالیٰ کی طرف سے جلدی ان معجزوں کا ظہور ہوجاوے تاکہ یہ سرکش لوگ ایمان لے آویں ان کی یہ تمنا بھی کار آمد نہیں کس واسطے کہ یہ دونوں باتیں تدبیرات میں سے ہیں اور کوئی تدبیر تقدیر اور ارادہ ازلی کے مخالف گا رگر نہیں ہوسکتی علم ازلی میں جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مشرف باسلام ہونے کے لائق جان کر اس کی تقدیر میں مسلمان ہونا لکھ دیا ہے اس دنیا عالم اسباب میں خود اس کے سبب یوں پیدا ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا ارادہ ازلی اس کے اسلام لانے پر قائم ہوجاتا ہے جس کے سبب سے اس شخص…
Read the full tafseer →آیت 125
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے بندے کی سعادت و ہدایت اور اس کی شقاوت و ضلالت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس کو اسلام کے لئے انشراح صدر ہوجاتا ہے یعنی اس کا سینہ وسیع ہوجاتا ہے۔ تو دل نور ایمان سے منور اور یقین کے پر تو سے زندہ ہوجاتا ہے اور نفس ایمان پر مطمئن ہوجاتا ہے، نفس نیکی سے محبت کرنے لگتا ہے اور نیکی میں لذت محسوس کرتے ہوئے نیکی کرتا ہے نیکی کو بوجھ نہیں سمجھتا۔ پس یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ گمراہ کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کردیتا ہے یعنی اس کا سینہ ایمان، علم اور یقین کے لئے بہت تنگ ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →245 ہدایت کی دولت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس کو اللہ ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے اس کا سینہ کھول دیتا ہے اسلام کے لیے۔ سو وہی جس کو چاہتا ہے حق و ہدایت کی دولت سے نوازتا ہے۔ اس کی سلامتی فطرت اور طلب صادق کی بناء پر۔ سو ہدایت کی دولت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اور اسی کی عطاء وبخشش سے مل سکتی ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق ان کے باطن اور اس کی طلب صادق سے ہے جسکو اللہ ہی جان سکتا ہے۔ پر نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے باطن کی دنیا کو درست اور اپنے خالق ومالک کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیقِ لِمَا یُحِبُّ و یُرِیْدُ وعلی ما یحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
کفار کے مکر، رسالت کی تعریف اور انشراح صدر
تشریح : جو لوگ دنیا میں کھو جاتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی غلط راستوں پر چلتے ہیں بلکہ اپنے رعب داب اور مال و دولت کے زور پر دوسروں کو بھی گناہ کی طرف مائل کرتے ہیں اور اس طرح کے لوگ ہرگز یہ نہیں سوچتے کہ یہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں خود اپنے لیے ہی وبال اکٹھا کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو اختیار تو دیا ہے مگر ہدایت کے لیے پیغمبر ان کے پاس بھیجے جاتے ہیں تو وہ بجائے ہدایت پر غور کرنے کے الٹا حجت بازی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو کچھ نہیں مانتے اور نہ مانیں گے جب تک خود ہمیں رسالت نہ دی جائے۔ یہ ناسمجھ لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ رسالت کے لیے تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–130
رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔
اسرار و معارف :
اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے…
Read the full tafseer →ف 5 متعدد روایات میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کسی کا سینہ کیونکر کھو دیتا ہے ؟ فرمایا ایک نور اس میں ڈال دیتا ہے جس سے سینہ کھل جاتا ہے صحابہ ؓ نے پھر دریافت کیا سینہ کھل جاتا ہے صحابہ ؓ نے پھر دریافت کیا سینہ کھل جانے کی علامت کیا ہے۔ ، فرمایا آخرت کی طرف رحجان دنیا سے بےرغبتی اور موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری
کی لگن پیدا ہوجاتی ہے۔ ( ابن کثیر)6 حرج دراصل نہایت تنگ جگہ کو کہتے ہیں یا ایسے گنجان درختوں کو جن تک چر نے والے جانور نہ پہنچ سکتے ہوں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہی حال کافر کے سینے کا ہے یاک مرتبہ حضرت عمر نے یہ ؓ یہ آیت تلاوت کی
پھر فرمایا کہ بنی…
Read the full tafseer →(6:125) ضیقا۔ تنگی۔ مضائقہ۔ گناہ۔ اصل میں حرج کے معنی کسی چیز کے مجتمع ہونے کے ہیں۔ اور ایک جگہ جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اس لئے تنگی اور گناہ کو حرج کہتے ہیں۔
حضرت عمر ؓ نے نبی کنانہ کے ایک شخص سے دریافت فرمایا کہ ما الحرجۃ۔ اس نے جواب دیا الحرجۃ فینا الشھرۃ تکون بین الا شجار التی لاتصل الیہا راعیۃ ولاوحشیۃ ولا شیئ۔ (حرجہ ہمارے ہاں اس درخت کو کہتے ہیں جو درختوں کے جھنڈ کے درمیان ہو کہ وہاں نہ تو چرواہا جاسکے نہ کوئی وحشی جانور اور نہ کوئی اور چیز وہاں پہنچ سکے) ۔
تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا :۔ کذلک قلب المنافق لایصل الیہ شیء من الخیر۔ (منافق کا دل بھی ایسا ہوتا ہے کہ وہاں تک کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
لغات القرآن : آیت نمبر 125 تا 127 :
یرد اللہ ( اللہ چاہتا ہے) یشرح ( وہ کھولتا ہے) ‘ صدرہ ( اس کا سینہ۔ اسکا دل) ان یضلہ ( یہ کہ وہ اس کو گمراہ کر دے) ضیق ( تنگ) حرج (بھینچاہوا) کانما ( گویا کہ۔ جیسے کہ) یصعد (اونچائی پر) چڑھتا ہے) الرجس (گندگی۔ عذاب) دارالسلم ( سلامتی کا گھر) ۔
تشریح : آیت نمبر 125 تا 127 :
اسلام کے لئے انشراح صدر ہوجانا یعنی سینہ کھل جانا سراسر توفیق الٰہی سے ہے۔ یہ بھی نہ نسبی ہے نہ کسبی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے لئے دعا فرمائی تھی۔ اے رب میرا سینہ کھول دے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو بطور نعمت خاص کہا گیا۔ کیا ہم نے آپ کے سینے کو کھول نہیں دیا ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو ایمان کی توفیق دیتا ہے اس کے دل میں روشنی پیدا کردیتا ہے، اور جس کو علم و توحید اور ایمان کی گنجائش نہ تو اس کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ جب اس کو ایمان کی دعوت دی جاتی اور اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے وہ اس پر نہایت شاق اور بہت دشوار معلوم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
[48] قرآن کا اسلوب بیان یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قوانین کے مطابق جو نتائج پیدا ہوتے ہیں وہ انہیں براہ راست اللہ کی طرف نسبت دیتا ہے کیونکہ قوانین اللہ ہی کے ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ رہا اللہ کا کسی شخص کے بارے میں چاہنا تو اس سے مراد اللہ کا اپنے علم ِ کامل کی بنیاد پر مومن اور کافر دونوں کو ان کے پسند کئے ہوئے راستہ پر چلنے کی سہولت دینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
مومن کا سینہ :
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ مسلمان نہایت فراخدل ہوتا ہے ، اس کا سینہ معارف وصداقت کا گنجینہ ہے ، حق بات کے قبول کرلینے میں ذرہ بھر تامل نہیں ہوتا ، اور وہ جو گمراہ ہے ، نہایت متعصب اور تنگدل ہوتا ہے ، سچی بات کو ماننے میں بھی ہزار پس وپیش ہے تامل ہے ، جھجک ہے ، رسم و رواج کے پردے حائل ہیں ، مذہبی تنگ نظری مانع ہے ، تقلید وجمود سنگ راہ ہے ، یعنی اسلام تعصب کی تاریکیوں کو دور کردیتا ہے ، ظلمت وتنگ نظری کے پردے چاک کردیتا ہے ، اور انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ ہر صداقت کا احترام کرے ۔
یہی وجہ ہے ، مسلمان میں ہر عیب موجود ہے ، مگر وہ اب تک تعصب کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوا ، کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →-125 پس جس شخص کو اللہ تعالیٰ صحیح راستے پر چلانا چاہتا ہے اس کے سینے کو سالام کے لئے کھول دیتا ہے اور جس کو بےراہ رکھنا منظور ہوتا ہے تو اس کے سینے کو بہت ہی تنگ کردیتا ہے اور اس کو ایمان لانا ایسی مصیبت معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے ۔ اسی رطح اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے لعنت و پھٹکار اور عذاب کو مسلط کردیتا ہے۔ یعنی اسلام سے گھبراتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ آسمان پر چڑھ جائے یا اس طرح جیسے کوئی آسمان پر چڑھنا چاہے اور چڑھ نہ سکے اور دل تنگ ہو ۔ بہرحال ! مشیت الٰہی جس کا ساتھ دستی ہے وہ کشادہ دلی اور طیب خاطر کے ساتھ ایمان کو قبول کرلیتا ہے اور مشیت الٰہی جن کی…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی قلب کو۔
6۔ یعنی چڑھنا چاہتاہو اور چڑھا نہیں جاتا اور جی تنگ ہوتا ہے اور مصیبت کا سامنا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ہدایت حاصل کرنے یا نہ کرنے کا قانون الٰہی موجود ہے :
193: وہ قانون الٰہی کیا ہے ؟ ہدایت کی بات کانوں میں پڑی تو دل پر نفوذ کرگئی اور شرح صدر ہوا اور دل اس کے حق ہونے کو مان گیا تو ہدایت پانا یقینی ہوگیا۔ کسی بات پر آدمی کا شرح صدر ہوجانا یا سینہ کھل جانا دراصل اس کیفیت کا نام ہے کہ آدمی کے دل میں اس بات کے متعلق کوئی خلجان یا تذبذب یا شک و شبہ باقی نہ رہے اور اسے کسی خطرے کا احساس اور کسی نقصان کا اندیشہ بھی اس بات کو قبول اور اختیار کرنے میں مانع نہ ہو بلکہ پورے اطمینان کے ساتھ وہ یہ فیصلہ کرلے کہ یہ چیز حق ہے لہٰذا خواہ کچھ ہوجائے مجھے اس پر چلنا ہے اس طرح کا فیصلہ کر کے جب آدمی اسلام کی…
Read the full tafseer →Signs of 'Sharh al-Sadr in Din
Some signs of the Divinely-guided, and the firm on error, have been given in the third verse (125). Said there was: فَمَن يُرِدِ اللَّـهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ (So, whom Allah wills to give guidance, He opens his heart for Islam).
Hakim in al-Mustadrak and Baihaqi in Shu'ab al-'Iman report from Sayyidna ` Abdullah ibn Masud ؓ : When this verse was revealed, the Companions of the Holy Prophet ﷺ requested him to explain the meaning of Sharh al-Sadr, the opening of the heart for Islam. He said: ` Allah Ta` ala puts a light in the heart…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
92. 'To open someone's breast to Islam' means to make him feel fully convinced of the truth of Islam and to remove all his doubts, hesitations and reluctance.
Read the full tafseer →